Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    پشاور:عمران خان نے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ چارسدہ میں حقیقی آزادی مارچ دوم کی تیاریوں کاآغاز ہو گیا۔

    عمران خان نے کہا کہ ہمارے نوجوان پہلے سے بھی بڑھ کر پرجوش ہیں۔اپنے پیغام میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پرامن مظاہرین خصوصاً خواتین پر پولیس سے بہیمانہ تشدد کروانے پر عوام میں قاتل راناثناءاللہ، بزدل کرائم منسٹر اور اسکے بدعنوان بیٹےکیخلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

    واضح رہے اس سے قبل سابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا چارسدہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ سب تیاری کریں میں بھی تیاری کر رہا ہوں، جو اب ہم نکلیں گے کوئی رکاوٹ اس کےسامنے نہیں کھڑی ہو گی۔

    عمران خان نے کہا کہ میرے کارکنوں نے جبر اور ظلم کے باوجود خوف کے زنجیروں کو توڑ دیا، ہمارے کارکن آزادی کی جنگ لڑ تے ہوئے شہید ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے رات کے وقت گھروں میں جا کر عورتوں کو پکڑا، عورتوں اور بچوں پر شیل استعمال کئے گئے جبکہ یاسمین راشد کو گاڑی سے نکالا گیا اور پولیس کے ساتھ لیڈی پولیس موجود نہیں تھی

    چیئرمین تحریک انصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ، شہباز شریف اور حمزہ شہباز سن لو قوم تمہیں معاف نہیں کریگی،۔ہم عدالتوں میں بھی جائیں گے اور ان پر کیس کریں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ باپ، بیٹا اور رانا ثنااللہ تینوں کرپٹ ہیں، باپ بیٹے نےجوظلم کیا قوم ان معاف نہیں کرے گا جبکہ تم3بزدلوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے جیلوں میں ڈلوائیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک زندہ ہوں ان چوروں کیخلاف جدوجہد اور جہاد ختم نہیں کرونگا، سپریم کورٹ نے کہہ دیا تھا پرامن احتجاج ہمارا جمہوری حق تھا

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ کی امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، قوم کو حقیقی آزادی دلائیں گے قوم تیاری کریں۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں فیصلے کے مطابق پلان بنائیں گے، سپریم کورٹ ہمارا حق تسلیم کرے اور اگر ہمارا حق نہ دیا گیا تو ہم چین لیں گے۔

    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ہماری حکومت روس سے 25 فیصد کم تیل لینا چاہتے تھے، حکومت ہندوستان سے کشمیر کا سودا کرنے والے ہیں جبکہ اسرائیلی حکومت کو بھی تسلیم کرنے والے ہیں۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہندوستان آزاد ہے اور ہم غلام جبکہ ہندوستان نے سستا تیل منگوا کر 25 روپے قیمت کم کی ، امریکی غلاموں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج معلوم ہوا ایک وفد اسرائیل گیا ہے کیونکہ یہ اسرائیل کو قبول کرنے جا رہے ہیں، یہ کشمیریوں کو بیچیں گے اور ہندوستان سے سمجھوتہ کریں گے جبکہ یہ ہر وہ کام کریں گے جو امریکا سے حکم آئے گا۔

    سابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جب ایک قوم اپنی آزادی کیلئے نکلتی ہے وہ جہاد ہے، ہمارے اوپر چوروں کی حکومت مسلط کی گئی لیکن ہم کسی صورت ان چوروں اور امریکی غلاموں کو قبول نہیں کریں گے۔

  • مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

    مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ایک اور متنازع آڈیو لیک ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں میڈیا کومینج کر رہی ہوں اور میں آپ کے اوپر ڈیپینڈ کرتی ہوں ، میرے ہاتھ کیوں باندھ رکھے ہیں۔

    وائرل ہونی والی آڈیو میں مریم نواز نے کہا کہ میں نہیں جانتی ، ابھی سیکریٹری انفارمیشن اور پی آئی ڈی سے بات کریں اور ان کو کہیں اگر آپ نہیں مانتے تو مجھے وزیراعظم سے بات کرنی پڑے گی۔

    خیال رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب مریم نواز کی اس طرح کی متنازع آڈیو لیک ہوئی ہیں، ماضی میں بھی ان کی آڈیو لیک ہوئی تھی جس پر انہوں نے تسلیم بھی کیا تھا کہ وہ آڈیو جعلی نہیں ہیں بلکہ آڈیو میں ان کی ہی آواز ہے۔

     

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اطلاعات کے پاس اختیارات نہیں ہیں ، مریم نواز ڈیفیکٹو انفارمیشن منسٹر ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک قانوناً ہے اور اس عمل کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اس حوالے مریم اورنگزیب کا موقف سامنے آنا چاہیے اور ان کے خلاف ایک ریفرنس دائر ہونا چاہیے اور تحقیقات ہونی چاہیے کہ اب تک کتنا پیسہ کہاں کہاں گیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک کوالیفائیڈ، سرٹیفائیڈ، سمپلیفائیڈ، ویریفائیڈ اور ٹیسٹیفائیڈ مجرمہ پاکستان حکومت کی طرف سے وفاقی اور صوبائی محکمہ اطلاعات کی مالکہ بن گئی ہے اور محکمے کے ملازمین اور افسران کو اپنی باندی اور سرکاری فنڈز کواپنے باپ کا مال سمجھ بیٹھی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ جو ایک مجرمہ کے ہاتھوں “مینیج” ہو رہے ہیں ، وہ آزادی صحافت کے سب سے بڑے چیمپئن ہیں اور جو مینیج نہیں ہوتے ان پر اس سنگین جرم کی پاداش میں پرچے کروائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے صحافیوں پر جلسوں میں تنقید اور پریس کانفرنس میں مائک بھی اٹھوا دئیے جاتے ہیں ، سیسیلین مافیا اور گاڈ فادر کا اگلا ورژن ہے یہ خاندان ۔

  • عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں: پرویز الہیٰ

    عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں: پرویز الہیٰ

    لاہور:مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے البتہ عمران خان کو گرفتار کرنے کا خواب دیکھنے والے اپنی حکومت کی فکر کریں ، حکومت آج گری یا کل گری۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران، عمران خان سے خوفزدہ ہیں اور جعلی حکمران ہر غیر قانونی کام کررہے ہیں جس سے لانگ مارچ کو روکا جا سکے لیکن میں انہیں بتا دوں کہ رہنماؤں اور کارکنوں پر جھوٹے مقدمات درج کروانے سے تیاریوں میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ، حقیقی آزادی لانگ مارچ کی بھر پور تیاریاں جاری ہیں۔

    چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ عوام کی ایک ہی دہائی ہے اگر حکومت سنبھال نہیں سکتے تھے تو آئے کیوں ، عوام کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کو بھی عارضی حکومت پر اعتبار نہیں ، حکومت کی جانب سے مہنگائی بم کی دوسری قسط جون میں آئے گی۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ عمران خان نے روس کے ساتھ 30 فیصد سستے تیل کا معاہدہ کیا تھا ، اگر اس پر عمل کیا جاتا تو آج ڈالر آسمان سے باتیں نہ کر رہا ہوتا ، مہنگائی کی وجہ سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔

  • تم نے میرا گھر توڑا ہے دوست! بچو گے تم بھی نہیں،عامر لیاقت کی عمران خان کو دھمکی

    تم نے میرا گھر توڑا ہے دوست! بچو گے تم بھی نہیں،عامر لیاقت کی عمران خان کو دھمکی

    رکنِ قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر ان کی شادی ختم کروانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تم نے میرا گھر توڑا ہے دوست! بچو گے تم بھی نہیں-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز عمران خان سے متعلق سابق صدر آصف علی زرداری اور چئیرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آئی جس پر عامر لیاقت حسین نے بھی ردعمل دیا ہے۔

    آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے،وزیر اعظم

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پرایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں رکن قومی اسمبلی نے گانے کے اشعار لکھے کہ مجھ کو بھی تو لفٹ کرا دے، تھوڑی سی تو لفٹ کرا دے!! اور ساتھ ہی کہا کہ یہ عمران خان کی درخواست ہے-

    عامر لیاقت حسین نے کہا کہ تم نے میرا گھر توڑا ہے دوست! بچو گے تم بھی نہیں، میں جاچکا لیکن تمہیں بشریٰ بیگم چھوڑ کر جائیں گی، سب پتہ چل گیا ہے تم نے کس کے ذریعے کتنے پیسے بھجوائے کیونکہ تمہیں معلوم تھا کہ یہاں پیسوں سے ہی کام ہوگا ۔

    رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ بس ایک غلطی کر بیٹھےاپنی حمایت میں ٹک ٹاک ویڈیوز تو نہ بنواتے، استغاثہ ہے میرا رب کے حضور تم الیکشن کبھی نہ جیتو ۔

    11 جماعتوں نے سیاسی بدروحوں کے علاج کی ڈیوٹی مجھ خاکسار کو دی ہے، رانا ثناءاللہ

    عامر لیاقت حسین نے لکھا لودھراں والے”میاں” کو بتادومزید سپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں اور 4 نمبروں میں سےکوئی نمبر نظررکھنے والوں سے چھپا نہیں جی تو چاہتا ہے پورا ریکارڈ سپریم کورٹ میں دے دوں لیکن دانیہ ابھی تک میرے نکاح میں ہےاور منکوحہ کو عدالتوں میں نہیں گھسیٹتے-

    رکن قومی اسمبلی نے عمران خان کو مزید کہا کہ میں نے تو بقول تمہارے 20 کروڑ لیے تھے جب ہی 11 کروڑ کا مہر مانگنے کو کہا؟خان صاحب بد ذات ہوتا اور تمہاری دانست میں بکا ہوا لوٹا تو اب تک ڈی پی او گھر چلا جاتا اورلودھراں کےرکن قومی اسمبلی اور میرے دوست عبدالرحمٰن کانجو جو کہ وزیر مملکت برائے داخلہ ہیں، مداخلت کر چکے ہوتے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہعمران اور عامر میں یہی فرق ہے ، عمران بدلہ لیتا ہے، عامر اللہ پر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اس کی پکڑ شدید ہے-

    پی ٹی آئی کی بھی غلطیاں ہیں کہ صورت حال اس نہج پر پہنچی ، فواد چوہدری

  • عمران خان کیلئے ملازمت سے فارغ ہونیوالے پولیس آفیسر کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کیلئے ملازمت سے فارغ ہونیوالے پولیس آفیسر کی حقیقت سامنے آ گئی

    گزشتہ دنوں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے لیے ملازمت سے فارغ ہونے والے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او پولیس آفیسر کی مستعفی ہو جانے کی ویڈیو زیر گردش رہی جسے اداکار احسن محسن خان نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شئیر کیا تھا-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کارکنوں اور شوبز شخصیات نے ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے پولیس آفیسر کی جرات کو سراہا اور انہیں نوکری کی پیشکش بھی کی لیکن اب اس ویڈیو کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔

    بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری.مزید 2 کشمیری شہید

    وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو ہاتھ میں واکی ٹاکی لیے کسی آفیسر سے بات کرتے سنا او دیکھا گیا جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ میں عمران خان کا حمایتی ہوں، میں نے اپنی بیلٹ اور وردی بھی جمع کروا دی ہے، میں مستعفی ہو رہا ہوں کیونکہ میں اس وقت عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔

    تاہم اب اس وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی ہے جس میں ویڈیو میں نظر آنے والے شخص نے نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس آفیسر ہونے کی تردید کی اور ویڈیو کو فیک قرار دے دیا۔

    ویڈیو میں موجود شخص کا کہنا تھا وہ ویڈیو دراصل ایک ٹریفک پولیس سے تعلق رکھنے والے چاچا کو تنگ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، میرے ہاتھ میں موجود واکی ٹاکی بھی ان ہی کا تھاچاچا سے میں نے عمران خان کے دھرنے میں چلنے کی درخواست کی تھی جس پر انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ بینظیر کے حمایتی ہیں لہٰذا نہیں جا سکتے –

