Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !

  • اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، دو ہفتے سے جاری بمباری میں چار ہزار سات سو سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 15ہزار کے قریب شہری زخمی ہیں،زخمیوں میں ستر فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں،غزہ میں عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہسپتالوں، سکولوں پر بمباری کی گئی ہے، بجلی، پانی بند ہے، خوراک کی کمی ہو چکی ہے،

    غزہ میں اموات اتنی ہو رہی ہیں کہ شہریوں نے لاشوں کی شناخت کے لئے اپنے بچوں کے جسم پر انکے نام لکھوانا شروع کر دیئے ہیں تا کہ اسرائیلی بمباری سے انکی موت کی صورت میں بچوں کو نام سے پہچان سکیں،اسرائیل نے ہسپتالوں پر بھی بمباری کی وارننگ دی ہے،عالمی دنیا کے احتجاج کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے نہیں روک رہا،امریکہ،برطانیہ سمیت کئی ممالک کی اسرائیل کو شہہ حاصل ہے،اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ پناہ گزین ایجنسی کے لئے کام کرنے والے اساتذہ سمیت 29 اقوام متحدہ اہلکار بھی مارے جا چکے ہیں، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 31 مساجد بھی شہید ہو چکی ہیں.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی مصنفہ اور شاعرہ حبا ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید

    غزہ کی معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا کمال ابو ندا اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں ہیں اور حبا ابو ندا 1991 میں سعودی عرب میں مقیم بیت جرجا کے ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔


    ان کا خاندان 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران صیہونیوں کی جانب سے جبری طور پر بےگھر کیا گیا تھا۔ حبا نے غزہ یونیورسٹی سے کلینیکل نیوٹریشن میں ماسٹر کیا تھا اور یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں بھی ماسٹر ڈگری لی تھی انہوں نے اب تک شادی نہیں کی تھی ۔
    32 سالہ حبا ابو ندا نے” آکسیجن از ناٹ فار دا ڈیڈ” نامی ناول لکھا تھا۔ حبا ابو ندا نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ اگر ہم مرجائیں تو جان لیں کہ ہم ثابت قدم ہیں اور ہم سچے ہیں۔

    هبة أبو ندى کی آخری فیس بک پوسٹ
    سپریم کورٹ نے ملک ریاض نوٹس جاری کر دی
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    پارلیمنٹ 2سے 3ماہ میں وجود میں آ جائے گی. خواجہ محمد آصف
    نحنُ في غزة عند الله بين شهيد وشاهد على التحرير وكلنا ننتظر أين سنكون.
    كلنا ننتظر اللهم وعدك الحق.
    جبکہ 2 روز قبل انگریزی میں پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہم نہ چیخ اور چلا سکتے ہیں ہم اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں سے نہ مل سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہو سکتے ہیں اور ہم موت کے دہانے پر کھڑے ہیں اور کسی بھی وقت مر سکتے ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • کمپنی کا اسرائیلی پولیس کیلئے یونیفارمز بنانے سے انکار

    کمپنی کا اسرائیلی پولیس کیلئے یونیفارمز بنانے سے انکار

    ملبوسات بنانے والی ایک ہندوستانی کمپنی نے غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے مہلک حملوں کے بعد تناظر میں اسرائیلی پولیس کیلئے یونیفارمز بنانے سے انکار کردیا جبکہ جنوبی ریاست کیرالہ کے کنور ضلع میں قائم میریان اپیرل پرائیویٹ لمیٹڈ“ 2015 سے اسرائیلی پولیس افسران کے لیے ملبوسات فراہم کر رہی ہے اور اس ہفتے اس نے اپنے اتنے بڑے گاہک سے تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    خیال رہے کہ کمپنی کے ڈائریکٹر تھامس اولیکل نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ معصوم عام لوگوں کا قتل ہے اور کمپنی نے اس فیصلے کا اعلان وسطی غزہ کے العہلی العربی اسپتال پر بمباری کے بعد کیا ہے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے شامل تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین

    جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے اس بمباری کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے حالانکہ اس نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا ہے واضح رہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں مریض اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو روزانہ ہو رہے اسرائیلی فضائی حملوں سے بچنے کیلئے اسپتال کے احاطے میں پناہ لیے ہوئے تھے، اولیکل نے کہا کہ اسپتال پر حملے اور 500 بے گناہ لوگوں کی ہلاکت نے واقعی ہمیں پریشان کر دیا ہے۔

  • ایندھن کی کمی؛ غزہ ،    انکیوبیٹرز میں  120 نوزائیدہ بچے خطرے میں

    ایندھن کی کمی؛ غزہ ، انکیوبیٹرز میں 120 نوزائیدہ بچے خطرے میں

    اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کے ترجمان نے غزہ میں بچوں کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں 120 نوزائیدہ بچے انکیوبیٹرز میں ہیں، ایندھن کی کمی سےاسپتالوں کا آپریشن معطل ہونے پر ان بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے جبکہ یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت 120 نوزائیدہ بچے ہیں جو انکیوبیٹرز میں ہیں، جن میں سے 70 نوزائیدہ بچے میکینکل وینٹیلیشن پر ہیں، اور اسی وجہ سے ہم انتہائی فکر مند ہیں۔


    جبکہ انہوں نے کہا کہ اگر مکینیکل وینٹیلیشن انکیوبیٹرز بچے میں رکھے ہوں اور بجلی کٹ جائے تو ہمیں ان کی زندگیوں کے بارے میں فکر ہے اور غزہ کی وزارت صحت نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے 130 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس، نو مزید ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین
    تاہم اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق، غزہ میں ہر روز تقریباً 160 خواتین بچے کو جنم دیتی ہیں، جس کے اندازے کے مطابق 2.4 ملین آبادی والے علاقے میں 50,000 حاملہ خواتین ہیں اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صرف 3 دن کا ایندھن بچا ہے، ایندھن کے بغیر نہ پانی ہوگا اور نہ خوراک، اسپتال بھی کام کرنا بند کردیں گے، انسانی امداد رک جائے گی۔

  • فلسطینیوں سے یکجہتی،مینار پاکستان گراؤنڈ میں فلسطینی پرچم نصب

    فلسطینیوں سے یکجہتی،مینار پاکستان گراؤنڈ میں فلسطینی پرچم نصب

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے متاثر مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئیے مینار پاکستان جلسہ میں فلسطینی جھنڈے لہرا دئیے گئے

    فلسطینی جھنڈے گیٹ نمبر پانچ کے قریب باقاعدہ بڑے پولز کے اوپر نصب کیے گئے ہیں ،کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئیے آزاد کشمیر کے جھنڈے بھی جلسہ گاہ کی زینت بن گئے ہیں، مرکزی سٹیج پر بھی فلسطین کے جھنڈے لگائے گئے ہیں،

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے،نواز شریف کی واپسی پر مینار پاکستان گراؤنڈ میں آج ن لیگ کا جلسہ ہے، جلسے میں پاکستان بھر سے کارکنان کی آمد جاری ہے،جلسے سے صرف نواز شریف کا خطاب ہو گیا، نواز شریف تقریبا 45 منٹ جلسے سے خطاب کریں گے، نواز شریف پاکستان آمد پر ن لیگی کارکنان کو اپنا بیانیہ دیں گے،جلسے میں سیکورٹی کے بھر پور انتظامات کئے گئے ہیں،خواتین کے لئے الگ پنڈال بنایا گیا ہے، صوبوں کے نام سے بھی پنڈال بنائے ہیں،مینار پاکستان گراؤنڈ میں ایک لاکھ 30ہزار 686 اسکوائر فٹ جگہ پر ن لیگ کی جانب سے جلسے کے انتظامات کیے گئے ہیں، ن لیگ نے دعویٰ کیا ہے کہ چالیس ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں،پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، ن لیگی کارکنان میں جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے، آزادی فلائی اوور پر راستوں کو بند کیا گیاہے، دس ہزار پولیس اہلکار افسران کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دیں گے، لاہور کے تمام ایس ایچ اوز کی ڈیوٹی جلسہ گاہ پر لگا دی گئی ہے، واک تھرو گیٹ لگائے گئے ہیں، شرکاء کی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے،ن لیگ کی جانب سے گزشتہ رو ز پہنچنے والے کارکنان کو ہفتہ کی صبح پنڈال میں ہی ناشتہ دیا گیا،ن لیگ نے سیکورٹی کے لئے چار سو اضافی کیمرے نصب کئے ہیں،

    سابق وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف کا ٹیلی فونک رابطہ ہو اہے

    نواز شریف کا استقبال،خصوصی ٹرین کراچی سے روانہ

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی پر ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے 24 اکتوبر تک روک دیا ، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے احکامات جاری کئے، عدالت نے نواز شریف کو 24 اکتوبر کو ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا.

     پنڈال میں جلسے کے شرکا کی آمد کا سلسلہ شروع 

    نواز شریف کی آمد،طیارے پھینکیں گے پھول

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

  • اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی کاروائیاں جاری ہیں، اسرائیل مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے گھروں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، غزہ کے قدیم ترین چرچ پر بمباری کے نتیجے میں 10 فلسطینی شہید ہوئے ہیں

    اسرائیلی حملوں میں اب تک 15 سو بچوں سمیت 4300 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 14 ہزار سے زائد زخمی ہیں،غزہ میں 30 فیصد سے زائد مکانات ملیا میٹ ہو چکے ہیں، اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک تقریبا 10 لاکھ شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیںَ

    حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے سبب تنازعہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہےاوراس صورت میں یہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کے قابو سے باہر ہوجائے گا

    دوسری جانب مصر سے غزہ کی رفاح کراسنگ جمعے کو بھی نہ کھل سکی غزہ میں محصور فلسطینی امداد کے منتظر ہی رہ گئے، امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی،پاکستان کی جانب سے بھجوائی گئی امداد بھی مصر میں موجود ہے جو پاکستان نے ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے کی تھی،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے

    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے

    امریکی عالمی شہرت یافتہ ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطنیوں کے حق میں احتجاج کرنے پر ڈونرز نے فنڈنگ میں کٹوتی کی ہے، یونیورسٹی کے طلبا نے اسرائیل کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا

    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا نے احتجاج کے دوران کہا تھا کہ حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کا حملہ اسرائیل کا جرم ہے،حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا اور اب تک مسلسل بمباری جاری ہے.

    وکٹوریہ سیکریٹ کے سابق سی ای اولیزلی ویکسز نے این جی او ،ویکسز فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی کے مابین شراکت داری کے خاتمے کا اعلان کیا ہے وہیں اسرائیلی ارب پتی ایڈن اوفر جس کی دولت کا تخمینہ 20 ملین امریکی ڈالر ہے، نے ہارورڈ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو بورڈ سے استعفیٰ دے دیا ہے

    یونیورسٹی کے ساتھ شراکت کے خاتمے بارے ویکسز فاؤنڈیشن نے ایک خط میں تنقید کی اور کہا کہ ہارورڈ کی قیادت کی جانب سے معصوم شہریوں کے قتل کے سلسلے میں واضح اور غیر واضح اقدام اٹھانے کی افسوسناک ناکامی سے ہم حیران اور ناگوار ہیں”،خط میں طلبا تنظیموں کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا،

    حماس کے حملوں کے تین دن بعد ہی یونیورسٹی کے طلبا نے احتجاج کیا تھا ،یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہماری یونیورسٹی نفرت کو مسترد کرتی ہے،

    این بی سی کی رپورٹ کے مطابق معروف امریکی قانونی فرم ڈیوس پولک نے ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹیوں میں قانون کے تین طالب علموں سے اسرائیل،حماس تنازعہ کے بارے میں بات کرنے پر انکی ملازمت ختم کر دی ہے، قانونی فرم کی جانب سے کہا گیاکہ طلبا کے بیانات ہماری فرم کی اقدار کے خلاف ہیں، ای میل میں جن طلبا کی ملازمت منسوخ کی گئی انکے نام نہیں لکھے گئے،طلبا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آج کے واقعات خلاف میں نہیں ہو رہے، گزشتہ دو دہائیوں سے غزہ میں لاکھوں فلسطینی کھلی جیل میں رہ رہے ہیں.اسرائیل غزہ میں قتل عام کر رہاہے،اسرائیلی حکومت اس کی قصور وار ہے، ہم یونیورسٹی انتطامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کی جاری تباہی کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔

    حماس کے حملوں کے تناظر میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر اسرائیل کے فوجی ردعمل کی حمایت کی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی،انہوں نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کی مدد کے لیے 100 ملین ڈالر کے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا۔

    امریکہ کی تین بڑی یونیورسٹیوں ہارورڈ، سٹینفورڈ اور نیویارک یونیورسٹی کے طلباء اور پروفیسر بھی اسرائیل کے فلسطین پر قبضے اور حملوں پر پھٹ پڑے،طلباء اور پروفیسر کا کہنا ہے ہم یہودیوں کو ہمیشہ مظلوم قوم سمجھتے رہے لیکن ہم غلط تھے، ہارورڈ یونیورسٹی میں اسرائیل کے خلاف باقاعدہ مہم چل پڑی ہے،طلباء غزہ میں جاری صورتحال کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہیں،امریکہ میں تیزی سے اسرائیل مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔

    ہارورڈ یونیورسٹی کی وائس پریزیڈنٹ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے پولیس ڈپارٹمنٹ نے کیمپس میں سیکورٹی کو بڑھا دیا ہے اور آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئی ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ تنظیموں کی جانب سے مظاہرے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طالب علموں کو اظہار رائے کی آزادی ہے، لیکن یہ آزادی طلبہ تنظیموں کے لیے نہیں ہے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی مظالم،پاکستانی ڈاکٹر بھی سڑکوں پر آ گئے

    اسرائیلی مظالم،پاکستانی ڈاکٹر بھی سڑکوں پر آ گئے

    پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز ایسوس ایشن کی مشترکہ کال پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کیا گیا،

    اسرائیلی جنگی جرائم اور عالمی برادری کی خاموشی کے خلاف میڈیکل پروفیشنلز نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ان مظاہروں میں ڈاکٹرز کے علاوہ میڈیکل سٹوڈنٹس اور پیرا میڈیکل سٹاف نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرے لاہور، کراچی، پشاور، حیدرآباد، سکھر، مانسہرہ سمیت متعدد شہروں کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجز میں کیے گئے۔ ڈاکٹرز نے اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ان مظاہروں میں شرکت کی۔ جبکہ معمولی کی طبی سرگرمیاں بھی اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر انجام دیں

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ پر موجودہ جارحیت میں تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ غزہ کے الاہلی عرب ہسپتال پر بمباری جنیوا کنونشن کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ جنیوا کنونشن کے مطابق جنگی صورت حال میں طبی سہولیات، طبی عملہ اور طبی امداد کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، درحقیقت اسرائیل نے غزہ میں مصیبت زدہ فلسطینیوں کو ضروری طبی امداد سے بھی محروم کر رکھا ہے۔اسرائیل نے غزہ کے الاہلی عرب ہسپتال پر بمباری کرکے جارحیت کا سب سے ناقابل تصور فعل سر انجام دیا ہے، جس میں سینکڑوں مریضوں اور شہریوں کو ہلاک کیا گیا ہے جو کہ ہسپتال اور اس کے آس پاس پناہ لئے ہوئے تھے۔ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔پاکستانی حکومت اسرائیلی بربریت کی شدید ترین شکل میں مذمت کرے۔حکومت پاکستان فوری طور پر غزہ میں طبی اور انسانی امداد بھیجے جہاں صحت کی دیکھ بھال کا ڈھانچہ مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ مسلم ممالک کی حکومتیں فلسطینیوں کے مصائب میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کی فسطائی حکومت کے ساتھ تعلقات توڑ دیں ، زخمی اور بے گھر فلسطینیوں کی فوری مدد کریں۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • حافظ نعیم الرحمان نے فلسطینیوں کی مدد کیلئے اپیل کر دی

    حافظ نعیم الرحمان نے فلسطینیوں کی مدد کیلئے اپیل کر دی

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے صدر میں فلسطینیوں کے حق میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطین میں ظلم کی انتہا کررہا ہے،جماعت اسلامی اس کے خلاف سڑکوں پر ہے،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم نے شاہراہ فیصل پر ایک بڑا احتجاجی مارچ کیا،دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں،ہم حماس کے غیور مجاہدین کے ساتھ کھڑے ہیں، امریکہ اور اسرائیل دونوں ظالم ممالک ہیں،امریکہ بھی اسرائیل کی طرح دہشت گردی کررہا ہے، 1948میں بھی فلسطینیوں پر تشدد کیا گیا، قائد اعظم نے بھی اس ریاست کو تسلیم نہیں کیا،یہ سازشی ممالک نے فلسطین پر قبضہ کروایا،قرارداد پاکستان کے ساتھ فلسطین کے لیے بھی قرارداد پیش کی گئی، امریکہ کس جمہوریت کی بات کرتا ہے؟ امریکہ وہی دہشت گرد ہے جس نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا، یہ وہی دہشت گرد ہے جس نے مشرق وسطی میں تباہی کی، اسی افغانستان کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ گنتی کے چند ممالک کو چھوڑ کر کسی کی حمایت کھل کر سامنے نہیں آرہی، فلسطین کا مسئلہ عرب و عجم کا معاملہ نہیں، یہ نظریہ کا معاملہ ہے، ہم اگر وہاں جاکر لڑ نہیں سکتے تو کم از کم حماس کے مجاہدین کے ساتھ تو کھڑے ہوسکتے ہیں، ہم انکی حوصلہ افزائی کے لیے آئے ہیں،جہاں سے یہ صیہونی آئے ہیں بہتر ہے کہ وہی چلیں جائیں، ورنہ انکا حال وہی ہونا ہے جو حماس نے کیا ہے، تمام ممالک کو کھڑے ہونا چاہیے، ایک ہوکر اسرائیل کے سامنے یہ کہنا ہے کہ اسرائیل تم فلسطین پر مزید دہشت گردی نہیں کرسکتے، اس وقت معیشت کی بدحالی کے ذمہ دار حکمران ہیں جو اس وقت برسرِ اقتدار ہیں،اب جو اسرائیل کی حمایت کرے گا وہ پاکستان، قائد اعظم اور امت محمدیہ کے خلاف کام کرے گا، اللّٰہ ہمیں وہ وقت دکھائے گا کہ یہی اسرائیل ہوگا، یہی حماس ہوگی، اور پھر قیدیوں کا تبادلہ ہوگا، ہزاروں حماس کے مجاہدین رہا ہوں گے، اہلیان پاکستان سے اپیل ہے کہ فلسطینیوں کے لیے امداد دیں، ہم لڑ نہیں سکتیں تو کم از کم اسرائیل اور امریکہ کو دہشت گرد تو قرار دے سکتے ہیں، فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل ایک قابض ریاست ہے،پاکستان کا ہر ہر فرد فلسطینی اور حماس کے مجاہدین کے ساتھ کھڑا ہے،

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی