Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • 25 مئی کو اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ عمران خان کے کہنے پر ہُوا،مرتضیٰ وہاب

    25 مئی کو اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ عمران خان کے کہنے پر ہُوا،مرتضیٰ وہاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ 25 مئی کو اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ عمران خان کے کہنے پر ہُوا،

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ عمران خان کا ڈھونگ سپریم کورٹ میں جمع شدہ رپورٹ میں بے نقاب ہوگیا ہے،ملک میں تماشا بنانے کے بعد خود بنی گالہ کے بِل میں چھُپا بیٹھا ہے، فساد برپا کروانے کے بعد عمران خان گیدڑ کی طرح پہاڑ کی چوٹی پر بل بنا کر بیٹھ گیا،عمران سے اب قوم نہیں اُس کے اپنے کارکن سوال پوچھ رہے ہیں، عمران خان کا اصل احتساب وہ کریں گے جو ان کے ڈھونگ اور ڈراموں میں آئے،اب عمران خان باہر نکلے گا تو اُس کے اپنے ہی لوگ اسکا محاسبہ کریں گے

    قبل ازیں ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کی بہتری اور ترقی کے لئے ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ایسوسی ایشن حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ صورتحال میں مزید بہتری لائی جاسکے، انہو ں نے کہا کراچی کے انڈسٹریل زونز میں قائم ہونے والے فائر اسٹیشن ان کے اپنے مفاد میں ہیں ایڈمنسٹریٹر کراچی، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کرنا ہوں گے، منشیات کی روک تھام کے لئے کارروائی تیز کی جائے، کم عمر بچوں میں سگریٹ کے فروخت پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    پی ٹی آئی لانگ مارچ،مظاہرین مسلح،فواد چودھری،زرتاج گل نے اکسایا،سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع

    آئی جی اسلام آباد نے پی ٹی آئی دھرنے سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی

    رپورٹ مین کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد انتظامیہ کو 23 مئی کو سرینگر ہائی وی پر احتجاج کی درخوست دی،اسلام آباد انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ ہرمن و عمل کیا،تحفظ کے لیے ریڈ زون جانے والے راستے بند کر د یئے گئے، عدالتی حکم کے بعد پولیس،رینجرز اور ایف سی کو مظاہرین کے خلاف ایکشن سے روک دیا گیا ،مظاہرین کے گروپ ڈی چوک کی جانب جانا شروع ہو گئے،مظاہرین کو قیادت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے اور مزاحمت کی ترغیب دی گئی،مظاہرین مسلح تھے،پولیس اور رینجرز پر پتھراو بھی کیا مظاہرین نے پولیس پر گاڑیاں بھی چڑھائیں مظاہرین کی جانب سے کنٹینرز ہٹانے کے لیے مشینری کا استعمال بھی کیا گیا،مظاہرین کی جانب سے درختوں کو جلایا گیا،منتشرکرنے کےلیےآنسو گیس کا استعمال کیا،

    پولیس کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2 ہزارمظاہرین رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں کرتے ریڈ زون میں داخل ہوئے مظاہرین کی قیادت عمران اسماعیل، سیف نیازی،زرتاج گل اور دیگر نے کی ، فواد چودھری،سیف نیازی،زرتاج گل نے کارکنان کو ریڈ زون پہنچنے کے لیے اکسایا،سوشل میڈیا پر کارکنوں کو عمران خان کے استقبال کے لیے ریڈ زون پہنچنے کا کہا گیا،انتظامیہ کی جانب سےاعلانات کیے گئے کہ مظاہرین ریڈ زون سے دور رہیں،ریڈ زون میں داخلے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گئے ،مظاہرین کی جانب سے پتھراو کے باعث 23 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے،پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال سے گریز کیا گیا،خدشات بڑھنے پر آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا،300 مظاہرین کنٹینرز ہٹا کر ریڈ زون میں داخل ہوئے،مظاہرین کو جی نائن اور ایچ نائن کے درمیان جلسہ گاہ پہنچنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ تھی مظاہرین ڈی چوک جانے والی رکاوٹوں کو عبور کر کے ریڈ زون داخل ہوئے،مظاہرین میں سے کوئی بھی مختص کردہ جلسہ گاہ نہ پہنچا پولیس نے 77 لوگوں کو 19 مختلف مقدمات میں گرفتار کیا،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہےجہاں ہیلتھ کارڈ کےذریعے ہرپاکستانی کامفت علاج ہوتا ہے:عمران خان

    دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہےجہاں ہیلتھ کارڈ کےذریعے ہرپاکستانی کامفت علاج ہوتا ہے:عمران خان

    اسلام آباد:دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہے،جہاں پہلی بارہرپاکستانی کا اور بالخصوص ہرغریب کا علاج مفت شروع ہوا ہے ، اس حوالے سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ان خیالات کا اظہار معاشی اصلاحات کے حوالے سے کیا ،سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کا مقصد نچلے طبقے کے مسائل کم کرنا تھا،

    ہیلتھ کارڈ کے بعد لوگوں کو تعلیم کے شعبے میں بھی سہولیات دیں گے، وزیراعظم

    عمران خان نے کہا کہ ہم نے ہیلتھ کارڈ شروع کیا جو بڑے بڑے امیر ملکوں میں بھی نہیں ہے،پاکستان کی تاریخ میں اتنا زیادہ کمزور طبقے پر پیسہ خرچ نہیں کیا،عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ اکنامک سروے میں ہماری کارکردگی سامنے آئی،

    ‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

    چیئرمین تحریک انصاف پاکستان عمران خان نے پاکستان میں پانی کی قلت پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پانی کی سخت قلت ہے،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ آئے ہیں باہر سے قرضہ لینا مشکل ہو گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ واپڈا کی ریٹنگ کی وجہ سے جو قرضہ مل رہے تھے و ہ اب نہیں مل رہے،

    ہیلتھ کارڈ جاری رہے گا،مفت ادویات کی فراہمی بحال کریں گے،مسلم لیگ ن

    عمران خان نے کہا کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے واپڈا کی ریٹنگ میں کمی آئی ہے،آج حکومت کے پاس کوئلہ خریدنے کیلئے پیسہ نہیں ہے،ن لیگ کے دور میں پاور پلانٹ امپورٹڈ فیول پر تھا،عمران خان نے کہا کہ 30سال 2خاندانوں نے حکومت کی جو آج اتحادی ہیں،

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ہمارے دور میں بیروزگاری میں کمی ہوئی،ہمارے دور میں بیرون ملک پاکستانیوں نے31ارب ڈالر بھیجے،بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ زرمبادلہ بھیجے،بیرون ملک پاکستانیوں کو تحریک انصاف کی حکومت پر اعتماد تھا،آج معاشی سروے پیش کیا گیا ہے،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہاکہ پاکستان گزشتہ2سال سے تیزی سے ترقی کررہا تھا

  • سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا

    سینیٹ اجلاس میں بھی مقصود چپڑاسی، فرح گوگی کے تذکرے ہوئے، تحریک انصاف کے رہنما جو اسوقت اپوزیشن میں ہیں نے مقصود چپڑاسی کی موت کا سینیٹ اجلاس میں ذکر کیا اور کہا کہ اسکے لئے فاتحہ خوانی کی جائے،چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اجلاس کو ایجنڈے کے مطابق چلنے دیا جائے،سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ مقصود چپڑاسی کے لئے ایوان میں دعا کروائیں، پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرح گوگی زندہ ہے، اس موقع پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر بہرامند تنگی نے ہائے میری انگوٹھی کے نعرے لگائے،

    دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں نیب میں ڈپوٹیشن پر کام کرنیوالے افسران کی تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئیں، وزارت قانون نے تحریری جواب میں کہا کہ نیب میں 14افسران، 16ملازمین ڈپیوٹیشن پر کام کر رہے ہیں، تین افسران 5سال سے زائد عرصے سے ڈپیوٹیشن پر کام کر رہے ہیں ، ڈپوٹیشن پر کام کرنیوالوں میں ڈی جی نیب نجف قلی ، ڈائریکٹرز نوازش علی خان، عمر ظفر شیخ شامل ہیں،عنایت ملک، نوید اشرف، ہما بخاری، کاشف سکندری، اشرف ملک ڈپوٹیشن پر کام کرنیوالوں میں شامل ہیں،ڈپوٹیشن پر کام کرنے کی اجازت وزیراعظم نے قواعد میں نرمی کرکے دی سرکاری مجبوریوں اور کچھ اہم ذمہ داریوں کی بنا پر وسیع تر عوامی مفاد میں ڈیپوٹیشن کی مدت میں توسیع دی گئی،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سینیٹ اجلاس، حکومت کا شہزاد اکبر کیخلاف انکوائری کا اعلان

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل ہی اپوزیشن جماعتوں نے فرح پر الزام لگانے شروع کر دیئے تھے، ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے دو تین بار فرح کی کرپشن کا ذکر کیا، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو علیم خان بھی کھل کر فرح کے خلاف بولے، فرح دبئی جا چکی ہے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی فرح بی بی ،خاتون اول بشری بی بی کی قریبی دوست کے چرچے ہر طرف چل رہے ہیں، ہر آنے والے دن نیا انکشاف سامنے آتا ہے تا ہم اب فرح نے خاموشی توڑی ہے اور ایک بیان جاری کیا ہے،

    فرح کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میرا سیاست سے تعلق ہے اور نہ ہی کبھی سرکاری معاملات میں مداخلت کی میرے کردار پر کیچڑا چھالنے والوں کی اپنی بھی بہن بیٹیاں ہیں بزنس کے بارے میں میرے شوہر پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں جن لوگوں کو میرے ساتھ منسوب کیا گیا وہ بھی اس کی تردید کر چکے ہیں میری فیملی ان الزامات کو سن کر صدمے میں ہے مجھے اور میرے خاندان کو سنی سنائی باتوں پر بدنام نہ کیا جائے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سوشل میڈیا پر فرح خان کی چارٹرڈ طیارے میں بیٹھے تصویر وائرل ہو رہی ہے تاہم ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے یہ پرانی ہے یا تازہ تصو یر ہے ، اس تصویر میں دیکھا جا سکتاہے کہ فرح خان کے قدموں میں ایک ہینڈ بیگ موجود ہے جو کہ اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکزبناہواہے ، فرح خان نے ایک پیلے رنگ کی جوتی بھی پہنی ہوئی ہے جس نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہوئی ہے ۔

  • امید ہی نہیں تھی کہ حکومت ہاتھ سے نکل جائےگی ،عمران خان

    امید ہی نہیں تھی کہ حکومت ہاتھ سے نکل جائےگی ،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میرے خلاف منصوبہ بندی کرنے والے پریشان ہیں، وہ مجھے واپس نہیں چاہتے-

    باغی ٹی وی : برطانوی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب سیاست میں آیا تو اپنے مرنے کے خوف پر قابو پالیا، آج 16 جماعتیں میرے خلاف ہیں اور میں اکیلا ہوں،اپنے خلاف ہونے والی سازش کا مجھے چھ ماہ قبل ہی پتہ چل گیا تھا، میں سوچتا تھا کہ یہ لوگ سازش میں کامیاب نہیں ہوں گے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے 30 سال تک حکومت کی اور ان کے خلاف بڑی تعداد میں کرپشن کیسز ہیں۔

    شیخ رشید کا بیان عالمی سازش کے بیانیے کے تابوت میں آخری کیل ہے،شیری رحمان

    عمران خان نے کہا کہ مجھے عہدے سے ہٹنانے والی 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے اور ان کے خلاف اربوں کے کرپشن کیسز ہیں، امید ہی نہیں تھی کہ ہماری حکومت کو بدل کر ملک کو مجرموں کے ہاتھ سونپ دے دیا جائے گا جب ہماری حکومت ترقی کرنےلگی اور اوپر جانے لی تو اسے ختم کر دیا گیا بھارت نے اپنے لوگوں کے فائدے کےلیے پالیسیاں بنائی ہیں، ہمیں بھی آزاد خارجہ پالیسیاں بنانی چاہیئں جو عوامی مفاد میں ہوں۔

    انصاف کا تقاضہ تھا چیئرمین نیب اپنے اثاثوں کاحساب دیتے، شاہد خاقان عباسی

    عمران خان نے کہا کہ روس صرف ایک دن کے لیے گیا ،نہیں جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے ایک گھنٹے میں طے کرنا تھا کہ روسی صدر سے ملاقات کرنی ہے یا نہیں، عراق افغانستان اور یوکرین میں تمام فوجی کارروائیوں کے خلاف ہوں، روسی صدر پیوٹن کو اندازہ ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے تو وہ جنگ شروع نہ کرتے-

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے عمران خان کا ایک تحریری بیان جاری کیا گیا ہے ٹوئٹر پر جاری بیان میں عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ زندگی اور موت اللّہ کے ہاتھ میں ہے،ہم سیاست نہیں بلکہ ان چوروں اور غلاموں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں، جب تک زندہ ہوں اپنی قوم کی آزادی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔

    ایمان مزاری کی عبوری ضمانت میں 20 جون تک توسیع

  • عمران خان نے جاتے جاتے بارودی سرنگیں بچھائیں ، شیخ رشید کا اعتراف

    عمران خان نے جاتے جاتے بارودی سرنگیں بچھائیں ، شیخ رشید کا اعتراف

    عمران خان نے جاتے جاتے بارودی سرنگیں بچھائیں ، شیخ رشید کا اعتراف

    عمران خان کو پتا تھا حکومت گر جاۓ گی ،شیخ رشید کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر داخلہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ایک انکشاف کیا ہے کہ مجھے تو انٹیلی جنس بیورو نے 4 ماہ پہلے ہی بتادیا تھا کہ آپ جارہے ہیں۔

    انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سب جانتا تھا کہ یہ ملبه گرنا ہے ۔جس کو ہم کہتےہیں بارودی سرنگیں بچھا گئے۔ انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ عمران خان نے جب قیمتوں میں کمی کی تھی تو اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ ضرور تھا ۔

    عمران حکومت کے گرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے آئی بی نے 4 ماہ پہلے بتادیا تھا کے اب آپ جا رہے ہیں ۔جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے عمران خان کو یہ سب بتایا ۔لیکن یہ جان کر مجھے بہت حیرانگی ہوئی کے وه تو پہلے سے ہی سب کچھ جانتے تھے ۔

    اس پر انہوں نے  کہا کہ میں نے اس حوالے سے دوتین ماہ انتظار بھی کیا کہ آئی بی کی رپورٹ بعض اوقات سنی سنائی بھی ہوتی ہے۔

  • عمران خان ایک بار پھر تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب

    عمران خان ایک بار پھر تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب

    عمران خان اگلی ٹرم کیلئے تحریک انصاف کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخ ہو گئے ہیں

    ۔شاہ محمود قریشی وائس چیئرمین، اسدعمر مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے ہیں، دیگر 2 پینلز کے امیدواران نے عمران خان کے حق میں انتخاب سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔ایک پینل کی سربراہی عمر سرفراز چیمہ دوسرے کی نیک محمد کررہے تھے

    دوبارہ چیئرمین منتخب ہونے کے بعد عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے اس الیکشن میں اپوزیشن راجہ ریاض سے بہتر اپوزیشن ہے پاکستان میں سیاسی نہیں فیملی پارٹیز ہیں،تحریک انصاف ہماری فیملی پارٹی ہے،ہمیں فاسٹ ٹریک پر پارٹی الیکشن کرانے پڑے ہیں ہماری خواتین کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے جمہوریت میں میرٹ ہے بادشاہت میں نہیں، جمہوریت میں اس طرح کا رویہ کبھی نہیں سوچا تھا، حکومت نے جان بوجھ کر لوگوں میں خوف پھیلایا ،جب حکومت گری تو عوام احتجاج کرنے کیلئے باہر نکل آئے،فضل الرحمان کے مارچ کو ہم نے نہیں روکا،پیٹرول کی قیمت4روپے بڑھنے پر بلاول نے لانگ مارچ کیا،ہم جمہوری لوگ ہیں، بلاول کے جلسے کو بھی نہیں روکا،وہ4اینکرز ہیروز ہیں جن کےخلاف کارروائی ہو رہی ہے،موجودہ حکومت کو الیکشن جتوانے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ لوگ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں کررہے ہیں چیئرمین واپڈا کے مستعفیٰ ہونےکےبعد واپڈا کی ریٹنگ گرگئی الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں،ہم نے ڈیمز کے 10بڑے نئے منصوبوں پر کام شروع کیا،پیٹرول کی قیمت4 روپے بڑھنے پر بلاول نے لانگ مارچ کیا،ہم جمہوری لوگ ہیں، بلاول کے جلسے کو بھی نہیں روکا،

    عمران کان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو الیکشن جتوانے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ لوگ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں کررہےہیں، الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں، ہم نے ساڑھے 3 سال میں وہ کچھ نہیں کیا جو انہوں نے ایک ماہ میں کیا، ان کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ کرپشن کیسز ختم کرناتھا،روس کے ساتھ سستے تیل کا معاہدہ ہوگیا تھا،امریکہ کی اجازت کے بغیر یہ کوئی کام نہیں کرے گا،ان کو اپنے عوام کی کوئی فکر نہیں ہے، ان کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں، یہ ان کیخلاف کبھی اسٹینڈ نہیں لے گا،دس سال میں امریکہ نے 400 ڈرون حملے کیے، انہوں نے پہلے سازش کی اس کے بعد پارلیمنٹ کو بے توقیر کر کے رکھ دیا،حلقہ بندیوں پر اعتراض آرہے ہیں،الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں نیب میں اپنے بندے رکھیں گےتو یہ ادارہ بھی بے توقیر ہو جائے گا انہوں نے کیسز سے نکلنے کے لیے نیب پر پتھراو کیا،انہوں نے مرحوم ڈاکٹر رضوان کو باقاعدہ دھمکیاں دیں،دنیا میں کہیں بھی ملزم قاضی نہیں بن سکتا، ایک کرپٹ شخص کوآئی جی اسلام آباد تعینات کیا گیا، پاکستان کاسب سے بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت ہے،ہمارے دور میں معیشت6فیصد سے ترقی کررہی تھی پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی مہنگائی کبھی نہیں ہوئی، میں چند روز بعد لانگ مارچ کی تاریخ دے رہا ہوں، اس ملک کاسب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا، سپریم کورٹ سے جیسے ہی فیصلہ آئے گا میں لانگ مارچ کی تاریخ دوں گا،

    رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے پی ٹی آئی نیشنل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں میں ووٹرز کا حلقہ تبدیل کردیا گیا ہے ،اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایک گھرانے کے ووٹ 6 جگہوں پر منتقل کردیئے گئے ہیں،جہاں جہاں حلقہ بندیوں میں خامیاں ہوں گی،پٹیشن دائر کریں گے،حکومت اپنے وزن کے نیچے دب چکی ہے یہ خود گرنے والی ہے،عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت کو سب مانتے ہیں پارٹی کی آج سے ممبرسازی کا عمل شروع کریں گے اگر کسی کا ووٹ درج نہیں تو ہمیں اس کی مدد بھی کرنی ہے،یہ معاملہ زیادہ دیر نہیں رہنے والا، آپ نے تیاری کرنی ہے ،اگر کوئی نشست ہار گئے تو یہ ہماری ناکامی ہوگی پارٹی کی آج سے ممبرسازی کا عمل شروع کریں گے،اگر کوئی نشست سے ہار گئے تو یہ ہماری ناکامی ہوگی،

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی الیکشن کمیشن سے چھپانا نہیں چاہتے، پی ٹی آئی وکیل

    چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی الیکشن کمیشن سے چھپانا نہیں چاہتے، پی ٹی آئی وکیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے فنانشل ایکسپرٹ نجم شاہ نے بریفنگ دی درخواست گزار اکبر ایس بابر الیکشن کمیشن میں موجود تھے،نجم شاہ نے کہا کہ اکبر ایس بابر کی جمع کرائی گئی جائزہ رپورٹ حقائق کیخلاف ہے،انور منصور نے کہا کہ اکبر ایس بابر وہ حقائق بھی سامنے لانا چاہتے ہیں جو اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں نہیں،گلبرگ لاہور کے ایک بینک اکاؤنٹ کا 2014 میں علم ہوا، ریکارڈ نکلوانے پر علم ہوا کہ بعض ٹرانزیکشنز 2013 سے پہلے کی بھی ہیں،متعلقہ اکاؤنٹ کی تفصیلات ازخود کمیشن کو پیش کر رہے ہیں،چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی الیکشن کمیشن سے چھپانا نہیں چاہتے،

    پی ٹی آئی کے فنانشل ایکسپرٹ نجم شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن پہلے ذرائع آمدن میں ڈونرز کی تفصیل نہیں مانگتا تھا، الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد سے مکمل ریکارڈ رکھا اور فراہم کیا جاتا ہے،اکبر بابر کی رپورٹ میں ایک الزام کیش جمع کرانے کا بھی تھا،چیئرمین آفس میں آنے والے فنڈز بنک میں جمع کرائے گئے،آڈٹ رپورٹ میں نقد رقم جمع کرانے کی تمام تفصیل موجود ہے،عمران سعید نامی شہری پر زیادہ فنڈنگ دینے کا اعتراض کیا گیا ہے، قانون کے مطابق کسی پر پابندی نہیں کہ کتنے فنڈز دے سکتا ہے کتنے نہیں، ممبر سندھ نثار درانی نے استسفار کیا کہ عمران سعید کا شناختی کارڈ نمبر کیوں نہیں لکھا گیا؟ نجم شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اُس وقت شناختی کارڈ نمبر فراہم کرنے کی پابندی نہیں تھی،ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی نے اتنے زیادہ اکاؤنٹ کھولے ہی کیوں تھے؟انور منصور نے کہا کہ بہت سے اکاؤنٹس مقامی طورپر تنظیموں نے کھلوانے تھے،پی ٹی آئی نے علم ہونے پرآڈٹ فرم سے مسئلہ حل کرنے کیلئے تجاویز مانگیں،ایسے تمام اکاؤنٹس کو بند کیا گیا جو فنانس ٹیم کے علم میں نہیں تھے،ممبر شاہ محمد جتوئی نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ کے مطابق کئی چیک کے نمبرغلط ہیں،نجم شاہ نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے رپورٹ میں کئی انٹریزکو 2 بارظاہرکیا،

    ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ روکنے سے متعلق درخواست مضحکہ خیز ہے تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس میں بار بار التوا مانگ کر مقدمہ کو طول دینے کے حیلے بہانے اور تاخیری حربے استعمال کرتی آ رہی ہے الیکشن کمیشن فیصلہ سنانے کے قریب ہے تو فیصلہ روکنے کیلئے درخواست دے دی گئی ہے، فارن فنڈنگ نہیں لی کے دعوے کرنے والے اب حقائق سامنے آنے سے خوفزدہ کیوں ہیں اور اگر فارن فنڈنگ نہیں لی تو فیصلے کو روکنے کے لئے مختلف تاخیری حربے کیوں استعمال کئے جا رہے ہیں تحریک انصاف کی فیصلہ روکنے کی درخواست سے ثابت ہوتا ہے کہ انکی چوری ثابت ہو چکی ہے

  • حرمت رسولﷺپرجان بھی قربان:نبی رحمتﷺکی شان میں گستاخی   :شریف خاندان مودی کیخلاف سخت ایکشن لے:عمران خان

    حرمت رسولﷺپرجان بھی قربان:نبی رحمتﷺکی شان میں گستاخی :شریف خاندان مودی کیخلاف سخت ایکشن لے:عمران خان

    اسلام آباد:حرمت رسولﷺپرجان بھی قربان:نبی رحمتﷺکی شان میں گستاخی،شریف خاندان مودی کیخلاف سخت ایکشن لے: اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت میں ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی، اگر چار عرب ممالک سخت ایکشن لے سکتے ہیں تو پاکستان بھی لے، شریف خاندان مودی سے اپنے تعلقات توڑ کر سخت ایکشن لے۔انہوں نے کہا کہ ہم نبی رحمت ﷺ کی حرمت پرقربان ہونے کے لیے تیار ہیں لیکن کسی کوگُستاخی اوربیحرمتی کی اجازت نہیں دے سکتے

    بنی گالہ میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے تو سنا تھا تھوڑے سے لوگ آئیں گے، آپ لوگوں نے تو جلسہ کر دیا ہے، مجھے حکومت مخالف تحریک میں وکلا کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جمہوریت میں احتجاج ہر شہری کا حق ہے، سازش کے تحت چوروں، ڈاکوؤں کی حکومت مسلط کی گئی۔پاکستان کے وکلا کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، دھمکی آمیز مراسلے کو نیشنل سیکیورٹی کے سامنے رکھا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کو بھی مراسلہ بھیجا، سپریم کورٹ کے پاس مراسلہ انویسٹی گیشن کے لیے پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے ڈاکوؤں کو سزا ہونا تھی، چیری بلاسم جوتے پالش کر کے اوپر پہنچ گیا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے دنیا میں ملزم قاضی بن جائے؟ چھوٹی موٹی چوری نہیں شہبازشریف نے 16 ارب کی چوری کی، کرائم منسٹرکے کرپٹ بیٹے کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ قانون کی حکمرانی وکلا،عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ رول آف لا پرعدالتوں نے عملدرآمد کرانا ہے، وزیراعظم، چیف منسٹر 60 فیصد کابینہ پر مقدمات ہم سب کی توہین ہے۔

  • پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    وزیراعظم عمران خان 2018 میں کرپشن سے لڑنے، ملک میں ایسی اصلاحات اور تبدیلیاں لانے کے بھرپور نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن ان کے اقتدار کے ساڑھے تین سالوں میں معیشت کی بحالی، مہنگائی پرقابو پانے اور اصلاحات لانے کے وعدے عملی طور پر نظر نہیں آئے۔

    باغی ٹی وی : عمران خان نئے پاکستان (نئے پاکستان) کا خواب لے کر اقتدار میں آئےعمران خان کا نئے پاکستان کا بیانیہ اس دن دم توڑ گیا جب انہوں نے اپنے سیاسی کارکنوں کی بجائےالیکٹیبلز کا انتخاب کیا انہوں نےہمیشہ پاکستان میں لوٹا کریسی کےبارے میں بات کی لیکن حکومت کی خاطر انہوں نے لوٹا (مختلف پارٹیوں کےلوگوں کو لے کر) کو منتخب کرنےکو ترجیح دی اورانہیں پارٹی ٹکٹ دیا ان کےتین سالہ دور میں اپوزیشن نے مہنگائی اور ان کی خراب حکمرانی کی وجہ سے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اپنے اختلافات کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکے۔

    3 مارچ 2021 کو وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے اگر ان کی پارٹی کے ارکان نے ان کے حق میں ووٹ نہیں دیا تو وہ ان کا احترام کریں گے اور اپوزیشن میں بیٹھیں گےوہ تحریک اعتماد میں کامیاب ہوئے۔ ایک سال بعد مارچ 2022 میں، جب اپوزیشن نے انہیں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب ان کے اتحادیوں کے اہم شراکت دار حکومت چھوڑ کر حکومت کے خلاف اپوزیشن میں شامل ہو جاتے ہیں تو حزب اختلاف انہیں بے دخل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے کی غیر ملکی سازش ہے، ان کے پاس ثبوت کا خط موجود ہے۔ اب وہ اپنی حکومت کو ہٹانے کے لیے غیر ملکی سازش (لیٹر گیٹ سازش) کی بات کر رہے ہیں لیکن اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے روس کے دورے کو امریکا اور مغرب نے اچھا نہیں دیکھا اور وہ انھیں ہٹانا چاہتے ہیں یا انھیں ہٹانا چاہتے ہیں۔ حکومت اسلام آباد کے جلسے میں ایک خط کو پہلےملک کی قومی سلامتی کمیٹی میں دکھانےکی بجائےدکھانااگرہم سیکیورٹی کےنقطہ نظرسےدیکھیں توپاکستان میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو بیرونی سازش، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دھمکی کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی عمران خان بات کر رہے ہیں۔

    اپوزیشن یہ سوال بھی اٹھا رہی ہے کہ اگر انہیں 7 مارچ کو خط موصول ہوا تو اگلے دن سیکورٹی کمیٹی یا پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کیوں نہیں کیا، انہوں نے تاخیر کرکے عوام کے سامنے کیوں دکھایا؟ خط کا مکمل مواد ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا ہے۔ لیکن حکومت کے مطابق یہ ایک پیغام پر مشتمل ہے جو مبینہ طور پر اسد مجید کو ڈونلڈ لو، امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی طرف سے موصول ہوا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے دورہ روس کو امریکہ اور مغرب نے اچھا نہیں دیکھا اور انہوں نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا کیونکہ پاکستان روس یوکرین تنازع پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی طاقتیں یا امریکہ عمران خان یا ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے تیار تھے، ان کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اور آپشنز ہیں جیسے فاٹف جہاں پاکستان گرے لسٹ میں ہے-

    آ ئی ایم ایف میں جہاں سے پاکستان پہلے ہی قرض لےرہا ہے ۔ جنہوں نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا۔عمران خان کو غیر ملکی سازش کا خیال کافی دیر سے آیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ عدم اعتماد کے ووٹ میں زندہ نہیں رہ سکتے اور وہ اقتدار سے باہر ہو جائیں گے تو انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ان کی پارٹی کے ڈپٹی سپیکر نے ووٹنگ روک دی اور اپوزیشن کے قانون ساز کو غدار قرار دے دیا کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے امریکہ کے ساتھ سازش کی۔

    اپوزیشن آئی کے پر یہ الزام بھی لگا رہی ہے کہ جب دیکھا کہ متحدہ اپوزیشن نے 197 ممبران بنائے تووہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدم اعتماد کے ووٹ سے بھاگ گئےاگرچہ صدر نے وزیراعظم کےمشورے سے پارلیمنٹ تحلیل کردی ہے لیکن آئین کے مطابق وہ ایسا نہیں کر سکتےجب وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہوعمران خان نے ہمیشہ کہاکہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور دنیا سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے لیکن اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں جب انہوں نے سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے دسمبر 2019 میں کولالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    ایک اور مثال یہ ہے کہ ماضی قریب میں جب عمران خان کی حکومت نے سعودی عرب سے قرض لیا اور انہوں نے ہمیں 4 فیصد شرح سود پر قرض دیا جو آئی ایم ایف کی شرح سود سے 3 گنا زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف 1 فیصد شرح سود پر قرض دیتا ہےاور اس نے سعودی عرب سے 4 فیصد پر قرض لیا اور انہوں نے شرط رکھی کہ وہ 72 گھنٹے کے نوٹس میں واپس لے سکتے ہیں۔

    واضح رہےکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے روس کےدورےسے قبل آئی کےکواجازت دے دی تھی کیونکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی کے بغیر وہ اپنا دورہ مکمل نہیں کرسکتے کیونکہ کسی بھی ملک کا دورہ کرتے وقت آپ کو کچھ سیکیورٹی پروٹوکولز پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ روس کے ساتھ اچھےتعلقات بنانا ایک ریاستی پالیسی تھی جسے نئی پاک قومی سلامتی پالیسی میں اپنایا گیا جس کےمطابق پاکستان روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے گا اور کسی ملک کے تنازع میں شامل نہیں ہوگا۔ان کی حکومت کے گرنے کی وجوہات سب کو معلوم ہےکہ ان کے اتحادیوں اور ان کے صحیح آدمی کی طرف سے انہیں مسلسل بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ ان کی پارٹی کے زیادہ تر ایم این اے ان کی حکمرانی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان کے خلاف اپوزیشن سے ہاتھ ملا لیا۔ پوری انتخابی مہم میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ پولیس، عدلیہ اور تمام ریاستی اداروں میں اصلاحات کریں گے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

    اپوزیشن نے اس کا فائدہ اٹھایا اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کے گرنے کے کئی عوامل ہیں جن میں آرمی چیف کی توسیع اور بعد ازاں ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے دوران حکومت کی جانب سے پاک فوج کے انتہائی معزز ادارے کوجان بوجھ کرمتنازعہ بنانا شامل ہےدوسراعنصر خارجہ پالیسی بھی ہے اور صوبہ پنجاب کی گورننس اواس صوبے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تقرری جو پاکستان کا آدھا حصہ سمجھتا تھا۔ اب عمران خان اپنے بیانیے کی غیر ملکی سازش یا ایک (لیٹر گیٹ) کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کا سارا بیانیہ اسی پر مبنی ہے۔ وہ اپنی پارٹی کو بچانے کے لیے سیاسی شہید بننے کے لیے ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان نے ملک میں اپنی حکمرانی کے ذریعے اپنے لاکھوں ووٹرز اور حامیوں کو مایوس کیا ہے۔

    انہوں نے پاکستان کو ایک بڑے آئینی بحران میں دھکیل دیاعمران خان نے جو کچھ کیا وہ اسے سرپرائز کہہ رہے ہیں، لیکن یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں، کیونکہ انہوں نے یہ سب کچھ صرف اپنی انا کو بچانے کے لیے کیا، اور کچھ نہیں۔ عمران نے اپنی پوری انتخابی مہم اور پھر اپنے پورے دور حکومت میں ہمیشہ اپوزیشن پر کرپٹ، ٹھگ اور چور ہونے کا الزام لگایا۔ انہیں کرپشن کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا لیکن وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے گزشتہ دور کو دہائی کا تاریک دور قرار دیا۔ وہ اس کی خراب حکمرانی، خراب کارکردگی، معیشت کی بدانتظامی، مہنگائی، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پاکستانی عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام سے اپنے 10 فیصد وعدے پورے کیے جو خان ​​نے انتخابی مہم کے دوران کیے تھے تو اپوزیشن کبھی بھی ان کے خلاف متحد نہیں ہوتی۔ انہوں نے خود اپوزیشن کے لیے راستہ ہموار کیا کہ وہ متحد ہو کر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے۔

    پاکستانی عوام عمران خان سے بہت پر امید تھے کہ وہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کی امید ٹوٹ گئی، انہوں نے پاکستان کو آئینی بحران میں ڈال دیا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا اور اب پاکستان کی سپریم کورٹ نے پایا کہ وزیر اعظم عمران خان کا 3 اپریل کو عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کا اقدام آئین اور قانون کے خلاف تھا اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ غلط تھا اور قومی اسمبلی کو 9 اپریل 2022 کو دوبارہ بلانے اور عدم اعتماد کا ووٹ کرانے کا حکم دیا۔

    آئین کو پڑھنا جس کا قانونی جواز پیش کرنا مشکل ہے۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ لیٹر گیٹ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کی حکومتی سازش ہے۔ ووٹنگ کے آخری دن عمران خان تمام غیر آئینی اقدامات کرنے کو تیار تھے۔ گورنر پنجاب کو اس وقت برطرف کر دیا گیا جب انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے غیر آئینی اقدام اٹھانے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش سے پاک امریکا تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خان کی حکومت کو واشنگٹن کو پاکستان کی اندرونی سیاست میں گھسیٹنے کے بجائے سفارتی طریقے سے معاملہ سنبھالنا چاہیے تھا۔