Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • حماس نے  5 تھائی باشندوں سمیت 8 یرغمالی رہا کردیئے

    حماس نے 5 تھائی باشندوں سمیت 8 یرغمالی رہا کردیئے

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسلامک جہاد نے 5 تھائی باشندوں سمیت 8 یرغمالی رہا کردیئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسلامک جہاد نے 5 تھائی باشندوں سمیت 8 یرغمالی رہا کردیے جن میں 3 اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں،اسرائیلی خاتون فوجی اگم برگر کو جبالیہ میں فلاحی تنظیم ریڈکراس کے حوالے کیا گیا جبکہ مزید 2 سیویلینز یرغمالیوں جن میں ایک خاتون اربیل یہود میں شامل ہیں انہیں غزہ کے شہر خان یونس میں رہا کیا گیا 80 سالہ گادی موسیس کو بھی رہا کیا گیا حماس نے آج 5 تھائی یرغمالی بھی رہا کردیئے ہیں جنہیں ریڈ کراس حکام کے حوالے کیا گیا ہے جو انہیں اسرائیلی حکام کے حوالے کریں گے۔

    شعبان کا چاند نظر آگیا، شب برات 13 فروری کو ہوگی

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جو مقام چُنا اس نے سب کو حیران کردیا یہ اسرائیلی فوج سے دلیرانہ لڑتے ہوئے جان قربان کرنے والے یحیٰ السنوار کا تباہ حال گھر تھااس موقع پر جذباتی مناظر دیکھے گئے فلسطینیوں کی بڑی تعداد اپنے رہنما کے کھنڈر بنے گھر کے نزدیک موجود تھے اور ان کی یاد میں رو رہے تھے۔

    حماس نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے یرغمالیوں کو بحفاظت ریڈ کراس کے حوالے کیا اور پیغام دیا کہ اپنے رہنما کی شہادت اور کھنڈر بنے گھر کے باوجود صبر و تحمل کے ساتھ ایفائے عہد نبھایا۔

    محسن عباس حیدر کا سیٹ پر نشہ کرکے آنیوالے مرد و خواتین پرپابندی لگانے کا مطالبہ

    واضح رہےکہ غزہ جنگ بندی معاہدےکےتحت آج 110فلسطینی قیدیوں کی رہائی کےبدلےمیں 8 یرغمالیوں کو رہا کیاجانا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا یہ تبادلہ قطر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ ہے۔

  • فلسطینیوں کی بے دخلی غیر منصفا نہ قدم،مصر اس میں شریک نہیں ہوگا،مصری صدر

    فلسطینیوں کی بے دخلی غیر منصفا نہ قدم،مصر اس میں شریک نہیں ہوگا،مصری صدر

    قاہرہ: امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کو خالی کرنے اور فلسطینیوں کو مصر اور اردن بھیجنے کی تجویز پر مصری صدر نے بھی ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق مصر کے صدر عبد الفتح السیسی نےکہا ہے کہ فلسطینیوں کی بے دخلی ایک غیر منصفا نہ اقدام ہوگا اور مصر اس میں شریک نہیں ہوگا،مصر امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان قیام امن کے حصول کی کوشش کرے گا، فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق جو کچھ کہا جارہا ہے اس کے مصر کی سلامتی پر ہونے والے اثرات کے باعث بالکل برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

    گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اردن اور مصر غزہ سے تعلق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ پناہ گزینوں کو قبول کریں ‘ماین ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائمیں پوری غزہ پٹی کو دیکھ رہا ہوں،یہاں سب کچھ تباہ ہوگیا ہے، غزہ پٹی کے پناہ گزینوں کی نئی آبادکاری عارضی یا مستقل بھی ہوسکتی ہے’۔

    این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائم

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ کی اس تجویز کو اردن کی جانب سے بھی مسترد کردیا گیا ہے گزشتہ دنوں اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے کہا تھا کہ اردن کا فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی بے دخلی کو مسترد کرنے کا مؤقف ’ٹھوس اور غیر متزلزل‘ ہےہماری ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فلسطینی اپنی زمین پر موجود رہیں۔

  • جو کوئی بھی اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بنے گا اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی،اسرائیل

    جو کوئی بھی اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بنے گا اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی،اسرائیل

    تل ابیب: آج پیر کے روز بے گھر فلسطینیوں کی غزہ پٹی کے شمالی علاقوں کی طرف واپسی کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے دھمکانے کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے نے خبردار کیا ہے کہ تل ابیب 7 اکتوبر 2023 سے پہلے والی حالت میں واپسی کی اجازت نہیں دے گا اسرائیلی وزارت دفاع غزہ پٹی کے شمال اور جنوب میں فائر بندی پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھے گی،جو کوئی بھی اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بنے گا اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کی ان کے گھروں کو واپسی ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ قابض طاقت (اسرائیل) اپنے دشمنانہ مقاصد کے تحت فلسطینیوں کی جبری ہجرت اور ان کے اٹل ارادے توڑنے میں ناکام ہو چکی ہے بے گھر ہونے پر مجبور کر دیئے جانے والے لوگوں کی اپنے گھروں کی تباہی کے باوجود بڑی تعداد میں واپسی کے مناظر، یہ فلسطینیوں کی اپنی سرزمین میں مضبوط جڑوں کی تصدیق کرتے ہیں-

    سائنسدان زمین سے 62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ سن کر حیران

    حماس نے اپیل کی ہے کہ غزہ پٹی کے تمام علاقوں میں امدادی سامان پہنچائے جانے کا عمل تیز کر دیا جائے۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نتزارم راہداری سے پیچھے ہٹ گئی ہے جس کے بعد جبری بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی شروع ہو گئی۔

    عرب میڈیا کے مطابق لاکھوں فلسطینی شمالی غزہ واپس لوٹ رہے ہیں ، شارع الرشید پر واپس جانے والے افراد کی طویل قطاریں لگ گئیں،اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ جانے والے نتزارم روڈ کوکھول دیا گیا ہے، فلسطینیوں کو پیدل شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو جانے کی اجازت ہے جبکہ گاڑیوں کو تلاشی کے بعد صلاح الدین شاہراہ سے شمال کی طرف جانے کی اجازت ہو گی،سرائیلی فوج نے نتساریم کے علاقے سے انخلا شروع کر دیا یہ علاقہ غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

    آزاد کشمیر کا نوجوان غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرگیا

    واضح رہے کہ معاہدے کے تحت بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ واپسی کا عمل ہفتے کے دن شروع ہونا تھا مگر ہفتے کو اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو شمالی غزہ جانے سے روک دیا تھا،اسرائیل نے گذشتہ دو روز کے دوران فلسطینیوں کے گزرنے کے لیے یہ راہداری کھولنے سے انکار کر دیا تھا اسرائیل کا موقف تھا کہ پہلے حماس تنظیم اسرائیلی خاتون قیدی اربیل یہود کو رہا کرے۔

    راکھی ساونت پاکستان پہنچ گئیں؟

    ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ غزہ پٹی کے شمالی علاقوں میں واپس جانے والے بے گھر فلسطینی اپنے گھروں کے ملبوں پر کس طرح رہیں گے۔ بالخصوص جب کہ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔

  • جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    تل ابیب: اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا ہونے والے 95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی ہے –

    باغی ٹی وی : اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق فہرست میں 69 خواتین، 16 مرد اور 10 نابالغ شامل ہیں وزارت کے مطابق فہرست میں سب سے کم عمر قیدی 16 سال کا ہے، ان قیدیوں کو اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے اتوار سے رہا کیا جائے گا فہرست میں فلسطینی پارلیمنٹ کی رکن اور قانون ساز خالدہ جرار بھی شامل ہیں، جنہیں جنگ کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بغیر کسی مقدمے کے حراست میں ہیں۔

    اس سے قبل اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ اور حکومت نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دی تھی، اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے حماس کے ساتھ طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی توثیق کر دی۔

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ کابینہ نے سیاسی، سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اس معاہدے کی توثیق کی۔بیان کے مطابق سیکیورٹی کابینہ نے حکومت کو اسے منظور کرنے کی سفارش کی ہے، اس معاہدے کو اب مکمل کابینہ کے سامنے ووٹ کے لیے پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 15 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ مشترکہ میڈیا کوششوں کی کامیابی اور اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی معاہدہ غزہ تک امداد کی فراہمی کی راہیں کھولے گا۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری (اتوار) سے نافذ العمل ہوگا۔ پہلا مرحلہ 42 دن تک جاری رہے گا، اس میں جنگ بندی اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے۔

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کی سرحد پر تعینات رہیں گی، جبکہ قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ بے گھر افراد کو ان کی رہائش گاہوں پر واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی کے تمام حصوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں اضافہ کے علاوہ ہسپتالوں، صحت کے مراکز اور بیکریوں کی بحالی بھی شامل ہےبے گھر افراد کے لیے ایندھن، شہری دفاع کے آلات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

  • میکسیکو:فلسطین زندہ باد کا نعرہ لگا کر ایک شخص نےاسرائیلی وزیراعظم کا مجسمہ توڑ دیا

    میکسیکو:فلسطین زندہ باد کا نعرہ لگا کر ایک شخص نےاسرائیلی وزیراعظم کا مجسمہ توڑ دیا

    میکسیکو میں احتجاج کرنے والے ایک شخص نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا موم کا مجسمہ توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : دارالحکومت میکسیکو سٹی کے ایک میوزیم میں پیش آنے والے اس واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں احتجاج کرنے والے نے مجسمے کو ہتھوڑے سے نقصان پہنچانے سے قبل اس پر سرخ رنگ پھینکا ویڈیو میں مجسمے کے نیچے فلسطین کا جھنڈا بھی دیکھا گیا،بعد ازاں اس شخص نے کیمرے میں فلسطین زندہ باد، سوڈان زندہ باد، یمن زندہ باد، پورٹو ریکو زندہ باد کے نعرے لگائے۔

    بی ڈی ایس میکسیکو کی جانب سے پوسٹ کی جانے ویڈیو میں کارکن نے لکھا کہ وہ اس جنگی مجرم کا مجسمہ گرانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیوں کہ میکسیکو سٹی کا ویکس میوزیم اس کو 40 ہزار فلسطینیوں کےخون سے رنگنا بھول گیا تھا انہوں نے یہ امر یہودی لوگو ں(جن سے وہ بہت محبت کرتے ہیں) کی رضا مندی سے کیا ہے اور ان کی شناخت پر ان قاتلوں نے زبردستی قبضہ جما لیا ہے۔

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

  • اسرائیل 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامند

    اسرائیل 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامند

    اتوار کے روز اسرائیل نے عمر قید کی سزا پانے والے تقریباً 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان قیدیوں کی شناخت پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹ اتھارٹی نے اطلاع دی ہے کہ تنازع کا ایک اہم نکتہ فلسطینی قیدیوں کی تعداد سے متعلق ہے جن کا اسرائیل مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاہدے سے نکل جائیں اسرائیل نے 65 فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کو ویٹو کرنے کے حق کا مطالبہ کیا حماس کو یہ لگتا ہے کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہے۔

    اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے اسرائیل کے ایک باخبر سیاسی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ مروان برغوثی جو فلسطینی رہنماوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں کو حتمی معاہدہ ہونے کے باوجود رہا نہیں کیا جائے گا۔

    قبل ازیں اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے پہلے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ اسرائیل جامع معاہدے کے بجائے جزوی معاہدے پر غور کر رہا ہے، اسرائیل اور حماس کے مابین جاری جنگ کو روکنے کے اشارے موجود ہیں جس کے لیے کئی دنوں سے مذاکرات جاری ہیں لیکن ایک حتمی معاہدہ ابھی تک واضح طور پر سامنے نہیں آیا –

    حماس نے ان فلسطینی قیدیوں کی فہرست حوالے کی ہے جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں پہلے مرحلے میں 250 قیدی شامل ہیں جبکہ اسرائیل نے 34 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،اسرائیل کچھ شخصیات کی رہائی سے انکار کرتا آ رہا ہے جن میں تحریک الفتح کے رہنما مروان برغوثی شامل ہیں۔ اسی طرح جن دیگر مسائل پر تنازع جاری ہے ان میں رفح کراسنگ سے اسرائیلی فوج کے ہٹنے کا معاملہ بھی ہے۔

    اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکی صدر جو بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے قبل ایک جامع ڈیل طے پانے کے امکان کو مسترد کر دیا انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل ایک جزوی معاہدے کے ساتھ آگے بڑھنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے جس میں معلومات یا ضمانتوں کے بدلے کچھ قیدیوں کو رہا کرنا بھی شامل ہے

  • پریانکا گاندھی کی پارلیمنٹ میں فلسطین کے بیگ کیساتھ آمد،بی جے پی آگ بگولہ

    پریانکا گاندھی کی پارلیمنٹ میں فلسطین کے بیگ کیساتھ آمد،بی جے پی آگ بگولہ

    نئی دہلی: بھارت میں کانگریس کی نو منتخب رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی نے بھی فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کردیا،جس نے حکمران جماعت بی جے پی کو آگ بگولہ کر دیا-

    باغی ٹی وی: پریانکا گاندھی رکن منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے اپنے پہلے ہی اجلاس میں فلسطین لکھا ہوا بیگ لے کر پہنچ گئیں،پریانکا گاندھی نے گزشتہ ہفتے بھارت میں فلسطینی ناظم الامور سے بھی ملاقات کی تھی۔

    کانگریس کی جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی کھل کر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اظہار کر رہی ہیں نئی دہلی میں فلسطینی سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز عابد الرازگ ابو جزر نے پریانکا گاندھی سے ملاقات کی اور انہیں کیرالہ کے وایناڈ حلقہ سے انتخاب جیتنے پر مبارکباد دی۔

    بی جے پی لیڈر سمبت پاترا نے پریانکا گاندھی کی وائرل تصویر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ایسی حرکتیں خبروں میں رہنے کے لیے کرتے ہیں،گاندھی خاندان ہمیشہ دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس کا مطلب ملک کے مفادات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

    اس سے قبل جون میں پریانکا گاندھی نے غزہ میں اسرائیلی حکومت کی بربریت پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر سخت تنقید کی تھی،انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کے معصوم لوگوں بشمول بچوں، خاندانوں اور کارکنوں کے لیے صرف بولنا ہی کافی نہیں ہے غزہ میں خوفناک تشدد اور قتل و غارت پر مزید سخت کارروائی عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔

  • اسرائیل کا  فلسطین کے مغربی کنارے پر  خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ

    اسرائیل کا فلسطین کے مغربی کنارے پر خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ

    تل ابیب: اسرائیل نے غزہ کے بعد اب فلسطین کے مغربی کنارے پر بھی خود کار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:مڈل ایسٹ کے مطابق اسرائیل نے فلسطین کے مغربی کنارے میں آباد کی گئی غیر قانونی آبادیوں کی حفاظت کے نام پر خودکار ہتھیار نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے؛اسرائیلی فوج مغربی کنارے پر دور سے کنٹرول کیے جانے والے خودکار ہتھیار نصب کرنے کی تیاری کررہی ہے، اس خودکار سسٹم کو ‘See-Fires’ بھی کہا جاتا ہے جس میں ایک ٹاور، نگرانی کے جدید آلات اور مہلک آگ نکالنے والے ہتھیاروں سمیت دیگر ہتھیار شامل ہیں-

    مغربی کنارے کے لیے ان سسٹمز کی تیاری شروع ہو چکی ہے،ابتدائی طور پر، انہیں اسرائیلی فوج کی طرف سے اعلی خطرے والے مقامات پر نصب کیا جائے گا، فلسطینی مغربی کنارے میں 300 غیر قانونی اسرائیلی آبادیاں قائم ہیں جن میں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار رہائش پذیر ہیں، جنہیں 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے کے بعد سے تعمیر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، علاقے میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خطرات کے بارے میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، مغربی کنارے کے ڈویژن کا 636 Reconn

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج خود کار ہتھیاروں کے اس سسٹم کو 2008 سے استعمال کررہی ہے اور یہ سسٹم اس سے قبل غزہ کے بارڈر کے ساتھ لگائی گئی اسرائیلی باڑ کے ساتھ بھی نصب کیا گیا تھا تاکہ غزہ سے ہونے والے حملوں کو روکا جائے۔