Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • شکایت داخل کرنے کا خیال خاورمانیکا کو چھ سال بعد آیا؟تحریری فیصلہ

    شکایت داخل کرنے کا خیال خاورمانیکا کو چھ سال بعد آیا؟تحریری فیصلہ

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے جاری کیا ، تحریری فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ خاور مانیکا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر عدت کے دوران نکاح کا جرم ہونے کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہے، خاور مانیکا کے وکیل کے مطابق خاور مانیکا کو رجوع کے حق سے محروم رکھا گیا،لیکن جرح کے دوران خاور مانیکا نے خود تسلیم کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے نکاح کی خبر انہیں دوسرے روز ہی مل چکی تھی لیکن شکایت داخل کرنے کا خیال انہیں چھ سال بعد آیا؟ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں ، ٹرائل کورٹ کا 3 فروری کا فیصلہ کالعدم قرار اور دونوں ملزمان کو بری کیا جاتا ہے ،اگر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی کسی دوسرے کیس میں گرفتاری مطلوب نہیں ہے تو فوری طور پر رہا کردیا جائے ، سپرینڈینٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی کے نام رہائی کے روبکار جاری کردیے گئے ہیں ،

    واضح رہے کہ سول جج قدرت اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید اور 5،5 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا ،تاہم آج جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر دیا ہے، عدالت نے اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی اگر کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار نہیں ہیں تو رہا کردیا جائے ، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے رہائی کے روبکار جاری کردیے ہیں،

    ’سابقہ شوہر نہیں بتا سکتا کہ عدت اور خاتون کی ماہواری کے 3 سائیکل کب مکمل ہوئے‘

    عمران ،بشریٰ مجرم،،نکاح کی اتنی جلدی کیا تھی قوم کو وجہ تو بتادیں،خاور مانیکا

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • توشہ خانہ انکوائری،نیب نے بشریٰ،عمران کو گرفتار کر لیا

    توشہ خانہ انکوائری،نیب نے بشریٰ،عمران کو گرفتار کر لیا

    پولیس نے عمران خان سے 9مئی کے تین مقدمات کی تفتیش جیل میں کرنے کا فیصلہ کر لیا

    پولیس نے جیل میں عمران خان کی 9مئی کے3مقدمات میں گرفتار کرلیا،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 9مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کرنے کی درخواست منظور کرلی،پولیس بانی پی ٹی آئی عمران خان سے 9مئی کی تفتیش جیل میں ہی کرے گی،دوسری جانب 9 مئی کے راولپنڈی میں درج 12 کیسز میں عمران خان ضمانت پر ہیں، جن میں سے 5 مقدمات میں ابھی تک روبکار جاری نہیں ہوئی،جیل انتطامیہ کو عمران خان کی سائفر کیس میں بھی روبکار موصول نہیں ہوئی، حالانکہ سائفر کیس میں عمران خان کو بری کیے جانے کو کافی دن گزر چکے ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں بریت کی روبکار اڈیالہ جیل کو موصول ہو گئی ہے،

    عمران خان کو دوران عدت کیس میں آج عدالت نے بری کیا ہے تا ہم عمران خان کی رہائی کا امکان نہیں ہے کیونکہ انہیں 9 مئی کے مقدمات میں گرفتار کیا جا چکا ہے، البتہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے امکانات تھے تا ہم پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے توشہ خانہ کے نئے کیس میں ضمانت کی درخواست دائر نہ کرنے کی وجہ سے بشریٰ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا،عمران خان کو بھی نیب کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کی رہائی کی تیاریاں چند ہفتے قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں،بنی گالہ میں کمروں میں دوبارہ پینٹ کیا گیا ہے، صفائی کروائی گئی ہے، نئی چادریں بچھائی گئی ہیں،تاہم بشریٰ بی بی کی رہائی نہ ہو سکی.

    ڈپٹی ڈائریکٹر محسن ہارون کی سربراہی میں نیب ٹیم نے نیب توشہ خانہ انکوائری میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی گرفتاری ڈال دی،

    توشہ خانہ کا نیا کیس، بشریٰ بی بی کی گرفتاری کیلیے نیب ٹیم اڈیالہ پہنچ گئی
    نیب کے نئے ریفرنس میں بشری بی بی،عمران خان کی گرفتاری ڈال دی گئی ہے،نیب ٹیم گیٹ 5سے اڈیالہ جیل کے اندر پہنچی اورنیب ٹیم نے قانونی کاروائی مکمل کرنے کے بعد بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی، نیب کی جانب سے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وارنٹ انکوائری میں عدم تفتیش کی وجہ سے جاری ہوئے،بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کے نئے کیس میں نیب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا تھا،

    عمران اور بشریٰ پر 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے کا نیا کیس
    نیب کا توشہ خانہ کا نیا کیس بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کے خلاف ہے،نیب انکوائری رپورٹ میں سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے جبکہ نیا کیس 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے،نیب رپورٹ کے مطابق گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہے، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لیے بغیر ہی بیچے جاتے رہے، گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی قیمت ادا کیے بغیر ہی بیچ دیا گیا، نجی تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا،گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی "ریٹین” کئے بغیر ہی بیچ دیا گیا، پرائیویٹ تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا، تخمینہ ساز کا توشہ خانہ سے ای میل آنے سے پہلے ہی گھڑی کی قیمت تین کروڑ کم لگانا ملی بھگت کا ثبوت ہے، گراف واچ کی قیمت دس کروڑ نو لاکھ بیس ہزار روپے لگائی گئی،بیس فیصد رقم ، دو کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے سرکاری خزانے کو دیئے گئے، ہر تحفے کو پہلے رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کروانا لازم ہے،صرف تیس ہزار روپے تک کی مالیت کے تحائف مفت اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں،

    واضح رہے کہ سول جج قدرت اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید اور 5،5 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا ،تاہم آج جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر دیا ہے، عدالت نے اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی اگر کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار نہیں ہیں تو رہا کردیا جائے ، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے رہائی کے روبکار جاری کردیے ہیں،

    ’سابقہ شوہر نہیں بتا سکتا کہ عدت اور خاتون کی ماہواری کے 3 سائیکل کب مکمل ہوئے‘

    عمران ،بشریٰ مجرم،،نکاح کی اتنی جلدی کیا تھی قوم کو وجہ تو بتادیں،خاور مانیکا

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو سائفر کیس، توشہ خانہ کیس، دوران عدت نکاح کیس میں سزائیں سنائی گئی تھیں، تینوں مقدمات میں عدالت نے عمران خان کو بری کر دیا ہے، شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں سزا ہوئی تھی، ان پر بھی نو مئی کا مقدمہ بنایا ہوا تھا جس میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور شاہ محمود قریشی کی رہائی نہیں ہوئی تھی، 190ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانت پر ہیں،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ اب ایسا کوئی کیس رہ نہیں گیا جس میں بانی پی ٹی آئی کو اندر رکھا جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ یہ آخری کیس تھا آج بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہونی چاہیے، بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں آئین اور قانون کی بالا دستی ہو۔عدالتی فیصلہ کے بعد پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل روانہ ہو گئے ہیں،پولیس حکام نے پی ٹی آئی کارکنان کی آمد کی وجہ سے اڈیالہ جیل کی سیکورٹی مزید بڑھا دی ہے،راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری اڈیالہ جیل کے باہر طلب کر لی گئی ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر آنے والے کارکنان کو کالونی گیٹ پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کارکنان کو اڈیالہ جیل کے مرکزی گیٹ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،راولپنڈی پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 پر تعینات ہے،ویمن پولیس کی نفری، ایس ایچ او تھانہ ویمن بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں،اڈیالہ جیل گیٹ کے نمبر 5 کے داخلی راستے پر ایلیٹ فورس کی گاڑیاں کھڑی کردی گئی ہیں

    عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہو گی، فیصل واوڈا
    دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ ابھی بہت سے مراحل اور کیسز باقی ہیں، چاہے کوئی کتنا ہی آئین اور قانون سے باہر جا کر رعایت دے دے، اس کے باوجود بھی عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہو گی، پاکستان میں آسانی سے چیزیں ختم نہیں ہوتیں، بانی پی ٹی آئی کا نکاح والا کیس تو شرمناک کیس تھا، لاجک نہیں جیتے گی لا جیتے گا،کل کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، یہ شرمناک کیس تھا، ذاتی زندگی کو سیاست میں لائیں یہ گھٹیا چیز ہے، کل آئین اور قانون سے بالاتر ہوکر فیصلہ آیا،

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پر  اڈیالہ جیل سے عمران خان کا ردعمل بھی آ گیا

    سپریم کورٹ کے فیصلے پر اڈیالہ جیل سے عمران خان کا ردعمل بھی آ گیا

    عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی جوڑ توڑ کا حصہ نہیں بنیں گے، اب حکومت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، ملک بچانا ہے تو صاف شفاف انتخابات کرانے ہوں گے،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے کیسسز ختم کیئے جائیں اور ہماری خواتین کو فوری رہا کیا جائے،ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے، ہمارا مینڈیٹ واپس ہوا تو حکومت گر جائے گی ،حکومت گرنے کے باوجود باجوہ کے ساتھ دو مرتبہ ملاقات کی، مذاکرات کے لیے اسد عمر، اسد قیصر اور شاہ محمود قریشی پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی ، مجھے کہا گیا کہ جب تک بڑے صاحب ہیں تو الیکشن نہیں ہو سکتا، جسٹس منیر کے فیصلوں سے طاقتور قانون سے اوپر چلا گیا، انتخابات میں ہمیں ایک حلقے میں 4 نشانات دیئے گئے تھے،بنگلہ دیش میں بھی ایک سیاسی جماعت کو الیکشن جتوایا گیا تھا،اسلام آباد کے تین حلقےکھلنے کا سب کو خوف ہے، کمشنر راولپنڈی نے انتخابات پر سچ بولا تھا، سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں، فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاہیئے، چیف الیکشن کمشنر کو فوری عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیئےاور آرٹیکل 6 کی کارروائی ہونی چاہیئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے میرے خلاف بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں،جسٹس گلزار نے کہا تھا کہ میرے کیسسز قاضی فائز عیسی نہیں سنیں گے،قاضی فائز عیسی کو میرے کیسسز سےالگ ہونا چاہیے، قاضی فائز عیسی نے اوپن کورٹ میں کہا کہ وہ بیوی کی باتیں سنتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خط لکھوں گا،محمود الرشید اور اعجاز چودھری کی درخواست کو نہیں سنا جارہا،انسانی حقوق کا تحفظ چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ ہمیشہ امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتی ہے،نواز شریف تصدیق شدہ مجرم اور مفرور ہے اسکے سارے کیسز کیسے ختم ہوگئے،عمران خان نےان ہاؤس تبدیلی کیلئے کسی جماعت سے بات کرنے سے متعلق سوال کے جواب پر کہاکہ میں کسی جوڑ توڑ کا حصہ نہیں بنوں گا،ملک بچانا ہے تو واحد راستہ صاف و شفاف الیکشن ہے،

    میرے کمرے میں ایک بلی آتی تھی جو مجھ سے مانوس ہوگئی تھی سنا ہے اس کا بھی تبادلہ کررہے ہیں۔عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ فروری کا ڈاکہ نہیں بھولا جاسکتا۔ایک سال سے جیل میں ہوں صرف تین ڈشز کھارہا ہوں، کتابیں پڑھتا ہوں، ورزش کرتا ہوں اور عبادت کرتا ہوں۔بھوک ہڑتال کرونگا اور اسے ہم عالمی سطح پر اجاگر کرینگے۔جیل میں افسروں کے تبادلے کروارہے ہیں،ان کا خیال ہے میں ڈر جاؤنگا میں ڈرنے والا نہیں۔میرے کمرے میں ایک بلی آتی تھی جو مجھ سے مانوس ہوگئی تھی سنا ہے اس کا بھی تبادلہ کررہے ہیں۔عمران خان سے سوال کیا گیا کہ گزشتہ روز آپ سے پارٹی لیڈر شپ ملی ہے کیا پارٹی اختلافات ختم ہوگئے ہیں،؟جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پارٹی اختلافات ہمارا اندرونی معاملہ ہے اس کو چھوڑ دیں،رانا ثناء اللہ کس حیثیت میں کہہ رہا ہے عمران خان کو ہم نے جیل میں رکھا ہوا ہے۔

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال، سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا بیان قلمبند
    دوسری جانب بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی گئی،سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال، سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا بیان قلمبند کر لیا گیا،آئندہ سماعت پر زبیدہ جلال پرویز خٹک اور اعظم خان کے بیانات پر جرح کی جائے گی،سابق وزیر دفاع پرویز خٹک بھی عدالت پیش ہوئے، حاضری لگائی ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل ہی سے عدالت میں پیش کیا گیا ،نیب کی جانب سے امجد پرویز ،اور سردار مظفر عباسی لیگل ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے ،عمران خان کے وکلا اسلام آباد میں مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوئے ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے انتظار پنجوتھہ اور علی ظفرایڈووکیٹ نے پیروی کی،پانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا نے نیب کی جانب سے دائر نئے ریفرنس میں ضمانت کی درخواست دائر کر دی،عدالت نے درخواست ضمانت پر نیب کو 15 جولائی کے لیے نوٹس جاری کر دیا ،درخواست ضمانت پر سماعت احتساب عدالت اسلام آباد میں کی جائے گی،اڈیالہ جیل میں ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد علی وڑائچ نے کی.

    190ملین پاونڈ ریفرنس،اعظم خان کا بیان قلمبند،عمران خان نے کی تعریف
    عمران خان نےسابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جانب سے 190ملین پاونڈ ریفرنس میں قلمبند کرائے گئے بیان کی تائید اور تعریف کی اور کہا کہ اعظم خان نے احتساب عدالت دیے گئے بیان میں کہاکہ بطور سیکرٹری وزیراعظم اگست 2018 سے اپریل تک 22 تک خدمات سر انجام دیں،شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے،اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے،نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا،شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے،شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی،تاکہ معاملہ کیبنٹ کے سامنے پیش کیا جا سکے،میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی،میں نے کیبنٹ میٹنگ میں "ان کیمرہ اجلاس” ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی، بیان کے دوران نیب نے سابق پرنسپل سیکرٹری کا تفتیش کے دوران لیا گیا بیان بھی عدالت پیش کیا،اعظم خان نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان کو دیکھ کر کہا اس پر میرے ہی دستخط ہیں،

    کمرہ عدالت میں عمران خان،اعظم خان کے اشارے،خوشگوار موڈ میں باتیں
    اعظم خان کے عدالت آنے پر عمران خان نے دور دور سے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا،بیان ریکارڈ کرانے کے دوران عمران خان اور اعظم خان آپس میں خوشگوار موڈ میں باتیں بھی کرتے رہے،روسٹرم کے قریب کھڑے صحافیوں کو عمران خان نے کہا کہ اعظم خان نے بالکل ٹھیک کہا زبردست بیان ریکارڈ کروایا،

    ایڈیشنل ایجنڈے کو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا،زبیدہ جلال
    سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی دور حکومت میں بطور وزیر مملکت دفاعی پیداوار خدمات سرانجام دیں،مئی 2023 میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے نیب تفتیشی افیسر کے سامنے پیش ہوئی،2019 میں کابینہ میٹنگ کے دوران شہزاد اکبر کی جانب سے ایک بند لفافہ پیش کیا گیا،بند لفافہ کابینہ میں ایڈیشنل ایجنڈے کے طور پر پیش کیا گیا،ایڈیشنل ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا،ضروری ہے کہ ایڈیشنل ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ممبران کو بریفنگ دی جائے،شہزاد اکبر نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ ہے جو کابینہ کے سامنے رکھنا ہے ،شہزاد اکبر نے بتایا یہ رقم غیر قانونی طور پر برطانیہ منتقل کی گئی تھی،نیشنل کرائم ایجنسی نے بتایا کہ رقم حکومت پاکستان کو واپس کرنی ہے،شہزاد اکبر نے بتایا کہ 190ملین پاونڈ کا معاملہ بہت زیادہ کانفیڈینشل ہے،شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اس فوری طور پر منظور کیا جائے،ایڈیشنل ایجنڈے کو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا،ممبران نے عتراض کیا کہ ایجنڈے پر منظوری سے قبل بحث ہونی چاہیے،شہزاد اکبر نے زور دیا کہ یہ پیسہ پاکستان واپس آئے گا اس ایجنڈے کو فوری منظور کریں،اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا کہ اس ایڈیشنل ایجنڈے کو منظور کرلیں،صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس ایڈیشنل ایجنڈے کی منظوری دی،نیب تفتیشی افیسر کے سامنے پیشی پر دو کاغذات دکھائے گئے،ایک ڈاکومنٹ پر وزیراعظم کا نوٹ تھا،دوسرا کانفیڈنشل ڈیڈ تھی،ان کاغذات کے متعلق مجھے کوئی علم نہیں ہے،تفتیشی آفیسر کو پہلے ہی اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا تھا،

    زبیدہ جلال کے بیان کے دوران عمران خان اور وکلاء نے نیب پراسیکیوٹر کی مداخلت پر اعتراض کیا،وکلاء صفائی نے کہاکہ سرادر مظفر گواہ زبیدہ جلال کو لقمے کیوں دے رہے ہیں،عمران خان نے کہاکہ زبیدہ جلال وزیر مملکت رہ چکی ہیں،پڑھی لکھی خاتون ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے جواب میں کہا کہ جرح آپکا حق ہے میں صرف رہنمائی کر رہا ہوں، وکلاء صفائی کے اعتراض کے ساتھ زبیدہ جلال کا بیان تحریری طور پر ریکارڈ کرلیا گیا.

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • دل چاہتا تو انڈیا ،بنگلہ دیش کو سیٹیں دے دیتے کیونکہ ہماری عدلیہ آزاد ہے،عظمیٰ بخاری

    دل چاہتا تو انڈیا ،بنگلہ دیش کو سیٹیں دے دیتے کیونکہ ہماری عدلیہ آزاد ہے،عظمیٰ بخاری

    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کل آئین ہار گیا اور بیگمات جیت گئیں ، کل تو کمال ہوگیا، پیار محبت کی اخیر ہوگئی، ایسی محبت تو سوہنی ماہیوال کی بھی نہیں تھی

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان میں کسی کو لامحدوداختیارات حاصل نہیں ہیں ہرادارے کی اپنی ڈومین ہےتاریخ ہے جب جب اسطرح کےفیصلےآئےہیں پاکستان کی تباہی ہوئی ہے ججز فیصلوں کے بعد اس ملک کو منجدھار میں چھوڑ کرچلےجاتے ہیں اس ملک کی کشتی ہچکولے کھاتی رہتی ہے،
    کل مجھے بڑا کلیئرلی لگا کہ آئین ہار گیا، وہ وقت یاد ہے فیملز نے لابیز میں بیٹھ کر پانامہ کا کیس سنا بھی تھا اور تالیاں بھی بجائی تھیں،یہ انکی مہربانی ہوئی کہ سنی اتحاد کی بجائے تحریک انصاف کو سیٹیں دے دیں، انکا دل چاہتا تو کسی ہمسایہ ملک کو دے دیتے، بنگلہ دیش ،انڈیا کو دے دیتے،ہماری آزاد عدلیہ ہے، انکے فیصلے ماننے پڑتے ہیں،

    اس طرح کے فیصلے جب بھی آئے پاکستان میں تباہی ہوئی،عظمیٰ بخاری
    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی الیکشن میں جو غلطیاں کیں وہ وکیلوں کو درست کرنی چاہیے تھیں، عدالت نے درست کردیں، تحریک انصاف نے نشستیں مانگی ہی نہیں تھیں ان کو مفت میں دے دی گئیں، ایجنسیوں کی مداخلت ہو تو پھر پانامہ جیسا فیصلہ آتا ہے، نواز شریف کو خیالی تنخواہ پر نااہل کیا گیا، ہم نے اچھے بچوں کی طرح تمام فیصلوں کو تسلیم کرلیا، نظریہ ضرورت سے ہمیشہ قوموں کونقصان ہوتا ہے ،سوال یہ ہے ایک پارٹی کے لیے اتنا پیار کیوں ہے، لاڈلے کی محبت ہر چیز پر غالب آجاتی ہے، وہ شخص ریلیف نہ بھی مانگے پھر بھی اس کو دیا جاتا ہے،کسی متاثرہ فریق کو نہیں سنا گیا، جو کیس میں فریق نہیں تھا اس کو ریلیف دیا گیا، لوگ کہہ رہے ہیں کہ ری ایکشنری فیصلہ تھا، کل پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچایا گیا جو انہوں نے مانگا نہیں وہ ان کو دے دیا گیا،کل سپر نظریہ ضرورت متعارف کرایا گیا، لاڈلے کی محبت میں پاکستان کو نقصان پہنچایا جاتا ہے،کسی کی ڈومین میں نہ گھس سکتے ہیں نہ اجازت ہے، بااختیار عدلیہ پاکستان کے ساتھ اور کیا کرنا چاہتی ہے، اس طرح کے فیصلے جب بھی آئے پاکستان میں تباہی ہوئی،بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ ہو، یا پانامہ کا وہ دیکھ لیں، عدلیہ اور ڈاکٹر کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی یہ کسی کی زندگی تباہ کر سکتے یا بنا سکتے،پانامہ کے فیصلے سے پاکستان آج تک مستحکم نہیں ہو سکا، لاڈلے کی محبت ہر چیز پر غالب آ جاتی ہے.

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے کل ایک ٹوئٹ کی جس میں ایک ایکٹر عدالت سے باہر آتے ہوئے ناچ رہا ہے شہباز گل نے اس پر لکھا کہ اطہر من اللہ سپریم کورٹ سے باہر آتے ہوئے اب اس کا میں کیا مطلب لوں ،اسکا مطلب شہباز گل ہی سمجھائے گا،

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کا تبادلہ

    اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کا تبادلہ

    راولپنڈی ،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ کو تبدیل کر دیا گیا
    اسد وڑائچ کو سپریٹنڈنٹ ساہیوال جیل تعینات کردیا گیا ،محکمہ جیل خانہ جات گریڈ 19کے عبدالغفور انجم کو سپریٹینڈنٹ اڈیالہ جیل تعینات کر دیا گیا ،عبدالغفور انجم فیصل آباد جیل میں بطور سپریٹنڈنٹ تعینات تھے ،ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے جیل افسران کے تقرر تبادلوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے،

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان قید ہیں، بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل میں ہیں،

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں تعینات سپریٹنڈنٹ عبدالغفور انجم گجرات جیل میں بھی رہے ہیں، گجرات جیل میں جب وہ تعینات تھے تو قیدیوں نے ہنگامہ آروائی کی تھی، جیل سپریٹنڈنٹ عبدالغفور انجم پر ساتھیوں سمیت کرپشن کا بھی الزام لگ چکا ہے،وہ معطل رہے تاہم 2021 میں انکو بحال کر دیا گیا تھا، اس ضمن میں 2021 میں پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع کروائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ گجرات جیل میں کرپشن اور ہنگامے کے دوران جیل سپریٹنڈنٹ عبدالغفور انجم ساتھیوں سمیت کرپشن کے مرتکب ٹھہرائے گئے تھے،وزیر اعلی پنجاب نے متعلقہ سپرنٹنڈنٹ کے خلاف ایف آئی اے آر درج کرائی تھی،جس کے تحت تین سینئرز آئی جیز جیل خانہ جات پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔کمیٹی نے سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم کو قصوار ٹھہرایا،مذکورہ آفیسر پر چالیس لاکھ منتھلی لینے کا الزام بھی ثابت ہو چکا ہے۔مذکورہ آفیسر کی نگرانی میں چند ماہ قبل چار با اثر قیدیوں نے کم عمر بچے سے زیادتی کی کوشش کی،کم عمر بچے سے زیادتی کی کوشش کے باعث جیل میں ہنگامہ ہوا،سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم کے خلاف تمام ثبوت متعقلہ اداورں کے پاس موجود ہیں،با اثر ہونے کے باعث عبدالغفور انجم کو دوبارہ جیل سپریٹنڈنٹ کے عہدے پر بحال کر دیا گیا ہےجس کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    عمران خان کا سوشل میڈیا اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

  • دوران عدت نکاح کیس، اپیلوں پر فیصلہ،بشریٰ،عمران کو بری کر دیا گیا

    دوران عدت نکاح کیس، اپیلوں پر فیصلہ،بشریٰ،عمران کو بری کر دیا گیا

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت ہوئی.

    عدالت نےمحفوظ فیصلہ سنا دیا، جج افضل مجوکا نے آج دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو سنا دیا گیا ہے،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دوران عدت کیس میں بری کر دیا، عدالت نے بشریٰ اور عمران خان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،عدت میں نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاوں کے خلاف اپیلیں منظور کر لی گئیں،خاور مانیکا کی میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست مسترد کر دی گئی،عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی اگر کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار نہیں ہیں تو رہا کردیا جائے ، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے رہائی کے روبکار جاری کردیے ہیں،

    سول جج قدرت اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید اور 5،5 لاکھ روپے جرمانے کا فیصلہ سنایا تھا ،25نومبر 2023خاور مانیکا نے اسلام آباد کی عدالت سے رجوع کیا،3فروری2024 کو سابق چیئرمین پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی کو سات سات سال قید کی سزا ہوئی،29فروری کو سزا کےخلاف اپیلیں قابل سماعت قرار دی گئیں،23مئی عدالت نےاپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا،29مئی کو خاورمانیکا نے جج شاہ رخ ارجمند پر عدم اعتماد کردیا، جج نے محفوظ فیصلہ سنانے کے بجائے کیس ہائی کورٹ بھیج دیا،7جون بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی نےاسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا،13جون کو ہائیکورٹ نے ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کاحکم دیا،25جون کو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہوا،27جون کو بانی پی ٹی آئی اوربشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی گئی،مرکزی اپیل پر سماعتیں ہوئیں، آج 13 اکتوبر کو دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا جو سناتے ہوئے جج افضل مجوکا نے عمران خان ،بشریٰ بی بی کو بری کر دیا.

    عدالتی فیصلہ کے بعد بشریٰ بی بی کی رہائی کے امکانات ہیں تا ہم عمران خان بدستور جیل میں رہیں گے، عمران خان کو نومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے،

    جب فیصلہ سنایا گیا تو کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی رہنما، وکلا صحافی بڑی تعداد میں موجود تھے، پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی،عدالتی فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی خواتین نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی.کمرہ عدالت میں رش ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار عدالت میں موجود پی ٹی آئی کارکنان کو باہر نکالتے رہے ، اس موقع پر پولیس اور پی ٹی آئی خواتین میں تلخ کلامی بھی ہوئی،

    شوہر عورت کی قربانیوں کو سائیڈ پر رکھ کر کہہ رہا ہے میں نے کچھ نہیں کیا، وکیل خاور مانیکا
    قبل ازیں درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی،خاور مانیکا کے وکیل اور عمران خان ،بشریٰ کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے،خاورمانیکا کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ٹرائل کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کی جانب سے گواہ لانے کا کہا گیا، اگر گواہ لانا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، عدالت کسی بھی وقت شواہد لے سکتی ہے، کل آپ نے فقہ حنفی کا پوچھا تھا، کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ حنفی ہیں، مفتی سعید نے بھی یہ نہیں کہا کہ دونوں حنفی ہیں،سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ ان کے کلائنٹ عمران خان نے شادی کی ہے، انہیں عدت کے بارے میں علم نہیں، تمام تر ذمہ داری بشریٰ بی بی کے کندھوں پر منتقل کی جارہی ہے، شوہر عورت کی قربانیوں کو سائیڈ پر رکھ کر کہہ رہا ہے میں نے کچھ نہیں کیا، خاتون مشکل وقت میں خاوند کے ساتھ کھڑی رہی، ایک لیڈر سے ایسی توقع نہیں کی جاسکتی،بیوی بنی گالہ کی آسائش چھوڑ کر اڈیالہ جیل تک چلی گئی،

    جج افضل مجوکہ نے کہا کہ ایسے ہو ہی نہیں سکتا اگر شادی ہوئی تو دونوں ذمہ دار ہیں،خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ بیوی کیا سوچے گی کہ میری محبتوں کا یہ صلہ دیا، ان حالات میں میں اقبال کی شاعری کا سہارا لوں گا،
    عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی
    یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
    سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
    حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
    سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ جب تک عدت کا دورانیہ پورا نہیں ہوتا وہ طلاق دینے والے شوہر کی بیوی ہی تصور ہوگی ، 2019 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جس میں لکھا کہ عدت کا دورانیہ 90 دن تصور کیا جائے گا ،

    ٹرائل کورٹ میں کوئی غیر قانونی کام ہوا تو کیا کیس ریمانڈ بیک کروانا چاہتے ہیں،وکیل خاور مانیکا
    وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ بشری بی بی کی جانب سے کہا گیا کہ اپریل 2017 میں زبانی طلاق دی گئی،اگر خاتون کہتی ہے کہ اسے زبانی طلاق دی گئی تو کیا اس کی زبانی بات پر اعتبار کیا جائے گا،زبانی طلاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس حوالے سے عدالتی فیصلے موجود ہیں،قانون کہتا ہے دستاویزی ثبوت زبانی بات پر حاوی ہو گا،بشری بی بی نے کس بیان میں کہا شادی عدت کے دوران نہںں ہوئی،مفتی سعید نے بشری بی بی کی بہن کے کہنے پر کہ شادی کے لوازمات پورے ہیں نکاح پڑھوایا،کسی جگہ بشری بی بی نے مفتی سعید کو نہیں کہا کہ انکی عدت پوری ہے،جس بہن نے عدت پوری ہونے کا کہا اسے پھر بطور گواہ لایا جاتا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ پراسیکوشن کی ڈیوٹی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ عدت پوری نہیں، وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ 16 جنوری 2024 کو بشری بی بی پر فرد جرم عائد ہوئی اور صحت جرم سے انکار کیا،بشری بی بی نے نہیں کہا کہ انھوں نے عدت مکمل ہونے پر شادی کی،عمران خان کے بیان پر فرد جرم عائد ہوئی،جس کے جواب میں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ جھوٹا کیس ہے اور لندن پلان کا حصہ ہے اور اس کا مقصد پارٹی کا ختم کرنا اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنا ہے،عمران خان نے بھی کہیں نہیں کہا کہ انھوں نے عدت مکمل ہونے پر شادی کی،اگر ٹرائل کورٹ میں کوئی غیر قانونی کام ہوا تو کیا کیس ریمانڈ بیک کروانا چاہتے ہیں،عمران خان کے وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ ہم کیس ریمانڈ بیک نہیں بلکہ ہائی کورٹ کی ٹائم لائن کے مطابق اپیلوں پر فیصلہ چاہتے ہیں،

    بشریٰ بی بی نے کسی بھی جگہ مفتی سعید کو نہیں کہا کہ میری عدت پوری ہوگئی ،وکیل خاور مانیکا
    دورانِ دلائل زبانی طلاق دینے کے حوالے سے خاور مانیکا کے وکیل کی جانب سے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہاگیا کہ دستاویزات زبانی بات پر زیادہ فوقیت رکھتے ہیں ،بشریٰ بی بی نے کس جگہ کہا کہ اس نے عدت پوری کرلی تھی ، بشریٰ بی بی نے کسی بھی جگہ مفتی سعید کو نہیں کہا کہ میری عدت پوری ہوگئی ہے ،دوسری طرف سے کہا گیا کہ خاتون کا بیان حتمی ہوگا ، بشریٰ بی بی نے مفتی سعید کو کہا کہ میری عدت پوری ہوگئی ہے ، جج افضل مجوکا نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے بیان کو آپ اس کے خلاف کیسے استعمال کرسکتے ہیں ،شرعی تقاضے پورے کرنے کا ذکر تو کیا گیا ہے ،اس بات پر میں بھی آپ سے اختلاف کروں گا کہ آپ جیسے سینئر وکیل سے ایسی بات کی امید نہیں تھی ، وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ اختلاف کرنا سب کا حق ہے اور آپ بھی اختلاف کرسکتے ہیں ،

    خاور مانیکا کے وکیل نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کا 342 کا بیان پڑھا ، جج افضل مجوکا نے کہا کہ جب بھی ملزم کوئی بات عدالت کے سامنے کہے گا مجسٹریٹ سرٹیفکیٹ دے گا ، جج محمد افضل مجوکا نے وکیل عثمان گل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چارج کے اوپر سرٹیفکیٹ ہی نہیں ہے آپ نے یہ نکتہ کیوں نہیں اٹھایا ؟ یہاں چارج کے نیچے سرٹیفکیٹ نہیں ہے یہ دلائل میں آپ نے نہیں ابھی تک کہیں نہیں کہا ،واضع ہے کہ جب بھی ملزم عدالت میں بولے گا مجسٹریٹ سرٹیفکیٹ دے گا ،وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ آپ کی گائیڈ لائن مل گئی ہے اب کر دیں گے ،

    جج افضل مجوکا کی جانب سے صحافیوں کو "بیچارہ” کہنے پر صحافی ثاقب بشیر کا جواب
    وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ یہاں پورے ریکارڈ میں بشری بی بی نے کہیں نہیں کہا عدت پیریڈ ختم ہونے کے بعد میرا نکاح ہوا ،سوشل میڈیا یوٹیوبرز نے ایسی فضا قائم کی کہ عورت کی بات حتمی ہے ، جج افضل مجوکا نے صحافیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مکالمہ کیا کہ یہ بیچارے تو اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں ، صحافی ثاقب بشیر نے کہا کہ سر ہم بیچارے نہیں ہیں ،ہم پروفیشنل صحافی ہیں ہم ذمہ داری غیر جانبداری سے پوری کر رہے ہیں ،ایسے بات سے تاثر جاتا ہے ہم کوئی سوسائٹی کے تھرڈ کلاس لوگ ہیں،جج افضل مجوکا نے کہا کہ نہیں میرا مطلب تھا کہ ہم سب پروفیشنل ہیں کہیں نہ کہیں جواب دہ ہیں ، وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ ثاقب بشیر بھائی ہے محنتی ہے لیکن میرا نام کہیں نا کہیں بولتے ہوئے بھول جاتا ہے ،

    بشریٰ سے طلاق کے بعد خاورمانیکا نے شادی کی، ایک بچی بھی ہے، وکیل کا انکشاف
    جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ بشری بی بی نے تو دوسری شادی کی ہے ،کیا خاور مانیکا نے دوسری شادی کی ہے ؟ وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ میں نے نہیں پوچھا ، وکیل عثمان گل نے کہا کہ تین چار ماہ بعد خاور مانیکا نے شادی کر لی تھی اس سے ایک بچی بھی ہے ، وکیل خاورمانیکا نے کہا کہ میں نے نہیں پوچھا ، ویسے بھی عدت کا اطلاق مرد پر نہیں ہوتا ، میں اور گل صاحب شریف ہیں جو ایک سے آگے نہیں بڑھے وگرنہ مرد کو تو چار شادیوں کی اجازت ہے ،مرد پر تو عدت کا بھی اطلاق نہیں ہوتا ،پبلک میں معافی مانگ لیتے عوام بھی معاف کر دیتی اور خاور مانیکا بھی معاف کر دیتا ، شوہر فوت ہو جائے تو بیوی کی عدت 4 ماہ ہوگی ،ایک بار تین طلاقیں دی ہوں تو ایک طلاق تصور ہوگی ، وکیل خاور مانیکا نے مختلف احادیث کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہاکہ شکایت کنندہ نے جب حلف لے کر بیان دیا کہ کہ وہ رجوع کرنا چاہتے تھے تو ان کی ایک طلاق تصور ہوگی ،میں نے تو کسی جگہ نہیں کہا کہ میں فقہ حنفیہ یا شافعی کا ماننا والے ہوں ،میں نے تو مسلمان ہونے کے ناطے شکایت درج کرائی ہے ، انصاف اسلام کے مطابق چاہیے ،وکیل خاور مانیکا کی جانب سے عدت کے دورانیہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ جب تک عدت کا دورانیہ پورا نہیں ہوتا وہ طلاق دینے والے شوہر کی بیوی ہی تصور ہوگی،2019 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جس میں لکھا کہ عدت کا دورانیہ 90 دن تصور کیا جائے گا ، عمران خان اور بشری بی بی حلف پر اپنے حق میں گواہی دیتے،طلاق ڈیڈ پر ٹمپرنگ کا کہا گیا مگر شواہد پیش نہیں کیئے گئے،ہم مطمئن ہیں کہ طلاق ڈیڈ پر کوئی ٹمپرنگ نہیں،اپریل میں کوئی طلاق نہیں دی نومبر 2017 خاور مانیکا نے تحریری طلاق دی،قرآن پاک میں ہے دوران عدت رجوع کرنے کا حق اور عدت مکمل ہونے پر دوسری شادی کی اجازت دی گئی،عدت کے دوران دوسری شادی کا فیصلہ بھی نہیں کیا جا سکتا،اسلام کہتا ہے کہ اکٹھی تین طلاقوں کو ایک تصور کیا جائے گا،خاور مانیکا نے کہیں نہیں کہا کہ وہ فقہ حنفی سے ہیں وہ بطور مسلمان عدالت میں پیش ہوئے ہیں ،جب تک عدت مکمل نہیں ہوتی خاتون طلاق دینے والے کی بیوی ہی تصور گی،عدت کا دورانیہ 90 دن ہونے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے موجود ہیں،

    دوسرا نکاح کرنے کی ضرورت پیش کیوں آئی ؟،اس کا مطلب ہے پہلا نکاح فراڈ تھا ،وکیل خاورمانیکا
    وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ پہلا نکاح ہو گیا تھا تو پھر دوسرا نکاح کرنے کی ضرورت پیش کیوں آئی ؟،اس کا مطلب ہے پہلا نکاح فراڈ تھا ،میرا گلہ ہے انہیں دلائل کے لیے کتنا وقت دیا گیا مجھے نہیں دیا گیا،کیا پھر پہلی شادی دکھاوے کے لیے تھی؟ جج افضل مجوکا نے کہا کہ اگلے دس منٹ میں مکمل کر لیں دوسری طرف کو بھی دس منٹ دوں گا اگلے 20 منٹ میں مکمل کر لیتے ہیں،سلمان اکرم راجہ کو جواب الجواب زیادہ سے زیادہ دس منٹ دوں گا ، وکیل خاورمانیکا نے کہا کہ میں بھی کوشش کرتا ہوں دلائل مکمل کرلوں ، وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ خاور مانیکا نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی نے کبھی نہیں بتایا کہ ان کو ماہواری پیریڈز کے حوالے سے کوئی میڈیکلی مسئلہ ہے ،ٹرائل کے دوران گواہ عون چوہدری پر عدت کے حوالے سے کوئی بھی جرح نہیں کی گئی ،ٹرائل کے دوران مفتی سعید پر بھی عدت کے حوالے سے کوئی جرح نہیں کی گئی ،سیکشن 496 کے ساتھ 494 بھی شامل کیا جائے ،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے اپنے دلائل مکمل کرلیے

    انہوں نے کہا کہ ایک طلاق ہوئی تو کیا مطلب ہوا خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی ابھی تک نکاح میں ہیں ؟ سلمان اکرم راجہ
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹ نے جواب الجواب دلائل کا آغاز کردیا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس جاری نہ کرنا کوئی اور جرم ہوسکتا فراڈ نہیں ہوسکتا ،طلاق کا نوٹس خاور مانیکا نے نہیں دیا تو 90 دن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،مسلم فیملی لا کے سیکشن 7 کو پڑھا ہے اس میں لکھا ہے کہ نوٹس لازمی شرط نہیں ہے ،ان کی بات مان بھی جائے تو بھی قانونی ڈیفیکٹ کہا جا سکتا فراڈ شادی نہیں کہا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ ایک طلاق ہوئی تو کیا مطلب ہوا خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی ابھی تک نکاح میں ہیں ؟ کیونکہ نوٹس تو ابھی تک نہیں ہوا ،سیکشن 7 کے مطابق آج بھی گاؤں میں طلاق نوٹس کے ذریعے نہیں دی جاتی ،سیکشن 494 کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے وہ کیسے مانگ رہے ہیں ،496 بی ڈالا گیا مگر وہ چارج فریم میں نکال دیا گیا ،اللہ داد والے کیس میں بھی سپریم کورٹ نے سیکشن 7 بارے واضح کیا کہ چار سال بعد دوبارہ سابق شوہر کی بیوی تصور نہیں کیا جا سکتا ،خاور مانیکا نے نے اپنے بیان میں بشریٰ بی بی کے لیے سابقہ اہلیہ کہا ہوا ہے ،14 نومبر 2017 کے طلاق نامہ کی فوٹو کاپی ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ،14 نومبر کے ڈاکومنٹس کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا تھا ،عدت کب سے شروع ہوئی اس حوالے سے کوئی گئی دستاویز موجود نہیں ہے ،خاتون اپریل کا کہتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ 14 نومبر 2017 کو ہوئی ہے ،کیس اتنا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ نکاح اس تاریخ کو نہ ہوتی فلاں تاریخ کو ہوتا ،

    عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی خواتین بشریٰ بی بی سے یکجہتی کے لئے کمرہ عدالت کے باہر موجود تھیں

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس میں تین فروری کو عام انتخابات سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی تھی، عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا تھا، عدالت نےعمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی.

    ’سابقہ شوہر نہیں بتا سکتا کہ عدت اور خاتون کی ماہواری کے 3 سائیکل کب مکمل ہوئے‘

    عمران ،بشریٰ مجرم،،نکاح کی اتنی جلدی کیا تھی قوم کو وجہ تو بتادیں،خاور مانیکا

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے تھے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

    خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف درخواست میں کیا کہا تھا؟
    گزشتہ برس 25 نومبر کو بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی

    درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،

  • لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اکتوبر تک اس ملک میں ایمرجنسی لگنے والی ہے، یا کچھ بھی ہو سکتا ہے، ایک بات جو طے پائی، فیصلہ آ گیا اس پر ردعمل دے سکتا ہوں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ آج آئین اور قانون کی دھجیاں اڑ گئی ہیں، ہمارے انصاف کا نمبر دیکھیں، آخر میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر ہیں،اب ایک آئینی بحران پیدا ہو گیا، مخصوص نشستوں کے حوالہ سے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فیصلہ آٹھ پانچ سے ہے،الیکشن کمیشن نے فیصلے کی غلط تشریح کی ہے، پی ٹی آئی کو مخصوص سیٹیں ملیں گی، پی ٹی آئی حقدار ہے، الیکشن کمیشن لسٹ جمع کروائے، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں نہیں دی جائیں گی،پی ٹی آئی 15 دن میں مخصوص نشتوں کی فہرست دے گی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات تھے تاہم پی ٹی آئی والوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی کے خلاف نعرے بازی کی جو انہوں نے سن لی ہو گی ، سپریم کورٹ کے باہر قیدیوں والی گاڑیاں بھی موجود تھیں،پولیس الرٹ تھی، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان، لطیف کھوسہ و دیگر سپریم کورٹ پہنچے ہوئے تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کمرہ عدالت وکلا، صحافیوں سے بھرا ہوا تھا، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد دو روز مشاورتی اجلاس بلایا تھا ،سنی اتحاد کونسل کے مخصوص نشستوں کی سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی کی سربراہی میں 13 بینچ شامل تھے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جمعہ کا دن تھا، جمعہ کا دن پٹواریوں کے لئے بھاری ہوتا ہے،جمعہ کے روز کے کئی فیصلوں نے ایوان اقتدار کو ہلایا ہے،نواز شریف ،جہانگیر ترین کو جمعہ کے روز ہی نااہل کیا گیا تھا،مریم نواز، کیپٹن ر صفدر کو سزائیں جمعہ کے روز ہی سنائی گئی تھیں،شریف برادران، ن لیگ کے لئے جمعہ کا دن بھاری رہتا ہے،جمعہ کو ہی پانامہ جے آئی ٹی بنی تھی، اور جمعہ کو ہی نواز شریف کو سزا ہوئی تھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہو کیا رہا ہے، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے بارے میں سپریم کورٹ کو آئین کی پیروی کرنی چاہئے تھی جو نہیں کی گئی، فیصلے پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کچھ ایسے جج ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو سیاسی طور پر سمجھتے ہیں آنیوالے دنوں میں فائدہ ہو گا، سنی اتحاد کونسل نے مخصو ص نشستوں کی فہرست جمع نہیں کروائی تھی بلکہ یہ لکھ کر دیا تھا کہ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا خود آزاد الیکشن لڑے، اپنی ہی پارٹی پر الیکشن نہیں لڑے،لگ یہ رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ میرٹ پر نہیں دیا، کوئی فرق نہیں پڑتا، چائے کی پیالی میں اٹھنے والا طوفان ہے،کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، فرق پڑے گا تو ہو سکتا ہے کہ کچھ ججز کو پرابلم ہو کہ دو تہائی اکثریت ملنے سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن نہ مل جائے، وہ تو اب خوش ہوں گے، لیکن پشاور ہائیکورٹ نے پانچ صفر سے فیصلہ دیا تھا،چیف الیکشن کمشنر وہ بھی ایک جج ہیں، انکا بھی ایک فیصلہ تھا،جب سپریم کورٹ نے بتایا کہ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی تو چیف الیکشن کمشنر کو خود سے استعفیٰ دے دینا چاہئے، ہو گا کیا، پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھر گئی ہے، پہلے بھی انکی زبان اینٹی پاکستان تھی، اور وہ کافی آگے بڑھ بڑھ کر بول رہے تھے،اب انکو اور شہہ مل جائے گی، پھر کام نہیں ہو گا اس ملک میں کیونکہ سیاسی جھگڑے ہو رہے ہیں، کام نہیں ہو گا تو پھر ایمرجنسی لگے گی،

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ

    مخصوص نشستوں کے حوالہ سے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک تھی، ایک ہے اور ایک رہے گی، کوئی فارورڈ بلاک نہیں، سُپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں ہمارا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے، پیر کو ہم ڈاکومنٹیشن جمع کروادیں گے، پی ٹی آئی نے 2022 میں انٹرا پارٹی الیکشن کروائے لیکن مانے نہ گئے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے خلاف سب فیصلے دیے، تحریک انصاف نے انٹراپارٹی انتخابات کروائے۔ 2022، 2023 اور 2024 میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائے، ہمارے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن نے بدنیتی کی بیناد پر کالعدم قرار دیئے گئے،سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ تحریک انصاف پارٹی تھی اور پارٹی ہے، تحریک انصاف نے ملک بھر میں پارٹی ٹکٹ جاری کیے، ہمارے نمائندوں سے ٹکٹ چھینے گئے،پی ٹی آئی آج دوبارہ زندہ ہو گئی جو ہمیں مٹانا چاہتے تھے انہیں پیغام مل گیا،

    چیف الیکشن کمشنر فوری مستعفی ہوں، عمر ایوب
    تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر اور 4 ممبران سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا،عمر ایوب نے کہا، چیف الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے۔ انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی،چیف الیکشن کمشنر فوری مستعفی ہوں، آج پورے پاکستان کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں ،کل ہم بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ تھے۔ عمران خان نے کہا ریاست میں آئین اور قانون کی بالادستی، اخلاقیات اور انصاف بہت ضروری ہے،وزیراعظم بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا راستہ اللہ تعالیٰ کھول رہا ہے،جلد اس ملک کے وزیراعظم بانی چیئرمین پی ٹی آئی ہوں گے،لوگ پوچھتے تھے پی ٹی آئی کے امیدوار کیسے آئیں گے،ہم نے کہا تھا اڈیالہ کے ارد گرد فولاد کی دیواریں بھی بنا لیں تو پی ٹی آئی آئے گی

    اس موقع پر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عمران خان کے صبر اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں، تمام مسائل کے حل کی کُنجی قیدی نمبر 804 کے پاس ہے،بانی چیئرمین پی ٹی آئی آج پاکستان کی عوام کی خاطر جیل کاٹ رہا ہے،اللہ تعالیٰ نے سارے مسائل کے حل کی کنجی بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے ہاتھ میں دی ہے،بانی پی ٹی آئی استقامت ست جیل میں ہیں تا کہ عوام کو حقیقی آزادی دلائی جا سکے،بانی پی ٹی آئی نے پاکستان کی عوام کو جوڑ رکھا ہے،سارے مسائل کے حل کی کنجی بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے،ایک فیصلہ فروری کو عوام نے دیا دوسرا آج سپریم کورٹ نے،ہمارے امیدوار اٹھائے گئے کاغزات نامزدگی چھینے گئے،آج کا فیصلہ ملک کی جمہوری جوڈیشل اور سیاسی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائیگا،ثابت ہوتا ہے کہ عدالت انصاف دے سکتی ہے،ہماری جدو جہد کے دو مرحلے تھے،ایک سیاسی دوسرا قانونی تھا،اب عدت کا کیس رہ گیا ہے،یہ کیس بنانا قبیح حرکت تھی،سیاسی جدو جہد میں فارم 47 والوں سے مینڈیٹ واپس لینا ہے،یہ ہدف ہماری جمہوری جدوجہد کا اہم حصہ ہوگا

    سلمان اکرم راجہ نے اعظم نذیر تارڑ کی پریس کانفرنس بچگانہ قرار دیدی، کہا، الیکشن کمیشن نے جمہوریت، عوام اور پی ٹی آئی کیخلاف فیصلے کئے، یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں استعفیٰ دینا چاہئے۔آج کے فیصلے نے جابر کے عزائم کو پاش پاش کر دیا،اب نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے،ہم ہر قانونی جنگ جیتیں گے،ہم عدالتوں میں بھی ہوں گے سڑکوں پر بھی ہوں گے،ہم عوام کا حق لے کر چھوڑیں گے،8 فروری کو جو ہوا اس کا چشم دید گواہ ہوں ،الیکشن کمیشن کا کردار کسی سے چھپا نہیں،حکومتی پریس کانفرنس سے فرق نہیں پڑتا وہ درخواست گزار نہیں تھے،اب سے ہم ٹربیونلز کے معاملے میں بھرپور جدو جہد کریں گے

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • بشریٰ،عمران کو تمام سہولیات دی جائیں جنکے وہ حقدار ہیں، عدالت

    بشریٰ،عمران کو تمام سہولیات دی جائیں جنکے وہ حقدار ہیں، عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات کی فراہمی، بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق درخواست پر حکم جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی زندگی اور صحت کی حفاظت یقینی بنائے، وفاقی حکومت عدالت کی جانب سے فراہم کی گئی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد یقینی بنائے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جن کے وہ حقدار ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ہدایات کیساتھ نمٹا دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا،حکمنامہ میں کہا گیا کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تھی تب بانی پی ٹی آئی جیل میں سزا کاٹ رہے تھے، موجودہ صورتحال میں درخواست گزار خود بھی جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں، درخواست میں جو معاملہ اٹھایا گیا ہے وہ بانی پی ٹی آئی تک محدود نہیں بلکہ عمومی نوعیت کا ہے،کہا گیا کہ ایک قیدی کے کوئی حقوق نہیں جو کہ مکمل طور پر غلط ہے، قید کا مطلب غیر انسانی برتاؤ بالکل بھی نہیں ہے،قید کا مقصد بغیر کسی جسمانی و دماغی دباؤ کے قیدی کی اصلاح ہے، اس عدالت نے مقدمہ خالد حسین بنام وزارت انسانی حقوق میں گائیڈ لائنز فراہم کردی ہیں،وفاقی حکومت ملک کی تمام جیلوں، بالخصوص اڈیالہ جیل میں ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کرانے کی پابند ہے،بظاہر اب تک وفاقی حکومت جیلوں میں ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد نہیں کرا سکی، وفاقی حکومت فوری طور پر ملک کی تمام جیلوں میں فراہم کردہ گائیڈ لائنز پر عملدرآمد یقینی بنائے،پاکستان انسانی حقوق سے متعلق بہت سے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کنندہ ہے، بظاہر وفاقی حکومت نے ان معاہدوں پر عملدرآمد کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں،بشریٰ بی بی کی جانب سے یہ درخواست ہدایات کیساتھ نمٹائی جاتی ہے،

  • عدت میں نکاح کیس،فقہ حنفی میں 3 طلاق کے بعد رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے،عدالت

    عدت میں نکاح کیس،فقہ حنفی میں 3 طلاق کے بعد رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے،عدالت

    اسلام آباد ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کے وکیل نے دلائل دیئے، کیس پر سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کی، اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان بھی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت میں موجود تھیں ،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا سربراہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے عوام کوجواب دہ ہے، یہ دیکھے بغیرکہ مجرم طاقتورہے قانون اورثبوت کے مطابق فیصلہ ہوگا،خاور مانیکا کے وکیل کی جانب سے متعد عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جو اسلام آباد ہائیکورٹ کی ججمنٹ دی اس کے لیے دوسرے خاوند کا فوت ہونا ضروری ہے اگرجیل میں ملزم کوپتہ چلے کہ میرے وکیل ایسے کیس لڑرہے ہیں یہ ججمنٹ دیکھ کرہارٹ اٹیک ہوجائے گا

    عمران خان کی جانب سے قوم سے معافی مانگی جاتی توشکایت کنندہ بھی معاف کرسکتے ہیں،وکیل خاورمانیکا
    جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ ججمنٹ پڑھی ہے، مؤقف دیکھ لیا ہے،خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے کہا کہ کل جوججمنٹ عدالت کی جانب سے مانگی گئی تھی وہ سپریم کورٹ کی نہیں فیڈرل شریعت کورٹ کی ہے،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ججمنٹ نہیں جس ججمنٹ کا میں نے ذکر کیا وہ سپریم کورٹ کی ہے،وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جس ججمنٹ پرزوردیا گیا اس کے مطابق دوران عدت نکاح فاسق ہے، کسی بھی کریمنل کیس کو اس کے حقائق کے مطابق سن کر فیصلہ کیا جانا چاہیئے،اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی توہین پر نوٹس ہوجاتا ماتحت عدالتوں کے ججز کی توہین پر نوٹس کیوں نہیں ہوتا، عمران خان کی جانب سے قوم سے معافی مانگی جاتی توشکایت کنندہ بھی معاف کرسکتے ہیں،عدالت نے دیکھنا ہے کہ شکایت تاخیرسے جان بوجھ کردرج کرائی گئی یا نہیں،قانون میں کوئی قدغن نہیں کہ شکایت کتنے عرصے بعد درج کرائی گئی۔

    یہ فقہ حنفی سے ہیں اوراس کے مطابق طلاق ہوگئی توعدت کا کیس تو بنتاہی نہیں ،جج افضل مجوکا
    خاور مانیکا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیا وراثت کا کیس 100سال بعد نہیں سنا جاسکتا ہے؟دوسری طرف سے عدت کے حوالے سے بیان کے ویڈیوکلپ پردلائل دیے گئے، آج یہ یکم جنوری والے نکاح کو تسلیم کرتے ہیں، خاور مانیکا کا کلپ چلایا گیا کہ وہ بشریٰ بی بی کی بڑی تعریفیں کررہے ہیں،وکیل زاہد آصف نے عدالت میں خاورمانیکا کا ویڈیو بیان چلانے کی استدعا کی،جس پر خاورمانیکا کے صاحبزادے کا ویڈیو بیان بھی عدالت کے سامنے چلایا گیا،خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ عمران خان اور خاور مانیکا کے صاحبزادے نے یکم جنوری کے نکاح سے انکار کیا،خاورمانیکا کے وکیل زاہد آصف نے پی ٹی آئی کا تردیدی آفیشل لیٹرعدالت کے سامنے پیش کردیا،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں جب خاورمانیکا کا بیان ہوا تب یہ دستاویزات پیش کی گئیں؟خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ نہیں اس وقت نہیں پیش کیا گیا، ٹرائل کورٹ کے سامنے خاورمانیکا کا بیان چلایا گیا مگرانکے صاحبزادے کا بیان نہیں چلایا گیا، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا گواہ تو کہتا ہے مجھے دوسرے دن ہی شادی کا پتہ لگ گیا تھا،جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ لوگ طلاق کو تو مانتے ہیں، آپ دونوں فقہ حنفی کے پیروکارہیں،فقہ حنفی میں 3 طلاق کے بعد رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے،وکیل خاورمانیکا نے کہا کہ شکایت میں پتہ لگا کہ عدت میں نکاح کیا گیا ہے،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فقہ کے نظریات کوکورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے،یہ فقہ حنفی سے ہیں اوراس کے مطابق طلاق ہوگئی ہے توعدت کا کیس تو بنتاہی نہیں ہے

    واضح رہے کہ دوران عدت نکاح کیس میں تین فروری کو عام انتخابات سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی گئی تھی، عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا تھا، عدالت نےعمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی.

    ’سابقہ شوہر نہیں بتا سکتا کہ عدت اور خاتون کی ماہواری کے 3 سائیکل کب مکمل ہوئے‘

    عمران ،بشریٰ مجرم،،نکاح کی اتنی جلدی کیا تھی قوم کو وجہ تو بتادیں،خاور مانیکا

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے تھے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

    خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے خلاف درخواست میں کیا کہا تھا؟
    گزشتہ برس 25 نومبر کو بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت سے رجوع کیا تھا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا کی استدعا کردی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان نیازی نے میری بیوی بشری مانیکا کو ورغلایا،اس سے ناجائز تعلقات رکھے، مجھ سے چھین کے عدت میں نکاح کیا اور میری زندگی تباہ کی، یہ جرم بنی گالہ اسلام آباد میں ہوا،تصدیق شدہ ناجائز تعلقات کی بناء پر بشریٰ بی بی کو طلاق دینے پر مجبور ہوا،خاور مانیکا نے بشری بی بی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے کی استدعا کردی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں دائر خاور مانیکا کی درخواست میں عمران خان اور بشری بی بی کے یکم جنوری 2018 کے نکاح کی کاپی بھی منسلک کی گئی ہے،خاورمانیکا نے غیرشرعی نکاح، زنا سے متعلق دفعات کے تحت درخواست دائر کی،خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہوئے اورشکایت درج کرادی،درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی

    درخواست میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سے 1989 میں شادی ہوئی، ہماری شادہ شدہ زندگی پر سکون جارہی تھی جب تک چیئرمین پی ٹی آئی نے مداخلت کی،پیری مریدی کے چکر میں چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کے گھر داخل ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی گھنٹوں بشریٰ بی بی کے گھر رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی اور میری شادی شدہ زندگی میں مداخلت شروع کردی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کو بے عزت کرکے کئی بار گھر سے نکالا،ایک بار رات گئے گھر آیا تو زلفی بخاری کو اپنے کمرے میں پایا،زلفی بخاری چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ بشریٰ بی بی کے گھر آنے جاتے رہتےتھے، چیئرمین پی ٹی آئی،زلفی بخاری کا اس طرح گھر پر آنا غیر اسلامی تھا،بشریٰ بی بی کا چیئرمین پی ٹی کے گھر بھی آنا جانا شروع ہوگیا،بشریٰ بی بی گھنٹوں چیئرمین پی ٹی آئی کے گھر رہتی تھیں،بشریٰ بی بی کے ساتھ میری تلخ کلامی بھی ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کےکہنے پر بشریٰ بی بی کو فرح گوگی نے الگ موبائل دیا،بشریٰ بی بی کو کئی بار روکا لیکن وہ ہمیشہ بہانے باننا شروع کر دیتی تھیں، مجھے میرےنوکر نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے ناجائز تعلقات بھی ہیں، بہت کوشش کی رشتہ قائم رہےلیکن 14نومبر2017 کو بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے غیرشرعی نکاح فروری 2018 میں کیا، فرح گوگی نے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا اور زبردستی کی، میں نے فرح گوگی کی بات رد کی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی،بشریٰ بی بی نے دوبارہ نکاح کیا، میری شادی شدہ زندگی چیئرمین پی ٹی آئی نے برباد کی، چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی زنا کے مرتکب ہوئے،دوران عدت نکاح کیا، گناہ کیا، فراڈ پر مبنی شادی کی،