Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے  خودکشی کر لی

    فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے خودکشی کر لی

    غزہ میں معصوم فلسطینیوں کو بلڈوزر سے کچلنے والے اسرائیلی فوجی نے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی، 40 سالہ ایلیران میزراہی کو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد غزہ میں تعینات کیا گیا تھا ،ا اور اسے ڈی 9 بلڈوزر چلانے کا کام سونپا گیا، غزہ میں زخمی ہونے کے بعد اسے علاج کے لیے واپس بلالیا گیا تھا-

    باغی ٹی وی : امریکی نشریاتی ادارے سی این این سےگفتگو کرتے ہوئے اہلخانہ نے بتایا کہ غزہ سے واپس آنے کے بعد اس کی شخصیت بالکل بدل گئی وہ جنگ کی ہولناکی کے صدمے میں چلا گیا اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کا شکار ہوگیا، اس سے پہلے کہ اسے دوبارہ واپس محاذ پر تعینات کیا جاتا اس نے اپنی جان ہی لے لی۔

    اس کی ماں جینی میزراہی نے سی این این کو بتایا کہ وہ غزہ سے نکل گیا، لیکن غزہ اس سے نہیں نکلا اور اس کے بعد وہ صدمے کی وجہ سے مر گیا، جب وہ غزہ سے واپس آیا تو اکثر اپنے گھر والوں کو بتاتا تھا کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس میں سے "نظر نہ آنے والا خون” نکل رہا ہے، اس کی بہن نے اپنے بھائی کی موت کا ذمہ دار اسرائیلی فوج کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس فوج کی وجہ سے اور اس جنگ کی وجہ سے میرا بھائی مرگیا، شاید وہ گولی یا راکٹ سے نہیں مرا، لیکن وہ ایک نظر نہ آنے والی گولی سے مر گیا،اس نے غزہ میں بہت سے لوگوں کو مرتے دیکھا اور شاید خود بھی اس نے بہت سے لوگوں کا قتل کیا ہوگا۔

    پاکستان میں سب سے پہلے آصفہ بھٹو کو پولیو ویکسین پلائی گئی،بلاول بھٹو

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی Ma’ale Adumim بستی میں رہنے والی جینی نے کہا، "وہ نہیں جانتے تھے کہ ان (فوجیوں) کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائےفوجیوں نے کہا کہ جنگ بہت مختلف تھی انہوں نے ایسی چیزیں دیکھی جو اسرائیل میں کبھی نہیں دیکھی گئیں۔

    اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ جب میزراہی چھٹی پر تھا، وہ غصے، پسینے، بے خوابی اور سماجی انحطاط کا شکار تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس کے ساتھ غزہ میں تھے کہ وہ کیا کر رہا ہے اس کی بہن، شیر نے سی این این کو بتایا، "وہ ہمیشہ کہتا تھا، کوئی نہیں سمجھے گا کہ میں نے کیا دیکھا ہے۔”

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہزاروں فوجی جنگ سے متعلق پی ٹی ایس ڈی اور دیگر ذہنی امراض میں مبتلا ہیں تاہم فوج نے خودکشیاں کرنے والے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار فراہم نہیں کیے لڑائی سے واپس آنے والے ایک تہائی سے زیادہ اسرائیلی فوجی دماغی صحت کے مسائل سے دوچار ہوچکے ہیں۔

    ملائیشیا: 27 سال سروس کے دوران ایک بھی چھٹی نہ کرنے والا 70 سالہ ملازم

    اس کے فوجی دوست زکین نے بتایا کہ غزہ میں ہم نے بہت مشکل کام کیے جنہیں قبول کرنا بہت مشکل ہے، زندہ اور مردہ سینکڑوں فلسطینیوں کو اپنے بلڈوزروں سے کچلا، اتنا زیادہ خون خرابا اور لاشیں دیکھیں کہ اب گوشت کھانا ہی چھوڑ دیا کیونکہ گوشت دیکھ کر غزہ کے وہ مناظر اور فلسطینی شہدا کے جسد خاکی یاد آتے جنہیں اپنے بلڈوزر سے روندا تھا، راتوں کی نیند اڑ گئی اور دھماکوں کی آوازیں سونے نہیں دیتیں-

    غزہ میں چار ماہ تک تعینات رہنے والے ایک اسرائیلی فوجی طبیب نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا ہم میں سے بہت سے فوجی حکومت پر بھروسہ نہیں کرتے اور دوبارہ جنگ کے لیے بھیجے جانے سے بہت خوفزدہ ہیں، اسرائیلی فوجیوں نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے ایسی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا جسے باہر کی دنیا کبھی بھی صحیح معنوں میں نہیں سمجھ سکتی۔

    امریکی صدارتی الیکشن میں قبل از وقت ووٹنگ کیوں کی جاتی ہے؟

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    خوراک نہیں کفن بھیج دیں، فلسطینی وزارت صحت کی دنیا سے اپیل

    غزہ میں اسرائیلی بربریت ،کفن کم پڑ گئے، فلسطینی وزارت صحت نے کفن بھجوانے کی اپیل کر دی

    فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت جاری ہے، سات اکتوبر کو گزشتہ برس حماس کے حملے کے بعد سے اب تک اسرائیلی غزہ پر بمباری کر رہا ہے، فلسطین میں کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، گھر مسمار، سکول تباہ، ہسپتال ملیا میٹ کر دیئے گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں لاپتہ ہیں، لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، ایسے میں فلسطینی وزارت صحت نے عالمی دنیا سے اپیل کی ہے کہ اگر کچھ اور نہیں بھیج سکتے تو کم از کم کفن ہی بھیج دیں،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہسپتالوں میں کفن ختم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لاشوں کو کمبل سے ڈھانپا جا رہاہے،ہمیں کفن بھجوائے جائیں،کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت نہیں کیونکہ اسرائیل ہمیں بھی قتل کر دے گا، ہمیں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے شہداء کی لاشیں ڈھانپنے کے لیے کچھ کفن بھیج دیں تاکہ آپ ہمارے خون اور زخم دیکھ کر بیزار نہ ہوں

    دوسری جانب آسٹریلوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے،غزہ میں لگ بھگ 2 لاکھ فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، غزہ کی 8 فیصد آبادی ماری جا چکی ہے،اسرائیلی بمباری سے غزہ کے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں اور چند اسپتال جزوی طور پر فعال ہیں۔

    یحییٰ سنوار کی موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تفصیلات

    یحییٰ سنوار کی شہادت اسرائیل کے لیے تباہی کا پیغام ثابت ہوگی،حماس

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

  • حماس کا اسرائیل پر حملہ، اسرائیلی فوج کی 4گاڑیاں تباہ،متعدد فوجی زخمی

    حماس کا اسرائیل پر حملہ، اسرائیلی فوج کی 4گاڑیاں تباہ،متعدد فوجی زخمی

    غزہ: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں حملہ کرکے ٹینک سمیت اسرائیلی فوج کی 4گاڑیوں کو تباہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے بیروت کے ہریری اسپتال کے قریب فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4شہری شہید اور 29 زخمی ہوگئے۔

    دوسری جانب غزہ میں بمباری سے مزید 41 فلسطینی شہید ہوئے اور اسی طرح جبالیہ میں بھی 33 فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا حماس نے جبالیہ میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کو منہ توڑ جواب دیا ،اور ٹینک سمیت اسرائیلی فوج کی 4گاڑیوں کو تباہ کردیا، حماس کا دعویٰ ہے کہ اس حملےکے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک 42 ہزار 600 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جب کہ 99 ہزار 800 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

  • اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،73فلسطینی شہید

    اسرائیل کی وحشیانہ بمباری،73فلسطینی شہید

    غزہ:غزہ کے شمالی علاقےبیت لاہیہ پر اسرائیلی فوج نے مسلسل بمباری کی جس میں درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ حملے میں 71 فلسطینی شہید ہو گئے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عمارتوں کے ملبے میں 100 سے زائد خواتین، بچے اور بزرگ دب گئے۔ پورا علاقہ تباہی کا منظر پیش کر رہا ہےامدادی کاموں کے دوران عمارتوں کے ملبے سے کم از کم 73 لاشیں نکالی گئی ہیں جب کہ درجنوں افراد کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے، اسرائیلی فوجیوں نے ببیت لاہیہ کا 16 روز سے محاصرہ کیا ہوا ہے خوراک، پانی، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی –

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں شہری دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے محصور شمالی غزہ کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کرنے کے بعد گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شمالی غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

    بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی: ایمریٹس نےایران اور عراق کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر …

    شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ان کی ٹیموں نے شمالی غزہ کی پٹی کی گورنری میں نشانہ بنائے گئے مختلف مقامات سے 400 سے زائد افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں جبالیہ اور اس کے کیمپ بیت لاہیہ اور بیت حانون شامل ہیں،ان سب کو شمالی غزہ کی پٹی، کمال عدوان، العودہ اور انڈونیشیا ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جمعہ تک 386 افراد کی لاشیں برآمدکی گئی تھیں، اس کے علاوہ ہفتے کی صبح جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں مزید میں 33 افراد ہلاک ہوئے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 42 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 99 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

    26 ویں آئینی ترمیم: قومی اسمبلی اجلاس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

  • پاکستان کا فلسطین اور لبنان کے لیے سامان بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان کا فلسطین اور لبنان کے لیے سامان بھیجنے کا فیصلہ

    کراچی: پاکستان نے فلسطین اور لبنان کے لیے 200 ٹن امدادی سامان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایم ڈی این ڈی ایم اے کے مطابق فی طیارے میں 100 ٹن کے لگ بھگ سامان کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا جس میں اشیائےخور و نوش کے علاوہ کمبل، خیمے اورادویات شامل ہوں گی این ڈی ایم اے نے کارگو ائیرکرافٹ آپریٹ کرنے والی کمپنیزسے پیشکشیں طلب کرلی ہیں، بولی میں شریک ہونے کے درخواست فارم این ڈی ایم اے اور پیپرا کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیے جاسکتے ہیں،بولی کی دستاویزات 13 اکتوبر تک جمع کروائی جاسکتی ہیں، ‏درخواستیں بولی دہندگان کی موجودگی میں اسی روز کھولی جائیں گی۔

    میجر (ر) میثم رضا اعوان نے شہباز گل کو اوقات یاد دلا دی

    پاکستان میں کرپشن ختم کرنے کے لیے تحقیقاتی نظام بہتر بنایا جائے،آئی ایم ایف

    صحرا صحارا میں بارش،50 سال سے خشک جھیل دریا بن گئی

  • فلسطینی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا،مرتضیٰ وہاب

    فلسطینی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اس سے زیادہ المناک بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ آج مظلوم اور بے یارو مدد گار فلسطینی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا، اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو اب خواب غفلت سے جاگ اٹھنا چاہئے، بصورت دیگر عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوگی، جنہوں نے مصلحتوں کے پیش نظر اس اہم اور انتہائی سنگین انسانی مسئلے کو نظر انداز کیا اور اس طرح اسرائیل کو ہر طریقے سے خطے میں اپنی من مانی کی اجازت دی، آج کا دن ہم نے غزہ اور دیگر علاقوں میں مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے نام کیا اور یہ امر باعث ستائش ہے کہ سٹی کونسل کی خواتین ممبران نے اس موقع پر اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف سراپا احتجاج بنتے ہوئے کے ایم سی صدر دفتر کے باہر فلسطینیوں سے یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ریلی نکالی اور پورے ملک کو اور دنیا کو یہ پیغام پہنچایا کہ سٹی کونسل کراچی فلسطینیوں کے خلاف بدترین ظلم و بربریت کی مذمت کرتی ہے اور اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف احتجاج کرتی رہے گی، یہ بات انہوں نے پیر کے روز یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر کے ایم سی ہیڈ آفس کے باہر سٹی کونسل میں پاکستان پیپلزپارٹی کی چیف وہپ مسرت نیازی کی قیادت میں ریلی نکالنے والی خواتین ممبران سے اپنے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے کہی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو اس موقع پر محترمہ مسرت نیازی نے فلسطین کا پرچم اور مخصوص فلسطینی مفلر پیش کیا، میئر کراچی نے کہا کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں پر جو مسلسل بمباری ہو رہی ہے اس کے نتیجے میں آج وہاں نہ بچے محفوظ ہیں نہ خواتین اور نہ ہی بزرگ، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس علاقے میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور فلسطینیوں کو جینے کا حق دیا جائے، انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو غزہ اور فلسطین کی موجودہ قابل رحم صورتحال سے سابق حاصل کرنا چاہئے کہ یہ وقت کبھی بھی کسی پر بھی آسکتا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تمام اسلامی ممالک اپنے باہمی گروہی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو فراموش کرکے ایک قوت بنیں اور اسرائیل جیسی ظالم ریاست اور اس کے حمایتی ممالک کو واضح پیغام دیں کہ وہ کسی بھی صورت مسلمانوں کے خلاف دنیا کے کسی بھی حصے میں اس طرح کاظلم و بربریت برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عالم اسلام کو ایک پرچم تلے اکٹھا کیا تھا اور پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا شاندار انعقاد کرکے مسلم دنیا کو طاقتور بنانے کی کوشش کی تھی، آج بھی ہمیں اسی طرح بھٹو شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالم اسلام کو متحد اور مضبوط بنانا ہوگا جس کے لئے اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی اہم کردار ادا کرسکتی ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی مظلوموں پر ظلم و ستم ڈھایا جائے اس کی مذمت ہی کافی نہیں بلکہ آگے بڑھ کر ظالم کا راستہ روکنے کی بھی ضرورت ہے،کراچی شہر اس معاملے میں انتہائی متحرک ہے اور ظلم خواہ فلسطین میں ہو یا کشمیر یا کسی دوسری جگہ ، کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ اس کی مذمت کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل بھی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے اپنے گزشتہ اجلاس میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم پر اسرائیل کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی اور حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت پر اپنے یقین کا بہترین انداز میں اظہار کیا۔

    کراچی حملے میں اہم پیشرفت، تفتیش کا دائرہ بلوچستان تک وسیع

  • فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    فلسطین کے معاملے پر تمام ممالک خاموش ہیں،سعیدغنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اسرائیل کی غزہ اور فلسطین پر جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے تحت منعقدہ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرین سے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی، وزیر اعلی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ سائوتھ کے جنرل سیکرٹری تیمور ٹالپور، پیپلز لائرز فورم کے ارشد نقوی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور مرد کارکنان نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم تھامے ہوئے تھے اور وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ آج بھی فلسطین اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بربریت جاری ہے اور افسوس کہ جو ممالک اپنے آپ کو انسانی حقوق کا چیئمپین کہتے ہیں وہ خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جارہا ہے، آج سے ایک سال قبل اسرائیلی جارحیت کا آغاز ہوا تھا اور اب تک اسرائیل نے دہشت گردی کر کے 40 ہزار سے زائد مظلوموں کو شہید کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اسرائیل کی دہشت گردی سے فلسطین ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، ایسی دہشت گردی حالیہ ماضی میں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس جارحیت پر بڑی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ دنیا میں کہی بھی چھوٹا واقعہ ہو تو فورا مذمت کی جاتی ہے، مگر فلسطین کے معاملے پر امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک خاموش ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ آج یوم یکجہتی کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کو پتہ لگے کے پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کھڑے ہوکر فلسطین سے ہمدردی کرسکتے ہیں، مگر اسرائیل کو روکنے کے لیے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔سعید غنی نے کہا کہ جب تک کوئی بڑا اور اجتماعی فیصلہ نہیں ہوگا تب تک اسرائیل رکے گا نہیں، ڈر اس بات کا ہے کہ اسرائیل ایک بھی فلسطینی کو زندہ نہیں رکھنا چاہتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک سال میں 42000 سے زائد بچے، خواتین و مظلوم فلسطینی اس بربریت کاشکار ہوئے ہیں۔ بلڈنگز، رہائشی علاقے مسلمار کئے گئے ہیں، اج بھی کئی عمارتوں کے ملبے تلے بھی ہزاروں لوگ اجل کاشکار ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں، آوازیں اٹھتی ہیں۔ لیکن اسرائیلی دھشتگردی پر دنیا کی بڑی طاقتیں خاموش ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایران اور لبنان کی طرف سے ردعمل کے طور پر کچھ کیا جاتا ہے، تو دنیا ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔ حسن نصراللہ ہو ایرانی صدر کوٹارگیٹ کیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر یہ مظاہرے اس بات کا اظہار ہے کہ ہم اپنے مظلوم فسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔مسلم دنیا کے بڑے طاقت ور ممالک امریکا ،یورپ سے اب کوئی توقع نہیں۔ اب مسلم دنیا ایک ہوکر ردعمل دے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھرپور اور اجتماعی ردعمل نہیں دیا جائے گا، تب تک یہ ظلم فلسطین میں ہوتا رہے گا کیونکہ اسرائیل چوتھی جنگ عظیم چاہتا ہے۔ اب تواس نے جنگ بڑھا دی ہیہمیں اب مذمتوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور آل پارٹی کانفرنس طے کرے کہ ہمیں فلسطینیں کے لئے مزید کیا کرنا ہے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سید وقار مہدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی منارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اسرائیلی جارحیت کو پورا ایک سال ہوگیا ہے۔ اس دوران 42000 سے زائد مظلوم فلسطینی شہید ہوچکے ہیں لیکن افسوس کہ اس تمام کے باوجود مسلمان ممالک خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھلے خاموش رہے پاکستان پیپلزپارٹی خاموش نہیں رہ سکتی۔

    کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی پھر مہنگی

  • سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    سات اکتوبر،حماس کا ایک بار اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ

    حماس نے غزہ جنگ کو ایک سال مکمل ہونے پر ایک بار پھر اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کر دیا

    حماس کے القسام بریگیڈ نے سرائیلی شہر تل ابیب پر راکٹوں سے حملہ کیا،حماس کے حملوں میں اسرائیل کی دو خواتین زخمی ہوئی ہیں، اس دوران اسرائیلی میں سائرن بجے اور شہری محفوظ بینکروں میں چھپ گئے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق خان یونس کے علاقے سے وسطی اسرائیل میں 5 راکٹ فائر کیے گئے،عرب میڈیا کے مطابق اگست کے بعدکسی بڑے اسرائیلی شہرپر فلسطینی گروپ کا یہ پہلاحملہ ہے،

    دوسری جانب حزب اللہ نے بھی شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی اورفوجی گاڑیوں کومیزائلوں سےنشانہ بنایا جب کہ حزب اللہ نے آج اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 10 اسرائیلی زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے اسرائیلی جنگ کی صورت غزہ میں گزرنے والے اس سال کا ہر لمحہ غزہ کے معصوم شہریوں کے لہو سے لا ل ہوتا رہا،شاید ہی اس ایک سا ل میں کوئی صبح یا کوئی شام ایسی گزری ہوجب معصوم فلسطینیوں کے خون سے اس سرزمین کو سیراب نہ کیا گیا ہو،غزہ جنگ نہتے اور زیر محاصرہ فلسطینیوں کے خلاف طویل ترین جنگ کا ریکارڈ بھی ہے اور اسرائیلی جنگی جرائم کی بدترین مثالوں کا حوالہ بھی،یہ جنگ نسل کشی کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے ،غزہ کی جنگ کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نے ایک سال کے اندر غزہ کی پٹی میں 40 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، راکٹ داغنے کے ایک ہزار مقامات تباہ کر دیے اور سرنگوں کے 4700 دہانے دریافت کر لیے۔سات اکتوبر 2023 سے اب تک 726 اسرائیلی فوج ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں 380 فوجی سات اکتوبر کو شروع ہونے والی عسکری مہم میں اور 346 فوجی 27 اکتوبر 2023 کو غزہ کے اندر شروع ہونے والی لڑائی میں مارے گئے،ایک سال کے اندر 4576 فوجی زخمی بھی ہوئے ،

    اسرائیل کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق رواں سال اگست تک غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کی براہ راست لاگت 100 ارب شیکل (26.3 ارب ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔ بینک آف اسرائیل کے اندازے کے مطابق 2025 کے اختتام تک اس لاگت کا حجم 250 ارب شیکل تک پہنچ جائے گا۔

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

  • فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    فلسطین پر اے پی سی،صدرمملکت،وزیراعظم،نواز شریف و دیگر شریک

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس آج 7 اکتوبر سوموار کو ایوان صدر میں ہو رہی ہے

    آل پارٹیز کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور شہبازشریف شریک ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اے پی سی میں شریک ہیں،مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق، بلاول زرداری،چوہدری سالک حسین، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، خالد مقبول صدیقی، راجہ پرویز اشرف،سید یوسف رضا گیلانی ،عبدالعلیم خان،سمیت دیگر شریک ہیں. ثروت اعجاز قادری، انوار الحق کاکڑ، لیاقت بلوچ، احسن اقبال ،خواجہ سعد رفیق، شاہ غلام قادر، امیر مقام، نیئر بخاری، شیری رحمان، نوید قمر بھی اے پی سی میں شریک ہیں.

    ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،نواز شریف
    سابق وزیراعظم نواز شریف نے اے پی سی سے خطاب میں کہاکہ دنیا کے اندر خوفناک قسم کی بربریت والا کیس ہے، جس طرح سے غریب فلسطینیوں کا جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، کوئی سازو سامان نہیں ہے، کوئی ملٹری طاقت نہیں ہے، اس پر جس بے دردی سے ظلم ڈھایا جا رہا ہے،یہ تاریخ کی بدترین مثال ہے، ہم سب کا دن خون کے آنسو روتا ہے جب ہم بچوں کی خون آلودہ تصاویر دیکھتے ہیں، پورے کا پورا شہر اور انکے علاقے کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں، معصوم بچوں کو والدین کے سامنے شہید کیا جا رہا، ماؤں کی گود سے بچے چھین کر شہید کیئے جا رہے ایسا زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، دنیا نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اس میں انسانی مسئلہ نہیں سمجھتے بہت سا طبقہ مذہبی مسئلے کے طور پر بیان کرتا ہے اور سمجھتا بھی ہے، جس طرح کا غاصبانہ قبضہ اسرائیل نے کیا اور پھر اقوام متحدہ بے بس بیٹھی ہوئی ہے، انکی پاس کردہ قرارداد پر کوئی عمل نہیں ہو رہا، شہباز شریف نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ اٹھایا میں نے تقریر کا ایک ایک لفظ سنا، وہ باتیں کیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے لوگوں نے سراہا،یہ صورتحال افسوسناک ہے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مظالم جاری ہیں ،وہ بڑی ڈھٹائی سے مظالم کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کوبھی کوئی فکر نہیں، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج تک عمل نہ ہو سکا، ایسی اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو دنیا کو انصاف نہ دے سکے،مجھے یاد ہے کہ یاسر عرفات جب پاکستان آئے تو میری ان سے دوبار ملاقات ہوئی میں نے انکے جذبات سنے ہوئے، انہوں نے بڑی جدوجہد کی فلسطینی عوام کے لئے، فلسطینیوں کا خون رنگ لا کر رہے گا، اللہ بھی دیکھتا ہے، انسانیت کچھ نہیں کر رہی،اس سلسلے میں شہباز شریف جو روڈ میپ دیا اس پر غورو خوض ہونا چاہئے، اسلامی ممالک کو اکٹھے بیٹھ کر فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئے، اسلامی ممالک کی قوت کا استعمال کب کریں گے، ایک پالیسی بنانا پڑے گی ورنہ ہم اسی طرح بچوں کا خون ہوتا دیکھتے رہیں گے، کچھ نہیں کر پائیں گے، اسرائیل کیوں دندناتا پھرتا ہے اسکے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں، انکو بھی سوچنا چاہئے کہ کب تک فلسطین کے لوگوں کے صبر کا امتحان لیں گے.ہمیں عوامی توقعات پر بھی پورا اترنا ہے، جلدی اقدامات کئے جائیں، تاخیر نہیں ہونی چاہئے،پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت کے سامنے خاموشی اختیار کرنا انسانیت کی ناکامی ہے

    فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے،مولانا فضل الرحمان
    اے پی سی میں سٹیج سیکرٹری کےفرائض شیری رحمان نے سرانجام دیئے، اے پی سی سے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ناسور کا سب سے اولین فیصلہ 1917 میں برطانیہ کے وزیر خارجہ کے جبری معاہدے کے تحت ہوا، اس وقت سے فلسطین کی سرزمین پر بستیاں قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، ہمیں پاکستان کی پوزیشن معلوم کرنی چاہئے،پاکستان مین 1940 کی قرارداد میں فلسطین میں یہودیوں کی بستیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا، جب اسرائل قائم ہوا تو قائداعظم نے اسے ناجائز بچہ کہا، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالہ سے پہلا تبصرہ کیا کیا اور اسرائیل کے صدر نے پہلا بیان کیا دیا کہ دنیا کے نقشے پر نوزائدہ اسلامی ملک کا خاتمہ ہمارا مقصد ہو گا، اب ہمین سوچنا چاہئے کہ کس بنیاد پر ہم نے لوگوں کو مواقع فراہم کئے کہ وہ لوگوں کو ٹی وی پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے حمایت کریں ایسا کیوں ہوا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کیوں ہوئیں؟ حماس نے 7 اکتوبر کو حملہ کیا جس نے فلسطین کے مسئلے پر نوعیت ہی تبدیل کر دی، آج فلسطینی ریاست یا دو ریاستی حل کی بات ہو رہی، ہم دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کرتے، یہ عرب کی زمین ہے،یہاں یہودیوں کی بستیوں کا کوئی جواز نہیں ہے، سات اکتوبر کو آج ہم بیٹھے ہیں، کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، سیاسی معاملات پر اختلافات رائے ہے لیکن فلسطین پر ہم سب ایک ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر بھی ہمیں یکجہتی دکھانی چاہئے، دنیا کے اعتماد کے لئے داخلی یکجہتی ضروری ہے.50 ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں، بچے، خواتین، غیر مسلح ، بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن کے جنازے پڑھے گئے یہ وہ تعداد ہے، دس ہزار کے قریب اب بھی ملبوں تلے دبے ہوئے،جن کے جنازے نہ ہو سکے، امت مسلمہ نے ایک سال میں غفلت دکھائی وہ جرم ہے اور ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں،کیوں مسلمانوں نے انکی مدد کیوں نہیں کی، کیا ہمیں احساس ہے،ہم سے تو جنوبی افریقہ اچھا ثابت ہوا جو عالمی عدالت چلا گیا، اقوام متحدہ نے قرارداد پاس کی تو اسرائیل نے سیکرٹری جنرل کو اسرائیل آنے سے روک دیا، یہ ساری صورتحال لمحہ فکریہ ہے، ایک کانفرنس،قرارداد،اعلامیہ سے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا حق ادا نہیں کر سکتے، ہم سب مصلحتوں کا شکار ہیں کہیں ایسا، ویسا نہ ہو جائے، ہمیں اس کیفیت سے نکلنا ہو گا،سعودیہ ،ترکیہ، ایران ،مصر کے ساتھ ملکر گروپ بنایا جائے اسلامی ممالک کا، جو اس معاملے کو اٹھائے،

    اعلامیہ سے دو ریاستی حل نکالیں،آزاد فلسطینی ریاست چاہئے، حافظ نعیم کا اے پی سی میں مطالبہ
    حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا مطالبہ
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اے پی سی سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ایک سال میں‌85 ہزار ٹن بارود پھینکا ہے، اسی فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، 42 ہزار شہادتیں ہوئی، صحافیوں، ڈاکٹر ،پیرا میڈیکس کی موت ہوئی، ہسپتال تباہ کئے گئے، اسکولوں، مسجدوں، چرچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ انسانیت کے خلاف بدترین عمل ہے جو اسرائیل کر رہا ہے، ہمیں اس پلیٹ فارم سے فلسطین کی آزاد ریاست کا پیغام جانا چاہئے، دو ریاستی حل درست نہیں، ہم اسرائیل کی سٹیٹ کو قابض گروہ سمجھتے ہیں، سٹیٹ سمجھتے ہی نہیں، بانی پاکستان نے بھی یہی کہا تھا،اسرائیل اب خیموں پر حملے کر رہا، فاسفورس بم پھینک رہا ہے، کل ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں ہوں گے، انکی بنیاد دہشت گردی پر ہے، امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا پشت بان ہے، امریکہ اسرائیل کو نقد امدا د دے رہا ہے تو وہیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے، وہی اسلحہ ہمارے بچوں پر ہو رہا انسانیت کی توہین ہو رہی،امریکا نے کتنے لوگوں کا قتل عام کیا، پاکستان کو حماس بارے واضح مؤقف اپنا چاہئے، میرا مطالبہ ہے کہ حماس کا دفتر پاکستان میں ہونا چاہئے، حماس نے الیکشن جیتا ہے،حماس سیاسی جماعت ہے اسکو اختیار نہیں دیا گیا، وہ الیکشن جیتے ہیں،ہمیں کس بات کا ڈر لگتا ہے، امریکا نے ہمیں ابھی تک دیا کیا ہے؟ ہمیں واضح طور پر ان قوتوں کو جو انسانیت کا نام لے کر قتل کرتے ہیں انکو ایکسپوز کرنا چاہئے، وائیٹ ہاؤس کے باہر احتجاج ہو سکتا ہے ہمیں کہا جاتا ہے ایمبیسی کی طرف نہ جائیں، ان رویوں پر غور کرنا ہو گا.دو ریاستی حل کسی صورت قبول نہیں، صرف فلسطین کی آزاد ریاست کی بات کرنی چاہئے،اتحاد میں ہی ہماری نجات ہے، حسن نصر اللہ، اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل کا میزائل لگا ہے، انہوں نے شیعہ سنی نہیں دیکھا، ہمیں اس تقسیم کو ختم کرنا ہے، سعودی عرب ایران کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں اسرائیل کے حق میں جو آواز ہو گی وہ نہیں ہونی چاہئے، کونسا اسرائیل دو ریاستی حل کو مانتا ہے، اعلامیہ سے دو ریاستی حل والی بات نکالنی چاہئے، اگر آپ کے اوپر کوئی پریشر بھی ہے تو نکال دیں، اگر نہیں نکالتے تو ہمارا مؤقف لکھیں کہ ہمیں فلسطین کی آزاد ریاست چاہئے،دو ریاستی حل کو نہیں مانتے.

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے غزہ کے حوالہ سے منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے انکار کر دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی ان حالات میں اے پی سی میں شریک نہیں ہو گی،ہمیں فلسطین پر اے پی سی میں شرکت کی دعوت مل گئی تھی، موجودہ حالات میں پارٹی رہنما اور کارکن گرفتار ہیں اور ان حالات میں اے پی سی میں شرکت نہ کرنےکافیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کی عدم شرکت سے انکا دوہرا معیار واضح ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کو فلسطین کے معصوم بچوں سے نہیں بلکہ اسرائیل سے ہمدردیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اس اے پی سی میں شرکت نہیں کر رہی.

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ شرمناک! تحریک انصاف نے ایک بار پھر اسرائیل نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ غزہ پر حملوں کے خلاف حکومتی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے اپنی حقیقت واضح کر دی۔ پاکستان کے دشمنوں کے یار اب بے نقاب ہو چکے ہیں!

    https://x.com/Ghulam1082345/status/1843244613009854550

    فہمیدہ یوسفی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تحریک انصاف سے کسی قسم کی اچھائی کی امید رکھنا ایسے ہی جیسے آپ شیطان سے کہیں کہ وہ تائب ہوگیا ہے ،پی ٹی آئی نے فلسطین پر حکومت کی منعقدہ اے پی سی میں شرکت سے متعلق فیصلہ تبدیل کرلیا، بیرسٹر گوہر نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے، اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی مرکزی رہنما اسلام آباد میں موجود نہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے اے پی سی میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب فیصلہ تبدیل کرلیا ہے۔

    https://x.com/fahmidahyousfi/status/1843236281687662889

    واضح رہے کہ عمران خان کی حمایت میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی اخبارات میں مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں.

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار