Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران خان

    سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران خان

    راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے محسن نقوی کی سرجری ہونی چاہیے کیونکہ یہ الیکشن کرانے میں ناکام رہے،محسن نقوی سب سے بڑا سفارشی ہے،سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے-

    اڈیالہ جیل کی کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے فوجی شہید ہو رہے، اس کا امریکا میں کیا کام ہے، اسلام آباد میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں لیکن ان کو کوئی پرواہ نہیں، محسن نقوی سب سے بڑا سفارشی ہے،محسن نقوی سب سے بڑا سفارشی ہے، اس کی کیا خصوصیات ہیں، سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے، چیف الیکشن کمشنر نے دھاندلی کرائی پھر ان کے پاس جانے کا کہا جا رہا ہے اور میڈیا کو بند کرنا ان کا مقصد ہے تاکہ جھوٹ کو چھپایا جائے۔

    عمران خان نے کہا کہ جو پارٹی میدان میں نہیں آئی ان کو جتوایا گیا، الیکشن کا پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے، پورے پنجاب میں ہمارے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور پی ٹی آئی کے لوگ جہاں کنونشن کرتے ہیں ان کو اٹھا لیا جاتا ہے، 18 سال سے شبلی فراز ایک گھر میں رہائش پذیر ہیں اس پر دھاوا بولا گیا، اپنی جماعت کو پیغام دیا ہے کہ تیاری کریں ملک بھر میں احتجاج ہوگا ملک کے اندر ذرائع آمدنی کم ہو رہی ہے اور قرضے بڑھتے جا رہے ہیں۔

    کیا سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کو انگریزی کی کلاسز کرانا پڑیں گی؟ جسٹس …

    عمران خان نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ، آئی جی جیل خانہ جات اور جیل میں موجود کرنل کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ مجھے فیملی ممبران، وکلاء اور سیاسی رہنماوں سے 30، 30 منٹ ملاقات کا وقت دیا جاتا ہے جبکہ مجھے جیل میں ایک قیدی کھانا بنا کر دیاجاتا ہے اور 6 لوگوں سے زائد لوگوں کو نہیں ملنے دیا جاتاجبکہ نواز شریف اور آصف زرداری کے لیے گھر سے کھانا تیار ہو کر آتا تھا، دونوں کے لیے کئی لوگ ملاقات کے لیے جیل آتے تھے آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ ن لیگ کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

    عید پر بارش کے حوالے سے محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

  • ریاست مخالف ٹویٹ، ایف آئی اے کی جیل میں عمران خان سے تحقیقات

    ریاست مخالف ٹویٹ، ایف آئی اے کی جیل میں عمران خان سے تحقیقات

    عمران خان کے آفیشل ایکس اکاونٹ سے ریاست مخالف پوسٹ تفتیش کا معاملہ،عمران خان شامل تفتیش ہو گئے

    ایف آئی اے کی ٹیم نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تفتیش کی،عمران خان اپنے وکلاء چوہدری ظہیر عباس، انتظار پنجھوتا کی موجودگی میں شامل تفتیش ہوئے،ایف آئی اے ٹیم نے عمران خان کو ان کے ایکس اکاونٹ سے پوسٹ دکھا کر تفتیش کی،عمران خان نے اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوالوں کے جوابات دییئے،

    تحقیقات کے بعد ایف آئی اے کی دو رکنی جیل سے واپس روانہ ہو گئی،ایف آئی اے کی دو رکنی ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز اور سب انسپکٹر منیب احمد شامل تھے،ایف آئی اے کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی سے 1 گھنٹے سے زائد تفتیش کی، ایف آئی اے کی ٹیم نے آفیشل ایکس سے ریاست مخالف پوسٹ کی تشہیر پر تفتیش کی،

    واضح رہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم اس سے قبل بھی دو بار اڈیالہ جیل عمران خان سے تحقیقات کے لئے گئی تھی تا ہم عمران خان نے وکلا کی غیر موجودگی میں شامل تفتیش ہونے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ایف آئی اے ٹیم واپس لوٹ گئی تھی، آج اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت میں کیس کی سماعت تھی، عمران خان کے وکلا بھی موجود تھے، ٹیم دوبارہ گئی تو عمران خان شامل تفتیش ہو گئے.

    متنازعہ ٹویٹ کیس میں ایف آئی اے نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو بھی طلب کیا تھا، دونوں پیش ہو چکے ہیں اور بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں تا ہم دونوں نے عدالت میں بھی درخواست دائر کی تھی جس پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کے خلاف ایف آئی اے کو تادیبی کاروائی سے روک دیا , عدالت نے کہا کہ رؤف حسن اور بیرسٹر گوہر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں ،ایف آئی اے دونوں کو نہ ہراساں کرے نہ تادیبی کاروائی کرے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ایف آئی اے طلبی نوٹسز کے خلاف تحریری حکم جاری کر دیا, عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جون تک جواب طلب کر لیا

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • جیل میں بیٹھ کرویڈیو کیسے پوسٹ کر سکتا،ٹویٹ اون کرتا ہوں،دیکھی نہیں،عمران خان

    جیل میں بیٹھ کرویڈیو کیسے پوسٹ کر سکتا،ٹویٹ اون کرتا ہوں،دیکھی نہیں،عمران خان

    سپریم کورٹ میں گزشتہ روز عمران خان کی ویڈیو لنک کے پیشی کے بعد اڈیالہ جیل میں آج کیس کی سماعت تھی،صحافی بھی اڈیالہ جیل گئے، عمران خان نے آج پھر صحافیوں سے بات چیت کی ہے اور گزشتہ روز حکومت کی جانب سے جیل کی تصاویر جاری کیے جانے پر بھی اپنا ردعمل دیا ہے

    عمران خان نے جیل میں صحافیوں سے حمودالرحمان کمیشن بارے بھی بات چیت کی اور کہا کہ "حمود الرحمان کمیشن بنانے کے دو مقاصد تھے کمیشن بنانے کا ایک مقصد تھا ایسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جنرل یحیٰی کو ذمہ دار ٹھہرایا کہ اس نےسب کچھ اپنی پاور کیلئے کیا ملک میں دوبارہ وہی کچھ دہرایا جارہا ہے جسے معیشت بیٹھ جائے گی ہمارے ساڑھے تین سال میں نیب نے ساڑھے 4 سو ارب اکٹھے کئے اب 1100ارب مزید جمع ہونا تھا لیکن نیب ترامیم کے باعث ایک دفعہ تین لاکھ دوسری دفعہ ڈیڑھ کروڑ اکٹھے ہوئے،نیب ترامیم کی وجہ سے ملک کا 11 سو ارب کا نقصان ہوا جو ملک گھٹنوں کے بل ہو وہ اتنے نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا

    ایف آئی اے مجھ سے معافی مانگے، محسن نقوی سب کروا رہا، عمران خان
    عمران خان نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ سوشل میڈیا کے لوگ ہمارے ہیروز ہیں،سائفر کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ” ایف آئی اے میرے خلاف جھوٹا سائفر کیس بنانے پر مجھ سے پہلے معافی ماںگے ملک میں سیاسی انتقام جاری ہے ایف آئی اے کو صرف وکلاء کی موجودگی میں جواب دونگا یہ سب محسن نقوی کرا رہا ہے”.

    مشرف دور میں شوکت عزیز سے نہیں بلکہ مشرف کے نمائندے سے مذاکرات کئے تھے،عمران خان
    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ اب تو سپریم کورٹ نے بھی آپ کو سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا کہا ہے؟ جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ "میں نے مشرف دور میں بھی شوکت عزیز سے مذاکرات نہیں کئے مشرف کے نمائندے سے مذاکرات کئے تھے ہم وہاں بات کرینگے جہاں طاقت موجود ہے ، جسٹس بندیال کے کہنے پر ہم نے انتخابات پر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کئے،قانون کے مطابق 90 دن میں الیکشن ہونے تھے لیکن جسٹس بندیال اپوزیشن کے ہتھکنڈوں میں آگیا تھا”.

    جیل میں بیٹھ کرویڈیو کیسے پوسٹ کر سکتا ہوں،ٹویٹ اون کرتا ہوں،دیکھی نہیں،عمران خان
    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ نواز شریف جب شیخ مجیب اور حمود الرحمان کمیشن کا حوالہ دیتے تھے آپ کہتے تھے نواز شریف فوج کے ادارے کو تباہ کرکے دوسرا مجیب الرحمان بننا چاہتا ہے، اسکے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ” اس وقت میں نے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ نہیں پڑھی تھی اب یہ رپورٹ میں نے پڑھ لی ہے”.صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے ایکس ہینڈل سے ریاست مخالف ویڈیو پوسٹ کی گئی کیا آپ کی مرضی سے کی گئی؟ جس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ” میں جیل میں بیٹھ کر ویڈیو کیسے پوسٹ کرسکتا ہوں”.صحافی نے پھر سوال کیا کہ جو ویڈیو ٹویٹ کی گئی اسکو اون کرتے ہیں،جس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ” میں اس ٹویٹ کو اون کرتا ہوں لیکن جو ویڈیو پوسٹ کی گئی وہ نہیں دیکھی اس پر بات نہیں کرونگا”.صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا ایکس ہینڈل کون آپریٹ کرتا ہے؟.جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ٹویٹ کرنے کا صرف وکلاء کو بتاتا ہوں۔

    روم کولر ساری چکیوں میں،اٹیچ باتھ روم بھی نہیں ،نہانے کیلئے دوسری جگہ جاتا ہوں،عمران خان
    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ کو جیل میں فراہم سہولیات سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں،جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ” میں شکایت نہیں کرتا اور چوں چوں کرنے والا نہیں ،مجھے ڈیتھ سیل والی چکی میں رکھا گیا ہے، میرے پاس ایکسرسائز مشین کے علاوہ کوئی سہولت نہیں،روم کولر ساری چکیوں میں لگے ہوئے ہیں میرے سیل میں اٹیچ باتھ روم بھی نہیں ،نہانے کیلئے دوسری جگہ جاتا ہوں نواز شریف اور زرداری کو قید کےدوران لگژری سویٹ دیئے گئے تھے،انکے کھانے بھی باہر سے آتے تھے، نواز شریف اور زرداری کے ساتھ ملاقاتوں کا تانتا بندھا ہوتا تھا،مجھے وکلاء اور فیملی کے ساتھ آدھا آدھا گھنٹہ ملاقات دی جاتی ہے۔

    صحافی کے سوال پر عمران خان غصے میں آ گئے
    صحافی نے سوال کیا کہ آپ اپنے دور اقتدار میں کہا کرتے تھے یہ سہولیات سب قیدیوں کو مل جائیں تو لوگ باہر سے آکر جیل میں رہنا پسند کرینگے۔جس پر عمران خان غصے میں آ گئے اور کہا کہ ” میں نے اب تک ان سے کوئی رعایت یا سہولت نہیں مانگی مجھے کھانا بھی قیدی بناکر دیتے ہیں جس ملک میں استحکام نہیں ہوگا سرمایہ کاری نہیں آئے گی موجودہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ملک کے قرضے بڑھتے جائینگے معاشی حالات دیکھ کر پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہوگی

    عدالت نے عمران خان سے ملاقات کیلیے مختص کمرہ کی تصاویر مانگ لیں

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    احتساب عدالت میں نئے جج کی تعیناتی پر عمران خان کے وکلاء کا اعتراض
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی،کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے کی۔ نئے جج کے ساتھ پراسیکیوشن ٹیم اور وکلاء صفائی کا تعارفی سیشن ہوا، کسی گواہ کا بیان ریکارڈ یا جرح نہ ہوسکی،عمران خان کے وکلا کی جانب سے نئے جج محمد علی وڑایچ کی تعیناتی پر اعتراضات کیا گیا، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ وزارت قانون کا احتساب عدالت کے نئے جج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن غلط ہے، عدالت نمبر ایک کا جج اضافی چارج کے ساتھ کیس کی سماعت نہیں کر سکتا،احتساب عدالت کے نئے جج کی تعیناتی پر پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے بھی اپنے دلائل دیے ،عدالت نے فریقین سے مزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی

  • عدالت نے  عمران خان سے ملاقات کیلیے مختص کمرہ کی تصاویر مانگ لیں

    عدالت نے عمران خان سے ملاقات کیلیے مختص کمرہ کی تصاویر مانگ لیں

    تحریک انصاف کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ کی عمران خان سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مکمل رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیا،جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ کہتے ہیں جیل کے باہر کا اختیار ان کا نہیں تو پھر یہ بھی تو بتائیں کس کا اختیار ہے؟ اگلی سماعت پر بتائیں یہ کس کا دائرہ اختیار ہے عدالت نے جیل میں ملاقات کے لیے مختص کمرہ کی تصاویر مانگ لیں

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے جواب آیا ہے لیکن ملاقات نہ کروانے کی کوئی وجوہات نہیں بتائیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” اس رپورٹ میں حکومت پنجاب کہہ رہی ہے جیل کے باہر کی ذمہ داریاں ضلعی پولیس کی ہیں اسکا کیا مطلب ہے کیا حکومت پنجاب کا اس میں کوئی اختیار نہیں؟اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ یہ ڈپٹی سیکریٹری جیل خانہ جات کا جواب ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ یہ جواب حکومت پنجاب کا ہے اس میں ان کے دستخط ہیں۔جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو یہ ڈائریکشن نہیں دی تھیں سکیورٹی پلان کی رپورٹ آئی ہے وہ ملی آپ کو؟شعیب شاہین نے کہا کہ اس رپورٹ میں تو کوئی تھریٹ نہیں ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عمران خان کی مرضی کے ساتھ ایس او پیز تیار کی گئیں جن پر عمل ہو رہا ہے۔جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ سے اجازت نہ مانگنے اور ایس او پیز فالو نہ کرنے کی بنیاد پر درخواست اس عدالت نے مسترد کی ہے،شعیب شاہین نے کہا کہ یہ کوئی ڈاکومنٹ بھی اندر نہیں کے جانے دیتے۔

    قیدی سے ملاقات کے وقت شیشے کی دیوار کیوں ہوتی ہے؟ عدالت کا استفسار
    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینک میں بھی سیکیورٹی کے ایشوز ہوتے ہیں وہاں چیکنگ آسانی سے ہو جاتی ہے،بینک میں سیکیورٹی بھی ہوتی ہے اور وہاں سہولیات بھی ہوتی ہیں، مجھے یہ بتائیں باقی جو قیدی ہیں انکے وکلاء کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟کیا انکے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟شعیب شاہین نے کہا کہ وکلاء جب جیل میں اپنے کلائنٹ سے ملنے جاتے ہیں ہے تو انکے پاس مختلف دستاویزات ہوتی ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ : آپ نے اس قیدی کے معاملے میں درمیان میں شیشہ کی دیوار لگائی ہوئی اس سے تو بات جیت کیسے ہوتی ہے؟کیا دیگر قیدیوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے”؟ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ہر قیدی سے جب ملاقات ہوتی ہے درمیان میں شیشہ کی دیوار موجود ہوتی ہے،شیشہ لگانے کا مقصد منشیات وغیرہ یا دیگر مشکوک چیز جیل میں نہ پہنچائی جا سکے،سرکاری وکیل نے کہا کہ دیگر جو قیدی ہیں انکو وکلاء کی اجازت نہیں ہے۔

    شعیب شاہین نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ انکو وکلاء سے ملنے نہیں دیا جا رہا،پھر سپریم کورٹ نے ملاقات کی اجازت دی،اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ اڈیالہ میں سنگین جرائم میں ملوث مجرمان قید ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے اب کوئی قیدی اپنے وکلاء سے بھی نہیں مل سکتا؟ ہم جیل میں وکلاء کی ملاقات نہیں کروا سکتے یہ کوئی بات ہے کرنے والی؟عدالت نے رپورٹ اور پولیس دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئےسماعت عید کےاگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

  • قومی اسمبلی اجلاس،نماز جمعہ کیلیے وقفہ نہ کرنے پر مولانا عبدالغفورحیدری کا واک آؤٹ

    قومی اسمبلی اجلاس،نماز جمعہ کیلیے وقفہ نہ کرنے پر مولانا عبدالغفورحیدری کا واک آؤٹ

    اسلام آباد(محمداویس ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہلی بار نماز جمعہ کیلئے وقفہ نہیں کیا گیا .

    ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں سوا گیارہ بجے شروع ہونے والے اجلاس بغیر وقفے کی جاری رہا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی مسجد میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی بھی کر لی گئی رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے نماز کا وقفہ نہ کرنے پر ایوان میں احتجاج کیا اور کہا کہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جمعہ کے دوران اجلاس چلایا جائے، اس پر جے یوآئی کے مولانا عبدالغفور حیدری ایوان سے احتجاجا واک آؤٹ کر گئے احتجاج کے باوجود بھی ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس جاری رکھا حیران کن طور پر مولانا عبد لغفور حیدری کے علاؤہ ایوان میں موجود کسی بھی رکن نے نماز جمعہ کے لیے باجماعت ادائیگی کے آواز نہیں اٹھائی اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رہنما نے کورم کی نشان دہی کر دی جس پر کورم پورا نہیں تھا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس پیر شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا

    اجلاس کے دوران ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ آج بھی ممبرز کے سوالات کےجواب نہیں آئے، آج بھی وقفہ سوالات کو موخر کرتے ہیں،ممبرز بڑی محنت سے سوالات بناتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے جواب نہیں آتا، عامر ڈوگر نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی،وقفہ سوالات معطل کرنے تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی گئی،جے یو آئی ف کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے تحریک کی مخالفت کی.نومنتخب رکن زینب محمود بلوچ نے اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا.نو منتخب رکن علی قاسم گیلانی نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا

    کراچی کربلا بنا ہوا ، مسئلہ سول نافرمانی کی طرف جا رہا .نبیل گبول
    کراچی میں لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کی جانب سے اووربلنگ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا،وزیر مملکت علی پرویز ملک نےتوجہ دلاؤ نوٹس پر جواب میں کہا کہ کے الیکٹرک میں 2 ہزار 109 فیڈر موجود ہیں،1502 فیڈرز پر کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی، ہائی لاس فیڈر پر چھ سے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے،نیٹ میٹرنگ پر منسٹر پاور بیان دے چکے ہیں،کنٹریکٹس میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی، اسد عالم نیازی نے کہا کہ کے الیکٹرک اور نیپرا کا آڈٹ کب ہوا ہے، یہ اووربلنگ کرتے ہیں، نبیل گبول نے کہا کہ کراچی کربلا بنا ہوا ہے مسئلہ سول نافرمانی کی طرف جا رہا ہے،سب بڑے جو یزید ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چاہئے،جو بل دیتے ہیں ان کا کیا قصور ہے،

    ہمارے ساتھی رہا ہورہے اور ان کو پھر گرفتار کر کے لے جایا جارہا ہے.عمر ایوب
    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ سرگودھا میں ہمارے بہت سارے ساتھیوں پر پرچے ہوئے ہیں .ہمارے ساتھی رہا ہورہے ہیں اور ان کو پھر گرفتار کر کے لے جایا جارہا ہے.یہ کیا جمہوریت ہے اس ملک میں؟مجھے ایف آئی اے سے نوٹس آرہا ہے.یہ کیسے ہمیں لیٹر لکھ سکتے ہیں، یہ کوئی عقل کے اندھے ہیں؟کل حکومت نے بانی پی ٹی کے سیل کے تصویریں دکھائیں.بشری بی بی کے پاس کوئی سہولیات نہیں ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں

    خواجہ شیراز محمود نے بات کی اجازت کا مطالبہ کیا،ڈپٹی اسپیکر نے سید علی قاسم گیلانی کو بات کرنے کا موقع دے دیا.سید علی قاسم گیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نواز شریف شہباز شریف اور مریم نواز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری سپورٹ کی ہے،جس سیٹ پر میں بیٹھا ہوا وہ یوسف رضا گیلانی کی سیٹ ہے.ملتان کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں.آئی ٹی ایمرجنسی نافذ کرنی چاہئے.ہمیں ہر فورم پر غزہ کے لئے آواز اٹھانی چاہئے.میں ملتان کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے نفرت، تقسیم اور پروپیگنڈہ کی سیاست کو دفن کرکے ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کو چنا ہے۔

    وزیر داخلہ سے ذمہ د اری واپس لے لیں انہیں کھیل کی ذمہ داری دے دیں. خواجہ شیراز محمود
    خواجہ شیراز محمود نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگ اس وقت ڈاکوؤں نے اغوا کئے ہوئے ہیں، ایک ماہ سے ہمارے علاقے کے تین لوگ ڈاکوؤں کے پاس اغوا ہوئے ہیں.وہ غریب لوگ ہیں، وہ تاوان کی رقم بھی تیار کئے بیٹھے ہیں، وہ رقم دینے روانہ ہوچکے ہیں.ہمارے ادارے اگر پی ٹی آئی کا کوئی کارکن سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ ڈال دیتا ہے اس کو ڈھونڈ لیتے ہیں.ریاستی اداروں کو کہہ رہا ہوں مہربانی کرکے ہماری جان و مال کی ذمہ داری کو پورا کیجئے.وزیر داخلہ سے ذمہ د اری واپس لے لیں انہیں کھیل کی ذمہ داری دے دیں. وزیر داخلہ ہماری باتوں کا جواب ہی نہیں دے رہے

    یورپی کمیشن کے ایئر سیفٹی کمیشن کی لسٹ میں 14 مئی کو پاکستان کو ڈی لسٹ کر دیا گیا .علی پرویز ملک
    عالیہ کامران نے کہا کہ ہم بھی پارلیمان کا حصہ ہیں ہم بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں،جب سوالات کو معطل کررہے تھے تو ہم سے کسی نے نہیں پوچھا، عالیہ کامران نے پی آئی اے کی پروازوں پر یورپی یونین میں پابندی سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا.وزیر مملکت علی پرویز ملک نے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب میں کہا کہ یورپی کمیشن کے ایئر سیفٹی کمیشن کی لسٹ میں 14 مئی کو پاکستان کو ڈی لسٹ کر دیا گیا ہے، جلد از جلد فلائیٹس بحال ہو جائیں گی، جنوری میں تفصیلی ایکشن پلان جمع کرا دیا گیا تھا،

    آج ہماری باری پھر آپ کی باری جن کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے ان کی باری کب ہوگی؟علی محمد خان
    علی محمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل بانی پی ٹی کے سیل کی تصویریں چلائی گئیں آج ہماری باری ہے پھر آپ کی باری ہوگی جن کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے ان کی باری کب ہوگی؟ڈیتھ سیل میں ایک طرف واش روم اس کے ساتھ نماز کی جگہ.یہ توہین برداشت نہیں! تمہاری باری بھی آئے گی.یہ توہین صرف عمران خان کی نہیں، ملک کا سابق وزیراعظم ہے، اسکو کس سیل میں رکھا ہوا.ایسا کیوں کیا جا رہا. کل نواز شریف کے ساتھ آج عمران خان کے ساتھ یہ ہو رہا، بینظیر کے ساتھ ہوا، بھٹو کے ساتھ ہوا،عدالتوں میں خواتین جا رہیں، انکو ٹارچر کیا جا رہا. آج ہماری باری، کل آپ کی باری،جن کی وجہ سے یہ سب ہوا، ان کی باری کب آئے گی، ملکر سوچیں کہ یہ جو ہو رہا نہیں ہونا چاہئے.

    قبائلی محب وطن امن چاہتے ہیں، بھائی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، مبارک زیب خان
    مبارک زیب خان نے کہا کہ میں ضلع باجوڑ سے ہوں، ہمارے بھائی کو بے دردی سے شہید کیا گیا، اسے انصاف دلوائیں،باجوڑ کے لوگ محب وطن اور امن پسند ہیں، لیکن آئے روز دھماکے ،ٹارگٹ کلنگ ہو رہی، میرا بھائی الیکشن لڑ رہا تھا اسکو گولی ماری گئی، ہمیں انصاف دلوائیں.ہمیں امن دیا جائے، ہمیں روزگار،تحفظ دیا جائے. ریاستی ادارے وہاں امن و امان قائم کرنے میں کردار ادا کریں، دہشت گردی ختم کی جائے.ہم امن پسند اور محب وطن ہیں،امن چاہتے ہیں آگے بڑھنا چاہتے ہیں.علاقے کی تعمیر و ترقی کا مطالبہ کرتا ہوں.

    وزیرستان کے لوگوں کے گھر تباہ،لوگ اسلام آباد بیٹھے انکی بات سنی جائے، مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیرستان سے ایک جرگہ آیا ہوا ہے، ان کے گھر تباہ ہیں وہ اپنے گھروں میں جا نہیں سکتے،وہ پریس کلب کے پاس بیٹھے ہیں، یہ 80 ہزار خاندان ہیں، کوئی جا کر ان سے بات کرے،چار لاکھ فی گھر ان کو ملنے ہیں، انہوں نے احتجاج کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی، وہ حکومت کی توجہ چاہتے ہیں، بزرگ بیٹھے ہیں، ان سے بات کی جائے اور انکے مطالبات پورے کئے جائیں، وہاں سروے ہو چکا لیکن رقم نہیں مل رہی، فائل وزیراعظم کے پاس پڑی ہوئی ہے ،ان سے بات کی جائے، ان کی بات سنی جائے .کراچی میں جو بل دے رہا ہے اس کے گھر بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، بل نہ دینے والوں کی سزا بھی ان کو مل رہی ہے جو بل دے رہے ہیں .شرمیلا فاروقی نے کہا کہ روز سوالات موخر ہو جاتے ہیں، میرا کل کا سوال پولیو سے متعلق ہے، اس وقت 44 ضلع میں پولیو دوبارہ سامنے آیا ہے،

    ہمیں بندوق نہیں، قلم ، کتاب اور بچوں کے لئے روزگار چاہئے.اسد قیصر
    اسد قیصر نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل مولانا فضل الرحمان اور عمر ایوب خان نے چمن کے حوالے سے بات کی.اس وقت پشتون بیلٹ سراپا احتجاج ہے،کیونکہ کاروبار بند ہےاسمبلی میں کوئی اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہا.چمن کے لوگوں کے ساتھ بات کرو.ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے .چمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں.ہمیں بندوق نہیں، قلم ، کتاب اور بچوں کے لئے روزگار چاہئے

    شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا .20،20گھنٹے سندھ میں بجلی نہیں ہے.ہم پر بجلی گر رہی ہے لیکن سندھ میں بجلی نہیں ہے.یہاں پر جواب دینے کے لئے کوئی موجود نہیں ہے

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے اپیلیں جلد سماعت کے لئے مقرر کرنے اور سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔پی ٹی آئی وکیل عثمان ریاض گل اور خالد یوسف چودھری عدالت میں پیش ہوئے .شکایت کنندہ خاور مانیکا کی جانب سے کوئی بھی عدالت پیش نہ ہوا۔وکیل عثمان ریاض نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت سماعت کیلئے کوئی ایک وقت مقرر کر دے،اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس پر سماعت میں بھی پیش ہونا ہے، عدالت نے خاور مانیکا کے وکیل کے آنے تک کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    وقفے کے بعد سماعت دوبارہ ہوئی تو جج نے استفسار کیا کہ آپ اپیلوں پر جلد سماعت چاہتے ہیں یا سزا معطلی پر سماعت چاہتے ہیں؟وکیل عثمان گل نے کہا کہ عدالت شکایت کنندہ کے کنڈکٹ کو بھی دیکھے۔جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے شکایت کنندہ کو نوٹس کیا تھا، وہ نہیں آنا چاہتے تو نہ آئیں عدالت کیس سنے گی، بشریٰ بی بی کی حد تک صرف اپیل فکس نہیں کر سکتے، اس طرح سے عدالت کا مائنڈ ظاہر ہوتا ہے،بشریٰ بی بی اور عمران خان دونوں کی جانب سے اپیل ہوتی تو عدالت سماعت کے حوالے سے بہتر پوزیشن میں ہوتی۔

    وکیل عثمان گل نے کہا کہ عدالت 10 منٹ کا وقت دے دے،ہم عمران خان کی طرف سے بھی درخواست دائر کر دیتے ہیں۔ عدالت نے عمران خان کی جانب سے بھی سزا معطلی اور اپیلوں پر جلد سماعت کی درخواست دینے کیلئے وکلا کو مہلت دے دی۔عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کر دیا،وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کی جانب سے بھی عدت میں نکاح کیس کی اپیلیں جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے اور سزا معطلی کی درخواست دائر کر دی گئی،عدالت نے درخواست کے ساتھ بیان حلفی لگانے کی ہدایت جاری کی۔وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خود بھی دونوں کی درخواستوں کو ایک ساتھ مقرر کر سکتی ہے، تاہم اس کے باوجود ہم عمران خان کی جانب سے درخواست دے رہے ہیں۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ملزم کی جانب سے جلد سماعت کی درخواست آئی، عدالت نے چیزوں کو بیلنس کرنا ہوتا ہے،سادہ کاغذ پر درخواست دی گئی ہے، بیان حلفی درخواست کے ساتھ لگائیں،درخواست میں کسی کو پارٹی نہیں بنایا گیا ہے،وکیل نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ پہلی عدالت میں کیس کا فیصلہ محفوظ تھا تاہم دوسری عدالت کو کیس ٹرانسفر کر دیا گیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت جلد مقرر کرنے اور سزا معطلی کی اپیلوں پر فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    سابق وزیراعظم ،تحریک انصاف کے بانی عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انہیں عدالت نے تین مقدمات میں سزا سنائی تھی جن میں سے دو میں معطل ہو چکی ہے،ایک مقدمے میں اپیل زیر سماعت ہے، دوران عدت نکاح کیس کی اپیل دوسرے جج کو منتقل ہو چکی ہے،

    عمران خان کو جیل میں حکومت نے سہولیات دے رکھی ہیں تا ہم سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس میں گزشتہ سماعت پر عمران خان نے ویڈیو لنک پر کہا تھا کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، سہولیات نہیں دی گئیں، آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تو وفاقی حکومت نے عمران خان کو جیل میں دی گئی سہولیات بارے آگاہ کر دیا اور ثبوت کے طور پر تصاویر بھی جمع کروا دیں

    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے موقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں ،اضافی دستاویزات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں،حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہےعمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے توعمران خان کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے،عمران خان کو جیل میں کتابیں، ایئر کولر، ٹی وی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں،عمران خان کو راہداری میں چہل قدمی کی بھی اجازت ہے،ورزش کی مشین بھی دی گئی ہے، ایئر کولر بھی فراہم کیا گیا ہے، کتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں.

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

  • پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں،چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ

    سپریم کورٹ . نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہو گئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سی گرین کلر کا لباس زیب تن کر رکھا ہے.جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی بھی پانچ رکنی لارجر بنچ کا حصہ ہیں

    ‏اپیل کنندہ زہیر صدیقی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آگئے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی تحریری معروضات تیار کر لی ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ اپنی معروضات عدالت میں جمع کرا دیں، کیا آپ فیصلہ سپورٹ کر رہے ہیں؟ وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کو سپورٹ کر رہا ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا آپ مخدوم علی خان کے دلائل اپنا رہے ہیں؟وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرا مؤقف وہی ہے لیکن دلائل میرے اپنے ہیں۔

    درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست کو صرف سیاستدانوں کی حد تک کیوں محدود رکھا, ججز اور جرنیلوں کا معاملہ کیونکر چیلنج نہیں کیا؟ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو نیب قانون کو کیوں تبدیل نہیں کیا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا نا کہ نیب قانون کو , نیب ترامیم اس لیے کی گئیں کیونکہ مخصوص سیاسی رہنما اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صرف سیاست دانوں کو نیب کے دائرہ اختیار میں کیوں رکھا گیا یہ سمجھ سے بالاتر ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بتائیں کونسا بنیادی حق نیب ترامیم سے متاثر ہوا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مرکزی کیس میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تفصیل سے بتا چکا ہوں،نیب ترامیم آرٹیکل 9،14،25 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب ترامیم کیس، نیب کی کاروائی کے لیے عوام کا اختیار کتنا ہے میری سمجھ کے مطابق تو کوئی بھی شہری شکایت درج کر سکتا ہے،یہ اختیار نیب کا ہے پتہ کرے کرپشن ہوئی یا نہیں؟

    آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے،چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ سمیت جن اداروں اور شخصیات پر نیب قانون لاگو نہیں ہوتا اس حوالے سے ترمیم نہیں کی گئی، پارلیمنٹ موجود تھی قانون سازی کر سکتے تھے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 1999 سے 2018 تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں حکومت میں رہیں، تمام عرصے میں کسی سیاسی جماعت نے نیب قوانین میں ایسی ترمیم نہیں کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں عدالت میں فریق نہیں،نیب ترامیم پی ٹی آئی نے چیلنج کی، انہی سے پوچھیں گے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ چیلنج کی گئی نیب ترامیم مخصوص تناظر میں کی گئیں تھی، کرپشن عوام کے بنیادی حقوق متاثر کرتی ہے، عوام کا پیسہ لوٹا جانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیب قوانین کا اطلاق پبلک آفس ہولڈر پر ہوتا ہے، پبلک آفس ہولڈرز صرف سیاستدان نہیں ہوتے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ نیب ارڈیننس کب آیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ 1999 میں آیا تھا,چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نام لیں نا وہ کس کا دور تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مشرف کا دور تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مؤکل کی حکومت آئی تو احتساب ایکٹ بحال کردیتے، پرویز مشرف نے تو کہا تھا نیب کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں کو سسٹم سے نکالنا ہے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست میں بھی کچھ ایسا ہی تھا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری درخواست میں کسی سیاستدان کا نام نہیں لکھا گیا، بظاہر بانی پی ٹی آئی کی حکومت بھی صرف سیاستدانوں کا احتساب چاہتی تھی،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ‏نیب ترامیم سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ، کیا آپ کو نیب پر مکمل اعتماد ہے ، کیا آپ 90 دنوں میں نیب ریمانڈ سے مطمئن ہیں ، کیا آپ 500 ملین سے کم کرپشن پر بھی نیب کی کارروائی حامی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل دوں گا کہ اقلیتی رائے درست نہ تھی

    خواجہ حارث نے کہا کہ دبئی لیکس اور جعلی اکاؤنٹس ہمارے سامنے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏کیا ہم زخم ٹھیک کریں مگر وجہ نہ دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ جو دلائل دینا چاہتے ہیں وہ دیں ،باقی نوٹ کروا دیں ہم پڑھ لیں گے،آپ بتائیں آپ کو کتنا وقت درکار ہو گا،خواجہ حارث نے کہا کہ میں دلائل میں تین گھنٹے سے زیادہ وقت لوں گا،

    سپریم کورٹ،وفاقی حکومت کی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید
    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء تک رسائی نہ دینے کے بیان کی تردید کردی ،وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے موقف کی تردید میں سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کروا دیں ،اضافی دستاویزات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں وکلا سے ملاقات کی تصاویر بھی شامل ہیں،حکومت نے عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست بھی سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا قید تنہائی میں ہونے کا مؤقف بھی غلط ہےعمران خان نے سپریم کورٹ میں وکلاء تک رسائی نہ دینے کا موقف اپنایا، عدالت مناسب سمجھے توعمران خان کے بیان اور حقیقت جانچنے کے لیے کمیشن بھی مقرر کر سکتی ہے،عمران خان کو جیل میں کتابیں، ایئر کولر، ٹی وی تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، عمران خان راہداری میں چہل قدمی کر سکتے ہیں، عمران خان کو ورزش کی بھی اجازت ہے

    شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا.چیف جسٹس
    خواجہ حارث نے کہا عمران خان کی درخواست پر ہائیکورٹ کے بجائے سپریم کورٹ آنے پر اعتراض نہیں بنتا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست کس نے دائر کی تھی؟خواجہ حارث نے جواب دیا ہائیکورٹ میں درخواست ہائیکورٹ بار نے دائر کی تھی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہمارے پاس ہائیکورٹ کا ریکارڈ آگیا ہے وہ پی ٹی آئی کے لوگ تھے، شعیب شاہین صاحب نے حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کی تھی، شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ حامد خان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شعیب شاہین صاحب نے ہائیکورٹ سے یہ کہہ کر التوا لیا تھا کہ ہمارا کیس اب سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم درخواست جون 2022 میں دائر کر چکے تھے، ہائیکورٹ میں درخواست جولائی میں دائر ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس لگنے سے پہلے ہائیکورٹ معاملہ پر اٹارنی جنرل کو نوٹس کرچکی تھی،آپ سپریم کورٹ میں پہلی سماعت پر کہہ سکتے تھے کہ اب ہائیکورٹ میں کیس شروع ہو چکا ہے، ہائیکورٹ بار کے صدر سپریم کورٹ کو آکر کہہ سکتے تھے کیس ہائیکورٹ میں چلنے دیں یا میری درخواست بھی یہاں منگوا لیں، شعیب شاہین اور بانی پی ٹی آئی کا آپس میں تعلق نہیں ہوتا تو ہم کہتے چلو دونوں کو ایک دوسرے کی درخواست کا علم نہیں تھا،

    کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں،چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اگر غلط ہوں تو عدالت میں آکر نشاندہی کریں، اپنی سیاست اور آئینی معاملات کو علیحدہ علیحدہ رکھیں، اس رویے کی وجہ سے ہمارے نظام انصاف کی درجہ بندی نچلی سطح پر ہے،کیمرے پر تو سب تنقید کرتے ہیں، کھلی عدالت میں کوئی بات نہیں کرتا، کہاں ہیں شعیب شاہین؟ سامنے آئیں کھلی عدالت ہے یہاں آکر بات کریں، باہر بات کرنا تو آسان ہے،انصاف نا صرف ہونا چاہئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے، اگر میں نے غلطی کی تو مجھ پر انگلی اٹھائیں، دنیا کی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر اسی وجہ سے گراوٹ کا شکار ہے،اس طرح کے حکم امتناع سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، میری رائے ہے کہ قانون معطل نہیں ہوسکتا ،نیب ترامیم اتنا خطرناک تھا تو اسے معطل کردیتے، 53 سماعتوں تک ترامیم زندہ رہیں، پارلیمنٹ کے قانون کو معطل کرنا پارلیمنٹ کی توہین ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو معطل نہیں کیا جاسکتا،

    سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں اس وقت دلچسپ صورتحال دیکھی گئی جب عمران خان کے وکیل نیب ترامیم کی مخالفت میں دلائل دے رہے تھے تو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا آپکے موکل اتنے ہی ایماندار تھے تو ایمنسٹی کیوں لائی گئی؟جب چیف جسٹس پاکستان نے یہ سوال پوچھا اس وقت علیمہ خان کمرہ عدالت میں موجود تھیں

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے ذریعے اٹارنی جنرل کو نوٹس ہوا تھا، اٹارنی جنرل نے کیوں کوشش نہیں کی کہ کیس دوبارہ لگے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت موسم گرما کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ جب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون بنا تو میں نے عدالت میں بیٹھنا ہی چھوڑ دیا تھا، اس وقت بحث چل رہی تھی کہ اختیار میرا ہے یا کسی اور کا ہے، باہر جا کر بڑے شیر بنتے ہیں لیکن سامنے آکر اس پر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے طاقتور ادارے تھے، بتائیں اس کیس کا کیا بنا؟خواجہ حارث نے کہا کہ طاقتور اداروں کی موجودگی کے باوجود اس کیس میں کچھ ثابت نہ ہو سکا، جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا خواجہ صاحب بتا دیں کون کونسی ترامیم کو چیلنج کیا گیا تھا، آپ نے سیکشن 9 فائیو اے میں ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سیکشن 14 کے حذف کرنے کو چیلنج کیا تھا۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ترامیم کالعدم ہو جاتی ہیں تو نقصان بانی پی ٹی آئی کو اپنے کیس میں ہو سکتا ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نیب قوانین کو بھگت رہے ہیں مگر چاہتے ہیں یہ کرپشن کے خلاف برقرار رہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب کے ادارے میں لوگ خود کرپشن کریں کون دیکھے گا ،اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کہ ادارے پر ادارہ تو نہیں بٹھایا جا سکتا ، چیف جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی پر تو آپ کو بھروسہ کرنا ہوگا ۔

    سپریم کورٹ،وقفے کے بعد سماعت،عمران خان ویڈیو لنک پر سکرین سے غائب
    سپریم کورٹ میں سماعت کا وقفہ ہوا، دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کی ویڈیو لنک پر تصویر نہیں آ رہی تھی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے ٹیکنیکل اسٹاف کو اپنے پاس بلا کر وجہ دریافت کی،عدالتی عملے نے بتایا عمران خان کمرہ عدالت میں ہونے والی گفتگو سن سکتے ہیں مگر کوئی تکنیکی مسئلہ ہے جس کے باعث انکی ویڈیو نہیں آ رہی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فون کر کے پتہ کریں اور مسئلہ حل کریں .

    کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک لسٹ جمع کرائی تھی،
    لسٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2019 میں اس وقت کی حکومت نے نیب ترامیم کی تھیں، آپ چاہتے ہیں اثاثوں کی سیکشن سے کرپشن کی شرط نکال دیں صرف آمدن اور اثاثوں میں فرق ہونا کافی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وزیراعظم سے نہیں پوچھے گا یہ گھر کہاں سے لیا وہ کہے بھائی نے تحفہ دیا تو کیا ہوگا؟خواجہ حارث نے کہا کہ ایسے میں اس کے بھائی سے پوچھا جائے گا, چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس طرح تو یہ گھومتا رہے گا, جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ بانی پی ٹی آئی کو بھی ڈرکونین قوانین سے ایکسپوز کر رہے ہیں،اگر کوئی شخص کرپشن کے کیس میں 10 کروڑ روپے وکیل کو کرپشن کی رقم سے فیس دے تو کیا ہوگا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ایسے میں وکیل کے خلاف بھی کاروائی ہو سکتی ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسے تو پوری فیملی کو پتہ ہوتا ہے ہمارے سربراہ کی آمدن کتنی ہے اور خرچہ کتنا کر رہا ہے کیا ایسے میں تمام فیملی کے خلاف کارروائی ہوگی، میں وکیلوں کو تھوڑا ریسکیو کر رہا ہوں، جسٹس جمال مندو خیل کے ریمارکس پر قہقہے گونج اٹھے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ترامیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار نہیں تھا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسفند یارولی کیس میں سپریم کورٹ نیب کی تمام شقوں کا جائزہ لے چکی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اگر پی سی او نہ ہوتا تو شاید تب پورا نیب قوانین اڑا دیا جاتا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا برطانیہ میں نیب جیسا ادارہ ہے؟ نیب پر آپ کو اتنا اعتماد کیوں ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون اور اسے چلانے والوں میں فرق ہے،دوسرے خلیفہ سے ان کی چادر کا سوال پوچھا گیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے خلیفہ سے جس نے پوچھا تھا وہ عام آدمی تھا،عام آدمی حکمرانوں سے آج بھی پوچھ سکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عام آدمی تو بیچارہ کمزور ہوتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ عوام کی طاقت، ووٹر کی طاقت کو کمزور کیوں کہہ رہے ہیں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیکشن 9 اے 5 کو ترمیم کے بعد جرم کی تعریف سے ہی باہر کردیا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جسٹس منصور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ کیسز دیگر فورمز پر جائیں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایمنسٹی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی.وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے فوجداری پہلو ختم نہیں ہوا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اربوں کی جائیداد کا غبن کرکے کروڑوں روپے کی واپسی کا اختیار بھی ایمنسٹی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایمنسٹی حکومت کی پالیسی ہے.جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایمنسٹی سے حکومت جو کام ختم کرسکتی ہے وہ کام پارلیمنٹ کیوں ختم نہیں کرسکتی.وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ رضاکارانہ رقم واپسی پر عملدرآمد سپریم کورٹ نے روک رکھاہے،رضاکارانہ رقم واپسی اور پلی بارگین کی رقم کا تعین چیئرمین نیب کرتاہے،بحریہ ٹاؤن کیس میں پلی بارگین ہوئی تھی یا رضاکارانہ رقم واپس ہوئی؟460ارب روپے کے عوض سپریم کورٹ نے ریفرنس ختم کر دیےتھے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تمام مقدمات متعلقہ فورم پر چلے جائیں تو کیا کوئی اعتراض ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کالعدم کیے بغیر مقدمات منتقل نہیں ہوسکتے،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب کی 2023 کی ترامیم مقدمات منتقلی کے حوالے سے تھیں،سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران منتقلی سے متعلق نیب ترمیم کا جائزہ نہیں لیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ممکن ہے نیب ترامیم کا آپ کے موکل کو فائدہ ہو، خواجہ صاحب آپ کا ریکارڈ ہے کہ کیس 53 سماعتوں میں سنا گیا،وکیل نے کہا کہ ایمنسٹی پروٹیکشن آف اکنامکس ایکٹ کے تحت ہوتی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک نیب کا سزا یافتہ شخص پلی بارگین کرکے گورنر بن گیا،ایک بات پر تو قوم کیلئے سب ساتھ بیٹھ جائیں،جوائنٹ سیشن میں نیب قانون کو دوبارہ ٹھیک کرلیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو کسی نے منع نہیں کیاکہ نیب قوانین کو سخت یا نرم نہ کریں،کل کو پارلیمنٹ نیب قوانین کو سخت بھی کرسکتی ہے، ترامیم ختم کریں اور کل پارلیمنٹ نیب قانون ہی ختم کردےتوکیا ہوگا؟1999میں مارشل لاء نہ ہوتاتو نیب قانون کا وجود بھی نہ ہوتا.جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب آرڈیننس 1999 سے پہلے احتساب ایکٹ موجود تھا، احتساب ایکٹ کا مقصد بھی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا ہی تھا،

    خواجہ حارث نے جعلی اکاونٹس کیس کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے روک دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے جعلی اکاونٹس کیس کی اپیل ہمارے پاس آئے، کسی کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں، کیس پر بات نہ کریں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ خرابیوں کا مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر مملکت نے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی لیکن کوئی نہیں بیٹھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مائنڈ نا کیجئے گا آپ کو نیب پر بہت اعتماد ہے،کیا اب نیب ٹھیک ہوگیا ہے ؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نہیں اب ٹھیک نہیں ہے نیب پہلے ٹھیک تھا،

    میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے، عمران خان
    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی،بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا.چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟کیا آپ کیس سے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں، کیس سے متعلق ہی بات کیجئے گا، آپ جیل میں اپنے حالات سے متعلق گفتگو کرنے لگ جاتے ہیں.عمران خان نے کہا کہ "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے گزشتہ سماعت پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ، مجھے تکلیف ہوئی کہا گیا کہ میں غیر ذمہ دار سا کریکٹر ہوں اس لئے لائیو نشر نہیں کیا جائے گا "، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "عدالت اپنے فیصلے کی وضاحت نہیں کرتی، آپ نظر ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں” .آپ اپنے کیس پر رہیں،عمران خان نے کہا کہ میں نیب ترامیم کیس میں حکومتی اپیل کی مخالفت کرتاہوں، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ترامیم ہوئیں تو میرا نقصان ہوگا،مجھے 14 سال کی قید ہوگئی کہ میں نے توشہ خانہ تحفےکی قیمت کم لگائی، پونے دو کروڑ روپے کی میری گھڑی تین ارب روپے میں دکھائی گئی،میں کہتاہوں نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ تعینات کرے.نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہتےہیں کہ پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے یا نہیں؟عمران خان نے کہا کہ فارم 47 والے ترمیم نہیں کرسکتے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پھر اسی طرف جارہے جو کیسز زیر التوا ہیں .

    نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے.عمران خان
    جسٹس اطہرمن اللہ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرا نوٹ نہیں پڑھا شاید، نیب سے متعلق آپ کے بیان کے بعد کیا باقی رہ گیاہے،عمران خان آپ کا نیب پر کیا اعتبار رہےگا؟ عمران خان نے کہا کہ میرے ساتھ 5 روز میں نیب نے جو کیا اس کے بعد کیا اعتبار ہوگا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جیل میں جا کر تو مزید میچورٹی آئی ہے، عمران خان نے کہا کہ ستائیس سال قبل بھی نظام کا یہی حال تھا جس کے باعث سیاست میں آیا،غریب ملکوں کے سات ہزار ارب ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں، اس کو روکنا ہوگا،میں اس وقت نیب کو بھگت رہا ہوں ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب ایسے ہی برقرار رہے گی ،عمران خان نے کہا کہ نیب کو بہتر ہونا چاہیے ، کرپشن کے خلاف ایک اسپیشل ادارے کی ضرورت ہے ، جسٹس اطہر من اللہ نے بانی پی ٹی آئی کو چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا معاملہ یاد کرا دیا،عمران خان نے کہا کہ میں جیل میں ہی ہوں ترمیم بحال ہونے سے میری آسانی تو ہو جائے گی ملک کا دیوالیہ ہو جائے گا .حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین نیب پر اتفاق نہیں ہوتا تو تھرڈ امپائر تعینات کرتاہے،نیب اس کے بعد تھرڈ امپائر کے ماتحت ہی رہتاہے،نیب ہمارے دور میں بھی ہمارے ماتحت نہیں تھا.دبئی لیکس میں بھی نام آچکے، پیسے ملک سے باہر جارہے ،

    جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں.جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان آپ کی باتیں مجھے بھی خوفزدہ کررہی ہیں”.عمران خان نے کہا کہ میں ایسا کوئی خطرناک آدمی نہیں ہوں ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ "حالات اتنے خطرناک ہیں تو ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ کر حل کریں،جب آگ لگی ہو تو نہیں دیکھتے کہ پاک ہے ناپاک، پہلے آپ آگ تو بجھائیں”، عمران خان نے کہا کہ بھارت میں اروند کیجریوال کو آزاد کرکے، سزا معطل کرکے انتخابات لڑنے دیاگیا، مجھے 5 دنوں میں ہی سزائیں دے کر انتخابات سے باہر کردیا،

    ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آپ جیل میں ہیں، آپ سے لوگوں کی امیدیں ہیں،عمران خان نے کہا کہ میں دل سے بات کروں تو ہم سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہواہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کچھ بھی ہوگیاتو ہمیں شکوہ آپ سے ہوگا،ہم آپ کی طرف دیکھ رہے، آپ ہماری طرف دیکھ رہے،ملک کو کچھ ہوا تو عدلیہ نہیں سیاستدان ذمہ دار ہوں گے .بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس کا حوالہ دینا چاہا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے روک دیا اور کہا کہ سائفرکیس میں شائد اپیل ہمارے سامنے آئے.

    خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں.چیف جسٹس کا عمران خان سے مکالمہ
    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کیوں نیب بل کی مخالف نہیں کی؟عمران خان نے کہا کہ یہی وجہ بتانا چاہتاہوں کہ حالات ایسے بن گئے تھے، شرح نمو چھ عشاریہ دو پر تھی، حکومت سازش کے تحت گرا دی گئی، پارلیمنٹ جا کر اسی سازشی حکومت کو جواب نہیں دے سکتاتھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب آپ دو مختلف باتیں کررہے ہیں ، ایک طرف آپ احتساب کی بات کر رہے ہیں دوسری طرف ایمنسٹی دیتے ہیں ،عمران خان نے کہا کہ ہم نے حکومت آنے کے بعد بلیک اکانومی کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے ایمنسٹی دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فاروق ایچ نائیک کو بانی پی ٹی آئی کے سامنے کردیا اور کہا کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں دشمن نہیں ، پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسائل حل کریں ، ملک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ، ہم سیاسی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے مگر آپ کو روک نہیں رہے ، ڈائیلاگ سے کئی چیزوں کا حل نکلتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ فاروق نائک صاحب آپ کی بھی ذمہ داری ہے، ہم بنیادی حقوق کے محافظ ہیں مگر آپ سیاستدان بھی احساس کریں ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں .

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خان صاحب آپ سارا دن بہت تحمل سے بیٹھے،نیب نے ریکوڈک کیس میں 10 ارب ڈالر کی ریکوری کیسے لکھ دی، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ ہماری ان ڈائریکٹ ریکوری تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب پراسکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی غلط دستاویز دائر کرنے پر اپ کو توہین عدالت کا نوٹس کریں گے، کدھر ہیں پراسیکیوٹر جنرل کیسے یہ غلط دستاویز پیش کیں، نیب کے یہ والے پراسیکیوٹر آئندہ اس عدالت میں نہ آئیں، چیف جسٹس ریکوڈک ریکوری کا کریڈٹ لینے پر نیب پر برہم ہو گئے. کہا کہ اپ سپریم کورٹ کو مذاق نہ سمجھیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو ایسی رپورٹ لکھتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دلائل مکمل ہو گئے،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر آج کے کیس کی کارروائی مکمل ہو گئی،نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا.سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک ہفتے میں کوئی فریق اگر کوئی دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہے تو کروا دے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا.حکمنامہ میں کہا گیا کہ نیب کا 10 ارب ڈالر ریکوری کا کریڈٹ لینا سرپرائزنگ تھا.اداروں کی جانب سے ایسی غلط دستاویزات جمع نہیں ہونی چاہیے، چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل خود ریکوری اور بجٹ کی اصل رپورٹ پیش کریں، نیب کا گزشتہ 10 سال کا سالانہ بجٹ بھی دیکھنا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق، وفاقی حکومت اس کیس میں اپیل دائر کر سکتی تھی،نیب کا آج جمع کرویا گیا جواب مسترد کرتے ہیں،

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں،محمو د اچکزئی

    اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں،محمو د اچکزئی

    اسلام آباد:صدر تحریک تحفظ آئین پاکستان محمو د اچکزئی کا کہنا ہے کہ میرا مانا ہے اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں لیکن عمران خان مان نہیں رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ عمران خان بالغ اور سمجھدار آدمی ہیں، ہر انسان میں کمزوریاں ہوتی ہیں، میں نے ان کے ساتھ وقت گزارا ہے، کوئی اسے اچھا سمجھے یا برا لیکن یہ بات ماننی ہوگی کہ عمران خان اس ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہےمجھے نہیں لگتا عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے کندھے پر چڑھ کر آئے گا، اگر وہ ایسا کرے گا تو اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارے گا عمران خان کو جتنی اکثریت حاصل ہے ابھی تک اتنی کسی کو بھی نہیں ملی، شہباز شریف اگر اسٹیٹ مین ہیں تو ان کو عمران خان کو رہا کر دینا چاہیئے،عمران خان نے کہاں بھاگنا ہے؟ نواز شریف ، مونا فضل الرحمان اور بلاول ایک کمیٹی بنائیں مسئلے کا حل نکل آئے گا،میرا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں لیکن عمران خان مان نہیں رہے ہیں، میرے مشاہدے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے 50 فیصد سے زائد لوگ موجودہ حالات سے خوش نہیں ہیں

  • بانی پی ٹی آئی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    بانی پی ٹی آئی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس ،کیس کی کاروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست کا معاملہ ،جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ کیس کی کاروائی براہ راست نشر کرنے کی درخواست منظور کی جاتی ہے،بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے براہ راست نشر کرنا ضروری ہے،نیب ترامیم کیس کی 31 اکتوبر 2023 اور رواں سال 14 مئی کی سماعت براہ راست نشر ہوئی،بانی پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں،بانی پی ٹی آئی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں،صرف بانی پی ٹی آئی کی پیشی پر براہ راست نشریات روکنا عدالتی کارروائی کو مشکوک بنا سکتا ہے ، بانی پی ٹی آئی کی پیشی پر براہ راست نشریات روکنا عوام کا اعتماد ختم کرنے کی وجہ بن سکتا ہے،

    عمران خان عام قیدی نہیں، کئی ملین پیروکار، حالیہ عام انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو جب پھانسی دی گئی وہ عام قیدی نہیں تھے، بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی عام قیدی نہیں تھے، سابق وزرا اعظم کیخلاف نیب اختیار کا غلط استعمال کرتا رہا،سابق وزرا اعظم کو عوامی نمائندہ ہونے پر تذلیل کا نشانہ بنایا گیا ہراساں کیا گیا،بانی پی ٹی آئی بھی عام قیدی نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی کے کئی ملین پیروکار ہیں، حالیہ عام انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں،ایس او پیز کا نہ بنا ہونا کیس براہ راست نشر کرنے میں رکاوٹ نہیں، عدالت ریاست کے جبری نظام کے وجود کے تصور کو نظر انداز نہیں کر سکتی، عدالتیں اور ججز واضح حقائق کو نظر انداز کر کے اپنا سر ریت میں نہیں دبا سکتے،نیب کو سیاسی انجینئرنگ، مخالفین کو ہراساں کرنے اور نیچا دکھانے کیلئے استعمال کیا گیا، ناقدین اور سیاسی مخالفین کی من مانی گرفتاریاں اور تذلیل کی گئی، تقریباً تمام سابق وزرائے اعظم نیب کا نشانہ بنے۔

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی