Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پالیسی مزاحمت کی ہے،رانا ثنااللہ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پالیسی مزاحمت کی ہے،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پالیسی مزاحمت کی ہے اور وہ ملک کو تصادم اور انارکی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں-

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پالیسی مزاحمت کی ہے، وہ مسلح جدوجہدکی طرف جاناچاہتے ہیں، عمران خان کی جوپالیسی ہے وہی ان سب کی ہے، یہ ان سے آگے پیچھے ہونےکی سوچ نہیں رکھتے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جیل اتھارٹیز واضح اور حکومت کی بھی تائید ہے، جیل رولز اور عدالتی حکم پر ملاقات ہو، ملاقات کے لیے جاتے ہیں تو ان کو قانون کے مطابق اجازت دی جائے گی، پی ٹی آئی والے چاہتے ہیں تصادم ہو تو ان کو فائدہ ہو اور پھر روزانہ پروگرام ہو، ان کا مقصد ہے کہ واٹر کینن استعمال ہو، پولیس سے تصادم ہو اور خبر بنے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملاقات کے معاملےکو سیاسی ایونٹ بنالیا ہے، یہ ملاقات کے لیے نہیں بلکہ احتجاج اور دھرنےکے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، یہ اڈیالہ کے باہر بیٹھ کر جو کچھ کررہے ہیں وہ سب رائیگاں جائےگا، یہ اپنا نقصان کررہے ہیں، پارٹی اور لوگوں کو بھی مشکل میں ڈال رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 25 مئی 2022 والی غلطی نہ دہراتے تو وزیراعظم اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کرانے کا اعلان کردیتے، یہ غلط فہمی ہے کیوں کہ پی ٹی آئی میں مسلح جدوجہد کرنے کی صلاحیت نہیں، یہ چاہتے ہیں ملک میں انارکی اور امن و امان خراب کرکے مقاصد پورےکریں۔

    انہوں نے کہا کہ مقبولیت کےگھمنڈ سے بھی یہ آہستہ آہستہ فارغ ہوتے چلے جائیں گے، ان کے یہ اقدامات عوام میں نفرت کا باعث بنیں گے، یہ سیاسی مخالفت، بعض میں پاکستان کے خلاف کام اور بدنامی کررہے ہیں، حکومت ان چیزوں کو دیکھ رہی ہے اور ان کا سدباب کررہی ہے دوسری طرف امریکا اس شخصیت کو ویلکم کررہا ہے بلکہ انہیں عظیم شخص کہتا ہے، یہ امریکا میں اہم شخصیت کو بدنام کرنا چاہتے تھے، یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ داخلہ بند ہوجائے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے صرف والد سے ملنے پاکستان آناچاہیں تو موسٹ ویلکم، صرف ملاقات کے لیے آئیں گے تو حکومتی پروٹوکول کے ساتھ مہمان بنا کر ملاقات کرائیں گے، بانی پی ٹی آئی کے بیٹے 2 یا 3 بار بھی ملاقات کریں پھر واپس چلے جائیں، یہ نہیں ہوسکتا وہ آئیں اور پھر کسی ریلی میں شامل ہوجائیں۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنیں بھی قانون کے تحت صرف ملاقات کریں گی تو اجازت دی جائےگی، بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی پاکستان میں سیکیورٹی سب سے اہم مسئلہ ہوگا، خدانخواستہ یہاں آکر کسی ریلی میں جائیں اور نقصان ہو تو یہ ملکی بدنامی کا باعث بنےگا، عمران خان کے بچے ریلی جلوس میں جانا چاہیں تو حکومت کو اجازت نہیں دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی یہ قومی کانفرنس نہیں کیوں کہ ہمیں تو بلایا ہی نہیں جارہا، کیا حکومت کے لوگ یا ن لیگ قومی پارٹی نہیں ہے؟ قومی کانفرنس تو اس وقت ہوگی جب یہ سب کو بلائیں گے، ہم تو انہیں اس سے پہلے 10 بار بلا چکے ہیں، وزیراعظم آن ریکارڈ ہیں، وزیراعظم نے فلور پر بھی ان کو دعوت دی، وزیراعظم نے کہا آئیں بیٹھ کر ملک کی بہتری کا سوچیں،یہ آئیں جو بھی مسائل ہیں وزیراعظم ان سے بات کرنے کو تیار ہیں، تحریک تحفظ آئین پاکستان کانفرنس کی دعوت دےگی تو فیصلہ حکومت ہی کرسکتی ہے، میں مذاکرات کے حق میں ہوں، سیاسی قوتوں کے مل بیٹھنے اور ٹیبل پر مسائل کےحل کرنے کے حق میں ہوں۔

  • عمران خان  کی جیل میں  112 ہفتوں کے دوران 870 ملاقاتیں ہوئی ہیں، مشرف زیدی

    عمران خان کی جیل میں 112 ہفتوں کے دوران 870 ملاقاتیں ہوئی ہیں، مشرف زیدی

    وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ خبر غلط ہے کہ 2 سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے اہل خانہ، وکلا اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ملنے نہیں دیا جاتا یا انھیں ’قید تنہائی‘ میں رکھا گیا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز سے انٹرویو میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے عمران خان کو ’قید تنہائی‘ میں رکھے جانے سے متعلق پی ٹی آئی رہنماؤں کے الزامات اور دعوؤں کو مسترد کردیا،انہوں نے بتایا کہ عمران خان قریب 860 روز سے جیل میں ہیں اور اصولاً انہیں ہر ہفتے ایک ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے مگر انہوں نے ’112 ہفتوں کے دوران 870 ملاقاتیں کی ہیں، عمران خان نے اپنی بہنوں سے ’137 ملاقاتیں کی ہیں جن میں سے 45 علیمہ، 49 عظمیٰ اور 43 نورین کے ساتھ ہوئیں،عمران خان نے اپنی بہنوں سے لگ بھگ 140 ملاقاتیں کی ہیں جو کہ ’کہیں سے بھی قید تنہائی نہیں لگ رہا۔‘

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے وکلا سے 451 ملاقاتیں کی ہیں جبکہ 30 سے زیادہ مرتبہ ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا ہے،اس میں کوئی فوجی ڈاکٹر شامل نہیں تھے ان کے ذاتی معالج نے بھی کئی بار ان کا معائنہ کیا ہے،انہوں نے جیل مینوئل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے دوران سیاسی امور پر بات چیت کی اجازت نہیں دی جائے گی، جیل میں جانے کے بعد سے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے 775 پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران عمران خان کی صحت کے بارے میں افواہیں گردش کرتی رہی ہیں لیکن ان کی بہن عظمیٰ خان ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان کی صحت الحمد اللہ ٹھیک ہے ۔

  • فیض حمید بانی پی ٹی آئی کے خلاف صرف گواہی نہیں شواہد بھی دیں گے،فیصل واوڈا

    فیض حمید بانی پی ٹی آئی کے خلاف صرف گواہی نہیں شواہد بھی دیں گے،فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید 9 مئی کیسز میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف گواہی دینے جا رہے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل نے کہا کہ 9 مئی کے کیسز میں عمران خان قانونی شکنجے میں آتے دکھائی دے رہےہیں، فیض حمید بانی پی ٹی آئی کے خلاف صرف گواہی نہیں شواہد بھی دیں گےسابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی غفلت اور نااہلی تھی مگر انہیں پتا چلا تو فیض حمید کو ہٹانے کی کوشش کی، جنرل (ر) باجوہ بری الذمہ ہوگئے تھے اس لیے ان کےخلاف کارروائی نہیں ہوگی،معاملہ واضح ہونے کے بعد پہلا نمبرپی ٹی آئی اور اس کے بانی کا ہے۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی کو روکتا تھا کہ اس طرف نہ جائیں، میں نے 9 مئی جیسے واقعات سے منع کیا تھا، منع کرنے پر مجھے 9 مئی سے پہلے نکال دیاگیا، فیلڈمارشل نے اپنے ادارے سے احتساب کا عمل شروع کیا، بانی پی ٹی آئی سب کچھ کنٹرول کرناچاہتے تھے، پی ٹی آئی کی سیاست سے پاکستان، فوج اور شہداکانقصان ہوا، تحریک انصاف کیلئے آج ماتم کا دن ہے، کوئی پاکستان سے بڑا نہیں،کوئی کٹہرے سے باہر نہیں، ملک، فوج اور شہدا کے دشمنوں کے لیے کوئی معافی نہیں۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس؛ ویڈیو لنک ٹرائل ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج

    جی ایچ کیو حملہ کیس؛ ویڈیو لنک ٹرائل ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج

    9مئی، جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کے ویڈیو لنک ٹرائل کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا گیا۔

    سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ نوٹیفکیشن بھی ہائی کورٹ چیلنج کیا گیا،درخواست میں موقف اپنایا کہ آئین آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل لازم قرار دیتا ہے، واٹس ایپ اور ویڈیو لنک ٹرائل میں وکلاء اپنے کلائنٹ سے مشاورت نہیں کر سکتے۔

    استدعا کی گئی کہ ویڈیو لنک ٹرائل غیر قانونی و غیر آئینی ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے جبکہ واٹس اِیپ لنک سے جو بھی کارروائی بیان ریکارڈ ہوئے وہ بھی کالعدم قرار دیے جائیں،جیل ٹرائل میں ملزم، وکلاء اور فیملی موجود ہوتی ہے جبکہ مشاورت بھی ہو سکتی ہے لیکن ویڈیو لنک اور واٹس اِیپ ٹرائل شفاف ٹرائل رولز کا قتل ہے ارجنٹ نوعیت کے قانونی نکات ہیں، پٹیشن کی جلد سماعت کی جائے۔

    عدالتوں سے غیر حاضر ی:پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتار ی کا حکم

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ شفاف ٹرائل کے لیے ملزم عمران خان کو جیل سے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا جائے، نصف ٹرائل جیل سماعت میں ہوچکا بقیہ ٹرائل بھی اوپن جیل سماعت حکم دیا جائے۔

    پٹیشن کل بدھ 25 ستمبر ابتدائی سماعت کے لیے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس وحید خان ڈویژن بینچ کے پاس مقرر ہونے کا امکان ہے۔

    عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں،سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ٹرائل کا جو تصور قانون میں ہے اس کا یہ مذاق ہے، کھلی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے وار ملزم کو موقع ملنا چاہیے کہ اپنے وکلا سے بات کرے اور گواہوں کو دیکھ سکے، ملزم کو حق حاصل ہے کہ گواہوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے تاکہ گواہوں کے ہاتھ کانپ جائیں۔

    سپر ٹائیفون راگاسا : چین کے 10 شہروں میں اسکول، کاروبار بند

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو دانستہ طور پر بند کمرے میں ڈال دیا گیا تاکہ ہمیں دیکھ نہ سکیں، ہم واک آؤٹ کر کے آئے ہیں، ہم ہرگز اس ٹرائل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ہم نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں بھی پٹیشن دائر کر دی ہے اور امید رکھتے ہیں کل ہماری پٹیشن ٹرائل کے خلاف سنی جائے گی، جب تک یہ عمل اس طرح چلے گا ہم حصہ نہیں بنیں گے۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس :عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری کا بیان سامنے آگیا

    توشہ خانہ ٹو کیس :عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری کا بیان سامنے آگیا

    راولپنڈی: توشہ خانہ ٹو کیس کے جشم دید گواہ اور عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری کا اہم بیان سامنے آگیا۔

    دستاویزات کے مطابق سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمداحمد عدالت میں بیان ریکارڈکراچکے ہیں جس میں انہوں نے بلغاری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے کا بتایا، کہا کہ 15مئی 2020 سے 10 اپریل 2022 تک بطور ملٹری سیکرٹری فرائض انجام دیے، 7 مئی 2021 سے 10مئی 2021 تک دورہ سعودی عرب میں سابق وزیراعظم کے ساتھ تھا،عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سعودی ولی عہدکے تحائف توشہ خانہ میں جمع نہ کرانےکاکہا، تحائف میں جیولری سیٹ، عود کی بوتلیں، زیتون کا تیل،کھجور اور ایک کتاب شامل تھی۔

    سابق ملٹری سیکرٹری کے بیان میں کہا گیا کہ تمام تحائف کی سرکاری پروٹوکول کے مطابق تصاویر بنائی گئیں، نیب اور ایف آئی اے کے سامنے بھی بیان ریکارڈ کرا چکا ہوں، غیر ملکی دوروں میں تحائف وصولی کے وقت وزارتِ خارجہ کے نمائندےموجود ہوتے ہیں، سعودی عرب میں ملنے والے تحائف پر وزارتِ خارجہ نے پی ایم آفس کو تحریری طورپربتایا،توشہ خانہ کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے، سعودی عرب سے ملےتحائف کی مالیت 29 لاکھ14ہزار 500روپے لگائی گئی، بشریٰ بی بی کو سعودی ولی عہد کے تحائف کے عوض رقم جمع کرائی گئی، توشہ خانہ سیکشن کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں آیا، مالیت کا تعین اور توشہ خانہ سےخط وکتابت ڈپٹی ملٹری سیکرٹری نے عمران خان کےحکم پرکی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل توشہ خانہ ٹو کیس کے 2 اہم گواہان کے بیانات بھی سامنے آچکے ہیں جن میں عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس : عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت درخواست  سماعت کیلئے مقرر

    190 ملین پاؤنڈ کیس : عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت درخواست سماعت کیلئے مقرر

    190 ملین پاؤنڈز کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈز کیس کے سلسلے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اوربشریٰ بی بی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں عمران خان اوربشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں بری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی بریت کی درخواست 25 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کی ہے ، درخواست پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ سماعت کرے گا۔

    فیفا نے فٹ بال ٹیموں کی نئی رینکنگ جاری کر دی

    واضح،رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر آخری سماعت 26 جون کو ہوئی تھی اور احتساب عدالت نے 17 جنوری کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سزائیں سنائیں تھیں،2 رکنی بینچ نے اس کیس کو جلد مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست تاحال مقرر نہیں ہوئی تھی، جس پر آج عمران خان کی بہن علیمہ خان چیف جسٹس کے چیمبر میں کیس کی جلد سماعت کے لیے پہنچیں اس موقع پر نیاز اللہ نیازی، نعیم حیدر پنجوتھا اور خالد یوسف چوہدری بھی ہائی کورٹ میں موجود تھے جب کہ اسی دوران انتظار حسین پنجوتھا اور علی بخاری ایڈووکیٹ بھی عدالت پہنچے۔

    مصر کے میوزیم سے تین ہزار سال پرانا فرعون کے زمانے کا سونے کا کڑا غائب

  • سپریم کورٹ: پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو چیف جسٹس کے چیمبر میں جانے سے روک دیا

    سپریم کورٹ: پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو چیف جسٹس کے چیمبر میں جانے سے روک دیا

    پولیس نے عمران خان کی بہنوں کو چیف جسٹس آف پاکستان کے چیمبر میں جانے سے روک دیا،جہاں وہ عمران خان کا خط چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو دینے آئی تھیں۔

    پولیس حکام کے مطابق بغیر اجازت کسی کو بھی آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اس موقع پر وکیل سردار لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ بی بی سائلہ ہیں اور وہ بانی پی ٹی آئی کا خط چیف جسٹس کو دینا چاہتی ہیں، اس لیے انہیں آگے جانے دیا جائے،رجسٹرار آفس کے نمائندوں کی اجازت کے بغیر کسی کو آگے نہیں جانے دیا جا سکتا جب کہ چیف جسٹس کی عدالت بھی ختم ہو چکی ہے، اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ہمراہ پارٹی کی لیگل ٹیم بھی موجود تھی، جس کی سربراہی سردار لطیف کھوسہ اور انتظار پنجوتھا کر رہے تھے۔

    علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ خط مختلف مقدمات اور عدالتی نظام کے حوالے سے ہے بانی پی ٹی آئی نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے اور ہم یہ خط دینے یہاں آئے ہیں تاہم سپریم کورٹ پولیس اتھارٹی نے علیمہ خان اور ان کی ہمشیرہ کو چیف جسٹس کے چیمبر کی طرف جانے سے روک دیا۔

    اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے مؤقف دیا کہ ہم چیف جسٹس کو بانی پی ٹی آئی کا خط پہنچانا چاہتے ہیں، علیمہ بی بی سائلہ ہیں، انہیں جانے دیا جائے تاہم پولیس حکام نے اجازت نہ دی۔

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا خط سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا ہے،پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ خط لے کر قائمقام رجسٹرار کے دفتر پہنچے جہاں یہ خط جمع کرایا گیا،خط میں بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اور ان کی اہلیہ پر انصاف کے دروازے بند ہیں، وہ 772 دنوں سے تنہائی کی قید میں ہیں، جہاں 9×11 کے کمرے کو ان کے لیے پنجرہ بنا دیا گیا ہے ان کے خلاف 300 سے زائد سیاسی مقدمات قائم کیے گئے جو پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں رکھتے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت بگڑ رہی ہے لیکن ڈاکٹر کو معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی انہیں تنہائی میں قید رکھا گیا ہے اور علاج و کتب تک رسائی سے بھی محروم کیا گیا ہےبانی پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ خواتین قیدیوں کو ضمانت میں رعایت دینا قانون کا حصہ ہے لیکن بشریٰ بی بی کو یہ حق بھی نہیں دیا جا رہا،اہلخانہ اور وکلا سے ملاقات کرائی جاتی ہے نہ ہی بیٹوں سے فون پر بات کرنے کا بنیادی حق دیا جا رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کے مطابق یہ قید نہیں بلکہ سوچا سمجھا نفسیاتی تشدد ہے تاکہ عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔

    خط میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہزاروں کارکنان اور حامی اب بھی جیلوں میں بند ہیں جبکہ بھانجے حسن نیازی کو فوجی حکام نے حراست میں لے کر اذیت دی اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، بہنوں اور بھانجوں کو بھی ناحق مقدمات اور قید کا سامنا ہے۔

    خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدلیہ کو سیاسی جماعت توڑنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہےتحریک انصاف نے 8 فروری 2024 کے انتخابات جیتے لیکن عوامی مینڈیٹ راتوں رات چرا لیا گیا ان کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم انتخابی ڈکیتی کو جائز بنانے کے لیے استعمال ہوئی۔

    خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ مقدمات سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو رہے جبکہ بشریٰ بی بی اور ان کے دیگر مقدمات بھی التوا کا شکار ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کو فوری طور پر اہم اپیلوں پر سماعت کی ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہےبانی پی ٹی آئی نے خط میں مؤقف اپنایا کہ جب قانون کی حکمرانی دفن ہو جائے تو قومیں اندرونی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں،انصاف ذوالفقار بھٹو کیس کی طرح 44 سال بعد نہیں بلکہ وقت پر ملنا چاہیے۔

    خط میں چیف جسٹس سے اپیل کی گئی کہ بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے اور بشریٰ بی بی کو علاج کے لیے ڈاکٹر تک فوری رسائی فراہم کی جائے پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کو انصاف کی آخری پناہ گاہ سمجھتے ہیں اور عدلیہ کی خودمختاری بحال ہونی چاہیے۔

  • عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی سے متعلق عدالت نے سخت ایس او پیز جاری کردیں۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے معاملے پر ایس او پیز جاری کردی گئی ہیں عدالت عالیہ کے حکم کے پیرا 11 اور 12 پر مبنی یہ ایس او پیز انسداد دہشت گردی عدالت کے اندر اور باہر نمایاں جگہوں پر آویزاں کی جائیں گی۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ویڈیو لنک کارروائی کی ریکارڈنگ صرف عدالت ہی کر سکے گی جب کہ کسی اور شخص کو اس کی اجازت نہیں ہوگی، عدالت کے اندر موبائل فون یا کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ ڈیوائس لے جانا سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے،اگر کوئی شخص ریکارڈنگ کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی ہوگی، مزید برآں کوئی بھی شخص ویڈیو لنک کارروائی کا ٹرانسکرپٹ حاصل نہیں کر سکے گا۔

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    غزہ جنگ کا واحد پائیدارحل سفارتی اور سیاسی مذاکرات ہیں،پوپ لیو

  • جی ایچ کیو حملہ کیس:عمران خان ویڈیو لنک پر پیش ہونگے

    جی ایچ کیو حملہ کیس:عمران خان ویڈیو لنک پر پیش ہونگے

    راولپنڈی: پنجاب حکومت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لے کر نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کی واپسی کے بعد جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل اب اڈیالہ جیل کے بجائے انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی میں ہوگا، جی ایچ کیو حملہ کیس اور دیگر مقدمات کے باقی ملزمان اے ٹی سی راولپنڈی پیش ہونگے جب کہ عمران خان کو ضرورت کے مطابق ویڈیو لنک پر پیش کیا جائے گا۔

  • عمران خان کے بیٹوں نے والد کی رہائی کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا

    عمران خان کے بیٹوں نے والد کی رہائی کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں نے والد کی رہائی کے لئے اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا۔

    رپورٹ کے مطابق سلیمان اور قاسم خان نے اقوام متحدہ کے سپیشل نمائندہ برائے تشدد کے روبرو اپنے والد کے لئے اپیل دائر کر دی،اپیل میں انہوں نے اپنے والد سے روا سلوک کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اپیل میں کہا گیا کہ والد کی قید کو عالمی قوانین کے خلاف قرار دیا جا چکا ہے، والد کو قید تنہائی، ناقص خوراک، طبی سہولتوں سے محرومی اور مسلسل نگرانی کا سامنا ہے۔

    عمران خان کے صاحبزادوں نے اپیل میں کہا کہ والد ایسی اذیت میں ہیں جو انسانی وقار کے منافی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور امریکی محکمہ خارجہ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور حفاظت پر تشویش ظاہر کی،اپیل میں اقوام متحدہ کے نمائندے کو فوری مداخلت اور رہائی کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا قاسم خان نے نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ میرے والد جمہوریت کیلئے کھڑے ہونے کی سزا کے طور پر جیل میں ہیں۔