Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران نیازی 9 مئی پر معافی مانگے پھر ہی بات ہو گی، احسن اقبال

    عمران نیازی 9 مئی پر معافی مانگے پھر ہی بات ہو گی، احسن اقبال

    مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نےکہا ہے کہ عمران خان کو جیل میں فائیو سٹار ہوٹل جیسی مراعات حاصل ہیں۔

    ن لیگ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کے ساتھ ،9 مئی کے انتشارو فساد پھیلانے والے واقعات پر قوم اور اداروں سے معافی مانگنے تک کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوسکتے،جو شخص بیرونی طاقتوں سے مل کر ملک کے خلاف سازش کرے اس سے مزاکرات نا ممکن ہے،نومئی پر قوم سے معافی مانگے تب مذاکرات کا سوچا جا سکتا ہے، نومئی کو ایک جماعت نے وہ کیا جو دہشت گردوں کو کرنے کی جرات نہیں ہوئی تھی، اس جماعت کا سوشل میڈیا پوری دنیا میں جس طرح کی مہم چلا رہا ہے اس کے لئے کوئی معافی نہیں ہو سکتی، امریکی کانگریس سے جو پی ٹی آئی نے قرارداد منظور کروائی وہ بھارتی لابی کی مدد سے پاس کروائی،جو جماعت اپنے ملک کے خلاف اس حد تک چلی جائے کہ ملک دشمنوں کے ساتھ ملکر ملک کو نشانہ بنائے ایسے لوگوں کے ساتھ کیا بات ہو، پی ٹی آئی نے سیاست میں جگہ بنانی ہے تو ملک دشمنی پر مبنی سیاست سے یوٹرن لینا ہو گا

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ سرجری کے تین دن بعد مجھے گرفتار کر لیا گیا، میرا بازو ہمیشہ کے لئے ٹیڑھا ہو گیا ہے، میں نہیں چیخا، دو ماہ تک عمران خان نے مجھے فزیو تھراپی کے لئے سہولت نہیں، فیملی کے لئے نہیں ملنے دیا جاتا تھا وکیل نہیں مل سکتا تھا،ہماری قید میں توتصور بھی نہیں تھا کہ کوئی مل لے اور پھر پریس کانفرنس کرلے،عمران خان کو تو سہولتیں ہی اور ہیں، وکلا پارٹی لیڈرز فیملی روز ملتی ہے، پریس کانفرنسیں بھی ہوتی ہیں، جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے مجھے بھی اسی سیل میں رکھا گیا تھا،

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی 30 فیصد پر تھی، ساڑھے 11 فیصد تک گر چکی ہے، حکومت اصلاحات کر رہی ہے، دو سال پہلے سب بے قابو تھا، آج مہنگائی، بےروزگاری میں کمی ہو رہی ہے،عمران خان کے دور میں ملک کو قرضوں کے راکٹ پر چڑھا دیا گیا تھا، اب ایسا نہیں ہے، ہم اصلاحات کر رہے ہیں، قرضوں کا بوجھ کم ہو رہا ہے، سٹاک مارکیٹ بہتر ہو رہی ہے، موڈیز نے ریٹنگ بہتر کی ہے، پاکستان بحالی کی طرف جا رہا ہے، پاکستان میں امن، استحکام اور پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے، دشمن خلفشار اور دہشت گردی کے ذریعے ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے،عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کیلئے وفاق اور صوبائی حکومتیں اخراجات پر نظرثانی کریں، آج کے اجلاس میں سستی بجلی کے لیے اصلاحات پر غور کیا گیا،آج کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک میں مؤثر بلدیاتی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے، نواز شریف نے موجودہ بلدیاتی نظام میں اصلاحات کی ہدایت کی ہے، اجلاس میں پارٹی کو مزید منظم کرنے کیلئے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

    نواز شریف کے لندن جانے سے متعلق سوال پر سیکرٹری جنرل ن لیگ کا کہنا تھا نواز شریف کے لندن جانے کا پروگرام حتمی نہیں ہے، نواز شریف اگر لندن جائیں گے تو اپنے چیک اپ کیلئے جائیں گے، نواز شریف لندن گئے تو چیک اپ کرا کے واپس آجائیں گے

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ کر لیا

    آکسفورڈ یونیورسٹی کی گورننگ باڈی کی جانب سے 300 سال کی روایت کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق سیاست دانوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا نیا چانسلر بننے سے روک دیا جائے گا۔آکسفورڈ کے ماہرین تعلیم کو بھیجی گئی اور برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کو لیک ہونے والی ایک ای میل میں، یونیورسٹی کے رجسٹرار گیلین ایٹکن نے کہا کہ سیاست میں سرگرم افراد کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے سے روکا جائے گا

    یونیورسٹی کی کونسل سے نکلنے والے غیر معمولی فیصلے نے سینئر کنزرویٹو کی طرف سے غصے کو جنم دیا اور انتخابی عمل میں تبدیلیوں کے حوالہ سے نئی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں،سابق سینئر سرکاری ملازم ایٹکن کے طے کردہ معیار کی وجہ سے سیاستدان تھریسا مے، بورس جانسن اور عمران خان کے وائس چانسلر کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے جو امیدوار ہیں،

    یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی امیدوار مسز مے کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں رکن پارلیمنٹ کے طور پر دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن وہ کنزرویٹو کے لیے مہم جاری رکھیں گی، اب عمران خان کے لئے بھی مشکل پیدا ہو گئی ہے، عمران خان جیل میں ہیں، سزا یافتہ بھی ہیں، مقدمات بھی ہیں،اور الیکشن لڑنے کے بھی خواہشمند بھی ،وہیں پاکستان کا الیکشن لڑنے کے خواہشمند بھی ہیں، اس ضمن میں عمران خان نے سپریم کورٹ میں نااہلی کے خلاف درخواست جلد سماعت مقرر کرنے کے لئے ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے، اب عمران خان کے لئے یہ فیصلہ مشکل ہو گا کہ اگر وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننا چاہتے ہیں تو انہیں سیاست سے دستبردار ہونا پڑے گا بصورت دیگر ان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے.

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    دوسری جانب کئی برطانوی سیاستدانوں نے کرکٹر سے سیاست دان بننے والے عمران خان کی فروری میں موجودہ لارڈ پیٹن کے استعفیٰ کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا اگلا چانسلر بننے کی حمایت کی ہے۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم، خان کو 2022 میں ایک متنازعہ عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان پر مقدمات قائم ہوئے، سزائیں بھی ہوئیں اور وہ اب جیل میں ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، عمران خان کو دوسرے امیدواروں سے مقابلے کا سامنا ہے، جن میں "برطانوی سیاست کے باوقار” پیٹر مینڈیلسن اور ولیم ہیگ، یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر لیڈی ایلش انجیولینی، اور مشرقی لندن کے بارٹینڈر ریان احمد شامل ہیں۔اگر لیڈی ایلش جیت جاتی ہیں، تو "وہ اس عہدے کی پہلی خاتون ہوں گی”

    آنے والے انتخابات میں کئی قابل ذکر پہلو شامل ہیں۔ ایک یہ کہ آنے والے چانسلر کو 10 سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جائے گا، دوسرا یہ کہ آکسفورڈ کے طلباء، عملے اور گریجویٹس کے "کانووکیشن” کے ذریعے ووٹنگ آن لائن ہوگی۔ ابتدائی ووٹنگ 28 اکتوبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں ہوگی، اگر امیدواروں کی تعداد 10 سے کم ہے، تو ووٹنگ کا صرف ایک دور ہوگا، اور نچلے درجے کے امیدواروں کو اس وقت تک ختم کردیا جائے گا جب تک کہ ایک امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کر لے۔ اگر 10 یا اس سے زیادہ امیدوار ہوں تو ووٹنگ کا دوسرا دور نومبر میں ہوگا۔

  • عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے کہا ہے کہ اڈیالہ میں عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی، جیل سپرنڈنڈنٹ کو اسی لئے ہٹایا کہ وہ یہ چیزیں خان کو سپلائی کرتا تھا

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں محرومیاں ہیں، لوگ پہاڑوں پر ہیں، انکی محرومیاں ختم کرنی ہوں گی، دہشت گردی کے و اقعات کا سدباب کرنا ہو گا، سیاسی ورکر جب جیل میں جا کر چیخیں مار رہا تو اسے سیاست سے دستبردار ہو جانا چاہئے،یہ کیسی جیل ہے دیسی مرغی مل رہی ہے،مکھن بھی مل رہا ہے، یہ ڈیمانڈ بھی کی جاتی ہے کہ ناشتہ مجھے فلاں ریسٹورینٹ سے لا کر دیا ،یہ ماسی ویڑہ نہ بنائیں، اگر عمران خان کو یہ سہولیات میسر ہیں تو سب قیدیوں کو ہونی چاہئے، ہم میں سے کوئی لوہے کا بنا ہوا نہیں تھا، یہ وہ شخص تھا جس نے رانا ثناء اللہ کے جیل سے تصویریں منگوائیں،مجھے جیل میں قیدی کپڑے بنا کر ، ہتھکڑی پہنا کر تصویریں بنائی گئیں، ہم نے تو کچھ نہیں کہا، اگر آج بھی ان کے سیل میں کوئی بندہ جائے تو کوکین ملے گی،

