Baaghi TV

Tag: غزہ

  • پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، مقطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدا ت پر پابندی کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق آٹھوں ممالک نے برطانیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی اور ان بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کا اقدام عالمی برادری کو متحرک کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری میں ملوث بستیوں، اداروں اور افراد کو جوابدہ بنانے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے ہی ٹھوس اقدامات کرے۔

    بیان میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا گیا ہے، جس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارتی اشیا کی خرید و فروخت پر قومی یا یورپی سطح پر پابندیوں کے اقدامات کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام ٹھوس اقدامات اختیار کرے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی معاونت یا انہیں برقرار رکھنے والی سرگرمیوں کا خاتمہ یقینی بنا سکیں،اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم ہے۔

    بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 اور 19 جولائی 2024 کی عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کریں اور اس صورتحال کو برقرار رکھنے میں معاونت یا مدد فراہم نہ کریں۔

    آٹھوں ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی خدوخال تبدیل کرنے والی آبادکاری سمیت تمام اقدامات واپس لیے جائیں پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے اسرائیل کے متنازع ’ای ون‘ (E1) آبادکاری منصوبے اور مشرقی یروشلم کے قریب اس سے متعلق سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    مشترکہ مؤقف کے مطابق ای ون منصوبہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرسکتا ہے اور مستقبل میں ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ ای ون منصوبہ فوری طور پر روکا جائے اور اس سے متعلق تمام اقدامات منسوخ کیے جائیں۔

    اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کا قابل عمل راستہ ہے۔ آٹھ ممالک نے ایک آزاد، خودمختار، متصل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جو 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ہو اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

    بیان میں غزہ کو بھی مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد، انسانی صورتحال سے نمٹنے، تعمیر نو اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق، خصوصاً حقِ خودارادیت کے تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

  • حماس حملے کی نئی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفیٰ مانگ لیا

    حماس حملے کی نئی رپورٹ سامنے آنے پر اپوزیشن نے نیتن یاہو سے استعفیٰ مانگ لیا

    اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے حماس حملے کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک نئی تشویشناک رپورٹ کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو منصب کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    یہ سیاسی بحران ستمبر 2026 میں اسرائیلی اخبار ہاآرتص کی اس رپورٹ کے بعد پیدا ہوا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا،اخبار کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (UAE) کے صدر محمد بن زاید ال نہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو سے براہِ راست بات کی تھی اور انہیں مطلع کیا تھا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وارننگ کے بعد اسرائیلی سیکورٹی ایجنسی ‘شن بیت’ کے سربراہ رونن بار نے بھی 15 ستمبر 2023 کو نیتن یاہو کو اس حوا لے سے بریفنگ دی تھی، اس کے ساتھ ہی مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل نے بھی نیتن یاہو کو کسی غیر معمولی اور خوفناک آپریشن کے بار ے میں خبردار کیا تھا-

    سابق وزیراعظم اور انتخابات میں امیدوار نفتالی بینیٹ نے بھی نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کو ہونے والے نقصان کا ’’بذات خود اور براہِ راست ذمہ دار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’ایک منٹ کے لیے بھی‘‘ اپنے عہدے پر براجمان نہیں رہنا چاہیے۔

    ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ سنوارنے ایک سابق فلسطینی عہدیدار کو خبردار کیا تھا کہ حماس ایک ’’خوفناک آپریشن‘‘ کی تیاری کر رہی ہے، جسے انہوں نے ’’زلزلہ‘‘ قرار دیا تھا سابق فلسطینی عہدیدار نے یہ اطلاع ایک اماراتی مشیر تک پہنچائی، جس نے اسے متحدہ عرب امارات کے صدر تک پہنچایا اس کے بعد اماراتی صدر نے مبینہ طور پر نیتن یاہو سے رابطہ کیا۔

    متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کی ثالثی میں ہونے والے ‘ابراہام اکارڈ’ کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے اخبار نے زیادہ تر نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے اس وارننگ کا پُرسکون انداز میں جواب دیا، نیتن یاہو نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ اسرائیل کی توجہ غزہ کے بجائے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر ہے۔

    اس نئی رپورٹ کے سامنے آتے ہی اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں نے نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ نیتن یاہو 7 اکتوبر کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کے براہِ راست ذمہ دار ہیں، کیونکہ انہوں نے ان اہم ترین وارننگز کو نظر انداز کیا۔

    نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گاڈی آئزن کوٹ نے الکژام لگایا کہ وزیر اعظم سیکورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں اور لغو بہانے تراش رہے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: "نیتن یاہو کو 7 اکتوبر کے حوالے سے درجنوں انتباہات موصول ہوئے لیکن انہوں نے سب کو نظر انداز کر دیا،وہ (وزارتِ عظمیٰ کے لیے) نااہل ہیں،اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ انہیں مزید ایک منٹ بھی اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے-

    دوسری جانب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری بیان میں ہاآرتص کی رپورٹ کو "سراسر جھوٹ” قرار دیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران نیتن یاہو اور اماراتی صدر کے درمیان ایسی کوئی ٹیلی فونک گفتگو یا رابطہ نہیں ہوا تھا-

    نیتن یاہو کی حکومت کئی برسوں سے حماس کے ساتھ ‘اسٹیٹس کو’ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی تھی۔ اس پالیسی کے تحت قطر کے ذریعے غزہ میں مالی معاونت کی فراہمی جاری رہی، جبکہ یہ مفروضہ برقرار رہا کہ حماس اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے بجائے اپنی بقا کو ترجیح دے گی۔

    7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، اے ایف پی کی جانب سے اسرائیلی حکومت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیے گئے تخمینے کے مطا بق اس حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حماس کے جنگجو تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے، جن میں سے 44 کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ پہلے ہی ہلاک ہو چکے تھے۔

    اس حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 73,658 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

  • غزہ میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر اسرائیل کا حملہ ، خاتون کرنل سمیت 9 افراد شہید

    غزہ میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر اسرائیل کا حملہ ، خاتون کرنل سمیت 9 افراد شہید

    غزہ میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں خواتین پولیس کی سربراہ سمیت 9 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    غزہ کی وزارتِ داخلہ کے مطابق غزہ سٹی میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں خواتین پولیس کی سربراہ کرنل فاتنہ السحار سمیت 8 پولیس افسران شہید ہو گئے ، شہید ہونے والوں میں 13 سالہ بچی بھی شامل ہے۔

    غزہ کی وزارت داخلہ و قومی سلامتی نے ثالثوں اور عالمی برادری سے اسرائیلی فوج کی جانب سے پولیس کے خلاف حملے روکنے کے لیے فوری اقدام کی اپیل کی ہےوزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اپنے جرائم کا جواز پیش کرنے کے لیے جو بھی دعوے کر رہا ہےوہ بے بنیاد ہیں، اسرائیل فلسطینی معاشرے میں افراتفری پھیلانے کے لیے پولیس کے ادارے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ سٹی میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’ایک نیا جنگی جرم’ قرار دیا ہے حماس نے اسرائیلی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر امن کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی کے شمال میں الشاطی کے علاقے کے ایک کیفے میں اجلاس کے دوران حماس کے متعدد رہنماؤں کو فضائی حملے میں نشانہ بنایانشانہ بنائے گئے افراد غزہ کی پٹی کے اندر تعینات اسرائیلی فوجیوں کے خلاف حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

  • غزہ میں اسرائیلی فوج،کاتازہ حملہ، 9 فلسطینی شہید، 18 گرفتار

    غزہ میں اسرائیلی فوج،کاتازہ حملہ، 9 فلسطینی شہید، 18 گرفتار

    غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قابض فوج کے تازہ حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں چھاپہ مارا اور 18 فلسطینی گرفتار کرلیے۔

    فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے اطلاع دی کہ غزہ شہر کے شمال مغرب میں شیخ رضوان محلے میں اسرائیلی ڈرون نے لوگوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئےوسطی غزہ کے علاقے دیر البلاح میں ایک الگ ڈرون حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

    خان یونس کے شمال مغرب میں القارا کے علاقے المواسی میں اسرائیلی حملے میں ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے کے بعد ایک بچے سمیت تین فلسطینی ہلاک ہو گئے،غزہ شہر کے الصابرہ محلے میں، اسرائیلی حملے میں ایک فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ شہر کے جنوب مغرب میں تل الحوا محلے میں ایک مکان کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے میں مزید دو فلسطینی مارے گئے۔

    وفا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی گولہ باری نے دیر البلاح میں الاقصی شہداء ہسپتال میں ادویات اور طبی سامان پر مشتمل ایک گودام کو بھی تباہ کر دیا، جس سے اس سہولت اور قریبی خیموں کو بہت نقصان پہنچا۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے متعدد علاقوں میں چھاپوں کے دوران 18 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔

    فلسطینی میڈیا کے مطابق صوبہ ہیبرون کے علاقے مسافر یتہ کے گاؤں خشم الدراج سے 11 فلسطینی کارکنوں کو اسرائیلی فورسز نے تعاقب اور ان پر حملہ کرنے کے بعد حراست میں لیا،اسرائیلی فورسز نے صوبہ نابلس میں عینابس، برقعہ اور اسیرا الشمالیہ کے قصبوں اور دیہاتوں میں بھی چھاپے مارے، متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا اور ایک مکان کو عارضی فیلڈ تفتیشی مرکز میں تبدیل کر دیابیت لحم کے مغرب میں وادی فوکن، کنٹینر فوجی چوکی اور طوباس کے جنوب مشرق میں تممون قصبے سے مزید تین فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا حماس کے بحری کمانڈر سمیت 4 ارکان شہید کر نے کا دعوی

    اسرائیلی فوج کا حماس کے بحری کمانڈر سمیت 4 ارکان شہید کر نے کا دعوی

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں الگ الگ فضائی حملوں کے دوران حماس کی بحریہ کے ایک کمانڈر سمیت تنظیم کے4 ارکان کو شہید کر دیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے علاقے میں پیر کے روز کیے گئے حملے میں حماس کے نیول ارے کے سیل کمانڈر اسامہ نعیم حمدی شملخ کو نشانہ بنایا گیا حماس کی بحری شاخ سمندری کارروائیوں اور کمانڈو سرگرمیوں میں کردار ادا کرتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ شمالی غزہ میں ایک اور فضائی حملے میں حماس کے مزید 3 ارکان شہید ہوئے اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد اسرائیلی دفاعی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے ان دعوؤں کے حوالے سے مزید شواہد جاری نہیں کیے، جبکہ حماس کی جانب سے بھی فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل یا شہادتوں کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری ہیں ، جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں اب تک مزید ایک ہزار 98 فلسطینی جاں بحق اور 3 ہزار 535 زخمی ہو چکے ہیں اسرائیلی فوج نے گزشتہ روزفضائی حملے کے بعد پھر علاقے سے انخلا کا حکم بھی دے دیا ہے فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے غزہ کے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں 73 ہزار 223 فلسطینی جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 73 ہزار 654 زخمی ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیلی رکن پارلیمنٹ کا غزہ کے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا مشورہ

    اسرائیلی رکن پارلیمنٹ کا غزہ کے مسلمانوں کے مکمل خاتمے کا مشورہ

    اسرائیلی رکن پارلیمنٹ موشے فیگلن نے مبینہ طور پر ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا تھا، اسی طرح غزہ کے حوالے سے ایک متنازع مؤقف پیش کیا گیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہےجس میں سابق اسرائیلی کنیسٹ رکن موشے فیگلن سے منسوب ایک انتہائی متنازع بیان سامنے آیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ سے متعلق سخت الفاظ شامل ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موشے فیگلن نے مبینہ طور پر ہٹلر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا تھا، اسی طرح غزہ کے حوالے سے ایک متنازع مؤقف پیش کیا گیا،موشے فیگلن نے کہا کہ ’ہم اس سرزمین میں اس وقت تک نہیں رہ سکتے جب تک غزہ میں ایک بھی مسلمان موجود ہے انہیں ختم کر دینا چاہیے۔

    یہ بیان وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم اب تک کسی معتبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے یا سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی،دوسری جانب موشے فیگلن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

  • اسرائیلی فوج کا غزہ فلوٹیلا پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا غزہ فلوٹیلا پر حملہ

    فلوٹیلا ٹریکر کے مطابق اسرائیلی فوج نے’’انڈروس‘‘ نامی کشتی کو غزہ سے 82 ناٹیکل میل دور روک لیا، جبکہ اب تک گلوبل صمود فلوٹیلا کی 61 کشتیوں کو مختلف کارروائیوں میں روکا جا چکا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس وقت بھی 9 امدادی کشتیاں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں دوسری جانب امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے بعد خطےمیں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے فلوٹیلا منتظمین اور سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے کم از کم دو کشتیوں پر فائرنگ کی لائیو اسٹر یمنگ میں اسرائیلی فورسز کو کشتیوں کی جانب فائر کرتے دیکھا گیا، تاہم استعمال ہونے والے گولہ بارود کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران لائیو گولیاں استعمال نہیں کی گئیں متعدد انتباہات کے باوجود کشتیوں نے پیش قدمی جاری رکھی جس پر انہیں روکنے کے لیے “غیر مہلک ذرائع” استعمال کیے گئے کارروائی کا مقصد کشتی کو خبردار کرنا تھا، مظاہرین یا کارکنوں کو نشانہ بنانا نہیں، واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں، تاہم فلوٹیلا منتظمین نے اسرائیلی اقدام کو انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے باعث مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اور کارکنان سمندری راستے سے امداد پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اسرائیل ماضی میں بھی کئی امدادی مشنز کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روک چکا ہے۔

  • اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

    گزشتہ دنوں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ایک فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی ،حراست میں لیے گئے افراد میں ہسپانوی نژاد فلسطینی کارکن سائف ابو کشک بھی شامل ہیں جبکہ سپین اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو ختم کرنے کے لیے یورپی یونین کو باضابطہ درخواست پیش کرے گا۔

    اسپین کے وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر سائف ابو کشک کو رہا کرے ابو کشک کو برازیل کے کارکن تھیاغو آویلا کے ساتھ اسرائیل کے جنوبی شہر اشکلون میں حراست میں رکھا گیا ہے قانونی امدادی تنظیم “لیگل سینٹر فار عرب مائنارٹی رائٹس اِن اسرائیل (عدالہ)” کے مطابق دونوں افراد نے حراست کے دوران بھوک ہڑتال شروع کر دی ہےانکے نمائندوں نے دونوں کارکنوں سے ملاقات کی، جنہوں نے الزام لگایا کہ انہیں حراست کے دوران مار پیٹ، آنکھوں پر پٹی اور تنہائی میں رکھنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد سے تفتیش جاری ہے اور ان پر ممکنہ طور پر حماس سے روابط کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے وزارت نے یہ بھی کہا کہ انہیں قونصلر ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔

    اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپین اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گا، بین الاقوامی قانون کی پاسداری جاری رکھے گا، اور اسرائیل سے ہسپانوی شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ اسپین اور اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی غزہ جنگ کے حوالے سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور مسلسل اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتا رہا ہے-

  • اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا

    اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا

    اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے صمود فلوٹیلا کو روک لیا۔

    انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے جہازوں کو اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں روک کر کارروائی شروع کر دی، جبکہ متعدد کشتیوں سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ڈرونز، کمیونیکیشن جیمنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے بحیرہ روم میں فلوٹیلا کو گھیر لیا۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ 58 میں سے 7 کشتیوں کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے کشتیوں کو گھیر کر شرکا کو ہتھیاروں کے زور پر قابو میں لیا اور متعدد جہازوں سے رابطہ منقطع کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا۔

    اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ فلوٹیلا کو اسرائیلی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا، جبکہ فوج پُرعزم انداز میں کارروائی کر رہی ہے۔

    فلوٹیلا کے ترجمان نے اس اقدام کو غیر مسلح شہری کشتیوں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق 400 سے زائد افراد ان جہازوں پر سوار ہیں جن کی سلامتی خطرے میں ہے۔

    رپورٹس کے مطابق فلوٹیلا اٹلی سے روانہ ہو کر غزہ کی جانب جا رہا تھا اور اسرائیلی کارروائی کے وقت یہ غزہ سے قریباً 600 ناٹیکل میل دور تھا، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فاصلے پر کی جانے والی کارروائی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل غزہ کے لیے جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روک چکا ہے اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے کر بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

  • بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں کسی فوجی مشن میں حصہ لینا نہیں ،پاکستان

    بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں کسی فوجی مشن میں حصہ لینا نہیں ،پاکستان

    پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے ہونیوالی تنقید پر کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے فوجی بھیجے گا اپنا موقف واضح کر دیا-

    پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں کسی فوجی مشن میں حصہ لینا نہیں بلکہ صرف غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے ایک منصفانہ و پائیدار حل کو آگے بڑھانا ہے بورڈ آف پیس کے 19 فروری 2026 کو منعقدہ اجلاس میں پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں تھا جو بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کر رہے ہیں۔

    پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل کی حمایت کرتا ہے، جو 2 ریاستی حل پر مبنی ہو، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدیں اور القدس شریف آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر رہا ہے-

    اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان نے بار بار واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ ایک خودمختار، مستحکم اور قابل عمل فلسطینی ریاست قائم نہ ہو، جس کی سرحدیں 1967 کی طے شدہ ہوں اور القدس شریف اس کا دارالحکومت ہو پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے حوالے سے اپنا موقف شفاف، مستقل اور اصولی رکھا ہے، جس کی بار بار سرکاری بیانات میں تصدیق کی گئی اور یہ موقف بین الاقوامی قانونی جواز پر مبنی ہے۔

    سونے اور چاندی کی قیمت میں مسلسل اضافہ