Baaghi TV

Tag: غنی محمود قصوری

  • سڑک کنارے پولیس نے صحافی کو حراساں کیا،شعبہ صحافت پر برے جملے بولے گئے

    سڑک کنارے پولیس نے صحافی کو حراساں کیا،شعبہ صحافت پر برے جملے بولے گئے

    قصور پولیس کی جانب سے صحافی کو حراساں کیا گیا،کہا کہ اپنا تعارف نا کرواؤں ہمیں پتہ ہے صحافی کس قابل ہوتے ہیں،لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں،ڈی پی او قصور سے پولیس رویہ پر نوٹس لینے کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے کونسل ممبر غنی محمود قصوری اپنی بائیک سی جی ون ٹو فائیو پر آج بتاریخ 2 جولائی 2024 کو ایک ضروری کام سے اوکاڑہ سے قصور آ رہے تھے کہ قصور بائی پاس پر ریلوے پھاٹک پر بوقت رات 8:30 ناکہ لگائے پولیس اہلکاروں نے روکا جس پر صحافی نے بریک لگائی اور موٹر سائیکل سے اتر کر پولیس وین کے قریب جا کر کہا جناب کیا حکم ہے اور ایک پولیس اہلکار کے قریب آ کر تلاشی کرنے پر اپنا لائسنسی و پرمٹڈ پستول پولیس اہلکار کو تھما دیا جس نے پسٹل پکڑتے ہی دوسرے ساتھیوں کو کہا کہ آجاؤ بھئی بندا پکڑا گیا ہے
    جس پر صحافی نے کہا جناب پستول نا صرف لائسنسی ہے بلکہ پرمٹڈ ہے اور میں ایک شریف آدمی اور صحافی و کالم نگار ہوں جس نے ہمیشہ حق سچ پر خبر شائع کی اور اپنے ملک و ملت بارے کالم لکھے ہیں
    اس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ کسی بھی سول بندے کو پسٹل پاس رکھنے کی اجازت نہیں
    جس پر صحافی نے اپنا اصل لائسنس معہ ہوم منسٹر سے جاری پرمٹ نکال کر دکھلایا اور کہا کہ جناب میں خود آپ کے پاس آکر آپ کو پسٹل پکڑا رہا ہوں اور تلاشی بھی دے رہا ہوں
    جبکہ آپ میرا ڈرائیونگ لائسنس،شناختی کارڈ،موٹر سائیکل ڈاکومنٹس اور میڈیا سرونگ کارڈ بھی دیکھ لیں
    پولیس اہلکار نے شناختی کارڈ موبائل پر چیک کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے آپ کی تصویر اتار کر گروپ میں ڈالتے ہیں کہ اس بندے سے پسٹل پکڑا گیا ہے
    یہ کہہ کر حوالدار نے پسٹل پکڑا اور صحافی کو قریب کھڑے کرکے ویڈیو بنائی
    پولیس ٹیم میں تین سپاہی اور ایک حوالدار شامل تھا جہنوں نے تصویر اتاری اور گروپ میں ڈال دی
    جب صحافی نے کہا جناب جو گولی آپ نے میرے زیگانا ایف نائن پسٹل 30 بور سے نکالی ہے وہ مجھے واپس کر دیں کیونکہ میرے پاس 21 گولیاں ہیں جو کہ امپورٹڈ ہیں اور مہنگی ہیں
    تو اس پر ایک اہلکار نے کہا کہ کونسی وہ گولی آپ کو مار دی گئی ہے مل جائے گی وہ گولی بھی
    صحافی اپنے گھر آ گیا اور جب پسٹل چیک کیا تو پسٹل کے اندر سے نکالے جانی والی میگزین میں ایک گولی کم تھی باقی فاصل میگزین میں 10 گولیاں پوری تھیں جبکہ پسٹل کے اندر والی میگزین میں 11 گولیاں تھیں
    پولیس اہلکار نے صحافی برادری کو کہا کہ تم لوگ کونسا حلال کماتے ہو گولی اور خرید لینا
    تمہیں کونسا فرق پڑتا ہے تم لوگوں کو بلیک میل کرکے پیسے کماتے ہو
    اس پر صحافی نے کہا جناب میں الحمدللہ فی سبیل اللہ صحافت کرتا ہوں اور اپنا ذاتی کاروبار کرتا ہوں اس پر ایک اہلکار نے غصے سے کہا کہ بار بار تعارف نا کرواؤ ہمیں پتہ ہے تم لوگ لوگوں کو بلیک میل کرتے ہو اور مال بناتے ہو
    صحافی نے پولیس رویے ،حراساں کرنے اور امانت میں خیامت کرنے پر ڈی پی او قصور سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • کرپشن کے خلاف لکھنے پہ صحافی کو  ڈپٹی کمشنر کی ظرف سے مقدمے کی دھمکی

    کرپشن کے خلاف لکھنے پہ صحافی کو ڈپٹی کمشنر کی ظرف سے مقدمے کی دھمکی

    قصور
    حق اور سچ کی آواز بلند کرنا صحافی کا جرم ٹھہرا،مقدمہ و دھمکیوں کا سامنا،صحافی برادری کا احتجاج،وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کے معروف صحافی و وکیل سردار شریف سوہڈل صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دینے کی کوشش کی اور بلا تفریق کرپشن کی نشاندھی کرنے کے لٸے اپنا کردار ادا کیا اور ذمہ دار پاکستانی شہری ہونے کے ناطے کرپشن کے خلاف کھل کر قلم اٹھایا
    انہوں نے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے دفاتر پٹوار خانے رجسٹری برانچ۔ڈومیساٸل برانچ وغیرہ میں رشوت کے بغیر عوام کے جاٸز کام نا ہونے پر ڈپٹی کمشنر کو کئی بار شکایت کی، اخبارات کے ذریعے و کھلی کچہریوں اور ان کے دفتر جا کر شکایات کیں جس پر چاہٸیے تھا کہ ڈپٹی کمشنر اس سلسلہ میں اپنا فرض ادا کرتے مگر وہ آگ بگولہ ھو گٸے اور سردار شریف سوہڈل کے کو جھوٹے مقدمات میں الجھانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور اپنے ایک قریبی رشتہ دار اکرام انصاری کی مدعیت میں ان کے خلاف ایک جھوٹی کہانی بنا کر درخواست تیار کی اور ایس ایچ او بی ڈویژن انسپکٹر منیر حسین کو اپنے دفتر بلوا کر ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا
    اس سلسلہ میں عوامی نماٸندگان صدر مسلم لیگ ن لاھور ڈویژن اور سابق ایم این اے میاں وسیم اختر شیخ، ممبر پنجاب اسمبلی نعیم صفدر انصاری،حاجی صفدر علی انصاری نے بھی ڈی سی کو سمجھانے کی کوشش کی اور معاملے کو میرٹ پر بذریعہ پنچاٸت حل کرنے کا کہا مگر انہوں نے ان کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے اپنے قریبی رشتہ دار کی مدعیت میں امانت میں خیانت کی درخواست دی ھے اور ڈی پی او قصور کو بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا ھے
    ایچ ایچ او نے درخواست پر کارواٸی کے لٸے ڈی ایس پی سٹی کو لیٹر لکھ دیا ھے
    صدر ڈسٹرکٹ بار قصور فہد اکرم نے بھی متعلقہ افسران کو جھوٹا مقدمہ درج کرنے سے منع کیا ھے تاہم جونیٸر پولیس افسران ڈپٹی کمشنر قصور سے خاٸف نظر أتے ہیں جو کہ انصاف کا قتل ھے البتہ موجودہ ڈی پی او قصور اچھی شہرت کے حامل ہیں جن سے قصور کی صحافی برادری کی اپیل ہے کہ میرٹ پہ دو طرفہ فریقین کی بات سن کر کاروائی کی جائے اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنے والے سینیئر ترین صحافی کے خلاف ذاتی انتظامی کارروائی کو رکوایا جائے
    قصور کی صحافی برادری نے آزادی صحافت پہ شب خون مارنے والے افسران کے خلاف وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل کی ہے

  • منبر و محراب کا چراغ جو بجھ گیا، ازقلم :غنی محمود قصوری

    منبر و محراب کا چراغ جو بجھ گیا، ازقلم :غنی محمود قصوری

    منبر و محراب کا چراغ جو بجھ گیا

    ازقلم غنی محمود قصوری

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی مذہب،فرقے گروہ کو انکار نہیں ہر کسی کا ماننا ہے کہ موت برحق ہے اسی لئے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہےاللہ کے اسی فرمان سے اسلام کی حقانیت کا دعوی مذید بلند و بالا ہو جاتا ہے انسان و جن ،حشرات و جانورات حتی کہ ہر مخلوق کو موت لازم آتی ہے-

    بظاہر تو انسان اپنی موت مر جاتا ہے مگر وہ اپنے اخلاق،اپنے علم،اپنی سخاوت و دیگر اچھے وصف کے باعث اپنی موت کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے جہاں اموات کا سلسلہ جاری ہے وہاں پیدائش کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یہ عمل قیامت تک چلے گا-

    ایک عالم دین کی موت سے اہلیان علاقہ دینی علم کی نعمت سے وقتی طور پہ محروم ہوتے ہیں جبکہ بہت بڑے عالم دین کی وفات سے بہت زیادہ لوگ محروم ہوتے ہیں اور یہ خلاء پر ہوتے دیر لگتی ہےعلماء دین کی شان بہت بلند ہے کیونکہ قرآن میں فرمان ہے-

    اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ؕ ترجمہ: بیشک اللہ سے حقیقتاً وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم سے آراستہ ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ العلماء ورثة الأنبياء

    یعنی کہ علماء کرام انبیاء کے وارثین ہیں اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ انبیاء کرام نے درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑا بلکہ انہوں نے وراثت میں دین اسلام کا علم چھوڑا ہے جو کہ دنیاوی فائدے کیساتھ اخروی مستقل فائدے کا سبب ہے اور جس نے اس وراثت کو پالیا وہ کامیاب ٹھہرے گا ان شاءاللہ

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائےجبکہ دوسری حدیث میں فرمان ہے اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھاتا کہ بندوں(کے سینوں) سے نکال لے، بلکہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھاتا ہے، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار (مفتی و پیشوا ) بنا لیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے (خود بھی) گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے-

    اس حدیث سے اندازہ کریں کہ علمائے کرام کی کس قدر ضرورت بھی ہے اور ان کی عزت بھی عامی انسانوں سے کس قدر زیادہ ہےجب کوئی عالم دین وفات پاتا ہے تو غم تو بہت ہوتا ہے مگر اس غم پہ صبر کرنا چائیے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے –

    لَئِنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ‌ وَلَئِنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏
    ترجمہ: اگر تم شکر گزار رہے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہو گا

    اگر ہم حقیقتاً دیکھیں تو ماں باپ کے بعد سب سے اعلی تربیت ایک استاد اور خاص کر عالم دین استاد ہی کر سکتا ہے اور یہی عالم دین انسان کو محدث،مبلغ،مفسر،مجاھد اور داعی بناتا ہے

    گزشتہ چند دن قبل 29 مئی 2023 کو پاکستان کے نامور اور بہت بڑے عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کا انتقال ہوا جو کہ پاکستان کے اہل علم اور خاص ہر علماء کے لئے ایک بہت بڑا خلاء چھوڑ گئے کہ جس کو پر ہونے میں وقت لگے گا
    حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش اپنے ننھیال میں قصور کی تحصیل پتوکی کے گاؤں گوہر چک میں 27 اگست 1946 کو ہوئی جبکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا آبائی گاؤں بھٹہ محمد تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے

    1966 میں آپ نے گجرانوالہ سے درس وتدریس کا آغاز کیا اور 1992 میں مرکز طیبہ مریدکے،ضلع شیخوپورہ کی بنیاد رکھی اور اسی مرکز کے بانی و مدیر مقرر کئے گئے اور تا دم مرگ اسی مرکز کے لئے خدمات سرانجام دیتے رہے
    اس مرکز سے ہزاروں شاگرد نا صرف اعلی پائے کے عالم بنے ہیں بلکہ بہت اچھے سائنسدان،سیاستدان، صحافی،وکیل،ڈاکٹر و دیگر اہم شعبوں پہ فائز ہوئے ہیں جو کہ حضرت مولانا عبدالسلام بن محمد بھٹوی کے شاگرد ہیں

    آپ ملک بھر کے 150 دینی مدارس کے نگران اعلیٰ بھی مقرر تھے مگر اس کے باوجود انتہاء کے عاجز و سادہ مزاج شخصیت کے مالک تھے بندہ ناچیز نے خود ان کو کئی بار دیکھا کہ مریدکے مرکز کے ایک سادہ سے گھر میں اپنے شاگردوں کے علاوہ اہلیان علاقہ و دیگر آنے والے لوگوں کو بڑی عاجزی سے دوائی دیتے تھے اور بار بار بابت دوائی و مسائل کے پوچھنے پہ بھی ہرگز غصہ نا کرتے تھے بلکہ بڑے پیار سے سمجھاتے تھے-

    آپ حکمت سے پیسے نا کماتے بلکہ گی سبیل اللہ دوائی دیتے تھے بسا اوقات ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ ان سے دوائی لینے آتے تھے حکمت کے ساتھ ہومیو پیتھک طریقہ علاج پہ بھی ان کو عبور حاصل تھا –

    آپ نے حکمت کی اعلی ڈگری فاضل نظریہ مفردات حاصل کی اور طب پہ عبور حاصل ہونے کے باوجود درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور درجنوں کتب لکھیں جن میں تفسیر القران ،بلوغ المرام،ترجمہ حصن المسلم ،ہم جہاد کیوں کرتے ہیں،اور مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا فتنہ، بڑی اہم کتب ہیں جن کو ہر مسلک کے لوگ پڑھتے ہیں-

    حضرت بھٹوی صاحب کی یہ خوبی بڑی اہم تھی کہ آپ تمام مسالک کو قریب کرتے تھے نا کہ ایک دوسرے پہ کفر و ارتداد کے فتوے لگاتے تھےاسی لئے تمام مسالک کے لوگ اور بلخصوص علماء کرام ان کی خاص عزت کرتے تھے –

    حضرت عبدالسلام بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ 2019 سے مجاھدین کی مالی معاونت کے الزام میں شیخوپورہ جیل کے زیر سایہ حراست میں قید کاٹ رہے تھے اور اسی دوران بخاری کی شرح بھی لکھ رہے تھے کہ خالق حقیقی کے بلاوے پہ دار فانی کوچ کر گئے،اناللہ واناالیہ راجعون اللھم اغفرلہ و ارحمہ آمین

    ان کی وفات سے ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا جو کہ وقت کے ساتھ بھر جائے گا انبیاء کے ورث حضرت بھٹوی رحمتہ اللہ علیہ نے کوئی جاگیر تو نہیں چھوڑی مگر علم کی صورت میں ہزاروں جید علمائے دین کی وراثت چھوڑی ہے ،شیخ الحدیث،مفسر قران و حدیث،مفکر اسلام اور مجاھدین کے استاد حضرت عبدالسلام بن محمد بھٹوی کا شمار اس صدی کے بڑے بڑے علماء میں ہوتا ہے، کہ جن کے ہزاروں جید عالم دین شاگرد ہیں آپ کے شاگردوں کے شاگرد اس وقت جید عالم دین ہیں-

    دعا ہے کہ جس طرح حضرت حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی نے دین اسلام کی خدمت کی ایسے ہی اللہ تعالی ان کی اولاد اور ان کے شاگردوں کو بھی دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

    آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک نظم کیساتھ اختتام تحریر کرتا ہوں یہ نظم غالباً 1991 کو شائع ہوئی تھی

    اپنے ارمان تو اس وقت ہی پورے ہونگے
    خلد میں جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ہو گی

    رات دن گر اپنے ہی درپے آزاد رہیں
    غیر کو کب کسی تکلیف کی حاجت ہوگی؟

    مشکلیں ڈال کے تو نے در رحمت کھولا
    کیا خبر تھی تیری مشکل بھی عنایت ہو گی

    ہر محلے میں کوئی صدر کوئی ناظم ھے
    سرخرو کیسے خلافت سے جماعت ہو گی؟

    بےبس و عاجز و مجبور کو داتا کہنا
    اس سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی ضلالت ھو گی؟

    بھیک غیروں سے حفاظت کی جو مانگیں ہر دم

    ایسے اشراف کی کیا خاک کرامت ہو گی؟؟

    نوجوان شوق شہادت سے ہیں سرشار مگر

    منتظر ہیں کہ بزرگوں سے اجازت ہو گی

    وضع و صورت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمہیں منظور نہیں
    کون سے منہ سے تمنائے شفاعت ہو گی؟

    جب فقیہانِ وطن سود کی تلقین کریں
    منتظر رہیے کہ جلد قیامت ہو گی

    بار سب جس سے گناہوں کے اتر جاتے ہیں
    میری قسمت میں بھی یارب وہ شہادت ہو گی

    نقش حرمین نگاہوں میں بسا رہتا ہے
    تیری رحمت سے ہی آئندہ زیارت ہو گی

    اپنے ارمان تو اس وقت ہی پورے ہونگے
    خلد میں جب کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت ہو گی

  • عالمی یوم صحافت،167 شہید صحافیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا

    عالمی یوم صحافت،167 شہید صحافیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا

    قصور
    ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کا 3 مئی یوم صحافت پہ صحافیوں سے اظہار تشکر، ضلع بھر سے تھانوں کی سطح پہ تعینات ہونے والے صحافیوں کو مبارکباد

    تفصیلات کے مطابق آج 3 مئی عالمی یوم صحافت کے موقع پہ ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے صدر و بانی سردار شریف سوہڈل،سینئیر نائب صدر پیر سید افضل حیدر شاہ،اشرف سانول نائب صدر قصور،ڈاکٹر غلام مصطفی نائب صدر کوٹ رادھا کشن ،ڈاکٹر عدیل احمد نائب صدر پتوکی،حکیم ابراہیم ظہیر نائب صدر چونیاں،جنرل سیکریٹری ارشد منیر چوہدری،فنانس سیکریٹری مہر محمد اکرم،سپریم کونسل ڈی پی سی و سینئر جرنلسٹ ملک عبدالعزیز ،سینئیر جرنلسٹ بابائے صحافت الحاج ڈاکٹر فضل رحیم،سردار سعید سوہڈل،نعیم اقبال بھلر،سینئر جرنلسٹ عمران علی نجفی،آفس سیکریٹری ڈی پی سی سید عابد حسین بخاری و دیگر نے صحافیوں سے اظہار تشکر کیا اور اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافی ریاست کا اہم ستون اور قیمتی اثاثہ ہیں اور صحافیوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت وقت کی ذمہ داری ہے
    ڈی پی سی عہدیداران نے کہا کہ 167 شہید صحافی اس قوم کے خاطر حق و سچ کی آواز بننے پہ شہید کئے گئے جن کا خون رائیگاں نہیں جائے گا
    نیز اس موقع پہ ضلع بھر سے تھانوں کے لئے منتخب ہونے والے کونسل ممبران صحافیوں کو مبارکباد پیش کی گئی
    تھانہ صدر قصور کے لئے غنی محمود قصوری ،تھانہ اے ڈویژن قصور کے لئے ایس ایم حنیف قصوری، بی ڈویژن قصور فیاض سندھو،تھانہ گنڈا سنگھ والا عمران علی نجفی،تھانہ کھڈیاں کے لئے دین محمد میو،تھانہ شیخم کے لئے یونس ظفر،سٹی چونیاں عبدالغفور انجم،صدر چونیاں،شہزاد مغل،عثمان حیات الہ آباد،مظہر کریم کوٹ رادھا کشن ،غلام رسول قصوری راجہ جنگ،ملک اصغر مصطفیٰ آباد ،ملک مدثر کھوکھر چھانگا مانگا،تنویر حسین سٹی پتوکی،حاجی ظفر اقبال صدر پتوکی،ملک شاہد سرائے مغل،عبدالغفور منڈی عثمانوالہ،احسان الہی ظہیر پھولنگر،اشرف طاہر صدر پھولنگر، اور رضوان سیف کو تھانہ کنگن پور کے لئے کونسل ممبر مقرر کیا گیا

  • ذاتی بغض و حسد کی خبریں کسی اور کے نام منسوب،تنبیہہ

    ذاتی بغض و حسد کی خبریں کسی اور کے نام منسوب،تنبیہہ

    قصور
    نجی چینل کے نمائندے سے منسوب جعلی خبریں پھیلانے والوں کے نام نمائندے کا پیغام

    تفصیلات کے مطابق قصور سے نمائندہ باغی ٹی وی غنی محمود قصوری کا کہنا ہے کہ
    میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ کاپی پیسٹر صحافی جو کہ خبر لگا کر ادارے یاں فرد کا سامنا نہیں کر سکتے، وہ اپنی خبر کے نیچے میرا ہیش ٹیگ ،قصوریات، لکھ کر وائرل کرتے ہیں تاکہ خود نظروں سے اوجھل رہیں

    ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ میں بفضل ربی نا تو کاپی پیسٹر صحافی ہوں اور نا ہی نقل مار کر خبر بنانے والا
    الحمدللہ میں ایک کالم نگار ہوں اور پاکستان و اسلام کے علاوہ پاکستان کے کئی مسائل پہ کالم لکھ چکا ہوں
    جس میں میں اداروں پہ تنقید بھی کی ہے اور مشورے بھی دیئے ہیں جو کہ میرے بلاگ کے علاوہ قومی اخبارات میں لگتے ہیں

    میری جو بھی خبر ہوتی ہے وہ باغی ٹی وی پہ لگائی جاتی ہے اور اسے اس کے لنک کے ساتھ شئیر کیا جاتا ہے

    اس کے علاوہ واٹس ایپ پہ بغیر باغی ٹی وی لنک کے میرے نام سے منسوب خبروں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے
    کچھ لوگ اپنا ذاتی حسد اور بغض دوسروں کے نام لکھ کر مجھ سے منسوب کر رہے ہیں

    میری ان صاحبان کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگر آپکی اوقات اتنی نہیں کہ کسی ادارے،فرد کے خلاف خبر لگا کر اپنا آپ ظاہر کر سکیں تو صحافت چھوڑ دیں
    خداراہ صحافت جیسے فریضے و پیشے کو بدنام نا کریں
    اگر آئندہ کسی نے میرے ہیش ٹیگ ،قصوریات، سے اپنی ذاتی کوئی خبر،تحریر وائرل کی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرونگا ان شاءاللہ

    شکریہ

    غنی محمود قصوری
    کالم نگار و ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی قصور
    بیورو چیف دعا نیوز قصور
    کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
    ممبر نیشنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان
    #قصوریات

  • غنی محمود قصوری کو گرین ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا

    غنی محمود قصوری کو گرین ایمبیسیڈر مقرر کیا گیا

    قصور
    دیو سیال جنگل بحالی تحریک قصور درختوں کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کیلئے متحرک،
    صحافی و سماجی کارکن غنی محمود قصوری کو تنظیم کا گرین ایمسبڈر مقرر کیا گیا

    تفصیلات کے مطابق
    دیوسیال جنگل بحالی تحریک قصور درختوں کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کیلئے متحرک ہے
    تنظیم کی جانب سے لوگوں میں درختوں کے فوائد بارے آگاہی دی جا رہی ہے
    تنظیم کا مقصد 1173 ایکڑز پر مشتمل دیو سیال جنگل کو اصل حالت میں محفوظ رکھنا اور جنگل میں نئے درخت لگانا ہے
    گزشتہ دن تنظیم
    کی جانب سے سماجی کارکن اور صحافی غنی محمود قصوری کو تنظیم کا گرین ایمبسڈر مقرر کیا گیا ہے
    غنی محمود قصوری ڈیجیٹل میڈیا باغی ٹی وی کے رپورٹر اور ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے رکن ہیں غنی محمود قصوری کا کہنا تھا کہ دیوسیال جنگل کی بحالی کے لیے ہمیشہ تیار ہے اور ملک کو سرسبز بنانے کے لیے جنگل،کھیت کھلیان و گلی محلوں میں شجرکاری وقت کی اشد ضرورت ہے دیوسیال جنگل بحالی تحریک قصور کے سینئر عہدیدار کامران اشرف نے ان کا خیر مقدم کیا اور امید کی کہ وہ تنظیم کیلئے پوری محنت اور لگن سے کام کریں گے

  • تحریک اللہ اکبر کے زیر سایہ روزانہ 10 ہزار افراد کیلئے سحر و افطار

    تحریک اللہ اکبر کے زیر سایہ روزانہ 10 ہزار افراد کیلئے سحر و افطار

    قصور
    تحریک اللہ اکبر پاکستان ضلع قصور کے زیرِ اہتمام ضلعی صدر حافظ ابو القاسم کے زیر سایہ روزانہ ضلع بھر میں 10 ہزار افراد کیلئے سحر و افطار کا انتظام،ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور میں روزانہ 4 سو افراد کی سحری و افطاری ،پورے ضلع میں سحر و افطار لوگوں کے گھروں میں پہنچائے جانے کا سلسلہ جاری

    تفصیلات کے مطابق تحریک اللہ اکبر پاکستان ضلع قصور کے زیر اہتمام ضلعی صدر حافظ ابوالقاسم کے زیر سایہ پورے ضلع میں 10 ہزار افراد کیلئے سحر و افطار کا انتظام کیا جاتا ہے
    ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور میں محمد ظفر راہنما تحریک اللہ اکبر سٹی قصور کے زیر سایہ روزانہ 4 سو افراد کی سحری و افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے اور مستحق و غریب افراد کے گھروں تک بھی کھانا پہنچایا جاتا ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ رمضان کے علاوہ ہسپتال میں فری دسترخوان لگایا جاتا ہے
    کنگن پور میں امجد شہزاد سٹی راہنما کے زیر سایہ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو ان کے گھروں میں کھانا پہنچایا جاتا ہے
    اسی طرح ٹی ایچ کیو چونیاں،پتوکی،بھائی پھیرو،کوٹ رادہاکشن،چھانگا مانگا و ضلع کے تمام شہروں دیہاتوں میں لوگوں کو سحر و افطار ان کے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے
    ضلعی صدر تحریک اللہ اکبر قصور حافظ ابوالقاسم کا کہنا ہے کہ ہم جذبہ خدمت انسانیت کے تحت یہ کام خالص اللہ کی رضا کی خاطر بغیر کسی ذاتی مفاد کے کر رہے ہیں اور یہ کام رمضان کے بعد بھی جاری رہے گ نیز غرباء و مساکین کیلئے عید پیکج تیار کیا جائے گا جس میں راشن اور نقدی مستحقین کے گھروں پہنچائی جائے گی تاکہ غریب افراد بھی عید کی خوشیاں دیکھ سکیں

  • تحریک اللہ اکبر پاکستان سٹی قصور کا ورکرز کنونشن

    تحریک اللہ اکبر پاکستان سٹی قصور کا ورکرز کنونشن

    قصور
    تحریک اللہ اکبر پاکستان سٹی قصور کا ورکرز کنونشن دیوان خاص میرج ہال میں ہوا،کثیر تعداد میں صحافیوں،وکلا،سول سوسائٹی اور اللہ اکبر تحریک کے کارکنوں نے شرکت کی

    تفصیلات کے مطابق تحریک اللہ اکبر پاکستان کا ورکز کنونشن دیوان خاص میرج ہال بھٹہ گوریانوالہ قصور میں ہوا
    جس میں سینئر جرنلسٹ قصور سعید احمد بھٹی،ہاشم بھٹی،غنی محمود قصوری،
    تحریک اللہ اکبر کے کارکنوں اور عہدیداروں عمر مغل،سرار فیصل اورنگزیب ،نعیم چوہدری،بشیر ورائچ،محمد
    مصطفی،سید بابر شاہ،وقار ڈوگر اور کثیر تعداد میں شہریوں نے شرکت کی
    کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اللہ اکبر تحریک ضلع قصور کے یوتھ ونگ کے سربراہ وقار ڈوگر نے کہا کہ ہمارا مقصد نوجوان نسل کو سیدھی راہ پر لانا ہے اور انہیں بھٹکنے نہیں دینا ہم نوجوانوں کی ہر طرح کی راہنمائی کرینگے
    امیدوار برائے ڈپٹی میئر تحصیل قصور سردار فیصل اورنگزیب نے کہا کہ ہم جیتیں یاں ہاریں ہم خدمت خلق کے کام پہلے بھی کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا
    نیز انہوں نے کہا کہ ہر پیر کا دن میں نے کچہری کیلئے مختص کیا ہوا ہے کسی بھی ہمارے جماعتی یاں غیر جماعتی کو کوئی بھی کام ہو وہ بھلا جھجھک مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے ان شاءاللہ ہر جائز کام کروایا جائے گا
    تحریک اللہ اکبر ضلع قصور کے سربراہ نعیم چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان شاءاللہ ہم خدمت انسانیت کی سیاست کرینگے جیسا کہ ہم ماضی میں خدمت خلق کے کام کرتے رہے ہیں ان شاءاللہ ان خدمت خلق کے کاموں کو مذید بڑھاینگے ہم نے مستحق لوگوں کے لئے فری دستر خوان شروع کئے ہیں جن کا دائرہ کار مذید وسیع کیا جا رہا ہے
    تحریک اللہ اکبر پاکستان کے سربراہ اور امیدوار برائے میئر ضلع قصور کے امیدوار سیف اللہ خالد قصوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد گالم گلوچ اور تنقید کی سیاست سے ہٹ کر اسلامی سیاست کرنا ہے جیسا کہ خلفاء راشدین نے کی ہے اور ہم اپنے کارکنوں کو کسی بھی صورت تنہاہ نہیں چھوڑے گے اور مظلوم کی مدد کرینگے اور ظالم کو ظلم سے روکے گے
    ان کا کہنا ہے کہ قصور کے تھانوں میں کسی کو کوئی جائز کام ہو تو ہمارے کارکنان ان کی مدد کرینگے اور ہسپتالوں میں ہمارے کارکنان ہر کسی کو بغیر امتیاز کے خون مہیا کر رہے ہیں اور کرتے بھی رہینگے نیز انہوں نے کہا کہ ان شاءاللہ ہم اقتدار میں آکر بیوہ ،یتیموں ،غریبوں کی خاص کفالت کرینگے اور نوجوانوں کیلئے نوکریوں کا بندوبست کرینگے تاکہ نوجوان نسل برسر روزگار ہوکر اپنے خاندان کا سہارا بنیں
    نیز پروگرام میں اللہ تحریک ضلع قصور کے بلدیاتی امیدواروں نے بھی خطاب کیا
    پروگرام میں شرکاء کو کھانا بھی کھلایا گیا

  • اقتدار میں آکر بیوہ،یتیموں ،غریوں کی خصوصی مدد کرینگے،سیف اللہ خالد

    اقتدار میں آکر بیوہ،یتیموں ،غریوں کی خصوصی مدد کرینگے،سیف اللہ خالد

    قصور
    تحریک اللہ اکبر پاکستان کے سربراہ سیف اللہ خالد نے کہا کہ اقتدار میں آکر بیوہ،یتمیوں اور غریبوں کی خصوصی مدد کرینگے اور ریلیف کے کام جاری رکھے گے

    تفصیلات کے مطابق کل بروز منگل سیف اللہ خالد قصوری نے دورہ قصور کیا جس میں انہوں نے نماز ظہر کے وقت قصور کے نواحی گاؤں موضع کلے والا میں ورکرز کنونشن سے خطاب کیا اور اس کے بعد نماز عصر کے وقت موضع اوراڑہ نو میں ورکرز کنونشن سے خطاب کیا اس کے بعد وہ موضع میر محمد خطاب کیلئے تشریف لے
    نمائندہ باغی ٹی وی قصور غنی محمود قصوری سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سیف اللہ خالد صدر تحریک اللہ اکبر پاکستان نے کہا کہ ہم اقتدار میں آکر بیوہ،یتیموں اور غریبوں کی خصوصی مدد کرینگے اور ریلیف کے کاموں کو نا صرف جاری رکھیں گے بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع کر دینگے
    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے غلط لوگوں کا انتخاب کیا جس کے باعث آج ملک کے یہ حالات چل رہے ہیں
    ان کا کہنا ہے کہ ملاں کی دوڑ مسجد تک ہی نہیں ہونی چائیے بلکہ قدیم زمانہ کی طرح آج کے ملاں کو بھی مسجد کو دعوت جہاد،ریلیف کے کاموں کا بیس کیمپ بنانا ہوگا اور دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی مسجد نبوی ایسے کاموں کا بیس کیمپ تھا جو کہ ہماری لئے ایک بہت بڑی مثال ہے

  • کشمیر و فلسطین کی آواز سے پریشان فیسبک انتظامیہ

    کشمیر و فلسطین کی آواز سے پریشان فیسبک انتظامیہ

    قصور
    کشمیر و فلسطین کی آواز سے پریشان فیسبک انتظامیہ افغانستان کی آواز بننے والے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹوں سے بیزار،کیمونٹی سٹینڈرڈ کی آڑ میں پابندیاں،اکاؤنٹ بلاک

    تفصیلات کے مطابق ماضی کی طرح موجودہ حالات فتح افغانستان و ذلت امریکہ پر فیسبک انتظامیہ دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹوں کے اکاؤنٹ بلا کر رہی ہے
    کشمیر و فلسطین کی آواز سے پریشان فیسبک انتظامیہ افغانستان کی آواز بننے والے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹوں کی آواز کو بھی دبانا چاہ رہی ہے تاکہ دنیا تک اصل بات نا پہنچ پائے
    فیسبک کے قیام 2007 سے ابتک فیسبک انتظامیہ کا رویہ دوغلا ہی رہا ہے جس پر کئی بار احتجاج بھی کیا جا چکا ہے تاہم وقتی پابندیاں ہٹا کر پھر اسی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے
    سوشل ایکٹیویسٹوں نے پاکستان گورنمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ فیسبک کی اس دوغلی پالیسی پر انٹرنیشنل فورم پر آواز بلند کی جائے