    پی ٹی آئی کی بھی غلطیاں ہیں کہ صورت حال اس نہج پر پہنچی ، فواد چوہدری

    مذکورہ شکص کے مطابق جس کے بعد میں نے چاچا کے سامنے واکی ٹاکی پکڑ کر جھوٹی ایکٹنگ کی کہ میں نے ان کے سپر وائزر کو میسیج دیا ہے کہ میں چاچا گلزار ہوں، میں نے اپنی بیلٹ اور وردی بھی جمع کروا دی ہے اور میں مستعفی ہو رہا ہوں کیونکہ میں اس وقت عوام کے ساتھ کھڑا ہوں، لیکن چونکہ یہ ایکٹنگ تھی تو میسیج نہیں گیا اور چاچا گھبراکر میرے پاس آئے اور مجھ سے اپنا واکی ٹاکی چھین لیا۔

    شخص نے مزید بتایا کہ مجھے نہیں پتا ویڈیو جس لڑکے نے بنائی وہ کس کو بھیجی جو آگے غلط طرح سے وائرل ہوگئی، مجھے خود بھی اس ویڈیو کے وائرل ہونے کا پتہ دوستوں کے ذریعے سے چلا۔

    نوکری دینے اور قبول کرنے کے بارے میں سوال کے جواب میں متعلقہ شخص کا کہنا تھا کہ میں تو اس وقت بے روز گار ہوں اور اگر کسی نے مجھے نوکری کی پیشکش کی ہے تو میں ضرور نوکری کروں گا-

    آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے،وزیر اعظم

  • آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے،وزیر اعظم

    آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے،وزیر اعظم

    وزیر اعبظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی آڈیو ٹیپ عمران خان کی اصلیت اور دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔


    انہوں نے کہا کہ اپنے دعووں کے برعکس، عمران خان نے خود کو اور اپنی حکومت کو بچانے کے لیے این آر او مانگا۔ تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد غیر ملکی سازش کی جعلی کہانی گھڑی گئی۔ ان کا جھوٹ بے نقاب ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے متعلق ملک ریاض اور آصف زرداری کی مبینہ آڈیو کی پاکستان تحریک انصاف نے تردید کر دی۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ کاروباری شخص اور عمران خان کے مخالف سیاستدان آپس میں بات چیت کر رہے ہیں، بات چیت میں عمران خان سے منسوب باتوں کاحقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں، یہ تمام لوگ خان سے این آر او مانگتے رہے تھے جو انہیں نہیں ملا۔

    خیال رہے کہ ملک ریاض کی سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ گفتگو کی مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر عمران خان سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں جس میں ملک ریاض آڈیو میں یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’خان کے پیغامات آرہے ہیں کہ مصالحت کروادیں‘۔مبینہ آڈیو میں ملک ریاض کے ’اسلام و علیکم سر‘ اور آصف زرداری کے ’وعلیکم اسلام، خیریت ‘ سے گفتگو کا آغاز ہوا۔

    اگلے مہینے جب لوگ نکلیں گے توکسی کے کہنے پر بھی واپس نہیں جائیں گے،شیخ رشید

    ملک ریاض نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سر بس بتانا تھا، میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا، باتیں آپ سے کرنی ہیں، آپ نے کہا تھا بات نہیں کریں گے آپ کو انفارمیشن دینی تھی، خان کے پیغامات آرہے ہیں کہ مصالحت کروادیں آج تو اُس نے مجھے بہت ہی مسیجز کیے ہیں کہ پیچ اپ کروادیں-

    جس پر سابق صدر آصف علی زرداری نے جواب دیا کہ اب امپاسیبل ہے نہ ،اس پر ملک ریاض نے کہا کہ نہیں ٹھیک ہے، بس آپ کے سامنے بات رکھ دی۔

    بحیثیت اپوزیشن لیڈرمیری 2018 میں چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو نظر انداز کیا گیا،شہباز شریف

  • حکومت نےعمران خان کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

    حکومت نےعمران خان کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

    اسلام آباد:حکومت نے عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ جب ہم کہتے تھے مذاکرات ہونے چاہئیں تو کہتے تھے این آر او نہیں دوں گا، ہم آپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتے۔

    عمران خان کی پریس کانفرنس پر جوابی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ روزانہ اپنی ناکامی کا ماتم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پاکستان کے عوام آپ سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ جو باتیں کررہے ہیں وہ 4 سال میں کیوں نہیں کیا، آخر کیوں 4 سال بعد دوبارہ اقتدار چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوتہائی اکثریت نہ ہوئی تو دوبارہ الیکشن کراؤں گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام آپ کو مسترد کرچکے ہیں کیونکہ نہ آپ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دے سکے اور نہ ہی ریاست مدینہ بناسکے تو اقتدار کیوں چاہئے، ماڈل ٹاؤن کا فیصلہ ہوچکا، اگر اس میں ابہام تھا تو آپ 4 سال حکومت میں تھے کیوں اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا اور تحقیقات نہیں کروائیں۔

    مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ اگر پُرامن احتجاج کی کال دی تھی تو اسلحہ، ڈنڈے اور گولیاں کیوں جمع کیں، پولیس پر تشدد کیوں کیا، آپ کی تیاری پولیس والوں کے سر پھاڑنے اور سرکاری املاک کو آگ لگانے کی تھی، آپ کی تیاری اب 100 سال تک بھی نہیں ہوسکتی، آپ 100 سال تیاری کریں اب پاکستان کے عوام آپ کے ساتھ نہیں۔ن لیگی رہنماء کا کہنا ہے کہ آپ کی تیاری اتنی تھی کہ جلسی تک نہیں کرسکے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا کوئی جمہوری حق نہیں، خونیں مارچ کا اعلان کرنا کوئی جمہوری حق نہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اب سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیتے ہیں، کہتے ہیں پٹیشن لیکر جارہا ہوں، آپ کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر ریاست پر حملہ کرنے کی کوشش کرینگے تو اجازت نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے تھے مذاکرات ہونے چاہئیں تو کہتے تھے این آر او نہیں دوں گا، عمران خان ہم آپ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتے، آپ کو این آر او نہیں ملے گا۔

  • عمران خان پر اسلام آباد میں ایک اور مقدمہ درج، زرتاج گل بھی نامزد

    عمران خان پر اسلام آباد میں ایک اور مقدمہ درج، زرتاج گل بھی نامزد

    عمران خان پر اسلام آباد میں ایک اور مقدمہ درج، زرتاج گل بھی نامزد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لانگ مارچ ختم ہونے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت پر مقدموں کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں پر مقدمے درج کئے گئے ہیں، عمران خان، شاہ محمود قریشی، اسد عمر ،شیریں مزاری، زرتاج گل، علی امین گنڈا پور سمیت دیگر رہنماؤں وکارکنان کے نام مقدموں میں شامل ہیں، درج مقدمات میں راستوں کی بندش، کار سرکار میں مداخلت، پولیس پر حملہ اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں درج مقدمات کی تعداد 16 ہے، مقدمے کراچی کمپنی ، تھانہ آبپارہ، تھانہ ترنول، کوہسار، بہارہ کہو، رمنا، سیکرٹریٹ اور تھانہ لوہی بھیر میں درج ہوئے ہیں،

    تحریک انصاف کے رہنماؤں پر میانوالی، جہلم، حسن ابدال،لاہور سمیت دیگر کئی شہروں میں بھی مقدمے درج کئے گئے ہیں

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    دوسری جانب فواد چوہدری فراز چوہدری سمیت 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،گزشتہ روز پی ٹی ائی ریلی پولیس پارٹی پر پتھراؤ کار سرکار مداخلت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے پر فواد چودھری فراز چوہدری و دیگر 200 افراد کے خلاف تھانہ منگلا جہلم میں درج کیا گیا ہے ، مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ فواد چودھری میرپور سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے جہلم آنا چاہتے تھے ، ریلی کے شرکاء کے پتھراؤ سے پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ پولیس وین سمیت دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

    قبل ازیں وزیر داخلہ رانا ثناءاللّٰہ سے کمانڈنٹ فرنٹیر کانسٹیبلری صلاح الدین محسود کی ملاقات ہوئی،ایف سی کے ملکی امن امان برقرار رکھنے میں کردار و دیگر پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی ٹی آئی کے 25 مئی کے لانگ مارچ کے دوران ایف سی کی دارالحکومت اسلام آباد میں تعیناتی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی فرنٹیر کانسٹیبلری نے وزیر داخلہ کو فورس کے کام اور دائرہ کار سے متعلق آگاہ کیا۔

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ملکی امن و امان میں ایف سی کا کردار بہت اہم اور قابل ستائش ہے خیبر پختواہ اور ضم شدہ اضلاع میں امن و امن برقرار رکھنے میں ایف سی نے انتہائی موثرکام کیا ہے۔پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران ایف سی نے دارالحکومت اسلام آباد میں امن امان برقرار رکھنے میں مقامی پولیس کو بہت سپورٹ دی۔ پی ٹی آئی کے شرپسندوں کے ہاتھوں ایف سی کے کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے تشدد کے باوجود ایف سی اہلکاورں نے لانگ مارچ کے دوران انتہائ نظم وضبط اورتحمل کا مظاہرہ کیا۔ ایف سی اہلکاروں اور انکے کمانڈز کا پیشہ وارانہ کردار قابل تعریف ہے۔ایف سی کو ایک موثر فورس بنانے کیلئے تمام ضروری مالی اورتکنیکی وسائل فراہم کرینگے۔

    کمانڈر ایف سی کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں فرنٹیر کانسٹیبلری کی تعداد اٹھائیس ہزار جوانوں پر مشتمل ہے۔امن وامان کیلئے ایف سی وزارت داخلہ کے زیر انتظام فرائض سرانجام دیتی رہے گی۔

  • خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    پشاور:خیبر یونین آف جرنلسٹس کا صحافیوں کے گرینڈ اجلاس بلانے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق خیبر یونین آف جرنلسٹس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے پشاور کے صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنے رویہ پر نظرثانی نہ کی تو جلد صحافیوں کے گرینڈ اجلاس میں لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

    اس حوالے سے رفعت اللہ اورکزئی کہتے ہیں کہ جو پشاور میں صحافیوں کےساتھ ہوا وہ اچھا نہیں ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے رویے پر نظرثانی کرے تو بہتر ہے ورنہ پھر سخت لائحہ عمل تیار کیا جائے گا

    یاد رہےکہ پشاور میں اس وقت بدمزگی دیکھنے میں آئی جب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پشاور میں‌ پریس کانفرنس کررہے تھے تو ایک صحافی کی طرف سے سخت سوالات کے پوچھے جانے پر عمران خان پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کرچلے گئے

    اس پریس کانفرنس میں‌ سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز ، رانا ثناء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں سزا مل جاتی تو اتنا ظلم نہ کرتے، ہماری حکومت کیساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میری اگلی ساری زندگی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ہے۔خون خرابے سے بچنے کیلئے اسلام آباد سے واپس گئے۔حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جون میں الیکشن کا اعلان ہوجائے تو باقی معاملات پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن تھا لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنادیا، لاہور میں پولیس نے وکلا کو بسوں سے نکال نکال کر مارا، حکومت نے پنجاب پولیس کو استعمال کیا، آئی جی سمیت چن چن کر ایسے افسران لائے جنہوں ںے ظلم کیا، کون سی ملک دشمن پولیس نے جو اپنے ملک کی خواتین اور بچوں پر تشدد کرے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، کیا کوئی خواتین کو اور اہل خانہ لے کر انتشار پھیلانے جائے گا؟ یہ لوگ یزید کو ماننے والے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد کو قتل کے باوجود انہیں سزا نہیں ملی اگر مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کرپاتے۔

    انہوں ںے کہا کہ میں وہ آدمی ہوں جو 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے ایک اور دھرنے میں بیٹھنا کوئی مشکل نہیں تھا، جب ہم دھرنے میں پہنچے تو اندازا ہوا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، مجھے معلوم ہوا کہ خون خرابہ ہونے والا ہے، لوگ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے تھے، ہمارے لوگ پولیس کی مار کھاکر وہاں پہنچے وہ بہت مشتعل تھے، لوگ بہت غصے میں تھے، میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس دن خون خرابہ ہوتا اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ حکومت نے گلو بٹ بٹھائے ہوئے ہیں، پولیس کا قصور نہیں اسے استعمال کیا جارہا ہے، اگر ہمارا تصادم ہوتا تو ملک کا نقصان ہوتا کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہماری کمزوری تھی یا ہم نے کوئی ڈیل کرلی، میں نہیں چاہتا کہ ملک میں اداروں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے تو یہ لوگوں کی بھول ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں، اگر انہوں ںے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو ہم دوبارہ نکلیں گے اور اب کی بار تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیوں کہ نہیں پتا تھا کہ ہمیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑجائے گا، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہمارے جلسے کی راہ میں رکھی رکاوٹیں نہیں ہٹائیں گئیں انہیں کارکنان نے ہٹایا، میں اپنے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر سوالات کیے ہیں کہ اپنی پوزیشن کلیئر کریں، چھ دن میں پتا چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے کہ نہیں۔

  • پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے ہمراہ پشاور میں پریس کانفرنس کی۔

    صحافی نے سوال کیا کہ لوگ آپ کو ووٹ دیتے ہیں، آپ کے ساتھ جاتے بھی ہیں لیکن نہ لوگوں نے وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں گرتی دیکھیں، نہ لوگوں نے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرتے دیکھیں، نہ لوگوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں یونیورسٹیاں دیکھیں، نہ لوگوں نے چوروں کو لٹکتے ہوئے دیکھا، آپ لوگوں کو دوبارہ انگیج کرکے اسلام آباد چڑھائی کرنے جائیں گے تو کون سا نیا نعرہ ہے؟

    انہوں نے مزید سوال کیا کہ آپ کی ٹیموں نے یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیر سے پاکستان فتح کرنے کی کوشش کی ماضی میں، پختونخوا کے صحافیوں کو آپ لوگ بھلا چکے تھے، اب یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیرز سے امریکا اور یورپ اور نیٹو کے ممالک افغانستان نہیں فتح کرسکے آپ اسلام آباد کیا فتح کریں گے؟

    صحافی کا مزید سوال تھاکہ گلی گلی اور کوچے کوچے میں آرمی جنرلز کو گالیاں دے رہے ہیں، اب یہ تربیت کس نے دی؟ ٹوئٹر پر یہ کون لوگ ہیں؟ پی ٹی آئی کے لوگ ہیں؟ آپ اپنے ورکرز کو پاکستان کے اداروں بالخصوص آرمی اور عدلیہ کے حوالے سے کیا پیغام دیں گے؟ آپ نے کہا تھا کہ یہ پیغام کان میں پہنچا دیں میرے خیال سے کان میں پہنچ چکا ہے اور گالیاں پڑ رہی ہیں، اب عوام توقع کر رہے ہیں آپ اپنے ورکر کی تھوڑی سی تربیت کرلیں، آپ تحریک چلائیں پاکستان کو فتح کریں اور دوبارہ عوام کی خدمت کریں لیکن جو نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست ہے اس حوالے سےورکرز کو کوئی پیغام دیں گے؟

    صحافی کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھاکہ اس کا بڑا سخت جواب دے سکتا ہوں لیکن وہ نہیں دوں گا۔ ان کا کہناتھاکہ ہم نے چیف جسٹس کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں سازش واضح ہے، ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں دیکھ سکتے، جو بھی قوم جس کو ووٹ دینا چاہتی ہے بسم اللہ۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کوئی کنٹرول نہیں کرسکا، کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں لوگ فالو نہیں کرتے تو کل ختم ہوجاتے ہیں، سوشل میڈیا سے عوام کو آواز آگئی ہے جس کے پاس فون ہے اس کے پاس آواز ہے اور وہ اپنی آواز سامنے رکھ لیتا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھاکہ میں نفرتیں پھیلانا چاہتا تو کل جو حالات تھے تو وہاں نفرتیں تب دیکھنی تھیں کیسے پھیلنی ہیں، ہم ملک کو متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے صحافی کو کہا کہ آپ نے باتیں غلط کی ہیں بالکل غلط کی ہیں اور ایک غلط قسم کی تقریر کردی ہے، یہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔اس دوران عمران خان غصے میں آگئے اور پریس کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے اور صحافی کو بھی کچھ کہتے رہے۔