Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا : پرویز الہیٰ

    حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا : پرویز الہیٰ

    لاہور:حکومتی اتحادی کے طور پرعوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں:یہی اتحاد ہی کامیاب رہے گا :اطلاعات کے مطابق قائم مقام گورنر پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ حکومت کے اتحادی پارٹنر کے طور پر ہم عوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں۔

    چودھری پرویز الہیٰ سے جرمن سفیر برن ہارڈ سٹیفن نے اسمبلی میں ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ جرمن سفیر نے سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی۔

    اس موقع پر چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ جرمنی پاکستان کا بہترین بزنس پارٹنر ہے، آٹوموبائل انڈسٹری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت اور سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے جرمنی کے تجربے اور مہارت سے استفادہ کرنا چاہیے۔

    قائم مقام گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ای پارلیمنٹ کے قیام سے پیپر ورک ختم ہو گا اور اسمبلی زیادہ موثر انداز سے کام کر سکے گی ۔برن گارڈ سٹیفن نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر زور دیا اور مربوط اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق کیا ۔

    جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ ای پارلیمنٹ کے قیام کے لئے جرمن حکومت نہ صرف ٹیکنیکل بلکہ مالی طور پر بھی پاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

    ملاقات میں ایم این اے چودھری سالک حسین، سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی، ڈی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک اور سیکرٹری کوآرڈینیشن رائے ممتاز حسین بابر بھی شریک ہوئے۔بعدازاں جرمن سفیر نے پنجاب اسمبلی کے ایوان کا دورہ بھی کیا۔

  • "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے          کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    "چوری دےکپڑےتےڈانگاں دے گز”قوم کےخون پسینے کی کمائی:کرکٹ بورڈ میں لوٹ مارسُن کرغریب حواس باختہ

    کراچی:”چوری دے کپڑے تےڈانگاں دے گز”قوم کے خون پسینے کی کمائی:کرکٹ کے میدان سے تہلکہ خیزرپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق پچھلے چند گھنٹوں سے میڈیا پر کچھ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں جن کو دیکھ کر قوم پریشان ہے کہ کس طرح ایک ایک فرد پر سالانہ کروڑوں روپے بہائے جارہے ہیں‌، یہ خبران حلقوں کے لیے تو شاید پریشانی کا باعث نہ ہوجو اس بٹوارے میں شامل ہیں لیکن غریب عوام جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس پر ٹیکس ادا کررہےہیں ان افسران کی تنخواہیں اور مراعات دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے ہیں

    اس حوالے سے منطرعام پرآنے والے تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی کے سی او او کی ’’ترقیاں‘‘ آڈٹ میں نمایاں ہو گئیں جب کہ فروری 2019 میں سینئر جنرل منیجر لیگل سے چیف آپریٹنگ آفیسر بننے پر تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔یہ حقائق اور اعدادوشمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی دولت کے کس طرح بٹیارے کیئے گئے ،ایک شخص کو راتوں رات اس قدر نوازنے کا آخرراز کیا ہے ،

     

     

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 ستمبر 2011 کو سلمان نصیر کا بطور منیجر لیگل بغیر کوئی اشتہار جاری کیے ابتدائی طور پر90 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے تقرر ہوا،اس کے بعد مختصر وقت کے لیے ان کی دیگر حیثیتوں میں تقرری/ ترقی ہوتی رہی۔پی سی بی ذرائع کا ہی کہنا ہے کہ یہ ترقیاں غیرقانونی تھیں جن کے لیے نہ تو کوئی قواعد وضوابط طئے تھے اور نہ اس کی پی سی بی کے آئین میں گنجائش ہے

    15 جولائی 2012 تک وہ منیجر لیگل ہی رہے،16 جولائی 2012 سے4 نومبر 2013 تک 16 ماہ تک منیجر لیگل آنری رہے، تنخواہ30 ہزارماہانہ کے اضافے سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہو گئی، 5 نومبر 2013 سے3 مارچ 2015 تک80ہزار تنخواہ بڑھنے سے وہ بطور منیجر لیگل16 ماہ تک2 لاکھ ماہانہ وصول کرتے رہے، پھر ان کے عہدے میں سینئر اور چیک پر35 ہزار ماہانہ کا اضافہ ہوا۔
    سینئر منیجر لیگل کی حیثیت سے سلمان نصیر نے 4 مارچ 2015 سے7 مارچ 2016 کے درمیان 12 ماہ تک ماہانہ 2 لاکھ 35 ہزار روپے لیے،پھر تنخواہ تو 15 ہزار بڑھی لیکن وہ جنرل منیجر لیگل بن گئے،8 مارچ 2016 سے یکم جولائی 2018 تک28ماہ تک انھیں ہر ماہ ڈھائی لاکھ روپے دیے جاتے رہے،پھر عہدے میں سینئر اور تنخواہ میں 25 ہزار کا اضافہ ہوا، بطور سینئر جنرل منیجر وہ یکم جولائی 2018 سے 11 فروری 2019 تک 7 ماہ تک 2 لاکھ 75 ہزارروپے ماہانہ پاتے رہے۔

    اس کے بعد سلمان نصیر کی قسمت نے پلٹا کھایا اور انھیں 12 فروری 2019 کو چیف آپریٹنگ آفیسر بنا دیا گیا، تنخواہ میں یکمشت8 لاکھ 25 ہزار روپے کا اضافہ ہوا اور وہ 2 لاکھ 75 ہزار سے 11 لاکھ روپے ماہانہ ہو گئی۔

    آڈٹ رپورٹ کے مطابق اپنے دور ملازمت میں سلمان30 جولائی 2021 تک3 کروڑ 64 لاکھ 65 ہزارروپے وصول کر چکے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو ان کی تنخواہ مزید اضافے سے 12 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ہو چکی۔

    رپورٹ کے مطابق انھیں ملازمت پررکھنے سے قبل اخبار میں کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی کم از کم تعلیمی قابلیت، تجربے اور عمر کا خیال رکھا گیا،سلمان نصیر کو مختصر وقت میں بغیر کسی توجہیہ پیش کیے ہائیر اسکیل کی پوسٹس پر تعینات کیا جاتا رہا۔

    آڈٹ رپورٹ میں لکھا گیاکہ بغیر اشتہار سلمان نصیر کی بطور منیجر لیگل تقرری، معاہدے کے دور میں بار بار پروموشنز،ایک سال میں اعلیٰ عہدے پرتقرر بے قاعدہ،غیرمجاذ اور پی سی بی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بغیر کوئی اشتہار دیے ان کی بطور چیف آپریٹنگ آفیسر تعیناتی بھی خلاف ضابطہ ہے۔

    12 جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈے اے سی) نے مینجمنٹ کو معاملے کی تحقیقات،ذمہ داری کے تعین اور رپورٹ آڈٹ کے ساتھ شئیر کرنے کا بھی کہا تھا۔

    دوسری طرف یہ خطرناک اور تہلکہ خیز انکشافات سامنے آنے پر عوام الناس میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے ، عوام الناس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کرٹیکس دے رہے ہیں اور کرکٹ بورڈ اس قدر عیاش ہےکہ بورڈ کےسب افراد ملکر قومی دولت کے بٹوارے کررہےہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے غریبوں پرشاید لکھ دیاگیا ہے کہ وہ دن رات محنت کریں اور ان کی کمائی پرکرکٹ بورڈ عیاشی کرے

  • اتحادیوں نے پھر منہ موڑ لیا،اپوزیشن کی تحریک میں تیزی،دارالحکومت میں بڑی سیاسی بیٹھک

    اتحادیوں نے پھر منہ موڑ لیا،اپوزیشن کی تحریک میں تیزی،دارالحکومت میں بڑی سیاسی بیٹھک

    اتحادیوں نے پھر منہ موڑ لیا،اپوزیشن کی تحریک میں تیزی،دارالحکومت میں بڑی سیاسی بیٹھک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی تحریک میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے

    اپوزیشن کے آپس میں رابطے و ملاقاتیں ہو رہی ہیں تو حکومتی اتحادی جماعتیں بھی اپوزیشن کے ساتھ رابطے میں آ رہی ہیں اور ملاقاتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے، ایسے لگتا ہے کہ حکومتی اتحادی حکومت سے یا تو مطالبات منوانا چاہتی ہیں یا پھر اپنا وزن اپوزیشن کے پلڑے میں ڈال کر اپوزیشن کی ممکنہ تحریک عدم اعتماد میں شامل ہو کر دوبارہ بننے والی نئی حکومت کی اتحادی بننا چاہتی ہیں

    ایم کیو ایم نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے اس کے بعد ایم کیو ایم وفد کی پنجاب میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف سے ملاقات طے ہو چکی ہے، وفد میں متحدہ رہنما عامر خان، وسیم اختر اور صادق افتخار شامل ہوں گے۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ متحدہ اور ن لیگ کے ورکنگ ریلیشن شپ پر بھی گفتگو ہوگی۔ایم کیو ایم کا وفد حکومتی اتحادی جماعت ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سے بھی ملے گا

    شہباز شریف سے دو روز قبل ایک طویل عرصے بعد آصف زرداری اور بلاول زرداری کی بھی ملاقات ہو چکی ہے،شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد نواز شریف اور مولانا فضل الرھمان سے بھی رابطہ کیا اور انہیں ملاقات کی صورتحال سے آگاہ کیا،اس ملاقات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنما مزید متحرک ہوئے ہیں.

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

    حفیظ شیخ کوہٹانے کی وجہ مہنگائی نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے:جس کے تانے بانے کہیں اورملتے ہیں‌

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    پیپلز پارٹی نے ماہ فروری میں اور پی ڈی ایم نے ماہ مارچ میں لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے.، پیپلز پارٹی کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں،بلاول زرداری سمیت پیپلز پارٹی کی تمام قیادت لانگ مارچ کے حوالہ سے بھر پور کام کر رہی ہے ،تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمان بھی متحرک ہیں، پشاور میں میئر کا الیکشن جیتنے کے بعد مولانا فضل الرحمان کے پست حوصلے ایک بار پھر بلند ہو چکے ہیں،

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    بازی پلٹ گئی، اتحادیوں کا صاف انکار،حکومت کو اسمبلی میں بدترین شکست

    حکومت کے اتحادی ہیں لیکن…چودھری پرویز الہیٰ نے ایک بار پھر بڑا اعلان کر دیا

    حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک کو لے کر سینیٹ میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس 2 بجے طلب کرلیا گیا ہے ،اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی اجلاس کی صدارت کریں گے ،یوسف رضا گیلانی کا اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں سے رابطہ ہوا ہے یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن رہنماوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی،اجلاس میں سینیٹ کے اندر اپوزیشن کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوگا سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس سمیت دلاور خان گروپ سے متعلق مشاورت ہوگی

    دوسری جانب ن لیگی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس آج شام 7 بجے شروع ہوگا ،ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نوازشریف لندن اور شہبازشریف لاہور سے اجلاس کی صدارت کریں گے ملکی صورتحال، مہنگائی، معاشی تباہی اوربے روزگاری سے متعلق امور پر بات ہوگی،منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک سے متعلق امور پر بات چیت ہوگی اجلاس میں ملک میں دہشت گردی، بلوچستان میں حالیہ واقعات پر غور کیاجائے گا شہبازشریف اجلاس کو پیپلزپارٹی قیادت سے ہونے والی ملاقات پراعتماد میں لیں گے

    قبل ازیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی سے تعلقات کے حوالہ سے نظر ثانی پر جائزہ لیا گیا،پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت بی اے پی کی قیادت کی اہم بیٹھک میں بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان ،چیئرمین سینیٹ سمیت اراکین قومی وصوبائی اسمبلی نے شرکت کی

    پیپلز پارٹی بمقابلہ اے آروائی ،مبشر لقمان اصل حقیقت منظر عام پر لے آئے

    جماعت اسلامی کیخلاف پروگرام پر انکی طرف سے کیا ردعمل آتا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خبر آ گئی، آصف زرداری زندہ ہیں یا نہیں؟ سنئے حقیقت مبشر لقمان کی زبانی

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    بی اے پی کی قیادت نے وفاقی حکومت کی جانب سے پارٹی کو نظرانداز کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ہونے کے باوجود بی اے پی کو اسکا مقام نہیں دیا جارہا۔ وفاقی کابینہ میں بی اے پی کی نمائندگی نہ ہو نے کے برابر ہے۔وفاقی کابینہ میں نمائندگی نہ ہونے سے بلوچستان میں احساس محرومی میں اضافہ ہو رہاہے۔ بی اے پی وفاق میں پی ٹی آئی حکومت کی غیر مشروط حمایت کر کے تھک چکی ہے۔جائز مقام نہیں دیا جا رہا، اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ وزیراعلیٰ وزیراعظم کے دورہ کوئٹہ کے دوران تحفظات ان کے سامنے رکھیں گے اور بتائیں گے کہ یہ آخری موقع ہے،اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو بلوچستان عوامی پارٹی اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    وزیراعظم میں ہمت ہے تو یہ کام کریں، گیلانی نے بڑا چیلنج دے دیا

    قبل ازیں ق لیگ بھی حکومت سے نالاں نظر آتی ہے، حکومتی اتحادی جماعت کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے بھی حکومت کے حوالہ سے چند روز قبل ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن لیڈرجیسے بیانات سے حکومتی پوزیشن کمزورہوتی ہے اپوزیشن کی حکومت کومشتعل کرنے کی حکمت عملی ہوتی ہے،اتحادیوں نے ہرمشکل وقت میں حکومت کواپوزیشن کے پنجوں سے چھڑایا ، اپوزیشن جیسے بیانات سے انتظامی مشینری کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے ،اپوزیشن لیڈرز جیسے بیانات دینے سے حکو مت کی اپنی سیاسی پوزیشن کمزور ہوتی ہے حکو مت بڑے فیصلے کرنے سے پہلے اتحادیوں سے مشاورت کرنے کی روش اختیار کرے،حکو مت خواہ مخواہ اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،

  • چینی کرپشن فری ماڈل:کرپٹ لوگوں کیخلاف فوری فیصلے     ،کڑی سزائیں:چینی صدرکاعمران خان کومشورہ؟حقیقت؟

    چینی کرپشن فری ماڈل:کرپٹ لوگوں کیخلاف فوری فیصلے ،کڑی سزائیں:چینی صدرکاعمران خان کومشورہ؟حقیقت؟

    اسلام آباد: کرپٹ لوگوں کے خلاف سخت فیصلے،کڑی سزائیں: چین کے صدر نے عمران خان واقعی یہ مشورہ دیا؟تردید نہ کی جاسکی،انتہائی معتبر ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ چین کےصدرشی جن پنگ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ایک خاص موضوع پر اہم گفتگو بھی ہوئی ہے جسے وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھی چھپانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں‌

    ذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات میں جب وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں کرپشن اور سابق حکمرانوں کی لوٹ مار کا ذکر کیا تو چینی صدر نے وزیراعظم عمران خان کی گفتگو اس دوران انتہائی انہماک سے سُنی اور جب عمران خان نے اپنی گفتگو مکمل کی تو چین کےصدرشی جن پنگ کے صدر نے چین کے صدر نے چین میں کرپٹ لوگوں کے‌خلاف فیصلوں کو ملکی معاشی ترقی میں بہتری کا سبب قراردیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران چین کےصدرشی جن پنگ کے صدر نے وزیراعظم عمران خان کو یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ جب تک کرپش کرنے والے کرپٹ افراد کے خلاف سخت فیصلے اور کڑی سزائیں نہیں دی جائیں گی اس وقت حکومت معاشرے میں بدعنوانیت کا خاتمہ نہیں کرسکے گی اور اس کے بغیر یہ خواب دیکھنے بے کار ہیں

    ذمہ دار ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران یہ الفاظ دہرائے کہ "伊姆蘭汗,你並不孤單,我們的合作也與你同在:عمران خان ہمت کریں ہم تمہارےساتھ ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس گفتگو کے دوران وزیراعظم عمران خان نے شریف فیملی اور آصف علی زرداری کے حوالے سے بھی گفتگو کی کہ ان کی وجہ سے ملک آج اس نوبت کو پہنچا ہے ،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران چین کےصدرشی جن پنگ کے صدر نے وزیراعظم کو چین میں طاقتور کرپٹ لوگوں کو بغیر کسی دباو کے سزائیں دینے کا حوالہ بھی دیا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جس طرح پہلے بھی ہر عالمی فورم اور ہرعالمی شخصیت کے ساتھ پاکستان میں کرپشن اور سابقہ حکمرانوں کی چوربازاری کا ببانگ دہل ذکر کرتے ہیں ، چینی صدر کے سامنے بھی وہی انداز اپنایا گیا جس پر چین کےصدرشی جن پنگ نے عمران خان کو بلاتفریق اور بغیر کسی دباو کو خاطر میں ان طاقتور شخصیات کے خلاف سخت فیصلے اور کڑی سزاوں کا مشورہ دیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چینی صدر وزیراعظم عمران خان کی اس موضوع پر گفتگو سے بہت متاثر ہوئے اور وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کوسراہا اور کرپشن کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کا مشورہ بھی دیا

    ذرائع کی یہ بات کس حد تک درست ہے اس حوالے سے ان دعووں کی ترد نہیں کی گئی ، اور اگریہ دعوے درست ہیں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ چین کےصدرشی جن پنگ وزیراعظم عمران خان کے ویژن سے متاثر ہیں اور وہ بھی پاکستان کے ان طاقتور کرپٹ خاندانوں کے خلاف چینی ماڈل کی طرز کے فیصلے چاہتے ہیں

    اگر یہ دعوے درست ہیں تواس کا مطلب یہ بھی واضح ہے کہ چین کی حکومت پاکستان کو ہرصورت آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب چینی ماڈل کو استعمال میں لاتے ہوئے کرپٹ لوگوں کوسخت سزائیں دی جائیں گی اور اگریہ بات درست ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ چین کی حکومت عمران خان کے ساتھ ہر محاذ پرکھڑی ہوگی جس کی واضح مثال چینی وزارت خارجہ اور چینی سفیر کے یہ بیانات ہیں کہ چین کی حکومت پاکستان کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے متفق ہے اور چین اس حکومت کے ساتھ مستقبل میں بھی بھرپور تعاون کرے گا یہ اشارہ موجودہ حکومت کے اگلے دور حکومت کی طرف ہے

  • چین کےصدرسےملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی      حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:وزیراعظم عمران خان

    چین کےصدرسےملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد :‘چین کےصدر سے ملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین کےصدرشی جن پنگ سےملاقات شاندار رہی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر سےملاقات کی فوٹیج کےساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ملاقات بہت اچھی رہی ہم نے اسٹرٹیجک اوراقتصادی تعلقات کومزیدفروغ دینےپر اتفاق کیا۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ ملاقات میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تیزی لانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ دونوں عالمی رہنماؤں کی ملاقات بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں ہوئی، اکتوبر 2019میں وزیراعظم کے دورہ چین کےبعد دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم عمران خان نے اولمپک سرمائی کھیلوں کی کامیاب میزبانی پر چینی قیادت کو مبارکباد دی اور چین کے نئے قمری سال پر چینی عوام کے لئےنیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کو چینی میڈیا بہت اہم قراردے رہا ہے اور یہ توقع کی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی ، خارجہ اور اقتصادی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں ، چینی صدر وزیراعظم عمران خان کی گفتگو سُن کر بہت ہی متاثر ہوئے ہیں

  • "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان رواں ماہ روس کا تاریخی دورہ کریں گے، وزیراعظم روس کا دوطرفہ دورہ کرنے والے 23سال میں پہلے وزیراعظم ہونگے، وزیراعظم عمران خان دورہ روس، روسی صدر پیوتن کی دعوت پر کر رہے ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق دورہ میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی انکے ہمراہ جائے گا، دورہ روس فروری کے آخر میں کیا جائے گا، دورہ سے متعلق حتمی شیڈیولنگ کا سلسلہ جاری ہے،
    دفتر خارجہ کے ذرائع نے ڈیلی ٹائمز کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان رواں ماہ کے آخری ہفتے میں روس کا تاریخی دورہ کرنے والے ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی جا سکے۔

    ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وزیراعظم اپنے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے۔ بات چیت میں معیشت، تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

    وزیراعظم دورہ روس میں دوطرفہ تعلقات، نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن جسے اسٹریٹجک اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے ، جو پہلے نارتھ ساؤتھ پائپ لائن کے نام سے جانا جاتا تھا، بھی بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہوگا اور توقع ہے کہ ماسکو میں دونوں فریقین کے درمیان وفود کی سطح کے دوران اس منصوبے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ 2.5 بلین ڈالر کا پائپ لائن منصوبہ کراچی اور گوادر کے مائع قدرتی گیس (LNG) ٹرمینلز سے بڑے شمال وسطی شہر لاہور تک ہر سال 12.3 بلین کیوبک میٹر (bcm) قدرتی گیس کی ترسیل کو محفوظ بنائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان 1970 کی دہائی کے وسط سے شروع کیا جانے والا پہلا اتنے بڑے پیمانے پر اقتصادی اقدام ہوگا۔

    اگرچہ پاکستان اور روس کے درمیان مختلف سطحوں پر تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن 2003 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دورہ ماسکو کے بعد سے یہ وزیراعظم عمران خان کا پہلا دورہ ہوگا۔اس پس منظر میں اس دورے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے جس سے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی نئی شروعات متوقع ہے۔

    حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن دونوں نے بھی اپنے تعاون کو مزید تقویت دینے پر اتفاق کیا۔

    دفتر خارجہ کے ذرائع نے یقین ظاہر کیا کہ روسی صدر کا رواں سال کے آخر تک دورہ پاکستان کا بھی امکان ہے جو دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی لمحہ ہوگا اور اسے مزید بلندی کی جانب لے جانے میں مدد ملے گی۔

    خیال رہے کہ آخری بار کسی پاکستانی وزیراعظم نے دو طرفہ دورہ روس سنہ 1999 میں کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر آخری مرتبہ روس کا دوطرفہ دورہ کیا تھا جو سنہ 2011 میں ہوا۔

  • وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کیا ہوئیں راز کی باتیں؟اعلامیہ جاری ہوگیا

    وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کیا ہوئیں راز کی باتیں؟اعلامیہ جاری ہوگیا

    اسلام آباد/ بیجنگ: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت میں تیزی سے پھیلتی عسکریت پسندی علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم آفس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2019 میں وزیراعظم کے دورہ چین کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، جب کہ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں 24 ویں اولمپک سرمائی کھیلوں کی کامیاب میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی، اور چینی نئے قمری سال پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین پاکستان کا ثابت قدم ساتھی، بہترین حامی اور آئرن برادر ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی آزمائشوں کا مقابلہ کیا، دونوں ممالک امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی مشترکہ امنگوں کو عملی جامہ پہنانے میں شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، آزادی اور قومی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے میں امن و استحکام کی عکاس ہے

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پائیدار ترقی، صنعتی ترقی، زرعی جدید کاری اور علاقائی رابطوں کے لیے اپنی حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا، اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی مسلسل حمایت اور مدد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی سے بہت فائدہ اٹھایا۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ دنیا میں بڑھتے ہوئی پولرائزیشن کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئی پولرائزیشن سے عالمی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں، موسمیاتی تبدیلی، صحت کی وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات ناقابل تسخیر چیلنجز ہیں، ان چیلنجز سے صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون کے ساتھ ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے بھارت کےغیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی ہندوتوا ذہنیت، ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، بھارت میں تیزی سے پھیلتی عسکریت پسندی علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفاد کے تمام امور پر پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا، دونوں رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں اقتصادی ترقی اور رابطوں کو فروغ دے گا، اور دونوں رہنماوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی تباہی کو روکنے میں افغان عوام کی فوری مدد کرے۔ پاک چین سربراہان نے صنعتی تعاون، خلائی تعاون، اور ویکسین کے تعاون پر مشتمل متعدد معاہدوں پر دستخط کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

  • وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر،   مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر، مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    بیجنگ: وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیراعظم ،قطری امیر،مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان اس وقت چین میں موجود ہیں جہاں ان سے چینی وزیراعظم ،امیر قطر،مصری ارو ازبک صدرسمیت بڑے بڑے عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری ہیں اور یہ ملاقاتیں اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی ہیں‌

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔

     

    فواد چودھری نے مزید لکھا کہ دونوں ملاقاتوں میں کشمیر اور افغانستان گفتگو کے اہم موضوعات رہے، چین پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    اُدھر وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم

     

     

     

    عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کو سی پیک اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال، کشمیری عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا، وزیراعظم نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

     

     

     

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، کثیر جہتی تزویراتی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

     

    وزیراعظم عمران خان دورہ چین کے دوران دارالحکومت بیجنگ کے گریٹ ہال پہنچے جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چائنہ انرجی اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن اور پاور چائنا کے چیئرمینز سے آن لائن ملاقات کی۔ آن لائن ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی کےشعبے کی بہتری اورسرمایہ کاری سے متعلق گفتگو ہوئی۔

     

     

    دوسری جانب دورے کے حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین انتہائی کامیاب جا رہاہے، چین کے صدر اور وزیراعظم سے معاشی، تجارتی تعاون پر بات ہوگی۔

    اُدھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین میں مصری صدر عبد الفتح السیسی اور قطری امیر تمیم بن حماد التھانی سے ملاقات کی۔

     

     

     

    وزیراعظم عمران خان کی بیجنگ میں ازبک صدر سے ملاقات ہوئی، سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پرملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں کا دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

     

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان شراکت داری کے فروغ کےعزم کا اعادہ کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کو فعال کرنے اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم نے ریلوے منصوبے کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ عمران خان نے سیاحت کے فروغ کے لیےبراہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے تعلیم اور ثقافت میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں علاقائی امن و استحکام پر بھی غور کیا گیا، دونوں رہنماوں کاعالمی برادری سے افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور وزیراعظم نے ازبک صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    اُدھر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران ہماری چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں ہو رہی ہیں جو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم خود ان کی براہ راست بات بھی سن رہےہیں اور جو نکات وہ اٹھارہے ہیں ان کا جواب اور تمام وزارتوں کو اس حوالے سے عملدرآمد کے لئے احکامات جاری بھی کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان چینی وزیراعظم لی سے ملاقات بھی کررہے ہیں اور پاکستان جن شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے درخواست کررہا ہے ان پر بھی غور ہو گا ۔ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اتوار کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم عمران خان یہی نکات اٹھائیں گے ۔امید ہے کہ اس دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    چین میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی کل چین کے صدرشی جن پنگ سے اہم ملاقات ہوگی، چین نے ہمیشہ ہرمشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ چین سے دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ چین کشمیرکے معاملے پرپاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • حرامانی بھی سیاسی  ہوگئیں:عمران خان کے خلاف نوازشریف کی کمپین چلانے لگیں‌

    حرامانی بھی سیاسی ہوگئیں:عمران خان کے خلاف نوازشریف کی کمپین چلانے لگیں‌

    لاہور:حرامانی بھی سیاسی ہوگئیں:عمران خان کے خلاف نوازشریف کی کمپین چلانے لگیں‌،پاکستان کی معروف اداکارہ حرامانی کے شوہر اور اداکار مانی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو اب لوگوں کو گھبرانے کی اجازت دے دینی چاہیے۔

    پاکستان کی اداکار جوڑی جو کہ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام جشنِ کرکٹ میں مہمان بنی اور ملکی حالات سمیت مختلف موضوعات پر جوابات دیےتا ہم اس دوران 500کی دوڑ میں اداکار مانی اور ان کی اہلیہ حرا مانی پی پی رہنما قمر زمان کائرہ کو ہرا نہ سکے۔

    اس دوران اداکار مانی نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پانی سر کے اوپر نہیں بلکہ لوگ سمندر کی تہہ کے نیچے جاچکے ہیں لہٰذا عمران خان کو لوگوں کو گھبرانے کی اجازت دے دینی چاہیے۔

    دوران پروگرام مانی نے کرپشن پر برطرف لندن میں‌ پناہ لیے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق بھی گفتگو کی اور کہا کہ الیکشن ہوئے تو نوازشریف 90فیصد ووٹ لے جائیں گے۔

    پروگرام جشنِ کرکٹ میں حرا مانی کا کہنا تھا کہ 80 فیصد مردوں کولگتا ہےکہ بیویاں شوہروں سے لڑنے کے لیےبہانے ڈھونڈتی ہیں، ایسا نہیں ہوتا مگرشوہروں کو ایسا ہی لگتا ہے ۔

    دوران پروگرام اداکارہ نے گورا رنگ کرنے کے انجیکشن لگوانے کی خواہش کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ میں نے رنگ گورا کرنے کے انجیکشن لگوانا چاہے تو ہماری لڑائی ہوگئی اور مانی نے مجھے بہت ڈانٹا۔

    ماضی کے تجربات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہےکہ حرامانی کے سیاسی ہونے سے اداکارہ بھی اس صف میں شامل ہوجائیں گی جن کے سیاسی رویوں نے کئی بڑی شخصیات کو انتہائی متنازعہ بنا دیا اور پھر یہ شخصیات آہستہ آہستہ سکرین کے پردے کے پیچھے ہی چلیں گئیں‌

    دوسری طرف سوشل میڈیا پر حرا مانی کے سیاسی رویوں‌ کو ن لیگی صارفین نے تو بہت پسند کیا ہے تاہم باقی دیگر درجنوں جماعتوں اور غیرجانبدارصارفین نے حرامانی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک اوورکنفیڈینس اداکارہ قراردیا ہے

  • :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    آج ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ آج پھر سیمینارز، کانفرنسیں، ریلیاں اوراحتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ کئی کلو میٹر کی ہاتھوں کی زنجیریں بنیں گی۔ چوکوں اور چوراہوں پر بھارتی مظالم کے خلاف جلسے اور جلوس ہوں گے ۔

    تفصیلات کے مطابق آج 5 فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیریوں سے یک جہتی کے لیے یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا
    اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستانی کی شہ رگ ہے۔

    ہر سال 5 فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاہم رواں سال اس کی اہمیت بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے بڑھ گئی ہے، واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا تھا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرتے ہوئے اسے 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا جس کا اطلاق گزشتہ سال 31 اکتوبر سے ہوگیا تھا، ساتھ ہی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو 5 اگست سے اب تک جاری ہے جبکہ وہاں کے عوام کو مواصلاتی نظام کی بندش کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے اور شہری اپنے اہلخانہ سے رابطہ قائم کرنے سے محروم ہوگئے ہیں، تاہم گزشتہ ماہ خطے میں محدود موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروس کو عارضی طور پر بحال کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام کو مشکلات ہیں۔

    آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان بھر میں عام تعطیل ہے

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک کئمے مختلف شہروں میں ریلیوں، جلسوں، سیمینارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے جبکہ بھارتی مظالم کے خلاف

    اج پانچ فروری2022 کو 32 واں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے اور اکتیس برس گزرنے کے بعد آج تحریک آزادی کشمیر ایک فیصلہ کن اور انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج پورے ملک میں سرکاری طور پر تعطیل منائی جا رہی ہے۔ایک طرف ہم کشمیر کو اپنی شہہ رگ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف کشمیر میں جاری بدترین کرفیو اور لاک ڈائون ہے اور ہماری شہہ رگ ہمارے روایتی اور ازلی دشمن کے پنجوں میں جکڑی ہوئی ہے اور ہم صرف احتجاجی مظاہرے اور سیمیناز منعقد کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا قومی فریضہ انجام دے دیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک طرف صرف قرار دادیں منظور کی جائیں اور دوسری طرف روزانہ سرکٹوائے جائیں؟ ایک طرف مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف کشمیری کئی برسوں سے بھارتی محاصرے اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یقیناً پاکستان کی 22 کروڑ عوام کی موجودگی میں کشمیر کا کوئی سودا نہیں ہو سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن کویکجہتی کشمیر سے منسوب کر کے ہم نے اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں؟کیا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟ اس پر سوچنا ہو گا، کیونکہ آج پھر پانچ فروری ہے۔ آج کا دن بھی گزر جائے گا، لیکن انتظار اس دن کا ہے ،جب کشمیریوں کو آزادی ملے گی اور کشمیرمیں جاری ظلم کا خاتمہ ہو گا۔