Baaghi TV

Tag: فرانس

  • فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    پریس :فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ،اطلاعات کے مطاق فرانس میں مینہ طور پر جہاد پر اکسانے ‘ممنوعہ تبلیغ’ کے الزام میں ایک مسجد کو بندکرنےکے احکامات جاری کردیے گئے۔

    فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق حکومت کی جانب سے شمالی فرانس کے علاقے بووے میں ایک مسجدکو اس کے امام کی ‘بنیاد پرست تبلیغ’ کے باعث بند کرنےکا حکم دیا گیا ہے۔

    خبرایجنسی کے مطابق مقامی حکام نے بتایا ہےکہ مذکورہ مسجد آئندہ 6 ماہ تک بند رہے گی کیونکہ مسجد میں دیےگئے خطبات نفرت اور تشددکو ہوا دیتے ہیں اور جہاد کا دفاع کرتے ہیں۔

    400 نمازیوں کی گنجائش والی اس مسجد کے حوالے سے کارروائی کا آغاز 2 ہفتے قبل ہوا تھا جب فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن نے کہا تھا کہ مذکورہ مسجد کے امام کی جانب سے خطبوں میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہم جنس پرستوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے اس لیے مسجد کو بند کرنے کی کارروائی شروع کی جارہی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق قانون کے مطابق مقامی حکام کو کسی بھی کارروائی سے قبل 10 روز تک اس حوالے سے معلومات جمع کرنا ہوتی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کو 2 روز میں بندکردیا جائےگا۔مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسجد کے امام ایک نومسلم ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا ہے۔

    مسجد انتظامیہ کے وکیل کا کہنا ہےکہ اس فیصلےکے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے جس پر 48 گھنٹوں کے دوران سماعت ہوگی۔

    خبرایجنسی کے مطابق مسجد انتظامیہ نے حکام کو بتایا ہےکہ مذکورہ امام خاص موقعوں پر ہی خطبے دیتے ہیں اور انہیں معطل کردیا گیا ہے،جب کہ حکام کا دعویٰ ہےکہ مذکورہ امام روز ہی مسجد میں موجود ہوتے ہیں۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ امام اپنے خطبات میں جہاد کو فرض قرار دیتے ہوئے ان ‘جنگجوؤں’ کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں جو مغرب کی مداخلت سے اسلام کا تحفظ کرتے ہیں اور امام کی جانب سے غیر مسلموں کو دشمن بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ سال فرانس کےایک اسکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس واقعے اور اسی سے متعلق دیگرحملوں کے خلاف فرانسیسی سیکولرازم کی کھل کر حمایت کی اور متنازع بیانات بھی دیے جس کے بعد فرانس کو دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور مصنوعات کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    بعد ازاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسلم رہنماؤں کو 15 روز کا الٹی میٹم دیا کہ وہ فرانس میں بنیاد پرستی کو روکنے کے لیے ‘میثاقِ جمہوری اقدار’ کو قبول کرلیں، میثاق کے مطابق اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے بجائے صرف مذہب سمجھا جائےگا۔

    اس کے بعد سے فرانس بھر میں مساجدکے خلاف کریک ڈاؤن اور تحقیقات کا نیا سلسلہ شروع کردیا گیا اور بنیاد پرستی پھیلانےکے الزام میں متعدد مساجد کو بند کیا جاچکا ہے۔

  • شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جو تبدیلیاں اور انقلاب آ چکا ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو پہلے ہی اپنی کئی ویڈیوز میں بتا چکا ہوں ہے لیکن آج میں آپ کو سعودی عرب میں جاری کچھ اندرونی سازشوں کے بارے میں بتاوں گا۔ کہ کیسے محمد بن سلمان زبردستی خود کو سعودی عرب کا بادشاہ تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی سازشیں کی جا رہی ہیں؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے تو اس وقت سعودی عرب کے اقتدار پر محمد بن سلمان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اس کے کئی ثبوت تو پوری دنیا نے دیکھ بھی لئے کہ کیسے سعودی عرب کی سرزمین پر Justin beiberاور سلمان خان کے میوزیکل کنسرٹ کروائے گئے۔ جن میں مختصر لباس پہنی ہوئی ڈانسرز سعودی عرب کے اس جھنڈے کو خود سے لپیٹ لپیٹ کر ڈانس کر رہی تھیں جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے علاوہ بھی جس طرح سے سعودی عرب میں سینما کھولے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے گئے، خواتین کو نوکری اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دی گئی، خواتین کے لئے حجاب کی پابندی ختم کی گئی، اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضا میں پرواز کی اجازت دی گئی۔ مغربی ممالک کے سیاحوں کیلئے ویزے کی شرائط میں تبدیلی اور نرمیاں کی گئیں۔ یہ سب وہ پالیسیز ہیں جو کہ شاہ سلمان کے نظریے کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کے پیچھے صرف اور صرف محمد بن سلمان کی آئیڈیالوجی ہے جو کہ وہ سعودی عرب میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس وقت تمام صدارتی اجلاسوں کی سربراہی، تمام عالمی وفود اور جو بھی معززین سعودی عرب کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ان کے استقبال سے لیکر، مملکت کے جتنے بھی اہم کام ہیں وہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہی ہورہے ہیں۔ سعودی شاہی عدالت کے معاملات اور رابطہ کاری بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر ہی ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی عدالت کے ساتھ رابطہ بھی اس وقت ایم بی ایس کے دفتر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ویسے تو جون 2017میں جب محمد بن سلمان کی تخت کے وارث کے طور پر تقرری ہوئی اس کے بعد سے ہی وہ ایک طرح سے سعودی عرب کا ڈی فیکٹو لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جس طرح سے شاہ سلمان پورے منظر نامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں تمام پالیسیاں بھی ان کے نظریات کے خلاف بنائی جا رہی ہیں تو اس بات میں کوئی شک ہی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کا بے تاج بادشاہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ مغربی میڈیا میں بھی رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں کہ شاہ سلمان کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا ہے کیونکہ جب سے کرونا پھیلنا شروع ہوا تھا اور شاہ سلمان کو کرونا کے ڈر سے نیوم سٹی شفٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک وہ وہاں پر ہی ہیں وہاں سے باہر تشریف نہیں لائے۔ جس کے بعد محمد بن سلمان خود پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔ان افواہوں کے درست ہونے میں چند دلائل یہ بھی ہیں کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی ریاض میں کسی غیر ملکی عہدیدار کیساتھ آخری ملاقات مارچ2020میں سابق برطانوی وزیر
    Dominik roabسے ہوئی تھی اور ان کا آخری بیرون ملک سفر عمان کا دورہ تھا جو انھوں نے جنوری2020میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کیلئے کیا تھا۔جبکہ سعودی حکام کی طرف سے شاہ سلمان کی اہم مواقعوں پر عدم موجودگی اور غیر حاضری کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ آپ خود سوچیں کہ ایک طرف جب شاہ سلمان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ شاہ سلمان بالکل خیریت سے ہیں لیکن جب حکومتی معاملات اور فیصلوں کی بات کی جاتی ہے تو شاہ سلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے کے شروع میں ہونے والی فرانسیسی صدرEmmanuel Macron
    سے ملاقات اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی قیادت کے بعد تو تمام کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اور اب تو یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاہ سلمان کے برعکس محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہیں۔ اور جلد ہی ان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی سامنے آسکتا ہے۔ یعنی اب سعودی عرب میں وہی ہو گا جو محمد بن سلمان چاہتا ہے شاہ سلمان اور ان کے نظریات اب ماضی کا قصہ بننے جا رہے ہیں۔
    ویسے تو شاہ سلمان کی غیر موجودگی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور کیونکہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اس لیے انہیں کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا اس بات سے یقین اٹھ گیا ہے کہ ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ صرف کرونا ہے۔ ویسے بھی جس طرح سے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان نے کئی سعودی شہزادوں کو قید میں ڈالا ہے یا ملک سے باہر فرار پر مجبور کیا ہے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ ہی خدشہ ہے کہ اس وقت شاہ سلمان کو دراصل قید یا نظر بند کیا گیا ہے تاکہ حکومتی معاملات مکمل طور پر ایم بی ایس کے قابو میں رہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن کھل کر اس مسئلے پر آواز اس لئے نہیں اٹھائی جا رہی کیونکہ سعودی عرب میں جو بھی محمد بن سلمان کے اقتدار کیخلاف آواز اٹھاتا ہے خواہ وہ شاہی خاندان سے ہو یا کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو اس کے نصیب میں قید لکھ دی جاتی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ یہ وہی محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے صرف تنقید کرنے پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں بےدردی سے قتل کروا دیا تھا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن سعودی عرب میں میڈیا آزاد نہ ہونے کی وجہ سے ایم بی ایس کے خلاف کبھی کوئی بھی آواز سامنے نہیں آتی۔ کوئی عالم دین محمد بن سلمان کی پالیسیزکو تنقید کا نشانہ بنائے تو چند لمحوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ سعودی حکام بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے ایم بی ایس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے ہیں۔یہاں تک کہ تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے محمد بن سلمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایسا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر ایک لمحے کی خبریں ایم بی ایس کو دی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی بغاوت سر نہ اٹھا سکے اور اس کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہاں تک تیاری مکمل ہے تو محمد بن سلمان نے ابھی تک اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیوں نہیں کروایا تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اسٹریٹجک اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ملاقات تو دور کی بات ہے یہاں تک کہ جوبائیڈن اور محمد بن سلمان کا ایک بار بھی ٹیلی فون پر رابطہ تک نہیں ہوا ہے۔ ورنہ شاہی عدالت تو خود کو محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار کرچکی ہے۔ اور محمد بن سلمان کے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شاہ سلمان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھوں بادشاہی کا تاج پہن لیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو شاہی خاندان کے اندر سے ہی بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی بادشاہت کا تاج محمد بن سلمان اپنے سر پر سجا چکے ہیں جس کا مظاہرہ پوری دنیا سعودی ولی عہد کے خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران دیکھ بھی چکی ہے کہ کیسے ان کا نیم شاہی استقبال کیا گیا اور کس طرح میڈیا نے اس کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بہت جلد اب سعودی عرب میں صرف وہی ہوگا جو کہ ایم بی ایس چاہے گا۔ اب سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں اور انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب اسلامی روایات اور تشخص جو سعودی عرب کی پہچان ہوا کرتا تھا اب وہ ملیا میٹ ہونے والا ہے جس کے بعد ایک نیا اور ماڈرن سعودی عرب دنیا کے سامنے ہو گا۔

  • امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    بیجنگ :امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ اطلاعات کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں چینی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں پر انتہائی تشویش ہے، ان کا ملک چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ میں امریکہ، برطانیہ ،فرانس اور آسٹریلیا کا ساتھ دے گا۔

    دنیا بھر میں انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں ایک عرصے سے چین میں مسلمانوں کےساتھ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث چین میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ بیجنگ میں ہونے والے اولپمکس گیمز میں پہلے امریکہ نے بائیکاٹ کا اعلان کیا توپھرامریکہ کی اطاعت میں فرانس نے بھی بائییکاٹ کا اعلان کردیا ہے

    فرانس کی طرف سے اولمپکس گیمز کے بائیکاٹ کے اعلان کوبہت اہمیت دی جارہی ہے ، چین نے اس حوالے سے فرانس کے رویے پرافسوس کا اظہار کیا ہے ، یاد رہےکہ چند دن پہلے چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

  • فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    فرانس میں ایک عمر رسیدہ شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی مسخ شدہ شدہ لاشیں اور گلہریوں اور چوہوں کی باقیات ملی ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر نائیس میں 81 سالہ ریٹائرڈ فرانسیسی شخص کی بھتیجی نے جانوروں کے تحفظ کی ایسوسی ایشن کو مردہ بلیوں کی موجودگی کے حوالے سے آگاہ کیا تھا بھتیجی کو مردہ بلیوں کے بارے میں تب معلوم ہوا جب اتوار کو ان کے انکل کو ہسپتال لے جانے کے بعد وہ ان کے گھر میں داخل ہوئیں۔

    پولیس اور جانوروں کے تحفظ کی تنظیم نے ریٹائرڈ زندگی گزارنے والے اس تنہا شخص کے گھر پر چھاپہ مارا تو 100 بلیوں مردہ حالت میں پایا جو زیادہ تر پلاسٹک اور لکڑی کے ڈبوں میں موجود تھیں جب کہ ایک بلی کی باقیات صوفے پر پڑی تھی جسے دیگر بلیوں نے چیر پھاڑ کر کھایا تھا-

    امریکی نوجوان مقتول دوست کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھمانے لے گئے

    جانوروں کے تحفظ کی تنظیم کے رہنما کا کہنا ہے کہ بلیوں کو موت کے بعد لکڑی اور پلاسٹک کے ڈبوں میں رکھا گیا تھا دو ڈبوں سے زندہ حالت میں بلیوں کو بحفاظت نکالا گیا جب ایک کتے کا جبڑا بھی ملا ہے گھر میں 20 سے زائد غذائی قلت کی شکار بلیاں بھی لاغر حالت میں موجود تھیں جنھیں جانوروں کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ جانوروں کے ساتھ غفلت برتنے اور بدسلوکی پر فرانسیسی شخص کے خلاف مجرمانہ الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

    جانوروں کے تحفظ کی تنظیم کے صدر فلیپ کے مطابق عمر رسیدہ شخص ذہنی بیماری ’نوح سنڈروم‘ نامی ذہنی بیماری کا شکار ہیں جس میں مریض کو بڑی تعداد میں جانور جمع کرنے کی عادت تو ہوتی ہے لیکن جانوروں کی بنیادی ضروریات کا خیال تک رکھنے کا احساس نہیں ہوتا۔

    فلم کے سیٹ پر فائرنگ جان بوجھ کر نہیں کی تھی ایلک بولڈون

    نوح سنڈروم کیا ہے؟

    نوح سنڈروم دراصل ڈائیو جنیز نامی سنڈروم کی ایک قسم ہےجس کی خصوصیات جانوروں کی زیادہ مقدار میں جمع ہوتی ہے۔ جو لوگ اس سنڈروم کا شکار ہیں وہ اپنے گھر میں سو سے زیادہ جانور جمع کرسکتے ہیں جس سے خود ، جانوروں اور گھر کے حالات کو شدید نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ، اس پیتھالوجی والے لوگ اس سے واقف نہیں ہیں کہ وہ اس سے دوچار ہیں ، جس کی وجہ سے اس کا راستہ مشکل ہوجاتا ہے-

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    اس عارضے کو نہ صرف ایک ذہنی صحت کے مسئلے کے طور پر تصور کیا گیا ہے ، بلکہ یہ صحت عامہ کی ایک پریشانی بھی ہے۔ یہ غور اس وجہ سے ہے کہ اس سے نہ صرف اس شخص کو متاثر ہوتا ہے جو اسے تکلیف دیتا ہے ، بلکہ خود جانوروں کو متاثر کرتا ہے، جو مناسب حالات میں نہیں رکھے جاتے ہیں اور ، آخر کار ، خرابی جو گھر میں ہوتی ہے انتہائی ناقص حفظان صحت. گھر میں بگاڑ جس میں جانوروں کی ضرورت سے زیادہ جمع ہوتا ہے باقی پڑوس کی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

    امریکہ میں ہالی ووڈ اداکارہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل

  • یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ

    یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ

    قطر:یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق یورپین ممالک نے افغانستان میں اپنا مشترکہ سفارتی مشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تائید فرانس کے اس بیان کے بعد ہوئی ہےجس میں کہا گیا ہےکہ فرانس کئی یورپی ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے کاخواہشمند ہے

    طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد دارالحکومت کابل میں امریکا اور یورپ سمیت کئی ممالک نے اپنے سفارتخانے بند کردیے ہیں تاہم پاکستان، چین اور روس سمیت چند ممالک کے سفارتخانے کام کررہے ہیں۔

    تاہم اب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس سمیت کئی یورپی ممالک کے افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے کا اشارہ دیا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سےگفتگو میں کہا کہ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے پر کام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں سکیورٹی مسائل کو حل کرنےکی ابھی بھی ضرورت ہے۔

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھاکہ افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔

  • حکمرانوں کو فرانس کی گستاخانہ جسارت کا بدلہ لینے کے لیے کس ہستی کے نقش قدم چلنا ہوگا

    حکمرانوں کو فرانس کی گستاخانہ جسارت کا بدلہ لینے کے لیے کس ہستی کے نقش قدم چلنا ہوگا

    04-02-2021
    لاہور( )تحریک لبیک یار سول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمدا شرف آصف جلالی نے ”یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ“ کے موقع پر کہا: قیامت تک نظام اسلام کا محور خلافت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہے۔ حکمرانوں کو فرانس کی گستاخانہ جسارت کا بدلہ لینے کے لیے حضر ت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کرکے تحفظ ختم نبوت کا طریقہ بتا دیا۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت بیک وقت سلاطین اور مقرّبین کیلئے درس گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ صرف خلیفہ راشد ہی نہیں تھے بلکہ دیگر خلفاء راشدین کے لیے رہبرورہنما بھی تھے۔آپ نے نظام مصطفی ٰ ﷺ کی قوّت سے تمام فتنوں کا مقابلہ کیا آپ نے نہایت گھمبیر حالات میں امت کو سہارا دیا اور دین مصطفی ٰ ﷺ کی حفاظت کا حق ادا کر دیا آپ کے خطبے خاندان رسول ﷺ کی محبت سے لبریز ہیں آپکی خلافت بلا فصل سے دیگر خلفائے راشدین نے بھی راہنمائی حاصل کی۔ جن حالات میں آپ نے ملّت کی کشتی کنارے پر لگائی وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت اور دین اسلام کے دفاع کیلئے آپکی خدمات تاریخ اسلام کا عظیم سہرا ہیں۔ملک میں قادیانی لابی کی بڑھتی ہوئی ارتدادی شرانگیزیاں تشویشناک ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دورہ خلافت حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ ملک سے الحادی اور گستاخانہ سوچوں کا خاتمہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روشن تعلیمات پر عمل پیر اہوکرہی کیا جاسکتا ہے

  • تمام مسالک کا یک جان ہو کر فرانس سے احتجاج

    تمام مسالک کا یک جان ہو کر فرانس سے احتجاج

    قصور
    قصور میں پرسوں 13 نومبر کا جمعہ المبارک ناموس رسالت کیلئے منایا جائے گا جس میں تمام مسالک یک جان ہو کر فرانس کے خلاف احتجاج کرینگے اور گورنمنٹ سے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کرینگے
    تفصیلات کے مطابق فرانس کی حالیہ گستاخی پر پوری عام دنیا سراپا احتجاج ہے پرسوں ضلع بھر میں 13 نومبر کا خطبہ جمعہ ناموس رسالت پر دیا جائے گا اس کے بعد سارے مسالک یک جان ہو کر فرانس کے خلاف اپنے اپنے علاقوں سے احتجاجی ریلیاں نکالیں گے جس میں گورنمنٹ آف پاکستان سے فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کرنے کیساتھ سرکاری طور پر فرانس سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائیگا واضع رہے تمام مسالک نے مشترکہ طور پر فرانس کے خلاف ریلیوں کا انعقاد کیا ہے

  • گستاخانہ خاکوں کے خلاف مسلم ممالک کا بائیکاٹ، توانائی، زراعت اور جنگی سامان صنعت کو خطرہ

    گستاخانہ خاکوں کے خلاف مسلم ممالک کا بائیکاٹ، توانائی، زراعت اور جنگی سامان صنعت کو خطرہ

    مسلم ممالک گستاخانہ خاکوں کیخلاف فرانسی سفیر
    کو ملک بدر اور مصنوعات کا بائیکاٹ کریں،متحدہ
    علماء محاذ

    حکمران اسلام کے نظام عدل کو نافذ و سیرت مصطفی ﷺ کو مشعل راہ بنائیں،پروفیسر حافظ محمد سلفی
    سیرت رسولؐ اسلامی اخوت و یکجہتی و استعمار کے خلاف بیداری کا درس دیتی ہے،مقررین وحدت امت سیمینار
    کراچی()متحدہ علماء محاذ پاکستان اور شبان غرباء اہلحدیث کے زیر اہتمام پروفیسر حافظ محمد سلفی کی زیر صدارت جامعہ ستاریہ میں وحدت امت سیرت مصطفی ﷺ کی روشنی میں تیسرے سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکرکے علماء،محاذ کے بانی مولانا محمد امین انصاری،علامہ عبدالخالق فریدی،شیخ الحدیث مفتی محمد انس مدنی، علامہ روشن دین الرشیدی، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی،علامہ سید سجاد شبیررضوی،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی ودیگر نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں ملک کے دفاع اور
    استحکام کے لئے سیرت نبویؐ سے سبق حاصل کیاجائے۔

    مسلم حکمران اسلام کے نظام عدل کو نافذ العمل و
    سیرت مصطفی ﷺ کو مشعل راہ بنائیں۔ نبی کریم ؐ کی تعلیمات امن،اخوت، محبت، صبر و تحمل،ایثار و قربانی، برداشت،باہمی رواداری،عدل و انصاف او رخوداحتسابی کی تعلیم دیتی ہے۔ فرقہ واریت،دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں نفاذ اسلام ہی ملک کو موجودہ سنگین درپیش مشکلات،چیلنجزسے نجات اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتاہے۔

    قرآن و سنت ہی پاکستان کا اٹل دستور و منشور و آئین ہے جس کی موجودگی میں ہمیں غیر شرعی مغربی جمہوریت اور سیکولر سمیت کسی نظام کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔سیرت رسولؐ اسلامی اخوت و یکجہتی و استعمار کے خلاف بیداری کا درس دیتی ہے۔پرامن اسلامی انقلاب پاکستان کا مقدرہے

  • پاکستان کا فرانس کے ساتھ بڑا معاہدہ طے پاگیا

    پاکستان کا فرانس کے ساتھ بڑا معاہدہ طے پاگیا

    اسلام آباد:حکومت پاکستان کا فرانس کیساتھ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے 50.2 میلن یورو کا معاہدہ طے پا گیا ، اس منصوبے کے تحت درگئی اور چترال کے ہائڈرو پاور پلانٹس کی بحالی اور ان کی قوت پیداوار کو بڑھانے کیلئے کام کیا جائے گا ،
    تفصیلات کے مطابق سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن نور احمد سے فرانس کے سفیر مارک بیرٹی نے ملاقات کی اور چترال اور مالا کنڈ کے ہائڈرو پاورپروجیکٹس کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے منصوبے پردستحط کیے گئے،
    یادرہے کہ درگئی اور چترال کے پاور پلانٹس گرین انرجی کا بہترین سورس ہیں اور ان سے علاقہ مکینوں کو سستی بجلی مہیا کی جا رہی ہے اور اگران پراجیکٹس کی بحالی کا منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوگیا تو نہ صرف قوت پیداوارمیں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں ترقی کے نئے راستے بھی کھلیں گے