Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • جمعتہ الوداع پر فلسطینی اور کشمیری بہن بھائیوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں،وزیراعظم

    جمعتہ الوداع پر فلسطینی اور کشمیری بہن بھائیوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پوری پاکستانی قوم آج صہیونی جارحیت اور ظلم و جبر کی مذمت کرتی ہے

    عالمی یوم القدس کے موقع پر پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اپنے نہتے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں، 7دہائیوں سے اسرائیل فلسطین اور بیت المقدس پر ناجائز اور غیر قانونی طور پر قابض ہے، عالمی برادری خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، عالمی برادری فلسطینیوں کے خلاف ظلم و جبر روکنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے، غزہ میں اسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں اور بچوں کے اسکولوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا اور مظلوم فلسطینیوں تک امدادی اشیاء کی رسائی کو روکا گیا، پاکستان ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک فلسطینی بہن بھائیوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، جمعتہ الوداع پر فلسطینی اور کشمیری بہن بھائیوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔

    پاکستان کا فلسطین کی برادر ریاست کے ساتھ تاریخی اور قریبی رشتہ ہے،وزیراعظم
    دوسری جانب فلسطین کے سفیر احمد جواد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی شریک تھے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے فلسطین کے صدر ڈاکٹر محمود عباس کے تہنیتی پیغام پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا فلسطین کی برادر ریاست کے ساتھ تاریخی اور قریبی رشتہ ہے پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ فلسطین کی مسلسل حمایت کی ہے،وزیراعظم نے جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کیس میں عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے پر بات کی اور کہا کہ پاکستان نے بھی آئی سی جے میں فلسطین کی حمایت کی تھی، ملاقات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2728 کی منظوری کا خیرمقدم کیا گیا،اسرائیل نے قرارداد کو نظر انداز کیا اور ڈھٹائی سے اس کی خلاف ورزی جاری رکھی،وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی سفیر کو مکمل تعاون اور یکجہتی کی یقین دہانی بھی کروائی اور کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہر عالمی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا،پاکستان اب تک غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان کی سات اقساط بھیج چکا ہے، امداد کی ایک قسط عید کے فوراً بعد بھجوانے کا بھی منصوبہ ہے،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    اسرائیل ظلم وجبر سے فلسطینیوں کو نہیں جھکا سکے گا،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کہا ہے کہ یوم القدس پر فلسطینیوں کے عزم واستقلال کوسلام پیش کرتی ہوں -آزادی کی خاطر جان قربان کرنے والے فلسطینی بھائیوں کی قربانیاں رائگاں نہیں جائیں گی -وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے یوم القدس پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیل ظلم وجبر سے فلسطینیوں کو نہیں جھکا سکے گا -فلسطینی بھائیوں اور بہنوں پر صیہونی ریاستی مظالم کی قابل مذمت ہیں -قبلہ اول تمام مسلمانوں کی مقدس مقام ہے-انہوں نے کہا کہ عالمی برادری فوری طور پر اسرائیل کی جانب سے جاری ظلم و بربریت کو ختم کرواے- عالمی برادری، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کیلئے عملی کردار ادا کرے۔دنیا میں امن ایک خواب ہی رہے گا جب تک مسئلہ فلسطین اور کشمیر حل نہیں ہوتا۔

    یوم القدس،جماعت اسلامی کے لاہور بھر میں احتجاجی مظاہرے۔
    جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام جمعتہ الوادع کے موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری کی کال پر فلسطین کے مسلمانوں کیساتھ بھرپور اظہا ر یکجہتی کیلئے لاہور بھر میں احتجاجی مظاہرے۔منصورہ، فردوس مارکیٹ، جی ٹی روڈ، ماڈل ٹاؤن، ویلیشاٹاؤن، جوہر ٹاؤن، کینٹ، پیکوروڈ، شاہدرہ، سمن آباد،بحریہ ٹاؤن، برکی، شاہدرہ، مسلم ٹاون اندرون شہر سمیت لاہورکے چاروں حصوں میں درجنوں اہم شاہراؤں پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ فلسطینی مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں مساجد کے باہر پلے کارڈ ڈسپلے احتجاج اور غزہ فنڈ ریزنگ کیمپس کا انعقاد بھی کیا گیا۔ احتجاجی مظاہروں کی قیادت امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ، خالداحمد بٹ، انجینئر خلاق احمد، ملک شاہد اسلم، احمد جمیل راشد، ڈاکٹرمحمود خان، سیف الرحمن، مرزا شعیب یعقوب، اظہر بلال، چوہدری عبدالقوم گجر، رائس احمد خان، علی ارتضی حسینی اورو دیگر قائدین کی احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی اور اور خطابات کیے۔ احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ اور خالد احمد بٹ نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کا جذبہ جہاد اسرائیلی مظالم سے شکست نہیں کھا سکتا۔غزہ میں ہزاروں فلسطینی بچوں، خواتین اور نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے،غزہ میں گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں،اسپتال اور مساجد پر شدید بمباری کی وجہ سے گھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں جبکہ امریکا، برطانیہ، بھارت سمیت دیگر مغربی ممالک مسلمانوں کی نسل کشی اور اس دہشتگردی میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اہلیان لاہور کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے فلسطین کیساتھ بھر اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہروں میں بھر پور شرکت کی۔ ضیاء الدین انصاری کہاکہ 21 اپریل کو کراچی، اسلام آباد کے بعد لاہور میں دوسرا بڑا فلسطینی مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے غزہ مارچ کیا جائے گا۔ جس میں ہزاروں کی تعداد میں مردو خواتین اور بچے شریک ہوں گے

  • رمضان میں ہمیں غزہ کے مسلمانوں کو نہیں بھولنا چاہیے،اسحاق ڈار

    رمضان میں ہمیں غزہ کے مسلمانوں کو نہیں بھولنا چاہیے،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا وقت آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو 6 ماہ سے بھوک اور جنگ کا سامنا ہے، رمضان میں ہمیں غزہ کے مسلمانوں کو نہیں بھولنا چاہیے، غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کیا ہے پاکستان امن کے لیے ملکوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینےکے لیے تیار ہے، ماسکو اور بشام میں حملے یاد دلاتے ہیں کہ دہشت گردی پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے، پاکستان اس خطرے سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی شراکت داری کو فروغ دیتا رہےگا، امن کی جیت تک دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ ختم نہیں ہوگی-

    دوسری جانب فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد منظور ہونے کے باوجود اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، 7 اکتوبر سےجاری اسرائیلی وحشیانہ حملوں میں اب تک 13 ہزار 750 بچے شہید ہوچکے ہیں اسرائیل اسپتالوں اور قریبی علاقوں میں جنگی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اسرائیلی فورسز الشفا اسپتال، خان یونس کے الامل اور ناصر اسپتالوں میں کارروائیاں کررہی ہیں۔

    اسرائیل کے ساتھ فیصلہ کن مذاکراتی جنگ لڑ رہے ہیں، جس میں جیت ہماری ہوگی،حماس

    انروا کےمطابق غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر سےجاری اسرائیلی وحشیانہ حملوں میں 13 ہزار 750 بچے شہید ہوچکے ہیں دوسری جانب فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 76 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں،وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 32 ہزار 490 فلسطینی شہید جبکہ 74 ہزار 889 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

    فریڈم فلوٹیلا،ترک امدادی ایجنسی نے غزہ تک امداد پہنچانے کیلئے دو بحری جہاز خرید …

  • سعودی عرب فلسطین  مسئلے کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے، مولانا فضل الرحمن

    سعودی عرب فلسطین مسئلے کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے، مولانا فضل الرحمن

    جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فلسطینی جس دردناک صورتحال کا سامنا کررہے ہیں وہ ہم سے وحدت و اتفاق کا تقاضا کرتی ہے آج فلسطین میں قابض صہیونی قوت عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے انسانی اقدار کو پامال کررہی ہے، بچوں، عورتوں، بیماروں اور بوڑھوں کو قتل کیا جارہا ہے ان پر ظلم و تشدد کے غیر انسانی طریقے اختیار کیے جارہے ہیں، اور ان کا سخت ترین محاصرہ کیا جارہا ہے ایسے میں امت مسلمہ کی شرعی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ ان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے۔ فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے جس کا ہم پر حق ہے مسجد اقصیٰ کا ہم پر حق ہے فلسطینیوں کا ہم پر حق ہے ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کے لیے کمربستہ ہونا ہوگا۔ اسرائیل جس طرح امریکا کی پشت پناہی سے انسانی حقوق پامال کررہا ہے اس کے بعد امریکا کیسے دنیا کے سامنے انسانی حقوق کی بات کرسکتا ہے،

    مولانا فضل الرحمن مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مسالک کے مابین وحدت کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جس میں دنیا بھر سے علماء اور دانشوروں نے شرکت کی، انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ کو وحدت کی ضرورت ہے ہم دنیا بھر کے مہمانان گرامی سے کہا کہ ہمیں مسالک کے درمیان پل بننے کی ضرورت ہے ہم اپنے رویوں کی اصلاح کریں، اعتدال اختیار کریں اور افراط و تفریط سے اجتناب کریں اختلاف کے اظہار کے لیے نرم رویے اختیار کریں تو وحدت کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرے اور امت مسلمہ کا مشترکہ فورم قائم کرکے مشترکہ دفاع کا راستہ اختیار کرے تاکہ ہم منظم ہوکر دشمن کا مقابلہ کر سکیں ورنہ ہر اسلامی ملک کو عراق، لیبیا، افغانستان اور شام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ایک ایک کرکے ہمارا گلا دبایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر ضروری امور میں الجھایا جارہا ہے جس سے امت مسلمہ کے بجائے عالمی طاقتوں کا مفاد وابستہ ہے ہمیں پوری دانشمندی سے اپنے راستے کا تعین کرکے امت مسلمہ کو مسائل سے نکالنا ہے اور مظلوم فلسطینیوں کا پشتیبان بننا ہے۔ کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ، مولانا راشد سومرو محمود، مفتی ابرار احمد بھی شریک تھے۔

    ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • اسرائیل نے رفح میں فوجی آپریشن کی منظوری دیدی

    اسرائیل نے رفح میں فوجی آپریشن کی منظوری دیدی

    تل ابیب: اسرائیل نے رفح میں عارضی کیمپوں میں مقیم لاکھوں فلسطینیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی منظوری دیدی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے نیتن یاہو نے رفح آپریشن کی منظوری دیدی ہے غزہ میں 5 ماہ سے جاری جنگ کے باعث تقریباً 23 لاکھ فلسطینیوں نے رفح کے کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

    گزشتہ روز حماس نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا تھا جس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے عوض جنگ بندی، فلسطینیوں کی غزہ میں واپسی اور صیہونی افواج کی جانب سے قید بنائے گئے فلسطینیوں کی رہائی شامل ہےتاہم اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطین کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔

    فلسطینی صدر نے نئے وزیراعظم کا تقرر کر دیا

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    جنوبی افریقہ کا اسرائیلی فوج میں بھرتی اپنے شہریوں کی گرفتاریوں کا اعلان

  • فلسطینی صدر نے نئے وزیراعظم کا تقرر کر دیا

    فلسطینی صدر نے نئے وزیراعظم کا تقرر کر دیا

    فلسطین کے نئے وزیراعظم کی تقرری کر دی گئی، فلسطینی وزیراعظم نے محمد مصطفیٰ کو فلسطین کا نیا وزیراعظم مقرر کیا ہے

    فلسطینی خبر رساں ادارے کی جانب سے فلسطین کے نئے وزیراعظم محمد مصطفیٰ کی تقرری کی تصدیق کر دی گئی ہے، انکی تقرری ایسے وقت میں ہوئی جب گورننگ باڈی پر اصلاحات کے لئے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، مقبوضہ بیت المقدس سمیت فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں گورننس کی بہتری کے مطالبے کی آواز آ رہی ہے،فلسطینی میڈیا کے مطابق نئے مقرر کردہ وزیراعظم محمد مصطفیٰ غزہ کی پٹی میں ریلیف کے کام، اسٹرکچر کی بحالی اور اداروں میں اصلاحات کے حوالہ سے کاموں کی سربراہی کریں گے،

    محمد مصطفیٰ کا تقرر سابق وزیراعظم محمد شتیہ کی جگہ کیا گیا ہے جنہوں نے فروری میں اپنی حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا، محمد مصطفیٰ فلسطینی صدر محمود عباس کے دیرینہ اقصادی مشیر ہیں اور امریکا سے تعلیم یافتہ ماہر معاشیات ہیں،

    دوسری جانب ماہ رمضان میں بھی اسرائیل کے فلسطین پر حملے جاری ہیں، فلسطینی جانیں قربان کر رہے ہیں تو وہیں مسلم دنیا کی بے حسی ہر طرف سے دیکھنے کو مل رہی ہے، اسرائیل نے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مساجد سمیت دیگر عبادتگاہوں کو بھی نشانہ بنایا،

  • سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے تیار ہے، امریکی صدر

    سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے تیار ہے، امریکی صدر

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہےکہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کو تیار ہے

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا دعویٰ کیا کہ سعودی عرب بھی باقی عرب ممالک کی طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے، وہ قطر سمیت 6 عرب ملکوں سے رابطے میں ہیں، غزہ میں جنگ بندی سے ہمیں اس سمت میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا جس کے لیے بہت سے عرب ملک تیار ہیں، اسرائیل کا وجود برقرار رکھنے کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے، اسرائیل نے رفح میں فلسطینیوں کی جانوں کا تحفظ یقینی نہ بنایا تو عالمی حمایت کھو دے گا

    دوسری جانب سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے، ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں پینل ڈسکشن میں سعودی وزیر خارجہ سے سوال ہوا کہ مسئلہ فلسطین حل ہونےکے بعد سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتاہے؟ اس پر سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ’یقیناً‘،سعودی عرب کی اولین ترجیح غزہ میں جنگ بندی ہے، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا تعلق غزہ جنگ سے ہے، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔

    قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کے حوالے سے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانےکی طرف پیش رفت ہو رہی ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم قریب تر ہوتے جا رہے ہیں، اسرائیل سے سعودی عرب کا فی الحال کوئی تعلق نہیں ہے مسئلہ فلسطین اہم ہے اسے دو طرفہ تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران حل ہونا چاہیے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

    جنوری سے پہلے ٹرمپ،اسرائیل اور سعودی عرب کا کھیل تیار، مبشر لقمان کی زبانی تہلکہ خیز انکشافات

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • عالمی عدالت انصاف،فلسطین پر اسرائیلی قبضہ،پاکستان کامؤقف پیش

    عالمی عدالت انصاف،فلسطین پر اسرائیلی قبضہ،پاکستان کامؤقف پیش

    عالمی عدالت انصاف میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف سماعت کے دوران پاکستان نے اپنا مؤقف پیش کردیا۔

    وزیرِ قانون و انصاف احمد عرفان اسلم نے عالمی عدالت میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا،نگراں وزیرِ قانون احمد عرفان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا حامی رہا ہے،عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کا مؤقف دینا اعزاز ہے۔اسرائیلی مظالم کیخلاف آئی سی جے میں کاروائیاں امید کی کرن ہیں ،امید ہے ان کاروائیوں کے ذریعے فلسطین کا مسئلہ اجاگر ہوگا، پاکستان نے ہمیشہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے معاملے کو اٹھایا ہے،اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق اسرائیل فوری طور پر فلسطین سے اپنی فوج نکالے پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کیا ہے،اسرائیل منظم طریقے سے فلسطین میں نسل کشی کر رہا ہے،فلسطینی عوام کیلئے پاکستان کا مؤقف واضح ہے،

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی دھجیاں بکھیر دیں

    فلسطینی وزیر خارجہ اور اسرائیلی وزیراعظم کا عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر رد عمل

    واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کیخلاف جنوبی افریقہ کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا،عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کی درخواست مسترد کر دی۔ عالمی عدالت انصاف نے فیصلے میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا،حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے حملہ کیا جس سے متعدد فلسطینی شہید ہوئے ، یہ علم میں ہے کہ غزہ میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے ، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں بڑی تعداد میں انفراسٹرکچر تباہ ہوا،غزہ معاملے پر یو این کے کئی اداروں نے قراردادیں بھی پیش کی ہیں ،جنوبی افریقہ نے الزام لگایا اسرائیل نے جینو سائیڈ کنونشن کی خلاف ورزی کی ، عالمی عدالت یہ معاملہ سننے کا اختیار رکھتی ہے ۔نسل کشی کے خلاف فیصلہ سننا ہمارے دائرہ اختیار میں ہے،عالمی عدالت انصاف کو جنیوا کنونشن کے تحت جینوسائیڈ کیس سننے کا اختیار ہے

    عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا جس کے بعد عالمی عدالت میں کارروائی جاری تھی، 11 اور 12 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے دلائل پیش کیے تھے،جنوبی افریقہ نے سماعت کے دوران اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کی استدعا کی تھی

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ گزشتہ برس حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعدغزہ میں سویلین آبادی پر اسرائیلی حملوں پر جنوبی افریقا نے الزام لگایا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کر رہا ہےجنوبی افریقا کی طرف سے جمع کرائےگئے شواہد میں کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائی کا مقصد فلسطینی قومی اور نسلی گروہ کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنا ہے اس مقدمے میں اسرائیلی عوامی بیان بازی اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے فلسطینیوں کی "نسل کشی کے ارادے” کے بیانات کو بھی ثبوت کے طور پیش کیا گیا ہےبین الاقوامی قانون کے تحت، نسل کشی کی تعریف کسی قومی، نسلی، مذہبی گروہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے ایک یا زیادہ کارروائیوں کے ارتکاب سے کی جاتی ہے۔

    جنوبی افریقا چاہتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے اگرچہ اسرائیل اور جنوبی افریقا سمیت تمام فریقین عالمی عدالت کے فیصلےکو ماننے کے پابند ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا، اس لیے یہ یقینی ہےکہ اسرائیل ہمیشہ کی طرح اس طرح کے کسی بھی حکم کو نظر انداز کرے گا اور اس کی تعمیل نہیں کرے گا، 2022 میں، عالمی عدالت انصاف نے روس کو یوکرین میں فوری طور پر فوجی آپریشن معطل کرنے کا حکم دیا لیکن اس حکم کو نظر انداز کر دیا گیا۔

  • اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    دی ہیگ: اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر 1967 سے 57 سالہ اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ہدایت پر عالمی عدالتِ انصاف نے مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر اسرائیل کے قبضے سے متعلق قانونی نتائج جاننے کے لیے سماعت کا آغاز ہو گیا ہے،ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں پیر کے روز شروع ہونے والی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائی ایسے وقت میں شروع ہوئی جب اسرائیل غزہ پر اپنی تباہ کن جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    روئٹرز کے مطابق آج ہونے والی سماعت کا آغاز فلسطین اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی کی تقریر سے ہوا، انہوں نے اس تاریخی کارروائی میں مظلوم اور محکوم فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے کو اپنے لیے اعزاز اور بھاری ذمہ داری قرار دیا، ریاض المالکی نے کہا کہ میں آپ کے سامنے غزہ کے محصور اور اندھا دھند بمباری میں ہلاک، معذور، بھوکے اور بے گھر 23 لاکھ فلسطینیوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے کھڑا ہوں،اسی طرح مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں 35 لاکھ سے زائد فلسطینی بھی استعماری اور نسل پرست اسرائیل کے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔

    ریاض المالکی نے کہا کہ وزیر خارجہ نے اسرائیل میں 70 لاکھ فلسطینیوں کے ساتھ ان کی آبائی سرزمین میں دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہا ہے اور انھیں ان کے گھروں کو واپس جانے سے روک رہا ہےفلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے عدالت کے سامنے 5 مختلف نقشے رکھے اور فلسطین کی آزاد و خود مختار ریاست کے قیام، اسرائیل کے ناجائز قبضے اور جارحیت کے خلاف ٹھوس شواہد بھی پیش کیے جس کے بعد ماہرین مختلف ماہرین قانون اور آرکیولوجسٹ بھی اپنے دلائل کورٹ کے سامنے رکھا جس کے بعد کل سماعت دوبارہ ہوگی۔

    امریکا کی غزہ میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کو …

    واضح رہے کہ ایک ہفتے تک جاری رہنی والی اقوام متحدہ کی اس سماعت کے دوران 52 ممالک اور تین تنظیمیں عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے فلسطین پر قبضے سے متعلق شواہد، دلائل، مؤقف پیش کریں گے اور جرح کی جائے گی،اس بار اقوام متحدہ کی ہدایت پر عالمی عدالتِ انصاف اسرائیل کے فلسطین کے قبضے کے خلاف سماعت کر رہی ہے جب کہ گزشتہ ماہ جنوبی افریقا کی درخواست پر غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پر سماعت ہوچکی ہے۔

    یاد رہے کہ دسمبر 2022 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی عدالت انصاف سے “مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی پالیسیوں اور طرزِ عمل سے پیدا ہونے والے قانونی نتائج” پر ایک غیر پابند “مشاورتی رائے” طلب کی تھی۔

    رواں سال رہائش کی خلاف ورزیوں کی صورت میں عازمین کا معاوضہ واپس کیا جائے …

    اقوام متحدہ نے ہدایت کی تھی کہ اولاً عدالت کو اسرائیل کی فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل خلاف ورزی کے قانونی نتائج کا جائزہ لینا چاہیے جس کا تعلق 1967 سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر طویل قبضے سے ہے دوم اقوام متحدہ نے عالمی عدالتِ انصاف سے اسرائیل کی فلسطینیوں سے متعلق امتیازی قانون سازی اور اقدامات کا قانونی جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی تھی اقوام متحدہ کی ہدایت پر عالمی عدالتِ انصاف اس معاملے پر فوری طور پر اور زیادہ سے زیادہ رواں برس کے آخر تک فیصلہ دےدے گی۔

    روس کو بڑی کامیابی،یوکرین کے اہم قصبےپر قبضہ کر لیا

  • فلسطینی اتھارٹی نے حماس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کردی

    فلسطینی اتھارٹی نے حماس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کردی

    فلسطینی اتھارٹی نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ کا کہنا تھا کہ روس نے حماس سمیت فلسطین کے دیگر تمام گروپوں کو ماسکو مدعو کیا ہے، فسلطینی اتھارٹی کچھ شرائط کے ساتھ حماس سے اتحاد چاہتی ہے، ہمیں فلسطین کے اتحاد کی ضرورت ہے۔

    فلسطینی وزیراعظم کے مطابق شرائط میں مزاحمت سے متعلق مسائل پر تفہیم بھی شامل ہے، ہم دیکھیں گے کہ آیا حماس ہمارے ساتھ آنے کو تیار ہے یا نہیں، ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن حماس تیار نہیں تو یہ ایک الگ بات ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کے غزہ کے علاقے رفح میں بےگھر فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی بمباری سےکل سے اب تک مزید 127 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، اسرائیلی محاصرے اور حملے کے بعد غزہ کا دوسرا بڑا ناصر اسپتال بھی غیر فعال ہوگیا ہے، عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے اسپتال میں 200 مریض پھنسے ہیں، اسرائیلی فوج امدادی ٹیم کو اندر نہیں جانے دے رہی۔

    مقامی اور اقوامِ متحدہ کے صحت کے حکام نے کہا کہ لڑائی، ایندھن کی قلت اور اسرائیلی چھاپوں کی وجہ سے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کا دوسرا بڑا ہسپتال مکمل طور پر بند ہو گیا،اسرائیل جنوبی شہر رفح پر حملے کی تیاری کر رہا ہے جو اب دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ ہے ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری بشمول اسرائیل کے حمایتی امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ بہت زیادہ انسانی مصیبت و ابتلا کا سبب بنےگا۔

    اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے نے غزہ کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا ہے اور اس کے تقریباً تمام باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے، فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ 28,985 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں،غزہ کے بیشتر ہسپتال لڑائی اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے خدمات کی فراہمی سے قاصر ہو گئے ہیں جس کی بنا پر 2.3 ملین کی آبادی صحت کی مناسب نگہداشت سے محروم ہے۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی شہر خان یونس میں الناصر ہسپتال اتوار کی صبح خدمات سے قاصر ہو گیا، ہسپتال نے جنگ کے زخموں اور غزہ میں صحت کے بگڑتے ہوئے بحران سے دوچار مریضوں کو بدستور پناہ دی تھی لیکن ان سب کے علاج کے لیے کوئی بجلی اور کافی عملہ نہیں تھا یہ مکمل طور پر خدمت سے قاصر ہو گیا ہے۔ صرف چار میڈیکل ٹیمیں اور 25 کا عملہ فی الحال سہولت کے اندر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں ہسپتال کو پانی کی سپلائی رک گئی کیونکہ جنریٹر تین دن سے بند تھے، سیوریج کا پانی ایمرجنسی کمروں میں بھر گیا اور بقیہ عملے کے پاس انتہائی نگہداشت والے مریضوں کے علاج کا کوئی طریقہ نہیں تھاآکسیجن کی فراہمی کی کمی کم از کم سات مریضوں کی موت کا سبب بنی، یہ بھی بجلی نہ ہونے کا نتیجہ تھا۔

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ میں خود اسرائیلی فوج کو بھی بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہےکل ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں جاری لڑائیوں میں میگیلان سپیشل ریکونیسنس یونٹ کے دو فوجی زخمی ہوئے جب کہ 7 اکتوبرسے اب تک ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 573 ہو گئی۔

    اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ غزہ پرجنگ کے آغازسے اب تک اس کے 573 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد بھی 2,918 ہو گئی ہے جمعہ کو اسرائیلی فوج نے دو اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک افسر سمیت چھاتہ بردار یونٹ کے 4 ارکان کے زخمی ہونے کا اعلان کیا کل ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے فوجی 27 سالہ اوری یاش کی موت کا اعلان کیا ٹائمز آف اسرائیل نے اطلاع دی ہے کہ مرنے والوں میں "پانچ کرنل بھی شامل ہیں، جو کہ حالیہ یاد میں لڑائی میں مارے گئے سب سے سینیر افسر تھے”۔

  • رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ دوسرے علاقوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے رفح کی طرف گئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گاہیں اور وسیع خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مصر کو لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کا خدشہ ہے جنہیں شاید کبھی واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
    مصر نے رفح پر حملے کے امکان پر کہا ہے کہ اگر اس نے رفح میں فوج بھیجی تو وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو معطل کر دے گا، اس سے محصور علاقے میں سپلائی روٹ بند ہو جائے گا۔ رفح غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔

    تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس بریگیڈ نے خود کو رفح میں رکھا ہوا ہے اور وہ اسرائیلی فوج پر نہ صرف فضائی حملے کر سکتے ہیں بلکہ اسے ایک زمینی اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ صورتحال کسی اور ملک میں حماس اسرائیل جنگ کو بڑھا سکتی ہے۔ اپنے ملک سے فرار ہونے والے پھنسے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیل سینائی میں دھکیل سکتا ہے، جس سے مصر ان دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کو سنبھالنے پر مجبور ہو گا جو ان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خزانے پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    مصر کو 40 ٹینکوں اور بکتر بند اہلکاروں کو غزہ کی سرحد پر منتقل کرنے پر مجبور کرنا پڑا تاکہ اس کی سرحدوں کے اندر کسی بھی منفی جھڑپ سے اس کے علاقے کی حفاظت کی جا سکے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل پہلے ہی رفح پر فضائی حملوں میں روزانہ 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر رہا ہے۔ جگہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ رفح کے 64 مربع کلومیٹر میں سے ہر ایک میں 22,000 لوگوں کا ہجوم ہے۔ یہ علاقہ پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے صحت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے کا پھیلنا،خارش اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، مناسب بیت الخلاء اور نہانے کی سہولیات کے فقدان سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں

    برطانیہ اور امریکہ نے تل ابیب پر زمینی حملے کے لیے دباؤ ڈالا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ یہ حماس کو ختم کرنا اور ان کے اڈے کو تباہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اس سارے عمل میں غائب ہے، وہ کہاں ہے؟