Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • آزادی مارچ کیس، عمران خان ،اسد عمر و دیگر بری

    آزادی مارچ کیس، عمران خان ،اسد عمر و دیگر بری

    آزادی مارچ کیس میں عمران خان، زرتاج گل،اسدعمر اور دیگر کو بری کر دیا گیا،
    جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس خان نے 2022 میں تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے حوالے سے تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمات میں عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کی،پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھہ نے بریت کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر مقدمے میں 109 کا الزام ہے کہ ان کے ایما پر ہوا، غیر مجاز شخص کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی، جس ایف آئی آر کی بنیاد ہی غلط ہو وہ مقدمہ آگے کیسے چل سکتا ہے؟ مقدمہ درج کرنے کی اتھارٹی صرف اس کے پاس ہے جس نے دفعہ 144 نافذ کی،عمران خان کی حد تک کوئی ویڈیو شواہد بھی پیش نہیں کیے جا سکے، پرامن احتجاج پر ایف آئی آر درج کی گئیں، عمران خان کے خلاف ایک ہی نوعیت کے مختلف تھانوں میں 19 مقدمات درج ہیں، اسی نوعیت کے مقدمات میں عدالتوں نے عمران خان کو بری کیا ہے، جو الزامات لگائے گئے اگر وہ بے بنیاد ہوں تو عدالت ملزمان کو بری کر سکتی ہے، عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے تھے، ان کی کال پر پرامن احتجاج کیا گیا تھا، پولیس شیلنگ کی وجہ سے درختوں کو آگ لگی، کسی ورکر نے کوئی آگ نہیں لگائی، عمران خان اور دیگر ملزمان کو عدالت باعزت بری کرے

    عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر لانگ مارچ کے دوران احتجاج اور توڑ پھوڑ کے کیس میں عمران خان، فیصل جاوید، علی نواز اعوان ، سیف اللہ نیازی، زرتاج گل اور اسد عمر کی بریت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مقدمات سے بری کردیا۔عدالت نے محفوظ فیصلہ سنایا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے سنایا،

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو نیب کے نئے نوٹس پر عدالت نے کیا جواب طلب

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    واضح رہے کہ 2022 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے الانگ مارچ پر عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کیے گئے تھے،مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،پولیس کے مطابق مقدمات تحریک انصاف کے ڈی چوک پر لانگ مارچ پر تھانہ کوہسار میں درج ہوئے ہیں دونوں مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد نے سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان و دیگررہنماؤں کی ایما پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایاجناح ایونیو پر میٹرو اسٹیشن کو آگ لگائی گئی، ایکسپریس چوک پر سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا،درج مقدموں میں لکھا گیا کہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر پتھراؤ کیا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑے،درختوں کو آگ لگائی، ڈنڈے اٹھا کر آنے والے مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • عمران خان کو جیل میں سب کچھ مل رہا ہے، رانا ثناء اللہ

    عمران خان کو جیل میں سب کچھ مل رہا ہے، رانا ثناء اللہ

    وزیراعظم کے معاون خصوصی، ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو جیل میں سب کچھ مل رہا ہے، جو ممنوعہ چیز ہے وہ بھی مل رہی ہے،

    لاہور میں میڈیا سے بات چیت کے دوران رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت وہی کرے گی جو وفاق کہے گا، گنڈا پور ویسے ہی ہوائی فائرنگ کر رہا ہے اور تیس مار خان بن رہا ہے تابعدار بچہ ہے جیسے وفاقی حکومت چاہے گی ویسے ہی کام کرے گا ، جس طرح باقی حکومت کے لوگ چل رہے ہیں یہ ویسے نہیں چلنا چاہتے، اگر یہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ ان سے بات کرنا چاہے تو بالکل کریں، یہ اسٹیبلشمنٹ سے کہتے تھے کہ بات کریں ہم اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں،جب اسٹیبلشمنٹ نے ساتھ نہیں دیا تو انہوں نے کہا یہ میر جعفر ہیں میر صادق ہیں ان کا جھگڑا یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست اور ملک کے نظام میں مداخلت کرے۔
    پی ٹی آئی والے فضول بات کریں گے تو اس کا جواب ان کو ضرور دیں گے، رانا تنویر
    دوسری جانب وفاقی وزیر رانا تنویر کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور جب وزیر اعلیٰ نہیں تھے تو اس وقت بھی کوئی عقل کی بات نہیں کی تھی، علی امین گنڈا پور نے ایک بار دھمکی دی تھی اس کے بعد جب بھی مجھے دیکھتا تو ادھر ادھر ہوجاتا تھا، جب پی ٹی آئی والے فضول بات کریں گے تو اس کا جواب ان کو ضرور دیں گے، سولہ ماہ کی حکومت میں متنجن بناہوا تھا، اب الحمداللہ شہبازشریف کی قیادت میں بہت اچھے فیصلے ہورہے ہیں، پوری اتحاد و اتفاق کے ساتھ کابینہ فیصلے کررہی ہے جس کے نتائج بھی آنا شروع ہوگئے ہیں،

  • اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی غصے میں نظر آئیں، بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں تو عمران خان کے پاس جانے کی بجائے الگ بیٹھیں ،بعد ازاں روسٹرم پر گئیں اور احتساب عدالت کے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا تاہم عمران خان اور وکلا سے مشاورت کے بعد عدم اعتماد واپس لے لیا

    اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوسکا،عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی گئی

    سماعت کا آغاز ہوا تو بشریٰ بی بی انتہائی غصے میں کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں اور اپنے شوہر عمران خان کے پاس جانے کی بجائے الگ بیٹھ گئیں، بشریٰ بی بی عمران خان کی بہنیں جو کمرہ عدالت میں موجود تھیں، ان سے بھی نہیں ملیں،بشریٰ کی بیٹیاں عمران خان کی بہنوں کے ساتھ بیٹھی تھیں بشریٰ اپنی بیٹیوں سے بھی نہیں ملیں، بشریٰ بی بی روسٹرم پر گئیں اور بولیں” پہلے کیسز کے ججز پر بھی اعتماد نہیں تھا، اس عدالت پر بھی عدم اعتماد کر رہی ہوں،15مئی کو اڈیالہ جیل میں سماعت تھی، کسی نے نہیں بتایا”۔عدالت نے کہا کہ 15 مئی کی سماعت تو ملتوی ہوئی تھی،بشریٰ بی بی نے کہا کہ میں اس کیس میں قیدی نہیں ہوں، نا انصافی کی وجہ سے جیل میں ہوں

    عمران خان نے جب دیکھا کہ بشریٰ بی بی نے جج پر عدم اعتماد کر دیا ہے اور بحث کر رہی ہیں تو عمران خان اٹھے اور بشریٰ بی بی کے پاس گئے،اور انہیں فیملی کارنر میں جانے کو کہا،بشریٰ بی بی علیحدہ کمرے میں گئیں تو اپنی بیٹیوں کو بلایا اور ان سے ملاقات کی تا ہم عمران خان کی بہنوں سے نہ ملیں

    اڈیالہ جیل میں آج ہونے والی سماعت کے آغاز سے لے کر آخر تک عمران خان پریشان نظر آئے،عمران خان کبھی وکلاء، کبھی روسٹرم، کبھی بشریٰ بی بی اور کبھی بہنوں کے پاس جاتے رہے،بشریٰ بی بی اور عمران خان نے پانچ سے چھ مرتبہ سرگوشیوں میں باتیں بھی کیں، وکلاء اور عمران خان نے عدالت سے بشریٰ بی بی کو قائل کرنے کیلئے تین مرتبہ وقت بھی مانگا،عدالت نے وکلاء اور عمران خان کی درخواست پر سماعت میں تین بار وقفہ کیا اور طویل مشاورت کے بعد وکلاء اور بانی پی ٹی آئی نے عدم اعتماد واپس لینے سے عدالت کو آگاہ کیا۔

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    عمران نیازی کے بلانے کے باوجود بشریٰ بی بی نے نہ صرف انکی بات نہیں سنی بلکہ انکی بہنوں سے ملاقات بھی نہیں کی،تاہم اپنی بیٹیوں سے عدالت سے باہر جا کر ملاقات کی۔بشری بی بی نے دوپہر2 بجے کمرہ عدالت میں ہی نماز ظہر ادا کی۔

    ملزمان کے وکلاء نے مشاورت کے بعد عدالت میں نئی درخواست دائر کی،درخواست میں نیب عدالت سے دیگر مقدمات کی طرح کیس کی ہر 14دن بعد سماعت کی استدعا کی گئی،عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی،عدالت نے 22 مئی کو درخواست کی سماعت کے لیے نوٹسز جاری کردئیے

    توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو نیب کے نئے نوٹس پر عدالت نے کیا جواب طلب

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    انصاف کا قتل کرنے والوں کے خلاف ریفرنس فائل کرنے جارہے ہیں،شعیب شاہین
    اڈیالہ جیل کے باہر شعیب شاہین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں جج ابو الحسنات ذوالقرنین اور قدرت اللہ نے انصاف کا قتل کیا ، انصاف کا قتل کرنے والوں کے خلاف ریفرنس فائل کرنے جارہے ہیں، جس طرح جج ابو الحسنات ذوالقرنین کو تعینات کیا گیا ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ،انوار الحق کاکڑ نے فارم 47 کی تصدیق کی اور اس بات کا اعتراف سابق کمشنر راولپنڈی نے بھی کیا ،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے پوچھا گیا بتائیں کیسے جیتے ان کا کہنا تھا عدالت میں بتاؤں گا ، ہم فارم 45 کے تحت جیتیں ہیں اور ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں، الیکشن کمیشن اور فارم 47 والے جرائم کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ،جسٹس بابر ستار کے خلاف 7 لوگوں نے ایک جیسا بیان دیا، انصاف کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے، عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے،

    جسطرح ملک چلایا جارہا ہے اسے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی،عمران خان
    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے بینیفیشری سے جب کوئی سوال ہوتا ہے تو وہ حملہ اور ہو جاتے ہیں، جھوٹ کو بچانے کے لیے ججز اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، صدر، وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب جھوٹ پر بیٹھے ہیں، فارم 47 کا بینیفیشری گورنر خیبر پختونخواہ، علی امین گنڈاپور پر ذاتی حملے کر رہا ہے، فارم 47 کے بینیفیشری ہی جسٹس بابر ستار پر لفظی حملے کر رہے ہیں، جمہوریت اخلاقی قوت پر چلائی جاتی ہے، نگران وزیراعظم کے بیان کے بعد اس حکومت کے پاس کیا جواز ہے، کاکڑ نے حنیف عباسی کو طعنہ دے کر شہباز شریف کو پیغام بھیجا، چیف جسٹس ایک دبنگ آدمی ہیں، چیف جسٹس نے کہا بھٹو کو فئیر ٹرائل نہیں ملا، کیا مجھے فئیر ٹرائل مل رہا ہے؟ جسطرح ملک چلایا جارہا ہے اسے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی، یہ جنگ آمریت کے خلاف جنگ چل رہی ہے،ہمارا یہ سوال ہے کہ ہماری نو مئی اور آٹھ فروری کے حوالے سے پٹیشنز کو کیوں نہیں سنا جا رہا، ہمارا ٹرائل بھی نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے ٹرائل کی طرز پر چلایا جائے،

    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ بھی بشریٰ بی بی کی طرح عدالت پر عدم اعتماد کررہے ہیں، جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ٹرائل کی کاروائی نارمل انداز میں آگے بڑھائی جائے۔ آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں ملک کے لیے لکھوں گا، وکلا کو ہدایات دی ہیں وہ خط تیار کر کے مجھے بتائیں گے، خط میں بتاؤں گا کہ آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے اور ملک جہاں جا رہا ہے اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا، فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا، مس کنڈکٹ پر جج ابو الحسنات اور جج قدرت اللہ کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کا کہا ہے،

  • ہمیں بھی عمران خان والی سہولیات دی جائیں، قیدیوں کا مطالبہ

    ہمیں بھی عمران خان والی سہولیات دی جائیں، قیدیوں کا مطالبہ

    جیل میں قید قیدیوں نے عمران خان کو ملنے والی سہولیات کا مطالبہ کر دیا ،کہا جو سہولیات عمران خان کو جیل میں دی گئی ہیں وہ ہمیں بھی دی جائیں، قیدیوں نے آئی جی جیل کو خط لکھ دیا ہے

    پنجاب کی جیلوں میں قید قیدیوں کی جانب سے آئی جی جیل خانہ جات کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو سہولیات عمران خان کو دی گئی ہیں،ہمیں بھی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل مراعات جیسی سہولیات فراہم کی جائیں،جیل قوانین کے مطابق اعلیٰ درجے کےقیدیوں کو ایک ہفتے میں 2ملاقاتوں کی اجازت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ملاقات کی سہولت دی،عمران خان کو ایک دن میں 6سے زائد ملاقاتیں کرنے کی اجازت دی گئی ہے،عمران خان کو جیل میں ایکسائز کرنے کیلئے مخصوص سائیکل بھی فراہم کی گئی ہے،عمران خان کو جیل میں مراعات کی فراہمی قیدیوں کیساتھ امتیازی سلوک کی واضح مثال ہے،عمران خان کو آن لائن میٹنگ کی بھی سہولت حاصل ہے جو کہ جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے،جو سہولیات عمران خان کو دی گئی ہیں وہ دوسرے قیدیوں‌کو کیوں نہیں فراہم کی جا رہیں، ہمیں بھی دی جائیں اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے.

    عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

     اڈیالہ جیل راولپنڈی، میانوالی،اٹک اور ڈی آئی خان کی جیلوں میں حفاظتی انتظامات مزید مؤثر 

    سکیورٹی اہلکار اب عمران خان کی ملاقاتوں کے دوران ہونے والی گفتگونہیں سن سکیں گے

    سیاسی معاملات اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل آرڈر پاس کرے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ

    واضح رہے کہ عمران خان گرفتار ہیں اور اڈیالہ جیل میں قید ہیں،عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک سے گرفتار کیا گیا تھا، عمران خان کو پہلے اٹک جیل پھر اڈیالہ منتقل کیا گیا تھا، توشہ خانہ کیس کی سزا عدالت نے معطل کر دی ہے تا ہم سائفر کیس اور دوران عدت نکاح کیس میں بھی عدالت نے عمران خان کو سزا سنا رکھی ہے جس کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں.

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 7 سیلز پر مشتمل سیکیورٹی وارڈ میں رکھا گیا ہے، جس میں سے 2 سیل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے زیر استعمال ہیں، باقی کے 5 سیل سیکورٹی کی وجوہات کی بنا پر بند رکھے گئے ہیں، ان سیلز کے صحن کو سابق چیئرمین پی ٹی آئی چہل قدمی کے لیے استعمال کرتے ہیں، بانی تحریک انصاف کے سیل تک رسائی بہت محدود ہے، کوئی بھی شخص بغیر اجازت وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وارڈ کی حفاظت کے لیے پیشہ ور تربیت یافتہ افراد معمور ہیں، اڈیالہ جیل میں 10 قیدیوں پر ایک اہلکار تعینات ہے، جبکہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکورٹی کے لیے 15 اہلکار تعینات ہیں، جن میں دو سیکیورٹی افسران بھی شامل ہیں، 3 اہلکار سابق وزیراعظم عمران کی سیکیورٹی کیلئے لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں پر مامور ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکورٹی پر ماہانہ 12 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے، جبکہ کیمروں پر 5 لاکھ روپے کا خرچ آیاہے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کھانے کے لیے اسپیشل قواعد و ضوابط تشکیل دیے گئے ہیں، صحت افزا کھانا مہیا کیا جاتا ہے جوکہ ایک اسپیشل کچن میں بنتا ہے،بانی تحریک انصاف کا کھانا اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہےانہیں کھانا فراہم کرنے سے قبل ایک میڈیکل افسر یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اس کا معائنہ کرتا ہے، جیل کے میڈیکل افسر کے علاوہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال کے 6 میڈیکل افسران بھی سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے میڈیکل ٹریٹمنٹ کیلئے تعینات ہیں، راولپنڈی کے ایک دوسرے ہسپتال کے اسپیشلسٹ کی ٹیم جیل کا ہفتہ وار دورہ بھی کرتی ہے ، اسپیشلسٹ کی ٹیم ضرورت پڑنے پر عمران خان کا چیک اپ کرتی ہے،عمران خان کو جیل میں ورزش کے لیے مشین اوردیگر اشیا فراہم کی گئی ہیں، ملاقات کے لئے آنے والوں کے حوالے سے ب بھی اہم قوائد وضوابط بنائےگئےہیں، عمران خان کے جیل ٹرائل کے دوران، ایک جامع سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جاتا ہےاڈیالہ جیل کی حفاظت کے لیےپولیس، رینجرزسمیت مختلف محکمے فرضی مشقیں بھی کرتے ہیں اڈیالہ جیل کی جانب جانے والے روڈ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، جبکہ جیل کے ارد گرد رینجرز اور ایلیٹ فورس کے اہلکار گشت بھی کرتے ہیں۔

  • نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنماوں ، وکلا کی بڑی تعداد سپریم کورٹ میں موجود ہے،عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں،‏وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ ایڈووکیٹ ، فیصل چودھری ،بیرسٹر علی ظفر بھی موجود ہیں،اظہر صدیق ایڈووکیٹ،نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ سمیت پی ٹی آئی کے 15 کے قریب وکلاء و رہنما سپریم کورٹ میں موجود ہیں،سینیٹر فیصل جاویدخان ،سابق سینیٹر اعظم سواتی ،سینیٹر شبلی فراز ،رکن قومی اسمبلی علی محمد خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں.

    عمران خان نے نیلے رنگ کی قمیض زیب تن کر رکھی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر بلا لیا۔‏سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کرلیا،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا بطور وکیل آپ نے فیس کا بل جمع کرایا،خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے فیس نہیں چاہیے،

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی نے دلائل دیئے،‏، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ اصل کیس میں وکیل تھے،آپ کے نہ آنے پر مایوسی تھی، ہم آپ کے موقف کو بھی سننا چاہیں گے، عمران خان مخدوم علی خان کے دلائل سنے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی سے کہا کہ ‏مخدوم علی خان اونچی آواز میں بولیں تاکہ عمران خان سُن سکیں،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیر التواء ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‏کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں وہ درخواست سماعت کے لیے منظور ہوچکی تھی،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی وہ درخواست سماعت کےلیے منظور ہوچکی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیخلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لے،

    کیس کی سماعت براہ راست نہیں دکھائی جا رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ جی میں عدالت کی معاونت کروں گا، عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترمیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا نیٹ چل رہا ہے؟مخدوم علی خان اونچا بولیں تا کہ عمران خان سن سکیں،

    imran supreme

    ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست 4جولائی2022کوآئی ،سپریم کورٹ میں 6جولائی 2022کو کو نمبر لگا ،سماعت 19جولائی کو ہوئی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ مرکزی کیس پر اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2022کا پورا سال درخواستگزاڑ کے وکیل نے دلائل میں لیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کا پورا آرڈیننس بنانے میں کتنا عرصہ لگا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف نے 12 اکتوبر کو اقتدار سنبھالا اور دسمبر میں آرڈیننس آچکا تھا،مشرف نے دوماہ سے کم عرصے میں پورا آرڈیننس بنا دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا تھا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا، مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھ دیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مرکزی کیس کی کل کتنی سماعتیں ہوئیں؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی کیس کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارش لاء کے فوری بعد ایک ماہ کے اندر نیب قانون بن گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم سے متعلق پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں کیسز زیر التوا تھے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست ہائیکورٹس میں کیس زیر سماعت ہونے کے باجود الیکشن کیس بھی سنا ،

    الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس کا آرڈر آف کورٹ کدھر ہے،جب ایک آرڈر آف کورٹ ہی نہیں تو اسے فیصلہ کیوں کہہ رہے ہیں، وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میں پھر اسے سات جج کی رائے کہوں گا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بنچ دوبارہ تشکیل دیا گیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے براہ راست درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوال آئینی تشریح سے متعلق ہے،اگر ایک جج اپنی رائے دے تو وہ دوبارہ کیسے بنچ میں رہ سکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2023میں الیکشن کیس میں ایسی ہی وجوہات پر ہم دو ججز نے ناقابل سماعت کردیا تھا،ہم نے کہا تھا جو کیس ہاٸیکورٹ میں زیر التوا ہے اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،اگر تب لاہور ہاٸیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو الیکشن بروقت ہو جاتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنچ سے الگ ہوجانا الگ معاملہ ہے،اگر پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ بھی کہہ دیا جائے تب بھی یہ سوال ہے کہ آرڈر آف دی کورٹ کہاں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس زیر التو ہونے کے باجود سپریم کورٹ براہ راست کیس سننے پر ججز میں اختلاف آیا،

    دوران سماعت عمران خان نے ورزش کے انداز میں سر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر سٹریچنگ کی،بازوؤں کو ورزش کے انداز میں ہلایا اور گردن کو دائیں بائیں حرکت دیتے رہے،عمران خان نے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں کو پاس بلا لیا اور اپنے چہرے پر تیز روشنی پڑنے کی شکایت کی کہ اسکو سہی کرو جس پر اہلکاروں نے فوراً لائٹ کو ایڈجسٹ کر دیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے مکالمہ کیا اور کہا کہ آپ جب میرے ساتھ بینچ میں بیٹھے ہم نے تو 12 دن میں الیکشن کروادیے،آپ جس بینچ کی بات کررہے ہیں اس میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں نہیں تھا، کیا چیف جسٹس کسی بھی جج کو بنچ سے الگ کرسکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سات رکنی بنچ نے کہا نوے دونوں میں الیکشن ہوں مگر نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری سربراہی میں تین رکنی بینچ نے صرف بارہ دونوں میں الیکشن کرانے کا فیصلہ دیا،پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا ہم نے آرڈر آف دی کورٹ دیا،

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالتی کارروائی لائیو نہ ہونے کا نکتہ اٹھا دیا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی کاروائی براہ راست نشر نہیں ہو رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایڈوکیٹ جنرل کے پی کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس جیسے مختلف فیصلے بھی موجود ہیں،ہائی کورٹ میں زیرسماعت درخواست سپریم کورٹ نہیں سن سکتی، نیب ترامیم کیس بھی سپریم کورٹ میں قابل سماعت نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں سرگوشیوں پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ جس نے باتیں کرنی ہیں کمرہ عدالت سے باہر چلا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا نفاذ کب سے ہوا؟ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد نیب ترامیم کی کتنی سماعتیں ہوئیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد کئی سماعتیں ہوئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا،پریکٹس اینڈ پروسیجر معطل کرنا درست تھایا غلط مگر بہر حال اس عدالت کے حکم سے معطل تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک قانون کو معطل کرنے پھر اس کیس کو سناہی نہ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا ،آپ کو قانون پسند نہیں تو پورا کیس سن کر کالعدم کردیں ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بل کی سطح پر قانون کو معطل کرنا کیا پارلیمانی کارروائی معطل کرنے کے مترادف نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،ہم کب تک خود کو پاگل بناتے رہیں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اچھا تھا یا برا تھا لیکن پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو عدالت نے معطل کر رکھا تھا، ایکٹ معطل ہونے کے سبب کمیٹی کا وجود نہیں تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بنچ کے ایک رکن منصور علی شاہ نے رائے دی کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کو طے کیے بغیر نیب کیس پر کارروائی آگے نہ بڑھائی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون درست نہیں ہے تو اسے کلعدم قرار دے دیں،اگر قوانین کو اس طرح سے معطل کیا جاتا رہا تو ملک کیسے ترقی کرے گا،ہم کب تک اس بے وقوفانہ دور میں رہتے رہیں گے،اگر مجھے کوئی قانون پسند نہیں تو اسے معطل کردوں کیا یہ دیانتداری ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کمرہ عدالت میں درخواست گزار موجود ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ لیکن پہلے مخدوم علی خان کو سن لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو سن لیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل مخدوم علی سے سوال کیا کہ مخدوم علی خان ابھی کتنا وقت دلائل دینگے، مخدوم علی خان نے کہا کہ مجھے ابھی وقت لگے گا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپیل متاثرہ فریق دائر کر سکتا ہے اور وہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے،حکومت اس کیس میں متاثرہ فریق کیسے ہے؟پریکٹس ایند پروسیجر کے تحت اپیل صرف متاثرہ شخص لائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صرف متاثرہ شخص نہیں قانون کہتا ہے متاثرہ فریق بھی لاسکتا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ دو تشریحات ہو سکتی ہیں کہ اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق تک محدود کیا گیا،متاثرہ فریق میں پھر بل پاس کرنے والے حکومتی بنچ کے ممبران بھی آسکتے ہیں،

    آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں،کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں وزیراعظم خود آرڈیننس جاری کرواتے رہے، پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ میں نیب ترامیم کی مخالفت نہیں کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس حکومت کے سیاست دانوں کو مجرم ٹھہرا رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں۔آرڈیننس کے زریعے آپ ایک شخص کی مرضی کو پوری قوم پر تھونپ دیتے ہیں۔کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔ کیا آرڈینس کے ساتھ تو صدر مملکت کو تفصیلی وجوہات نہیں لکھنی چاہیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمان کو مضبوط بنانا سیاستدانوں کا ہی کام ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگلے ہفتے بنچ دستیاب نہیں ہوں گے، عمران خان کی موجودگی آئندہ سماعت پر بھی ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے عمران خان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عمران خان سے مخدوم علی خان کے سوالوں کے جواب لیں گے، عمران خان یہ نکات نوٹ کر لیں، عمران خان بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی مسکراہٹ دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دیے

    سابق چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان آج کی سماعت میں دلائل نہ دے سکے ،مخدوم علی خان کے دلائل جاری ، سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہیں دلائل کے لئے مزید کچھ گھنٹے درکارہونگے، نیب ترامیم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ، عمران خان کی تصویر لیک ہونے پر تحقیقات شروع،پولیس کی دوڑیں
    سپریم کورٹ انتظامیہ نے عمران خان کی تصویر وائرل ہونے پر تحقیقات شروع کردیں،پولیس نے انتظامیہ اسٹاف کو سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کر دی،پولیس تصویر کو وائرل کرنے والے کے خلاف ایکشن لے گی،تصویر کورٹ روم رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی گئی،عمران خان کی کمرہ عدالت سے تصویر وائرل ہونے پر سپریم کورٹ میں دوڑیں لگ گئیں ،عدالتی عملہ اور پولیس پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تصویر کس نے کھینچی ہے ،عمران خان کی کمرہ عدالت میں تصویر بنانے والے کی تلاش شروع کردی گئی،کمرہ عدالت میں نصب بڑی سکرین سے عمران خان کی تصویر چند لمحوں کیلئے ہٹا دی گئی تھی پھر دوبارہ لگا دی گئی،سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ون جانے والے افراد کی چیکنگ مزید سخت کر دی گئی،بانی پی ٹی آئی کی تصویر کمرہ عدالت کے بائیں جانب بیٹھے افراد میں سے کسی نے بنائی، کمرہ عدالت کی بائیں جانب موجود افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی،کمرہ عدالت میں جانے والے افراد کی تلاشی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔

    نیب ترامیم کیس میں کمرہ عدالت سے بانی پی ٹی آئی کی تصویر وائرل ہونے کا معاملہ ،شوکت بسرا کا تصویر لیک ہونے کے حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے کوئی تصویر لیک نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کی تصویر میں نے نہیں بنائی ، سوشل میڈیا پر میرے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،اگر میں نے تصویر بنائی ہوتی تو میں اسے تسلیم کرتا ،

    سپریم کورٹ میں سیکورٹی سخت،موبائل فون لے جانے پر پابندی
    سپریم کورٹ نے کورٹ رپورٹر، صحافی ، اینکر پرسن اور کسی بھی فرد کو کورٹ میں موبائل فون لے جانے سے منع کر دیا تاکہ کوئی کیمرے سے بھی عمران خان کی تصویر نہ بنا سکے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،سپریم کورٹ میں آج عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے انتظامات مکمل کیے گئے تھے، جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے عملے اور جیل اتھارٹیز کے مابین ویڈیو لنک کے کونیکشن بارے رابطہ بھی کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے

    نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا،بابر اعوان
    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ بانی چئیرمین کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے، ذوالفقار علی بھٹو شہید کو عدالتی قتل کے بعد یہاں سنا گیا، نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا، آئین کے آرٹیکل 10 کے مطابق فئیر ٹرائل کا حق دیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سپریم کورٹ کی آج کی سماعت بھی لائیو نشر ہونی چاہیئے،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انہیں سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی تھی، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر رکھی ہے تا ہم سائفر اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہو رہی ہے، عمران خان کی گزشتہ روز القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت ہوئی ہے، عمران خان کو نومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان کو مقامی عدالتوں نے پیشی کا حکم دیا تھا تاہم کسی بھی عدالت میں عمران خان کو پیش نہیں کیا گیا، بلکہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے، اب سپریم کورٹ نے عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی.

    عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے،علیمہ خان
    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ آمد پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اِنہوں نے نہیں دکھانا اس وقت تک عمران خان کو جیل میں رکھیں گے جب تک سارے آپشنز ختم نہیں ہوتے ججز بھی پریشان ہیں کہ کیسے فیصلہ کریں،عمران خان کو القادر میں رہا کرنے کا حکم دیا تو کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا،عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے، یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ القادر کیس میں سزا دے دی جائے، عدت کیس میں کچھ بھی نہیں پھر بھی اسے گھسیٹا جا رہا ، بشری بی بی کے حوالے سے ان کی بیٹیوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دیا ہے، اس کیس پر سزا دینے والے جج کو بھی شرمندگی محسوس ہورہی ہو گی، اس وقت ججز بھی پریشان ہیں انہیں بھی سمجھ نہیں آ رہی کیسے فیصلے کریں، ہم اپنی عدلیہ سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی امید رکھتے ہیں،عمران خان نے کہا کہ اپنے تمام مقدمات کا سامنا کروں گا،اب عدلیہ پر ہے عمران خان کو کیسے انصاف دیں گے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے کیسز میں ججز اب چھٹی پر چلے جائیں گے

  • 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت منظور

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی تھی، آج عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی ضمانت منظور کر لی ہے،عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا.

    واضح رہے کہ 23 جنوری کو سابق وزیر اعظم نے 190 ملین کیس میں ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، اس کیس میں 27 فروری کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف فردجرم عائد کی تھی،اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہو رہی ہے، کئی گواہوں کے بیان بھی ریکارڈ ہو چکے ہیں.

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • عمران کی رہائی کا خوف جعلی حکمرانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہا،پرویز الہیٰ

    عمران کی رہائی کا خوف جعلی حکمرانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہا،پرویز الہیٰ

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر چودھری پرویزالٰہی نے احتساب عدالت میں پیشی پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات عمران خان سے مذاکرات کرنے کے بعد ہی بہتر ہو سکتے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں اپنا اپنا مثبت رول ادا کریں تب ہی استحکام پیدا ہو گا

    چودھری پرویزالٰہی کا کہنا تھا کہ جنرل الیکشن اور پھر ضمنی الیکشن میں عوام نے ن لیگ کو مسترد کیا، فارم 47 والی حکومت عوام کو کسی صورت قبول نہیں،بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا خوف جعلی حکمرانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہا،نااہل حکمران کب تک عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جیل میں بند رکھیں گے، انشاء اللہ بہت جلد سب عوام میں ہوں گے،ہر مسئلہ کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے لگتا ہے ن لیگ مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں، ن لیگ کے اندر اس وقت دو بیانیے چل رہے ہیں ایک مذاکرات کے حق میں ہے اور دوسرا حکمران طبقہ مذاکرات سے فرار چاہتا ہے،عمران خان نے پاکستان کی سلامتی اور ترقی کیلئے مذاکرات کی حامی بھری ہے

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • دبئی لیکس شرم کا مقام ہے،زرتاج گل

    دبئی لیکس شرم کا مقام ہے،زرتاج گل

    تحریک انصاف کی رہنما، سابق وفاقی وزیر، رکن قومی اسمبلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ دوبئی لیکس شرم کا مقام ہیں، پاکستان ایک ایک ارب ڈالے کیلئے منتیں کر رہا ہے دوست ممالک کی اور ہمارے حکمرانوں کی دوبئی میں اربوں کی جائیدادیں ہیں، معافی تو سب لوگوں کو خصوصاََ پی ڈی ایم کو خان صاحب سے مانگنی چاہیئے، خان صاحب کس چیز کی معافی مانگیں؟

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے زرتاج گل کا کہنا تھا کہ پنڈی ڈویژن میں میرے اوپر 19 ایف آئی آرز ہے قانون کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں گے لیکن عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔یہ لوگ پاکستان کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے ہیں کہ یہاں پر انویسمنٹ ہوں چاہیے دبئی لیکس ہو یا پانامہ لیکس ہو اس میں پاکستان کے سیاست دانوں کے نام ٹاپ پر ہوتے ہے طاقت اور کرسی کا استعمال یہاں کرتے ہیں اور پیسہ بزنس ملک سے باہر،

    زرتاج گل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان سے مانگنی چاہیے،جیل سے پاکستان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، سیاسی جماعت ڈائیلاگ کر سکتی ہیں،ججز نے کہا کہ خفیہ ویڈیوز بنائی گئی، ہر شخص پر مقدمہ درج کیا گیا اگر بانی پی ٹی آئی آرمی چیف کو خط لکھیں گے تو اچھی بات ہے،بانی پی ٹی آئی اداروں پر یقین رکھتے ہیں،پاکستان تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے،کس سیاسی جماعت سے بات کرنی ہے اس کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کریں گے،عوام کا مینڈیٹ واپس لیا جائے اور بانی پی ٹی آئی کو رہا کیا جائے،مینڈیٹ کی واپسی، اسیران کی رہائی پر بات چیت ہونی چاہیئے

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • قومی اسمبلی اجلاس، میجر بابر نیازی شہید کے لئے  فاتحہ خوانی

    قومی اسمبلی اجلاس، میجر بابر نیازی شہید کے لئے فاتحہ خوانی

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت ہوا،

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والے قوم کے جری سپوت میجر بابر نیازی کی روح کے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

    کسانوں کو نقصان نالائق اور نااہل غیر منتخب لوگوں کے فیصلوں کی وجہ سے ہو رہا ھے۔ بلاول
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے اس ایوان سے تاریخی خطاب کیا، صدر زرداری نے تقریر میں کوئی ذاتی یا سیاسی بات نہیں کی، صدر زرداری نے واضح کیا کہ وہ اس ملک کے وفاق اور عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، صدر زرداری سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لئے بات چیت کرنا ہوگی، اپوزیشن کی بھی زمہ داری ہے کہ ذاتی مسائل کی بجائے عوام کے مسائل پر بات کریں، آنے والے بجٹ میں حکومت اور اپوزیشن مل کر کام کریں، تاریخی معاشی بحران میں ہمیں بجٹ میں مثبت طریقے سے کام کرنا ہو گا، صدر زرداری کے 20 منٹ کے خطاب میں عوام کی بات کی گئی، بانی پی ٹی آئی دو تین ماہ جیل میں گزار کر تنگ آ چکے ہیں، قائد حزب اختلاف کی لمبی تقریر میں صرف اپنا رونا دھونا تھا، بات جمہوریت اور فارم 45 کی کرتے ہیں اور ڈائیلاگ فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے کرنا چاہتے ہیں،پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ کی حکومت لی تو ایک بھی مفت علاج کا ادارہ نہیں تھا، کراچی سمیت بڑے شہروں میں دل کے مفت علاج کے ہسپتال کھولے۔ سندھ کے سکولوں میں گھوسٹ ٹیچرز کے خاتمے کے لئے حاضری کا بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا، تعلیم کی نجکاری سے تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنا دیا جائے گا. کشمیر اور فلسطین کے بارے میں صدر کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے رونا دھونا کیا، آزاد کشمیر میں احتجاج پر صدر زرداری نے قائدانہ کردار ادا کیا ، پاکستان کے کسان پنجاب اور سندھ میں سراپا احتجاج ہیں، کشمیر ہماری شہ رگ ہے، معیشت کی شہ رگ کسان ہیں، کسانوں کے معاشی قتل پر ایوان تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے، ڈالرز خرچ کر کے گندم درآمد کی گئی، فیصلے سے پیسہ ضائع ہوا، کسانوں کا معاشی قتل کیا گیا،کسانوں کے معاشی قتل کااحتساب کریں،وزیراعظم گندم اسکینڈل میں ملوث افراد کیخلاف ایکشن لیں،کمیٹی کمیٹی کھیلنا بند کریں، کسانوں کا نقصان مہنگائی سے نہیں،نااہل لوگوں کی وجہ سے ہوا،فوری ایکسپورٹ سےپابندی اٹھائیں،کسانوں پرظلم بندکریں،گندم خریدیں، حکومت ایکسپورٹ پر پابندی ہٹائے،گندم اور کسانوں والے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر ہوناچاہیے ،حکومت کسانوں کے ساتھ ظلم نہ کرے ،سمندر میں گندم پھینکنے کی ضرورت نہیں،حکومت گندم خرید کر فلسطین کے عوام کو بھیجے،فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، انکو گندم کی ضرورت ہے، پاکستان گندم بھیجے، کسانوں سے گندم خریدے، کسانوں کا معاشی قتل بند کر کے،حکومت معیشت کی ترقی چاہتی ہے تو آج فیصلہ کرنا ہوگا،

    9 مئی کی معافی نہیں مانگتے تو رونا دھونا جاری رہے گا، بھگتنا پڑے گا، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن حکومت کیساتھ مزاکرات کرے اور حل نکالے،اپوزیشن بات آئین کی کرتی ہے مگر بات انہیں صرف اسٹیبلشمنٹ سے کرنی ہے، اگر ہم نے ملکی مسائل کا حل نکالنا ہے تو وہ بات چیت کے بغیر ممکن نہیں،جب تک منافقت جاری رہے گی انکا رونہ دھونا جاری رہے گا، پہلے پنجاب کو بزدار کا تحفہ دیا، اس بار خیبرپختونخوا کا کیا قصور ہے ،گورنر کیخلاف بیانات دے کر بانی کو خوش بھی کرنا ہے اور وزیر اعلٰی بھی رہنا ہے ، پہلے کہتے تھے جمہوریت میں مداخلت نہ کرو اب پاؤں پکڑ کر مداخلت چاہتے ہیں ،انہیں اپنے عسکری ونگ سے دور ہو کر سیاسی لوگوں کو آگے لانا چاہئے، 9 مئی کی معافی نہیں مانگتے تو رونا دھونا جاری رہے گا، بھگتنا پڑے گا، ہم ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں 9 مئی نہ صرف حکومت بلکہ فوجی قیادت کیخلاف ناکام بغاوت تھی ،ان کا لیڈر جیل میں رو رہا ہے، مجھے نکالو، مجھے نکالو ،

    بلاول کی جانب سے پی ٹی آئی کو گندے انڈے کہنے پر سنی اتحاد کونسل کے ممبران کا احتجاج
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی طرف سے بانی تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلٰی کے پی کے پر الزمات پر سنی اتحاد کونسل نے قومی اسمبلی میں بلاول کی تقریر کے دوران شدید احتجاج کیا سپیکر ڈائس کے سامنے آگئے پیپلزپارٹی کے ارکان نے بلاول کے گرد حفاظتی حصار بنائی جبکہ کچھ ممبران سنی اتحاد کونسل سے احتجاج نہ کرنے کا کہتے رہے، بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلاول بھٹو نے آخر میں خطاب کیا ۔بلاول بھٹو کی طرف سے عمران خان اور وزیر اعلیٰ کے پی کے پر الزمات لگانے اور 9 مئی کے حوالے سے معافی نہ مانگنے پر ساری پی ٹی آئی کو گندے انڈے کہنے پر سنی اتحاد کونسل کے ممبران نے شدید احتجاج کیا سپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوکر شدید نعرے بازی کی اپوزیشن نے نعرے لگائے کہ کون بچائے گا پاکستان عمران خان عمران خان ،فارم 47 کی حکومت نامنظور ،آپ مینڈیٹ چور ہیں سیاست دان نہیں،ووٹ چور مینڈیٹ چور نامنظور نامنظور، گو زرداری گو، کچے کے ڈاکو نامنظور،عمران تیرے جان نثار بے شمار بے شمار،پاپا کا بیٹا پاگل ہوگیا ہے۔اپوزیشن کے شدید احتجاج کے بعد بلاول بھٹو کی تقریرمکمل ہوتے ہی ڈپٹی سپیکر نے اجلاس جمعرات کی صبح 11بجے تک ملتوی کردیا ۔

    وزراء کی عدم موجودگی پر وقفہ سوالات اور توجہ دلاؤ نوٹسز موخر کر دیئے گئے،حنیف عباسی وزراء کی عدم موجودگی پر برہم ہو گئے، بولے ہم ہر جگہ ایک ہی بات کرتے ہیں پارلیمنٹ سپریم ہے،ہمارے وزراء کہاں ہیں، یہ وقت پر نہیں آئیں گے تو کس کو روداد سنائیں گے؟ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم آئی ہے اس لئے سارے وزراء مصروف ہیں،حنیف عباسی نے کہا کہ یہ اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے ہیں صرف تقریر کرنے کے لئے نہیں، ہم نے معافیاں نہیں مانگی ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، پاکستان کی جغرافیائی یا نظریاتی سرحدیں ہوں ان کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے، جو ان کو توڑے گا وہ غدار ہے۔

    صدر مملکت کے خطاب پر بحث جاری ہے،رکن اسمبلی اویس حیدر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقوں کو اضافی فنڈز جاری کئے جائیں،جنوبی پنجاب میں صرف نشتر ہسپتال ہے،مریضوں کی نشتر ہسپتال پہنچے سے پہلے موت ہو جاتی ہے،ضلع لیہ کے لئے اسپیشل فنڈز کا اعلان کیا جائے

    خلائی مخلوق کا ہاتھ آپ کے گلے پر پڑتا ہے تو آپ کی چیخیں نکلتی ہیں،شگفتہ جمانی
    رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری جب پہلی مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے ان کے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا،انہوں نے اپنے سارے اختیارات اس پارلیمان کو دیئے،صدر آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا کو اس کی شناخت دی،یہاں صرف نفرتوں کی دیواروں کوکھڑا کیا جارہا ہے،آپ کے دور میں خورشید شاہ نے تین سال جیل کاٹی ہے،فریال تالپور کو عید کی رات گرفتار کیا گیا، گھبرانا نہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں،آپ کو اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا پڑے گا ،خلائی مخلوق اگر آپ کے ساتھ ہے تو بہت اچھی،جب خلائی مخلوق کا ہاتھ آپ کے گلے پر پڑتا ہے تو آپ کی چیخیں نکلتی ہیں

    92 کا ورلڈ کپ تاج تو بنا لیکن وہ تاج نوجوانوں کے لئے ایک مصیبت بھی بن گیا،آسیہ ناز تنولی
    رکن اسمبلی آسیہ ناز تنولی نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ جو ہمارے سر پر جیت کا نشان تھا،92 کا ورلڈ کپ تاج تو بنا لیکن وہ تاج نوجوانوں کے لئے ایک مصیبت بھی بن گیا،خیبرپختونخوا میں کون سی دودھ کی نہریں بہائی ہیں آپ نے؟پنجاب کی وزیراعلی عوام کے لئے کھڑی ہو گئیں،سوشل میڈیا پر مریم نواز کے حوالے سے جو کچھ کیا گیا اس کی شدید مزمت کرتی ہوں

    قابل عمل مذاکرات کے لیے سپیکر آفس اپناکردار ادا کرے،ریاض فتیانہ
    ریاض فتیانہ نے کہا کہ ملک میں سیاسی قیدی ہیں عمران خان،خواتین اور بچوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے،سیاسی قیدیوِ کو رہاکئے بغیر سیاسی استحکام نہیں آئے گا اور سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آئے گا اور معاشی استحکام کے بعد ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ہے ہم فروٹ فل مذاکرات کے لیے تیار ہیں قابل عمل مذاکرات کے لیے سپیکر آفس اپناکردار ادا کرے،پچھلے سال کھاد فیکٹریوں نے منافع کمایا،فی الفور کھاد اور گندم کے بحران پر قابو پایا جائے،بڑی تعداد میں سیاسی قیدی جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں،نتیجہ خیز مذاکرات ہونےچاہئیں ،تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ،الیکٹورل ریفارمز کی ضرورت ہے،فارم 45 ہمارے پاس ہیں، فارم 47 ان کے پاس ہیں،ہم تمام معاملات پر بات کرنے کو تیار ہیں ،ہم ڈائیلاگ کے حق ہیں ہیں، اس کےلئے ایجنڈا ہونا چاہئے،

    کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے،شہر میں پانی نہیں آتا، لیکن آدھے گھنٹے میں پانی کا ٹینکر آجاتا ہے،مصطفیٰ کمال
    ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی مصطفی کمال نے صدر کی تقریر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ آصف علی زرداری پورےپاکستان کے صدر ہیں آج وہ صدر ہیں کل کوئی اور صدر ہو گا، اس کرسی کی عزت ہےکراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہےکراچی میں ہر تیسرے دن خبر آتی ہے بچہ گٹر میں گر گیاشہر میں پانی نہیں آتا، لیکن آدھے گھنٹے میں پانی کا ٹینکر آجاتا ہےہم سندھ کے پانی سے صرف قطرہ مانگ رہے ہیں۔دو کروڑ 62 لاکھ بچے سکول ہی نہیں جارہے، ستر لاکھ سندھ میں سکول نہیں جارہےہماری یونیورسٹیاں بے روزگار لوگ پروڈیوس کرنے والی فیکٹریاں بن گئیں ہیں ڈکٹیٹر ایوب خان نے فاطمہ جناح کو راء کا ایجنٹ قرار دیانواز شریف اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر آتے ہیں اور جیل۔چلے جاتے ہیں اور ان کی اہلیہ کی ڈیتھ ہو جاتی ہےآپ کو تو چار سال حکومت ملی کیوں نہیں ریفارمز کئے ہمیں تو فارم 45 ہی نہیں دیئے گئے تھےآپ کی جگہ پر ڈپٹی اسپیکر اسٹے آرڈر پر بیٹھے ہوئے تھے آج جو ہم کر رہے ہیں 2029 کا الیکشن بھی ایساہی ہو گا.

    اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہاکہ یہاں وزیر قانون نے پاور سیکٹر کے بارے میں بیان دیا تھاوزیر قانون نے کہا تھا کہ لوڈ شیڈنگ اس لئے ہو رہی کہ چوری ہے ،یہ غلط ہےلوڈشیڈنگ چوری کی وجہ سے نہیں ہورہی لوڈ شیڈنگ اس لئے ہو رہی ہے کہ یہ پیسہ ہی جاری نہیں کر رہے۔

    میرے خاندان کی خواتین شرعی پردہ کرتی ہیں میرے گھر پر ریڈ کیا گیا،زرتاج گل
    رکن قومی اسمبلی زرتاج گل وزیر نے صدر کے خطاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ایماء پرخواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہےکیا ڈیرہ غازی خان نو گو ایریا تھا؟میرے خاندان کی خواتین شرعی پردہ کرتی ہیں میرے گھر پر ریڈ کیا گیا تو ساری خواتین گھر چھوڑ کر چلی گئیں جب نواز شریف کا دور آئےگا تو کیا خواتین پر سیاست کے دروازے بند ہوں گے؟جب عالیہ حمزہ کو تین بیٹیوں کے سامنے پولیس نے گھسیٹا تو کون سی سیاسی برتری حاصل ہو گئی؟کوئی باپردہ خاتون بھی آپ کے شر سے محفوظ نہیں رہی عالیہ حمزہ ،صنم جاوید پولیس کی کسٹڈی میں بیٹھی ہوئی ہیں خواتین سیاستدانوں گرفتار کرنے آتے ہیں تو کوئی مرد اہلکار ان کو نہ گھسیٹے ان کو کہیں وہ خود پولیس سٹیشن میں حاضر ہوجائیں گئیں ۔

    مانسہر کے 250 سکول اب بھی ایسے جہاں بغیر چھت کے بچے پڑ رہے ہیں،سردار یوسف
    رکن قومی اسمبلی سردار یوسف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ایک ڈیبیٹ رکھی جائے اس میں پچھلے پانچ سال جو ہوا وہ بھی بتائیں جو ہماری حکومت کر رہی ہے،وہ بھی بتائیں خیبرپختونخوا میں ایک واحد ایسی پارٹی ہے جو تیسری دفعہ برسر اقتدار آئی ہےدس سال میں جس طرح خیبرپختونخوا کے عوام کو پی ٹی آئی حکومت سے نقصان ہوا،اس طرح کبھی نقصان نہیں جو کچھ آپ نے بویا تھا، آج پوری قوم سزا بھگت رہی ہے مانسہر کے 250 سکول اب بھی ایسے ہیں جہاں بغیر چھت کے بچے پڑ رہے ہیں مانسہرہ کی ساڑھے تین لاکھ کی آبادی آج بھی صاف پینے کے پانی سے محروم ہےدس سال میں مانسہرہ میں نہ کوئی ان کی سڑک بنی ہے نہ سکول مکمل ہوئے ہیں۔نواز شریف نے مانسہرہ تک موٹروے بھی بنائی ہے۔

    معافی وہ مانگتا ہے جس پرجرم ثابت ہو ، ہم پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا،زین قریشی
    سنی اتحاد کونسل کے ممبر قومی اسمبلی زین قریشی نے کہا کہ فارم 47 والے آج ہمیں بھاشن دے رہے ہیں صدر نے اپنی قربانیوں کی بات کی۔وہ جماعت جس کو عوام میں مسترد کیا، وہ مسلط ہو گئی ہےمیرے قائد نے بھی جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں ہیں میرے والد 40 سال ان ایوانوں کا حصہ رہے ، ایک ایف آئی آر کبھی نہیں کٹی9 مئی کو میں اور شاہ محمود قریشی ہسپتال میں موجود تھے ہم نے بھی قربانیاں دی ہیں،ہمیں بھاشن وہ تو نہ دیں جنہوں نے قانون کے ٹوٹے ٹوٹے کئےمخصوص نشستوں پر ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔قانون کی حکمرانی کے لئے بانی پی ٹی آئی نے بات کی بہاولنگر میں جو کچھ ہوا، آپ نے دیکھاقانون کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آمنے سامنے ہوجاتے ہیں ہم بات کرنے کو تیار ہیں لیکن ہماری کچھ مطالبات ہیں اس ملک کے کسان کا استحصال ہوا ہےحنیف عباسی کہہ رہے ہیں 85 ارب روپے کا غبن کیا گیاایک طبقہ وہ ہے جس کو لندن سے بلا کر کیسز ختم کئے جاتے ہیں جسٹس بابر ستار خط لکھ کر کہہ رہے ہیں مجھے کالیں آتی ہیں اس پر ایکشن لینا چاہئےہمارے قائد، شاہ محمود قریشی اور دیگر اسیران کو فی الفور رہا کہا جائےایک کمیشن بنانا ہو گا، ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکے کا سدباب کرنا ہوا گا9 مئی پر کمیشن بننا چاہئے، جو ملوث ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں معافی وہ مانگتا ہے جس پرجرم ثابت ہو ، ہم پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا

    رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ری کنسیلیشن ہماری پارٹی کا وطیرہ ہے،آئیے بات کریں، آپ کو شکایت ہے،میری قائد کو الیکشن سے پہلے شہید کردیا گیا،ہم نے عوام کے لئے 1000 سال کے لئے سوچا اور سی پیک کی بنیاد رکھی،ہم نے جو بھی ریفارمز کرنی ہیں،اسی اسمبلی سے کرنی ہیں،کوٹہ سسٹم وفاقی سبجیکٹ ہے

    ملکو کے گانے نے نواز شریف کا بیانہ دفن کردیا، نثار احمد جٹ
    رکن قومی اسمبلی نثار احمد جٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو بھکاری کہنے والا آج ہمارا وزیراعظم ہے،اس وزیراعظم کے دائیں بائیں جانب پیپلز پارٹی جیسی جماعت ہے،حیران ہوں، کیوں نہیں صدارتی تقریر اردو میں کی گئی؟بہتر ہوتا اس تقریر میں کراچی کو بھی ڈسکس کرلیا جاتا،کچے کے ڈاکو نہیں قابو ہو رہے ہیں،کسان کو آپ نے روند کے رکھ دیا ہے،16 ماہ کی حکومت میں کتنے کلاشنکوف کے لائسنس جاری کئے ہیں،9 مئی کے بینیفشری ن لیگ والے ہیں،ملکو کے گانے نے نواز شریف کا بیانہ دفن کردیا

    حافظ آباد کا بار دانہ وزیر خوراک نے ایک ہزار روپے فی بوری بیچا ،انیقہ مہدی کا الزام
    رکن قومی اسمبلی انیقہ مہدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شعبہ زراعت کے حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ ہے،پنجاب میں اضلاع کے گندم کوٹہ کا غلط استعمال جاری ہے،ضلع حافظ آباد کا گندم کوٹہ کامونکی منتقل کر دیا گیا ہے،محکمہ زراعت حافظ آباد کے افسران کی ملی بھگت سے گندم خریداری میں گڑ بڑ جاری ہے.حکومت حافظ آباد میں محکمہ زراعت کے افسران کے خلاف کارروائی کرے،حافظ آباد کا بار دانہ وزیر خوراک نے ایک ہزار روپے فی بوری بیچا ہے حافظ آباد کے کسانوں نے دیگر اضلاع کے گندم کو روکا تو ان کو دھمکیاں دی گئیں حافظ آباد کا قابل کاشت رقبہ 60ہزار ایکڑ ہے جبکہ حافظ آباد کے نام ہر 90ہزار ایکڑ کا بار دانہ جاری کیا گیا اور سب کا سب دوسرے اضلاع کو دیا گیا اگر وزیر حافظ آباد کے 60ہزار ایکڑ حافظ آباد کے کسانوں کو باردانہ دے دیا جاتا تو پھر بھی وزیر صاحب کے پاس اضافی 30ہزار ایکڑ کا باردانہ ہوتا مگر وزیر خوارک رانا تنویر نے 90ہزار پورا بار دانہ دیگر اضلاع کو دے دیا میرے ضلع کے کسانوں کے ساتھ ذیادتی کی گئی اس پر وزیر کے خلاف کاروائی کی جائے

    مرزا اختیار بیگ نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چند دنوں میں جس طرح ایوان چلتا رہا، بڑی مایوسی ہوئی،صدر کی تقریر آئینی تقاضا ہے،صدر کی تقریر میں 68 فیصد معیشت پر بات کی گئی ہے،سڑکوں جلوسوں میں میں نے مسئلے حل ہوتے نہیں دیکھتے

    اقبال خان آفریدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نو مئی کے ڈرامے کا سب کو پتہ ہے کہ فائدہ کس کو ہوا ،نو مئی بہانہ عمران خان اور پی ٹی آئی نشانہ تھا ،اگر سیاسی استحکام چاہتے ہو تو عمران خان کو رہا کرنا ہوگا ،عمران خان کو رہا نہیں کریں گے تو ایوان چلنے نہیں دیں گے

    سید وسیم حسین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی ہے یا کوئی اکھاڑہ ہے،کیا عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے کوئی بات یہاں ہو رہی ہے؟بجلی گیس مہنگی ہوتی جا رہی ہے،کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جائے، سانحہ 9 مئی کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے،ہمارا چالیس فیصد کوٹہ چوہے کھا گئے،یہ کون سے چوہے تھے جو ہمارا حق بھی کھا گئے

    رکن اسمبلی مہتاب اکبر راشدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے شاید ہم ایک دوسرے کے بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے،یہ ایوان قانون سازی کے لئے ہے ایک دوسرے کے لئے کیچڑ اچھالنے کے لئے نہیں ہے،صدر کی تقریر سال میں ایک دفعہ ہوتی ہے،وہ تقریر جس پر بحث ہو رہی ہے وہ تو اس وقت سنی ہی نہیں گئی،کوئی لفظ ایسا نہ کہیں جو کل ہم خود سنیں تو ہمیں شرمندگی ہو،جو بھی صدر تقریر کرتا ہے وہ علامتی ہوتی ہے،اس پر ایگزیکٹو عملدرآمد کرے گا.

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی بھی دبئی میں جائیداد کی مالک

    عمران خان کی فرنٹ مین فرح گوگی بھی دبئی میں جائیداد کی مالک

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو پاکستانیوں کو بیرون ملک جائیداد بنانے سے روکتا ہو، ہمارے پاس یہ قانون ہے کہ کوئی پاکستانی باہر جرم کرے تو اسے پاکستان میں سزا ہو ، یہ جرم ہے کہ آ پ کے پاس کوئی جائیداد ہے اور اسے آپ نے ڈکلیر نہیں کیا ہوا، پاکستان اگر رول آف لا اوراستحکام مہیا کرے تو پاکستانی یہاں انوسٹ کریں گے ، ہم لوگوں کو ماحول دیں گے تو پاکستانی پاکستان میں انویسٹ کریں گے

    عمران خان نے کہا تھا کہ 11 ارب ڈالر ملک سے گئے، شبلی فراز
    تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہماری اکانومی تباہ ہوگئی، ہمارے اداروں کو مفلوج کر دیا گیا، لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، ملک کے اندر افراتفری کا عالم ہے، وہ کون لوگ ہیں جو اس ملک کے ساتھ دشمنی کرنا چاہتے ہیں ملک اشرافیہ کے حوالے کر دیا گیا، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ 11 ارب ڈالر ملک سے گئے، چوری کا سارا پیسہ ملک سے باہر بھیج دیا گیا

    جماعت اسلامی کا دبئی لیکس میں شامل حکومتی شخصیات سے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دبئی لیکس میں شامل حکومتی شخصیات سے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکمرانی یہاں، سرمایہ کاری وہاں، یہ نہیں چلے گا۔ ایسے تمام افراد کو اب اعلی عہدوں سے الگ ہو جانا چاہیے۔ سیاستدان، اور بیوروکریٹ بتائیں کہ یہ دولت کہاں سے کمائی، اور کیسے باہر بھیجی۔ منی ٹریل سامنے لائی جائے، قوم کو جواب چاہیے۔

    دبئی لیکس،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ مین فرح گوگی کا نام بھی سامنے آ گیا،دبئی لیکس میں پاکستانی افراد کی اربوں کی دبئی میں پراپرٹیز کا انکشاف ہوا ہے، جن پاکستانیوں کی دبئی میں‌پراپرٹی ہے ان میں‌فرح گوگی بھی شامل ہے،فرح گوگی بشریٰ بی بی کی فرنٹ مین رہی ہیں اور عمران خان حکومت ختم ہونے کے بعد پاکستان سے دبئی فرار ہو گئی ہیں،تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کا نام بھی دبئی لیکس میں شامل ہے تا ہم انہوں نے وضاحت جاری کی ہے،

    عمران خان کی فرنٹ پرسن اور سابق خاتون اول کی دوست فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر عام پر آیا تھارپورٹ کے مطابق غیر قانونی طریقے سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کو ایک غیر معروف ملک وینا تاؤ کاخفیہ پاسپورٹ بنا کر دیا گیا،دسمبر 2021 میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ممکنہ کامیابی کے پیش نظر عمران خان اور بشری بی بی نے ملک کے ایک معروف پراپرٹی ٹائیکون کے بیٹے کو اپنی فرنٹ پرسن فرح گوگی کیلئے خفیہ انٹرنیشنل پاسپورٹ خریدنے کا ٹاسک سونپا اور اس پراپرٹی ٹائیکون نے ایک اور معروف بزنس مین کو خفیہ پاسپورٹ بنانے کیلئے ایک لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر فراہم کئے۔عمران خان اور بشری بی بی کی اکٹھی کی گئی دولت کو دنیا کے مختلف ممالک میں چھپانے کی غرض سے اس سے خریدے پاسپورٹ پر فرح گوگی کے بیرون ملک دورے کئے، 28 مارچ 2022 کو فرح گوگی کیلئے خریدے جانے والا وینا تاؤ کا خفیہ پاسپورٹ بشری بی بی کے حوالے کر دیا گیا، اور 3 اپریل 2022 کو عمران خان کی حکومت جانے سے 6 دن قبل فرح گوگی کو پاکستانی پاسپورٹ پر ملک سے فرار کروا کے دبئی بھجوا دیا گیا۔عمران خان اور بشری بی بی نے پاکستان سے لوٹی گئی کثیر رقم کو ٹھکانے لگانے کیلئے فرح گوگی کے خفیہ بین الاقوامی دوروں اور بینک اکاؤنٹس کو وینا تاؤ کےخفیہ پاسپورٹ سےممکن بنایا دبئی کےبعد باقی تمام سفر وینا تاؤ کےپاسپورٹ پہ کروائے گئے تاکہ تحقیقاتی ادارے اس نقل و حرکت سے آگاہ نہ رہیں-

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف