Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • مغربی کنارے پر بھی اسرائیل کے حملے،7 فلسطینی شہید، 2 بچوں سمیت 31 گرفتار

    مغربی کنارے پر بھی اسرائیل کے حملے،7 فلسطینی شہید، 2 بچوں سمیت 31 گرفتار

    غزہ کے بعد مغربی کنارے پر بھی اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی : ، طولکرم پر 15 گھنٹے مسلسل بمباری سے شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ ہو گیا جبکہ طولکرم کے پناہ گزین کیمپ میں گھر پر ڈرون حملے سے 7 فلسطینی شہید ہوگئے،مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج کی چھاپا مار کارروائیوں کے دوران 2 بچوں سمیت 31 فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گیا یہاں تک کہ ایمبولینس میں جانے والے زخمی کو بھی حراست میں لے لیا گیا مغربی کنارے میں فضائی حملوں چھاپوں اور گرفتاریوں سمیت دیگر کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے اسرائیلی بلڈوزروں نے 70 سے زائد گھروں اور 80 دکانوں کو مسمار کر دیا۔

    اسرائیلی افواج کی جانب سے جبالیہ میں 12 رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں مزید 31 فلسطینی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، خان یونس میں گھر پر اسرائیلی بمباری سے ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید ہوگئے، غزہ میں مسلسل 39 ویں روز جاری اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے مزید فلسطینیوں کی شہادتوں کے بعد شہدا کی تعداد 11 ہزار 500 سے متجاوز ہو چکی ہے۔

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    غزہ کا سب سے بڑا ‘الشفاء ہسپتال’ اب کسی چار دیواری کے اندر اور فوجی محاصرے میں ایک یا ایک سے زائد اجتماعی قبروں کا گہوارہ بن جائے گا، منگل کے روز اسرائیلی فوج کے محاصرے میں اور اسرائیلی نشانچی کی گولیوں کی زد میں الشفاء ہسپتال کے اندر زندہ فلسطینی اجتماعی قبر کو کھودنے میں ہی مصروف تھے۔

    ہسپتال کے اندر داخل زخمیوں کی صورت ہلاک ہو جانے والوں کے علاوہ ان ہلاک ہو چکے فلسطینیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اب بے گور وکفن لاشوں کی صورت میں موجود ہے، ان میں بچے بھی ہیں، عورتیں بھی فلسطینی بوڑھے اور جوان بھی، شامل ہیں ،کئی ایسے بھی اب زندوں میں شامل نہیں جو زندہ رہ سکنے کی امید لے کر ہسپتال کو پناہ گاہ سمجھ کر یہاں پہنچے تھے مگر یہیں وہ جاں بحق ہو گئے۔

    یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    پچھلے کئی دنوں سے ہسپتال میں موجود ان کی لاشیں اور اس میں ہر روز ہونے والے اضافے کے باوجود انہیں ہسپتال سے باہر لے جا کر تدفین کی صورت پیدا کرنا ممکن نہیں رہا ہے اب زندہ رہ گئے مگر موت کے سائے میں پڑے ان کے فلسطینی بھائی منگل کے روز انہی کے لیے اجتماعی قبرتیار کر رہے تھے۔

    اسرائیلی فوج نے الشفاء ہسپتال کو یہ کہہ کر پورا غزہ تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ گھیرے میں لے رکھا ہے کہ اسے ابھی بھی خوف ہے کہ حماس کے جنگجو ہسپتال سے نکل کر حملہ کر دیں گے اس لیے وہ ہسپتال کو حماس کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر بیان کر رہا ہے حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

    غزہ الشفاء اسپتال میں نوزائدہ بچے خطرے سے دوچار

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری اداروں پر قبضے کا دعویٰ کر دیا اسرائیلی افواج کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں تیسرے بڑے پناہ گزین کیمپ الشاطئی پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا گیا تاہم حماس نے اسرائیلی فوج کے دعوے مسترد کر دئیے،حماس کا کہنا تھا کہ خالی اور پہلے سے تباہ کی گئی عمارتوں پر خیالی قبضے کا اسرائیلی دعویٰ فتح ظاہر کرنے کی ناکام کوشش ہے۔

  • یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیلی خاندانوں کا نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ

    حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے

    مارچ میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شرکا نے بینرز پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں،انکا مطالبہ ہے کہ یرغمالی افراد کو رہا کروایا جائے.اسرائیلی خاندانوں نے تل ابیب سے یروشلم تک پانچ روزہ مارچ کا آغاز کیا،حماس نے تقریبا 240 افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں‌سے چار افراد کو رہا کیا گیاہے، یرغمالیوں کی عمریں نوماہ سے 85 سال کے درمیان ہیں،

    اسرائیلی فوج حماس کو تباہ کرنے کے حکم کے ساتھ غزہ میں مسلسل بمباری کر رہی ہے، ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، ایسے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یرغمالیوں کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے مزید کچھ نہیں کر رہے ہیں۔

    مارچ میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ "میں بنجمن نیتن یاہو اور کابینہ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ہمیں جوابات اور اقدامات فراہم کریں،میرے 21 سالہ بیٹے عمر کو حماس والے اپنے ساتھ لے گئے تھے،مارچ میں شریک ایک خاتون انتہائی جذباتی تھیں اور وہ اپنے بیٹے کے لئے حکومت سے انکی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں،خاتون مسلسل تم کہاں ہو، تم کہاں ہو،کہہ رہی تھیں، حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید 275 خواتین اور بچوں کی رہائی کے بدلے یرغمال بنائے گئے 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کا کہا تھا تا ہم اسرائیل کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اب تک جنگ بندی کی کسی بھی بات کو مسترد کرتے ہوئے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وہ صرف اسی صورت میں لڑائی کو روکنے کے لیے تیار ہوں گے جب تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے۔ معاہدے کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ حماس پر فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ساحلی علاقے کا کنٹرول کھو چکی ہے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 11,100 سے زائد فلسطینی، جن میں سے 40 فیصد کے قریب بچے ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ کے عسکریت پسندوں نے اب تک چار یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک یرغمال فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی، جس کے بارے میں حماس کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی حملے میں مارا گیا تھا۔

    تل ابیب کے مارچ کرنے والے ہفتہ کو 65 کلومیٹر (40 میل) دور یروشلم میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے اپنا احتجاج ختم کریں گے۔72 سالہ یرغمالی آدینا موشے کے بھتیجے امیت زچ نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ ہم اچھے ہاتھوں میں ہیں۔ ہمیں ایسا نہیں لگتا کہ ہمیں کافی معلومات حاصل ہیں۔ ہم اندھیرے میں گر گئے۔ ہمیں جواب چاہیے،” .”میرے پاس کوئی حل نہیں ہے، لیکن حل نکالنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ میرا کام ہے کہ اپنے خاندان سے واپسی کا مطالبہ کروں،” اسیروں کی تصویریں اٹھائے ہوئے، مارچ کے شرکاء نے نعرے لگائے "انہیں ابھی گھر لے آؤ!” ایک آدمی چلایا: "سب!”

    القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا ہے کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں،ان دنوں مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے،ساتھ فلسطینی خواتین اور بچوں کو بھی رہا کیا جائے جو اسرائیلی جیلوں میں،قبل ازیں ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں، دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا

    حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق
    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں موجود اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،اسرائیلی فوج نے حماس کی قید میں19 سالہ خاتون فوجی کارپورل نوا مارسیانو کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کو اطلاع کر دی،اسرائیلی خاتون فوجی نوا مارسیانو کو 7 اکتوبر کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون فوجی نوا مارسیانو 9 نومبر کو اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئیں، تاہم اس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی

    غزہ میں بارش،فلسطینی شہریوں کے لئے ایک اور امتحان
    علاوہ ازیں غزہ میں بارش برسی ہے، جو فلسطینیوں کے لئے ایک امتحان بن گئی ہے،اسرائیلی بمباری سے گھر ملیا میٹ ہو چکے ایسے میں بارش ،شہری کھلے آسمان تلے بارش میں بھیگتے رہے تو کم سن بچے بارش میں کھیلتےرہے،بے گھر شہریوں‌کے لیے لگائے گئے خیموں میں بھی بارش کا پانی داخل ہو گیا، اس سے شہریون کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، اقوام متحدہ کی 150 عمارتوں میں 7 لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں،اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی نے بارشوں سے کیمپوں میں متعدی بیماریاں پھیلنےکا خدشہ ظاہرکیا ہے

    اسرائیل کا اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ
    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی سربراہی کے لئے موزوں نہیں رہے، انہوں نے خطے میں امن کو فروغ نہیں دیا، سب کو کہنا چاہئے کہ غزہ سے حماس کی جان چھڑاؤ،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اسرائیلی وزیر نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی سی آر سی غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے۔دوسری طرف اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد اردن نے بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کےاستعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا،

    یرغمالیوں کی رہائی، بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے، امریکی صدر
    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہم یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے کافی سرگرم ہیں اور بہت جلد مثبت نتیجہ نکلنے والا ہے ۔ صدرجو بائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کے لیے کوئی پیغام ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ وہیں ٹھہرو، ہم آ رہے ہیں۔امریکی صدر جوبائیڈن اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے روزانہ بات چیت میں مصروف ہیں۔ میں ہر دن ملوث لوگوں سے بات کرتا رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہونے والا ہے، لیکن میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا

    دوسری جانب یورپ اور لاطینی امریکہ کے ساٹھ سے زیادہ بائیں بازو کے سیاست دانوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی سے اسرائیلی لیڈران کی نسل کشی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ہسپانوی وزیر برائے سماجی حقوق Ione Belarra نے کہا کہ ہم اپنی خاموشی اور تعاون سے نسل کشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر آپ بروقت ظلم کو نہیں روکتے ہیں، تو یہ آپ کو اپنے ساتھ گھسیٹ لے گا۔اس پٹیشن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے نام شامل ہیں، ان پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے،پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے پاس نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں،

    اسرائیل کی غزہ پر ایک طرف بمباری جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ٹینکس کمپلیکس میں‌داخل ہوئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کیا جا رہا ہے، حماس نے الشفا ہسپتال میں اپنا ٹھکانہ بنا رکھا تھا،حماس نے الشفا ہسپتال پر حملے کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دیا، وائیٹ ہاؤس نے بھی اسرائیلی زبان بولتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے غزہ کے الشفا ہسپتال میں ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کررکھا ہے حما س نے وہاں اسلحہ جمع کر رکھا ہے،ترجمان الشفا ہسپتال کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج شفاہسپتال کے بیسمنٹ تک پہنچ گئی اور بیسمنٹ کی تلاشی شروع کردی ہے،شفا اسپتال میں محفوظ راہداری سے گزرنے والوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ بھی کی.

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی پر تیار

    القسام بریگیڈ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین اور بچوں کی رہائی پر تیار

    مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے 5 دن کی جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمال خواتین و بچوں کی رہائی پر تیار ہے-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق القسام بریگیڈز کےترجمان ابوعبیدہ نے آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں القسام بریگیڈز کے ترجمان نےکہا کہ قطری ثالثوں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ 5 روزہ جنگ بندی کے بدلے غزہ میں قید 70 خواتین اور بچوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں، قطری ثالثیوں کو بتایاکہ5 روز کے دوران مکمل جنگ بندی اور ہر انسانی امداد کی اجازت ہونی چاہیے۔

    قبل ازیں ایک ویڈیو بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ کا کہنا تھاکہ ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    واضح رہے کہ غزہ میں مسلسل 38 ویں روزبھی اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری ہے، 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 11 ہزار 240 سے زیادہ ہوگئی ہے،امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کے الشفا اسپتال کو بچانا ہوگا، اس معاملے پر اسرائیلی حکام سے رابطے میں بھی ہوں،پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امید اور توقع ہے کہ اسپتال کے حوالے سے کم دخل اندازی کی جائے گی، قطر کی مدد سے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پربھی بات چیت جاری ہے۔

    اسرائیلی فوج کے الشفا اسپتال کے محاصرے پر امریکی صدر کا ردعمل

  • حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کردینا چاہئے، اسرائیلی وزیر

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے،دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی لیکن اسرائیل حملوں سے باز نہیں آ رہا، ایسے میں اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتماربن گویر نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی حمایت کرنے والوں کو ختم کر دینا چاہئے

    امریکا اور اسرائیل میں دہشتگرد قرار دی گئی تنظیم کا حصہ رہنے والے اسرائیلی وزیر نے حال ہی میں غیر قانونی یہودی بستیوں میں 25000 ہتھیاروں کے علاوہ گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان تقسیم کیا ،

    اتمار بن گویر نسل پرست یہودی تنظیم کے سابق رکن تھے جس پر اسرائیل نے 1998 میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے باعث پابندی عائد کر دی تھی،اسرائیلی وزیر کے پرتشدد عقائد کے باعث انہیں فوجی خدمات کی انجام دہی سے بھی روک دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو گرفتار بھی کرنا شروع کر دیا ہے،غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مقبوضہ مغربی پٹی میں اسرائیلی افواج کی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں بے انتہا شدت آگئی ہے

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    جنگ بندی کے لئے اور کتنی شہادتیں چاہئے؟ شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت عالمی دنیا کی بے بسی دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے،عالمی ادارے اور دنیا 7 اکتوبر سے جاری معصوم اور نہتے فلسطینیوں کا قتل عام روکنے میں ابھی تک ناکام ہوئے ہیں،11 ہزار سے زائد فلسطینوں کو شہید کیا گیا ہے جس میں 4506 بچے ہیںاعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے یومیہ 320 فلسطینیوں کا قتل کیا ہے،بمباری کرکے ہسپتالوں کو قبرستان بنایا گیا ہے، غزہ کے مناظر عالمی دنیا کے اخلاقی معیار پر بدنما داغ ہیں،جنگ بندی کیلئے اسرائیل اور عالمی دنیا کو معصوم فلسطینیوں اور بچوں کی مزید کتنی شہادتیں چاہئیں؟

    مسلسل اسرائیلی بمباری، غزہ کا الشفا ہسپتال غیر فعال
    اسرائیل نے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری کی ہے،غزہ کا مرکزی ہسپتال الشفا مسلسل بمباری کی وجہ سے غیر فعال ہو چکا ہے، عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کر دی ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق الشفا ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا،ہسپتال اور اسکے گردونواح میں اسرائیل نے مسلسل بمباری کی، جس کی وجہ سے حالات تشویشناک ہو گئے، ایسے میں طبی عملے کا کام جاری رکھنا ممکن نہیں،حماس کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ پٹی کے تمام اسپتالوں میں کام بند ہوگیا ہے،
    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال میں تقریباً دو ہزار لوگ موجود ہیں جن میں مریض، طبی عملہ اور بے گھر افراد بھی شامل ہیں

    عالمی ادارہ صحت نے اسرائیل سے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنگ بندی نہیں ہو گی،الشفاء ہسپتال کے ایک سرجن ڈاکٹر مروان ابوسدا نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ وسائل کی شدید کمی کا مطلب ہے کہ تین بچے مر چکے ہیں اور مزید 36 کو فوری خطرہ لاحق ہے۔ہسپتال میں طبی سہولت، بجلی اور پانی کی کمی تھی،بمباری نے سب کچھ تباہ کر دیا،

    حماس کے مطابق اسرائیل نے جان بوجھ کر الشفا ہسپتال کے شعبہ جات پر فائرنگ کی اور ایک کارکن کو زخمی کر دیا جس نے الیکٹرک جنریٹر کا معائنہ کرنے کی کوشش کی تھی،قبل ازیں، اسرائیل کی دفاعی افواج نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اس نے فوری طبی مقاصد کے لیے 300 لیٹر ایندھن الشفا کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حماس کی جانب سے یہ سہولت قبول نہیں کی گئی،اسرائیلی فوج یہ کہہ کر ہسپتالوں پر اپنے حملوں کا جواز پیش کرتی ہے کہ وہاں حماس کے فوجی ٹھکانے، اہلکار موجود ہیں.

    مسلسل بمباری کے بعد اسرائیلی فوج اب الشفا ہسپتال کے دروازوں تک پہنچی ہے، طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہسپتال غیر فعال ہو چکی ،اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے، بجلی کے جنریٹرز کے لیے ایندھن نہ ہونے کے باعث وہ مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں،الشفا ہسپتال میں شہریوں نے بھی پناہ لے رکھی تھی، ہزاروں شہری ہسپتال کے اندر موجود ہیں ،اسرائیلی فوج کا دعویٰ کے کہ الشفا ہسپتال پر انکاکنٹرول سے شمالی غزہ کے 50 فیصد حصے پر اس کا قبضہ ہو جائے گا

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق الشفا ہسپتال کے اندر 650 مریض، 500 عملے کے افراد اور ڈھائی ہزار کے قریب بے گھر افراد موجود ہیں،اسرائیلی فوج کے ٹینک الشفا ہسپتال کے دروازے کے باہرموجود ہیں،وہیں اسرائیل ڈرونز کے ذریعے ہسپتال پر حملے کر رہا ہے، ان حملوں کی وجہ سے طبی عملے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے سی این این کو بتایا کہ الشفاء ہسپتال کے اندر کے حالات "تباہ کن” ہیں، تقریباً 7,000 افراد ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں 1500 مریض اور طبی عملے کے اراکین شامل ہیں۔ ہسپتال نے اسرائیلی فوج سے ہر گھنٹے میں 600 لیٹر ایندھن طلب کیا ہے تاکہ اس کے جنریٹرز کو بجلی فراہم کی جا سکے لیکن فوج نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ہم نے اسرائیلی فوج کو بتایا کہ انہوں نے جو 300 لیٹر ایندھن کی پیشکش کی ہے وہ ہسپتال کو 30 منٹ تک چلانے کے لیے کافی نہیں ہے،اب بچوں کے لیے پانی، خوراک، دودھ نہیں ہے.الشفاء ہسپتال غزہ کی وزارت صحت کے تحت آتا ہے جس پر حماس کا کنٹرول ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کا ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی عمارت کے نیچے ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور حماس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    سی این این نے العربیہ نیٹ ورک کے ایک رپورٹر، خدر الزانون سے بھی بات کی، جو ہسپتال کے اندر ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ہسپتال اور اس کے صحن میں کیا ہو رہا ہے اس کی اطلاع دینا ہمارے لیے تقریباً ناممکن ہے، ہمارے پاس بمشکل سگنل آ رہے،لیکن انٹرنیٹ نہیں ہے،کوئی بھی ہسپتال سے باہر جانے کی ہمت نہیں کر سکتا، ہمیں معلوم ہے کہ ان عمارتوں میں کچھ لوگ موجود ہیں لیکن ایمبولینسز ہسپتال سے باہر نہیں نکل پاتی ہیں کیونکہ پچھلے دنوں ہسپتال سے باہر جاتے ہوئے ایک ایمبولینس کو ٹکر مار دی گئی تھی

    فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے پیر کے روز غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے قریب "شدید فائرنگ” کی اطلاع دی۔سی این این کے مطابق ہلال احمر سوسائٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ القدس ہسپتال کے قریب اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی، علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،اسرائیلی حملوں کی وجہ سے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،غزہ کا دوسرا بڑا ہسپتال القدس بھی مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، ایندھن کی کمی اور بجلی کی بندش کی وجہ سے ہسپتال اب کام نہیں کر رہا،

  • صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے  انخلا میں تعاون کی پیشکش

    صیہونی فوج کی غزہ کے اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش

    غزہ: صیہونی فوج نے غزہ کے الشفا اسپتال سے فلسطینیوں کے انخلا میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    باغی ٹی وی :فلسطینی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے الشفا میڈیکل اسپتال کے اندرونی صحنوں کو نشانہ بنایا ہے، الشفا اسپتال میں اسرائیلی حملے کے بعد آگ بھی بھڑک اٹھی تاہم بعد ازاں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کے سب سے بڑے الشفااسپتال سے انخلا میں تعاون کریں گے، اتوار کو الشفا اسپتال سےبچوں کونکالنےمیں مدد کریں گے۔

    الشفا اسپتال میں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے، صہیونی فوج نے اسپتال کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لےرکھا ہےاسپتال آنےیا جانےوالوں کو تاک تاک کرگولیاں بھی ماری جا رہی ہیں الشفا اسپتال میں ایندھن اور آکسیجن ختم ہونے پر انتالیس بچوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا جبکہ شہدا کی تعداد 11 ہزار ایک سو سے بڑھ گئی، 27 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوگئے، وزارت صحت کے مطابق، چاراسپتالوں کے اطراف اسرائیلی ٹینکس تعینات ہیں، غزہ سے دو لاکھ فلسطینی دو دن میں جنوب منتقل ہوگئے۔

    دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے ،ترجمان القسام بریگیڈز

    اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر غزہ پر قبضے کا ارادہ ظاہر کردیا، جنگ بندی کے بڑھتے ہوئے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ کا سیکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے گا فلسطینی اتھارٹی کا کوئی کردار نہیں ہوگا، حزب اللہ نے جنگ کی غلطی کی تو یہ اس کی آخری غلطی ہوگی، لبنان میں وہی ہوگا جو ہم غزہ میں کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فو ج نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس شمالی غزہ کا کنٹرول کھو چکی ہے، حماس کی ہدایات کےخلاف رہائشیوں نے جنوب کی طرف انخلا کیا ہے۔

    اسرائیل کی رات گئے غزہ پر بمباری اور گولہ باری

    دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ دشمن کو ایک دن یا ایک گھنٹہ بھی سکون نہیں ملے گا، دشمن اپنی جارحیت کی قیمت چکائے گا ایک بیان میں القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 160 سے زیادہ اسرائیلی فوجی اہداف کومکمل یاجزوی تباہ کردیا، گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی 25 سے زیادہ گاڑیوں کو مکمل تباہ کیا، اسرائیلی فوج سے لڑائی برابری کی نہیں ہے، حماس سے لڑائی نے خطے کی سب سے طاقتور فوج کو خوفزدہ اور پریشان کردیا ہے، اسرائیلی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور شدید زمینی جھڑپیں ہو رہی ہیں، ہمارے جنگجو زیر زمین، زمین پر اور ملبے کے نیچے سے حملے کرکے دشمن کو سرپرائز دے رہے ہیں، ہمارے جنگجو دشمن کےٹینکوں اور بلڈوزروں کو تباہ کر رہے ہیں، اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہی مقصد حاصل کیا ہے اور وہ قتل عام اور مظالم ہیں۔

    کینیڈا میں سکھ شہری نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 11 سالہ بیٹے سمیت قتل

  • عرب لیگ،اسرائیل کو تیل  ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    عرب لیگ،اسرائیل کو تیل ،فضائی حدود کی بندش کی تجاویز مسترد

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کااجلاس جاری ہے
    او آئی سے اجلاس سے قبل اعلامئے کو حتمی شکل دینے کے لئے عرب لیگ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے تیل پر پابندی کی تجویز کو مسترد کر دیا

    او آئی سی کے اجلاس سے قبل، عرب لیگ کا اجلاس ہوا،جس میں پیش کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے منصوبے ختم کرنا ہو گا، عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں کی بندش کرنی ہو گی، تیل کی بندش کی مشترکہ دھمکی دی جائے گی، اسرائیل کے ساتھ سویلین پروازوں کی معطلی اور اسرائیل کی ہر قسم کی پروازوں کیلئے فضائی بندش کرنی ہو گی، تمام مطالبات کو فوری جنگ بندی سے مشروط کرنا ہو گا

    اس اجلاس میں چار ممالک سعودی عرب،بحرین، مراکش، عرب امارات نے ان تجاویز کومسترد کر دیا،تیل پر پابندی اور تعلقات کے بائیکاٹ کے حوالہ سے او آئی سی اجلاس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی قابض افواج کو ہماری زمین سے نکلنا ہوگا، ہمیں صہیونی ریاست سے نجات کیلئے مزاحمت اور حماس کی حمایت کرنی ہوگی،صیہونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم ہونے چاہیے اسلامی ممالک اسرائیل کےخلاف تیل اور دیگرچیزوں کی پابندی لگائیں، اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں

    دوسری جانب او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی ہے،اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے فلسطینی عوام کی مکمل حمایت اور فلسطینی کاز کے دفاع کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا انہوں نے غزہ کے عوام پر ان حملوں کے خلاف جنگ بندی، امداد کی مسلسل ترسیل کے لیے محفوظ راستے کھولنے اور فلسطینی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔او آئی سی سیکرٹری جنرل نے فلسطینی عوام کو نشانہ بنانے،جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قابض حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مناسب اقدامات کرے۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور جامع حل کے لیے ایک بین الاقوامی پرامن حل کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جس سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو.انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سربراہی اجلاس فلسطینی کاز کو پورا کرنے والے مقاصد کو حاصل کرے گا۔

    عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے غزہ میں نسل کشی کی کارروائیوں پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ پہلی نہیں ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ آخری جنگ ہوگی۔سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ عالمی ضمیر کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ غزہ میں اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔انہوں نے جبری نقل مکانی کی تمام شکلوں میں سختی سے مخالفت کی، اسے ایک بین الاقوامی جرم اور انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی سمجھا۔

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں ہسپتالوں پر بمباری،بلاول خاموش نہ رہ سکے

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ میں اسپتالوں پر بمباری کی مذمت کی ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ غزہ میں الشفاء، العودہ، القدس اور انڈونیشین اسپتال کو اسرائیلی فوجیوں نے نشانہ بناکر دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی، اسپتالوں میں زیرعلاج بچے اور بزرگ اسرائیلی درندگی اور بربریت کا شکار ہوگئے، عالمی برادری مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے،اسرائیل بچوں، بزرگوں اور عورتوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے تاکہ خوف پیدا کرکے غزہ سے وہ عوامی انخلاء کو ممکن بناسکے، غزہ میں ہر 10 منٹ میں اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں ایک بچہ شہید ہورہا ہے اور نیتن یاہو سیز فائر سے انکار کررہا ہے،امید کرتا ہوں کہ سعودی عرب میں آج غزہ میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والی سمٹ فیصلہ کن ثابت ہوگی،

    واضح رہے کہ غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ کے الشفا ہسپتال میں بمباری سے تباہ کن صورتحال

    غزہ پر سات اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اسرائیل کے حملوں‌میں 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں ،اسرائیل نے ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا، گزشتہ روز سے اسرائیل نے الشفا ہسپتال سمیت کئی ہسپتالوں پر بمباری کی،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتال حماس اہلکاروں کے محفوظ ٹھکانے ہیں

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے الشفا ہسپتال میں ‘تباہ کن صورتحال’ پر تشویش کا اظہار کیا۔امدادی ایجنسی ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے ایک سرجن کا حوالہ دیا ہے جس میں غزہ شہر کے الشفا ہسپتال کے اندر "تباہ کن صورتحال” پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے "گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران، الشفا ہسپتال کے خلاف حملوں میں ڈرامائی طور پر شدت آئی ہے۔ایک سرجن کا کہنا ہے کہ ایک مریض جسے سرجری کی ضرورت ہے۔ ہم خود کو نہیں نکال سکتے اور ان لوگوں کو اندر نہیں چھوڑ سکتے۔ بطور ڈاکٹرمیں ان لوگوں کی مدد کرنے کی قسم کھاتا ہوں جنہیں مدد کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا کہ وہ فی الحال ہسپتال میں اپنے کسی عملے سے رابطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ہم فوری طور پر ہسپتالوں کے خلاف حملوں کو روکنے اور طبی سہولیات، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں.

    اسرائیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ الشفاء اسپتال حماس اہلکاروں کا محفوظ ٹھکانہ ہےالبتہ حماس نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے، الجزیرہ نے الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ سے بات کی ہے۔ڈائریکٹر محمد ابوسلیمہ کا کہنا تھا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے جانیں گنوانا شروع کر دی ہیں۔ مریض لمحہ بہ لمحہ مر رہے ہیں، متاثرین اور زخمی بھی مر رہے ہیں – ہم نے انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک نوجوان کو بھی کھو دیا۔ غزہ شہر میں واقع ہسپتال کو بجلی، انٹرنیٹ اور پانی اور طبی سامان کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے۔

    دار الشفاء ہسپتال، جس کے نام کا ترجمہ "شفا کا گھر” ہے، طویل عرصے سے اسرائیلی حملوں کے دوران ایک اہم پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینی بمباری سے اس لیے ہسپتالوں میں پہنچے کہ انہیں امید تھی کہ وہ علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال کے گراؤنڈ میں محفوظ رہیں گے

    غزہ کے الشفا اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں 39 بچے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت کے منہ میں ہیں، ایک بچے کی موت ہو گئی ہے ،الشفا ہسپتال پر اسرائیل نے مسلسل بمباری کی ، بعد میں ہسپتال کی بجلی بھی بند کر د ی گئی،الشفا ہسپتال کو مکمل خالی کروا لیا گیا ہے، آج صبح ایک شخص کو ہسپتال میں داخل ہونے پر گولی مار دی گئی،

    غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ سب سے بڑے الشفا ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن ختم ہونے کے بعد ہفتے کے روز آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔ غزہ کے اسپتالوں میں مریضوں کو ناگزیر موت کا سامنا ہے، وہ اسرائیل اور عالمی برادری کو اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔”غزہ کے 30 ہسپتالوں میں سے اب 20 مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیل کو دفاع کا  حق حاصل،مگر شہریوں پر بمباری روکے،فرانسیسی صدر

    اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل،مگر شہریوں پر بمباری روکے،فرانسیسی صدر

    فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پر بمباری اور فلسطینیوں کا قتل عام بند کرے

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن غزہ میں عام شہریوں پر اسرائیلی بمباری کا کوئی جواز نہیں ہے اسرائیل غزہ میں بمباری بند کرے غزہ پر حملوں میں بچے، خواتین اور بزرگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،پیرس میں ہونے والی انسانی بنیادوں پر امداد سے متعلق کانفرنس میں شریک تمام شرکا کا واضح مؤقف تھا کہ اس کے علاوہ دوسرا کوئی حل نہیں ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی جائے جس سے تمام شہریوں کی حفاظت ممکن ہو سکے

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر کے انٹرویو پر ردعمل میں کہا کہ حماس جو جرائم آج غزہ میں کر رہی ہے وہ کل پیرس، نیو یارک اور دنیا میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں

    سات اکتوبرکو حماس کے حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں زخمی تو لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں،بے گھر افراد اقوام متحدہ کے کیمپوں میں مقیم ہیں، یا ہسپتالوں میں، لیکن اسرائیل نے اب ہسپتالوں‌کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتالوں میں حماس اراکین موجود ہیں

    اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ غزہ کے شمال میں امدادی ٹرک پہنچانے سے قاصر ہے جہاں اب بھی لاکھوں افراد مقیم ہیں، اگر دنیا پر کوئی جہنم ہے تو وہ شمالی غزہ ہے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے بڑی تباہی پھیلانے والے دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ اس طرح کے ہتھیاروں کا استعمال محصور فلسطینی علاقے میں اندھا دھند تباہی پھیلا رہا ہے

    اسرائیلی بمباری میں حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کی پوتی رؤی ہمام اسماعیل ہنیہ شہید ہو گئی ہیں،وہ اسلامی یونیورسٹی آف غزہ میں زیر تعلیم تھیں، وہ براق اسکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوئی ہیں،حماس سے منسلک اکاؤنٹس سے بھی اسماعیل ہنیہ کی پوتی کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بمباری سےغزہ میں یرغمال اسرائیلی خاتون فوجی اہلکار ہلاک

    اسرائیلی بمباری سےغزہ میں یرغمال اسرائیلی خاتون فوجی اہلکار ہلاک

    اسرائیل کی غزہ میں بمباری کے نتیجے میں ایک اور اسرائیلی یرغمالی فوجی ہلاک ہو گیا ہے

    حماس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں ایک اسرائیل کی خاتون فوجی اہلکار کی موت ہو گئی ہے،اب تک اسرائیلی حملوں میں 61 یرغمالی اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں، اسرائیلی بمباری سے آج ایک اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوا ہے،ہلاک اسرائیلی فوجی کی شناخت فاؤل عزائی کے طور پر ہوئی، جسے حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنایاتھا.حماس کے اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی تھی جو ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں گیارہ ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، دوسری جانب اسرائیل میں 16 سو کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں

    دوسری جانب اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے سے لگاتار پانچویں ہفتے بھی روکے رکھا، اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پرپابندی عائد کر رکھی تھی،تاہم فلسطینی پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ پہنچے، چار ہزار کے قریب افراد نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی،مسجد اقصیٰ کے گردونواح والی سڑکوں پر اسرائیلی فوج تعینات تھی،مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی کے بعد سنیکڑوں فلسطینیوں کو اولڈ سٹی ایریا کے قریب سڑکوں پر نماز جمعہ ادا کرنے پر مجبور کیا گیا.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان