Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • بشریٰ بی بی  کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    تحریک انصاف کی رہنما کنول شوذب کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کو جس طرح سلو پووزننگ کی جا رہی وہ انتہائی تشویشناک ہے، شکایت کوئی اور نہیں کر رہا بلکہ وہ خود بتا رہی ہیں،کھانے میں ان کو کیا کیا ملا کر دیا جا رہا جس کی وجہ سے ان کے جسم پر مختلف جگہوں پر نشانات پڑ گئے ہیں، بی بی کے اوپر جس طرح فضول مقدمات بنائے گئے اس کی مثال نہیں ملتی،آپ نے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈالا انہوں نے خندہ پیشانی سے فیصلہ مانا، بانی پی ٹی آئی کے نہ ہی پلیٹ لیٹس گرے نہ ہی انہوں کو بیرون ملک جانے کی ڈیل کی، بشری بی بی کو بس سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، بشری بی بی کا میڈیکل چیک اپ کروایا جائے اور ان کا کھانا چیک کیا جائے،مقصود چپڑاسی اور گواہان سب کو یاد ہیں جن کو صفہ ہستی سے مٹا دیا گیا ،

    تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ "قاضی علي السلطان”قاضی کبھی سلطان کیلئے کھڑا نہیں ہوتا، سلطان قاضی کیلئے کھڑا ہوتا ہے، کیسے کسی کو کوئی تھریٹ کرسکتا ہے ،بلیک میل کر سکتا ہے، غلط کام ہر دور میں غلط ہے آج ہو یا کل ہو، چھ ججز کا خط تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا،6 ججز کے خط کا معاملہ: چیف جسٹس پاکستان کا فل کورٹ بنانے کا عندیہ دینا خوش آئند ہے، قوم امید لگائے بیٹھی ہے کہ یہاں سے ایسا فیصلہ آئے گا کہ کل کو کوئی کسی جج کو دھمکانے کی کوشش نہیں کرسکے گا،

    بشری بی بی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے شدید خدشات ہیں،شوکت بسرا
    تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا کا کہنا ہے کہ کل میں بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملا، بشری بی بی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے شدید خدشات ہیں،بشری بی بی کے فی الفور میڈیکل کی درخواست متعلقہ جج کو بھی دی گئی ہے،پاکستان میں جنگل کا قانون ہے،قاضی فائز عیسی کا آج بھی عدالت میں رویہ ججز کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے ایگزیکٹو کے ساتھ کھڑا ہونے جیسا تھا،یہ پاکستان کے نمائندے نہیں بلکہ فارم 47 کی پیداوار ہیں، ان کو انٹرنیشنل ایجنڈے کے تحت لایا گیا تاکہ سی پیک کو ختم کیا جائے، آج بھی بانی پی ٹی آئی کے چاہنے والوں کے خلاف کاروائیاں ہو رہی ہیں، خواتین سے سیٹیں صرف قاضی فائز عیسٰی کے فیصلے کی وجہ سے چھینی گئیں،

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کا کہنا ہے کہ بشریٰ عمران کی جان کو خطرہ ہے عمران خان نے بھی اور پارٹی نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ انکا فوری میڈیکل چیک اپ کیا جائے اور شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز کو اجازت دی جائے تاکہ وہ انکا معائنہ کر سکیں،

  • ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا،عدالت

    ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،عمران خان کی سزا کیخلاف سائفر اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا، سلمان صفدر نے کہا کہ آخری جرح دونوں فریق کرتے ہیں کہ کیس کیا ہے، 342 کا بیان پڑھ کر سنایا گیا تو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے 2,2 سوال پوچھے گئے ،سوال پوچھنے کے فوری بعد سزا سنا دی گئی ،342 کا بیان میں ایک حصہ لکھا ہوا کہ جج سزا سنا کر فوری کورٹ سے روانہ ہوگئے ، بکیسے ہوسکتا ہے کہ 342 کے بیان میں یہ کس طرح لکھا ہوا ہے، 342 کا بیان ایک مکالمہ ہوتا ہے جو ججمنٹ سے پہلے ہوتا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے 342 کے بیان کو کنفرنٹ کردیا اور بیان سامنے بھی آگیا ہے ، اس ججمنٹ میں پراسکیوشن اور ڈیفنس کے دلائل موجود ہیں ، سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں ججمنٹ میں دلائل نہیں ہیں ،ججمنٹ میں ایک پیراگراف موجود ہے جس میں دلائل کا ذکر کیا گیا ہے کہ ڈیفنس کونسل دلائل سے ثابت نہیں کرسکے ، ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں پراسیکیوشن کے دلائل چار صفحات پر اور وکلا صفائی کا موقف پندرہ سولہ لائنوں میں لکھا، یہ وکلا صفائی بھی سرکار کی جانب سے مقرر کیے گئے تھے، شاہ محمود قریشی کے بطور ملزم بیان سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا گیا، ہم سے ایسی کیا گستاخی ہوئی کہ ہمیں کورٹ سے باہر کر دیا کہ آپ اب عدالت میں نا آئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ٹرائل کے دوران فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ جب کیس دو مرتبہ ریمانڈ بیک ہو کر جائے تو جج کو احتیاط سے کیس سننا چاہئے، اتنا پیچیدہ کیس اور دو بار ٹرائل کالعدم بھی ہوچکا تھا پھر بھی ٹرائل کورٹ کو اتنی جلدی کیا تھی ؟ ٹرائل کورٹ کے جج کی فائنڈنگ کے مطابق انہوں نے عمران خان کے وکلا سے گلے شکوے کیے ، انہوں نے trick(تنگ) کا لفظ بہت بار استعمال کیا کہ ہم نے انہیں trick (تنگ) کیا ،ججمنٹ میں بھی یہی لکھا کہ وزیر اعظم نے سائفر ٹیلی گرام کو غلط طریقے سے استعمال کیا، بیرسٹر سلمان صفدرنے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو عدالت کے سامنے پڑھا

    جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ جج نے اپنے فیصلے میں یہ فائنڈنگ دی کہ پاکستان امریکہ تعلقات ختم ہو گئے،ٹرائل جج نے کِس بنیاد پر یہ لکھا کہ تعلقات ختم ہو گئے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اسد مجید نے ڈونلڈ لو کے ساتھ لنچ کیا اور اس لنچ پر گفتگو کی، ٹرائل جج نے امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید کے بیان کی بنیاد پر لکھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد مجید نے بھی یہ نہیں کہا، بیرسٹر سلمان صفدر نےکورٹ میں شاہ محمود قریشی کی پبلک گیدرنگ میں تقریر دوبارہ پڑھ کر سنائی،اور کہا کہ اس تقریر پر دس سال قید کی سزا سنا دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عمران خان کے خلاف الزامات سیکرٹ ڈاکومنٹ ڈسکلوز کرنے اور پھر اسے غائب کرنے کے ہیں، آپ نے بتایا تھا کہ دو چارجز لگا دیے گئے، چارج تو ایک لگنا چاہئے تھا، شاہ محمود قریشی پر ڈسکلوز کرنے کا نہیں، معاونت کا الزام ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ جج صاحب فیصلے میں لکھتے ہیں کہ ریاست کے اعتماد کا قتل کیا گیا، ملزمان رعائت کے مستحق نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر اگر سائفر کے طور پر نہ آتا اور عمومی طور پر بھیجا جاتا تو پھر کیا ہوتا؟اگر سائفر ڈپلومیٹک بیگ کے طور پر آتا تو کیا پھر وزیراعظم اُسے سامنے لا سکتا تھا؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن پھر مسئلہ وہی ہے کہ سائفر میں تھا کیا، وکیل عمران خان نے کہا کہ سائفر ایک سفید کوا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کر رہے ہیں اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ اس سے تعلقات خراب نہ ہوں، اس ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا، ایک دوسرے ملک نے آپکو بہت خوفناک بات کہی ہے اور وہ سائفر میں آئی تو آپ کسی کو بتا نہیں سکتے؟

    سلمان صفدر نے کہا کہ ریاست کے دشمن کیلئے بنے قانون کو سیاسی دشمن کے خلاف استعمال کر لیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ قانون تو اب غیرضروری ہو چکا ہے لیکن 75 سالوں میں کسی اسمبلی نے اس قانون کو ختم کیا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کبھی بھی عوامی جلسے میں نہیں پڑھا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر کی جب ڈی کوڈ ہونے کے بعد کاپیاں بن جاتی ہیں تو وہ سائفر ہی رہتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز نے مجھے سائفر کہنے سے روکا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کی جو کاپیاں بنتی ہیں وہ Transliteration کہلاتی ہیں،

    عدالت نےعمران خان اورقریشی کی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی،سلمان صفدر نے کہا کہ صرف عمران خان نےنہیں بلکہ سب نے واپس دینا تھا لیکن نہیں دیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سلمان صاحب آپ کل تیاری کےساتھ اس پر دلائل دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ آپکےفائدے کی بات ہے،ہاتھی آپ نکال چکے دم بھی نکال دیں،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • 9مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست دائر

    9مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست دائر

    اسلام آباد: 9مئی کے مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت کی درخواست دائر کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانا کھنہ میں درج 9 مئی کے واقعات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا پیش ہوئے اور انہوں نے عمران خان کی بریت کی درخواست دائر کی۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال نے استفسار کیا بانی پی ٹی آئی کیخلاف مقدمہ کا چالان جمع ہو گیا ہے، بانی پی ٹی آئی پر کتنے کیسز رہتے ہیں؟وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کی سزا معطل ہو چکی، عدت میں نکاح، سائفر کیس میں سزائیں ابھی باقی ہیں جبکہ 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں ضمانت کرانی ہے،بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 مئی کو دلائل طلب کر لیے۔

  • سائفر کیس،کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟عدالت

    سائفر کیس،کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں حامد علی شاہ، ذولفقار نقوی و دیگر عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دو گواہوں کے بیانات پڑھنا چاہوں گا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر کے بارے میں بتائیں کہ وہ ڈاکومنٹس فائل میں کیسے آتا ہے ،سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے تین گواہ پر کیس چلا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اعظم خان کا 154 کا بیان پڑھ دیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بیان کا خاص حصہ پڑھیں جو کیس سے تعلق رکھتا ہے ،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم خان کا 164 کا بیان پڑھا اور کہا کہ اعظم خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سائفر کو پبلک کرنے کا کہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر اعظم خان نے پڑھا تھا ، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس نے کہا تو اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اعظم خان نے سائفر پڑھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی سے کہا کہ سائفر کی ڈی کوڈ کاپی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک بیان میں کچھ اور ہے اور دوسرے میں کچھ اور؟ کیا آپ نے اعظم خان کو کنفرنٹ کیا تھا کہ اس وقت آپ نے یہ کہا تھا اور اب آپ نے کچھ اور کہا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان پر ہم نے نہیں ڈیفنس کونسلز نے جرح کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس میں جو ہوا یا بتایا وہ تو ریکارڈ کا حصہ ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ جی نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ ہوئی، ڈی مارش ہوا ، گواہوں نے بتایا کہ کاپی ایس پی ایم میں تھی ،انچارج ایس پی ایم نے بتایا کہ اس کے سامنے کاپی گم ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بنی گالا میں جو میٹنگ ہوئی وہ آفیشل میٹنگ تھی ، سلمان صفدر نے کہا کہ وہ میٹنگ ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے ، سائفر معاملے پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا ،اجلاس کے بعد سائفر وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا ، اس مقدمے میں کئی ملزمان نکالے گئے اور کئی الزامات واپس لئے گئے، اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس لکھے، 31 مارچ 2022 کو نیشنل سکیورٹی میٹنگ ہوئی،سرکار کیس بنائے تو کیا ہونا نہیں چاہیے کہ تمام کاغذات سامنے رکھے، اعظم خان کے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے بیان میں فرق ہے،پرانے بیان سے پِھرنا ملزم کے حق میں جاتا ہے،

    جسٹس میاں‌ گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر کو ٹوسٹ کیا، گواہ نے اس متعلق ایسا کیا کہا؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کے بیان میں تبدیلی کیا تھی وہ بتائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان نے ایسا کیا کہا کہ جس سے پراسیکیوشن کا کیس خراب ہوا ہو؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کا بیان تو مستقل رہا اور وہ اپنے پچھلے بیان سے نہیں ہٹے، اعظم خان کا بیان ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سائفر گم ہو گیا،اعظم خان بتا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے جلسے میں دستاویز لہرایا، وہ یہ تو نہیں کہہ رہا کہ ڈاکومنٹ کیا تھا جس سے لگے کہ سائفر واپس مل گیا تھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جان بوجھ کو سائفر کاپی گمائی،گواہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اس کے سامنے سائفر کاپی کی تلاش کا کہا، اعظم خان عدالت میں بیان میں کہہ رہا ہے کہ سائفر Misplace ہو گیا، مِس پلیس الگ لفظ ہے اس سے کوئی بدنیتی نظر نہیں آتی،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کہا ہے کہ شب معراج کے روز میرے کھانے میں ہارپک(Harpic) کے 3 قطرے ملائے گئے تھے، صحافیوں نےکاونٹر سوالات کیے تو بشریٰ بی بی نے صحافیوں سے بدتمیزی کی، تلخ کلامی بڑھی تو عمران خان کو بشریٰ بی بی کو روکنا پڑا، عمران خان نے وضاحت دی کہ بشریٰ نے پہلےمیڈیا کو ڈیل نہیں کیا۔

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ پنجابی کہاوت ہے کہ بندہ بندے نوں کھا جاندا اے، جج اور اداروں کو بندے کھاتے دیکھا تو اس کہاوت کی سمجھ آئی ہے۔ میرے امریکی ایجنٹ ہونے سے متعلق پارٹی میں باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، مجھے بنی گالہ میں باعزت طریقے سے رکھا گیا ہے، پہلے کھڑکیاں بند رکھی جاتی تھی اب کچھ دیر کے لیے کھول دی جاتی ہیں،گزشتہ سماعت پر میں نے جو خان صاحب کی زندگی کو درپیش خطرات ہیں ان پر بات کی تھی لیکن میڈیا نے اسے رپورٹ نہیں کیا، مجھے جیل میں بھی کسی نے بتایا تھا کہ کھانے میں ہارپک ڈالا گیا اس کا نام نہیں بتاؤں گی،تحقیق سے پتا چلا کہ ہارپک سے ایک ماہ بعد طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے، مجھے آنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے سینے اور معدے میں تکلیف ہوتی ہے، کھانا اور پانی بھی کڑوا لگتا ہے۔

    بشریٰ بی بی سے ایک صحافی نے پوچھا کہ پہلے آپ کی جانب سے بیان آیا تھا کہ شہد میں کچھ ملایا گیا ہے، اب کہا جا رہا ہے کہ ہارپک کھانے میں ڈالا گیا؟ جس پر بشریٰ بی بی نے کہا کہ پہلے شہد میں بھی کچھ ملایا گیا تھا، اب کھانے میں بھی ہارپک ملایا گیا ہے۔ صحافی نے پھر پوچھا کہ زہر والے معاملے کی انکوائری ہوئی تو آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟ اس پر انہوں نے غصے سے کہا کہ میں کہاں سے ثبوت لاؤں اور گفتگو ختم کردی،بشریٰ بی بی کے رویے پر صحافیوں نے عمران خان سے احتجاج کیا تو عمران خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے میڈیا کو کبھی ڈیل نہیں کیا ان کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیں اور نہ ہی ان کی باتوں کا برا منائیں

    مجھے ڈرانے کے لیے بشریٰ بی بی کو زہر دیا جا رہا ہے،عمران خان
    عمران خان کا کہنا تھا کہ میری بیوی کے ساتھ جو کیا گیا وہ خطرناک ہے،شہباز شریف کے خلاف تمام گواہان ہارٹ اٹیک کی وجہ سے مارے گئے چند ماہ میں سب کی موت ہو گئی،مجھے ڈرانے کے لیے بشریٰ بی بی کو زہر دیا جا رہا ہے،بشری بی بی کو زہر دیا جائے گا تو کیا میں خاموش بیٹھوں گا؟

    صحافی نے سوال کیا کہ شوکت عزیز صدیقی نے جنرل فیض پر الزامات لگائے تھے اس وقت آپ وزیراعظم تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض ہو یا کوئی اور تحقیقات ہونی چاہیئے جنرل فیض کی تقرری میں نے نہیں کی تھی،جنرل باجوہ نے ہمیں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر چپ نہ بیٹھے تو کیسز بنائے جائیں گے اور سزائیں بھی ملیں گی، وزیر خزانہ اور ایس ائی ایف سی جو مرضی کر لیں ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی،ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کر دیا گیا ہےملک میں معیشت سست روی کا شکار ہے ملک تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے،پنجاب میں فاشزم ہے پرامن احتجاج بھی نہیں کر سکتے، مجھے عمر ایوب سے جان بوجھ کر کٹ اف کیا گیا ہے تاکہ مشاورت نہ ہو سکے، ججز کو آواز اٹھانے پر سیلوٹ کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ وہ ملک کو بچا لیں،

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروا دی

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    شک ہےبشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں زہر دیا گیا،عمران خان کا دعویٰ
    راولپنڈی:190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی گئی،نیب کی جانب سے پیش کئے گئے ایک گواہ کا بیان ریکارڈ وکلاء صفائی نے جرح بھی مکمل کرلی۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔نیب کے پراسیکیوٹر امجد پرویز اور سردار مظفر عباسی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء ظہیر عباس چودھری، عثمان گل، بیرسٹر علی ظفر و دیگر پیش ہوئے۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔دوران سماعت عمران خان کا احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا سے مکالمہ ہوا،عمران خان نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں دعویٰ کیا کہ شک ہے انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالہ میں زہردیا گیا ہے،مجھے پتہ ہےاس کے پیچھےکون ہے، بشریٰ بی بی کی جلد اور زبان پر نشانات پڑ گئے ہیں، عدالت بشریٰ بی بی کےمکمل میڈیکل چیک اپ اور انکوائری کرانے کا حکم دے، بشریٰ بی بی کا معائنہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم یونس سے کرایا جائے۔عدالت نے عمران خان کوبشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست دینےکی ہدایت کی۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جیل میں عمران خان سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جیل میں عمران خان سے ملاقات

    وزیر اعلی کے پی کے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد واپس روانہ ہو گئے

    ملاقات کانفرنس روم میں کروائی گئی، ملاقات میں پارٹی معاملات، کے پی کے حوالے سے بات چیت کی گئی،ملاقات میں گزشتہ روز نکالی گئی ریلی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال سمیت زیر سماعت مقدمات پر بھی بات چیت کی گئی،

    دوسری جانب اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری منسوخ کر دیئے ہیں،جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ڈسچارج کرنے کے فیصلے کی روشنی میں وارنٹِ گرفتاری منسوخ کیے،عدالت نے علی امین گنڈا پور کے خلاف لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس کی سماعت 20 مئی تک ملتوی کر دی۔

    لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری کی منسوخی کے لیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے کبھی جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہ ہونے سے گریز نہیں کیا، علی امین گنڈا پور انتخابی مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے، عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر غیر مشروط معافی مانگتے ہیں،علی امین گنڈا پور کے جاری ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری منسوخ کیے جائیں

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان، بشریٰ کی سزا معطل

    توشہ خانہ کیس، عمران خان، بشریٰ کی سزا معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کر دی ہے

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامرفاروق نے قرار دیا کہ سزا کے خلاف اپیل عید کے بعد مقرر کریں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی، عمران خان کی طرف سے علی ظفر نے دلائل دیئے،دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ” کیا آج اپیل سماعت کے لیے مقرر ہے؟ اپیل شروع نہیں کریں گے، اگرآپ چاہتے ہیں تو سزا معطلی پر دلائل دےدیں”.علی ظفر نے کہا کہ ہم سزا معطلی کی بجائے مرکزی اپیل پر دلائل دیں گے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس آج سن کر کل سماعت کے لیے نہیں رکھ سکتے، سائفر کیس میں ایف آئی اے کے دلائل شروع ہونے ہیں، ہمیں نہیں معلوم وہ کتنا وقت لیتے ہیں، ہم توشہ خانہ کیس کو عید کے بعد رکھ لیتے ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ فیصلے کا جائزہ لیا ہے یہ سزا معطلی کا کیس ہے، اس پر عدالت نے کہا کہ یہ نیب کا بڑا قابل تعریف موقف ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسارکیا کہ کیا نیب سزا معطلی پر کوئی موقف پیش کرنا چاہتا ہے؟ پراسیکیوٹر نیب امجد پرویز نے کہا کہ نیب کو سزا معطلی پر کوئی اعتراض نہیں، مرکزی اپیلیں ابھی نہیں سنی جا سکتیں،

    عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کردی اور دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس 5 ستمبر 2022 کو دائر کیا گیا تھا ،اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی، عدالت نے 31 جنوری 2024 کو عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14،14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    توشہ خانہ تحائف کا کیس،احتساب عدالت اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کیخلاف تحریری فیصلہ جاری کیا تھا،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی،نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمہ بغیر کسی شک کے ثابت کردیا.عمران خان اور بشری بی بی کو چودہ سال قید کا حکم دیا جاتا ہے،جیل میں گزارا ہوا وقت سزا میں شامل تصور ہوگا، تحریری فیصلہ 23 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان اور بشری بی بی نے وزیراعظم آفس کا غلط استعمال کرتے ہوئے 1573.72 ملین کا مالی فائدہ حاصل کیا، دونوں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے مرتکب پائے گئے،فراڈ کے ذریعے پبلک پراپرٹی کو حاصل کیا گیا، سیٹ کی مالیت پرائیویٹ لگوائے تخمینہ سے کہیں زیادہ تھی ،عمران اور بشریٰ کو نیب آرڈیننس کی سیکشن 9 اے تھری، فور، سکس اور سیون کے تحت 14، 14 سال قید اور 787 ملین روپے کا الگ الگ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان کو 10 سال کے لیے نااہل بھی قرار دیا، عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پرمجموعی طور پر 1 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ،عدالت نے عمران خان پر 78 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ بشریٰ بی بی پر بھی 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا .

  • عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    سابق صدر عارف علوی نےوکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان چاہئے جس میں قائداعظم نے کہا تھا کہ انصاف ہو،عمران خان کو رہا اور عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،میرے لئے سب سے اہم آئین پاکستان ہے، پاکستان میں کسی سےاثاثوں کا سوال کریں توکہتےہیں بات یہاں سےشروع نہیں ہوتی، یہاں آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ ہوتی ہے،اہلخانہ کی گفتگوکو ریکارڈکرلیا جاتا ہے، معاشرے کو تباہ کیاجارہا ہے،عمران خان کو رہا اور عوامی مینڈیٹ کی قدرکیجائے،عمران خان جھوٹ نہیں بولتے۔انصاف ہی معاشرے کو قائم رکھتا ہے۔ اسلام میں قاضی اور عدل و انصاف کے تمام معیارات بالکل واضح ہیں۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کا فلسفہ پاکستان بھی انصاف پر ہی منحصر تھا۔ آج اس نظام عدل کو بلاشبہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نےوکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تصدق جیلانی صاحب اپنی عزت بچائیں،،اپنی باقی زندگی عزت سے گزاریں، چھ ججز کو یقین دلاتا ہوں پورے پاکستان کے وکلاء آپکے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ کی بہادری پر ہمیں فخر ہے .افراد کی زندگی میں کبھی کبھی وہ لمحے آتے ہیں جب افراد کو قوم بننا پڑتا ہے، وہ لمحہ آن پہنچا ہے ،آج چادر چار دیواری کی کوئی عزت نہیں ہے ،آج عدالتیں بھی خوف کا شکار ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے تناظر میں لاہور ہائیکورٹ میں وکلا کنونشن کا انعقاد کیا گیا ہے،کنونشن میں سردار لطیف کھوسہ، حامد خان ، خرم نواز گنڈاپور نے شرکت کی،ابوذر سلمان نیازی ، فیصل چودھری سمیت دیگر وکلا بھی شریک ہوئے،لاہور وکلاء کنونشن میں عمران خان کی رہائی کے لیے وکلا نے بھرپور نعرے بازی کی،

    ساری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ نظامِ عدل کو زنجیروں میں لپیٹ کر رکھا ہوا ہے، لطیف کھوسہ
    پی ٹی آئی رہنما سردار لطیف کھوسہ نےوکلا کنونشن سے خطاب میں کہا کہ جب پاکستان کے پہلے چیف جسٹس لاہور آئے تو وہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کو نہیں ملے، آپ کیسے چیف جسٹس ہیں قاضی فائز عیسیٰ صاحب ؟ آپ کیوں وزیر اعظم کو ملے ؟آج ساری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ نظامِ عدل کو زنجیروں میں لپیٹ کر رکھا ہوا ہے، ساری عوام کو یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے،ہمیں آزادی تو قائد اعظم نے دلوائی تھی کیا ہمیں آزادی میسر آئی بھی ہے ابھی تک، پہلے مارشل لاء سے اب تک اگر سویلین حکومت ملی تو وہ بھی اپنے دیکھا کیا تھا، آپ کیسے چیف جسٹس ہو کہ آپکو 6 ججز شکایات کر رہے ہیں، ججز نے لکھا کہ ہمارے بیڈ روم میں کیمرہ لگا ہوا ہے، ججز کے رشتہ داروں کو اٹھا لیا گیا ایک جج کے گھر پٹرول بم گریا اور اسکی کو ہی او ایس ڈی کر دیا، یہ صرف ایسا اسلام آباد ہائیکورٹ میں نہیں بلکہ لاہور، پشاور سمیت دیگر ہائیکورٹ میں بھی ایسے ہی یرغمال بناکر رکھا ہے،بھٹو کے کیس میں 45 سال بعد یہ کہتے ہیں کہ یہ مس ٹرائل تھا انہوں نے کہا کہ غلطی ہوگئی، اب 45 سال نہ لینا اور 9 مئی جیسا ڈارمہ نہ کرنا،ایک ریٹائرڈ جج کو کیسے چنا گیا ہے حیران کن بات ہے یہ نواز شریف کو 8 سال کیس التوء کر کے جتوایا، اس جج نے شہباز شریف کو بھی ریلیف دلوایا ہے انکے تعلقات شریف فیملی سے بہتر ہے،ہم کہتے ہیں اس معاملے کو فل کورٹ سنے، 9 ججز سپریم کورٹ کو اس معاملے کو دیکھانا ہوگا، یہ مٹی پاؤ والا کام نہیں ہونے دیں گے،

    ہمیں بار ایسوسی ایشن کے ساتھ باہر نکلنا ہوگا،شاداب جعفری
    انصاف لائرز کے سیکرٹری شاداب جعفری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ انصاف کے لیے وکلاء سڑکوں پر آتے ہیں، ایسا رول اف لاء ہے پاکستان میں کے ہر دس سال بعد وکلاء کو سٹرکوں پر آنا پڑتا ہے، یہ خط جو ججز کی جانب سے لکھا گیا ہے یہ پاکستان کی عدلیہ کے لیے ایک اہم موڑ ہے، چیف جسٹس پاکستان کو اس حوالے آگاہ کیا گیا انہوں نے اسے کیوں چھپا کر رکھا، 2 سال سے اس ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑاری جارہی ہیں، اس حوالے جو کمیشن بنایا جائیگا اس پر بھی اعتماد کرنا ممکن نہیں، ہمیں بار ایسوسی ایشن کے ساتھ باہر نکلنا ہوگا،

    6 ججز کے خط کا آنا ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے،سلمان اکرم راجہ
    انصاف لائرز وکلاء کنونشن سے سلمان اکرم راجہ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ افراد کی زندگی میں کبھی کبھی یہ لمحہ بھی آتا ہے ایک قوم بنانا پڑتا ہے، آج ہم سے الیکشن چھین لیا گیا، ہزاروں لوگ جیلوں میں اور انہیں باہر آنے کی امید بھی نہیں، اسی ماحول میں 6 ججز کے خط کا آنا ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے، سپریم کورٹ نے اس پر کچھ نہیں کیا اس پر عدلیہ اعلان کرتی کہ وہ آزاد ہے، پورا معاشرہ اٹھے اور مطالبہ کرے، ہم اپنی آزادی کے لیے باہر نکلیں گے، ہم آپکے ساتھ ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں،

    سپریم کورٹ کو وزیراعظم کو طلب کرنا کرنا چاہیے تھا، ولید اقبال
    لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کنونشن سے ولید اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6ججز کا خیر مقدم کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے ناموں کو پاکستان کی تاریح میں لکھا دیا، جن لوگوں کو حرکت میں آنا چاہیے تھا انہوں نے کچھ نہ کیا ، ججز کے عزیز اقارب کو گرفتار کیا یہ انتظامیہ کی بنائی ہوئی کمیشن کو یہ تحقیقات دے دی گئی ہے،6 ججز کا خط انتظامیہ کی نظر کر دیا گیا سپریم کورٹ کو وزیراعظم کو طلب کرنا کرنا چاہیے تھا، انتظامیہ کو طلب کرنا چاہیے یہ کہتے ہیں جب شوکت عزیز پر ہوا تھا تب یہ 6 ججز کہاں تھے یہ لوگ عجیب باتیں کر رہے ہیں، انہوں نے سب انتظامیہ کے حوالے کر دیا،

    وکلاء کنونشن سے لاہور ہائیکورٹ کے صدر اسد منظور بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت وقت کو واضع کرنا چاہتا ہوں کہ جو آپ کا رویہ ہے، عوام آپکے ان حرکتوں سے اکٹھے ہوگئے، یہ پہلا قطرہ ہے جہاں سے آئین اور قانون کی بالادستی کا آغاز ہوگا،یہاں ناصرہ اقبال ,ولید اقبال موجود ہے جہاں سے اس تحریک کا آغاز کرینگے، یہ تاریح میں لکھا جائیگا،

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی

    6 ججز کا خط ،پی ٹی آئی کا کھلی عدالت میں اس پر کارروائی کا مطالبہ

    6ججزکا خط،سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس کا اعلامیہ جاری

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • بشری بی بی کی اڈیالہ  منتقلی نہ کرنے اور ملاقات نہ کرانے پر  عدالت برہم

    بشری بی بی کی اڈیالہ منتقلی نہ کرنے اور ملاقات نہ کرانے پر عدالت برہم

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بشری بی بی کی عمران خان سے ملاقات اور بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ملاقاتوں کی رپورٹ بھی پیش کر دی گئی، رپورٹ میں کہا گیا کہ جیل ٹرائل کے دوران 31 جنوری کے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی 10 ملاقاتیں کروائی گئیں ،تمام ملاقاتیں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے دن ہوتی رہیں ،

    اسٹیٹ کونسل عبد الرحمن ،اسلام آباد انتظامیہ کی ڈائیریکٹر لاء عدالت میں پیش ہوئے، اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ڈائریکٹر لاء نے بنی گالا سب جیل کا دورہ کرکے رپورٹ پیش کردی ہے، عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو رپورٹ کی کاپی درخواست گزار کو فراہمی کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ بنی گالہ سب جیل کا دورہ کرنے والی افسر سہولیات سے مطمئن ہوئی ہیں،بشری بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی نہ کرنے اور ملاقات نہ کرانے پر اڈیالہ جیل اور چیف کمشنر کی رپورٹ پر عدالت برہم ہو گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب سیاست ہے ،رحمان صاحب یہ عدالت میں سیاست ہو رہی ہے ، 31 جنوری سزا کے بعد 141 خواتین داخل ہوئیں، آپ کہتے تھے جیل اوور کرواڈڈ ہے آپ کا مطلب ہے کہ بس سیاست ہو ، کمیونٹی سمجھتی ہے کہ بنی گالہ قید کرکے خیرات دے رہے ہیں ،ایک طرف کہا جا رہے ہیں کہ جگہ کم ہے قیدی زیادہ ہیں دوسری جانب 141 خواتین داخل ہو گئی ہیں،جب نئی خواتین جیل داخل ہوگئیں تو پھر منتقلی نہ کرنے کا جواز تو ختم ہوگیا ،آپ لوگ عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے ،آپ بلائیں ناں اپنے چیف کمشنر اور ایڈوکیٹ جنرل کو ، جآپ لوگ تُلے ہوئے ہیں کہ رولا آف لاء کا انڈیکس صفر پر آجائے،آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں پنجاب والوں کو بلاتے ہیں ، آپ ذرا اپنے سپرنٹینڈنٹ کو توہین عدالت کی کارروائی سے بچانے کی کوشش تو کریں ، آپکا یہ موقف بینچ نمبر 7 نے مسترد کردیا تھا ، وہاں پنجاب کا سینئر لاء افسر پیش ہوا تاریخ پر ملزمان کا ملنا ، ملنا نہیں ہوتا ، وہ تو سماعت ہو رہی ہوتی ہے،ملاقات کا مطلب علیحدگی میں پراپر ملاقات ہوتا ہے، آپ نے کیس کی سماعت کے دوران ملاقات کا کہہ کر جان چھڑا لی ،

    عدالت نے عید کے موقع پر اور ہفتے میں ایک دن عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروانے کا حکم دے دیا.عدالت نے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی،

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    بشریٰ بی بی کیلئے اصل سکیورٹی تھریٹ بنی گالہ میں ہے،وکیل سلمان صفدر

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروا دی

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • عمران ،قریشی کو نومئی کے مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم

    عمران ،قریشی کو نومئی کے مقدمات میں چالان کی نقول تقسیم

    تحریک انصاف راولپنڈی کی لیگل ٹیم کے ایڈووکیٹ فیصل ملک کا کہنا ہے آج ہمارے علم میں آیا ہے کہ عمران خان آئی اور شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے کیسز کے چالان کی نقول تقسیم کی گئی ہیں

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ فیصل ملک کا کہنا تھا کہ چالان کی نقول 25 مارچ کو وکلاء کی غیر موجودگی میں ملزمان میں اڈیالہ جیل میں تقسیم کر دی گئی ہیں، وکلاء کی غیر موجودگی میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو نقول فراہم کرنے پر ہمارا اعتراض ہے ،آج تھانہ مورگاہ، تھانہ ٹیکسلا اور کینٹ کے 69 ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی، ہم لائحہ عمل طے کریں گے، استدعا کریں گے کہ جو کاپیز تقسیم کی گئی ہیں وہ ہمیں بھی دی جائیں،چالان کے ساتھ میٹریل موجود نہیں ہے تو بعد میں کیسے لگایا جا سکتا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا