Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • قریشی "استعمال” ہو گئے،ایسی حرکت وزیر خارجہ کو زیب نہیں دیتی،پلوشہ خان

    قریشی "استعمال” ہو گئے،ایسی حرکت وزیر خارجہ کو زیب نہیں دیتی،پلوشہ خان

    قریشی "استعمال” ہو گئے،ایسی حرکت وزیر خارجہ کو زیب نہیں دیتی،پلوشہ خان

    سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کے ایوان کی توہین کرکے اپنی اصلیت بے نقاب کی،

    سینیٹرپلوشہ خان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کو اپنی کارکردگی بتانے کیلٸے کچھ نہیں تھا٬سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف سیاسی خانہ بدوش بیان بازی کر رہے ہیں،شاہ محمود قریشی سیاسی اخلاقیات کی جن بنیادوں پر کھڑے ہیں سب کو معلوم ہے شاہ محمود قریشی اپوزیشن کی ماسی بننے کی کوشش نہ کریں سلیکٹڈ حکومت نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کے ذریعے سینیٹ پر شب خون مارا، چیئرمین سینیٹ کا کردار کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں، سلیکٹڈ وزیراعظم اور ان کے وزراء کی ڈکشنری میں شرم نامی کوئی لفظ نہیں عمران خان بہت بڑی وبا جبکہ فواد چودھری چھوٹی موٹی بیماری ہیں،

    پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ کئی روز سے پیپلزپارٹی کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے ،تاثر دیا جا رہا ہے پیپلزپارٹی کسی ڈیل کا حصہ ہے،سینیٹ میں وزیر خارجہ پالیسی اسٹیٹمنٹ کی آڑ میں آئے،وزیرخارجہ نے کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ کیسے پیش کیا؟وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کلبھوشن کے لیے سفارتکاری کی،ہم شاہ محمود قریشی کے مرید ہیں نہ مزارعے، اس ایوان میں سب برابر ہیں،شاہ محمود قریشی کو عمران خان نے استعمال کیا،شاہ محمود قریشی کی تقریر سے لگا کہ وہ اپنی سی وی نواز شریف کو پیش کر رہے ہیں،یہ حرکت کسی فارن منسٹر کو زیب نہیں دیتی، یوسف رضا گیلانی نے دباؤ میں آ کر استعفیٰ نہیں دیا، خود تسلیم کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے،ہم کھڑے ہو سکتے ہیں کئی باتوں پر اختلاف کر سکتے ہیں، یہ آئی ایم ایف کے آگے لیٹ چکے ہیں، صرف اقتدار کو بچانا چاہتے ہیں، اقتدار تبھی تک قائم رہتا ہے جب ملک رہتا ہے،ملکی سلامتی داؤ پر لگا رہے ہیں

    قبل ازیں رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ اسد عمر کے حلقہ کے ووٹر انہیں لالٹین لیکر ڈھونڈ رہے ہیں، اسد عمر کے حلقہ میں بارش اور سیلاب سے انسان مرتے رہے مگر وہ غائب رہے، اسد عمر میں جرآت نہیں کہ وہ اپنے حلقہ کے عوام کا سامنا کرے، اسد عمر پیپلزپارٹی کی نہیں اپنی حکومت اور پارٹی کی فکر کریں، گندم اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں میں اسد عمر سر فہرست ہیں،قومی بنک سے اربوں روپے کی چوری میں اسد عمر سہولت کار تھے کورونا فنڈ میں 40 ارب روپے کے گھپلے میں بھی اسد عمر شامل ہیں،

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    یوسف رضا گیلانی ووٹ خرید کر منتخب نہیں ہوئے ؟ سینیٹ میں سوال

  • لندن بھاگےمجرم شخص کیلئےسپریم کورٹ بارعدالت چلی گئی:وزیراعظم کا بہاولپور میں خطاب

    لندن بھاگےمجرم شخص کیلئےسپریم کورٹ بارعدالت چلی گئی:وزیراعظم کا بہاولپور میں خطاب

    بہاولپور: مجرم شخص کیلئےسپریم کورٹ بارعدالت چلی گئی: اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چور، مجرم اور لندن بھاگے شخص کے لیے سپریم کورٹ بار عدالت چلی گئی۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بہاولپور ڈویژن میں نیا پاکستان قومی صحت کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزیر خسرو بختیار نے بھی خطاب کیا۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر بہاولپور ڈویژن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں صحت کارڈ تقسیم کرکے پروگرام کا باقاعدہ اجرا کیا۔ قومی صحت کارڈ کا اجراء خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، ضلع تھر پارکر، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں کیا جا چکا ہے۔ بہاولپور ڈویژن میں شامل اضلاع رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر کے ایک کروڑ 5 لاکھ سے زائد افراد کی شمولیت کے بعد پنجاب میں قومی صحت کارڈ سے مستفید ہونے والے اہل گھرانوں اور افراد کی تعداد میں 63 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔

    وزیراعظم نے ایک بار پھر اپوزیشن کو نشانے پر رکھا اور سپریم کورٹ بار پر بھی کڑی تنقید کی۔

    عمران خان نے تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ بار کی پٹیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عدالت میں جا کر کہےگی کہ دیکھیں ایک آدمی جو چوری کرکے ملک سے بھا گا ہواہے، مجرم ہے، جھوٹ بول کر باہر بھاگا ہے، اسے پھر سے موقع دینا چاہیے، پھر سےمیچ کھیلے، تو پھر چوری میں بری چیز کیا ہے؟ اگر آپ کو اس میں برائی نظر نہیں آتی تو بیچارے غریبوں کو جیلوں میں کیوں بند کیا ہوا ہے، ان کو سب سے پہلے کھول دیں، سپریم کورٹ بار اگلی پٹیشن یہ کرےکہ پاکستان میں جیل کھول دیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 18 سال کی عمر میں برطانیہ میں ایک فلاحی ریاست کو دیکھا، قرارداد مقاصد میں پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست قرار دیا گیا تاہم ہم یہاں اسلامی فلاحی ریاست نہ دیکھ سکے، برطانیہ میں ضرور فلاحی ریاست دیکھی جہاں ہسپتالوں میں انسانیت دیکھی، وہاں سرکاری ہسپتالوں میں پیسے دے کر اور مفت علاج کرانے والوں میں ڈاکٹر اور عملہ کوئی فرق روا نہیں رکھتے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ نبیﷺ تمام انسانوں کیلئے رحمت بن کر آئے، ان کی سنت پر جو بھی چلے گا وہاں برکت آئے گی، برطانیہ، ناروے سمیت دیگر ممالک فلاحی ریاستیں ہیں، مسلم دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو حقیقی فلاحی ریاست ہو۔ صحت اور تعلیم کے شعبہ میں زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے، صحت کے شعبہ میں سرکاری ہسپتال بنائے جائیں، وہاں ڈاکٹر طبی عملہ دیا جائے، مفت ادویات دی جائیں، اس کیلئے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے، برطانیہ کا صحت کا بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا میں پہلے دور حکومت میں صحت کارڈ کا تجربہ کیا، پاکستان میں پہلے کبھی ایسا نہیں سوچا گیا تھا اس لیے ہمیں اس منصوبہ کی کامیابی کا خوف تھا تاہم اس منصوبہ کی کامیابی کے بعد ہم نے ملک بھر میں قومی صحت کارڈ کا بڑا قدم اٹھایا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں یونیورسل ہیلتھ کوریج نہیں، ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ہیلتھ انشورنس کے پیسے دیتے ہیں، ہم پورے پاکستان کو مفت یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں اور جہاں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں قومی صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہر جگہ سرکاری ہسپتال قائم کرنے کیلئے ہمارے پاس وسائل نہیں جبکہ آبادی میں اضافہ کی وجہ سے بھی مالی مشکلات سے ان کو چلانا مشکل ہے، قومی صحت کارڈ سے دیہی علاقوں میں بھی نجی شعبہ میں ہسپتال بنیں گے، چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر جانے سے گریزاں ہوتے ہیں، ایسے علاقوں میں ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے، اب گاؤں کی سطح پر بھی ہسپتال بنیں گے، یہاں کے لوگوں کے پاس بھی علاج کیلئے صحت کارڈ کی صورت میں پیسے میسر ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مقابلہ کا فضا سے اب سرکاری ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ ہوگی، اس سے سارے صحت کے شعبہ میں انقلاب آئے گا، ملکی تاریخ میں پہلی بار پنجاب حکومت صحت کارڈ پر 400 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں ہمارے حکمرانوں کو کھانسی بھی ہوتی تھی تو پورا ٹبر علاج کیلئے بیرون ملک چلا جاتا تھا، ان کو لوگوں کی مشکلات کا اندازہ نہیں تھا، میں نے اپنی والدہ کی تکلیف دیکھ کر شوکت خانم ہسپتال بنایا۔ جس بچے کے علاج کیلئے والدین کے پاس پیسے نہ ہوں اس کا کرب اس کے والدین سے پوچھا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 100 سالہ تاریخ میں کوویڈ جیسا بحران نہیں آیا جب ساری دنیا مہنگائی کا شکار ہے، بڑی بڑی معیشتیں متاثر ہیں، ایسے میں ہم محدود مالیاتی وسائل کے باوجود قومی صحت کارڈ کا اجرا کر رہے ہیں، دنیا کی اکانومی کے حوالے سے مستند میگزین اکانومسٹ نے تین سال میں کوویڈ کے دوران پاکستان کی پالیسیوں کو دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شمار کیا ہے، بلوم برگ نے دس سال کیلئے پاکستان کی پائیدار معیشت کا تجزیہ کیا ہے، ورلڈ بینک نے معاشی نمو 5.37 فیصد ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ تنقید جمہوریت کا حسن ہوتی ہے، تنقید ضرور کریں لیکن اس میں توازن رکھیں، بعض عناصر کی طرف سے نااہل قرار دی جانے والی حکومت دنیا کی معیشتوں میں تیسری پوزیشن پر کیسے آ گئی؟ مسلم لیگ ن اپنے آخری سال ریکارڈ خسارہ چھوڑ کر اور قرضے لے کر معاشی نمو 5 فیصد تک پہنچا سکی، ہم نے خسارہ کم تر رکھ کر یہ ہدف حاصل کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا پاکستان کے قائدانہ کردار کی معترف ہے، برطانیہ کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستان کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کردار کو سراہا، اس کے علاوہ احساس پروگرام کو بھی دنیا سراہ رہی ہے۔ گزشتہ حکمرانوں کے نام بھی دنیا کے بڑے میگزینوں میں آئے ہیں تاہم ان کی وجہ شہرت کرپشن اور چوری تھی، بی بی سی نے ان کی کرپشن پر دو ڈاکومنٹریز جاری کیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اب ورلڈ ریکارڈ میں لکھا جائے گا کہ شہباز شریف کے بیٹے کی شوگر مل کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 4 ارب روپے کیسے آ گئے۔ ہمارا ملک تمام تر وسائل کے باوجود ترقی کیوں نہیں کر سکا، اس کی وجہ اقتدار پر ڈاکوؤں کا براجمان ہونا ہے، اگر آپ کسی فیکٹری میں بھی ڈاکو بٹھا دیں تو وہ تباہ ہو جاتی ہے، جن ممالک میں غربت زیادہ ہے وہاں اسی طرح ڈاکو اقتدار پر قابض ہیں، قومیں وسائل کی کمی کی وجہ سے غریب نہیں ہوتیں، سوئٹزرلینڈ وسائل نہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ خوشحال ملک ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وہاں قانون کی بالادستی ہے، وہاں کوئی چوری ڈکیتی نہیں اور نہ ہی کوئی قبضہ گروپ ہے، وہاں ادارے مضبوط ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہماری جدوجہد قانون کی بالادستی اور فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہے، مدینہ کی ریاست نے انہی دو اصولوں پر کاربند رہ کر دنیا کی امامت کی، پاکستان کو بھی انہی اصولوں پر کھڑے ہونا چاہیے، ہم اس راستے پر چل پڑے ہیں، قومی صحت کارڈ، احساس پروگرام اس سمت اہم قدم ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مقابلہ ڈاکوؤں کے ٹولے سے ہے، یہ چوری کریں تو انہیں این آر او مل جاتا ہے، پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں جبکہ معمولی جرائم پر لوگ جیلوں میں پڑے رہتے ہیں، ایسی صورتحال ملکوں کی تباہی کا باعث ہوتی ہے۔ ایسے بدعنوان عناصر کے خلاف پوری قوم مل کر لڑتی ہے، کوئی تنہا ان کے خلاف نبردآزما نہیں ہو سکتا۔ اس ملک کا سابق وزیراعظم اربوں روپے کی بیرون ملک جائیداد کا جواب دینے کی بجائے اپنے بچوں سے پوچھنے کی بات کرتا ہے جبکہ اس کے بچوں کا موقف ہے کہ وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں، انہوں نے لندن کی مہنگی ترین جگہ پر قیتمی جائیدادیں بنائی ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا وعدہ ہم نے کیا تھا اور اپنی حکومت کے دور میں یہ وعدہ پورا کریں گے، جنوبی پنجاب کے لوگوں سے ماضی میں ناانصافی ہوئی، انہیں نوکریوں میں جائز حصہ نہیں ملا، جنوبی پنجاب کو جتنا بجٹ ملنا چاہیے تھا وہ نہیں ملا، اب یہ ناانصافی ختم ہوگی، وہ آئندہ بہاولپور میں سیکرٹریٹ کے افتتاح کیلئے آئیں گے۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ مارچ کے آخر تک کروڑوں افراد کو قومی صحت کارڈ کی سہولت میسر آئے گی، یہ ریاست مدینہ کی طرف اہم قدم ہے اور تحریک انصاف کے منشور کا اہم حصہ ہے، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر سمیت مختلف اضلاع میں نئے ہسپتال بھی بنا رہے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں 23 نئے ہسپتال بنانے کا منصوبہ شروع کر رہے ہیں، 158 طبی مراکز کو اپ گریڈ کر رہے ہیں، گزشتہ حکومتوں نے جتنا بجٹ جنوبی پنجاب کو دیا اتنا ہم نے اپنے دور حکومت میں چھ ماہ میں خرچ کر دیا۔یاد رہے کہ قومی صحت کارڈ حکومت کی طرف سے ایک انقلابی اقدام ہے جس کی بدولت 10 لاکھ روپے تک علاج سرکاری و منتخب پرائیویٹ ہسپتالوں میں مفت علاج معالجے کی سہولت میسر ہوگی۔

  • اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی  فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

    اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

    لندن:اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:اطلاعات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنانے پر اسرائیل کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطین کی صورت حال پر ایک 35 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل کے وحشیانہ جبر اور غیر قانونی تسلط کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 1948 میں اپنے قیام کے بعد سے اسرائیل “یہودی آبادی کی اکثریت” کو قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہودیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر قانونی بستیوں سمیت زمین اور وسائل پر مکمل کنٹرول بھی استعمال کرتا ہے۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ مظالم خلاف ایک کمتر نسلی گروہ کے طور پر سلوک کیا جاتا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیل حکام نے فلسطینیوں کے خلاف جبر اور تسلط کا نظام نافذ کر رکھا ہے۔ ان کی اراضی اور املاک پر وسیع پیمانے پر قبضہ کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی ان کے گھر سے غیر قانونی اور جبری بیدخلی، نقل و حرکت پر سخت پابندی، انتظامی حراست اور ماورائے عدالت قتل کے درجنوں واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نسل پرستی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کی قومیت اور شہریت کو مسترد کرکے غیر ملکی تارکین کی طرح کا سلوک کرتے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسرائیل کے فلسطینیوں کے یہ خلاف یہ مظالم نسل پرستی اور نسلی امتیازی سلوک کی تعریف پر پورا اترتے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔

  • کپتان کی زبردست پلاننگ : نوجوانوں کو فوری روزگار فراہم کرنے کا زبردست منصوبہ

    کپتان کی زبردست پلاننگ : نوجوانوں کو فوری روزگار فراہم کرنے کا زبردست منصوبہ

    اسلام آباد:عمران خان نوجوانوں کا کپتان : نوجوانوں کو فوری روزگار فراہمی سے متعلق بڑی خوش خبری ،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے کامیاب جوان ’’جاب فیئر‘‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ملکی معیشت میں بہتری آنے کے ثمرات اب نوجوانوں تک پہنچانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں، اس سلسلے میں سربراہ کامیاب جوان پروگرام نے کامیاب جوان ’’جاب فیئر‘‘ کا آغاز کر دیا۔

    جاب فیئر کے تحت نجی کمپنیوں کی شراکت داری سے نوجوانوں کو فوری روزگار فراہم کیا جا رہا ہے، نوجوان واک ان انٹرویو کے بعد فوری اپائنٹمنٹ لیٹر حاصل کر سکیں گے۔

    عثمان ڈار نے بتایا کہ ہماری معیشت 5.37 فی صد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، اب معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانا ضروری ہے، کامیاب جوان جاب فیئر کا مقصد نوجوانوں کو فوری روزگار کی فراہمی ہے۔

    عثمان ڈار کے مطابق نجی شعبے کے ساتھ مل کر حکومت نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرے گی، اور جاب فیئر کا اگلا مرحلہ صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی لے جایا جائے گا۔

    کامیاب جوان پروگرام کے سربراہ نے ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے والے اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اے آر وائی نے اس کی ابتدا کی ہے، جس پر سی ای او سلمان اقبال کے شکر گزار ہیں۔

  • عمران خان زیرو:نوازشریف اور زرداری ہیروزاورسیمپل       :حقائق قوم کےسامنےمگرتسلیم کرنےکودل نہیں کرتا

    عمران خان زیرو:نوازشریف اور زرداری ہیروزاورسیمپل :حقائق قوم کےسامنےمگرتسلیم کرنےکودل نہیں کرتا

    اسلام آباد :عمران خان زیرو ہے :نوازشریف اور زرداری ہیروز اور سیمپل :حقائق قوم کے سامنے مگرتسلیم کرنے کودل نہیں کرتا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بارے میں معلوم ہوا ہےکہ وہ اپنے مخالفین کی نظروں میں زیرو ہیں مگرقوم کی نطروں میں ہیرو، ایسے ہی نوازشری اور زراری اپنے پیروکاروں کی نظرمیں ہیروز جبکہ قوم کی نظرمیں زیرو ہیں ، اس دعوے کی تصدیق حقائق سے ہوتی ہے جو ابھی سامنے آئے ہیں ،

    ادھر انہیں حقائق پر مشتمل کچھ رپورٹس منطرعام پرآئی ہیں‌، جن کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے غیرملکی دوروں پر قوم کے لاکھوں ڈالرز بچانے کا وعدہ بھی پورا کردکھایا، ماضی میں حکمرانوں نے ڈالرز اڑا کر ملکی قرضوں میں اضافہ کردیا۔

    وزیراعظم عمران خان اور ماضی کے حکمرانوں نے غیر ملکی دوروں پر کتنے ڈالرز خرچ کیے، سینیٹر فیصل جاوید نے تفصیلات جاری کردیں، فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ لیڈر جو حقیقی طور پر قوم کے پیسے کی قدر کرتا ہے اسی لیے عمران خان نے بین الااقوامی دوروں میں قوم کے لاکھوں ڈالرز بچائے ہیں۔

    فیصل جاوید نے کہا کہ مآضی کے حکمرانوں نے لاکھوں ڈالرز اپنی ذاتی عیاشیوں پر اڑائے جس کے باعث ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا۔

    پی ٹی آئی سینیٹر کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دورہ افغانستان میں سابق صدر آصف زرداری نے 44 ہزار ڈالر خرچ کیے جب کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا خرچہ 51 ہزار ڈالرز آیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے دورے پر 58 ہزار ڈالرز خرچ کیے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے صرف 11 ہزار ڈالرز میں دورہ افغانستان مکمل کیا۔

    فیصل جاوید نے بتایا کہ دورہ ڈیووس میں یوسف رضا گیلانی کا 4 لاکھ 59 ہزار ڈالر خرچ آیا، نواز شریف کا ڈیووس میں 7 لاکھ 62 ہزار ڈالر کا خرچہ ہوا، شاہد خاقان عباسی نے 5 لاکھ 61 ڈالرز خرچ کیے جب کہ وزیراعظم عمران خان نے صرف 68 ہزار ڈالرز میں دورہ ڈیووس مکمل کیا۔

    سینیٹر فیصل جاوید کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سابق صدر زرداری نے دورہ اقوام متحدہ میں 13 لاکھ ڈالرز، نواز شریف نے 11 لاکھ ڈالرز، شاہد خاقان عباسی نے 7 لاکھ ڈالرز جب کہ عمران خان نے صرف 1 لاکھ 62 ہزار ڈالرز خرچ کیے۔

    دوسری جانط واشنگٹن کے دورے پر زرداری کا خرچہ 7 لاکھ 52 ہزار ڈالر، نواز شریف کا 5 لاکھ 49 ہزار ڈالرز جب کہ وزیراعظم عمران خام کا خرچہ صرف 67 ہزار ڈالرز کا ہوا۔

    آخر میں فیصل جاوید نے ٹوئٹ میں کہا کہ ماضی کے حکمرانوں اور عمران خان میں فرق صاف ظاہر ہے۔

  • عمران خان نے ملک سے گیس غائب کر کے اپنے مافیاز کی جیبیں بھری ہیں،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے ملک سے گیس غائب کر کے اپنے مافیاز کی جیبیں بھری ہیں،مریم اورنگزیب

    لاہور: مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان مہنگے فرنس آئل سے بجلی بنا کر عوام کی مسلسل جیب کاٹ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کورونا کے دوران بازار سے بخار کی گولی غائب ہونا انتہائی شرمناک ہے اور بخار کی گولی سے ایل این جی اور کھاد تک ہر چیز کی بلیک مارکیٹنگ جاری ہے۔

    وزیراعظم کا دورہ چین،پاکستان 3ارب ڈالر کے قرضے اور چھ شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہاں

    امرہم اورنگزیب نے کہا کہ عوام کے لیے روزگار، مریض کے لیے دوائی اور کسان کے لیے کھاد غائب ہے حکومت کو شرم آنی چاہیے ‎عمران خان نے ملک سے گیس غائب کر کے اپنے مافیاز کی جیبیں بھری ہیں ‎عمران خان مہنگے فرنس آئل سے بجلی بنا کر عوام کی مسلسل جیب کاٹ رہے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کی ترجمان نے مزید کہا کہ عوام کی خوشحالی، روزگار اور کاروبار غائب کرنے والی حکومت کو فارغ ہونا چاہیے چینی، آٹا، گیس، بجلی، دوائی، کھاد عمران مافیا عوام کی جان کھا رہا ہے۔

    کراچی ائیر پورٹ پر منی لانڈرنگ کی بڑی کوشش ناکام

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسانوں کی حالت قابل رحم ہے اور حکومت غائب ہے۔ کسان کی مدد نہ ہوئی تو زرعی اجناس اور پیداوار کی قلت کی صورت پورا ملک خمیازہ بھگتے گا،کسانوں کو کھاد سونے کے بھاؤ بھی نہیں مل رہی جبکہ آٹا، چینی اور گیس کی طرح کھاد بھی غائب ہو گئی ہے،کسانوں کی ہنگامی مدد کی جائے اور یوریا کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    مشیر قومی سلامتی معید یوسف کابل میں اہم ملاقاتوں میں مصروف:افغان نائب وزیراعظم سے…

  • سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو    میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: ملکی ترقی کیلئے سی پیک ناگزیر ہے:چین کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں جومیری آمد کے شدید منتظرہیں: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین کے اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں وزیراعظم نے لکھا کہ پاک چین شراکت داری بین الریاستی تعلقات میں بے مثال ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے، ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ملکی عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔

    انہوں نے لکھا کہ ہمارے روابط عالمی و علاقائی پیش ہائے رفت کے اتار و چڑھاو سے قطع نظر آزمودہ اور ہمہ وقت ہیں۔ گزشتہ برس ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے عظیم الشان تقریبات نے ہماری دوستی کو نئی قوت اور ولولہ بخشا ہے۔ پاکستان میں ہمارے لئے چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں جسے ہمہ جہت سیاسی حمایت حاصل ہے اور میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ہماری عوام اس دوستی کی حقیقی قدر کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور اس کے مزید فروغ کے لئے جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس دوستی کی گہرائی اور استحکام کے اظہار کے حوالے سے کی خصوصی ضرب المثل وضع کیے گئے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں سرمائی اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ خود ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے وہ اس جذبے کو سمجھ سکتے ہیں جو ایک قوم میں اولمپکس کی طرح کے کھیلوں کے مقابلے سے پیدا ہوتاہے، میں سمجھتا ہوں کہ کھیلیں یکجہتی کا عنصر ہوتی ہیں اور یہ سیاست سے بالا تر ہونا چاہئیں۔

    وزیراعظم نے اس بڑے ایونٹ کی میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور تمام شرکاؤں کی صحت و تحفظ اور کامیاب کھیلوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اکتوبر 2019 میں ان کے آخری دورہ چین کے بعد سے کووڈ 19 کی عالمگیر وبا کی صورت میں سب سے بڑا عصری چیلنج سامنے آیا جس سے دنیا میں تبدیلی آئی ہے، یہ وبا انسانی زندگیوں اور معاش پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک اور عفریت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی ان کامیابیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو بنی نوع انسانیت نے آج تک حاصل کی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جغرافیائی سیاست کی ضروریات نے ہمارے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا جو بہت سے لوگوں کے لیے گزشتہ صدی کے نظریاتی محاذآرائی کی یاد دلاتا ہے۔ افغانستان گزشتہ 20 سالوں سے عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھا اور خطے میں امن کی واپسی کی امید کے ساتھ اس عدم استحکام اورانتشارکے خاتمہ کا وقت قریب آچکا ہے۔افغانستان میں معاشی بدحالی اور انسانی بحران کے سدباب کیلئے بین الاقوامی برادری کا متحرک کردار اورشمولیت ضروری ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ چیلنجز خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں ہمارے خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے بوجوہ تکثریت اور بین الاقوامی تعاون کے متقاضی ہے جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی اقتصادی فورم سے اپنے حالیہ خطاب میں مناسب طور پر ذکر کیا ہے کہ عالمی بحران کے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے درمیان ممالک 190 چھوٹی کشتیوں میں الگ الگ سوار نہیں بلکہ سب ایک بڑے جہاز کے سوار ہیں جس پر ہماری مشترکہ تقدیربھی ہے۔

    عمران خان نے لکھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے پاکستان اور چین نے ماضی میں مشترکہ طور پر ایسی عہد ساز تبدیلیوں کو عبور کیا اور اس میں کامیاب رہے۔ دونوں ممالک نے بنیادی قومی مفادات کے امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ہمارا مشترکہ وژن ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے میں تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے، سرحدوں سے متعلق امور، مسئلہ کشمیر جیسے تمام تصفیہ طلب مسائل کومذاکرات وسفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں واقدار کے مطابق حل کرنا چاہئیے ۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ کووڈ 19 کی عالمگیروبا کے خلاف دوطرفہ تعاون نے پاک چین مضبوط دوستی کو مزید تقویت دی ہے۔ آہنی بھائی ہونے کے ناطے پاکستان عالمگیروبا کے پھوٹنے کے بعد چین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ صدر عارف علوی کے بیجنگ کے یکجہتی دورے سے لے کر چین کی جانب سے وبا سے نمٹنے کیلئے اشیاء سے لدھے 60 سے زائد طیاروں کی پاکستان روانگی تک باہمی تعاون اور خیر سگالی کی روشن مثال سامنے آئی ہے۔ چینی ویکسین اب پاکستان میں جاری بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا بنیادی مرکز بن چکی ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ پائیدار اورمضبوط پائیدار ترقی کے لیے پاکستان نئی راہوں کا تعین اور جغرافیائی واقتصادی (جیواکنامکس) مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی میں ہماری حکومت کے عوام کی خوشحالی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے نقطہ نظرپرتوجہ مرکوزکی گئی ہے، ان اہداف کے حصول کیلئے ہم چین کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کررہے ہیں خواہ وہ 80 کروڑ لوگوں کو کو مکمل غربت سے باہر نکالنا ہو یا عالمگیروبا کے خلاف عوام کی جنگ میں فتح ہوں ۔ دوست، پڑوسی اور شراکت دار ملک کے طور پر چین کے لوگوں، کاروباری اداروں اور کاروباری شخصیات کو پیش کرنے کے لیے پاکستان کے پاس بہت کچھ ہے۔

    چینی سرمایہ کاروں اورعوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بھرپور تاریخ، ثقافتی تنوع اور شاندار مناظر کا حامل ملک ہیں۔22 کروڑ آبادی، نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت، سٹریٹجک محل وقوع، سرمایہ کاری کیلئے سازگارودوستانہ ماحول اور چینی عوام کے لیے گرمجوشی کے جذبات کے ساتھ پاکستان آپ کو آپ کی اگلی سرمایہ کاری اور اگلے تفریحی سفر کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ملک بن گیا ہے۔ 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ کئی چینی کاروباری اداروں نے پاکستان میں مضبوط موجودگی قائم کرلی ہے جو ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کرداراداکررہے ہیں ۔ چین پاکستان کے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان صنعت کاری، زراعت میں جدت ، ای کامرس اور ڈیجیٹل فنانس میں چینی مہارت سے استفادہ کرسکتاہے ۔

    عمران خان نے لکھا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ابتدائی شرکاء میں سے ایک ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام( بی آر آئی) کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے ۔ ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ سی پیک پاکستان کے توانائی کے دیرینہ بحران سے نمٹنے اوربنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان گوادر کی بندرگاہ اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی پر بھی تیزی سے پیش رفت کررہاہے جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ترقی کی کوئی بھی مقدار اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک اس کے ثمرات معاشرے کے معاشی طور پسماندہ طبقے تک نہ پہنچ جائیں، اس لیے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور پاکستانی عوام کو اپنی قسمت کا مالک بننے کے لیے بااختیار بنانا میراوژن ہے، اسی تناظرمیں سی پیک کے دوسرے مرحلہ کو روزگار کی تخلیق، صنعتی جدید کاری، معاش میں بہتری، دیہی علاقوں اور سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیاہے ۔ ان منصوبوں کوتقویت دینے کیلئے ہماری حکومت نے “احساس” پروگرام شروع کیاہے جوتخفیت غربت اور سماجی اٹھان کے لیے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنےاور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چین موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کو کم کرنے اور فطرت کو اس کی اصلی خوبصورتی میں بحال کرنے میں قائدانہ کرداراداکررہاہے ۔ ہم چین کے ساتھ ملکر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داری کے اصول کی بنیاد پر مستقبل میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ان کا سرسبز وشاداب پاکستان اورچین کے صدر شی جن پنگ کا “خوشحال، صاف اور خوبصورت دنیا” کا وژن ایک جیساہے ۔ پاکستان جنگلات کووسعت دینے اورجنگلات کی بحالی کیلئے دنیا کی سب سے پرجوش کوششوں میں سے 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ایک ارب درخت لگا چکا ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ڈیجیٹل دور میں جدت، اختراع اور ٹیکنالوجی پائیدار اور مضبوط وتیزتر ترقی کی بنیادی گاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، پاکستان چین کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، کلائوڈ اور بگ ڈیٹا میں دوطرفہ استفادہ پرمبنی تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ چندسالوں میں دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے سب سے زیادہ امید افزا اور یقین دہانی کرنے والے پہلوئوں میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں گرمجوشی ہمارے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ دونوں ممالک کے 40 سے زائد صوبے اور شہر جڑواں قراردئیے گئے ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے، اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔ خوشی ہے چینی عوام صدر شی جن پنگ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قابل قیادت کی رہنمائی میں عظیم قومی تجدید کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وہ اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی صورت میں چین کو ہمیشہ ایسا قابل اعتماد دوست ملے گا جو نہ صرف امن اور خوشحالی کی لہروں بلکہ چیلنجوں کے بڑھتے ہوئے طوفانوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    وزیراعظم نے چین کی قیادت اورعوام کو شیر کے سال اور بہار کے تہوار کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ انہیں امید ہے کہ پاک چین دوستی کا مقدس شعلہ پائیدار چمک اور گرمجوشی کے ساتھ چمکتا رہے گا۔ پاک چین دوستی زندہ باد!

  • بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں:     ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:وزیراعظم عمران خان

    بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں: ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد : 100بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں:ان کی محنت سے سب کچھ ملا ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سیرین ایئرمیں تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا 100بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سیرین ایئرمیں 15 سے 44 فیصد تک تنخواہوں میں اضافےکافیصلہ خوش آئند ہے، 100بڑی کمپنیاں اپنےملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں ، ملک کی 100بڑی کمپنیوں نے950ارب روپےکامنافع گزشتہ سال کمایا۔

     

    گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی بزنس کمیونٹی سے اپیل پر اے آر وائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

    بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے استدعا پر عمل کرنے اور ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے پر اے آر وائے ڈیجیٹل کے سی ای او اور صدر سلمان اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ سال ریکارڈ منافع کمانے والی دیگر کمپنیوں سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اپنے ملازمین کی اجرت میں اضافہ کریں۔

  • عام انتخابات وقت سےایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے:    بڑی امید ہےعمران خان کی ہی حکومت ہوگی:گورنرپنجاب

    عام انتخابات وقت سےایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے: بڑی امید ہےعمران خان کی ہی حکومت ہوگی:گورنرپنجاب

    لاہور:’عام انتخابات وقت سے ایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے،بڑی امید ہے عمران خان کی ہی حکومت ہوگی:،اطلاعات کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے کہ کوئی بھی عمران خان کو اقتدار سے نہیں نکال سکتا، وہ 2023 تک وزیراعظم رہیں گے۔

    یاد رہے کہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے جنوبی پنجاب کے ورکرز کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اقتدار سےکوئی نہیں نکال سکتا وہ 2023 تک وزیراعظم رہیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں وزیراعظم عمران خان کسی سے بلیک میل ہونے والے لیڈر نہیں ہیں، اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہیں ان کے احتجاجی مارچ بھی سیاسی مشہوری کے لیے ہوں گے۔

    گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ عام انتخابات وقت سے ایک دن بھی پہلے نہیں ہوں گے، ناکامی اپوزیشن کا مقدر ہے، اپوزیشن سڑکوں پر آنے کے بجائے الیکشن کا صبر و تحمل سے انتظار کرے۔

    چوہدری محمد سرور کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

    چوہدری محمد سرور نے پارٹی کارکنوں اور رہنماوں کو امید دلاتے ہوئے کہا کہ بڑی امید ہے کہ انتخابات کے بعد پاکستان میں اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہوگی ، کیوں کہ وہ پاکستان اور پاکستان کے اتحادیوں کی چاہت ہیں‌

  • وزیرِ اعظم  کا سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا دورہ :منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    وزیرِ اعظم کا سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا دورہ :منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    لاہور:وزیرِ اعظم کا سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا دورہ :منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. ،اطلاعات کےمطابق وزیرِ اعظم عمران خان نے لاہور میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کا دورہ کیا جہاں وزیرِ اعظم کو منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    منصوبے کے پہلے فیز میں 24 ارب کی سرمایہ کاری ہوئی. منصوبہ لاہور کے وسط میں بین الاقوامی معیار کے کاروباری مرکز و رہائش کی سہولیات فراہم کرے گا. اسکے علاوہ ماحولیاتی تحفظ، گرین روف، اربن پارکس اور برساتی پانی کو ذخیرہ کرکے استعمال میں لانے جیسے اقدامات بھی منصوبے کا حصہ ہیں.

    وزیراعظم کو بتایا گیا کہ آئندہ ماہ منصوبے کے تحت مزید 7 ترقیاتی سائٹس کی نیلامی سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے. سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی تکمیل سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، ملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ رینیو میں 1500 ارب روپے کا اضافہ ہوگا. اسکے علاوہ منصوبے میں بابِ پاکستان منصوبے کی تکمیل اور والٹن ائیرپورٹ کی منتقلی بھی شامل ہے.

    اس موقع پر وفاقی وزراء فواد چوہدری، اسد عمر، شفقت محمود، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گِل، مشیرِ کامرس عبدالزراق داؤد، وزیرِ مملکت فرخ حبیب، وزیرِ اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، سی ای او سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ عمران امین، چئیرمین NAPHDA لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر، متعلقہ اعلی افسران اور فیز ون کے سرمایہ کاروں نے شرکت کی.