Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • پی ٹی آئی اسرائیلی برانڈ ہے ،رانا ثناء اللہ

    پی ٹی آئی اسرائیلی برانڈ ہے ،رانا ثناء اللہ

    اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو ’اسرائیلی سیاسی برانڈ‘ قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ٹائمز آف اسرائیل نے پاکستان میں انقلاب اور تبدیلی لانے کی حقیقت کھول دی، اس انکشاف کے بعد نو مئی کی منصوبہ سازی اور حملوں کی وجوہات مزید واضح ہوگئی ہیں،فارن فنڈنگ اور سماجی خدمت ایک پلاننگ کا حصہ تھی، جس کا مقصد پاکستان کی اسلامی، نظریاتی سوچ اور خارجہ پالیسی کو بدلنا تھا، نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کی پوری کہانی اسرائیلی اخبار کے مضمون کو پڑھ کر سمجھ آتی ہے-

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے بانی پی ٹی آئی جیسے مہرے کے حق میں بیان کیوں دیا تھا، امریکی کانگریس سے قرارداد کیوں منظور ہوئی تھی، اس کے تانے بانے سب کھل کر سامنے آگئے ہیں،پی ٹی آئی اسرائیلی برانڈ ہے جسے اسلامی ٹچ دے کر مسلمانوں میں مقبول کرنے کی کوشش کی گئی، پاکستان سمیت ہر مسلمان کو فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل کے سیاسی برانڈ کا بائیکاٹ کرنا چاہیئے۔

    پی ٹی آئی جلسے کیلئے خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل کا استعمال

    ریاست کے خلاف منصوبہ بندی کرنے کے جرم کی کوئی معافی نہیں،مریم اورنگزیب

    ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ، ایک ایف سی اہلکار …

    واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنے بلاگ میں پاک اسرائیل تعلقات میں عمران خان کے کردار کے حوالے سے لکھا کہ کس طرح وہ دونوں ممالک کے درمیان بہتری کا ذریعہ بن سکتے ہیں،آذربائیجان کی محقق عینور بشیرووا نے اپنے بلاگ میں عمران خان سے متعلق لکھا کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں فلسطین کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت جاری رکھی۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیل بربریت کے خلاف آواز اٹھائی، فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی اور مسئلہ فلسطین کے حل ہونے تک اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے سے انکار کیا۔ یہ سب سے زیادہ پاکستانیوں کی توقع اور پاکستان کے دیرینہ خارجہ پالیسی کے موقف کے مطابق تھا۔

    تاہم بلاگر نے لکھا کہ عمران خان نے چین اور سعودی عرب جیسے پرانے دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی، جبکہ ان ممالک سے بھی بات کی جو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ نہیں تھے۔ اس نقطہ نظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ خان اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف پر نظر ثانی کرنے کے لیے اس سے زیادہ تیار تھے جتنا کہ وہ اپنے عوامی بیانات میں دیتے تھے۔ وہ شاید کھلے خیالات کے مالک تھے۔

    ایک طرف اسرائیل اور دوسری طرف عمران خان کی سابقہ ​​اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ اور ان کے خاندان کے ساتھ قریبی تعلقات پر غور کرنا ضروری ہے۔ گولڈ اسمتھ برطانیہ کا ایک امیر اور بااثر خاندان ہے اور جمائما کا بھائی زیک گولڈ اسمتھ برطانوی سیاست کا حصہ رہا ہے۔ یہ تعلق اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے خیالات کو ممکنہ طور پر متاثر کر سکتا تھا، چاہے انہوں نے اسے عوامی سطح پر ظاہر نہ کیا ہو۔

    مضمون میں لکھا گیا کہ زیک گولڈ اسمتھ کے برطانیہ میں یہودیوں اور اسرائیل کے حامی گروپوں کے ساتھ تعلقات اور مغربی رہنماؤں میں ان کے خاندان کے اثر و رسوخ نے عمران خان کو اسرائیل کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر دیا ہو گا۔ عمران خان نے لندن کے میئر کے انتخاب میں زیک کی حمایت کر کے گولڈ اسمتھ خاندان سے اپنی وفاداری ظاہر کی، یہاں تک کہ جب ایک اور مسلمان، صادق خان انتخاب میں حصہ لے رہے تھے عمران خان کی یہ خیر خواہی بتاتی ہے کہ عمران خان گولڈاسمتھ اور ان کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جنہوں نے ماضی میں بھی ان کی حمایت کی۔

    مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان گولڈ اسمتھ خاندان کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھی بھیج چکے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف کو نرم کرنے اور پاکستان میں مذہب کے حوالے سے زیادہ اعتدال پسند طرز عمل کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خان لچکدار شخصیت ہیں اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ڈھالنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اسے پاکستان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

  • کراچی سے پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کا قافلہ اسلام آباد  روانہ

    کراچی سے پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کا قافلہ اسلام آباد روانہ

    کراچی سے پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کا قافلہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گیا۔

    قافلہ پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کی قیادت میں روانہ ہوا ہے، قافلے میں بسیں اور سیکڑوں گاڑیاں شامل ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ کارواں میں مختلف شہروں سے کارکنان شامل ہوں گے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 8 ستمبر کو اسلام آباد میں جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد جلسہ کے لیے تحریک انصاف کو این او سی جاری کر دیا ہے۔

    اس سے قبل ایک بیان میں مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ سارے پنجاب کی پولیس اسلام آباد میں تعینات ہے، پی ٹی آئی کا جلسہ رکوانے کے لیے حکومت نے اوچھے ہتھکنڈے شروع کیے ہیں۔

    بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے پنجاب پولیس کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایات کی ہیں، پنجاب کو کچے کے ڈاکو کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

  • اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں،عمران خان کو گزشتہ برس توشہ خانہ کیس میں سزا ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا ،عمران خان کو بعد ازاں دیگر مقدمات میں بھی سزائیں ہوئیں تا ہم عدالت نے سزا ختم کر دی، عمران خان اب توشہ خانہ ٹو اور نومئی کیس سمیت 190ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتار ہیں، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی جیل میں ہیں

    عمران خان نے جیل سے رہائی کے لئے ہرممکن کوشش کی لیکن انہیں کسی صورت کامیابی نہ ملی،عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک انصاف نے جہاں بھارتی لابی کے ساتھ ملکر بیرون ممالک میں قراردادیں لائیں، احتجاج کیا ، اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی، عمران خان کے ہامی،پاکستان مخالف ،اسرائیلیوں کے قریبی سمجھنے جانے والے رہنماؤں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی، لیکن عمران خان کو تمام تر کوششوں کے باوجود رہائی نہ مل سکی، اب اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے رہائی کے لیے اسرائیل سے مدد مانگی ہے،اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے ایک مضمون کے مطابق عمران خان نے گولڈ سمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اسرائیل اور پاکستان کے درمیان تعلقات قائم کریں گے بشرطیکہ اسرائیل ان کی رہائی میں مدد کرے۔

    سوال یہ ہے کہ عمران خان کو رہائی کے لئے اسرائیل سے کیوں مدد مانگنا پڑی؟ عمران خان کہتے تھے کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنائیں گے لیکن انکے اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے ڈھکے چھپے نہیں تھے، اب اسرائیلی اخبار نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے، عمران خان کو بچانے کے لیے اب اسرائیلی لابی میدان میں آ گئی ہے، سب سے پہلے عمران خان پکڑا گیا،پھر عادل راجہ بے نقاب ہوا،پھر سوشل میڈیا ٹیم کے راز کھل گئے، پھر فیض نیازی اتحاد کا پردہ فاش ہوا ، آپریشن گولڈ اسمتھ کا انکشاف ہوا۔جب سب کچھ بکھر گیا تو سہولت کاروں کو آخر کار خود ہی آگے آنا پڑا۔اسرائیل عمران خان کا سہولت کار ہے یہی وجہ ہے کہ اب اسرائیل عمران خان کی رہائی کی کوشش کرے گا لیکن پھر بھی عمران خان کو رہائی نصیب نہیں ہو گی جب تک پاکستان کی عدالتیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرتیں

    اسرائیلی اخبار کی سٹوری پر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ آر اے شہزاد کہتے ہیں کہ اسرائیل نے 75سال میں پہلی بار اقوام متحدہ میں نیازی کی رہائی کے لیے پاکستان کے خلاف آواز اٹھائی اب اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار میں یہ لکھا کہ عمران نے اپنے یہودی سسرال کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اسرائیل سے نارمل تعلقات کرے گا اور اسرائیل تسلیم کر کے مڈل ایسٹ کے حالات بدل جائیں گے ،اب آپ سمجھ جائیں اسرائیلی اثاثے بھلے وہ ہمارے ملک کے ڈالر خور ہوں یا بیرون ملک وہ کیوں نیازی کے ساتھ کھڑے ہو گے ہیں گیم اس سے زیادہ کلئیر نہی ہو سکتی ہے

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کہتے ہیں کہ عمران خان کا اسرائیل کے ساتھ بہت گہرا تعلق ھے،ان کی جمائما گولڈ اسمتھ سے شادی سوچیں سمجھی پلان کے تحت تھی،ان کو ہمارے خطے میں ایک ایسا شخص چاہیے تھا جو فلسطین کے خلاف اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرسکے، گولڈ سمتھ خاندان عمران خان کے پیچھے کھڑا ہے، اس رشتے کا مقصد ہی یہی تھا کہ اسرائیل کے مفادات کا اس خطےمیں تحفظ کیا جائے، پاکستان جو اسرائیل کے خلاف ہے اس میں ایسا ماحول بنایا جائے کہ اسرائیلی مفادات کا تحفظ ہوا،رشتے داری ختم ہو تو یہ نہیں ہوتا کہ آپ کے بچے ان کے پاس پل رہے ہوں، جمائما رشتےمیں نہیں ہے لیکن اب بھی وہ عمران کے ساتھ کھڑی ہے کیوں؟

    صحافی امجد بخاری ایکس پر کہتے ہیں کہ ٹائمز آف اسرائیل میں لگے اس مضمون کے اہم نکات
    1۔۔۔عمران خان باقی سیاستدانوں کی نسبت اسرائیل کے معاملے میں لچک رکھتا ہے۔
    2۔۔۔اطلاعات ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ خاندان کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر غور کرنے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو معتدل کرنے کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا گیا۔
    3۔۔۔اس نے مئیر لندن کے انتخاب میں یہودی امیدوار کا ساتھ دیکر یہی پیغام بھیجا
    4۔۔عمران خان کی منفرد پوزیشن، تعلقات اور اسٹریٹجک سوچ اسرائیل-پاکستان تعلقات کو بہتر کر سکتی ہے،
    5…اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور وہ آواز بن سکیں جو ان کی ترجمانی کرے۔

    https://x.com/AmjadHBokhari/status/1832175611965829487?t=ZVVahh-CSDzL4NH9IaUC3A&s=08

    واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار نے کہا ہے کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کے لیے ان کی رضامندی کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی ایک سطح تجویز کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے بالاتر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ روابط کی اس ممکنہ رضامندی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی حرکیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    اسرائیلی اخبار کی یہ رپورٹ اس حقیقت کو مزید عیاں کرتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لی ےصیہونی لابیز کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں،اسرائیلی اخبار میں بانی پی ٹی آئی کے حق میں مضمون آپریشن گولڈ سمتھ سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ دی ٹائمز آف اسرائیل وہ اسرائیلی اخبار ہے جس کی ایڈیٹوریل پالیسی ہے کہ یہ اسرائیلی حکومت کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں چھاپتا۔

    عمران خان کے ہی دور حکومت میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ بطور وزیراعظم عمران خان اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کے لئے تیار تھے، اور اس ضمن میں عمران خان نے خاندانی رابطوں کو بھی استعمال کیا، عمران خان کی حکومت کی حالت جب غیر مستحکم ہوئی تو پھر وہ پیچھے ہٹے، عمران خان کے دور حکومت میں خبریں آئی تھیں کہ زلفی بخاری نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے تا ہم بعد میں انہوں نے تردید کی ،اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا تھا جس میں کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سینئر مشیر ، سید زلفی بخاری نے نومبر کے آخری ہفتے میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا ،اخبار کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برطانوی شہری ہیں اور انہوں نے برطانوی پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ کیا اور تل ابیب پہنچے، اور موساد کے سربراہ سے ملاقات کی،اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ زلفی بخاری نے وزارت خارجہ میں سینئر حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا خصوصی پیغام پہنچایا،زلفی بخاری کا یہ دورہ متحدہ عرب امارات کی کوششوں سے ہوا ، عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے

    بلاول زرداری نے بھی زلفی بخاری کی اسرائیل کے دورے کی خبروں پر وضاحت مانگی تھی ،بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان زلفی بخاری اور اسرائیل حکام کے درمیان کی ملاقات کے حقائق عوام کے سامنے لائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کے حوالہ سے حقائق لے کر آئے اگر وہ نہیں گیا تو جو جہاز جو اسرائیل پہنچا تھا جو جہاز کی ڈیٹیل ہے وہ قوم کے سامنے لائے، سب پتہ چل جائے گا، دوسرا بتایا جائے کہ اگر جہاز کا یہی روٹ تھا تو کس نے اجازت دی، زلفی بخاری کو جہاز نے نہیں اٹھایا تو کس نے اٹھایا یہ خبر اسرائیل کے اخبار نے اسرائیل کے سنسر بورڈ سے اجازت لے کر شائع کی، پی پی مطالبہ کرتی ہے کہ اس جہاز کی تفصیل سامنے لائی جائے،

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی انکشاف کیا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے عرب ممالک کو آمادہ کیا، اس مہم میں عمران خان ساتھ تھا۔جب ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن لڑ رہا تھا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ٹرمپ کی انتخابی مہم کا مرکز بنا دیا تھا اور آج بھی خبریں زیر گردش ہیں کہ کچھ اینکرز اسرائیل میں نظر آئے انہوں نے بھی واضح کردیا کہ اسرائیل جانے کے لیے منظوری عمران خان نے دی۔

    تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کو ملکی سیاست میں ایک مضبوط ترین قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ ٹیم نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی اثر پذیری اور تیزی سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کی اس قدر مضبوط سوشل میڈیا موجودگی کے باوجود، ایک اہم سوال اُٹھ رہا ہے کہ اس ٹیم نے کبھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف یا کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف واضح مؤقف کیوں نہیں اپنایا؟پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران سوشل میڈیا کو بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے کئی بار قومی اور بین الاقوامی سطح پر ٹرینڈز بنائے، جو مخالفین کے خلاف مہمات سے لے کر اپنی جماعت کے بیانیے کو آگے بڑھانے تک شامل ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کو عوامی رائے عامہ کے تشکیل میں ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک منفرد خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔یہ بات حیران کن ہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم، جو ایک معمولی مسئلے کو بھی بڑا بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، نے اسرائیل کے غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مظالم اور کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت پر کبھی کوئی ٹھوس اور واضح مؤقف نہیں اپنایا۔ دونوں مسائل عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ضمن میں آتے ہیں، مگر پی ٹی آئی کی جانب سے ان پر خاموشی یا غیر مؤثر بیانات پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی کی خاموشی کے پیچھے بین الاقوامی مالی معاونین اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقے ہوسکتے ہیں۔ یہ حلقے اسرائیل کی حمایت یا بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہوسکتے ہیں، اور پی ٹی آئی کی جانب سے ان مسائل پر بات کرنا ان کے مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی خاموشی مالی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔پی ٹی آئی کی اس خاموشی پر عوامی سطح پر بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی ناقدین اس بات پر حیران ہیں کہ ایک جماعت جو ہر مسئلے پر بولتی ہے اور اپنے حریفوں پر تنقید کرتی ہے، وہ فلسطین اور کشمیر جیسے حساس معاملات پر کیوں خاموش ہے؟

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • پی ٹی آئی نے  عمر ایوب کا استعفیٰ منظور کر لیا

    پی ٹی آئی نے عمر ایوب کا استعفیٰ منظور کر لیا

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے عمر ایوب کا بطور سیکرٹری جنرل استعفیٰ منظور کر لیا ہے،جس کے بعد سلمان اکرم راجہ کو سیکرٹری جنرل نامزد کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق عمران خان نے پارٹی کے پارلیمانی اور عملی سیاسی امور کو الگ کر دیا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز پارلیمانی ٹیم کو لیڈ کریں گے جبکہ سلمان اکرم راجہ بطور پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل ذمہ داریاں نبھائیں گے،اس کے علاوہ رؤف حسن کی سربراہی میں تھینک ٹینک تشکیل دیا جائے گا، رؤف حسن حکومتی کارکردگی پر وائٹ پیپر کا اجراء اور انتخابی معاملات بھی دیکھیں گے،دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سلمان اکرم راجہ کے بطور سیکرٹری جنرل نامزدگی کا علم نہیں۔

    عمر ایوب نے 27 جون کو سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد انہوں نے چیئرمین مرکزی فنانس بورڈ پی ٹی آئی کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا،عمران خان نے عمر ایوب کا بطور سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی یہ استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

    عمر ایوب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نام تحریر کئے گئے میں کہا تھا کہ مئی 2023 سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دینا باعث اعزاز رہا، بےحد مشکور ہوں کہ آپ نے مجھ پر اعتماد کیا، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے خدمات کا موقع دیا گیا، شاندار سپورٹ پر سینیٹر شبلی فراز، کورکمیٹی اور تنظیمی ممبران کا شکر گزار ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ سیکرٹری جنرل کے عہدے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا اس لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں، پی ٹی آئی کا ورکر بن کر کام کرتا رہوں گا، کارکن اسلام آباد جلسے کو کامیابی سے ہمکنار کریں،ان کے استعفے پر 22 جون 2024 کی تاریخ درج ہے۔

    سو جلسے کریں مگر 9 مئی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے،طلال چوہدری

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار

    پائلٹ بیمار،پرواز منسوخ،نائیجیرین گلوکار پھٹ پڑے

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    اڈیالہ جیل میں 190ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی

    بانی پی ٹی آئی نے نیب ترامیم فیصلے کے بعد 190ملین پاونڈ ریفرنس میں رعایت مانگ لی،بانی پی ٹی آئی نے 190ملین پاونڈریفرنس میں بریت کی درخواست دائر کردی،وکیل عمران خان نے کہاکہ نیب ترامیم فیصلے کے بعد 190ملین پاونڈ کا کیس بنتا ہی نہیں، نیب ترامیم میں کابینہ کے تمام فیصلوں کو تحفظ حاصل ہے،سوال یہ ہے کہ نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت کا اس کیس میں دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر عدالت کا اس کیس میں دائرہ اختیار ہے تو پھر بریت کی درخواست سنی جاسکتی ہے،وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم نے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج ہی نہیں کیا ہے، عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کرنا عدالت کی صوابدید ہے،

    احتساب عدالت نے 190ملین پاونڈٰریفرنس کی سماعت ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ کیا،بعد ازاں احتساب عدالت نے وقفے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے،احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر سماعت 10ستمبر تک ملتوی کردی،190ملین پاونڈٰ ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

  • سو جلسے کریں مگر 9 مئی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے،طلال چوہدری

    سو جلسے کریں مگر 9 مئی دوبارہ نہیں ہونے دیں گے،طلال چوہدری

    مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جلسے میں آ کر، بڑھکے مار کر آپ اپنی ناقص کارکردگی نہیں چھپا سکتے

    پریس کانفرنس کرتےہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسمبلی نے نیا قانون پاس کر دیا ہے، اسکے مطابق پرامن جلسے کو انتظامیہ مدد کرے گی، شرط صرف اتنی ہے کہ وہ آئیں ، قانون کے مطابق جلسہ ہو، اگر کوئی خلاف ورزی ہو گی تو سزا بھی ہو گی، جلسہ ضرور کریں لیکن انتشار نہیں، انتظامیہ، حکومت کلیئر ہے، ایک نہیں سو جلسے کریں، اپنی من مانی نہیں ہو سکتی، پہلے اسلام آباد کو آگ لگائی گئی، دھرنے دیئے گئے، جلسہ ضرور کریں لیکن اس وقت یہ جلسہ کرنے کی بجائے رنگ بازی کر رہے ہیں، کے پی کا وزیراعلیٰ کہتا ہے کہ کینٹینر،کرین لے کر آؤں گا، بھئی آپ اپنی کارکردگی لے کر آئیں اور بتائیں قوم کو کیا کیا، جس وزیر نے کرپشن کی شکایت کی اس کو ہٹا دیا گیا، اسلام آباد پر چڑھائی کی بجائے کرپشن کا پیسہ واپس کر کے سڑکیں بنائیں، جلسے میں دوسروں پر سوال اٹھانے کی بجائے پہلے 13 سال کی کارکردگی بتائیں، کے پی میں بدامنی، دہشت گردی آج بھی زیادہ ہے، کیا بتائیں گے لوگوں کو، کارکردگی نہیں چھپائی جا سکتی

    طلال چوہدری کا مزید کہنا تھاکہ پی ٹی آئی ایک نہیں 100 جلسے کرے لیکن دوبارہ 9 مئی نہیں ہونے دیں گے،ان جلسوں سے آئی ایم ایف کا معاہدہ نہیں رکے گا نہ معیشت کو کوئی دھچکا لگے گا، جلسے کا واحد مقصد این آر او ہے، یہ این آر او چاہتے ہیں، ان کی سیاست کا مقصد ایک ہی ہے کہ اڈیالہ کے مجرم کو معافی دلوائی جائے،آپ کی شہداء سے کیا لڑائی ہے؟ کیا ناراضگی ہے؟ جب شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن آتا ہے آپ تب بھی شہداء کے گھر نہیں جاتے، سیدھی بات کریں کہ آپ جلسہ کے ذریعے ملک میں عدم استحکام چاہتے ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کا فیصلہ جیسےقریب آتا ہے تو آپکو جلسہ، جلوس یاد آ جاتا ہے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

  • اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی کاز کے سخت ترین حامیوں میں سے ایک رہا ہے، جو کہ دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس پوزیشن کی جڑیں ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر پاکستان کی شناخت اور امت یا عالمی مسلم کمیونٹی کے ساتھ اس کی وسیع تر وابستگی میں پیوست ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے تصور کو تاریخی طور پر اس شناخت کے متضاد کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے،

    فلسطین نواز موقف نہ صرف سیاسی ہے بلکہ پاکستانی معاشرے اور رائے عامہ میں بھی گہرا سرایت کر چکا ہے۔ اس کی جھلک یکے بعد دیگرے پاکستانی حکومتوں کی مسلسل پالیسیوں سے ہوتی ہے، جن میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات کی کھلی مذمت، سفارتی تعلقات سے انکار اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی ریاست کی حمایت شامل ہے۔پاکستان کے اسرائیل مخالف جذبات کی شدت کا اندازہ 1947 میں اس کے قیام سے لگایا جا سکتا ہے، جس کے دوران اس نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کرنے والی دیگر مسلم اقوام کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے خود کو مسلم دنیا کے رہنما کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس اتحاد کو اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور دیگر اسلامی بلاکس میں پاکستان کی رکنیت کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا، جہاں فلسطین کاز ایک مرکزی مسئلہ رہا ہے۔

    وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور میں، عمران خان نے عوامی طور پر فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا اظہار کیا اور جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خیال کو مسترد کردیا۔ یہ پوزیشنیں ملکی توقعات اور پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی دونوں سے ہم آہنگ تھیں۔تاہم، عمران خان کے دور میں خارجہ تعلقات کے لیے ایک عملی نقطہ نظر کی نشاندہی کی گئی تھی، جس میں اکثر عوامی بیان بازی اور پس پردہ سفارت کاری کے درمیان توازن برقرار رکھا جاتا تھا۔ عمران خان کی عملیت پسندی ان کی خارجہ پالیسی کے وسیع تر تدبیروں سے عیاں ہے، جہاں انہوں نے چین اور سعودی عرب جیسے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کے مفادات کے مطابق مخالفین کے ساتھ راستے کھولنے کی کوشش کی۔ اس نقطہ نظر سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے اپنے عوامی بیانات سے کہیں زیادہ کھلے ہیں۔

    عمران خان کے گولڈ اسمتھ فیملی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، خاص طور پر ان کی سابقہ ​​اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ سے جو اسرائیل کی جانب ان کے ممکنہ تبدیلی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ گولڈ اسمتھ خاندان برطانوی اشرافیہ کا حصہ ہے، جس میں جمائما کے بھائی زیک گولڈسمتھ برطانوی سیاست میں شامل رہے ہیں، برطانیہ میں یہودی اور اسرائیل نواز حلقوں سے زیک گولڈ اسمتھ کے روابط، مغربی اشرافیہ کے حلقوں میں خاندان کے وسیع تر اثر و رسوخ کے ساتھ، عمران خان کو اسرائیل کے بارے میں ایک مختلف نقطہ نظر فراہم کر سکتے تھے۔ لندن کے میئر کے انتخاب میں زیک گولڈ اسمتھ کے لیےعمران خان کی حمایت، یہاں تک کہ ایک مسلم امیدوار، صادق خان کے خلاف عمران خان چلے گئے اورگولڈ سمتھ خاندان اور ان کے وسیع نیٹ ورک کے لیے ان کی وفاداری کو واضح کیا

    ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جس میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کے لیے ان کی رضامندی کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی ایک سطح تجویز کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے بالاتر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ روابط کی اس ممکنہ رضامندی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی حرکیات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    imran

    عمران خان کی مغربی تعلیم اور مختلف ثقافتی اور سیاسی شعبوں کے درمیان جانے کی صلاحیت انہیں اسرائیل اور مسلم ریاستوں کے درمیان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر منفرد حیثیت دیتی ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر ان کے دور میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم مشرق وسطی کے کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں سے نشان زد کیا گیا تھا – دونوں نے ابراہیم معاہدے اور دیگر معمول پر لانے کی کوششوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو گرمانے کے آثار ظاہر کیے ہیں۔مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی عمران خان کی صلاحیت نظریاتی طور پر انہیں اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات میں اسی طرح کا کردار ادا کرنے کی اجازت دے سکتی ہے، اگر وہ اقتدار میں واپس آتے ہیں۔ ان کے ذاتی تعلقات اور اسٹریٹجک نقطہ نظر کو اسرائیل اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان ثالثی کرنے کے لیے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جس سے ایک وسیع تر علاقائی تنظیم سازی میں مدد مل سکتی ہے۔

    تاہم، عمران خان کی طرف سے اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش چیلنجوں سے بھرپور ہوگی۔ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مذہبی تنظیموں سے بہت زیادہ متاثر ہے، جن میں سے بہت سے اسرائیل مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ رائے عامہ بھی بہت زیادہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے، اور معمول پر آنے کی طرف کسی بھی اقدام کو عوامی اور مذہبی رہنماؤں دونوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان چیلنجوں کے باوجود، عمران خان نے پہلے ہی جمود کو چیلنج کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، خاص طور پر تعلیمی اصلاحات اور خواتین کے حقوق جیسے شعبوں میں، جہاں انہوں نے طاقتور مذہبی تنظیموں کا مقابلہ کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان کے وسیع تر تزویراتی مفادات کی خدمت ہو سکتی ہے تو وہ اسرائیل کے لیے زیادہ سنجیدہ رویہ اپنانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

    اگرچہ عمران خان کا اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات کو تشکیل دینے کا خیال قیاس آرائی پر مبنی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حرکیات کے پیش نظر یہ قابلیت کے بغیر نہیں ہے۔ اسرائیل اور کئی عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات کے معمول پر آنے سے ظاہر ہوا ہے کہ عملی سفارت کاری کے ذریعے دیرینہ دشمنی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت بتاتی ہے کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم اکثریتی ممالک مستقبل میں اسرائیل کے بارے میں اپنے موقف کا ممکنہ طور پر دوبارہ جائزہ لے سکتے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ ایک اہم تبدیلی کے درمیان ہے، جو اتحاد، اقتصادی مفادات، اور انتہا پسندی کے مشترکہ خطرے کی وجہ سے کارفرما ہے۔ اس تناظر میں، پاکستان اسرائیل تعلقات کی تشکیل میں عمران خان کا ممکنہ کردار ایک یاد دہانی کا کام کرتا ہے کہ سفارت کاری میں اکثر غیر روایتی سوچ اور غیر متوقع اتحاد شامل ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے خطہ ترقی کرتا جا رہا ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی ایسے طریقوں سے بھی ڈھل سکتی ہے جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، ممکنہ طور پر اسرائیل اور وسیع تر اسلامی دنیا کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا دروازہ کھل سکتا ہے۔

    اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور وہ آواز بنیں جو اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ عمران خان کی منفرد پوزیشن، تعلقات اور تزویراتی سوچ اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے، ان اہم چیلنجوں اور مخالفت کے باوجود ممکنہ طور پر انہیں ایسی تبدیلی کی کوشش میں سامنا کرنا پڑے گا۔

    بلاگ ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہوا ہے،بلاگر خاتون صحافی عینور بشیروفا ہیں، جو برسلز میں مقیم ہیں،

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    اسرائیل، عرب امارات ڈیل ،غلط کیا ہوا، مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی

    متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

  • مجھے جنرل فیض سے ڈرایا جا رہا ہے،عمران خان

    مجھے جنرل فیض سے ڈرایا جا رہا ہے،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور ے خلاف کچھ لوگ پارٹی کے اندر سازشیں کررہے ہیں ، پارٹی کو کہتاہوں کہ علی امین گنڈاپور کو انڈر مائن نا کریں، میں علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہوں، پوری پارٹی کو کہتا ہوں یہ وقت اختلافات کا نہیں ہے ، جو لوگ علی امین کے خلاف سازشیں کررہےہیں وہ بعد میں نا کہیں کہ ٹکٹ نہیں ملا، ہمارے لوگوں کو پی ٹی آئی کے نام پر ٹکٹ ملا ہے ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو این آر او ٹو مبارک ہو،سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کے فیصلے سے توشہ خانہ ٹو کا کیس تو ویسے ہی ختم ہو گیا،مجھے تو اس فیصلے پر خوشی منانی چاہیے، 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی ختم ہونے کے قریب ہے،نیب آرڈیننس کے خلاف اس لیے گئے کہ یہ کیسز ہم نے نہیں بنائے تھے،شہباز شریف کے تمام کیسز پرانے تھے صرف مقصود چپڑاسی کا شوگر سکینڈل کیس ہمارے دور میں بنا،عوامی نمائندے قانون پاس کر کے اپنے کرپشن کیس ختم کر رہے ہیں،عوامی نمائندوں کا کام قوم کے پیسے کا تحفظ ہے،نیب ترامیم کے ذریعے وائٹ کالر کرائم پکڑنا ناممکن بنا دیا گیا ہے،اس قانون سے چوری کے راستے کھول دیے گئے ہیں،اڈیالہ جیل میں 7 ہزار قیدی ہیں اس قانون سے ان میں سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب ترامیم سے اربوں کی چوری کرنے والوں کا فائدہ ہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھاکہ نذیر بٹ،انعام شاہ اور توشہ خانہ کی تفتیشی آفیسر کو عدالت لے کر جاؤں گا جن کی وجہ سے میری بیوی سات ماہ سے جیل میں ہے،ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کی قیمت تین ارب 18 کروڑ لگائی گئی،آئی ایس پی ار کا بیان آیا ہے کہ وہ غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہیں،اگر یہ اب سے غیر سیاسی ہو چکے ہیں تو یہ ملک کے لیے اچھی بات ہے،لیکن اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پہلے سے غیر سیاسی ہیں تو اس سے بڑی غلط بیانی نہیں ہوگی،درخواست کرتا ہوں کہ ملک کے لیے اور خدا کے واسطے غیر سیاسی ہو جاؤ ، کہنے سے کوئی غیر سیاسی نہیں ہوگا اعمال سے ہوگا، نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لاؤ جو آپ نے رکھی ہوئی ہیں، مجھے جنرل فیض سے ڈرایا جا رہا ہے، جنرل فیض جنرل باجوہ کی اجازت سے ملنے آتا تھا اور جنرل باجوہ کو رپورٹ کرتا تھا،جنرل باجوہ کے بغیر فیض کا ٹرائل بدنیتی ہے،جنرل فیض ، جنرل باجوہ کا ماتحت تھا،باجوہ کو اس لیے باہر رکھا جا رہا ہے کہ اس نے رجیم چینج کیا،جنرل باجوہ کو ٹرائل میں لائے تو وہ سارے بھید کھول دے گا،میں سیاست نہیں جہاد کر رہا ہوں ملک چھوڑ کر نہیں جاؤں گا، جو اوپر بیٹھے فیصلے کر رہے ہیں سب کی پراپرٹیاں باہر ہیں،مرنا ہم جیسے لوگوں نے ہے جن کا سب کچھ ملک میں ہے، ملک تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے،

    عمران خان کی نیب تفتیشی افسر کو دھمکیاں

    ملزم عمران خان 900وکلا بھی کرنا چاہے تو اسکا حق ہے،عدالت

    جیل کی چکی میں مر جاؤںگا مگر وقت کے یزید کی غلامی قبول نہیں کروں گا، عمران خان

    سزائے موت کے قیدی کی سہولیات مجھے ملی ہوئی ہیں،عمران خان

    کیا طالبان دوست عمران خان واقعی آکسفورڈ کے اگلے چانسلر کے لیے بہترین انتخاب ہیں؟

    عمران خان کا خواب چکنا چور،آکسفورڈ یونیورسٹی کا سیاستدانوں‌کو چانسلر بننے سے روکنے کا فیصلہ

    عمران خان کے سیل کا دورہ کیا جائے تو وہاں سے کوکین ملے گی،حنیف عباسی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کرائے جائیں، وہاں بھی عمران کو شکست ہو گی،بیرسٹر عقیل ملک

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

  • عمران خان کی نیب تفتیشی افسر کو دھمکیاں

    عمران خان کی نیب تفتیشی افسر کو دھمکیاں

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کی سماعت ہوئی

    سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون کو دھمکی دے دی،بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنی نشست سے اٹھ کر نیب کے تفتیشی افسر کے پاس آئے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے غصے میں انگلی کے اشارے سے نیب تفتیشی افسر کو تھریٹ کیا،اور کہا کہ تم نے جو کیسز بنائے ہیں،تمہاری وجہ سے میری بیوی جیل میں ہے،جب باہر نکلوں گا تو تمہیں اور چیئرمین نیب کو نہیں چھوڑوں گا ، رہا ہوتے ہی تم دونوں کو میں عدالت لے کر جاؤں گا ، نذیر بٹ،انعام شاہ اور توشہ خانہ کی تفتیشی آفیسر کو عدالت لے جاؤں گا جن کی وجہ سے میری بیوی سات ماہ سے جیل میں ہے،ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہار کی قیمت تین ارب 18 کروڑ لگائی گئی،

    توشہ خانہ ٹو ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت ملتوی
    توشہ خانہ ٹو ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے ،نیب حکام نے کہا کہ سپریم کورٹ سے نیب ترامیم کیس پر فیصلہ آچکا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیس میں اس عدالت کا دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت بعد گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

  • ملزم عمران خان 900وکلا بھی کرنا چاہے تو اسکا حق ہے،عدالت

    ملزم عمران خان 900وکلا بھی کرنا چاہے تو اسکا حق ہے،عدالت

    اسلام آبادہائیکورٹ،سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلا کی ملاقاتوں کی درخواست پرسماعت ہوئی

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز اور وکیل فیصل چوہدری کمرہ عدالت میں موجود تھے،سپریٹینڈیٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ اڈیالہ جیل سے کون آیا ہے،دو گھنٹے انکو انتظار کروایا جاتا ہے پانی پینے کی سہولت موجود نہیں،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل اور ملاقاتوں سے متعلق 3 وکلا پر مشتمل کمیشن تشکیل دے دیا گیا، عدالت نےکہا کہ 3رکنی کمیشن اڈیالہ جیل کا دورہ کرکے غیر جانبدار رپورٹ دے گا، وکلا کی گاڑی کو 10 منٹ کی چیکنگ کے بعد اندر جانے کی اجازت ہو گی،سپرنٹنڈنٹ بیان حلفی دے گا کہ کوئی ڈیوائس ملاقات کی جگہ نہیں لگائی گئی، جن وکلا کے وکالت نامے ہیں ان کے 3،3 ایسوسی ایٹس کو جیل جانے اجازت ہو گی، عدالت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ ملزم 900 وکلا کرنا چاہے تو اس کا حق ہے،کیا قیدی کوئی دہشتگرد ہے جو اتنی سیکیورٹی میں اسکا ٹرائل کرنا ہے؟قیدی اپنے وکیل سے کیا گفتگو کرتا ہے اسکو سننے کے لئیے پولیس اہلکار کھڑا ہوتا ہے,وکیل نے کہا کہ ایک سال سے ہمارے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے،جسٹس اعجاز اسحاق نے کہا کہ پورے ملک کیساتھ 75سال سے یہ کیا جا رہا ہے آپ ایک سال کی بات کر رہے ہیں،جن وکلا کے وکالت نامے ہیں ان کے تین تین ایسوسی ایٹس کو جیل میں جانے اجازت ہو گی ،پراسیکیوٹر نےا ستدعا کیا کہ عدالت تین ایسوسی ایٹس کی بجائے ایک کر دے ،عدالت نے کہا کہ ملزم تین کیا 9 سو وکیل کرنا چاہے تو اس کا حق ہے ، آپ کہہ رہے ہیں جیل میں ٹرائل کرنا ہے وہ اوپن ٹرائل ہے ، آپ نے جب جیل ٹرائل کا فیصلہ کر لیا تو آپ کو اثرات کا پتہ ہونا چاہیے تھا ،

    واضح رہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں کے لئے وکلا نے درخواست دائر کی تھی، عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں،وکلا و سیاسی رہنماؤں کو ملاقاتوں سے روکا جاتا تھا جس پر درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان سے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کے دوران صحافی بھی ملاقات کرتے ہیں، عمران خان میڈیا ٹاک بھی کرتے ہیں،

    عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر