Baaghi TV

Tag: غزہ

  • شمالی غزہ میں  3 اسرائیلی فوجی ہلاک  اور 12 زخمی

    شمالی غزہ میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 12 زخمی

    تل ابیب: شمالی غزہ میں آج ہونے والی جھڑپوں میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 12 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی فوج کے مطابق جھڑپوں میں 12 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے اسرائیلی فوج کی جانب سے اس حملے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    اس سے قبل اسرائیلی میڈیا کے جانب سے لبنان میں 4 اور غزہ میں 2 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی خبر دی گئی تھی،اسرائیلی میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 816 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے 384 فوجی غزہ میں ہلاک ہوئے۔

    پیر کے روز اسرائیلی ریڈیو نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کی لبنان میں تازہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب وہ حزب اللہ کی بنائی ہوئی ایک حفاظتی سرنگ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سرنگ میں اسلحہ رکھا گیا تھا تاہم اسرائیلی ریڈیو نے اس واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔بس یہ بتایا ہے کہ چار فوجیوں کی ہلاکت کا یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا ہے۔

    یہ ہلاکت خیز واقعہ اس وقت پیش جب اسرائیلی فوجی سرنگ کو بارود سے اڑانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سرنگ فوجیوں کے اوپر آگری ہے سرائیلی حکام نے اس واقعے کا الزام حزب اللہ کو دیا ہے نہ یہ کہا ہے کہ حزب اللہ نے 26 نومبر کے جنگ بندی معاہدے کی اس سلسلے میں کوئی خلاف ورزی ہے-

  • فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فرانس اور سعودی عرب ایک پیج پر

    فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد اسرائیل اور ممکنہ فلسطینی ریاست کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

    صدر میکرون کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وہ اس کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، جو جون میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مزید سفارتی کوششیں کی جائیں۔صدر میکرون نے کہا کہ وہ اور سعودی ولی عہد فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اپنے سفارتی کوششوں کو مزید بڑھائیں گے، تاکہ اس بحران کو حل کرنے کی راہ پر گامزن ہوا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد عالمی شراکت داروں کو اس معاملے کے حل کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

    صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آیا فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا؟ تو میکرون نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کریں گے جب یہ قدم دو طرفہ تسلیم کی تحریک کے آغاز کے طور پر اٹھایا جائے گا۔صدر میکرون نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فرانس اس بات کا خواہاں ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کی جانب قدم بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس یورپی اور غیر یورپی اتحادیوں کو اس معاملے میں شامل کرنا چاہتا ہے جو اس دو ریاستی حل کی سمت میں قدم بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور فلسطین کے مکمل آزاد ہونے تک اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔ یورپی یونین کے بعض نمائندوں نے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ سفارتکاری کو سراہا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے بغیر فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کرنا پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

    فرانسیسی صدر کا یہ اعلان عالمی سیاست میں اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ کانفرنس کامیاب ہوتی ہے اور دونوں طرف سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے، تو یہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دیرینہ تنازعہ کے حل کی سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • غزہ : اسرائیل  انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ : اسرائیل انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر منیر البرش نے کمزور اور لاچار فلسطینیوں پر استعمال ہونے والے اسرائیلی اسلحے سے متعلق ہولناک انکشافات کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں اسرائیل نے ظلم اور جبر کی نئی تاریخ رقم کردی، ایسے ممنوع ہتھیار استعمال کر رہا ہے کہ نسانیت دنگ رہ جائے، غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج ایسے ہتھیار استعمال کر رہی ہے جن سے مرنے والوں کی لاشیں بخارات بن جاتی ہیں۔

    غزہ کے ڈائریکٹر ہیلتھ نےکہا کہ اسرائیل نہتے فسطینی پناہ گزینوں پر خطرناک کیمیکل اور مواد والے بم برسا رہا ہے جس کے ہولناک اثرات سامنے آ رہے ہیں،عالمی قوتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے اور اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے غزہ میں سیزفائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوری ڈیل کی تردید کی ہے،ایک بیان میں امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس غزہ میں سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کررہا ہے لیکن ہم اب تک حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ہم بہت متحرک ہوکر کام کررہے ہیں تاکہ یہ عمل جلد مکمل ہو اور ہم اس سلسلے میں خطے کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے بھی قریبی رابطوں میں ہیں، اس حوالے سے مسلسل کام ہورہا ہے، اس سلسلے میں مزید بات چیت اور مشاورت کی ضرورت ہے، ہمیں امید ہےکہ ہم جلد ہی سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے لیکن اب تک ہم اس مرحلے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں 44 ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ1 لاکھ 5 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

  • غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید  100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آگئی ہے، ہفتے کو غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم ازکم 100 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں سے 75 فلسطینی بیت لاحیا کی رہائشی عمارتوں پر بمباری میں شہید ہوئے۔

    اس کے علاوہ جنوبی غزہ کے شہرخان یونس پر اسرائیل کی بمباری میں17 افرا دشہید ہوئے، اسرائیلی طیاروں نےخان یونس میں 2 مقامات کو نشانہ بنایا، غزہ میں خوراک تقسیم کےدوران اسرائیلی حملے میں 3 امدادی کارکن بھی شہید ہوئے، حملے کے بعد امدادی ادارے نے غزہ میں خوراک تقسیم کا کام بند کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے دوران وحشیانہ زمینی اور فضائی حملوں میں 2700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں فلسطینیوں کو سنگین غذائی بحران کی صورتحال کا سامنا ہے۔

    فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 44 ہزار 382 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 5 ہزار 142 فلسطینی زخمی بھی ہوئے،جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے-

  • ایران کا اسرائیلی ربی کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار

    ایران کا اسرائیلی ربی کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار

    ایران نے متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی ربی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کر دیا ہے

    ابوظبی میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران اسرائیلی ربی زوی کوگن کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔ایران نے اسرائیلی شہری کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، دوسری جانب اماراتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں لاپتہ ہونے والے یہودی ربی زوی کوگن کے قتل کے شبے میں 3 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،واضح رہے کہ اسرائیلی ربی جمعرات سے لاپتہ تھے اور اتوار کو ان کی لاش ملی تھی،اسرائیلی میڈیا کے مطابق 28 سالہ اسرائیلی ربی کے پاس مشرقی یورپی ملک مالدووا کا پاسپورٹ بھی تھا۔

    آرتھوڈوکس یہودی تنظیم کےلیے کام کرنے والے ربی زوی کوگن جمعرات کو دبئی میں لاپتہ ہوئے تھے، یہودی ربی زوی کوگن کے پاس یورپی ملک مالدووا کی شہریت بھی تھی، زوی کوگن نے مالدووا کے پاسپورٹ پر دبئی کا سفر کیا تھا، زوی کوگن کے قتل کی تحقیقات متحدہ عرب امارات، اسرائیل، مالدووا حکام کر رہے ہیں

    اماراتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سوسائٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف تمام قانونی اختیارات استعمال کیے جائیں گے۔

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • غزہ :اسرائیلی حملوں میں 48 گھنٹوں کے دوران 120 فلسطینی شہید

    غزہ :اسرائیلی حملوں میں 48 گھنٹوں کے دوران 120 فلسطینی شہید

    غزہ پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری جاری ہے،پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران مزید 120 فلسطینی شہید ہو گئے-

    باغی ٹی وی : غزہ کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق صرف پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی پر 120 فلسطینی اسرائیلی فوج نے قتل کیے ہیں یہ تازہ قتل و غارت گری زیادہ تر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہوئی-

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے 13 ماہ سے زیادہ عرصے پر محیط غزہ جنگ کے دوران اب تک 44176 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے زیادہ تعداد فلسطینی بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہے،غزہ کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں اب تک غزہ میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 104473 بتائی گئی ہے۔

    حکام نے بتایا کہ غزہ سٹی کے مضافات میں زیتون کے علاقے میں رہائشی عمارت پر ہونے والی بمباری میں 7 فلسطینی شہید ہوئے اور دیگر شہادتیں وسطی اور جنوبی غزہ میں ہوئی ہیں، اسرائیلی بمباری سے وسطی غزہ کے مہاجر کیمپ نصیرت میں قائم مسجد الفاروق کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    اسرائیلی فورسز شمالی غزہ میں بمباری کے ساتھ ساتھ زمینی حملوں میں بھی تیزی لا رہی ہیں جہاں ایک اسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اسپتال میں کئی افراد زخمی ہوگئے،غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فورسز نے اسپتال کے دروازے اور استقبالیہ پر براہ راست حملہ کیا اور اس کے ساتھ برآمدے، بجلی کے جنریٹرز اور اسپتال کے گیٹ کو بھی نشانہ بنایا،اس بمباری کے نتیجے میں ڈاکٹروں، نرسوں اور انتظامیہ کے اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمال عدوان اسپتال میں حملوں کا علم نہیں ہے۔

    غزہ کی وزارت صحت نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ اسپتال میں صرف دو دن کے لیے ایندھن رہ گیا ہے اور اس کے بعد سروسز محدود کردی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران امریکہ جس ممکنہ جنگ بندی کے لیے خود کو کوشاں بتا رہا ہے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد امریکہ کی طرف سے سلامتی کونسل میں پیش کردہ جنگ بندی قرارداد کو ویٹو کر کے جنگ بندی کی امید خود ہی ختم کر دی ہے۔

  • امریکا نے غزہ میں سیزفائر کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی

    امریکا نے غزہ میں سیزفائر کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی

    نیویارک: امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد چوتھی مرتبہ ویٹو کردی۔

    باغی ٹی وی : سلامتی کونسل کے 10 منتخب ممالک نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ میں غیر مشروط، فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے،غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد کے حق میں 10 منتخب ممالک کے علاوہ 4 مستقل ممالک نے بھی ووٹ دیا تاہم امریکا نے قرار داد کو ویٹو کردیا-

    اقوام متحدہ میں امریکا کے مستقل مندوب رابرٹ وُڈ نے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتے جس کے ذریعے اسرا ئیلی یرغمالیوں کی رہائی یقینی نہ بنائی گئی ہو،سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے حماس کے حوصلے بلند ہوتے امریکا پہلے ہی وضاحت کرچکا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی کسی بھی غیر مشروط قرارداد کی کسی صورت حمایت نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران پہلےبھی 3 بار جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے، غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد 11 بار پیش کی جاچکی ہے۔

    غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک تقریباً 44 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں 17 ہزار 400 سے زائد بچے ہیں یوں گزشتہ ایک سال کے دوران غزہ میں ہر 30 منٹ میں ایک بچہ اسرائیلی حملوں کی زد میں آکر شہید ہوا۔

  • امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بدھ کو ایک قرارداد پر ووٹ دینے والی ہے، جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور اس جنگ بندی کو حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط نہیں کیا گیا۔ امکان ہے کہ امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو غیر جانبداری کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔امریکہ کی ممکنہ ویٹو پالیسی نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی جاری رکھنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "غزہ میں انسانی بحران عروج پر ہے۔ بچے، خواتین، اور عام شہری جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، اور عالمی برادری اس ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کرتا ہے، تو یہ ایک واضح پیغام ہوگا کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق کو صرف اپنے مفادات کے تحت دیکھتے ہیں۔”

    غزہ میں بمباری اور مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت معصوم شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق، خطے میں انسانی ضروریات کی شدید کمی ہو رہی ہے، اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔یورپی ممالک سمیت کئی دیگر طاقتوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اس قرارداد کے متن پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس کے یرغمالیوں کی رہائی کو مذاکرات کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ دوسری طرف، مسلم ممالک نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پر ووٹنگ رواں ہفتے ہوگی،عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی قرارداد پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ رواں ہفتے کے آخر میں ہوگی،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ میں اسرائیلی حمایت کی اکثریت کے باعث قرارداد منظور ہونے کا امکان کم ہے

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایک سال کی کوشش کے باوجود حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کو چھڑانےمیں کامیاب نہ ہوئے جس کے بعد اب اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو 50 لاکھ ڈالرز کا لالچ دے ڈالا، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ سے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالرز دیں گے،یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو اہلِ خانہ سمیت غزہ سے انخلاء کرائیں گے

  • یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    اسرائیلی فوج کے سینئر افسران نے وزیراعظم نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس اور سکیورٹی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ یرغمالیوں کی حالت انتہائی نازک ہے۔ غذائی قلت کے باعث ان کے وزن میں واضح کمی ہو چکی ہے، اور موسم سرما کے پیش نظر ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔اسرائیلی فوج کے جنرلز نے نشاندہی کی کہ یرغمالیوں کے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث جنگ بندی کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    اسی دوران اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر پر دھاوا بول دیا، جہاں قیصریہ میں واقع ان کے گھر کے باغ میں دو فلیش بم گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ نیتن یاہو اور ان کا خاندان اس وقت گھر میں موجود نہیں تھا۔پولیس نے واقعے کے بعد تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام حدود پار کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ وزیراعظم، جو پہلے ہی ایران اور دیگر مزاحمتی قوتوں کی جانب سے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اپنے گھر پر بھی ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے۔

  • غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بلا توقف جاری

    غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بلا توقف جاری

    اقوام متحدہ کے اداروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شمالی غزہ سے ایک لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جنہیں بھوک پیاس، تکالیف، مایوسی اور موت کے خطرات کا سامنا ہے۔

    یو این کی رپورٹ کے مطابق علاقے میں اسرائیلی فوج کی بمباری اور زمینی حملے بدستور جاری ہیں۔ اس نے لوگوں کو انسانی امداد کی فراہمی بھی روک رکھی ہے اور اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کی متعدد درخواستوں کے باوجود امدادی مشن علاقے میں رسائی نہیں پا سکے۔امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ہر طرح کے اشاریوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی غزہ کے حالات انتہائی تباہ کن ہو چکے ہیں۔علاقہ عملاً محاصرے میں ہے جہاں امدادی اداروں کو نہ تو رسائی مل رہی ہے اور نہ ہی ان کے لیے تحفظ کی کوئی ضمانت ہے۔ بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی جاری ہے اور ایسے حالات میں امداد کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے.جینز لائرکے نے شمالی غزہ میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والے امدادی اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے حالات کی کچھ یوں منظرکشی کی ہے کہ جب کوئی ایسی صورتحال دیکھتا ہے تو کچھ کرنے کے لیے چھلانگ لگانا چاہتا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ملتی کیونکہ اس کی ٹانگیں ٹوٹ چکی ہے۔جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی کے اجلاس میں عرب لیگ کی نمائندہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ اسرائیل کی جانب سے ‘انروا’ کو ختم کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ ادارہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ناقابل انتقال حقوق اور مسئلے کے دو ریاستی حل کے لیے عالمی برادری کے اتفاق رائے کی علامت ہے۔عرب لیگ کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ ‘انروا’ کے خلاف اسرائیل کی کوئی بھی جارحیت اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو حاصل استحقاق اور استثنیٰ سے متعلق کنونشن کی کھلی پامالی ہو گی۔’اوچا’ نے بتایا ہے مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کو محض نفاذ قانون کے اقدامات نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ شہریوں کے خلاف جنگ جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔5 اور 11 نومبر کے درمیانی عرصہ میں اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں 11 فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ ان میں تین افراد فضائی حملوں میں مارے گئے۔ ایک واقعے میں اسرائیلی آباد کار نے حملہ آور فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کیا جبکہ ایک فلسطینی شہری اپنے پاس موجود دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہلاک ہو گیا۔اسرائیل کی فورسز نے مشرقی یروشلم میں مزید نو رہائشی عمارتیں منہدم کر دی ہیں جن میں رہنے والے 23 بچوں سمیت 50 فلسطینی بے گھر ہو گئے۔پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاریوں، ان سے بدسلوکی اور توہین آمیز سلوک کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعات گزشتہ مہینے پناہ گزینوں کے کیمپوں اور قصبوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران پیش آئے۔حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی حکام نے راملہ میں جانچ پڑتال کی متعدد چوکیاں روزانہ چند گھنٹوں کے لیے دوبارہ کھول دی ہیں اور علاقے تک رسائی میں حائل کڑی رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔کمیٹی کے اجلاس میں متعدد مندوبین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ‘انروا’ کے خلاف پابندی سے متعلق قوانین کی منظوری پر تشویش کا اظہار کیا۔

    برطانیہ اور سندھ یکساں تخلیقی روایاں رکھتے ہیں، مراد علی شاہ

    وزارت داخلہ کا غیرقانونی وی پی اینز کی بندش کیلئے خط، اسلامی نظریاتی کونسل کی حمایت