Baaghi TV

Tag: فرانس

  • فرانس میں بھارتی یوم جمہوریہ کویوم سیاہ کے طورپرمنایا گیا،احتجاجی جلسہ بھی کیا

    فرانس میں بھارتی یوم جمہوریہ کویوم سیاہ کے طورپرمنایا گیا،احتجاجی جلسہ بھی کیا

    پیرس ( صاحبزادہ عتیق سے)فرانس میں بھارتی یوم جمہوریہ کویوم سیاہ کے طورپرمنایا گیا،احتجاجی جلسہ بھی کیا ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری 26جنوری بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے  طور پر مناتے ہیں، فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی جموں و کشمیر فورم فرانس نے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے ایک تقریب کا انعقاد کیا

    میزبان تقریب چیئرمین جموں وکشمیر فورم فرانس نعیم چوہدری تھے،اس موقع پر چیرمین نعیم چوہدری ،صدر مرزا خالق جرال سئنیر نائب صدر نوید غوث ،جنرل سیکڑی راشد جرال اور انکے ساتھیوں نے آنیوالے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا

    اس موقع پر چیئرمین جموں وکشمیر فورم فرانس نعیم چوہدری کا کہنا تھا کہ اس دن کو منانے کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بے گناہ کشمیریوں کی زیر حراست ہلاکتوں اور مسلسل مظالم کی طرف دنیا کی توجہ دلانا ہے ،

    قائم مقام صدر مسلم لیگ(ن) سردار ظہور احمد نے کہا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیری قوم کا احتجاج اس امر کا مظہر ہے کہ بھارت میں نہ تو حقیقی جمہوریت رائج ہے اور نہ ہی وہاں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں۔ صدر جموں وکشمیر فورم فرانس مرزا اخلاق جرال نے کہا کہ یوم سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیرقانونی اور غاصبانہ قبضے کی طرف دلانا ہے ،بانی پاکستان پریس کلب (رجسٹرڈ) فرانس صاحبزادہ عتیق الرحمن نے کہا کہ قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرکو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا۔75سال سے کشمیری حق خودارادیت کی جدوجہد کر رہے ہیں، لاکھوں بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں کی خواہشات کچلنے کے لیے تعینات کیا گیا،

    چئیرمین پاکستان مسلم لیگ(ن) فرانس راجہ علی اصغر نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار بھارتی حکومت نے کشمیر پر اپنا غیر قانونی اور نا جائز تسلط قائم کر رکھا ہے جبکہ غیر قانونی طور پر کشمیریوں کی سر زمین میں اپنی فوجیں داخل کر کے مارشل لاء نافذ کر کے بندوق کے زور پر جمہوریت کو پروان چڑھانے کی لاحاصل کو شش کی جا رہی ہے۔

    جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) شیخ وسیم اکرم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر چھائی ہوئی ظلم کی سیاہ رات بھی ان شا اللہ جلد ہی ختم ہو گی اور آزادی کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔ ان شا اللہ ! وہ دن ضرور طلوع ہوگا کہ جب جموں و کشمیر کے عوام اپنا یوم آزادی کسی خوف کے بغیر منائیں گے،فرانس کی معروف شخصیت چوہدری صفدر برنالی نے کہا ہے کہ بھارت کا یوم آزادی ہو یا یوم جمہوریت یا پھر کوئی اور خوشی کا دن.کشمیری عوام کے لیے بھارت کا ہر ایک خوشی و شادمانی کا قومی دن یوم سیاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔اور کیوں نہ ہوکہ جب کوئی قوم یا کوئی ملک نا جائز تسلط جما کر دوسری قوم یا ریاست کے عوام کو محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دے تو محکوم قوم کے مظلوم افراد ظالم کے خلاف سینہ سپر نہ ہوں، احتجاج نہ کریں تو پھر کیا کریں۔

    یوم سیاہ احتجاجی جلسہ کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض جنرل سیکرٹری جموں وکشمیر فورم فرانس راشد رضا جرال نے ادا کئے ،انہوں نے کہا کہ نام نہاد جمہوریت کا دعویدار بھارت میں سرعام جمہوری اقدار کی پامالی کرتے ہوئے سکھوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے حقوق کو سرعام غصب کررہا ہے بلکہ نیچ ذات کے ہندو بھی استحصالی طبقہ کی چیرہ دستیوں سے کسی بھی طرح محفوظ نہیں ہیں۔

    یوم سیاہ احتجاجی جلسہ میں مسلم لیگ ن فرانس ، تحریک انصاف فرانس ، پاکستان پریس کلب پیرس فرانس ، پاکستان بزنس فورم فرانس ، ہیومن رائٹس کمیشن ، ادارہ منہاج القرآن فرانس ، انجمن فلاح دارین فرانس ، پوٹھوہار ایسوسی ایشن فرانس ، کرائی ایسوسی ایشن فرانس و دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں نے شرکت کی۔ پ
    اس موقع پر تحریک آزادی کشمیر اور شہد ائےکشمیر کے لئےدُعا بھی مانگی گئی۔یوم سیاہ کی تقریب فرانس آزاد کشمیر اور پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں ، پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے شرکت کی ۔

  • کورونا وبا:پاکستان میں 5 ہزار سے زائد جبکہ فرانس میں 5 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ

    کورونا وبا:پاکستان میں 5 ہزار سے زائد جبکہ فرانس میں 5 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ

    اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا کے وار تیزی سے جاری، پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 15 افراد جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 51 ہزار 63 کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید 5 ہزار196 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا اور نزلے پر قابو پانے کے لئے کیپسول تیار

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 13 لاکھ 86 ہزار 348 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار 137 ہو گئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 10.17 فیصد رہی۔

    پشاور میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 454 کیسز رپورٹ،20 فیصد شرح ریکارڈ، کورونا مثبت کیسز کی شرح4.5 فیصد سے زائد ریکارڈ جبکہ 3 اموات رپورٹ ہوئیں-

    اومی کرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں،مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی،اقوام متحدہ

    دوسری جانب فرانس میں پہلی مرتبہ 24 گھنٹے میں 5 لاکھ سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں 24 گھنٹے میں 364 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ مجموعی اموات کی تعداد ایک لاکھ 29 ہزار 386 ہو گئی ہیں فرانس میں اس وقت کسی بھی بڑے یورپی ملک میں روزانہ انفیکشن کی سب سے زیادہ شرح ریکارڈ کر رہا ہے، پچھلے ہفتے کے دوران اوسطاً 3 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فرانس بھر میں 30 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کی وجہ سے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جو نومبر 2020 سے کورونا سے بیمار ہونے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    کوویڈ ویکسین کی معیاد ختم ہونے سے متعلق تمام خبریں جھوٹی ہیں،جھوٹوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

    فرانس میں اب کورونا وائرس کی منفی رپورٹ دکھانا لازمی نہیں ہو گی، اگر آپ کو تفریحی مقامات میں جانا ہےتو ویکسین کی دونوں ڈوز لگوانے کا ثبوت دینا ہوگا فرانس کی 77 فیصد سے زیادہ آبادی کو کوویڈ ویکسین کے دو شاٹس دئیے جا چکے ہیں۔

    فرانس موجودہ لہر سے کس طرح ابھرتا ہے اسے اپریل کے صدارتی انتخابات میں اہم سمجھا جارہا ہے، جس میں صدر ایمانوئل میکرون کے انتخاب میں حصہ لینے کی بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی ہے تاہم انہوں نے ابھی تک اپنی امیدواری کا اعلان نہیں کیا ہے۔

    برطانیہ کا کورونا پابندیوں میں نرمی کا اعلان

  • روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    ماسکو: روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان،اطلاعات کے مطابق روس نے جنوبی کریمیا میں نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی فوج کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ تقریباً 6000 فوجیوں اور کم از کم 60 لڑاکا طیاروں پر مشتمل لائیو فائر ڈرلز کے عنوان کے تحت فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا، یونٹ وسیع پیمانے پر کاموں کو سرانجام دینے کی مشق کریں گے۔

    مشقیں ہر قسم کی ہوا بازی، میزائل ڈویژن، بحری بیڑے اور کیسپین فلوٹیلا کے جہاز گروپوں پر مشتمل ہوں گی۔ مشقوں کو جنگی تیاریوں کو جانچنے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ جس کی وجہ کریمیا پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسیوں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    واضح رہے یہ مشقیں روس سے الحاق شدہ کریمیا اور جنوبی روستوف اور کراسنودار کے علاقوں میں ہوں گی۔ اس بابت بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے کہ اوپر بیان کی گئی مشقیں کب تک جاری رہیں گی۔

    یاد رہے مغرب روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے یوکرائن کی سرحد پر لگ بھگ100,000 فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔ فوجیوں کی تشکیل نے سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔

  • فرانس :کین شہرمیں یہود مخالف بیان کے الزام میں مسجد بند کر دی گئی

    فرانس :کین شہرمیں یہود مخالف بیان کے الزام میں مسجد بند کر دی گئی

    پیرس:اسلاموفوبیا: فرانس کے شہر کین میں یہود مخالف بیان کا الزام لگا کر مسجد کو بند کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن نے مسجد کی بندش پرجاری بیان میں کہا کہ کین کی مسجد کو یہود مخالف بیانات دینے پر بند کیا گیا ہے۔ مسجد نے حکومت کی جانب سے کالعدم کی گئی دو تنظیموں کی حمایت کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔

    اسرائیل میں ایرانی بھرتی کی کوشش دہشت گردی، عوام ہوشیاررہیں، بینیٹ

    دو ہفتے قبل پیرس کے شمالی علاقے میں امام مسجد کے خطبے کو بنیاد پرست قراردے مسجد کو 6 ماہ کیلئے بند کر دیا گیا تھا-

    2020 میں فرانس کے ایک اسکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس واقعے اور اسی سے متعلق دیگرحملوں کے خلاف فرانسیسی سیکولرازم کی کھل کر حمایت کی اور متنازع بیانات دیے تھے جس کے بعد فرانس کو دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور مصنوعات کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    بھارت کے بعد اسرائیلی فوج میں خواتین اہلکاروں سے جنسی زیادتی رواج پاگیا

    بعد ازاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسلم رہنماؤں کو 15 روز کا الٹی میٹم دیا کہ وہ فرانس میں بنیاد پرستی کو روکنے کے لیے ‘میثاقِ جمہوری اقدار’ کو قبول کرلیں، میثاق کے مطابق اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے بجائے صرف مذہب سمجھا جائےگا۔

    لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    تب سے فرانس میں مساجدکے خلاف کریک ڈاؤن اورتحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور بنیاد پرستی پھیلانےکے الزام میں متعدد مساجد کو بند کردیا گیا ہے جبکہ فرانس میں 70 مساجد کو بنیاد پرستی کے زمرے میں رکھا گیا ہے فرانس میں مساجد اور نماز ہالز کی مجموعی تعداد 2623 ہے۔

  • فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    پریس :فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ،اطلاعات کے مطاق فرانس میں مینہ طور پر جہاد پر اکسانے ‘ممنوعہ تبلیغ’ کے الزام میں ایک مسجد کو بندکرنےکے احکامات جاری کردیے گئے۔

    فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق حکومت کی جانب سے شمالی فرانس کے علاقے بووے میں ایک مسجدکو اس کے امام کی ‘بنیاد پرست تبلیغ’ کے باعث بند کرنےکا حکم دیا گیا ہے۔

    خبرایجنسی کے مطابق مقامی حکام نے بتایا ہےکہ مذکورہ مسجد آئندہ 6 ماہ تک بند رہے گی کیونکہ مسجد میں دیےگئے خطبات نفرت اور تشددکو ہوا دیتے ہیں اور جہاد کا دفاع کرتے ہیں۔

    400 نمازیوں کی گنجائش والی اس مسجد کے حوالے سے کارروائی کا آغاز 2 ہفتے قبل ہوا تھا جب فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن نے کہا تھا کہ مذکورہ مسجد کے امام کی جانب سے خطبوں میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہم جنس پرستوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے اس لیے مسجد کو بند کرنے کی کارروائی شروع کی جارہی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق قانون کے مطابق مقامی حکام کو کسی بھی کارروائی سے قبل 10 روز تک اس حوالے سے معلومات جمع کرنا ہوتی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کو 2 روز میں بندکردیا جائےگا۔مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسجد کے امام ایک نومسلم ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا ہے۔

    مسجد انتظامیہ کے وکیل کا کہنا ہےکہ اس فیصلےکے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے جس پر 48 گھنٹوں کے دوران سماعت ہوگی۔

    خبرایجنسی کے مطابق مسجد انتظامیہ نے حکام کو بتایا ہےکہ مذکورہ امام خاص موقعوں پر ہی خطبے دیتے ہیں اور انہیں معطل کردیا گیا ہے،جب کہ حکام کا دعویٰ ہےکہ مذکورہ امام روز ہی مسجد میں موجود ہوتے ہیں۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ امام اپنے خطبات میں جہاد کو فرض قرار دیتے ہوئے ان ‘جنگجوؤں’ کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں جو مغرب کی مداخلت سے اسلام کا تحفظ کرتے ہیں اور امام کی جانب سے غیر مسلموں کو دشمن بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ سال فرانس کےایک اسکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس واقعے اور اسی سے متعلق دیگرحملوں کے خلاف فرانسیسی سیکولرازم کی کھل کر حمایت کی اور متنازع بیانات بھی دیے جس کے بعد فرانس کو دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور مصنوعات کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    بعد ازاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسلم رہنماؤں کو 15 روز کا الٹی میٹم دیا کہ وہ فرانس میں بنیاد پرستی کو روکنے کے لیے ‘میثاقِ جمہوری اقدار’ کو قبول کرلیں، میثاق کے مطابق اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے بجائے صرف مذہب سمجھا جائےگا۔

    اس کے بعد سے فرانس بھر میں مساجدکے خلاف کریک ڈاؤن اور تحقیقات کا نیا سلسلہ شروع کردیا گیا اور بنیاد پرستی پھیلانےکے الزام میں متعدد مساجد کو بند کیا جاچکا ہے۔

  • شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے

    شاہ سلمان قید میں، محمد بن سلمان بے تاج بادشاہ بن گئے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں جو تبدیلیاں اور انقلاب آ چکا ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو پہلے ہی اپنی کئی ویڈیوز میں بتا چکا ہوں ہے لیکن آج میں آپ کو سعودی عرب میں جاری کچھ اندرونی سازشوں کے بارے میں بتاوں گا۔ کہ کیسے محمد بن سلمان زبردستی خود کو سعودی عرب کا بادشاہ تسلیم کروانے پر بضد ہے۔ بادشاہت حاصل کرنے کے لئے کیسی کیسی سازشیں کی جا رہی ہیں؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے تو اس وقت سعودی عرب کے اقتدار پر محمد بن سلمان کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے اس کے کئی ثبوت تو پوری دنیا نے دیکھ بھی لئے کہ کیسے سعودی عرب کی سرزمین پر Justin beiberاور سلمان خان کے میوزیکل کنسرٹ کروائے گئے۔ جن میں مختصر لباس پہنی ہوئی ڈانسرز سعودی عرب کے اس جھنڈے کو خود سے لپیٹ لپیٹ کر ڈانس کر رہی تھیں جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔ اس سے علاوہ بھی جس طرح سے سعودی عرب میں سینما کھولے گئے، خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کئے گئے، خواتین کو نوکری اور اکیلے سفر کرنے کی اجازت دی گئی، خواتین کے لئے حجاب کی پابندی ختم کی گئی، اسرائیلی طیاروں کو سعودی عرب کی فضا میں پرواز کی اجازت دی گئی۔ مغربی ممالک کے سیاحوں کیلئے ویزے کی شرائط میں تبدیلی اور نرمیاں کی گئیں۔ یہ سب وہ پالیسیز ہیں جو کہ شاہ سلمان کے نظریے کے بالکل الٹ ہیں۔ ان کے پیچھے صرف اور صرف محمد بن سلمان کی آئیڈیالوجی ہے جو کہ وہ سعودی عرب میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس وقت تمام صدارتی اجلاسوں کی سربراہی، تمام عالمی وفود اور جو بھی معززین سعودی عرب کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں ان کے استقبال سے لیکر، مملکت کے جتنے بھی اہم کام ہیں وہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں ہی ہورہے ہیں۔ سعودی شاہی عدالت کے معاملات اور رابطہ کاری بھی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر ہی ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ شاہی عدالت کے ساتھ رابطہ بھی اس وقت ایم بی ایس کے دفتر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ویسے تو جون 2017میں جب محمد بن سلمان کی تخت کے وارث کے طور پر تقرری ہوئی اس کے بعد سے ہی وہ ایک طرح سے سعودی عرب کا ڈی فیکٹو لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب جس طرح سے شاہ سلمان پورے منظر نامے سے مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں تمام پالیسیاں بھی ان کے نظریات کے خلاف بنائی جا رہی ہیں تو اس بات میں کوئی شک ہی گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی کہ محمد بن سلمان اس وقت سعودی عرب کا بے تاج بادشاہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ مغربی میڈیا میں بھی رپورٹس شائع کی جا رہی ہیں کہ شاہ سلمان کو مکمل طور پر غیر فعال کرکے محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکہ یہاں تک بھی چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں کہ محمد بن سلمان نے اپنے والد کو قید میں ڈال دیا ہے کیونکہ جب سے کرونا پھیلنا شروع ہوا تھا اور شاہ سلمان کو کرونا کے ڈر سے نیوم سٹی شفٹ کیا گیا تھا اس کے بعد سے اب تک وہ وہاں پر ہی ہیں وہاں سے باہر تشریف نہیں لائے۔ جس کے بعد محمد بن سلمان خود پورے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا ہے۔ان افواہوں کے درست ہونے میں چند دلائل یہ بھی ہیں کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز کی ریاض میں کسی غیر ملکی عہدیدار کیساتھ آخری ملاقات مارچ2020میں سابق برطانوی وزیر
    Dominik roabسے ہوئی تھی اور ان کا آخری بیرون ملک سفر عمان کا دورہ تھا جو انھوں نے جنوری2020میں سلطان قابوس کی موت پر تعزیت کیلئے کیا تھا۔جبکہ سعودی حکام کی طرف سے شاہ سلمان کی اہم مواقعوں پر عدم موجودگی اور غیر حاضری کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جا رہی۔ آپ خود سوچیں کہ ایک طرف جب شاہ سلمان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ شاہ سلمان بالکل خیریت سے ہیں لیکن جب حکومتی معاملات اور فیصلوں کی بات کی جاتی ہے تو شاہ سلمان کہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے علاوہ اسی مہینے کے شروع میں ہونے والی فرانسیسی صدرEmmanuel Macron
    سے ملاقات اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی قیادت کے بعد تو تمام کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اور اب تو یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ شاہ سلمان کے برعکس محمد بن سلمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہیں۔ اور جلد ہی ان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی سامنے آسکتا ہے۔ یعنی اب سعودی عرب میں وہی ہو گا جو محمد بن سلمان چاہتا ہے شاہ سلمان اور ان کے نظریات اب ماضی کا قصہ بننے جا رہے ہیں۔
    ویسے تو شاہ سلمان کی غیر موجودگی کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ وہ ماسک پہننے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں اور کیونکہ وہ لوگوں سے ہاتھ ملانے اور گرمجوشی سے سلام کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اس لیے انہیں کورونا وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اضافی احتیاط برتی جا رہی ہے۔ لیکن ان کی مکمل غیر موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا اس بات سے یقین اٹھ گیا ہے کہ ان کے منظر عام پر نہ آنے کی وجہ صرف کرونا ہے۔ ویسے بھی جس طرح سے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان نے کئی سعودی شہزادوں کو قید میں ڈالا ہے یا ملک سے باہر فرار پر مجبور کیا ہے تو زیادہ تر لوگوں کو یہ ہی خدشہ ہے کہ اس وقت شاہ سلمان کو دراصل قید یا نظر بند کیا گیا ہے تاکہ حکومتی معاملات مکمل طور پر ایم بی ایس کے قابو میں رہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن کھل کر اس مسئلے پر آواز اس لئے نہیں اٹھائی جا رہی کیونکہ سعودی عرب میں جو بھی محمد بن سلمان کے اقتدار کیخلاف آواز اٹھاتا ہے خواہ وہ شاہی خاندان سے ہو یا کوئی عالم ہی کیوں نہ ہو اس کے نصیب میں قید لکھ دی جاتی ہے۔ آپ کو یاد دلا دوں کہ یہ وہی محمد بن سلمان ہیں جنہوں نے صرف تنقید کرنے پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں بےدردی سے قتل کروا دیا تھا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں اس کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا تھا لیکن سعودی عرب میں میڈیا آزاد نہ ہونے کی وجہ سے ایم بی ایس کے خلاف کبھی کوئی بھی آواز سامنے نہیں آتی۔ کوئی عالم دین محمد بن سلمان کی پالیسیزکو تنقید کا نشانہ بنائے تو چند لمحوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ سعودی حکام بھی اپنی نوکری بچانے کیلئے ایم بی ایس کی ہاں میں ہاں ہی ملاتے ہیں۔یہاں تک کہ تمام معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لئے محمد بن سلمان نے پورے ملک میں جاسوسی کا ایسا نیٹ ورک پھیلایا ہوا ہے جس کے ذریعے ہر ایک لمحے کی خبریں ایم بی ایس کو دی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی بھی بغاوت سر نہ اٹھا سکے اور اس کو پہلے ہی کچل دیا جائے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یہاں تک تیاری مکمل ہے تو محمد بن سلمان نے ابھی تک اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیوں نہیں کروایا تو اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ سعودی عرب کے سب سے اہم اسٹریٹجک اتحادی امریکی صدر جو بائیڈن نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ملاقات تو دور کی بات ہے یہاں تک کہ جوبائیڈن اور محمد بن سلمان کا ایک بار بھی ٹیلی فون پر رابطہ تک نہیں ہوا ہے۔ ورنہ شاہی عدالت تو خود کو محمد بن سلمان کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار کرچکی ہے۔ اور محمد بن سلمان کے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح شاہ سلمان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھوں بادشاہی کا تاج پہن لیں ورنہ دوسری صورت میں ان کو شاہی خاندان کے اندر سے ہی بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب کی بادشاہت کا تاج محمد بن سلمان اپنے سر پر سجا چکے ہیں جس کا مظاہرہ پوری دنیا سعودی ولی عہد کے خلیجی ممالک کے دوروں کے دوران دیکھ بھی چکی ہے کہ کیسے ان کا نیم شاہی استقبال کیا گیا اور کس طرح میڈیا نے اس کو وسیع پیمانے پر کوریج دی۔ اس کے بعد کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بہت جلد اب سعودی عرب میں صرف وہی ہوگا جو کہ ایم بی ایس چاہے گا۔ اب سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں اور انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ دن دور نہیں جب اسلامی روایات اور تشخص جو سعودی عرب کی پہچان ہوا کرتا تھا اب وہ ملیا میٹ ہونے والا ہے جس کے بعد ایک نیا اور ماڈرن سعودی عرب دنیا کے سامنے ہو گا۔

  • امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ

    بیجنگ :امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ فرانس کے بعد کینیڈا کا بھی بیجنگ اولمپکس کا بائیکاٹ اطلاعات کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’ہمیں چینی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں پر انتہائی تشویش ہے، ان کا ملک چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بیجنگ میں سرمائی اولمپکس 2022 کے سفارتی بائیکاٹ میں امریکہ، برطانیہ ،فرانس اور آسٹریلیا کا ساتھ دے گا۔

    دنیا بھر میں انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں ایک عرصے سے چین میں مسلمانوں کےساتھ بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث چین میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ بیجنگ میں ہونے والے اولپمکس گیمز میں پہلے امریکہ نے بائیکاٹ کا اعلان کیا توپھرامریکہ کی اطاعت میں فرانس نے بھی بائییکاٹ کا اعلان کردیا ہے

    فرانس کی طرف سے اولمپکس گیمز کے بائیکاٹ کے اعلان کوبہت اہمیت دی جارہی ہے ، چین نے اس حوالے سے فرانس کے رویے پرافسوس کا اظہار کیا ہے ، یاد رہےکہ چند دن پہلے چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

  • فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    فرانس میں ایک عمر رسیدہ شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی مسخ شدہ شدہ لاشیں اور گلہریوں اور چوہوں کی باقیات ملی ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شہر نائیس میں 81 سالہ ریٹائرڈ فرانسیسی شخص کی بھتیجی نے جانوروں کے تحفظ کی ایسوسی ایشن کو مردہ بلیوں کی موجودگی کے حوالے سے آگاہ کیا تھا بھتیجی کو مردہ بلیوں کے بارے میں تب معلوم ہوا جب اتوار کو ان کے انکل کو ہسپتال لے جانے کے بعد وہ ان کے گھر میں داخل ہوئیں۔

    پولیس اور جانوروں کے تحفظ کی تنظیم نے ریٹائرڈ زندگی گزارنے والے اس تنہا شخص کے گھر پر چھاپہ مارا تو 100 بلیوں مردہ حالت میں پایا جو زیادہ تر پلاسٹک اور لکڑی کے ڈبوں میں موجود تھیں جب کہ ایک بلی کی باقیات صوفے پر پڑی تھی جسے دیگر بلیوں نے چیر پھاڑ کر کھایا تھا-

    امریکی نوجوان مقتول دوست کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھمانے لے گئے

    جانوروں کے تحفظ کی تنظیم کے رہنما کا کہنا ہے کہ بلیوں کو موت کے بعد لکڑی اور پلاسٹک کے ڈبوں میں رکھا گیا تھا دو ڈبوں سے زندہ حالت میں بلیوں کو بحفاظت نکالا گیا جب ایک کتے کا جبڑا بھی ملا ہے گھر میں 20 سے زائد غذائی قلت کی شکار بلیاں بھی لاغر حالت میں موجود تھیں جنھیں جانوروں کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ جانوروں کے ساتھ غفلت برتنے اور بدسلوکی پر فرانسیسی شخص کے خلاف مجرمانہ الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

    جانوروں کے تحفظ کی تنظیم کے صدر فلیپ کے مطابق عمر رسیدہ شخص ذہنی بیماری ’نوح سنڈروم‘ نامی ذہنی بیماری کا شکار ہیں جس میں مریض کو بڑی تعداد میں جانور جمع کرنے کی عادت تو ہوتی ہے لیکن جانوروں کی بنیادی ضروریات کا خیال تک رکھنے کا احساس نہیں ہوتا۔

    فلم کے سیٹ پر فائرنگ جان بوجھ کر نہیں کی تھی ایلک بولڈون

    نوح سنڈروم کیا ہے؟

    نوح سنڈروم دراصل ڈائیو جنیز نامی سنڈروم کی ایک قسم ہےجس کی خصوصیات جانوروں کی زیادہ مقدار میں جمع ہوتی ہے۔ جو لوگ اس سنڈروم کا شکار ہیں وہ اپنے گھر میں سو سے زیادہ جانور جمع کرسکتے ہیں جس سے خود ، جانوروں اور گھر کے حالات کو شدید نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ، اس پیتھالوجی والے لوگ اس سے واقف نہیں ہیں کہ وہ اس سے دوچار ہیں ، جس کی وجہ سے اس کا راستہ مشکل ہوجاتا ہے-

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    اس عارضے کو نہ صرف ایک ذہنی صحت کے مسئلے کے طور پر تصور کیا گیا ہے ، بلکہ یہ صحت عامہ کی ایک پریشانی بھی ہے۔ یہ غور اس وجہ سے ہے کہ اس سے نہ صرف اس شخص کو متاثر ہوتا ہے جو اسے تکلیف دیتا ہے ، بلکہ خود جانوروں کو متاثر کرتا ہے، جو مناسب حالات میں نہیں رکھے جاتے ہیں اور ، آخر کار ، خرابی جو گھر میں ہوتی ہے انتہائی ناقص حفظان صحت. گھر میں بگاڑ جس میں جانوروں کی ضرورت سے زیادہ جمع ہوتا ہے باقی پڑوس کی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

    امریکہ میں ہالی ووڈ اداکارہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل

  • یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ

    یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ

    قطر:یورپی ممالک کا افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق یورپین ممالک نے افغانستان میں اپنا مشترکہ سفارتی مشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تائید فرانس کے اس بیان کے بعد ہوئی ہےجس میں کہا گیا ہےکہ فرانس کئی یورپی ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے کاخواہشمند ہے

    طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد دارالحکومت کابل میں امریکا اور یورپ سمیت کئی ممالک نے اپنے سفارتخانے بند کردیے ہیں تاہم پاکستان، چین اور روس سمیت چند ممالک کے سفارتخانے کام کررہے ہیں۔

    تاہم اب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس سمیت کئی یورپی ممالک کے افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے کا اشارہ دیا ہے۔

    فرانسیسی صدر نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صحافیوں سےگفتگو میں کہا کہ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنے پر کام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں سکیورٹی مسائل کو حل کرنےکی ابھی بھی ضرورت ہے۔

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھاکہ افغانستان میں مشترکہ سفارتی مشن کھولنےکا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔

  • حکمرانوں کو فرانس کی گستاخانہ جسارت کا بدلہ لینے کے لیے کس ہستی کے نقش قدم چلنا ہوگا

    حکمرانوں کو فرانس کی گستاخانہ جسارت کا بدلہ لینے کے لیے کس ہستی کے نقش قدم چلنا ہوگا

    04-02-2021
    لاہور( )تحریک لبیک یار سول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمدا شرف آصف جلالی نے ”یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ“ کے موقع پر کہا: قیامت تک نظام اسلام کا محور خلافت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہے۔ حکمرانوں کو فرانس کی گستاخانہ جسارت کا بدلہ لینے کے لیے حضر ت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کرکے تحفظ ختم نبوت کا طریقہ بتا دیا۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت بیک وقت سلاطین اور مقرّبین کیلئے درس گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ صرف خلیفہ راشد ہی نہیں تھے بلکہ دیگر خلفاء راشدین کے لیے رہبرورہنما بھی تھے۔آپ نے نظام مصطفی ٰ ﷺ کی قوّت سے تمام فتنوں کا مقابلہ کیا آپ نے نہایت گھمبیر حالات میں امت کو سہارا دیا اور دین مصطفی ٰ ﷺ کی حفاظت کا حق ادا کر دیا آپ کے خطبے خاندان رسول ﷺ کی محبت سے لبریز ہیں آپکی خلافت بلا فصل سے دیگر خلفائے راشدین نے بھی راہنمائی حاصل کی۔ جن حالات میں آپ نے ملّت کی کشتی کنارے پر لگائی وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت اور دین اسلام کے دفاع کیلئے آپکی خدمات تاریخ اسلام کا عظیم سہرا ہیں۔ملک میں قادیانی لابی کی بڑھتی ہوئی ارتدادی شرانگیزیاں تشویشناک ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دورہ خلافت حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ ملک سے الحادی اور گستاخانہ سوچوں کا خاتمہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روشن تعلیمات پر عمل پیر اہوکرہی کیا جاسکتا ہے