Baaghi TV

Tag: فرانس

  • سکول میں حجاب پر پابندی ،اقوام متحدہ کی فرانس پر تنقید

    سکول میں حجاب پر پابندی ،اقوام متحدہ کی فرانس پر تنقید

    اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فرانس نے ملک میں حجاب پہننے والی مسلم خاتون کے اسکول جانے پر پابندی لگا کر بین الاقوامی حقوق کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے کہا کہ فرانس نے ایک خاتون پرحجاب پہننے پرپابندی عائد کرکے شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

    بھارت: حیدرآباد میں میونسپل اتھارٹیز کے عملے نے رات گئے مسجد کو شہید کردیا

    واضح رہے کہ فرانس میں خاتون پرسرپوش اوڑھنے کی بناپرایک تربیتی کورس کے دوران میں اسکول میں داخلے پرپابندی عائد کردی گئی تھی۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے کہا کہ اس اقدام سے شہری اورسیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور فرانسیسی اسکول نے ایک طرح سے اس معاہدے کو توڑ دیا ہے۔ کمیٹی کا یہ فیصلہ سنہ 2016 میں 1977 میں پیدا ہونے والی ایک فرانسیسی شہری کی جانب سے دائر کی گئی شکایت کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا وکیل نہیں چاہتا کہ اس کا نام شائع کیا جائے۔

    یہ خاتون 2010 میں بالغوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی کورس شریک ہونا چاہتی تھیں انھوں نے اس کورس کے لیے انٹرویو اور داخلہ کا امتحان پاس کیا تھا۔

    ایران جوہری معاہدہ: ایرانی ،یورپی اور امریکی نمائندے ویانا پہنچ گئے

    لیکن پیرس کے جنوب مشرقی مضافات میں واقع لانگیوین والن ہائی اسکول کے ہیڈماسٹر نےسرکاری تعلیمی اداروں میں مذہبی علامات پہننے پرپابندی کے قانون کی وجہ سے انھیں عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی کمیٹی نے کہا کہ خاتون کو ان کے جاری تعلیمی کورس میں حصہ لینے سے روکنا معاہدے کی خلاف ورزی ہےجبکہ سر پر اسکارف پہننا ان کی مذہبی آزادی کے حق پربھی پابندی ہے۔

    کمیٹی کا فیصلہ مارچ میں منظور کیا گیا تھا لیکن بدھ کو خاتون کے وکیل کو بھیجا گیا ہے خاتون کے وکیل کے وکیل سیفین گوئزگوئز نے اے ایف پی کوبتایا کہ یہ ایک اہم فیصلہ ہے جس سے ظاہرہوتا ہے کہ فرانس کوانسانی حقوق ،خاص طورپرمذہبی اقلیتوں اور بالخصوص مسلم کمیونٹی کے حقوق کے احترام کے معاملے میں کام کرنےکی ضرورت ہے-

    امریکا نے روسی صدر کی "گرل فرینڈ” سمیت دیگراہم روسی شخصیات پر نئی…

  • فرانس کے بیٹسمین نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

    فرانس کے بیٹسمین نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا

    پیرس :فرانس کے اوپننگ بیٹسمین گسٹاؤ میک کیون نے ٹی ٹوئنٹی میں سنچری بنا کر سب سے کم عمر کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔تفصیلات کے مطابق تیسرے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 یورپ سب ریجنل کوالیفائر ٹورنامنٹ میں فرانس اور سوئزرلینڈ کی ٹیم کے درمیان ہونے والے میچ میں یہ عالمی ریکارڈ بنا۔

    فرانسیسی اوپنر گسٹاؤ میک کیون نے 18 سال اور 280 دن کی عمر میں یہ اعزاز اپنے نام کیا اس سے قبل یہ ریکارڈ افغانستان کے اوپنر حضرت اللہ زازئی کے نام تھا جنہوں نے 162 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی تھی۔افغانستان کے حضرت اللہ زازئی نے 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف 62 گیندوں پر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

    اوپنر میک کیون نے جمہوریہ چیک کے خلاف بھی 54 گیندوں پر 76 رنز بنائے تھے، اس ٹورنامنٹ میں میک کیون رنز میں سب سے آگے ہیں ، انہوں نے 161 کے اسٹرائیک ریٹ اور 92.50 کی اوسط سے 185 رنز بنائے ہیں۔

    میک کیون کی اننگز نے جمہوریہ چیک کے خلاف 54 گیندوں پر 76 رنز بنائے، اور نوجوان ٹورنامنٹ میں رنز کے لیے سب سے آگے ہے، اس کے 161 کے اسٹرائیک ریٹ اور 92.50 کی اوسط سے 185 رنز بنائے۔

    اتفاق ہے کہ گسٹاؤ میک کیون شاندار سنچری کے باوجود اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے، فرانس یہ میچ ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری گیند پر میچ ہار گیا۔

  • جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والا افغانی گرفتار

    جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والا افغانی گرفتار

    پشاور: فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پشاور ائیرپورٹ سے جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے والے افغان مسافر کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ایف ائی اے امیگریشن کی باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی پاسپورٹ پر فرانس جانے کی کوشش کرنے والے افغان مسافر کو اف لوڈ کر کے گرفتار کرلیا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق احمد شیخ محمدی نامی افغان مسافر نجی ائیر لائین سے پشاور سے سفر کر رہا تھا جبکہ مسافر کا پاسپورٹ شک کی بنیاد پر امیگریشن افیسر نے شفٹ انچارج کو ریفر کیا ملزم کو مزید قانونی کارروائی کیلئے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور کے حوالے کردیا۔

    پشاور: افغان شہریوں کیلئے جعلی دستاویزات بنانے والا ملزم گرفتار


    واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا پشاورمیں ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے جعلی سفری دستاویزات بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا تھا-

    مصر میں بس سڑک پر کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی،22 افراد ہلاک،33 زخمی ،پاکستان کا اظہار افسوس

    وچ نہر پشاور میں واقع اسٹیشنری اینڈ فوٹو اسٹوڈیو پر چھاپہ کے دوران افغان شہریوں کیلئے جعلی سفری دستاویزات بنانے میں ملوث ملزم ہارون بادشاہ موقع پرگرفتارہواتھاملزم کےقبضے سےجعلی ڈومیسائل، شناختی کارڈز، لیپ ٹاپس، محکمہ صحت اورتعلیم کے جعلی سرٹیفکیٹ برآمدہوئے،ایف آئی نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر تے ہوئے تفتیش کا آغاز کردیا ہے ۔

  • رات کولائٹیں بند کرکےسویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر

    رات کولائٹیں بند کرکےسویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر

    پیرس:رات کولائٹیں بند کرکے سویا کریں:ملک میں توانائی کا شدید بحران آرہا ہے:فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس میں لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ رات کے وقت پبلک لائٹس بند کرنے کے لیے تیار رہیں،کیونکہ مُلک میں توانائی کا شدید بحران آچکا ہے

    فرانسیسی شہریوں کو اس توانائی بحران سے خبردار کرتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے اور مغربی ریاستوں کی پابندیوں کی وجہ سے توانائی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    میکرون نے کہا کہ یوکرائن کی جنگ کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے، فرانسیسیوں کو اپنے اخراجات کوکم سے کم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے

    فرانسیسی صدر نے جمعرات کو فرانس کی قومی تعطیل، باسٹیل ڈے کے موقع پر ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے ساتھ یہ جنگ جاری رہے گی جس کے مستقبل میں گھمبیراثرات مرتب ہوکررہیں گے

    عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ "روس توانائی کا استعمال کر رہا ہے، جیسا کہ وہ خوراک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے،” میکرون نے مزید کہا، "ہمیں خود کو اس منظر نامے کے لیے تیار کرنا چاہیے جہاں ہمیں روسی گیس کے بغیر جانا ہے۔”

    دوسری طرف کریملن نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو گیس یا تیل کو "سیاسی دباؤ کے ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ حکومت توانائی کے تحفظ کے لیے ایک "سوبریٹی پلان” تیار کرے گی، جس کا آغاز رات کے وقت پبلک لائٹس کو بند کرنے سے ہو گا

    صدر نے کہا کہ فرانس گیس کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے کوشاں رہے گا، موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے آف شور ونڈ فارمز کی طرف تیزی سے تبدیلی اور یورپی سرحد پار توانائی کے تعاون پر زور دیا۔

    میکرون کے انتہائی دائیں اور بائیں بازو کے سیاسی مخالفین نے یورپی یونین کی پابندیوں کو فرانسیسی صارفین کی قوت خرید کو کم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ، اس موقع پر فرانس کے صدر نے انٹرویو کے دوران یوکرین کی طرف پالیسی میں تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    میکرون نے کہا کہ ہم شام کی جنگ بھی جیت نہ پائے اب یوکرین کا محاذ کھل گیا ہے، آنے والے دنوں میں جنگ بندی کے آثار بہت کم دکھائی دیتے ہیں ، اس لیے احتیاطی تدابیرلازم ہیں‌

  • انو کپور نے کر دیا لوگوں کو ہوشیار، بولے فرانس میں جیب کترے بہت ہیں

    انو کپور نے کر دیا لوگوں کو ہوشیار، بولے فرانس میں جیب کترے بہت ہیں

    بھارتی شوبز انڈسٹر ی ایک بڑا نام انو کپور جو آج کل فرانس میں چھٹیاں منانے کےلئے گئے ہوئے ہیں گزشتہ دنوں نہوں نے انسٹاگرام پر ایک وڈیو شئیر کی جس میںانہو ں نے اپنے ساتھ ہوئے واقعہ کا زکر کرتے ہوئے فرانس آنے والوں کو خبر دار کیا ۔انو کپور نے کہا کہ فرانس میں میرا بیگ چور ی کر لیا گیا ہے اس میں بہت سارا فرینچ کیش اور یورو رکھے ہوئے تھے ،میرا آئی پیڈ ،ڈائری ،کریڈٹ کارڈ چور سب کچھ ہی چور ی کر کے لے گیا ۔انور کپور نے مزید کہا کہ آپ جب بھی فرانس میں آئیں تو بہت خیال رکھیں ایک نمبر کے جیب کترے ،مکار اور چور لوگ ہیں ۔ابھی پیرس میں جا کے پولیس سٹیشن میں کمپلین لکھواﺅں گا ۔یہاں ریلوے والوں نے تھوڑا سا سپورٹ کیا ہے اور بولا ہے کہ وہ میرے ساتھ بھی چلیں گے ۔

    لہذا جب بھی یہاں آئیں بہت چوکنے رہیں میرے ساتھ بہت بڑی ٹریجڈی ہو گئی ہے شکر ہے خدا کا کہ میرے پاس میرا پاسپورٹ تھا ورنہ و ہ بھی چور نے لے بھاگنا تھا۔یاد رہے کہ انو کپور آخری بار اگست 2021میں رومی جعفری کی فلم چہرے میں نظر آئے تھے ،جس میں ان کے ساتھ عمران ہاشمی اور امیتابھ بچن تھے ۔انو کپور نے تیزاب ،گھائل ،وکی ڈونر ،جولی ایل ایل بی ،جولی ایل ایل بی ٹو ،ڈر جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اس کے علاوہ ایک ریڈیو شو کرتے رہے جو بہت مشہورا ہو ا۔

  • فرانس نے مالی سے فوجی انخلاء شروع کر دیا۔

    فرانس نے مالی سے فوجی انخلاء شروع کر دیا۔

    پیرس :دنیا کی بڑی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے فرانس کو بھی محتاط رہنے پر مجبور کردیا ہے ، فرانس سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہےکہ فرانس اپنی فوجی قوت کو مجتمع کرنے کی کوشش کررہا ہے اوردنیا میں پھیلی ہوئی اپنی افواج کواکٹھا کررہا ہے ،

    اس حوالے سے فرانس کےجنرل سٹاف نے اعلان کیا کہ فرانس نے میناکا اڈہ مالی کی افواج کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی مالی سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے۔اس حوالے سے جنرل اسٹاف نے ٹویٹر پر کہا۔ کہ "منتقلی ایک منظم، محفوظ اور شفاف طریقے سے کی گئی۔ بارکھان آپریشن کے اس اہم عنصر پر توجہ مرکوز کریں جس نے تین بارڈرز اور جنوبی لپٹاکو کے علاقے میں سیکورٹی فراہم کی،”

    وزارت دفاع کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منتقلی اس فریم ورک کا حصہ ہے جو صدر ایمانوئل میکرون نے فروری میں مالی سے باہر بارکھانی فورس کو دوبارہ تشکیل دینے کے لیے ترتیب دیا تھا۔

    فرانس نے ایک اندازے کے مطابق 4,600 فوجیوں کو آپریشن بارکھان کے تحت تعینات کیا تھا جو 2014 میں جی 5 ممالک مالی، نائجر، برکینا فاسو، چاڈ اور موریطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    فرانسیسی افواج نے اب فوجی رسد کو میناکا سے 1,340 کلومیٹر (833 میل) دور نائجر میں نیامی کے پروجیکٹڈ ایئر بیس (BAP) پر منتقل کر دیا ہے، جہاں وہ ساحلی کے علاقے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    فرانسیسی فوج نے کہا کہ اس نے مقامی آبادی کے اہم بنیادی ڈھانچے، تعلیم، نوجوانوں اور صحت کے ترقیاتی منصوبوں میں کئی ملین یورو کی سرمایہ کاری کی ہے جس نے کارروائیوں کے لیے بارکھانی فورس کی مدد کی۔

    اپریل میں، فرانسیسی فوجیوں کی طرف سے گوسی میں ایک فوجی اڈہ حوالے کرنے کے بعد، مالی کی فوج نے فرانس پر الزام لگایا کہ فرانسیسی افواج نے مالیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا اورپھران کواجتماعی قبروں میں پھینک کرنشانات مٹانے کی کوشش کی لیکن فرانس نے ان الزامات کی تردید کردی

    فرانس کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کے پیش نطر مالی کی فوجی حکومت نے مئی میں فرانسیسی افواج (SOFA) کی حیثیت کو کنٹرول کرنے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کو منسوخ کر دیا اور فرانسیسی فوجیوں کے ساتھ ساتھ تکوبا کے ماتحت یورپی افواج کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

  • یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار

    یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار

    ماسکو:یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار،اطلاعات کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے بدھ کو کہا کہ ماسکو روسی ٹی وی چینلز پر پابندی کے فرانس کے فیصلے کا جواب دے گا۔

    یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلز – رشیا پلینٹ، روس 24، اور انٹرنیشنل ٹی وی سینٹر – پرپابندی کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے فرانس کو سخت پیغام بھیجا ہے وزارت کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا، "فرانسیسی حکام نے ایک بار پھر ‘آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے نظریات کو دبا کرخودغرضی کا مظاہرہ کیا ہے

    روس کون ہوتا ہےپوچھنے والا کہ نیٹوفن لینڈ اورسویڈن میں‌ جوہری ہتھیارنصب کرے گا

    روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ "یقیناً، ہم اس طرح کے غیر دوستانہ اقدامات کا جواب دینے کے لیے آپشنز تلاش کریں گے اور یقیناً جواب دیا جائے گا۔”وزارت نے یہ بھی ردعمل دیا کہ اگر مغرب نے روسی صحافیوں کو ستانا جاری رکھا تو روس اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے

    روسی ٹی وی چینلز پر لٹویا کی پابندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے زاخارووا نے اسے "میڈیا نسل کشی” قرار دیا۔ خاص طور پر، اس نے مقامی میڈیا واچ ڈاگ کے تمام روسی رجسٹرڈ ٹی وی چینلز کی نشریات پر پابندی کے فیصلے کا حوالہ دیا۔

    انہوں نے کہا، "ان میڈیا آپریٹرز کا قصور یہ ہے کہ ان کے پاس روسی دائرہ اختیار کے تحت میڈیا آؤٹ لیٹ کے طور پر لائسنس حاصل کررکھے تھے،” انہوں نے مزید کہا، "اس اقدام کے نفاذ سے ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی محروم ہو جاتی ہے۔ روسی زبان میں معلومات کے تقریباً تمام ٹیلی ویژن ذرائع تک رسائی۔”ایک بڑا مسئلہ بن کررہ جائے گا

    روس یوکرین جنگ، یوکرینی فورسز کا اہم روسی جنرل کی ہلاکت کا دعویٰ

    زاخارووا نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ واشنگٹن اس کے برعکس دعویٰ کرنے کے باوجود روسی صحافیوں کو ویزا جاری نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں توسیع کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ "ہم امریکی حکومتی اداروں اور عوام کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے تھے کہ امریکہ میں روسی میڈیا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

    روس نے 61 امریکی شہریوں پرسفری پابندیوں کی تصدیق کردی

    ترجمان نے مزید کہا کہ ماسکو میں امریکی صحافیوں کے لیے ایک کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں روس میں تسلیم شدہ تمام امریکی میڈیا کے بیورو کے سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا۔ انہیں امریکہ میں روسی صحافیوں کو درپیش تمام مشکلات کے بارے میں "نقطہ بہ نقطہ” بتایا گیا

  • یوکرین پر حملہ:پوتن نے تاریخی غلطی کی: فرانسیسی صدرمیکروں

    یوکرین پر حملہ:پوتن نے تاریخی غلطی کی: فرانسیسی صدرمیکروں

    پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے جمعے کو کہا کہ ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن نے یوکرین پر حملہ کر کے ایک ’تاریخی اور بنیادی غلطی‘ کا ارتکاب کیا ہے اور اب وہ ’تنہا‘ ہو چکے ہی-

    انہوں نے فرانسیسی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میرا خیال ہے اور میں نے انہیں (پوتن کو) بتایا کہ انہوں نے اپنے لوگوں، اپنے لیے اور تاریخ کے لیے ایک تاریخی اور بنیادی غلطی کی۔‘ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ تنہا ہو چکے ہیں۔

    خود کو تنہا کر لینا ایک چیز ہے، لیکن اس سے نکلنا ایک مشکل راستہ ہے۔‘ فرانسیسی صدر نے دہرایا کہ روس کی ’ذلت نہیں ہونی چاہیے تاکہ جس دن لڑائی رک جائے ہم سفارتی ذرائع سے باہر نکلنے کا راستہ ہموار کر سکیں۔‘ میکرون نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کیئف کے دورے کو مسترد نہیں کیا۔

    دوسری جانب ایک ایسے وقت پر جب یوکرین میں ماسکو کی کارروائی سے عالمی خوراک کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، صدر پوتن نے کہا کہ یوکرین سے اناج برآمد کرنے میں ’کوئی مسئلہ نہیں‘۔ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ یہ یوکرین کی بندرگاہوں کے ذریعے، دوسروں کے ذریعے روس کے زیر کنٹرول، یہاں تک کہ وسطی یورپ کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ پوتن نے مغرب پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین سے اناج کی برآمدات کو روک رہا ہے۔

    پوتن کو ڈاکٹروں نے ’صرف تین سال کا وقت‘ دیا ہے: جاسوس کا دعویٰ روسی رہنما نے بحیرہ ازوف پر یوکرینی بندرگاہوں ماریوپول اور برڈیانسک کے ذریعے برآمدات کے امکان کا ذکر کیا، جو بحیرہ اسود تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ دونوں روس کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیئف کے زیر کنٹرول بندرگاہیں، خاص طور پر اوڈیسا کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے زیر کنٹرول بندرگاہوں کے ارد گرد کے پانیوں کو بارودی سرنگوں سے ’صاف‘ کیا جائے۔ پوتن نے کہا کہ روس بدلے میں بحری جہازوں کو محفوظ راستے کی اجازت دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نقل و حمل کے دیگر اختیارات میں رومانیہ، ہنگری یا پولینڈ کے راستے دریائے ڈینیوب شامل ہیں۔

    ’لیکن سب سے آسان، سب سے آسان، سب سے سستا بیلاروس کے راستے برآمدات ہوں گی، وہاں سے کوئی بالٹک بندرگاہوں، پھر بحیرہ بالٹک اور پھر دنیا میں کہیں بھی جا سکتا ہے۔’ پوتن نے کہا کہ بیلاروس کے راستے کوئی بھی برآمدات ماسکو کے اتحادی منسک کے خلاف مغرب کی طرف سے ’پابندیوں کے خاتمے‘ سے مشروط ہوں گی۔

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • فرانس :ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گے

    فرانس :ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گے

    پیرس: ریال میڈرڈ اور لیورپول آج فائنل میں ٹکرائیں گےدنیا بھر میں موجود فٹ بال کے مداحوں کی نظریں آج فرانس کے اسٹیڈ ڈی فرانس اسٹیڈیم پر لگی ہوگی، جہاں دو تگڑے کلبز آج فتح اپنے نام کرنے کیلئے میدان میں اتریں گے۔

    فرانسیسی شہر پیرس میں ہونے والا فائنل ہسپانوی کلب ریال میڈرڈ اور انگلش کلب لیور پول کے درمیان ہوگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 5 سالوں کے درمیان لیور پول اور ریال میڈرڈ کی ٹیمیں دوسری بار فائنل میں مدمقابل آئیں گی۔

    فائنل میچ کے موقع پر 80 ہزار تماشائی اسٹیڈیم میں موجود ہونگے، جس میں 20 ، 20 ہزار سپورٹر اپنی اپنی ٹیموں کو سپورٹ کریں گے۔ میچ پیرس کے مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے شروع ہوگا۔

    ریال میڈرڈ اور لیور پول کے درمیان چیمپئنز فٹبال لیگ کے فائنل میں دونوں ٹیموں نے جیت کیلئے محمد صلاح اور کریم بینزما کی مہارت پر نظریں جما لی ہیں۔ چیمپئنز لیگ کی بات کی جائے تو ریال میڈرڈ اب تک 13 بار یہ ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہے، جب کہ لیور پول کو 6 بار یہ اعزاز حاصل ہوا۔

    دونوں ٹیموں کے مابین ہونے والے میچز میں ریال میڈرڈ نے 10 جب کہ لیور پول نے 8 گولز ایک دوسرے کے خلاف اسکور کیے۔ دونوں ٹیمیں سال 1981 میں پہلی بار مد مقابل آئی تھیں۔

    ہسپانوی کلب میں کریم بینزما ، جب کہ انگلش کلب میں محمد صالح اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور مداحوں کو بے صبری سے ان کی شاندار پرفارمنس کا انتظار ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فائنل میچ میں فٹ بال کے شائقین کو کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

    دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے سنسنی خیز مقابلہ 2017-18 میں ہوا، جس میں ریال میڈرڈ نے 3 ایک سے کامیابی اپنے نام کی۔ آخری مرتبہ ریال میڈرڈ نے بالترتیب 2016، 2017 اور 2018 میں ٹائٹل جیتا تھا جب کہ 19-2018 میں لیور پول نے ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

    اس وقت ریال میڈرڈ کی ٹیم کے پاس ان فارم کھلاڑی کریم بنزیما ہیں جو اس سیزن کے ٹاپ اسکورر ہیں۔

    انہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران 10 میچز کھیل کر 15 سے زائد گول اسکور کیے ہیں جن میں کوارٹر فائنل میں کیے گئے چار گول بھی شامل ہیں۔ لیور پول کی کارکردگی کا دارومدار اسٹرائیکر محمد صلاح کی فارم پر ہوگا جن کے آٹھ سے زائد گولز کی بدولت ان کی ٹیم کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔

    لیورپول ہی کے رابرٹو فرمینو نے بھی ایونٹ میں اب تک پانچ گول اسکور کیے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ٹیم کے مداح ساتویں ٹائٹل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

  • یومِ فتح پر روسی صدر کی تقریرطاقت، دھمکی اور جنگ کا اظہار تھی:فرانس

    یومِ فتح پر روسی صدر کی تقریرطاقت، دھمکی اور جنگ کا اظہار تھی:فرانس

    پیرس:فرانس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر ایمانوئیل میکرون نے دوسری عالمی جنگ میں نازی افواج کی شکست کی 77 ویں سالگرہ کے موقع پر منائے گئے روس کے یومِ فتح پر صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے کی گئی تقریر کو طاقت، دھمکی اور جنگ جیسے مؤقف کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔

    صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ یورپ کو اپنے ماضی سے سبق لیتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ اگر روس اور یوکرین امن مذاکرات کرتے ہیں تو کسی فریق کی تذلیل نہ کی جائے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق 9 مئی کو دو مختلف تصورات پیش کیے گئے۔ ایک طرف روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے طاقت کا مظاہرہ کرنے، ڈرانے دھمکانے اور جنگ جیسے مؤقف کا اظہار کیا تو دوسری طرف یورپی یونین عوام کی قیادت میں امن کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    صدر ایمانوئیل میکرون نے مزید کہا کہ اُنہیں یقین ہے کہ امن، استحکام اور خوشحالی کا یہ منصوبہ ہمیں جاری رکھنا چاہیے تاکہ ہم زیادہ جمہوری، زیادہ متحد اور زیادہ خود مختار رہ سکیں۔

    صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہمیں امن قائم کرنا ہوگا، ہمیں اس بات کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ پہلے ہمیں یہ کام یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ اس بات چیت کی شرائط بھی یوکرین اور روس کو ہی طے کرنا ہوں گی۔

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ یورپ اپنے ماضی سے سبق سیکھے۔ امن ان میں سے کسی ایک یا دوسرے کو نظرانداز کرنے یا خارج کرنے یا کسی کی تذلیل سے نہیں ہوگا جیسا کہ 1918ء میں جرمنی کے ساتھ ہوا تھا۔