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    تحریک انصاف اور عمران خان کے تابوت میں اگر کوئی کیل ثابت ہوگاتو وہ میری نظرمیں ایک سو نوے ملین پاونڈوالاکیس ہوگا ۔ یہ اتنا بڑا معاملہ کہ اس کے آگے پاناما اورسوئس کیسسز کچھ نہیں ۔بلکہ دونوں بہت چھوٹے ہیں ۔یا یہ کہہ لیں کچھ بھی نہیں ۔پر کیونکہ عمران خان کی میڈیااور سوشل میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ سے اعلی رہی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اتنا ہائی لائٹ نہیں ہوا ۔میں گزشتہ کئی ماہ سے اس کیس کی سماعت کو فالو کر رہاہوں ۔ مگر ہر باراسٹوری جورپورٹ ہوتی ہے کہ عمران خان نے ایک سو نوے ملین پاونڈ کی پیشی پر الیکڑک برش مانگ لیا۔ ڈیمانڈ کر دی جیو کےرپورٹرکوبلائیں ۔کبھی یہ اسٹوری لگی ہوتی ہے کہ ایکسرسائز کے لیے ڈمبل نہیں دیا گیا کبھی کان میں تکلیف تو کبھی قبض کی شکایت ۔ پراس کیس میں کیا ہوچکا ہےاور کیا ہو رہا ہے اس پر میڈیا کچھ نہیں بتا رہا تو میں اور میری ٹیم نے اس پر پوری ورکنگ کر لی ہےاور اس نتیجے پرپہنچ چکےہیں کہ یہ کیس عمران کے گلے کاپھندہ ہے۔اس کیس میں عمران کرپٹ بھی ثابت ہوتا ہےبلکہ میری نظر میں تو یہ ملک ریاض سےصاف صاف کیک بیکس لینے والا معاملہ ہے۔

    ۔اتنی بڑی کرپشن کااسکینڈل شریف خاندان یاپیپلزپارٹی کےساتھ جوڑا ہوتاتواب تک ان پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہوتی ۔ ان کی نسلوں کو تباہ وبربا دکرنےکےاحکامات جاری ہوچکے ہوتے ۔ ان کے تانے بانے امریکہ سمیت اسرائیل کیا خلائی مخلوق تک سے جوڑ دیے گئے ہوتے ۔ چینلز نان اسٹاٹ اس پر ٹرانسمیشن کر رہے ہوتے ۔ جبکہ سب اینکرز کے روز کا ایک ہی ٹاپک ہوتا ایک سو نوےملین پاونڈ ۔ مگر کیونکہ معاملہ عمران خان ہے اس لیے اسکو پہلے دن سے ڈاون پلے کیا گیا ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ کوئی جج گھرسےمجبور نہ ہوا تو اس معاملے میں عمران خان لمبےاندر جائیں گے اور بڑی سزا ہوگی ۔ کیونکہ بڑے واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں ۔

    ۔میں اتنا یقین سے جو کہہ رہا ہوں ۔اسی کی وجہ ہے سب سے پہلے اس کیس کا پس منظر بتا دیتا ہوں ۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع چار سو اٹھاون کینال، چار مرلے اوراٹھاون مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو پچاس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ۔اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ اس کی توانکوئری کی بھی ضرورت نہیں ۔ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ کیونکہ ادھر زمین ٹرانسفرکی گئی ادھر ریلیف دے دیاگیا ۔ بہرحال اکتوبر دوہزاربائیس میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔ نیب دستاویزات کے مطابق تین دسمبر دوہزارانیس کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی پچاس ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی ۔۔این سی اے۔۔کی جانب سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ ۔ جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے چھبیس دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا ۔ جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت تین دسمبر دوہزار انیس کے کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ۔اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے تین دسمبر دوہزار انیس کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر دوپر فیصلہ کیا۔ آئٹم نمبر دو کا عنوان تھا۔احمد علی ریاض، ان کے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ۔ ایجنڈا آئٹم شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا اور بریفنگ دینے کے ساتھ کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض کو بھی طلب کیا گیا تھا۔آجکل بھی سنا ہے شہزاد اکبر ملک ریاض کے ہی ٹکڑوں پل رہاہے ۔

    ۔ سوال یہ ہےکہ این سی اے کی رقم ملک ریاض کو کیسے واپس ملی؟ دراصل دوہزار انیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایک سونوے ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو چار سو ساٹھ ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے دوہزارانیس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات بھی رازداری میں رکھی گئی تھیں اور این سی اے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی عوام یا میڈیا کو یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاستِ پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا تھا۔

    ۔یہ سب کچھ مفت میں نہیں کیا گیا بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے پچاس ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کینال مالیت کی اراضی حاصل کی۔ ۔ ان کی دونمبر ی کا عالم دیکھیں کہ ساری زندگی عمران خان اور انکی جماعت اس چیز کا پرچار کر تی رہی ہے ۔ کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانا ہے اور جب باہرکے ممالک پاکستان کا لوٹا پیسہ خود واپس کرنے لگے تو انھوں نے کہا نہیں رہنےدیں ہمیں نہیں چاہیئے ۔ میں اور میری بیوی نے بدلے میں زمین لے لی ہے۔ ایسی اسکیم تو کبھی کسی اور جماعت کے ذہن میں نہیں آئی ۔ مطلب یہ واردات ڈال کر عمران خان کرپشن کرنے والوں میں سب سے اعلی درجے پر فائز ہوگئے ہیں ۔

    ۔ اسی وجہ سے عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، بہرحال جب یہ کیس چلا تو ستائیس فروری دوہزار چوبیس کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فردجرم عائد کی ۔ اس سے قبل چھ جنوری دوہزار چوبیس کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے چھ شریک ملزمان ان کے بیٹے علی ریاض ملک، فرحت شہزادی(وہی گوگی جس کو کپتان نے سب سے پہلے بھگایا اور کہا تھا کہ یہ معصوم ہے )، ضیاالاسلام، شہزاد اکبر، زلفی بخاری کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا گیا۔ ملک ریاض نے حاضری سے استثنیٰ اور وڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے متعلق دو الگ الگ درخواستیں بھی دائر کیں لیکن دائر دونوں درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ تئیس جنوری کو عمران خان نےضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے بعد چودہ مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کی ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ہے، لہٰذا عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اٹھائیس جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا چودہ مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔پھر سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا ۔جس پر یاد ہو تو علی امین گنڈا پور اور یوتھیوں کو بہت مرچیں لگیں تھیں ۔ بلکہ اس دن جو پرویز خٹک نےبیان دیا وہ کہیں ڈسکس نہیں ہوا ۔ پرپرویز خٹک کی نیگٹوکردارسازی چھائی رہی ۔ پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔ پھر تیرہ جولائی کو عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے، اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے، نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔ اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے، شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جا سکے، میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی، میں نے کابینہ میٹنگ میں ان کیمرہ اجلاس ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔سابق پرنسپل سیکرٹری نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان پر اپنے دستخط ہونے کی تصدیق کی ۔ اعظم خان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی جس سے متعلق بتایا نہیں گیا۔ پھر سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سےایک بند لفافہ اضافی ایجنڈے کے طور پیش کیا گیا، اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا، ضروری تھا کہ اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنےسےقبل ممبران کو بریفنگ دی جاتی ۔ شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اسےفوری طور پر منظور کیا جائے۔ اضافی ایجنڈےکو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا اور کہا کہ منظوری سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےبھی کہا تھا کہ اس اضافی ایجنڈے کو منظور کرلیں، صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس اضافی ایجنڈے کی منظوری دی۔

    ۔ آج تک کی موجودہ صورتحال میں اس ریفرنس میں پینتیس گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔اب چند روز قبل اس ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا بیان سامنے آیا۔میاں عمر ندیم نے بیان دیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی منجمد کرنے کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے۔ تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے چار سو اٹھاون کینال چار مرلے اٹھاون مربع فٹ زمین خریدی، خریدی گئی زمین ملزم ذلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد عمران خان سے ذلفی بخاری، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون ملے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ گیارہ جولائی دو ہزارانیس کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ تین دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ بند لفافے میں کابینہ میں پیش کر کے اس کی منظوری پر اصرار کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم کر کے عمران خان ، بشریٰ بی بی اور ذلفی بخاری کو شامل کیا گیا۔ پھر بشریٰ بی بی نے چوبیس مارچ دوہزار اکیس کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں دو سو چالیس کینال اراضی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، مگرعمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت سے متعلق ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ثبوت دینے کیلئے متعدد نوٹسز کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بطور فرنٹ پرسن کام کیا۔ اب سمجھ آیا عمران خان کو یہ گوگی معصوم کیوں لگتی تھی۔

    ۔ یہ سب کچھ شہزاد اکبر اپنے ایماء پر تو کر نہیں سکتےتھے ۔ یقینا عمران خان کی آشیر آباد انکو حاصل تھی ۔ اسی لیے تو ان کو ، زلفی بخاری اورفرح گوگی کو ملک سے ایسے فرار کروایا جیسے مکھن سے بال ۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہ دونوں ان کی حکومت جانےکےبعد روکے تو ضرور گرفت میں آئیں گے اور یہ گرفت میں آئےتو پھر قانون کا ہاتھ عمران خان سمیت بشری بی بی کی گردن تک ضرور پہنچے گا ۔

  • وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، عمران خان

    وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، عمران خان

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہ میرے لیڈنگ وکلاء سیاسی رہنما اور فیملی کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جارہا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کروانے کے لیے کل فون ملایا لیکن وہ موجود نہیں تھے،جب بھی ان کے بیٹوں کو فون ملاتے ہیں وہ دستیاب نہیں ہوتے،

    بانی پی ٹی آئی نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو جج کے سامنے ڈانٹ پلا دی،عمران خان نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو جواب دیا کہ تم پڑھے لکھے آدمی ہو عقل کی بات کرو، بانی پی ٹی آئی نے بیٹوں سے بات کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی،عدالت نے جیل انتظامیہ کو بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کی ہدایت کر دی،ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی.

    پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،عمران خان
    پلان بی بن گیا تو عہدے سے اترتے ہی شہباز شریف بھی مسنگ پرسن ہو جائے گا،عمران خان
    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ جو دہشتگردی ہو رہی ہے یہ پی ٹی آئی کی وجہ سے ہے کیا بلوچستان میں دہشت گردی ہماری وجہ سے ہے؟ بارڈر دہشتگردی ہماری وجہ سے ہے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی دہشتگردی ہماری وجہ سے ہے ؟ملک بھر میں سٹریٹ کرائم میں اضافہ لوٹ مار کیا ہماری وجہ سے ہو رہی ہے ،‏میں پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں،‏جو کچھ ہو رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے اس کا نزلہ بھی اسٹیبلشمنٹ پر گر رہا ہے،یہ دہشت گردی پاکستان کو تباہ کر رہی ہے ،‏میرے بیٹوں سے فون پر بات ہی نہیں کروائی جا رہی، عدالت کو درخواست دی ہے عدالت کی جانب سے حکم صادر کر دیا گیا ،‏

    ‏پولیس کہتی ہے کہ اڈیالہ جیل سے ڈپٹی سپریڈنٹ کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا،عمران خان
    چُھپے ہوئے پی ٹی آئی کے کسی بندے کو باہر آنے کا نہیں کہا،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حیرت ہے عون چوہدری ایک لاکھ ووٹوں سے جیت گیا، ‏آٹھ فروری کو ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ،‏میں ساری قوم کو کہتا ہوں 8 ستمبر کو باہر نکلیں جلسے میں شرکت کریں ،فائز عیسی کے جاتے ہی 4حلقے کھلنے ہیں اور یہ حکومت گر جائے گی،‏اگر ان کا پلان بی بن گیا تو عہدے سے اترتے ہی شہباز شریف بھی مسنگ پرسن ہو جائے گا، ‏پولیس کہتی ہے کہ اڈیالہ جیل سے ڈپٹی سپریڈنٹ کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ فرار ہو گیا، یہ کیا ہو رہا ہے،چُھپے ہوئے پی ٹی آئی کے کسی بندے کو باہر آنے کا نہیں کہا،اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ہوں، ہمیں جیلوں سے ڈر نہیں لگتا،ہمارے بندے اغواء کرلئے جاتے ہیں،میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانا چاہتا تھا لیکن باجوہ،الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی نے نہیں لانے دی،

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    جیل میں سختیاں بڑھ گئیں،عمران خان نے چار مطالبات کر دیئے،علیمہ خان کا انکشاف
    دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان جب میڈیا سے گفتگو کررہے تھے تو ڈی ایس پی طاہر شاہ نے اُن سے بدتمیزی کی، ہمیں یہ بات پسند نہ آئی، تکلیف ہوئی، بدتمیزی نہ کریں، عمران خان عاجزی سے پیش آتے ہیں، سختیاں بڑھا دی گئی ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان کو میڈیا سے بات کرنے سے روکا گیا، پچھلے کئی دنوں سے سختی ہوتی جا رہی ہے،یہ اوپن کورٹ ہے جس میں میڈیا کو ہونا بہت ضروری ہے، عمران خان نے جج سے آج 4 چیزیں مانگی ہیں کہ بچوں سے بات کروائی جائے، جو نہیں کروائی جارہی یہ اسکا حق ہے، دوسراعمران خان کتابیں مانگ رہے ہیں، ہم کتابیں لے کر جاتے ہیں جیل رول کے مطابق کتابیں انکا حق بنتا ہے لیکن کتابیں نہیں پہنچائی جارہیں،تیسرا عمران خان نے کہا کہ ایکسرسائز کیلئے ڈمبل چاہئیں، پولیس والا کھڑا کردیں، میں ورزش کروں گا، 15 منٹ بعد واپس لے جائے،عمران خان نے چوتھی ڈیمانڈ میں کہا کہ ملاقات کی لسٹ دیتا ہوں وہ ملاقاتیں کروائی جائیں، 6 لوگوں کو کہتا ہوں، 2 اندر ہوتے ہیں 3 باہر روک لیتے ہیں،ایسا نہیں ہونا چاہئے، قانون او ر عدالتی احکامات کے مطابق ملاقات ہونی چاہئے، جمعرات کو جن چھ لوگوں کا کہتا ہوں ان کو نہیں بھیجا جاتا،ہم نے خان صاحب کو کہا آپ مانگیں ہی نہ، یہ آپ کو تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ 8 ستمبر کا جلسہ شروعات ہو گی قوم اپنے حق کیلئے، اپنے مینڈیٹ کی واپسی کیلئے اور آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے ہر صورت نکلے،پہلے میں کہہ دوں گھبرانا نہیں، سیاست میں نہیں آرہی، عمران خان کا پیغام دے رہی ہوں کہ 8 ستمبر کو ہماری شروعات ہے، سب اپنے حق کیلئے نکلیں،چھینا ہوا مینڈیٹ واپس لینا ہے یہ آپکے ووٹ ہیں، اسکے لئے نکلنا ہے، اور آئین کے مطابق حق ہے کہ نکلیں اوراحتجاج کریں، حق نہیں دیا جا رہا، ناانصافی ہو رہی ہے تو حق مانگ سکتے ہیں،

  • اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران  کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    وزیرِ اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ عمران خان کونسلر کا الیکشن نہیں لڑ سکتا، چانسلر بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، یہ اس قوم اور آکسفورڈ یونیورسٹی کیساتھ مذاق ہے

    بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ جو شخص اس ملک کی سیاست میں کونسلر تک منتخب نہیں ہو سکتا وہ کہتا ہے چانسلر بنوں گا،یہ دنیا کے ساتھ مذاق ہے، یہ اسکے ذہنی مریض ہونے کا واضح ثبوت ہے،عمران خان کی حرکتیں کیا رہی ہیں سب کے سامنے ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی معیار کا ادارہ ہے ،عمران خان کی اب حقیقت سامنے آ چکی ہے، ڈیلی میل نے سب کچھ لکھ دیا ہے، بین الاقوامی میڈیا نے عمران خان کو ڈس گریس کا لقب دیا، عمران خان نے پاکستان کے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی ،چوری کرنا عمران خان کی عادت ہے، ملک میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی آپ کا دیا ہوا تحفہ ہے، آپ نے اپنے دور حکومت میں طالبان کو ری انٹیگریشن کے نام پر جیلوں سے رہا کیا، آج قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔

    بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ یہ بڑا پرچار کرتے ہیں کہ ہم ہیومین رائٹس کے علم بردار ہیں،لوگوں کی عمران خان سے محبت نہیں، ’’کلٹ فالوونگ‘‘ ہے، اِس میں ذہن مفلوج اور مائوف ہو جاتا ہے، اِس بیماری کا کوئی علاج نہیں، اسٹاک ہوم سنڈ روم کی بیماری میں یہ مبتلا ہیں، عمران خان اپنی غیرقانونی حرکات کی وجہ سے پابندِ سلاسل ہیں، یہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز ان کے ذریعے داغدار ہونے سے رہ نہ جائے،اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران خان کو شکست ہو گی، کر لیں یہ شوق پورا،عمران نیازی آج گھڑی چوری،190 ملین پاؤنڈ کرپشن، لوٹ مار ،ملک میں انتشار افراتفری پھیلانےکیوجہ سےپابندسلاسل ہیں،پاکستانی قوم کو اشتعال انگیزی دینے کی وجہ سے عمران پابند سلاسل ہیں، دن دہاڑے انہوں نے ڈکیتیاں کیں، اسکا حساب دینا پڑے گا، عمران خان نے ملکی معیشت، سفارتی تعلقات کا بیڑہ غرق کیا ،چوری چکاری طالبان کی سپورٹ کیوجہ سےنیازی کو ڈس گریسڈ کالقب دیا

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • عمران خان کو آکسفورڈ  کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ عمران خان کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا نہیں بلکہ اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جو شخص پورے پاکستان سے زیادہ مغرب کو جانتا تھا اس کو آج مغربی میڈیا "ڈس گریس” کا لقب دے رہا ہے، عمران خان کی کرپشن کی داستانیں 4 سال سے عالمی میڈیا کی زینت بن رہی ہیں، ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے مسلسل دو مرتبہ عمران دور میں کرپشن انڈکس اوپر جانے کی نشاندہی کی،ہر ہفتے نئے بیانیہ بنانے والالیڈر بہروپیا اور فراڈیا ہوتا ہے، دونوں میاں بیوی نے 45 ماہ وزیراعظم اور خاتون اول کے عہدوں کو او ایل ایکش پر چڑھائے رکھا،دامن میں توشہ خانہ کی گھڑیاں اور 90 ملین پاؤنڈ چھپائے آکسفورڈ کے چانسلر کا الیکشن لڑنے چلے ہیں،9 مئی کی ناکام بغاوت کے سنگین مقدمات انڈر ٹرائل ہیں، کرپٹ پریکٹسز اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ جیسے مقدمات میں سزا یافتہ شخص کا آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کا الیکشن لڑنا ویسے ہی باعث ندامت ہے، چھوڑوں گا نہیں، این آر او نہیں دوں گا معافی دے دیں جیسے بیانیے لیڈر نہیں گیدڑوں کے ہوتے ہیں

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    واضح رہے کہ ڈیلی میل نے عمران خان کے حوالہ سے سٹوری شائع کی ہے،ڈیلی میل کے مطابق عمران خان کے الیکشن لڑنے کے فیصلے کے خلاف آکسفورڈ یونیورسٹی میں سخت اشتعال اور مظاہرے ہوئے ہیں،ڈیلی میل نے اپنی سرخی میں عمران خان کو Disgraced وزیراعظم کا خطاب دے دیا ،آکسفورڈ یونیورسٹی کو عمران خان کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کیخلاف غم و غصّے سے بھری ای میلز اور احتجاجی پٹیشن موصول ہونا شروع ہو گئیں ،ڈیلی میل کے مطابق ان ای میلز میں بانی پی ٹی آئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار دیا گیا ہے- پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کرپشن کیسز میں سزا یافتہ شخص کا آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے چانسلر کا الیکشن لڑنا قابل قبول نہیں ،

  • نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    نااہلی کے معاملے پر اپیل پر جلد سماعت کی جائے،عمران خان کی درخواست

    اڈیالہ جیل میں گرفتار سابق وزیراعظم عمران خان نے نااہلی کے معاملے پر اپیل کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے

    عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست بیرسٹر علی ظفر نے دائر کی،عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کو سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے تحائف ڈیکلیئر نہ کرنے کے غلط الزام پر بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کا ریفرنس بھیجا جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر عمران خان کو میانوالی سے ڈی سیٹ کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمران خان کو انتخابات لڑنے سے روک دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ کا لارجربینچ الیکشن کمیشن کے خلاف اپیل پر سماعت کر رہا تھا مگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل واپس لینے کی استدعا منظور کرنے سے انکار کردیا، اسلام آبادہائیکورٹ کےحکم کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ لارجربینچ کارروائی آگے نہیں بڑھا پا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

    بانی پی ٹی آئی کی جانب اپنی نااہلی کے خلاف 10 جنوری 2024 کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں اپیل پر جلد سماعت کی عمران خان کی یہ دوسری درخواست ہے، ایک درخواست پہلے بھی علی ظفر نے دائر کی تھی،

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • اڈیالہ جیل میں 3 نئے افسران تعینات

    اڈیالہ جیل میں 3 نئے افسران تعینات

    عمران خان کی سہولت کاری کرنے والے اڈیالہ جیل حکام کی گرفتاریوں اور تبادلوں کے بعد نئے افسران کی تعیناتی کر دی گئی ہے

    اڈیالہ جیل میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ سمیت تین نئے افسران تعینات کئے گئے ہیں، علی امیر شاہ کو ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل راولپنڈی ، عامر فیاض بھٹی کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایجوکیشن ،جماعت علی کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جوڈیشل اڈیالہ جیل تعینات کیا گیا ہے، تینوں افسران کو محکمہ داخلہ پنجاب کی ہدایت پر اڈیالہ جیل میں تعینات کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں‌ تعینات افسران عمران خان کے سہولت کار نکلے،جس پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے اور گرفتاریاں شروع کی گئی ہیں،عمران خان کی سہولت کاری کے الزام میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کے بعد جیل کے ایک اور افسر کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، سیکورٹی اداروں نے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال سے تحقیقات کی ہے ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال کا موبائل فون ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اوراسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال عمران خان کے سیل تک رسائی رکھتے تھے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کوکمرہ عدالت میں دوران سماعت عمران خان سے سرگوشیاں کرتے بھی دیکھا گیا ہے، دونوں افسران پر عمران خان کو موبائل تک رسائی دینے کا الزام بھی ہے

    باخبر ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اور عمران خان کے دوران پیغام رسانی بھی جیل میں یہی افسران کرتے تھے، بشریٰ بی بی اسے لیے بنی گالہ سے اڈیالہ منتقل ہوئی تھیں تا کہ کوئی نئی سازش تیار کی جائے تا ہم سیکورٹی اداروں نے پیغام رسانی کے کام کو پکڑ لیا، افسران کے خلاف کاروائی شروع کر دی گئی ہے،

    اس واقعے نے ایک بار پھر جیلوں میں سیکیورٹی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ حکومتی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جیلوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔یہ خبر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    عمران خان کے سیل کے باہر تعینات اہلکاروں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ
    اڈیالہ جیل میں افسران کی جانب سے عمران خان کی سہولت کاری کی خبریں سامنے آنے کے بعد جیل میں عمران خان کی سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کر لیا گیا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کے سیل کے باہر سیکورٹی ادارے کے اہلکار ہوں گے اور ان اہلکاروں کو ہر ہفتے بدلا جائے گا، اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران جیل عملے کو صحافیوں، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے،جیل کے اندر رہائش پذیر اہلکاروں کی بھی مکمل تلاشی لی جائے گی۔

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

  • عمران خان  آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے جیل سے چانسلر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کے اعلان پر شدید احتجاج شروع ہوگیا ہے۔
    عمران خان، جو ایک سال سے زائد عرصے سے بدعنوانی کے الزامات پر جیل میں ہیں، نے کنزرویٹو پارٹی کے لارڈ پیٹن کی جگہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، یونیورسٹی کو عمران خان کی امیدواری پر متعدد تحفظات موصول ہوئے ہیں ، جن میں ان کی طالبان کی حمایت اور ان کی سزا کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل عمران خان نے کہا، "بطور چانسلر، میں آکسفورڈ کے اصولوں، تنوع، مساوات اور شمولیت کی حمایت کرنے کا پُر جوش وکیل بنوں گا، نہ صرف برطانیہ میں بلکہ دنیا بھر میں۔”یونیورسٹی کو اس معاملے پر ای میلز اور ایک پٹیشن موصول ہوئی ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی امیدوار ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے، "اگرچہ عمران خان ایک ممتاز شخصیت ہیں، لیکن ان کے عوامی اور ذاتی ریکارڈ کے بعض پہلو انتہائی تشویشناک ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے طالبان کے ساتھ میل جول بڑھانے کی کوشش کی اور انہیں پاکستان میں دفتر قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے اسامہ بن لادن کو ‘شہید’ کہا، جو کہ ایک متنازعہ بیان تھا اور اس پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔عمران خان کے امیدوار بننے کے خلاف لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ناقدین کو ہراساں کیا اور انہیں بدنام کیا۔یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے کہ چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کی فہرست اکتوبر کے اوائل میں جاری کی جائے گی، جبکہ الیکشن 28 اکتوبر کو ہوں گے۔

    ڈیلی میل نے عمران خان کے حوالہ سے سٹوری شائع کی ہے،ڈیلی میل کے مطابق عمران خان کے الیکشن لڑنے کے فیصلے کے خلاف آکسفورڈ یونیورسٹی میں سخت اشتعال اور مظاہرے ہوئے ہیں،ڈیلی میل نے اپنی سرخی میں عمران خان کو Disgraced وزیراعظم کا خطاب دے دیا ،آکسفورڈ یونیورسٹی کو عمران خان کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کیخلاف غم و غصّے سے بھری ای میلز اور احتجاجی پٹیشن موصول ہونا شروع ہو گئیں ،ڈیلی میل کے مطابق ان ای میلز میں بانی پی ٹی آئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار دیا گیا ہے- پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کرپشن کیسز میں سزا یافتہ شخص کا آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے بڑے تعلیمی ادارے کے چانسلر کا الیکشن لڑنا قابل قبول نہیں ،

    طالبان اور اسامہ بن لادن کی پرجوش حمایت پر مبنی عمران خان کا شدت پسند موقف چانسلر کا امیدوار بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گیا،ڈیلی میل کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کئی مواقعوں پر طالبان کی حمایت اور ان کے شدت پسند ایجنڈے کا پرچار کیاہے – بانی پی ٹی آئی کے خلاف یونیورسٹی کو موصول پٹیشن میں اس طرح کے مزید ذاتی اور پبلک مفادات سے متصادم باتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،بانی پی ٹی آئی کی نجی زندگی پر بھی کئی داغ موجود ہیں،خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام اُنہی خواتین کے لباس کو ٹھہرانا بھی عوام نقطہ احتجاج بن گیا،خواتین کا مختصر لباس ان کی آبرو ریزی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے، ایسے لباس کے اثرات صرف روبوٹس پر نہیں ہوتے، لوگوں نے عمران خان کا پرانا موقف آکسفورڈ یونیورسٹی کو یاد کرا دیا

    تحریک انصاف کے سپورٹرز پر عمران خان کے مخالفین کو ہراساں کرنے کا بھی الزام ہے،عمران خان کے حامی اس پر تنقید کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا ٹرولنگ سے کام لے رہے ہیں، برطانوی اخبار کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی انسانیت کے احترام ، اخلاقی اقدار اور لیڈر شپ کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے قابل قدر تاریخ ہے، عمران خان کا چانسلر کا الیکشن لڑنا اسے داغدار کر دے گا، عمران خان دہشت گردوں کا حامی ہے قومی اسمبلی سے خطاب میں اس نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی