Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان سے ملاقات کروانے کا عدالت نے دیا حکم

    عمران خان سے ملاقات کروانے کا عدالت نے دیا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عدالتی احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے توہینِ عدالت کی درخواستوں پر تحریری جواب جمع کروا دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نےسپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ، عدالت نے کہا کہ آپ نے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے کے اپنے اقدام کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے، سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے غیرمشروط معافی مانگ لی،جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اس متعلق عدالت کو مطمئن کریں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 مارچ کو درخواست گزاروں کی ملاقات کرانے کا حکم دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نےعلامہ ناصر عباس کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور فردوس شمیم نقوی کی بھی ملاقات کرانے کا حکم جاری کر دیا

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں اور انہیں تین مقدمات میں سزا ہو چکی ہے، جبکہ کئی مقدمات ابھی چل رہے ہیں، عمران خان کو توشہ خانہ، سائفر کیس، دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی ہے، القادر ٹرسٹ کیس ،نومئی کے مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں،

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان سے آن لائن ملاقات کرانے سے انکار کر دیا
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ، بانی پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات کی درخواست پر سماعت ہوئی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بانی پی ٹی آئی کی آن لائن ملاقات کرانے سے انکار کر دیا، عدالت میں دیئے گئے جواب میں کہا کہ جیل رولز میں آن لائن ملاقات کی اجازت نہیں، ملاقات نہیں کروا سکتے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کوٹ لکھپت جیل میں آن لائن ملاقاتوں کا اعلان کیا، وزیراعلیٰ نے تو فخریہ کہا کہ پورے ایشیاء کی پہلی جیل ہے جہاں یہ سہولت دے رہے ہیں، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے استفسار کیا کہ اگر جیل رولز میں اجازت نہیں تو کوٹ لکھپت جیل میں غیرقانونی کام کیسے شروع ہو گیا؟جیل اتھارٹیز اپنے جواب میں یہ کہہ رہی ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا اقدام غیرقانونی ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا جا سکتا، ترمیم کی ضرورت ہے، اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ ہمیں مزید ہدایات لینے کیلئے کچھ وقت دیدیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہدایات لینے کی کوئی ضرورت نہیں، سپریٹنڈنٹ جیل کہہ رہے ہیں کہ رولز اجازت نہیں دیتے، ایک ہی حکومت نے ایک جیل میں ترمیم کے بغیر آن لائن میٹنگ سے منع کیا جبکہ دوسری میں خود فخریہ وہی کیا، عدالتی معاون زنیب جنجوعہ نے کہا کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا موقف پنجاب حکومت سے متضاد نہیں ہونا چاہیے وہ انکے ماتحت افسر ہیں،

    جہاں سے جیل حکام کو آرڈرز آ رہے ہیں وہاں سے آنا رک جائیگے تو یہ سب ختم ہو جائے گا،عدالت
    وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے ہوئے اور کہا کہ کوٹ لکھپت میں فخریہ اعلان کیا لیکن یہاں عدالت سے چھپن چھپائی کھیل رہے ہیں، جسٹس سردار اعجازاسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس نکتے کو جلد ہی طے کرنا ہے زیادہ وقت نہیں ہے، سوال اب یہ ہے کہ جیل ملاقات میں سیاسی گفتگو ہو سکتی ہے یا نہیں،اگر ہم نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سیاسی گفتگو ہو سکتی ہے تو پھر ترمیم کرنی ہو گی،یہ معاملہ حل ہونے دیں، آن لائن میٹنگ کو اب روکا نہیں جا سکتا، اگر یہ کہیں گے کہ آن لائن نہیں کروا سکتے تو پوری دنیا میں مذاق اڑے گا، شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمیں اڈیالہ جیل سے ڈیڑھ کلو میٹر پہلے روک کر پیدل بھیجا جاتا ہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ بھی یہاں بیٹھ کر ڈرامہ ہی کر رہے ہیں، سب کو پتہ ہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، جہاں سے جیل حکام کو آرڈرز آ رہے ہیں وہاں سے آنا رک جائیگے تو یہ سب ختم ہو جائے گا،ملک میں دو سو سینئر سول افسر غیرقانونی حکم ماننے سے انکار کر دیں تو نظام ٹھیک ہو جائے گا،دو سو افسر ایک ساتھ یہ کر لیں تو یہ سلسلہ رک جائے گا،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ عدالت اگر دو سو سول سرونٹس کو جیل بھیج دے تو بھی بہتری ہو سکتی ہے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ جب تک دو تین سو ایک نظریے کیلئے قربانی نہیں دینگے یہ ایسے ہی رہے گا،ہم کیوں یہاں بیٹھ کر دکھاوا کر رہے ہیں؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ جو طاقت قلم میں ہے وہ بندوق میں بھی نہیں ہے،ایک آرڈر سے دیکھیں ڈی سی اسلام آباد کا کیا حال ہوا،

  • کل کی سماعت میں ثابت ہوا کہ سائفر حقیقت ہے اور موجود ہے،رؤف حسن

    کل کی سماعت میں ثابت ہوا کہ سائفر حقیقت ہے اور موجود ہے،رؤف حسن

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن اور سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    رؤف حسن کا کہنا تھا کہ کل ڈونڈلو کی جانب سے بہت کچھ کہا گیا بہت کچھ نہیں کہا گیا، کل سائفر کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا، پتہ چلا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی سائفر سے متعلق جھوٹ نہیں بولا، پی ڈی ایم ون حکومت نے پہلے کہا کہ سائفر کی کوئی حقیقت نہیں،کل کی سماعت میں ثابت ہوا کہ سائفر حقیقت ہے اور موجود ہے، ڈونڈلو لو نے اس مواصلات کے عمل کو کل تسلیم کیا،ہمارے تب کے سفیر اسد مجید کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے مانا ہے یہ نہیں ہوا، جس سازش کی بات گئی ہے وہ حقیقت ہے، ہمارے پاس نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کے مینٹس موجود ہیں، میٹنگ میں مانا گیا کہ سائفر میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی گئی، میٹنگ میں ڈیمارش کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا اور وہ جاری کیا گیا،نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی دوسری میٹنگ شہباز شریف کی زیر صدارت ہوئی، دوسری میٹنگ میں بھی سائفر کی حقیقت کو مانا گیا، سائفر کی تفصیلات اب خفیہ نہیں رہیں، سائفر میں واضح کہا گیا ہے کہ اگر ووٹ آف نو کانفییڈینس کے ذریعے عمران خان کو نہیں ہٹایا جاتا تو اسکے پاکستان پر بڑے اثرات مرتب ہونگے، اور اگر ہٹایا دیا جاتا ہے تو سب کچھ بھلا دیا جائے گا۔یہ وہ حقائق ہیں جنھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ سائفر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی پاکستان کی پالیسیز کو چیلنج کیا گیا اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر اعتراضات لگائے گئے،

    آزاد خارجہ پالیسی کے لیے پاکستان میں کوئی کوشش نہیں کی جاتی،رؤف حسن
    رؤف حسن کا مزید کہنا تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا چلا جا رہا ہے حقیقت مزید کھل کر سامنے آرہی ہے،اس وقت بانی چئیرمین عمران خان پر سیکرٹ ٹرائل کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے،اس وقت کابینہ کے سامنے سائفر پیش کیا گیا اور اسے ڈی کلاسیفائی کیا گیا،جب کوئی دستاویز ڈی کلاسیفائی ہوجائے تو وہ پبلک ڈاکومنٹ بن جاتا ہے،اس کی پاداش میں خان صاحب پر مقدمہ چلایا جارہا ہے،اسی سائفر کے بارے میں امریکی کانگرس میں اوپن سماعت ہوئی،امریکی اس معاملے کو سیکرٹ نہیں سمجھتے،کل کی سماعت میں ایران اور ایرانی پائپ لائن کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا،سب جانتے ہیں کہ ایرانی گیس لائن روکنے کےلیے امریکی پریشر ہمیشہ موجود رہتا ہے،سماعت میں مانا گیا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ نہ ہو،ہم عوام سے حقائق چھپانے کی کوشش کرتے ہیں،سائفر کے معاملے پر بار بار حکومت کی جانب سے حقیقت کو جھٹلایا گیا،آزاد خارجہ پالیسی کے لیے پاکستان میں کوئی کوشش نہیں کی جاتی،کل کی سماعت میں الیکشن کے حوالے سے بہت سے مسائل پر بات کی گئی،کانگریس مین نے ڈونڈلو سے بڑے اہم سوالات پوچھے گئے،ڈونلڈ لو کی جانب سے صاف جواب دینے کی بجائے ہر سوال کو گھمایا گیا،الیکشن میں جیتنے والوں کو ہرانے کا معاملہ اب انٹرنیشنل سطح پر ڈسکس ہو رہا ہے

    ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ اور اسد مجید کا اوپن ٹرائل کیا جائے،خالد خورشید خان
    خالد خورشید خان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے پہلے کہا گیا کہ سائفر کو کوئی وجود نہیں،اسی سائفر پر امریکہ میں اوپن سماعت ہو رہی ہے،سائفرپر امریکی صحافی نے پورا متن چھاپ دیا لیکن ان کو کوئی مسئلہ نہیں،ہم نے لیڈروں کو امریکہ کے سامنے لیٹتے دیکھا،پہلی دفعہ کوئی لیڈر امریکہ کے سامنے کھڑا ہوا،آج اگر امریکہ کامیاب ہوا تو کوئی اور لیڈر دوبارہ کھڑا نہیں ہوسکے گا،اس قوم کی عزت ہے تو ہماری عزت ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ اور اسد مجید کا اوپن ٹرائل کیا جائے،کل کا جو اوپن ٹرائل ہوا وہ ہمارے لیے باعث شرم ہے،معاملے کے مکمل حقائق قوم کے سامنے لانا اب بہت ضروری ہے،ہم امید سے ہیں کہ عدالت سے انصاف ہوگا اور کیس ختم ہوگا،امید ہے اب پرانے ہتھکنڈے نہیں اپنائے جائیں گے جس سے نفرت بڑھے گی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے سے پہلے پریس کانفرنس کی جاتی ہیں،کوئٹہ میں قتل کا مقدمہ درج کرنے سے پہلے عطاء تارڑ نے پریس کانفرنس کی،ان کو قتل ہونے سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ قتل ہونے والا ہے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں اس کو سرکار ثابت نہیں کر سکی،ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سائفر اوریجنل رہتا ہی نہیں ہے،عدالت میں بھی پراسیکیوشن کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی،

    علیمہ خان نے ڈونلڈ لو کے خلاف کیس کا کہا تھا لیکن یہ انکی فیملی کا فیصلہ تھا۔بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کےخلاف سازش ہوئی، ڈونلڈ لو اپنے بیان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، ڈونلڈ لو کا بیان غلط ہے یا درست، سابق پاکستانی سفیر اسد مجید اپنا بیان دیں،20 گھنٹے ہو چکے اسدمجید کیطرف سے کوئی بیان نہیں آیا،ڈونلڈ لو کے بیان پر اسد مجید کو اپنا مؤقف دینا چاہیئے، ہم دوبارہ سے سائفر کے معاملے کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہیں،مطالبہ ہے کہ اسدمجید اپنا بیان دوبارہ ریکارڈ کروائیں،ڈونلڈ نے جو کہا وہ جھوٹ ہے،اسد مجید نے ڈونلڈ لو کے ساتھ میٹنگ کا اعتراف کیا ہے۔اسد مجید نے جو سائفر نے سائفر کی تصدیق کی اور ان ہی کی سفارش پر ڈیمارش کیا گیا۔ڈونلڈ لو نے سائفر کے کانٹینٹ کو مسترد کیا ہے ملاقات کو بھی مسترد کیا ہے۔اسد مجید نے سائفر کا کانٹینٹ عدالت میں جمع کرایا ہے اور ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ علیمہ خان نے ڈونلڈ لو کے خلاف کیس کا کہا تھا لیکن یہ انکی فیملی کا فیصلہ تھا۔ہم عدالتوں پر اعتماد کرتے ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے یہ حکومت پانچ ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی۔بانی پی ٹی آئی اگر جیل سے باہر آئے تو وہ کسی ڈیل کے نتیجے میں باہر نہیں آئینگے۔بشری بی بی کا نام تو توشہ خانہ کیس میں تھا ہی نہیں،انہیں گرفتار کر کے سزا دی گئی تا کہ عمران خان کو بلیک میل کر سکیں

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کی 6، بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں ضمانت کا معاملہ،بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

    ایڈیشنل سیشنز جج طاہر عباس سپرا نے توہین عدالت شو کاز نوٹس جاری کیا، نوٹس میں کہا گیا کہ جیل حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ویڈیو لنک سسٹم خراب ہونے کے باعث بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی حاضری نہیں لگوائی جا سکتی،آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ حاضری لگوانے کیلئے ویڈیو لنک کے کار آمد ہونے کو یقینی بنائیں، جو آپ نے نہیں کیا، آپ کا یہ رویہ عدالتی حکم عدولی کے زمرے میں آتا ہے،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل تحریری طور پر نوٹس کا جواب جمع کروائیں،سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اپنے جواب کے ساتھ ویڈیو لنک کے ٹیکنیکل اسٹاف کی رپورٹ بھی جمع کروائیں،آئندہ سماعت پر ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں، کیس کی آئندہ سماعت 25 مارچ 202 کو ہوگی،

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروا دی

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • 100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی 100ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،نیب نے درخواست ضمانت بعدازگرفتاری پر جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا،پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ یہ نوٹس کے بعد پہلی سماعت ہے جواب جمع کرانے کیلئے کچھ وقت دے دیا جائے ،عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ یہ پہلی سماعت نہیں ہے گزشتہ سماعت کی کازلسٹ منسوخ ہو گئی تھی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ ضمانت بعداز گرفتاری کا کیس ہے دو تین ہفتوں میں فیصلہ ہو جانا چاہئے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی تحریری جواب جمع کرانے کی استدعا منظور کرلی ، عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • احتجاج، توڑ پھوڑ، عمران خان ،شیخ رشید، شاہ محمود قریشی و دیگر بری

    احتجاج، توڑ پھوڑ، عمران خان ،شیخ رشید، شاہ محمود قریشی و دیگر بری

    احتجاج اور توڑ پھوڑ پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں درج دو مقدمات کامعاملہ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان ،شیخ رشید احمد اور دیگر کو بری کردیاگیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،بانی پی ٹی آئی کی دونوں مقدمات میں بریت درخواست منظور کر لی گئی، تحریک انصاف کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی ، سیف اللہ نیازی، عامر محمود کیانی، پرویز خٹک، شیریں مزاری، فیصل جاوید سمیت گیارہ ملزمان بری کر دیئے گئے

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان و دیگر ملزمان پر لانگ مارچ کے دوران لوگوں کو اکسانے کا الزام ہے، اگر پبلک کو عمران خان و دیگر نے اکسایا تو پراسیکیوشن کو بادی النظر میں ثابت بھی کرنا ہو گا، عمران خان و دیگر کے خلاف کوئی ثبوت عدالت میں جمع نہیں کروایا گیا، ان کے خلاف کیس چلانے کے لیے ریکارڈ ناکافی ہے، پراسیکیوشن کی جانب سے جمع کروایا گیا ریکارڈ عمران خان و دیگر ملزمان پر جرم ثابت کرنے کے لیے مضبوط نہیں، بانی پی ٹی آئی و دیگر ملزمان کو تھانہ بارہ کہو میں درج دو مقدمات میں بری کیا جاتا ہے

    قومی اسمبلی ،سپیکر کیسے غیر قانونی کام کرتے رہے،من پسند افراد کی بھرتیاں، لوٹ مار،سب سامنے آ گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کررہے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے وکلاء سلمان صفدر، سکندر ذوالقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں اسپیشل پراسیکیوٹرز حامد علی شاہ اور ذوالفقار نقوی عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،علی محمد خان، بیرسٹر علی ظفر، اور عمران خان کی بہنیں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خاندانی افراد، منتخب نمائندے، سنیٹرز اور وکلاء قیادت کی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت موجود تھے،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے12 اکتوبر 2022 کی کمپلینٹ عدالت کے سامنے پڑھی اور کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس وقت کے سیکرٹری داخلہ نے کمپلینٹ دائر کی ، پانچ اکتوبر 2022 کو کس نے انکوائری شروع کی اس حوالے سے کوئی دستاویز عدالتی ریکارڈ پر نہیں ،اگر یہ دستاویز ریکارڈ پر نا ہو تو کیس کی بنیاد ہی نہیں تو کیس ختم ہو جائے گا ، تفتیشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پانچ اکتوبر کو انکوائری ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر شروع کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ڈی جی ایف آئی اے کو انکوائری شروع کرنے کا کہا؟وفاقی کابینہ نے انکوائری کی منظوری دے کر سیکرٹری داخلہ کو اختیار دیا،کیا سیکرٹری داخلہ نے یہ اختیار ایف آئی اے کو ڈیلیگیٹ کر دیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ایف آئی اے کو کہا کہ انکوائری کریں اور معاملہ دیکھیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس کی بنیاد ہی ہِل گئی اور ساری عمارت ہی منہدم ہو گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ ہارڈ کور کرمنل کیس نہیں، وائٹ کالر کرائم بھی نہیں، اپنی نوعیت کا الگ کیس ہے، یہ ہائبرڈ قسم کا کیس ہے اور اس میں نئی عدالتی نظیر تیار ہو گی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جتنے بھی کیسز بانی پی ٹی آئی کے خلاف آئے ہیں وہ آؤٹ دا باکس ہی رہے ہیں ، توشہ خانہ ، سائفر ، عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ بھی اسی طرح ہی آیا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ وائٹ کلر کیس بھی نہیں نا ہی مرڈر کیس کی طرح کہہ سکتے ہیں یہ مکس ہائبرڈ کیس ہے ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف جرم کا کیس ہے ، یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں کہ ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں ،میں میرٹ پر دلائل دوں گا ، عدالت نے کہا کہ حق جرح ختم ہو جائے آپ کی حق تلفی ہوتی ہے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم عدالت کی نظر میں favourite child ہوتا ہے ،شام کے ٹرائل کی کیا حیثیت ہو گی ؟ اس حوالے سے بھی پوچھیں گے ، کیا بے چینی تھی کہ رات کے نو بجے بھی ٹرائل ہو رہا تھا ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اِس کیس کے مدعی ہیں اور انکی شکایت پر انکوائری کا آغاز کس نے کیا اُسکو گواہ نہیں بنایا گیا بیان قلمبند نہیں کیا گیا، یہ بنیادی نکتہ نہ ہونے کی وجہ سے اِس کیس کی بنیاد ہِل گئی اور عمارت زمین بوس ہو گئی،

    وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے وکیل سکندر ذوالقرنین ایک دن دانت میں تکلیف کی وجہ سے جیل سماعت میں پیش نہیں ہو سکے، اگلے ہی روز ٹرائل جج نے سرکاری وکلاء مقرر کر دیے، سوال یہی ہے کہ کیا جلدی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ تو کیا جلدی تھی، وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن شاید جج صاحب نے کوئی ڈیدلائن پوری کرنی تھی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ یہ دونوں سرکاری وکیل عدالت نے تعینات کیے تھے ،کیا ایڈوکیٹ جنرل نے نام بھیجے تھے ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی ایڈوکیٹ جنرل نے یہ تعینات کئے تھے ، عدالت نے کہا کہ پھر تو ہمیں ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس کرکے سننا پڑے گا ، ان سرکاری وکلا کی اسٹینڈنگ کیا تھی ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ سائفر کیس کا ٹرائل اسلام آباد کی تاریخ کا متنازعہ ترین ٹرائل تھا اور ٹرائل کورٹ کے جج نے اس ٹرائل کو متنازعہ بنایا، اعلیٰ عدالت کی کسی ڈائریکشن کے بغیر ٹرائل جج نے جلدبازی میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل چلایا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کوئی قدغن نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل نہیں ہو سکتا، روزانہ کی بنیاد پر بھی ٹرائل منطقی طور پر ہونا چاہیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دو مرتبہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کا ٹرائل کلعدم کیا سر ہم کتنی بار آپ سے آکر شکایت لگاتے،ہم اڈیالہ جیل میں تھوڑا لیٹ پہنچ تھےتو پتہ چلتا تھا کہ گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئیے گئے ہیں دو تین دن بعد ہمیں کاپیاں فراہم کی جاتی تھیں،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی، ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • پاک فوج کیخلاف مہم چلانے والوں کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں، زین قریشی

    پاک فوج کیخلاف مہم چلانے والوں کا پی ٹی آئی سے تعلق نہیں، زین قریشی

    انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ
    ہم اپنے سب کام چھوڑ کر آتے ہیں دس ماہ سے عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں

    زین قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پاکستان کی افواج کے خلاف مہم نہیں چلا رہی،پرائیوٹ افراد جو پاک فوج کیخلاف مہم چلا رہے ہیں ان سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں ہے، پی ٹی آئی کا وفد پاک فوج کے شہدا کے گھروں میں جائے گا،پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے،آئی ایم ایف آفس کے باہر احتجاج سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں،سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی جلد بری ہونگے،ملتان میں سلینڈر حادثہ ہوا اس کی وزیر اعلی کو انکوائری کرانی چاہیے،وزیر اعلی مریم نواز ابھی تک متاثرین کے گھر نہیں گئیں ان کو وہاں جانا چاہیے،

    پوری قوم کا پہلا مطالبہ پارٹی کے بانی چیئرمین کی رہائی ہے،فیصل جاوید
    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ حکمران اپنے کیسز ختم کرنے میں لگے ہیں انہیں غریب کی حالت کی کوئی پرواہ نہیں، عوام کی فکر عوام کے ووٹوں سے آنے والوں کو ہوتی ہے نوٹوں والوں کو نہیں ، عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، پوری قوم کا پہلا مطالبہ پارٹی کے بانی چیئرمین کی رہائی ہے،23 مارچ کو تاریخ کا بڑا جلسہ اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا، خیبرپختونخوا میں بھی سینٹ کے انتخابات بروقت ہونگے براہ راست الیکشن کروایا جائیگا، سینٹ میں شفافیت کے لئے خفیہ رائے دہی کا ووٹ ختم کیا جائے، مراد سعید ملک کے لئے آواز اٹھانے والے ہیں عوام ان سے پیار کرتی ہے،

    بیٹے نے میرے لیے اضافی بندوبست کردیا،شہید کیپٹن احمد کے والد کے جذبات

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    پاکستان آرمی کسی بھی خطرے کا موثر جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہے، آرمی چیف

    پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں، آرمی چیف

    غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

    نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

    آرمی چیف کا دورہ بحرین، ملا ملٹری میڈل آرڈر آف بحرین فرسٹ کلاس ایوارڈ

    افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں،آرمی چیف

    مخصوص سیاسی جماعت شہداء کی بے حرمتی سے باز نہ آئی

  • عمران خان کو عدالت لاتے  راستے میں کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟جوڈیشل مجسٹریٹ

    عمران خان کو عدالت لاتے راستے میں کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟جوڈیشل مجسٹریٹ

    ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹس اسلام آباد،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی لانگ مارچ توڑپھوڑ کے دو کیسز میں درخواست بریت، پروڈکشن پر سماعت ہوئی

    بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نعیم پنجوتھا، سردار مصروف، آمنہ علی عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت، پروڈکشن پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کی،وکیل نعیم پنجوتھا نے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالت طلب کیاجائے، جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر بحث کرلیں، اگر عمران خان کو عدالت لاتے ہوئے راستے میں کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟ وکیل نعیم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس سے قبل بھی خود سے عدالتوں میں پیش ہوتےرہےہیں، زمان پارک آپریشن کیاگیا، وارنٹ نکالے گئے، حکومت کا کام سیکیورٹی مہیہ کرنا ہے،بانی پی ٹی آئی کی موجودگی میں دلائل دینا چاہتے ہیں،

    لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس، عمران خان کو بری کر دیا گیا

    جج شائستہ کنڈی نے کہا کہ ضمانت پر حاضری ضروری ہوتی، درخواست پروڈکشن پر نہیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پروڈکشن مسترد کردی،بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر وکیل نعیم پنجوتھا نے دلائل دیئے اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر تمام مقدمات میں صرف ایما کا کردار ہے، ایک ہی دن میں متعدد مقدمات درج ہوئے، بانی پی ٹی آئی کا ایک ہی طرح کا کردار رکھا،دفعہ 144 کا نفاذ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیاگیا نہ بتایاگیا،مدعی ایس ایچ او ہے جس کو مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں،بانی پی ٹی آئی پر درج مقدمات میں گواہان کے بیانات بھی نہیں،جج شائستہ کنڈی نے استفسار کیا کہ کیا اس سے پہلے بھی بانی پی ٹی آئی مقدمات میں بری ہو چکے؟ وکیل نےکہا کہ اس سے قبل بھی بانی پی ٹی آئی متعدد مقدمات سے بری ہو چکے ہیں،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی لانگ مارچ توڑپھوڑ کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، جو اب سنا دیا گیا ہے،

    بانی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ توڑپھوڑ کے دو کیسز میں ریلیف مل گیا،بانی پی ٹی آئی کی دو مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کرلی گئی ،جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے بانی پی ٹی آئی کو دو مقدمات میں بری کردیا،بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ لوہی بھیر، سہالا میں مقدمات درج کیے گئے تھے

    ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،عمران خان کی بہن علیمہ خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھیں،سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ ہم اعتراضات سے متعلق آرڈر کا انتظار کر رہے تھے،عدالت نے کہا کہ اپیل کے قابل سماعت ہونے اور میرٹ پر فیصلہ ایک ساتھ کریں گے، آج سے اپیل کے میرٹ پر دلائل سنیں گے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کیس میں عائد تمام الزامات پڑھ کر سنائے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ الزام ہے سائفر کو ٹوئسٹ کیا اور اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو ہدایات جاری کیں، الزام ہے کہ ہدایات میں میٹنگ منٹس کو ٹوئسٹ کرنے کا کہا گیا، اس الزام میں اعظم خان کا ایک کردار بتایا گیا ہے، الزام لگایا گیا کہ غیرقانونی طور پرسائفر ٹیلی گرام اپنے پاس رکھا، یہ بھی الزام لگایا گیا کہ سائفر سیکیورٹی سسٹم بھی کمپرومائز کیا گیا، الزام ہے کہ سائفر کے متن کو پبلک کرنے کا بھی کہا گیا، الزام ہے 28 مارچ کو بنی گالہ میٹنگ میں سازش تیار کی گئی، اعظم خان لاپتہ رہے اور واپس آکر ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ کرایا، اعظم خان نے اسی روز مجسٹریٹ کے سامنے بھی بیان ریکارڈ کرا دیا، وہ غائب رہنے کے بعد واپس آئے تو بغیر ضمانت لیے ایف آئی اے کے پاس گئے اور تفتیش جوائن کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ‏کیا اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر میٹنگ کے منٹس تیار کیے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ "کیا کوئی دستاویز پیش کیا گیا کہ اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر عمل کیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ "نہیں۔۔ ایسا کوئی دستاویز نہیں جس میں یہ لکھا ہو، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ "‏اسی لیے لکھا گیا ہے کہ اعظم خان کا کردار بعد میں دیکھا جائے گا”۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ "اعظم خان اغواء اور مقدمہ درج ہونے کے اگلے روز منظرِعام پر آ گئے”۔”اعظم خان نے اپنا بیان قلمبند کرانے کیلئے درخواست جمع کرائی”۔”اسی دن اعظم خان کا تفتیشی اور مجسٹریٹ کے سامنے بیانات قلمبند بھی ہو گئے”۔”‏ٹرائل کورٹ سائفر کیس میں 8 دنوں میں 25 گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئیے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ان کیمرہ ٹرائل ہونا چاہئیے”۔‏پہلی بار 23 اکتوبر کو چارج فریم ہوا دوسری دفعہ 13 دسمبر کو چارج فریم ہوا،تیسری دفعہ چارج برقرار رہا کچھ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کی کاروائی کالعدم ہوئی ، 12 جنوری سے 30 جنوری تک ٹرائل کورٹ نے ٹرائل مکمل کر لیا ، ان 18 دنوں میں جج صاحب کو ہمارا کنڈکٹ ٹھیک نہیں لگا ،سائفر ٹیلی گرام کے متن میں ردوبدل کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے، گرفتاری کے بعد اسپیشل جج اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے چارہفتوں میں کیس نمٹانے کی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کیں، ٹرائل کورٹ نے 17 دنوں میں 25 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے، 4 گواہوں پر وکلاء صفائی نے جرح کی، باقی 21 گواہوں پر عدالت کے مقرر کردہ وکیل صفائی نے 2 دنوں میں جرح کی

    سائفر کیس کی سماعت میں بیرسٹر سلمان صفدر نے شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کے جلسے کی تقریر عدالت کے سامنے پڑھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس کا سر پیر ہی سمجھ نہیں آیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اِسی بیان کی بنیاد پر شاہ محمود قریشی کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تقریر عدالت میں پڑھ کر سنائی،جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو سیاسی تقریر تھی،

    1923 کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گورا جو قانون بنا گیا 1947 سے وہی چل رہے ہیں، گورا یہ تو نہیں کہہ کر گیا تھا کہ آپ اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے، قوانین تو پارلیمنٹ نے بنانے ہیں نا عدالت نے تو نہیں بنانے، ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ جس قانون کو ہم چھیڑتے ہیں اسکو خراب کر دیتے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اُس سائفر میں کمیونیکیشن کیا ہے؟ واشنگٹن سے ایک شخص نے ایک چیز بھیجی وہ کیا ہے؟ اس شخص نے بتایا تو ہو گا نا کہ کیا چیز بھارت کے ہاتھ لگ گئی تو سیکیورٹی سسٹم متاثر ہو گا،کیا سائفر ٹرائل کورٹ کے جج کو دکھایا گیا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں دکھایا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق کے بھی اہم سوالات
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کم از کم یہ تو بتا دیں کہ سائفر میں کمیونیکیشن تھی کیا؟ اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ جو سائفر بھیجا گیا وہ کلاسیفائیڈ تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک شخص کو سزا دی گئی یہ معلوم تو ہو کہ دستاویز میں کمیونیکیشن کیا تھی، پتہ تو چلے کہ دستاویز میں لکھا کیا تھا جسے ٹویسٹ کیا گیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہ اصل نہ ہی ٹویسٹ کیا گیا سائفر سامنے آیا،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،سماعت کل تک ملتوی کرنے پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے چیف جسٹس عامر فاروق کا شکریہ بھی ادا کیا.

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • اٹک جیل میں برے حالات تھے،  زمین پر سلایا گیا،‏عمران خان

    اٹک جیل میں برے حالات تھے، زمین پر سلایا گیا،‏عمران خان

    تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے ان افراد کو جن پر تشدد ہوا واپس لے لیں گے،‏

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھاکہ ہمیں چاہیے تھا ہم تینوں جماعتوں سنی اتحاد کونسل،مجلس وحدت المسلمین اور جے یو آئی شیرانی گروپ سے اتحاد کرتے،‏آئی ایم ایف سے قرض لینے سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے،سیاسی استحکام تب ہی ہو گا تب عوام کو اس کا چوری ہونے والا مینڈیٹ واپس کیا جائے گا،‏اٹک جیل میں برے حالات تھے، بہت سختی کی گئی، زمین پر سلایا گیا،‏صاف شفاف انتخابات کروائیں جو بھی آئے مجھے منظور ہو گا، ایک قوم بن پر اصلاحات کی ضرورت ہے، جرمنی اور جاپان بھی ایک قوم بنی تھی، ‏علی امین اور شہباز ملاقات سے کوئی برف نہیں پگھلی ۔برف اس وقت پگھلے گی جب ھمارے مینڈیٹ پر پڑنے والے ڈاکے کو ریورس کیا جاے گا ۔‏پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا فوری طور پر آڈٹ کروایا جائےہماری اکانومی ڈوب رہی ہے، ملک میں سخت ریفارمز کی ضرورت ہے، ‏یوسف رضا گیلانی کا بیٹا سینٹ الیکشن میں پیسے دیتے ہوئے پکڑا گیا آج تک کیس نہیں چل سکا، ‏آج الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہوتی تو دھاندلی کا معاملہ ایک گھنٹے میں حل ہو جاتا،

    آئی ایم ایف کے دفتر کے سامنے احتجاج درست ، گنڈاپور کو شہباز شریف کے ساتھ تصاویر نہیں بنوانی چاہئے تھی،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خدشہ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخواہ کا فنڈ جاری نہیں کرے گی،آئی ایم ایف کے دفتر کے سامنے جو احتجاج ہوا وہ درست تھا ، اسٹیٹ مخالف نعرے بازی کا علم نہیں ، علی امین گنڈاپور کو شہباز شریف کے ساتھ تصاویر نہیں بنوانی چاہئے تھی،3 کروڑ ووٹ ہماری جماعت کو ملے اور 3 کروڑ 17 جماعتوں کو مل کر،پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا فوری طور پر آڈٹ کروایا جائے،

    عمران خان سے جب شیخ رشید کے بارے میں سوال کیا گیا تو عمران خان نے جواب دیا کہ "‏شیخ رشید کا شغل، ہنسی مذاق مس کریں گے،

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،اڈیالہ جیل میں سماعت 20 مارچ تک ملتوی
    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کو عدالت پیش کیا گیا ،ایک گواہ کا بیان قلمبند اور ایک گواہ پر جرح مکمل ہو گئی،عدالت نے سماعت بدھ 20 مارچ تک کیلئے ملتوی کردی،پراسیکیوشن کی جانب سے دو گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا،وکلاء صفائی نے ایک گواہ پر جرح مکمل کرلی جبکہ عدالت نے ایک گواہ کا بیان قلمبند کیا،گواہان میں چیف فنانشل آفسیر القادر یونیورسٹی شامل تھے،نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر چودھری نذر، عرفان بھولا و دیگر پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء چودھری ظہیر عباس، عثمان گل و دیگر پیش ہوئے،دوران سماعت بشری بی بی کی بیٹی اورداماد بھی کمرہ عدالت موجود تھے،عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو طلب کرلیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلا نے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے چیف فنانشل آفیسر زاہد حنیف پر جرح مکمل کرلی ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں ایک گواہ کا بیان قلمبند بھی کیا گیا ، سی ایف او القادر یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشری بی بی القادر ٹرسٹ کی منیجمنٹ کمیٹی میں شامل نہیں ۔القادر ٹرسٹ کے ملازمین کی ہائیرنگ اور فائرنگ میں عمران خان اور بشری بی بی کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ یہ درست ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی نے ٹرسٹ کی منیجمنٹ کمیٹی کے فیصلوں سے کوئی اختلاف نہیں کیا ۔یہ درست ہے کہ ٹرسٹ کے اکائونٹ سے کوئی رقم عمران خان اور بشری بی بی کے اکائونٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوئی۔یہ درست ہے کہ ٹرسٹ کی زمین القادر یونیورسٹی کے قیام کے مقصد کیلئے تھی ۔ ریکارڈ کے مطابق ٹرسٹ کے تمام اثاثے ٹرسٹ کے مفاد کیلئے ہیں ۔یہ درست ہے کہ ٹرسٹ کے اثاثوں سے ٹرسٹی کوئی فائدہ نہیں لے سکتے ۔ درست ہے کہ ٹرسٹی کا رشتہ دار یا ملازم بھی ٹرسٹ کے اثاثوں سے کوئی فائدہ نہیں لے سکتا ۔درست ہے ٹرسٹی ٹرسٹ کی زمین کو مستقبل میں ذاتی استعمال میں نہیں جاسکتے ۔یہ درست ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی ٹرسٹ کی زمین اور اثاثوں کے بینفشری نہیں ہیں ۔ یہ درست کہ ٹرسٹ کے اثاثوں کے بینفشری ٹرسٹ میں پڑھنے والے طلبہ اور فیکلٹی ممبرز ہیں ۔ درست ہے کہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی کسی بھی صورت ٹرسٹ کے اثاثوں کے بینفشری نہیں ہیں ۔ 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

    مراد سعید بھی سینیٹ کے امیدوار،اظہر مشوانی کورنگ،زلفی بخاری،حامد خان، یاسمین راشد ،صنم جاوید بھی امیدوار
    دوسری جانب بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے سینیٹ انتخابات کیلئے امیدواروں کے ناموں کی منظوری دے دی ، خیبرپختونخوا سے جنرل نشستوں کیلئے مراد سعید ، فیصل جاوید،مرزا محمد آفریدی اور عرفان سلیم،خرم ذیشان اور اظہر مشوانی امیدوار ہوں گے ،اعظم سواتی اور ارشاد حسین ٹیکنوکریٹ کی نشست پر امیدوار ہوں گے .خواتین کی نشستوں پر عائشہ بانو اور روبینہ ناز امیدوار ہوں گی،پنجاب سے حامد خان اور زلفی بخاری جنرل نشست پر امیدوار ہوں گے ،پنجاب میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر یاسمین راشد امیدوار ہوں گی ،پنجاب سے خواتین کی نشست پر صنم جاوید امیدوار ہوں گی