Baaghi TV

Tag: فائرنگ

  • امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا کے سکول میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، امریکی ریاست وسکونسن کے اسکول میں 15 سالہ طالبہ کی فائرنگ سے ٹیچر اور نوجوان طالب علم ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق وسکونسن کے ایک اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں اب تک ایک ٹیچر اور ایک طالب علم کی موت ہوچکی ہے جب کہ 6 زخمی افراد ہیں پولیس چیف کے مطابق ریاست وسکونسن کےاسکول میں فائرنگ کرنے والی اسکول طالبہ نکلی، 15 سالہ حملہ آور اسی اسکول کی طالبہ ہے جس نے بعد میں خود کو بھی گولی مارکر خودکشی کرلی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 15 سالہ طالبہ نٹالی رپناؤ نے اسکول ہال میں داخل ہو کر اچانک فائرنگ کردی، حملہ آور طالبہ نے خود کو بھی گولی مار کر خود کشی کرلی، پولیس نٹالی رپناؤ کے والد سے رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پولیس نے میڈیسن شہرکے اسکول میں فائرنگ کی جگہ سےہینڈگن برآمدکی ہے جب کہ قتل کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات اور حملہ آور کے خاندان سے بھی تفتیش جاری ہے، زخمیوں میں شامل 2 طلبہ کی حالت تشویشناک ہے اور 2کو اسپتال سےڈسچارج کردیاگیا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’”ناقابل قبول‘ قرار دیا اور گن کنٹرول قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • ڈیلاس ایئرپورٹ،طیارے کو گولی لگ گئی

    ڈیلاس ایئرپورٹ،طیارے کو گولی لگ گئی

    ڈیلس ایئرپورٹ سے پرواز کے دوران ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کے طیارے پر گولی لگی ہے

    واقعہ کے بعد ڈیلس پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کے طیارے کو گولی لگنے کا واقعہ پیش آیا جب وہ ٹیک آف کے لیے ڈیلاس لوو فیلڈ ایئرپورٹ سے روانہ ہو رہا تھا۔ حکام کے مطابق ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کے مطابق، گولی طیارے کے دائیں طرف، پائلٹ کے ڈیک کے نیچے لگی۔ طیارہ اس وقت ٹیک آف کے لیے رن وے پر روانہ ہو رہا تھا اور انڈیاناپولس کی جانب پرواز کرنے والا تھا۔خوش قسمتی سے، اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ طیارہ محفوظ طریقے سے واپس لوٹ آیا، جہاں تمام مسافروں کو اُتار لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ طیارے کے عملے نے فوری طور پر حفاظتی تدابیر اختیار کیں اور کسی قسم کے نقصان سے بچا گیا۔

    ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اس بات کی تصدیق کی کہ "ہم اپنے صارفین کو دوسرے فلائٹ پر سوار کر کے ان کی تکالیف دور کریں گے۔” مزید یہ کہ ایئرلائنز نے بتایا کہ "قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور طیارہ سروس سے ہٹا دیا گیا ہے۔”اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گولی کہاں سے فائر کی گئی یا طیارہ اس حملے کا ہدف تھا یا نہیں۔ ہفتہ کی صبح تک اس واقعے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔

    ڈیلاس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے سی این این کو بتایا کہ جب پولیس موقع پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ طیارے کو گولی لگ چکی تھی اور اس کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئیں۔وفاقی ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، بوئنگ 737-800 طیارہ گولی لگنے کے بعد "کاک پٹ کے قریب” متاثر ہوا تھا۔دوسری طرف، ایئرپورٹ حکام نے تصدیق کی کہ رن وے جو عارضی طور پر بند ہو گیا تھا، تحقیقات کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا، اور ایئرپورٹ آپریشنز پر معمولی اثر پڑا۔

    قبل ازیں دو برس قبل ایک خاتون نے ڈیلاس لوو فیلڈ ایئرپورٹ پر ہوا میں گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے وہاں افراتفری مچ گئی تھی۔ ڈیلس لوو فیلڈ ایئرپورٹ ڈیلس کے مرکز سے تقریباً 6 میل شمال مغرب میں واقع ہے اور بنیادی طور پر ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کی پروازیں یہاں سے روانہ ہوتی ہیں۔

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    چندہ ڈالیں گے لیکن پی آئی اے خریدیں گے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بشریٰ کا رونا اچھی حکمت عملی،گنڈا پور”نمونہ” پی آئی اے نہیں خرید رہے،عظمیٰ بخاری

    پی آئی اے کی بجائے اپنے فلیٹس بیچیں، شیخ رشید

    اسلام آباد ایئر پورٹ نواز شریف کے قریبی دوست کو دیا جا رہا، مبشر لقمان

    پی آئی اے نجکاری،صرف 10 ارب کی بولی، کیوں؟سعد نذیر کا کھرا سچ میں جواب

    پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی ختم

  • گجرات،گاڑی نہر میں گرنے سے دولہا اور سالی کی موت

    گجرات،گاڑی نہر میں گرنے سے دولہا اور سالی کی موت

    گجرات کے علاقے سرائے عالمگیر میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جس میں ایک شادی کی خوشیوں کے دوران دلہا اور اس کی سالی جاں بحق ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دلہا راجا اسامہ اپنی ولیمے کی تقریب کے بعد گاڑی میں سوار ہو کر واپس جا رہا تھا۔

    حادثہ سرائے عالمگیر کے علاقے بولانی میں پیش آیا، جہاں دلہا راجا اسامہ ولیمے کی تقریب کے بعد اپنی سالی اور دیگر خواتین کے ساتھ ایک گاڑی میں جا رہا تھا۔ اس دوران گاڑی کی زد میں آ کر یہ گاڑی سرائے عالمگیر کے قریب نہر میں جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں دلہا راجا اسامہ اور اس کی سالی مریم موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ریسکیو 1122 کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور دلہن سمیت تین خواتین کو زخمی حالت میں گاڑی سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ دلہا اور اس کی سالی کی لاشوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔دلہا اور اس کی سالی کی موت کی خبر سے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی، اور ان کے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔ شادی کے اس موقع پر یہ دلخراش حادثہ شادی کی خوشیوں کو غم میں بدل گیا۔

    دوسری جانب، حیدرآباد کے علاقے ٹنڈو جام میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کے دوران ایک لڑکی جاں بحق ہو گئی۔ یہ واقعہ 2 روز قبل پیش آیا، جب لڑکی کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی اور اسپتال میں دم توڑ دیا۔متاثرہ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی ایک آرٹسٹ تھی اور وہ شادی کی تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے آئی تھی۔ تاہم، اس دوران تقریب میں ہوائی فائرنگ کی زد میں آ کر وہ زخمی ہو گئی اور بعد ازاں دم توڑ گئی۔

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    ڈی آئی خان میں گولیاں چل گئیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کارشتے دارقتل

    پشاور: خیبرپختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے قریبی رشتہ دار ثقلین خان گنڈاپور جاں بحق ہوگئے۔

    واقعہ ڈی آئی خان کی تحصیل کلاچی میں پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ثقلین گنڈاپور کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔خاندانی ذرائع کے مطابق مقتول ثقلین گنڈاپور کے والد اسماعیل خان، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے رشتہ میں چچا ہیں۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے، اور پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔پولیس نے واقعے کے فوراً بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ ذاتی رنجش یا زمین کے تنازعے کے باعث ہو سکتا ہے، تاہم تحقیقات کے بعد ہی اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے قریبی رشتہ دار کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ واقعہ افسوسناک ہے اور ہم ہر ممکن اقدام اٹھا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔”اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور مقامی لوگ اس قتل کو ایک بڑے جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔پولیس کی ٹیموں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ قاتلوں تک پہنچا جا سکے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جس پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    کرم واقعہ،ایرانی صدر،ترجمان امریکی سفارتخانہ کی مذمت

    ترجمان امریکی سفارتخانہ جوناتھن لالی نے کرم میں ہولناک حملہ کی مذمت کی ہے

    ترجمان امریکی سفارتخانہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کرم میں ہونے والے ہولناک حملے کی مذمت کرتا ہے، ہم حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں،حملے میں درجنوں بے گناہ پاکستانی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ،ہماری ہمدردی اور تعزیت ان لوگوں کے خاندانوں اور پیاروں کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں، ہم زخمیوں کی مکمل اور جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں، پاکستان اپنے تمام شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا ہے،ہم اس مشکل وقت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں،

    کرم ایجنسی میں دہشت گردی، ایرانی صدر پزشکیان نے پاکستانی حکومت اور شہداء کے لواحقین سے تعزیت کی ہے،ایرانی صدر پزشکیان نے کرم ایجنسی میں دہشت گردی پر پاکستانی حکومت اور شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    کرم میں دہشت گردی کا واقعہ،روسی سفارتخانے کی مذمت
    روسی سفارت خانے نے بھی کرم ایجنسی میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کی ہے، روسی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کُرم میں شہریوں پر حملے کی خبر ہمارے لیے انتہائی افسوس کا باعث ہے، ہم کُرم میں سفاکانہ حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں،روسی سفارت خانے کے ترجمان نے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ہم تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

    کرم واقعہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا نوٹس، جرگے کو پھر سے فعال کرنے کا حکم
    ضلع کرم کے علاقہ اوچت میں مسافروں کی گاڑیوں پر مسلح افراد کے حملے کا واقعہ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نےاس گھناؤنے واقعے کا سخت نوٹس لیا اور شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،وزیر اعلیٰ نے صوبائی وزیر قانون، متعلقہ ایم این اے، ایم پی اے اور چیف سیکرٹری پر مشتمل وفد کو فوری طور پر کرم کا دورہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وفد کرم جاکر وہاں کے معروضی حالات کا خود جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے، کرم میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے پہلے والے جرگے کو پھر سے فعال کیا جائے، صوبے میں تمام شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لئے پراونشل ہائی ویز پولیس کے قیام پر کام کیا جائے،علاقے میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی حکومت پولیس اور تمام متعلقہ ادارے مل کر سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں، وزیر اعلی نےحملے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لئے مالی امداد کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، واقعے میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے،

    عوام پاکستان پارٹی کی جانب سے کُرم قتل عام کی شدید مذمت: اتحاد اورانصاف کا مطالبہ
    عوام پاکستان نے کُرم ایجنسی میں کم از کم 42 بے گناہ شہریوں کے ہولناک قتل عام کی بھرپور پر مذمت کی ہے۔عوام پاکستان پارٹی کے کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا یہ گھناؤنا عمل ناقابل معافی ہے اور یہ ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کی دردناک یاد دہانی ہے۔ہم متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ ذمہ داروں کی شناخت اور سزا کے ذریعے فوری انصاف کو یقینی بنانے، تنازعات والے علاقوں میں کمزور لوگوں کے لیے تحفظ کی ضمانت دینے، نفرت انگیز تقریر اور غیر حل شدہ مقامی تنازعات سمیت فرقہ وارانہ تشدد کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے، اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرے۔یہ سانحہ انتہا پسندی سے نمٹنے اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مذہبی انتہا پسندوں کی بیخ کنی کے لئے سیکورٹی پالیسی کی عدم مطابقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے لیے طویل المدتی پالیسی پر قومی اتحاد اور عمل کی ضرورت ہے چاہے کوئی بھی حکومت میں ہو۔ عوام پاکستان ایک ایسے پاکستان کے تصور میں یقین رکھتا ہے جہاں تمام شہری امن اور وقار کے ساتھ رہ سکیں۔

    سابق وفاقی وزیر ساجد حسین طوری نے لوئر کرم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی نااہلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کنوائی کے فیصلے پر عمل نہ کرنا قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا۔ انہوں نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ کمیشن واقعے کی وجوہات اور حکومتی و سیکیورٹی اداروں کے کردار کا جائزہ لے۔ ساجد حسین طوری نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے اور عوامی بے اعتمادی ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی۔ انہوں نے حکومت پر ٹھوس اقدامات کرنے پر زور دیا۔

    صوبائی اور وفاقی حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ کی اہلیت ہی نہیں رکھتیں،مولانا فضل الرحمان
    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ضلع کرم میں درجنوں افراد کے قتل پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ ضلع کرم دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع افسوس ناک ہے ۔واقعہ حکومت ،اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی ہے ۔صوبائی اور وفاقی حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ کی اہلیت ہی نہیں رکھتیں ۔آئے روز آپریشن کے فیصلے ہوتے ہیں لیکن دہشت گردی کسی کے قابو میں نہیں ۔ مقتولین کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں

    واضح رہے کہ ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں 42 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 7 خواتین شامل ہیں۔ واقعے میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے۔مرنے والوں میں پاراچنار پریس کلب کے جنرل سیکریٹری صحافی جنان حسین بھی شامل ہیں،جمعرات کی صبح ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار سے پشاور اور پشاور سے پاراچنار کے لیے 200 گاڑیوں پر مشتمل کانوائے روانہ ہوا تھا لیکن لوئر کرم کے علاقے مندوری اور اوچت میں مسافر گاڑیوں کے پہنچتے ہی مسلح افراد نے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔

    کرم واقعہ، خود غرض بیانیے،سچائی کہیں نظر نہیں آئے گی

    مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق 40 افراد کی میتیں پاراچنار پہنچادی گئیں، آج نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے واقعے کے خلاف پاراچنار میں سوگ کی فضا ہے اور تاجر برادری نے مکمل شٹر ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • ضلع کرم،مسافر گاڑیوں پر فائرنگ،اموات 38 ہو گئیں

    ضلع کرم،مسافر گاڑیوں پر فائرنگ،اموات 38 ہو گئیں

    خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 38 افراد کی موت ہو گئی ہے

    ضلع کرم میں پارا چنار سے پشاور جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر اوچت کے مقام پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں 38 افراد جاں بحق ہوگئے۔اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،پولیس حکام کے مطابق فائرنگ سے 3 خواتین سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا،واقعے کے بعد سکیورٹی حکام نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ضلع کرم جاوید اللہ محسود نے فائرنگ سے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

    پاراچنار سے پشاور جانے والی کانوائی میں شامل مسافر گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ،عینی شاہدین کے مطابق گاڑیوں پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی،پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے بعد متعدد ایمبولینس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار جائے وقوع پہنچ چکے ہیں جبکہ بگن چیک پوسٹ میں 30 سے زائد خواتین پناہ لئے امداد کا انتظار کر رہے ہیں ۔

    نہتے مسافروں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل ہے،صدر مملکت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع کُرّم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے،صدر مملکت نے کرم میں فائرنگ میں قیمتی جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ نہتے مسافروں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل ہے- معصوم شہریوں پر حملے کے ذمےداران کو کیفر کردار پہنچایا جائے،صدر مملکت نے زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی، ذمے داران کے خِلاف کاروائی کی ضرورت پر زور دیا .

    شرپسند عناصر جو معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں وہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں. وزیراعظم
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ضلع کرم میں شرپسندوں کی معصوم شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،وزیرِاعظم نے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور اہلِ خانہ کیلئے صبر کی دعا کی،وزیرِ اعظم نے حملے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،وزیرِاعظم نے حملہ آوروں کی نشاندہی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ ملک کے امن کے دشمنوں نے معصوم شہریوں کے قافلے پر حملہ کیا جو حیوانیت کے مترادف ہے. ملک دشمن عناصر کے وطن عزیز کے امن کو تباہ کرنے کی تمام تر مزموم کوششوں کو ناکام بنائیں گے. واقعے میں ملوث شر پسند عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں مثالی سزا دی جائے گی. تخریب کار ایسی بزدلانہ کاروائیوں سے بہادر پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے. شرپسند عناصر جو معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں وہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں.

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکے ،سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر
    سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ کے ضلع کرم اوچت(بگن)میں دہشتگردوں کی کانوائے پر فائرنگ کے نتیجے میں کم و بیش 38 افراد کی شہادت یا زخمی ہونے پر انتہائی افسردہ ہوں۔ دہشتگردی کی اس گھناونی واردات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم نے ضلع کرم اور پاراچنار کے حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو کئی پریس کانفرنسز، احتجاجات، میٹنگز اور پیغامات کے ذریعے خبردار کیا ہے لیکن کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی۔ صوبائی حکومت کی درجنوں میٹنگز اور کئی جرگے بھی اس ظلم کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ضلع کرم(پاراچنار) کا ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او تک بدلنے کے اختیارات نہیں رکھتے۔ افسوس؛ ہمارے سیکیورٹی ادارے معاملات کو حل کرنے کے بجائے، جنگ کی آگ کو بڑھکانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ پاراچنار اور ضلع کرم میں کشیدہ حالات کا فائدہ کس کو ہورہا ہے؟ کون سے عناصر ہیں جو پاراچنار میں امن نہیں چاہتے؟ میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو ایک مرتبہ پھر ہوش کے ناخن لینے کی انتباہ کرتا ہوں۔

  • چین:ووکیشنل اسکول میں چاقو  حملے میں8 افراد ہلاک اور 17 زخمی

    چین:ووکیشنل اسکول میں چاقو حملے میں8 افراد ہلاک اور 17 زخمی

    بیجنگ: چین کے ایک ووکیشنل اسکول میں چاقو حملے میں8 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق چاقو حملے میں ہلاکتوں کا واقعہ مشرقی جیانگسو صوبے کے ووکیشنل اسکول میں پیش آیا پولیس کے مطابق حملے میں 8 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے پولیس نے 21 سالہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور نوجوان ووکیشنل اسکول کا طالب علم تھا جو کہ امتحان میں ناکامی اور ڈپلومہ مکمل نہ ہونےکی وجہ سے مایوسی کا شکار تھا اس کے علاوہ مبینہ طور پر وہ اپنے انٹرن شپ معاوضے سے بھی مطمئن نہیں تھاحکام کی جانب سے مقتولین اور زخمیوں کے حوالے سےکوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 روز قبل ہی چین کے جنوبی صوبے گوانگڈونگ میں تیز رفتارگاڑی نے درجنوں لوگوں کو کچل دیا تھا جس سےکم ازکم 35 افرادہلاک اور 43 زخمی ہوگئے تھے چینی پولیس نے گاڑی کے 62 سالہ ڈرائیور کو گرفتار کرلیا تھا جس نے حادثے کے بعد چھریوں کے وار کرکے خود کو زخمی کرلیا ، 62 سالہ ڈرائیور اپنی طلاق کے بعد ناخوش تھا۔

  • معمولی تکرار پر شوہر نےبیوی اور 16سالہ بیٹے کو قتل کر دیا

    معمولی تکرار پر شوہر نےبیوی اور 16سالہ بیٹے کو قتل کر دیا

    خیبر پختونخوا میں شوہر نے فائرنگ کر کے بیوی اور 16سالہ بیٹے کو قتل کردیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ شبقدر کے علاقے دلہ ذاک میں پیش آیا جہاں فائرنگ سے ایک بچی زخمی بھی ہوئی۔ لاشوں اور زخمی بچی کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔فائرنگ کے بعد ملزم فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔پولیس کے مطابق گھر میں فائرنگ کا واقعہ معمولی تکرار پر پیش آیا۔واضح رہے کہ اکثر گھروں میں اہل خاندان کے درمیان جھگڑے جاری رہتے ہیں۔ یہ جھگڑے زیادہ تر نفسیاتی ہوتے ہیں۔ حقیقی معنوں میں ان کا کوئی مادی سبب نہیں ہوتا۔ لوگ اگر صبر و اعراض کی حکمت جان لیں تو اس قسم کے جھگڑے اپنے آپ ختم ہوجائیں۔ ہر گھر امن کا گھر بن جائے۔

    پاکستان نےسکھ یاتریوں کو 3000 سے زائد ویزے جاری کر دیے

    ٹھٹھہ: دھند کے باعث 6 گاڑیوں میں تصادم، 5 افراد جاں بحق، 12 زخمی

  • کراچی،سیکورٹی گارڈ کی فائرنگ سے دو غیر ملکی زخمی

    کراچی،سیکورٹی گارڈ کی فائرنگ سے دو غیر ملکی زخمی

    شہر قائد کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں فائرنگ سے دو غیر ملکی شہری زخمی ہو گئے

    واقعہ سائٹ ایریا کی ایک کمپنی میں پیش آیا، سیکورٹی گارڈ نے اچانگ گولیاں چلا دیں جس کی وجہ سے دو غیر ملکی شہری زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ سیکورٹی گارڈ کی کسی بات پر غیر ملکی شہری سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے بعد سیکورٹی گارڈ نے گولیاں چلا دیں،پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔زخمی ہونے والے دونوں چینی باشندوں کو لیاقت نیشنل اسپتال لے جایا گیا ہے۔ زیر علاج چینی باشندوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

    وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے واقعے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں،اور کہا ہے کہ سیکورٹی گارڈ کے حملے میں غیر ملکی شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعہ سے متعلق انکوائری کر کے حقائق کا پتہ لگایا جائے،انکوائری رپورٹ پر مشتمل تفصیلات اور پولیس کارروائی سے آگاہ کیا جائے۔

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ساؤتھ سید اسد رضا کا کہنا ہے کہ فیکٹری گارڈ نے جھگڑے کے بعد چینی شہریوں پر فائرنگ کی،انہوں نے فیکٹری کا نام نہیں بتایا اور نہ ہی واضح کیا کہ آیا چینی شہری وہاں کام کرتے تھے

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا