Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سیکیورٹی خدشات کےباعث 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    سیکیورٹی خدشات کےباعث 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    راولپنڈی: جیل حکام کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : احتساب عدالت اسلام آبادکے جج ناصرجاوید رانا نے آج اڈیالہ جیل میں سماعت کرنا تھی اڈیالہ جیل حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر 190ملین پاؤنڈریفرنس کی سماعت ملتوی کرنےکی استدعا کی تھی، اڈیالہ جیل صوبہ کی حساس ترین جیل ہے، اڈ یالہ جیل میں اہم سیاسی شخصیات قید ہیں، سیکیورٹی خدشات کےباعث سماعت ملتوی کی جائے، میانوالی، ڈی جی خان، راولپنڈی، اٹک جیل کوتھریٹس ہیں۔

    واضح رہے کہ 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی آج عدالت میں پیش ہونا تھا۔

    انگلینڈ نے پاکستان کیخلاف سیریز میں اہم پلیئرز آئی پی ایل سے واپس بلانے کا …

    پاکستان اورامریکا دہشتگرد گروپوں کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں پر متفق

    روسی وزارت دفاع کا ایک اور سینئیر افسر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

  • عمران خان اور ان کی اہلیہ دونوں جیل میں نہیں خالہ کے گھر میں ہیں،عظمٰی بخاری

    عمران خان اور ان کی اہلیہ دونوں جیل میں نہیں خالہ کے گھر میں ہیں،عظمٰی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہےکہ کس حیثیت میں بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی کو خیبرپختونخوا شفٹ کریں؟ –

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ دونوں جیل میں نہیں خالہ کے گھر میں ہیں، آپ پریشان نہ ہوں،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی مزے سے شاہانہ جیل کاٹ رہے ہیں، ان کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں اور جیل انتظامیہ دونوں کے ٹیسٹ کروارہی ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے سوال اٹھایا کہ کس حیثیت میں بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی کو خیبرپختونخوا شفٹ کریں؟ باقی قیدیوں کو بھی ان کے صوبوں میں شفٹ کردیں، آپ کی خواہشات کے مطابق عدالتی فیصلے ہوں تو واہ واہ کرتے ہیں، انتقامی سیاست ہم نے بھگتی ہے مگر آپ کی طرح رونا دھونا نہیں کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے اقدامات سے دشمن کی سازش ناکام ہوگئی،عطا تارڑ

    گریڈ ایک سے 17 کی 1102 خالی آسامیوں پر بھرتی کی منظوری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےنان فائلرز کی موبائل سمز بلاک کرنےسے روک دیا

  • نیب ترامیم کیس :عمران خان کوویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت

    نیب ترامیم کیس :عمران خان کوویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو نیب ترامیم کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے جیل سے پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت کی جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں،دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت میں پیش ہوئے-

    سماعت کے آغاز پر حکومتی وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آئے ہیں، وکیل نیب کا کہنا تھا کہ اس کیس میں جو دلائل وفاقی حکومت کے ہوں گے ہم انہیں اپنائیں گے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فریق اول کی جانب سے کون وکیل ہے؟ جس پر وکیل وفاقی حکومت ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی اپیل میں خواجہ حارث فریق اول کے وکیل تھے، بعدازاں سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا گیا۔

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ بے نظیر کیس کے تحت یہ اپیل تو قابل سماعت ہی نہیں،زیادہ تر ترامیم نیب آرڈیننس سے لی گئی ہیں،ہائیکورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں بھی ترامیم کی گئی ہیں،عدالت متاثرہ فریق کی تعریف کر چکی ہے۔مخدوم علی خان نےکہا کہ وفاقی حکومت کی ترامیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے،وفاقی حکومت متاثرہ فریق ہے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کیسے متاثرہ فریق ہے،متاثرہ فرد ہی اپیل کر سکتا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ یہ معاملہ قانون میں ترمیم کی شقوں کا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بے نظیر کیس کے تحت یہ اپیل تو قابل سماعت ہی نہیں،زیادہ تر ترامیم نیب آرڈیننس سے لی گئی ہیں،ہائیکورٹ کے فیصلوں کے تناظر میں بھی ترامیم کی گئی ہیں،عدالت متاثرہ فریق کی تعریف کر چکی ہے۔

    عدت نکاح کیس:وکیل کی عدم پیشی،عمران خان و اہلیہ کی سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت …

    چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ صدر کو آرڈیننس جاری کرنے کیلئے وجوہات لکھنا چاہئیں،مخدوم علی خان نے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے سے متعلق آئینی شقوں کو پڑھا-

    اٹارنی جنرل اور نیب نے حکومتی وکیل کی اپیلوں کی حمایت کردی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت نے اس حوالے سے حکم بھی جاری کیا تھا، ہم عدالت آنے سے کسی کا راستہ نہیں روک سکتے، نیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی انجنیرنگ میں ملوث رہی، اگروہ ویڈیو لنک سے پیش ہونا چاہتے ہیں تو اقدامات کرنے چاہیئے،مخدوم علی خان نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ ویڈیو یا وکیل کے ذریعے نمائندگی دی جا سکتی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ معاملہ قانون کا ہے، یہ معاملہ کسی انفرادی شخصیت کا نہیں،کیا تمام مقدمات میں بھی ایسے ہی سائلین کو نمائندگی ملنی چاہئے،کیس ترامیم کے درست ہونے یا غلط ہونے سے متعلق ہے، وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے انتظامات کیے جائیں، یہ بڑی عجیب صورتحال ہے کہ بانی پی ٹی آئی جو اس مقدمے میں درخواست گزار تھے اور اب اپیل میں ریسپانڈنٹ ہیں ان کی یہاں پر نمائندگی نہیں، بانی تحریک انصاف اگر دلائل دینا چاہیں تو ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دے سکتے ہیں، ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دینے کا بندوبست کیا جائے، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کتنے وقت تک ویڈیو لنک کا بندوبست ہو جائے گا؟پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کے انتظامات کر لیے جائیں۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا مرکزی اپیلیں قابل سماعت بھی تھیں یا نہیں،فاروق ایچ نائیک انفرادی درخواست گزار کے وکیل کی حیثیت سے پیش ہوئے۔

    فحش اداکارہ کیساتھ جنسی اسکینڈل کیس:ٹرمپ کے سابق وکیل نے بیان ریکارڈ کرا دیا

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ جو 25ریفرنس واپس ہوئے ان کا ٹرائل کہاں ہوگا،کیا یہ صوبائی خودمختاری میں مداخلت نہیں ہے،1999میں نیب کا جو کنڈکٹ رہا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ نیب کیا ملک میں کسی کو جوابدہ ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کرپشن ایک مسئلہ ہے، نیب مکمل ناکام ہو چکا ہے،نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے استعمال کیا گیا،نیب بتائے پچھلے 10سال میں کتنے سیاستدانوں کیخلاف کیسز چلوائے،نیب بتائے پچھلے 10سال میں کتنے سیاستدانوں کو قید کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ نیب نے تین سال ایک شخص کو جیل میں رکھا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ لوگوں کیساتھ ظلم بھی بہت ہو رہا ہے،آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ لوگوں پر اب تو ظلم نہیں ہو رہا ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اٹارنی جنرل آپ نے یقینی بنانا ہے کہ ویڈیو لنک کام کرے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ حکومت نے وجوہات دینی ہیں کہ آرڈیننس اس وجہ سے جاری کرنا ضروری ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بریگیڈیئر اسد منیر کا خودکشی کا نوٹ کافی ہے،یہ بنیادی انسانی حقوق کی بات ہے،سپریم کورٹ کا 11رکنی لارجر بنچ ایسی درخواستوں کو سن چکا ہے،مخدوم علی خان نے کہاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ معطل تھا جب نیب ترامیم کیخلاف درخواست سنی گئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ درخواست میں ایسی کوئی ترمیم چیلنج کی گئی جو آئین کے خلاف ہو؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اہم سوال یہ ہے جو منصور علی شاہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں اٹھایا،چیف جسٹس نے کہاکہ کسی نے کروڑوں کھا لئے، وہ لاکھوں میں بھی ہو سکتے ہیں،کیا دنیا میں ایسی کوئی مثال ہے کہ قانون سازوں نے رقم کا تعین کیا ہو۔

    بعدازان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوادیا،حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کو یقینی بنائیں، وفاق اور پنجاب ویڈیو لنک پر عمران خان کی حاضری یقینی بنائیں، خیبر پختونخوا حکومت کے علاوہ تمام صوبائی حکومتوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں،عدالتی معاونت کے لیے خواجہ حارث کو بھی نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔

    اس میں کہا گیا کہ اپیل کنندگان کے مطابق عمران خان نیک نیتی سے عدالت نہیں آئے،اپیل کنندہ کے مطابق کوئی ترمیم بانی پی ٹی آئی یا عوام کے خلاف نہیں تھی،اپیل کنندہ کے مطابق نیب ترامیم کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا، اپیل کنندہ کے مطابق سپریم کورٹ کو ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

    سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اس حکم نامے کی کاپی خواجہ حارث اور بانیٔ پی ٹی آئی کو بھجوائی جائےچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب سے اخراجات اور ریکوری کی تفصیلات طلب کرلیں، جسٹس اطہرمن اللہ نےکہا کہ ساتھ یہ بھی بتائیں 10سال میں کتنے سیاستدانوں کو گرفتار کیا؟،بعدازاں عدالتِ عظمیٰ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت 16 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • عدت نکاح کیس : دوران ٹرائل بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نےساتھ رہنے سےانکار نہیں کیا،وکیل خاور مانیکا

    عدت نکاح کیس : دوران ٹرائل بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نےساتھ رہنے سےانکار نہیں کیا،وکیل خاور مانیکا

    راولپنڈی: اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رضوان عباسی پیش نہیں ہوتے تو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کروں گا۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے عدت نکاح کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گِل عدالت کے روبرو پیش ہوئے،رضوان عباسی کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رضوان عباسی ایک بجے آ جائیں گے، ہائیکورٹ اور سپریم کوٹ میں مختلف کیسز ہیں۔

    وکیل بشریٰ بی بی عثمان گل نے کہا کہ اس کیس میں بار بار رضوان عباسی کی جانب سے التواء مانگا گیا ہے،جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دئیے کہ ایک بجے سے لیٹ نہیں ہونا، آج لازمی عدالت میں پیش ہوں۔

    وکیل عثمان گل نے کہا کہ عدالت کا اختیار ہے، ہماری سزا معطلی کی درخواست موجود ہیں دلائل مکمل ہو چکے، عدالت سے درخوا ست ہے کہ سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کریں، اس پر جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ گزشتہ آرڈر میں لکھا ہے کہ اگر رضوان عباسی پیش نہیں ہوتے تو سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کروں گا، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کر دیا-

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    وقفے کے بعد ،خاور مانیکا کے وکیل رضوان عباسی اور پراسیکیوٹر عدنان علی عدالت میں پیش ہوئے،وکیل رضوان عباسی نے کہاکہ اس سے قبل محمد حنیف کی شکایت سیشن عدالت نے دائرہ اختیار پر خارج کی،سی آر پی سی سیکشن 177دائرہ اختیار سے متعلق بات کرتا ہے،گواہان نے کہاکہ فراڈ شادی کے باوجود بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی اسلام آباد میں رہے،دوران ٹرائل بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نےساتھ رہنے سےانکار نہیں کیا-

    کیس کے دائرہ اختیار کے حوالے سے قانونی نکات پر بات کرنا چاہتا ہوں، میں شکایت دائر کرنے میں تاخیر، عدت کی مدت کے قانونی نکات پر بھی بات کروں گا، عدت کے دوران نکاح کے اسٹیٹس پر بھی دلائل دوں گا، الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کرنے پر بھی دلائل دوں گا۔

    انہوں نے بتایا کہ محمد حنیف نامی شخص نے اس سے قبل عدت میں نکاح کی شکایت دائر کی، محمد حنیف نے فرد جرم عائد ہونے سے قبل تکنیکی بنیادوں پر شکایت واپس لی،اسپیشل جج سینٹرل کے کیسز مختلف ہوتے ہیں، ایف آئی آر کے مختلف ہوتے، تفتیش کسی بھی کیس میں پہلا قدم ہوتی ہے، نوٹس جاری کرنا اور فرد جرم عائد کرنا انکوائری کی اسٹیج کہلاتی ہے، عدالت کا اختیار ہوتا ہے کہ کیس سے جڑے کسی بھی متعلقہ فرد کو نوٹس جاری کرے۔

    وکیل رضوان عباسی نے مزید کہا کہ محمد حنیف کی دائر شکایت فرد جرم سے قبل واپس لی گئی، جس کا خاور مانیکا کی شکایت سے تعلق نہیں بنتا،جج شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ فراڈ شادی کا مقدمہ اگر درج ہونا ہوتا تو کہاں ہوتا؟وکیل رضوان عباسی نے کہاکہ فراڈ شادی کا مقدمہ اسلام آباد یا لاہور کہیں بھی درج ہو سکتا تھا،شادی کے دس دن کے اندر لاہور سے اسلام آباد شفٹ ہو گئے تھے۔

    وکیل رضوان عباسی نے ڈھاکا میں ہوئی فراڈ شادی پر دیئے گئے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ فراڈ شادی کا اثر جہاں پڑا، وہاں ماضی میں عدالتوں نے ٹرائل کئےہیں،فراڈ شادی ایک جرم ہے، مخصوص عرصے میں ہی فراڈ شادی کی شکایت دائر کرنے پر کوئی قانون نہیں،فراڈ شادی کی تفصیلی تفتیش بھی ضروری ہے جس میں وقت لگتا ہے،وکیل رضوان عباسی نے عدت میں نکاح کیس پر ہوئی جرح عدالت میں پڑھ کر سنائی-

    سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے ڈھائی بجے آج عدالتی اوقات ختم کرنے کا عندیہ دیدیا۔جج شاہ رخ ارجمند نے رضوان عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ڈھائی بجے سےپہلے پہلے میں نے جانا ہے،وکیل رضوان عباسی نے کہاکہ میرے دلائل میں تھوڑا وقت لگ جائے گا،یکشن 496 کی جو تعریف ہے وہ صرف غیر قانونی شادی نہیں بلکہ پہلے فراڈ اور اس کے بعد غیر قانونی شادی ہوگی۔

    وکیل خاور مانیکا راجا رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ خاور مانیکا اپنی والدہ کو لے کر جانا چاہتا تھا اور بشریٰ بی بی کے ساتھ رجوع کرنا چاہتا تھا ، رجوع کرنے سے پہلے ہی بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے عدت کے دوران نکاح کرلیا ، نکاح کے گواہان نے عدالت کے سامنے بتایا کہ یہ نکاح غیر قانونی طور پر ہوا ہے،اس پر جج نے پوچھا کہ آپ کو دلائل کے لیے مزید کتنا وقت چاہیئے ہوگا؟

    راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مجھے دلائل کے لیے مزید ایک گھنٹہ درکار ہوگا، اس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردیتے ہیں مزید کل دیکھ لیتے۔

    وکیل سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ کیس کل سن لیا جائے، کل کے دن مجھے کسی بھی وقت صرف 20 منٹ کا وقت دے دیجئیے گا،راجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ کل میں موجود نہیں ہوں گا، کل ان کو سن لیں اس کے بعد میری حاضری تک سماعت ملتوی کی جائے،بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی، کل صبح 9 بجے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ اپنے دلائل دیں گے۔

    واضح رہے کہ 3 فروری کو سابق وزیراعظم و بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی تھی، سینئر سول جج قدرت اللہ نے بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست پر اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد فیصلہ سنا دیا، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 5 ،5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

    پسِ منظر 25 نومبر 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ کی عدالت سے رجوع کیا اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کا کیس دائر کیا درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔

    فحش اداکارہ کیساتھ جنسی اسکینڈل کیس:ٹرمپ کے سابق وکیل نے بیان ریکارڈ کرا دیا

    خاور مانیکا نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے،28 نومبر کو ہونے والی سماعت میں نکاح خواں مفتی سعید اور عون چوہدری نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا5 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں خاور مانیکا کے گھریلو ملازم اور کیس کے گواہ محمد لطیف نے بیان قلمبند کرایا تھا۔

    11 دسمبر کو عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کو قابلِ سماعت قرار دے دیا تھا،2 جنوری 2024 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کی،10 جنوری اور پھر 11 جنوری کو بھی فردِ جرم عائد نہ ہوسکی تھی جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی تھی۔

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    15 جنوری کو بشریٰ بی بی اور 18 جنوری کو عمران خان نے غیرشرعی نکاح کیس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا،تاہم 16 جنوری کو غیر شرعی نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کردی گئی تھی،31 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس خارج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں2 فروری کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا جس کے بعد انہیں سزا سنائی گئی۔

  • عمران خان نے کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے،بیرسٹر گوہر

    عمران خان نے کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں چوتھا کیس بنا جو سیاسی انتقام ہے، ایک سیاسی جماعت کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام ہوگا تو ملک ترقی کرے گا، عدالت سے درخواست ہے عدت کیس کی کل سماعت اور فیصلہ کریں، سابق نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کے فارم 47 سے متعلق بیان پر عدالت میں جا رہے ہیں،عمران خان نے کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے،معافی ان سے مانگی جائے، ہم نے 9 مئی کی مذمت کی ہے، تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی جائے،عمران خان نے کہا ہے رول آف لاء ہوگا تو استحکام آئے گا، ملک میں سیاسی استحکام ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، ایک مخصوص سیاسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں دی جاتی، عدلیہ کا احترام ہے اور اعتماد ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے ایشو پر بانی پی ٹی آئی نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ تشدد کے بجائے تحمل سے کام لیا جانا چاہیے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہماری حکومت گرائی گئی، مذاکرات سے متعلق نہ کوئی پیش رفت ہے نہ کسی نے کوئی پیغام بھیجا، عارف علوی کو خصوصی ذمے داری دی گئی ہے، عارف علوی کو کہا گیا ہے وہ آگے بڑھنے کے لیے ماحول بہتر کرنے کی کوشش کریں ،اس وقت ملک میں سیاسی صورتحال اور انفلیشن بہت ہائی ہے،عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے،حکومتی سطح پر پلان ہونا چاہیے کہ شاہ خرچیوں کو کنٹرول کیا جائے،پبلک کو ریلیف ملنا چاہیے،نواز شریف کے ساتھ مذاکرات دیکھیں گے، شیر افضل مروت کا مسئلہ پارٹی بہت جلد خوش اسلوبی سے حل کر لے گی،

    دوسری جانب سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات پر 3 روز کیلئے پابندی عائد کردی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈیالہ جیل میں پابندی کا فیصلہ جیل کے اطراف میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے،اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق 15 مئی کی رات 12 بجے تک رہے گا، پابندی کا اطلاق آئی جی جیل خانہ جات کے فیصلے کے بعد کیا گیا .

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کاعدالتوں کو زبردستی بند کروانے کا نوٹس

    ہڑتال پر چیف جسٹس برہم،بولے اتنے جرمانے لگائیں گےکہ یاد رکھیں گے

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

  • 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟عدالت

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور نیب پراسیکیوٹر امجد پرویز نےدلائل دیئے، امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے برطانیہ سے پاکستان آنے والی رقوم سے متعلق آرڈر جاری کیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ برطانیہ سے رقم کس تاریخ کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی؟پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں پہلی رقم نومبر 2019 میں منتقل کی گئی،دوسری بار رقم 3 دسمبر 2019 اور تیسری بار 11 مارچ 2022 کو آئی، یہ کُل رقم 171.5 ملین پاؤنڈز کی رقم بنتی ہے،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ نے کب منظوری دی؟ امجد پرویز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے 3 دسمبر 2019 کو منظوری دی،

    29 نومبر کو آنے والی رقم کابینہ کی منظوری کے بغیر پھر کیسے آئی؟چیف جسٹس
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نومبر میں جب رقم آئی تو تب کابینہ کی کوئی منظوری نہیں تھی؟ امجد پرویز نے کہا کہ نہیں، اُس وقت کابینہ کی طرف سے منظوری نہیں تھی، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ جب دوسری بار رقم منتقل ہوئی تو کابینہ نے منظوری دے چکی تھی؟امجد پرویز نے کہا کہ وہ دونوں ایونٹس ایک ہی دن کے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ 29 نومبر کو آنے والی رقم کابینہ کی منظوری کے بغیر پھر کیسے آئی؟ امجد پرویز نے کہا کہ 6 نومبر 2019 کو ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان ایک خفیہ ڈیڈ پر دستخط ہوئے،کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ پر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے بھی دستخط ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ خفیہ ڈیڈ میں کیا ہے؟ ڈیڈ میں حکومت پاکستان کہتی ہے کہ وہ ملک ریاض اور این سی اے کے درمیان ہونے والا معاہدہ خفیہ رکھے گی؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وجہ؟ حکومت پاکستان کیوں یہ حلف نامہ دے رہی ہے؟ یہ ڈیڈ نہیں بلکہ حکومت پاکستان کی طرف سے کانفیڈنشیلٹی کا ڈکلیئریشن ہے، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے گی؟ خفیہ ڈیڈ سے بتائیں، کیا ڈیڈ میں کوئی ایسی بات ہے کہ پیسے اس اکاؤنٹ میں آئیں گے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ انہوں نے این سی اے اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان ایگریمنٹ نہیں لگایا،

    این سی اے نے شرط رکھی کہ رقم حکومت پاکستان کی یقین دہانی کے بغیر نہیں بھیجی جائے گی،نیب پراسیکیوٹر
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری میں غیرقانونی چیز کیا ہے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ پیسہ بھی ملک ریاض کا ہی تھا اسی کو جانا تھا، نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن پر 460 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا، اسی دوران برطانیہ میں ملک ریاض کی رقم منجمند کی گئی،این سی اے نے شرط رکھی کہ رقم حکومت پاکستان کی یقین دہانی کے بغیر نہیں بھیجی جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیوں؟ اسکی وجہ کیا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ کی منظوری سے ایک دن پہلے وزیراعظم کے سامنے نوٹ رکھا گیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی کابینہ کے ممبران بھی اس کیس میں ملزمان ہیں؟ امجد پرویز نے کہا کہ کابینہ ممبران کہتے ہیں کہ شہزاد اکبر نے کہا کہ ڈیڈ کانفیڈنشیل ہے دکھائی نہیں جا سکتی،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ کابینہ ممبران نے بھی تو غیرقانونی کام کیا، بند لفافے کی منظوری دیدی، ہو سکتا ہے بند لفافے میں کوئی چیز پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو،کابینہ ممبران نے آئین کا حلف اٹھایا ہوا ہے وہ کیسے دیکھے بغیر منظوری دے سکتے ہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میٹنگ منٹس میں کابینہ کے کسی ممبر نے اختلاف نہیں کیا،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا کوئی ایسا قانون ہے کہ کابینہ بند لفافے کی بھی منظوری دیدے؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ تین کابینہ ارکان کے بیانات ساتھ لگائے ہیں، زبیدہ جلال، ندیم افضل گوندل اور پرویز خٹک کے بیانات لگائے گئے،جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ حکومت اگر کوئی بھی معاہدہ کرے گی تو لا اینڈ جسٹس ڈویژن سے منظوری تو ہو گی، امجد پرویز نے کہا کہ کانفیڈنشیلٹی ڈیڈ لا اینڈ جسٹس ڈویژن کو انفارم کیے بغیر سائن کی گئی،وفاقی کابینہ کا یہ اجلاس ان کیمرا تھا جس میں اضافی ایجنڈا آئٹم کی منظوری دی گئی،

    خفیہ ڈیڈ کوئی مذاق نہیں تھا اور کابینہ منظوری کی یقینی طور پر کوئی اہمیت ہو گی،چیف جسٹس
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایسی کیا وجہ تھی جس کی بنیاد پر کانفیڈنشیلٹی ڈید پر دستخط کیے گئے؟ امجد پرویز نے کہا کہ این سی اے کی ریکوائرمنٹ پر کانفیڈنشیلٹی ڈیل پر دستخط کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا این سی اے کی پالیسی اور پریکٹس ہمارے پاس ہے؟امجد پرویز نے کہا کہ نہیں، وہ دستاویزات بھی موجود نہیں ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ خفیہ ڈیڈ کوئی مذاق نہیں تھا اور کابینہ منظوری کی یقینی طور پر کوئی اہمیت ہو گی، امجد پرویز نے کہا کہ زبیدہ جلال نے بتایا کہ شہزاد اکبر نے کہا یہ دو ممالک کے تعلقات کا معاملہ ہے، جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ انہوں نے دیکھے بغیر منظوری دی تو کیا جرم کا ارتکاب نہیں کیا؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے کوئی فائدہ نہیں لیا لیکن بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم فائدہ لیا ہےعدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی کر دی

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

  • شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران کہا ہے کہ ملکی حالات پر آرمی چیف کو خط لکھوں گا،سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جو 35 ارب روپے آئے اس پر 13 ارب کا منافع بھی بن چکا ہے ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بنجر زمین پر القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بنائی جو بچوں کو مفت تعلیم دے رہی ہے ، نواز شریف نے توشہ خانہ سے6 لاکھ روپے میں بلٹ پروف گاڑی خریدی اس کو بری کرنے کا سوچا جا رہا ہے،زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لیں وہ عدالت سے استثنیٰ مانگ رہا ہے ، حسن شریف نے 18 ارب روپے کی پراپرٹی بیچی اس پر کوئی بات نہیں کر رہا،مجھ پر توشہ خانہ کا چوتھا کیس چلانے جا رہے ہیں،برطانیہ میں پیسے منی لانڈرنگ نہیں بلکہ مشکوک ٹرانزیکشن کی وجہ سے پکڑے گئے تھے ،سول عدالت میں کیس چلتا تو مزید پانچ سال تک پیسے پاکستان نہ آسکتے ،بیرون ملک عدالتوں میں مختلف کیسوں میں پاکستان کے پہلے ہی 100 ملین ڈالر ضائع ہو چکے ،190 ملین پائونڈ معاہدہ کو خفیہ رکھنا پراپرٹی ٹائیکون اور نیشنل کرائم ایجنسی کی ڈیمانڈ تھی، 190 ملین پائونڈ سے متعلق انکوائری نیب میں بند کی جاچکی تھی جو دو سال بعد دوبارہ کھولی گئی،نیب چیئرمین ، وائس چیئرمین اور پراسیکوٹر جنرل نے استعفیٰ بھی دیا،زرداری اور نواز شریف کی طرح ملک سے باہر نہیں جائوں گا ،انکے تو محلات بیرون ملک ہیں وہاں شاپنگ بھی کرنی ہوتی ہے،پبلک مینڈیٹ کے مطابق حکومت بنانی پڑے گی اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ملک کی ٹیکس کولیکشن 13 اعشاریہ 3 ٹریلین ہے، 9 اعشاریہ 3 ٹریلین ہم نے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہوتے ، اس طرح سے 24 کروڑ آبادی کا ملک کیسے چلے گا ،ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو نہیں رہا سرمایہ کاری کیلئے کوئی تیار نہیں، بجٹ سے پہلے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا تنخواہ دار طبقہ سڑکوں پر ہو گا ،

    عمران خان سے صحافی نے سوال کیا کہ شہزاد اکبر اور فرح گوگی کو بلائیں آپ کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالت میں بیان دیں، جس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ فرح گوگی سے صرف تین ملاقاتیں ہوئی ہیں اس کا تعلق بشری بی بی سے تھا، ایسے حالات میں شہزاد اکبر آیا تو اس کو ائیرپورٹ سے اٹھا لیا جائے گا، ملک میں جنگل کا قانون ہے، جنگل کا بادشاہ سب کچھ چلا رہا ہے،

    شیر افضل مروت کو کئی مرتبہ سمجھایا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کرے،عمران خان
    سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے شیر افضل مروت کے خلاف کی گئی پارٹی کارروائی پر ردعمل آگیا،اڈیالہ جیل میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے پارٹی کیلئے زبردست کام کیا،سیاسی جماعت میں دائرے کے اندر رہ کر کام کرنا ہوتا ہے،شیر افضل مروت کو کئی مرتبہ سمجھایا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کرے، شیر افضل مروت ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی لیڈر پر چڑھائی کر دیتا تھا،شیر افضل کو سمجھایا کہ جنگ باہر والوں سے ہوتی ہے پارٹی میں لڑائی نہیں ہوتی،سعودی وفد کے دورہ کے موقع پر شیر افضل مروت نے متنازعہ بیان دیا۔ محمد بن سلمان نے میرے کہنے پر دو مرتبہ او آئی سی کانفرنس کروائی،شیر افضل مروت نے پارٹی کے لئے بہت کام کیا لیکن انکو پارٹی پالیسی کی بار بار خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیئے،شیر افضل مروت اب بھی پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں ہے،شیر افضل مروت کو نوٹس جاری کیا ہے جواب دینگے تو ٹھیک ہے،کوئی پارٹی ڈسپلن میں رہے تو ٹھیک خلاف ورزی کرے تو پورس کا ہاتھی بن جاتا ہے

    صحافی نے سوال کیا کہ شیر افضل مروت نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی ملاقات کیلئے بلائینگے تو جیل جاؤنگا کیا آپ انکو بلائینگے، عمران خان صحافی کے سوال کا جواب دئیے بغیر نکل گئے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس عمر ایوب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ہدایات کے باوجود آپ نے بیانات دیئے ہیں، آپ کے بیان سے پارٹی ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، آپ تین روز کے اندر اندر جواب دیں ورنہ کارروائی کی جائے گی”۔

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شیر افضل مروت کا نام تجویز کیا تھاتاہم دوسری جانب نور عالم خان بھی چیئرمین پی اے سی کے امیدوار ہیں، نور عالم خان اتحادی حکومت میں بھی پی اے سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار آزاد ہیں، جبکہ نور عالم خان جے یو آئی کے رکن ہیں،شیر افضل مروت پر اعتراض کے بعد حامد رضا کا نام سامنے آیا تھا  شیخ وقاص کا نام سامنے آیا ہے تو اس پر شیر افضل مروت نے اعتراض عائد کر دیا ہے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت کو ایف آئی اے نے کیا طلب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

  • موجودہ حالات میں مذاکرات سے انکار  قوم سےخیرخواہی نہیں ہو گی،پرویز الہیٰ

    موجودہ حالات میں مذاکرات سے انکار قوم سےخیرخواہی نہیں ہو گی،پرویز الہیٰ

    تحریک انصاف کےرہنما ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کو عدالت پیش کیا گیا، اس موقع پر پرویز الہیٰ نے میڈیا سے بات چیت کی ہے

    پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہی موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے عمران خان اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ ملک و قوم کی خاطر مذاکرات کیلئے رضا مند ہوئے،لیگی رہنما جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے اداروں اور پی ٹی آئی میں تصادم سے باز رہیں، ہر بات میں زیرو ٹالرنس کے دعویداروں کی زیرو پرفارمنس سب کے سامنے ہے,عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی متحد ہے،پاک فوج سمیت آئینی اداروں کے خلاف سب سے زیادہ زہر اگلنے والی جماعت ن لیگ ہے،موجودہ حالات میں مذاکرات سے انکار ملک و قوم کے ساتھ خیرخواہی نہیں ہو گی ، ن لیگ، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کےدرمیان مذاکرات کو سبوتاژ کر رہی ہے،ن لیگ جانتی ہے، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ مذاکرات کے نتیجہ میں اسے پنجاب میں پی ٹی آئی کا چوری شدہ مینڈیٹ واپس کرنا پڑے گا،کسان گندم بیچنے کیلئے رل رہے ہیں، ٹک ٹاک حکومت لمبی تان کر سوئی ہوئی ہے، بااختیار مقتدر حلقوں کو سابق صدر عارف علوی کی مذاکرات کی دعوت کا مثبت جواب دینا چاہئے

    صدر پی ٹی آئی چوہدری پرویز الہی کی اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقلی کا معاملہ، سیکرٹری داخلہ، سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی، چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی نے توہین عدالت کی کارروائی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو پرویز الہی کو ہاؤس اریسٹ کرنے کی درخواست پر 2 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا،دائر درخواست میں کہا گیا کہ سیکرٹری داخلہ اور سپریٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 مئی کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے، پرویز الہی کی غیر قانونی طور پر کی گئی جلد بازی میں منتقلی سے ان کی صحت کو خطرے میں ڈالا گیا ہے، سیکرٹری داخلہ خرم آغا اور سپریٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے، عدالت نے سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو پرویز الہی کے متواتر میڈیکل چیک اپس کو یقینی بنانے کے احکامات دیئے تھے،

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • عمران خان اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائیگی،عدالت کے ریمارکس

    عمران خان اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائیگی،عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ: القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی نئے اسلام آباد ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، وکیل عمران خان نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کو رجسٹر نہیں کیا جا رہا، عدالت چیف کمشنر کو حکم دے،چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے رپورٹ جمع نہ ہونے پر عدالت نےاظہارِ برہمی کیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری عہدیدار کیوں خوف محسوس کر رہے ہیں،سرکاری عہدیداروں کو صرف اللہ کا خوف ہونا چاہیے،ذہن میں رکھیں کہ موجودہ حکومت صرف پانچ سال کیلئے اقتدار میں رہے گی، بانی پی ٹی آئی کل اقتدار میں آ گئے تو پلیٹ میں رکھ کر رجسٹریشن کر دی جائے گی، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد سے آئندہ سماعت پر دوبارہ رپورٹ طلب کر لی، عدالت نے کیس پر سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کا چیریٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کا معاملہ ایک پھر ہائیکورٹ پہنچ گیا،ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے رجسٹریشن کی درخواست مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کے فیصلے کو کلعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،القادر ٹرسٹ کی جانب سے وکیل جہانزیب سکھیرا عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست میں ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کو فریق بنایا گیا ہے،

    واضح رہے کہ 30 نومبر کولیبر اینڈ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ نے القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کئے جانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورںگزیب نے القادر ٹرسٹ کی درخواست پر سماعت کی تھی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توبہ توبہ ،آپ لوگ بہت خراب ہو ، جان بوجھ کر معاملے کو تاخیر میں ڈالا گیا،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    سوشل میڈیا پر مہم،جسٹس محسن اختر کیانی کا بھی کاروائی کیلیے خط

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    مذہبی، مسلکی، لسانی منافرت پھیلانے والے 462 سوشل میڈیا اکاونٹس بند

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند ہوا، مفصل جواب جمع کروائیں، عدالت

    سینیٹ اجلاس،سوشل میڈیا پر پابندی کے حوالے سے قرارداد واپس

    انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلانے والوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

  • شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کردیا

    شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کردیا

    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کردیا ہے

    شوکاز نوٹس عمر ایوب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ہدایات کے باوجود آپ نے بیانات دیئے ہیں، آپ کے بیان سے پارٹی ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، آپ تین روز کے اندر اندر جواب دیں ورنہ کارروائی کی جائے گی”۔

    عمر ایوب کی جانب سے شیر افضل مروت کو جاری نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر آپ کا جواب اطمینان بخش نہ ہوا تو پارٹی آپ کے خلاف ایکشن لے گی

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شیر افضل مروت کا نام تجویز کیا تھاتاہم دوسری جانب نور عالم خان بھی چیئرمین پی اے سی کے امیدوار ہیں، نور عالم خان اتحادی حکومت میں بھی پی اے سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار آزاد ہیں، جبکہ نور عالم خان جے یو آئی کے رکن ہیں،شیر افضل مروت پر اعتراض کے بعد حامد رضا کا نام سامنے آیا تھا  شیخ وقاص کا نام سامنے آیا ہے تو اس پر شیر افضل مروت نے اعتراض عائد کر دیا ہے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت کو ایف آئی اے نے کیا طلب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام