Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کیس ، بانی پی ٹی آئی کو مقدمے کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت

    نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل 5رکنی بینچ کاحصہ تھے ،جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی لارجر بینچ میں شامل تھے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی ویڈیو لنک کےذریعے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب ترامیم کرنا حکومتی پالیسی کا فیصلہ ہے،حکومتی پالیسی میں عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی، پارلیمنٹ کے اختیارات میں عدلیہ مدا خلت نہیں کرسکتی،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی بات کرتا ہوں،میں میڈیا سوشل میڈیا دیکھتا اور اخبارات پڑھتا ہوں،وزیر اعظم نے کالی بھیڑیں کہا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو کہیں کہ جوڈیشری میں کالی بھیڑیں نہیں ہیں، اگر عدلیہ میں کالی بھیڑیں ہیں تو وزیراعظم ریفرنس فائل کریں ،اٹارنی جنرل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ موجود ججز کےلیے استعمال نہیں کیے گئے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ نیب قانون ان لوگوں پر لاگو ہوتا رہا جو حکومت سے باہر رہے،عدالت نے کہا کہ پھر وہی لوگ جو حکومت میں آتے ہیں تو دوسرے لوگ نیب کی زد میں آجاتے ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب ترامیم کیسے آئین سے متصادم تھیں وجوہات کیا بتائی گئیں؟قانون میں طے کردہ کرپشن کی حد سےکم کیسز دیگر عدالتی فورمز پر چلانے کا ذکر ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پانچ پانچ لاکھ روپے کے مقدمات بلوچستان ہائیکورٹ میں چلتے رہے،پارلیمنٹ سزا کم رکھے یا زیادہ خود فیصلہ کرے یہ اس کا کام ہے،جسپریم کورٹ تو صرف قانون کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لے سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا نیب ترامیم سے مجرموں کو فائدہ پہنچایا گیا ؟وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ نیب ترامیم سے جرائم کی نوعیت کو واضح کیا گیا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا کچھ لوگوں کی سزائیں نیب ترامیم کے بعد ختم نہیں ہوئیں؟کیا نیب سیکشن 9 اے پانچ میں تبدیلی کر کے نواز شریف کی سزا ختم نہیں کی گئی؟ نواز شریف کا کیس اثاثوں کا تھا جس میں ثبوت والی شق تبدیل کی گئی، نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کی گئیں

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخو ا حکومت اپنے صوبے میں یہ قانون لاسکتی ہے ؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ خیبرپختونخو ا حکومت ایسا کرسکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخو ا حکومت اپنے طور پر قانون بنا سکتی ہے ،خیبرپختونخو ا میں احتساب ایکٹ اس لیے ختم ہوا کہ وہاں نقصان ہورہا تھا،وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی وزراء پریس کانفرنسز کرکے نیب قانون کے خلاف بیانات دیتے رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی تو آسان دلیل ہے کہ اقلیتی فیصلے کو اکثریتی فیصلہ کردیں،وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کسی قانون کی سزا کو مکمل ختم بھی کردے تب بھی اسے یہ اختیار حاصل ہے پارلیمنٹ عدالتوں پر بوجھ کم کرنے کےلیےقانون سازی کرسکتی ہے،اکثریتی فیصلے میں 100 ملین روپے کی کرپشن تک نیب کو کارروائی کاکہا گیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کرپشن کی حد کا اصول عدلیہ کیسے طے کرسکتی ہے؟اقلیتی رائے میں کہا گیا ریٹائرڈ ججز اورجرنیلوں کو نیب قانون سے استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے، کیا آپ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں ؟وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میری رائے ایسی ہی ہے لیکن اٹارنی جنرل بہتر جواب دے سکتے ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہ کہ پرویز مشرف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب تحقیقات کی بات کی،کسی جج کو نیب قانون سے کیسے استثنی ٰ دیا جاسکتا ہے؟ہم ججز مقدس گائے کیوں ہیں؟ کسی کو بھی قانون سے ماورا نہیں ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سروس آف پاکستان کی تعریف میں ججز نہیں آتے، ججز آئینی عہدے ہیں،

    مجھے یہاں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،میرے پاس مقدمے کی تیاری کا کوئی مواد نہیں،عمران خان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سماعت ملتوی کرتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ 8فروری کو ملک میں ڈاکہ ڈالا گیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ بات اس وقت نہ کریں، ابھی نیب ترامیم والا کیس سن رہے ہیں،عمران خان نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق 2درخواستیں آ پ کے پاس ہیں، چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ اس میں آپ کے وکیل کون ہیں؟عمران خان نے کہا کہ ان درخواستوں میں میرے وکیل حامد خان ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان سینئر وکیل ہیں، انہوں نے باہر جاناتھا توا ن کو مقدمے میں تاریخ دی ،عمران خان نے کہا کہ جیل میں ون ونڈو آپریشن ہے جس کو ایک کرنل چلاتے ہیں، آپ ان کو آرڈر کریں کہ میری قانونی ٹیم سے ملاقات کروانے دیں،مجھے یہاں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے،میرے پاس مقدمے کی تیاری کا کوئی مواد نہیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کو ساری چیزیں مہیا کردی جائینگی،ہم آپ کے سامنے آرڈر کردیتے ہیں، آپ کونسی لیگل ٹیم ملنا چاہتے ہیں ؟ عمران خان نے کہا کہ میں خواجہ حارث سے ملنا چاہتا ہوں،عدالت نے کہا کہ خواجہ حارث سابق چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرسکتے ہیں،

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔جسٹس اطہر من االلہ نے سماعت لائیو نشر کرنے کی حمایت کر دی اور ریمارکس دئیے کہ کیس پہلے لائیو چلتا تھا تو اب بھی لائیو چلنا چاہیے، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا کہنا تھا یہ کیس عوامی مفاد اور دلچسپی کا ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ کیس ٹیکنیکل ہے، اس میں عوامی مفاد کا معاملہ نہیں، لائیو اسٹریمنگ پر تھوڑی دیر تک بتاتے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے، سماعت براہ راست دکھائی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ عوامی مفاد کا مقدمہ نہیں آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، بعد ازاں بینچ نے مشاورت کے بعد براہ راست نشریات کی درخواست چار ایک کے تناسب سے مسترد کردی، جسٹس اطہر من اللہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ انتظار کروانے پر معذرت خواہ ہیں، بینچ نے کوئی جلدی میں فیصلہ نہیں کیا، تمام ججز سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی درخواست دائر کر رکھی ہے،عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ویڈیولنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے علاوہ ازیں خیبر پختو نخوا حکومت نے بھی سماعت لائیو دکھانے کیلئے درخواست دائر کی ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نیب ترامیم کو چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کو بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر کالعدم قرار دیا تھا تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

    نیب ترامیم کیس لائیو نشر کرنے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

  • اڈیالہ جیل میں بھارتی سفارتخانے کے وفد کی کن قیدیوں سے ہوئی ملاقات؟

    اڈیالہ جیل میں بھارتی سفارتخانے کے وفد کی کن قیدیوں سے ہوئی ملاقات؟

    بھارتی سفارتخانے کے وفد نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا اور قیدیوں سے ملاقات کی تھی

    بھارتی سفارتخانے کے وفد نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کن قیدیوں کے وفد سے ملاقات کی، تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، بھارتی سفارتخانے کے تین رکنی وفد نے سخت سیکورٹی میں اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا جہاں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی قید ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں،بھارتی سفارتخانے کے وفد کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار دو بھارتی قیدیوں سے ملاقات ہوئی ہے، دونوں بھارتی شہریوں کو گلگت بلتستان سے 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا، پاکستان نے بھارتی جاسوسوں کو سفارتی رسائی فراہم کی ہے.

    بھارتی سفارتخانے کے وفد کی پیر کی روز اڈیالہ جیل میں بھارتی جاسوسوں سے ملاقات ہوئی ہے، پاکستانی دفتر خارجہ نے اس ضمن میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تا ہم میڈیا پر بھارتی وفد کے اڈیالہ جیل کے دورے کی خبریں نشر ہو چکی ہیں، بھارتی شہریوں فیروز احمد لون اور نورمحمد وانی دونوں گریز کے رہائشی ہیں، انہیں پاکستان نے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل میں منتقل کیا تھا،بھارت نے دونوں جاسوسوں کے لئے سفارتی رسائی مانگی تھی ،پاکستان نے بھارتی مطالبے پر جاسوسوں سے ملاقات کروائی.ملاقات کے دوران پاکستانی وزارت داخلہ کے حکام بھی موجود تھے

    بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بھی پاکستان کی حراست میں ہے، کلبھوشن کو پاکستان نے بلوچستان سے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا، کلبھوشن یادیو کو کہاں رکھا گیا ہے، اس بارے کوئی اطلاع نہیں،کلبھوشن کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا.کلبھوشن کو عدالت نے سزائے موت سنا رکھی ہے،

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    عمران خان کا سوشل میڈیا اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

  • لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے صدر منتخب ہو گئے ہیں

    نواز شریف نےن لیگ کا صدر منتخب ہونے کے بعد خطاب کیا،نواز شریف نے اپنے خطاب میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے لندن پلان بارے انکشافات کی تصدیق کی، مبشر لقمان کے انٹرویو بارے نواز شریف نے اپنے خطابات میں ذکر کیا اور جو بات مبشر لقمان نے کہی تھی وہی بتائی، نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کے خلاف سچے کیسز ہیں، کونسا ایسا کیس ہے جو غلط ہیں، جھوٹ ہے، ذرا مجھے بتائیں آپ یعنی عمران خان نے تو سیاست ہی ان کے کندھوں پر بیٹھ کر شروع کی، آج آپ وہ ٹیپ سنیں، میں نے بنی گالا میں عمران خان کو کہا کہ آئیں مل کر ملک کی خدمت کریں، مجھے ان کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ان کے پاس گیا۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن پلان کا ذکر کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے ویڈیو کے بارے بھی بات کی جس میں مبشر لقمان نے لندن پلان کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں، مبشر لقمان نے نیا دور کو ایک انٹرویو دیا تھاجس میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "لندن پلان کے سلسلے کی کئی میٹنگز میں میں خود موجود تھا 2013 میں اسلام آباد میں ملک ریاض کی رہائش گاہ پر وہ، محسن بیگ اور ایک حاضر سروس فوجی افسر موجود تھے جب ملک ریاض کو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کا فون آیا اور وہ اٹھ کر ان سے ملاقات کے لیے چلے گئے کچھ دیر بعد واپس آئے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ جنرل ظہیر الاسلام کا پیغام لے کر وزیر اعظم نواز شریف کے پاس جا رہے ہیں،نواز شریف سے ملاقات کر کے لوٹے تو ملک ریاض کے چہرے کے رنگ اڑے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ میں نے نواز شریف کو جنرل ظہیر الاسلام کا پیغام دیا کہ استعفیٰ دے دیں ورنہ گرفتاریاں ہوں گی اس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ جو کرنا ہے کر لو، میں استعفیٰ نہیں دوں گا، ملک ریاض جب واپس آئے تو غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ نواز شریف آرام سے بیٹھا ہوا ہے اور اسے کوئی فکر ہی نہیں ہے”۔

    نواز شریف نے مبشر لقمان کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لندن چلے گئے جہاں لندن پلان بنا، صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ میں خود اس میٹنگ میں تھا، میں نے ہی اس ہوٹل کا بل ادا کیا تھا، اس میں طاہر القادری، عمران خان، چوہدری پرویز الہی اور ایک جنرل صاحب تھے، اس کے بعد انہوں نے دھرنا دے دیا ،اس کے بعد دھرنوں کے دوران میرے پاس ایک بندہ بھیجا گیا کہ نواز شریف آپ استعفی دیں اور گھر جائیں، یہ میں آپ کو وہ بتا رہا ہوں جو وزیراعظم پر گزر رہی ہے، ہمارے وزیراعظم ایسی ایسی چیزوں سے گزرے ہیں اور مجھے کہا گیا کہ آپ تیار رہیں، آپ کے ساتھ وہ سلوک کیا جائیگا جس کو آپ یاد رکھیں گے،میں نے انہیں کہا کہ آپ نے جو کرنا ہے کرلیں، نواز شریف کبھی استعفی نہیں د ے گا، اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ میں اس میٹنگ میں بھی موجود تھا، وہ شخص جب آپ سے بات کرنے گیا تو واپس آکر کہتا ہے کہ نواز شریف تو مطمئن اپنی جگہ پر بیٹھا ہے، وہ کہتا ہے جس نے جو کرنا ہے، کرلے، اس کے بعد وہ موصوف جو لندن گئے تھے ظہیر الاسلام کہتے ہیں کہ ہم نے مختلف پارٹی کو ٹرائی کیا، ہم نے تیسری قوت کو اجازت دی، وہ تیسری وقت ہمیں لگا کہ شاید ڈیلیور کرسکتی ہے، وہ سسٹم ہمیں پی ٹی آئی کے اندر نظر آیا۔

    نواز شریف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان باقی سب باتوں کو چھوڑیں، ہمیں طعنہ دینے اور ہم پر انگلی اٹھانے سے پہلے بتائیں کیا وہ تیسری قوت آپ نہیں تھے، اگر وہ آپ نہیں تھے میں سیاست سے ریٹائر ہو کر گھر جانے کو تیار ہوں، میں سیاست چھوڑ دوں گا، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تیسری قوت کا اشارہ آپ کی طرف نہیں تھا تو میں سیاست بھی چھوڑنے کو تیار ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ انہی لوگوں نے آپ کی سیاست کی بنیاد رکھی، ہماری حکومت کا تختہ بھی آپ نے الٹوایا ان کی لوگوں کی مدد سے، ان کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے تھے کہ وزیراعظم ہاوس کے سامنے دھرنا ہو رہاہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف تمھارے گلے میں رسہ ڈلا کر کھینج کر تمہیں باہر لائیں گے، کس کی ایما پر اتنی بڑی بڑی دھمکیاں دے رہے تھے، کیا یہ وہی ایمپائر کی انگلی نہیں تھی جس کا عمران خان بار بار ذکر کرتے ہیں۔ عمران خان ان باتوں کا جواب دیں گے تو اس کے بعد آپ ہم سے بات کرنا، آپ کے کیس میں کوئی میرٹ نہیں، آپ ان لوگوں کی پیداوار ہیں، 2018 کے الیکشن میں جو ہوا، ان لوگوں کے ساتھ ساتھ اس کے بھی آپ ذمہ دار ہیں، ہم 28 مئی والے ہیں، 9 مئی والے نہیں ہیں۔

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • عمران خان کا سوشل میڈیا  اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

    عمران خان کا سوشل میڈیا اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ہے

    کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جیل میں بیٹھا شخص گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہا ہے، قوم آنکھیں کھولے، بانی پی ٹی آئی کی لڑائی کسی سیاسی جماعت یا کسی ادارے سے نہیں پاکستان سے ہے،تحریک انصاف کنفیوژن کا شکار ہے ،عمران خان کو ملک کیخلاف لانچ کیا گیا، پاکستان کی نامور ہستیوں نے عمران خان کی لانچنگ سے پہلے سب کہہ دیا تھا، ان کے بارے میں وزیراعظم کے خدشات غلط نہیں ہیں،کے الیکٹرک کے عارف نقوی عمران خان کا فنانسر تھا, 2018 سے پہلے عمران خان نے قرضے معاف کرانے اور سہولتکاروں کے بارے میں کیا کہا تھا، لوگوں کے 40،40 ارب روپے عمران خان نے خود معاف کیے، ایف بی آر،نیب اور اینٹی کرپشن کو ایکشن لینا چاہیے ،عمران خان نے اپنے اکاؤنٹ سے ویڈیو لگائی، آپ کو پتہ چل گیا تھا تو ویڈیو ڈیلیٹ کر دیتے،عمران خان کے پرسنل اکاؤنٹ سے ٹویٹ ہوئی ہے اور میری اطلاع یہ ہے کہ پرسنل اکاؤنٹ اڈیالہ جیل سے آپریٹ ہو رہا ہے. الزامات پہلی بار نہیں لگے، جی ایم سید، باچا خان، فاطمہ جناح ، پیپلز پارٹی اور نواز شریف پر یہی الزامات لگے، اس ریاست میں یہ ہوتا رہا ہے کہ آج جو غدار ہے وہ کل وفادار ہو جائے، الزامات کی باتیں چھوڑیں آگے چلنے کا راستہ نکالیں،

    کوئی سفارشی نہیں ہے، جس نےکام کرنا ہے اس نے یہاں رہنا ہے،شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کی بہتری کیلئے کام کررہے ہیں ، موٹر رجسٹریشن آفس سوک سینٹر پاکستان کا سب سے بڑادفتر ہے ، عوام کو آسانیاں فراہم کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں عوام کو مشکل سے بچانے کیلئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو بائیومیٹرک اور ایئرکنڈیشنڈ کردیا ہے، ایکسائز کے افسران ہی ایکشن لے رہے ہیں، یہاں کوئی سفارشی نہیں ہے، جس نےکام کرنا ہے اس نے یہاں رہنا ہے ، ہم اپنے اداروں ،ٹریفک پولیس کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں، ٹریفک پولیس اس دھوپ میں بھی ٹریفک کو مینج کررہا ہے، ان کے بھی گھر اور خاندان ہوتے ہیں، ہمیں اپنی فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، جہاں غلطیاں اور کوتاہیاں ہوتی ہیں سزا ملتی ہے۔

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • دوران عدت نکاح کیس،اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    دوران عدت نکاح کیس،اپیلوں پر فیصلہ نہ سنایا جا سکا

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ دوران عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سماعت سلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی، دوران سماعت عدت نکاح کیس میں پی ٹی آئی وکلا نعیم پنجو، خالد یوسف اور دیگر پیش ہوئے جبکہ کہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہرخاورمانیکا بھی کمرہ عدالت میں آئے۔

    کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلا اور خاورمانیکا کے درمیان شدید تلخ کلامی
    کمرہ عدالت میں پی ٹی آئی وکلا اور خاورمانیکا کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی دوران سماعت خاور مانیکا نے عدالت کو بتایا کہ مجھے کچھ کہنے کے لیے 10 منٹ دئیے جائیں، میں بتانا چاہتا ہوں گا کہ میں کس دکھ سے گزر رہا ہوں، جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ اپنے وکیل سے کہیں کہ آپ کی بات بتائیں، جس پر خاورمانیکا نے کہا کہ میرے احساسات میرا وکیل نہیں بتا سکتا، مجھے معلوم ہے کیا فیصلہ ہونا ہے۔ جس پر وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ خاورمانیکا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں،جس پر خاورمانیکا نے کہا کہ میں تم سے بات نہیں کررہا، عدالت سے کر رہا ہوں، خاور مانیکا نے بتایا کہ میں دیہات سے تعلق رکھتا ہوں میں غریب آدمی ہوں، میری سن لیں۔ خاورمانیکا کے جملے پر پی ٹی آئی کارکنان نے نعرے بازی کی۔

    خاورمانیکا کمرہ عدالت میں آبدیدہ ،بولے ، بچوں کو بتایاکہ مجھے طلاق ہوگئی تو بچے بہت روئے،
    خاور مانیکا نے بتایا کہ میرے 2 وکیل ہیں جو میرے علاقے سے ہیں، ہر روز میرے بارے میں باتیں پھیلائی جارہی ہیں میری بیٹی کی طلاق کے بارے میں باتیں پھیلائی جارہی ہیں، جعلی طلاق لیٹر بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے کچھ دنوں سے چہ میگوئیاں ہورہی ہیں آج یہ بات ہورہی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم ہے، اس کی عزت ہے تو غریب آدمی کی کیوں نہیں؟خاورمانیکا کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ جب بچوں کو بتایاکہ مجھے طلاق ہوگئی تو بچے بہت روئے، میری ماں دکھ سے وفات پا گئی، اللہ و رسول کے نام پر بانی پی ٹی آئی نے دھوکا دیا، چار سال تک کسی نے نہیں پوچھا آپ کا مسلہ تو نہیں ہوا، سب نے کاموں کیلئے مجھ سے رابطہ کیا، پرویز الہی اپنے بچے کے کام کے لیے میرے پاس آیا، میری بیٹی کوطلاق ہوگئی ہے، گھرسے فارغ ہوکربیٹھی ہے، بشریٰ بی بی کہتی میرے لیے میرے بچے مرگئے۔

    خاور مانیکا نے اپنا وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کردی
    خاور مانیکا نے عدالت میں کہا کہ میں نے یکم جنوری کا نکاح نامہ عدالت میں دیکھا مجھے دھمکیاں دی جا رہی ہیں غریب آدمی کی بات بھی سنیں مجھے اس عدالت پر یقین نہیں ہے، مجھے صرف اللہ پر یقین ہے مجھے غریب سمجھ کر سوچیں کہ میرے گھر کے ساتھ کیا ہوا ہے، میرا گھر تباہ ہوگیا، میں آپ سے فیصلہ نہیں کروانا چاہتا مجھے لگتا ہے آپ انفلوئنس ہوئے پڑے ہیں آپ فیصلہ نہ دیں، رضوان عباسی دلائل نہ دیں، اس موقع پر خاور مانیکا نے اپنا وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کردی۔

    دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے کوئی بات قانون کے مطابق نہیں کی آپ کیس کی کارروائی مکمل کرچکے ہیں، جج نے رضوان عباسی کو ہدایت کی کہ آپ مانیکا صاحب کے ساتھ بات کرلیں، جس پر خاور مانیکا نے کہا کہ میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتا، آپ ہمارا کیس ٹرانسفر کردیں، جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ اس اسٹیج پر میں کیس ٹرانسفر نہیں کر سکتا، خاور مانیکا نے کہا کہ ہمارا بچا ہوا گھر بھی تباہ کیا جا رہا ہے، ہاتھ باندھ کر کہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر فیصلہ دیں ۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بندہ جیل میں بیٹھا ہے، ہمیں عدالت پر یقین ہے جو عدالت کا فیصلہ کرے ٹھیک ہے،جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ ان کے بیان کے بعد جو بھی فیصلہ آیا وہ متنازع ہوجائے گا، اس موقع پر جج کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے جب کہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کی خواتین نے خاور مانیکا کے خلاف نعرے لگانے شروع کردئیے۔

    ہائیکورٹ ان اپیلوں کو نمٹانے کے لیے ٹائم فریم فکس کرے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج
    بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے خاور مانیکا کی جانب سے کیس منتقل کرنے کی استدعا کے حوالے سے ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ اس کیس کے مدعی خاور مانیکا نے عدالت میں مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے مدعی مقدمہ خاور مانیکا نے کھلی عدالت میں عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جب کہ مدعی کی اسی طرح کی ایک اپیل پہلے بھی مسترد ہوچکی ہے،خاورمانیکا کے دوبارہ عدم اعتماد پر اپیلوں پرفیصلہ سنانا درست نہ ہوگا-جج نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ مدعی مقدمہ اور ان کے وکیل کیس میں بلاوجہ تاخیر کے مرتکب ہوئے ہیں اعتراض کے بعد درخواست کی جاتی ہے کہ اس کیس کو کسی اور جج کے پاس ٹرانسفر کیا جائے، ہائیکورٹ ان اپیلوں کو نمٹانے کے لیے ٹائم فریم فکس کریں-

    خاور مانیکا پر احاطہ عدالت میں حملہ
    پی ٹی آئی وکیل کی جانب سے خاور مانیکا پر حملہ کیا گیا،خاور مانیکا پر کمرہ عدالت میں بھی خواتین نے بوتلیں پھینکیں، کمرہ عدالت کے اندر خاتون کارکن نے خاور مانیکا کو تھپڑ رسید کیا،کمرہ عدالت کے باہر خاور مانیکا پر پی ٹی آئی وکلا نے تھپڑوں کی بارش کر دی،خاور مانیکا پر وکیل کے تشدد کے بعد ان کے ساتھ موجود وکلا نے انہیں بچایا اور عدالت میں لے گئے،عدالت میں جج کے چیمبر میں جانے کے بعد بھی پی ٹی آئی وکلا نے کمرہ عدالت میں خاور مانیکا کو بوتلیں ماریں۔

    واضح رہے کہ عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر آج فیصلہ سنایاجانا تھا جو نہ سنایا جا سکا،سلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے عدت نکاح کیس کے حوالے سے 23 مئی کو دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے محفوظ کیا تھا،عدت نکاح کیس میں وکیل عثمان گِل نے سزا کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے-ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے دوران عدت نکاح کیس کی سزا کے خلاف سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت کی تھی۔

    خاور مانیکا نے عدالت میں فحش باتیں کیں، شبلی فراز
    عدت میں نکاح کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ نہ سنائے جانے پر تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ردّعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جج پر کیس نہ سننے کے لیے دباؤ ڈالا گیا،تحریک انصاف کے رہنماؤں شبلی فراز اور عمر ایوب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ک خاور مانیکا نے عدالت میں نامناسب الفاظ کا استعمال کیا، آج 9 بجے فیصلہ ہونا تھا، پراسیکیوٹر موجود نہیں تھا، خاور مانیکا نے کمرۂ عدالت میں غلط الفاظ استعمال کیے،جج صاحب کو کہا گیا یہ کیس آپ نہیں سنیں گے، جج نے کہا میں ہائی کورٹ کو خط لکھوں گا، شبلی فراز کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا نے عدالت میں فحش باتیں کیں، انصاف کے منصب پر بیٹھ کر ججز کو انصاف کرنا چاہیے ، سیاسی طور پر بنائے گئے کیسز میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جنہوں نے خواتین پر جھوٹے سیاسی کیس بنائے اس سے خواتین کی توہین ہوئی، عدالتوں پر یقین ہے ہمیں ضرور انصاف ملے گا۔

    دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی ، بیرسٹر سلمان صفدر، سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری اور عثمان ریاض گل پیروی کریں گے۔اپیل میں وفاق اور خاور فرید مانیکا کو فریق بنایاگیا ہے،عمران اور بشریٰ کی جانب سے عدالت میں دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیاگیا ہے کہ طلاق اپریل2017 میں ہوئی اور اگست2017 میں والدہ کے گھر منتقل ہوگئی تھی،طلاق کے6 سال بعد درخواست دی گئی،تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد حق رجوع نہیں بنتا، عدالت نے دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود سماعت کی اور سزا سنائی،عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ غیر قانونی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور انصاف کے برخلاف ہے،اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدت میں نکاح کیس کے 3 فروری کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،ٹرائل کورٹ کا تین فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے.

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے حکومت دو ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا؟شیری رحمان

    کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے حکومت دو ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا؟شیری رحمان

    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نےعمران خان کے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے سوشل میڈیا اکائونٹ پر جس طرح کی بیان بازی کی جاری ہے وہ تشویشناک ہے،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف مسلسل نفرت اور اشتعال کے بیانیے کو ہوا دے رہی ہے،عمران خان سے منسوب بیان میں وہ خود کا شیخ مجیب سے موازنہ کر رہے ہیں،تحریک انصاف آئین، جمہوری اصولوں اور ملک کی دھجیاں بکھیر کے "غدار” ڈھونڈنے نکلے ہیں،انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کو وفاقی حکومت بنانے کی دعوت دی لیکن اپنی انا اور نااہلی کی وجہ سے یہ حکومت نہیں بنا سکے،اب یہ شیخ مجیب بننے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کو کئی بار ڈائیلاگ کی دعوت دی ہے لیکن انہوں نے سیاسی جماعتوں سے نہیں کسی اور سے مذاکرات کرنے ہیںجب ادارے ان سے مذاکرات کرنے سے انکار کریں تو ان کو شیخ مجیب یاد آ جاتا ہے،عمران خان کس طرح کا پیغام دے رہے؟ کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے حکومت دو ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا؟ عمران خان ‘میں نہیں تو ملک نہیں’ کی سیاست نا کریں، تحریک انصاف غداری کے سرٹیفیکٹ دینا بند کرے، اس انتشار اور نفرت کی آگ نے ملک کو پہلے ہی بہت نقصان دیا ہے،

    یہ لوگ ملک دشمن ، کہتے ہیں کہ ہم نہیں تو پاکستان بھی نہیں،عطا تارڑ

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • بھارتی سفارتخانے کے وفد کا اڈیالہ جیل کا دورہ

    بھارتی سفارتخانے کے وفد کا اڈیالہ جیل کا دورہ

    بھارتی سفارتخانے کے 3 رکنی وفد کی اڈیالہ جیل آمد ہوئی ہے

    اڈیالہ جیل آنے والے بھارتی سفارتخانے کے وفد میں فرسٹ سیکرٹری سمیت 2 سٹاف ممبر شامل تھے، بھارتی سفارتخانے کے وفد نے اڈیالہ جیل میں قید بھارتی قیدی سے ملاقات کی، وفد بھارتی قیدی سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے.

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

  • یہ لوگ ملک دشمن ، کہتے ہیں کہ ہم نہیں تو پاکستان بھی نہیں،عطا تارڑ

    یہ لوگ ملک دشمن ، کہتے ہیں کہ ہم نہیں تو پاکستان بھی نہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے دنیا کے امن کو غزہ میں امن سے مشروط قرار دیا، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے مسئلہ فلسطین پر عالمی فورمز پر بات کی ، مظلوم فلسطینیوں تک پیغام پہنچے گا کہ دنیا کے ممالک ان کی صورتحال پر تشویش میں ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے .ایس آئی ایف سی کے تحت چائنہ، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودیہ، یورپین یونین، امریکہ اورمشرق وسطی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں جس سے سرمایہ کاری کو فروغ ملےگا۔ اس کی مثال یو اے ای کی سرکاری ایجنسی کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کیلئے مختص کرنے کی رپورٹ ہے۔

    کیا شیخ مجیب پر 190 ملین پاؤنڈ کا کیس تھا ؟ کیا انہوں نے بھی تحائف بیچے؟ عطا تارڑ
    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں اس وقت سرگرم ہیں، 2024 کی صورتحال کو 1971 سے کس طرح ملایا جارہا ہے، کون ملا رہا ہے، ان کا ایجنڈہ کیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں خان نہیں تو پاکستان نہیں، یہ اپنے آپ کو شیخ مجیب سے ملا رہے ہیں، آپ نے 1971 کی تاریخ کبھی پڑھی ہے؟ شیخ مجیب کی تصویریں لگا کر غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا شروع کردیئے ہیں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا میں نہ رہا تو پاکستان ٹوٹ جائے گا ،سیاسی مفادات اور اپنی بقاء کو پاکستان کی بقاء سے جوڑا جاتا ہے ، بانی چیئرمین نے اپنی خواہش پر وزرائے خزانہ سے آئی ایم ایف کو خط لکھوایا،آپ کی خواہش پر پاکستان تباہ نہیں ہو گا ، بار بار نظام کو ڈی ریل کرنے کی کوششیں کی گئیں، کیا قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کھیلنے کے لئے ہوتی ہے؟ آپ نے اپنے دور میں دوست ممالک سے کیا رویہ اپنایا ؟کیا شیخ مجیب پر 190 ملین پاؤنڈ کا کیس تھا ؟ کیا انہوں نے بھی تحائف بیچے؟ مظلوم وہ ہے جس نے بلیک مارکیٹ میں تحائف نہ بیچے ہوں، مظلوم وہ ہوتا ہے جس نے پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ مل کر 190 ملین پاؤنڈ کا ڈاکا نہ مارا ہو ، عدت والا کیس ہم نے نہیں کیا، خاور مانیکا نے کیا،سائفر کیس میں آپ نے سیاسی فائدہ اٹھایا اور ملک دشمن بیانیہ بنایا،یہ لوگ ملک دشمن ہیں، کہتے ہیں کہ ہم نہیں تو پاکستان بھی نہیں،یہ ملک 27 رمضان کو وجود میں آیا، یہ تا قیامت رہے گا مگر آپ کی ملک دشمنی عیاں ہے،

    ملک ریاض کو چاہئے تھا شامل تفتیش تو ہوتے، عطا تارڑ
    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ملک ریاض کو چاہئے تھا کہ باہر بیٹھ کے تو بات نہیں ہوتی، شامل تفتیش تو ہوتے، پلیز میری یہ بات میوٹ نہ کیجیے گا میری ٹی وی چینلز سے درخواست ہے اور مجھے پتہ ہے بعد میں مجھے اسکا بہت نقصان ہونا ہے جتنے وہ طاقت ور ہیں، اللہ کو جانی دینی ہے اسکے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے.

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • دباؤ کا سامنا،ہتھیار نہیں ڈالوں گا، ملک ریاض

    دباؤ کا سامنا،ہتھیار نہیں ڈالوں گا، ملک ریاض

    بحریہ ٹاؤن کے مالک،پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض ایک بار پھر پاکستان میں خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں

    سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت ہو رہی ہے، گواہوں کے بیان ریکارڈ ہو رہے ہیں، کیس میں بشریٰ بی بی ،ملک ریاض، فرح گوگی کا نام بھی شامل ہے، سوشل میڈیاپر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کے خلاف ملک ریاض،زلفی بخاری یا شہزاد اکبر میں سے کوئی ایک وعدہ معاف گواہ بن جائے گا، تاہم تینوں نےوعدہ معاف گواہ بننے کی تردید کی، ملک ریاض نے تو ٹویٹ ہی کر دی

    ملک ریاض نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ” میری ساری زندگی، اللہ تعالٰی نے ہمیشہ مجھے اپنے اصول پر قائم رہنے کی رہنمائی کی ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں سیاسی فریق نا بنوں ۔ اب ایک سال سے زیادہ عرصے سے، مجھ پر سمجھوتہ کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے، لیکن میں کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے پیادہ کے طور پر استعمال کرے۔ پاکستان میں جدید ترین پراجیکٹس متعارف کروانے پر مجھے اور میرے کاروبار کو ہمیشہ نشانہ بنایا گیا ہے ۔ 1996 سے آج تک ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں۔ میں نے ماضی میں اللہ تعالٰی کی مدد سے اس طرح کے دباؤ کا پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ سامنا کیا ہے۔ آج بھی، ذاتی حیثیت میں، میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، "over my dead body ۔” اپنی بیمار حالت اور پریشانی کے باوجود، میں اللہ کی مدد سے اس مصیبت کا سامنا کرنے کے لیے ثابت قدم ہوں، روزانہ مالیاتی کاروباری نقصان برداشت کر رہا ہوں اور پوری طرح دیوار کے ساتھ دھکیل دیا جا رہا ہوں، لیکن کسی دباؤ کے ہتھکنڈوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔ اللہ تعالٰی اس مشکل دور میں عزت کے ساتھ میری رہنمائی اور مدد کرے گا اور مجھے سرخرو کرے گا ۔ انشاء اللہ”.

    واضح رہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض پر الزام ہے کہ اس نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے جہلم میں القادر یونیورسٹی کی زمین فراہم کی ہے

    لیاقت چٹھہ سے رابطہ نہیں کیا، تحقیقات میں تعاون کیلیے تیار ہوں،ملک ریاض

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

    190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    عمران خان پھنس گئے، الیکشن خطرے میں،ملک ریاض کا انٹرویو کون کریگا؟

    ملک ریاض کا انٹرویو ریکارڈ ہو گیا؟

    بحریہ سے پیسے آئے نہیں آپ پہلے ہی مانگنا شروع ہوگئے،سپریم کورٹ کا وزیراعلیٰ سے مکالمہ

    بحریہ ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک،پولیس اہلکار زخمی

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    زمینوں پر قبضے،تحریک انصاف نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف قرارداد جمع کروا دی

    کرونا سے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچا،اقساط جمع کرانا ممکن نہیں،بحریہ ٹاؤن کی عدالت میں اپیل

    بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں جمع رقم پر حق کس کا؟ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں کیا تجویز دے دی؟

    فرح گوگی اور محمد شاہ رنگیلے کی ہوش ربا داستان، نیا اسکینڈل، ملک ریاض گٹھ جوڑ بے نقاب

    ملک ریاض کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج 

    سپریم کورٹ نے ملک ریاض سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے

    ٹویٹر پر رضوان طاہر کہتے ہیں کہ میں نے حال ہی میں ملک ریاض کا ایک ٹویٹ دیکھا جس میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ شدید دباؤ کے باوجود، وہ کسی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بننے سے انکار کرتے ہیں اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی لڑائی جاری رکھیں گے۔ ان کے بیان کو غور سے دیکھتے ہوئے، لگتا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) ان کے خلاف ایک سنگین کیس تیار کر رہا ہے، جو موجودہ 120 ملین پاؤنڈز کے کیس سے الگ ہے۔ ملک صاحب ایسے بیانات دے کر پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔ اس طرح، اگر ان کے خلاف واقعی کوئی سنگین کیس لایا جاتا ہے، تو وہ دلیل دے سکتے ہیں کہ دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے انکار کرنے کی وجہ سے انہوں نے یہ کیس ان کے خلاف شروع کیا ہے۔ میری نظر میں، ملک صاحب ایک انتہائی ہوشیار آدمی لگتے ہیں۔

    https://twitter.com/RizwanTahir2011/status/1794787490953375760

    ملک ریاض کیخلاف نیا ریفرنس آنے والا ہے، صحافی عمر چیمہ کا دعویٰ
    صحافی عمر چیمہ کہتے ہیں ملک ریاض کی آج کی جانیوالی ٹویٹ کی وجہ کچھ دنوں میں ان پر ایک آنیوالا ایک ریفرنس ہے۔اس ریفرنس کا تعلق 190 ملین پاونڈز کیس سے نہیں بلکہ وہ کراچی کی زمینوں پر قبضےکا کیس ہے جس کی مد میں سپریم کورٹ نے 460 ارب جمع کروانے کا کہا اور انہوں نے پیسے جمع نہیں کروائے۔ سپریم کورٹ نے آرڈر میں لکھا تھا کہ اگر یہ پیسے جمع نہیں کرواتے تو ریفرنس بنایا جائے۔

  • علی امین گنڈا پور  کی بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات

    علی امین گنڈا پور کی بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات

    راولپنڈی: وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات جیل کانفرنس روم میں کروائی گئی جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، ملاقات میں وزیراعلیٰ نے عمران خان کو ایس آئی ایف سی اجلاس کے بارے میں آگاہ کیا،ملاقات میں پارٹی اور ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی،ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں علی امین گنڈا پور نے ایس آئی ایف سی کے اجلاس میں شرکت کی ،جس کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف سے ملاقات کے بارے میں بتا یاکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے 2 بار بات ہوئی، لیکن جو بات کرنا تھی اُس کا ماحول نہیں ملا، اپنے صوبے کے شیئرپر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، فاٹا، پاٹا پر ٹیکس لگانے کی مخالفت کی ہے وفاقی حکومت کو بتایا کہ مزید ٹیکس نہ لگایا جائے وفاقی حکومت نے ہماری تجویز کو مان لیا۔

    وفاق میں گریڈ ایک سے 16 کی 70 ہزار اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج کو واٹس ایپ پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے …

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا جلد ایران کا دورہ متوقع