Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • بی بی سی ہیڈکوارٹر کے سامنے فلسطین کے حق میں نعرے بازی

    بی بی سی ہیڈکوارٹر کے سامنے فلسطین کے حق میں نعرے بازی

    لندن میں بی بی سی ہیڈکوارٹر کے سامنے ہزاروں لوگ جمع ہوگئے ہیں اور فلسطین کے حق میں خوب نعرہ بازی کی ہے، اور فلسطین کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے اورعالمی میڈیا کو بتادیا ہے کہ فلسطین پر ہورہے ظلم و جبر کو مت چھپاؤ اور ناہی پارٹی بنو بلکہ غیر جانب دار صحافت کرو اور مظلوموں کی آواز بن جاؤ، جبکہ دی انڈیپنڈٹ کے مطابق ایک فلسطینی حامی گروپ نے اسرائیل اور حماس کے تنازعے کی کوریج پر بی بی سی کے براڈکاسٹنگ ہاؤس کے ہیڈ کوارٹر میں لال رنگ سے توڑ پھوڑ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ فلسطین ایکشن نے ہفتے کی صبح لندن میں احتجاج کرنے کے بعد براڈکاسٹر پر الزام عائد کیا کہ اس کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا ہے۔ اس حملے میں لیورپول شہر کے مرکز میں واقع بی بی سی کی ہینوور بلڈنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اس پر ایک بار پھر سرخ رنگ کا چھڑکاؤ کیا گیا تاکہ ‘فلسطینیوں کا خون بہانے’ میں اس کے ملوث ہونے کی علامت ہو۔


    سوشل میڈیا ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگوں کا سمندر ہے جو لندن کی گلیوں اور سڑکوں پر موجودہ ہے اور فلسطین کے حق میں نعرے لگا رہا ہے اور اقوام عالم کو جنجھوڑ رہا ہے، علاوہ ازیں اس اظہار یکجہتی کیلئے سوشل میڈیا پر بھی دعوت دی گئی تھی آئیں اور اس میں شامل ہوں جس کے بعد لوگ گھروں سے نکلے اور سڑکوں پر عوام ہی عوام تھی. جبکہ دی انڈیپنڈٹ نے مزید لکھا کہ پریزینٹر وکٹوریہ ڈربی شائر نے دارالحکومت میں اس منظر کی تصاویر اور فوٹیج پوسٹ کیں جس میں پورٹ لینڈ پلیس پر گھومتے ہوئے شیشے کے دروازے اور پیلے پتھر کی اینٹوں کا کام دکھایا گیا ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 17 اکتوبر کو 2 روزہ دورے پر چین جائیں گے
    ویویک اوبرائے کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
    بھارت کی دوسری وکٹ بھی گرگئی
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    ورلڈ کپ کا کانٹے دار مقابلہ، مودی کے لئے سب سے بڑا سبق

  • فیس بک نے  غزہ میں اسرائیلی مظالم دکھانےپر  قدس نیوز نیٹورک کا پیچ اڑا دیا

    فیس بک نے غزہ میں اسرائیلی مظالم دکھانےپر قدس نیوز نیٹورک کا پیچ اڑا دیا

    معروف سماجی سائٹ فیس بک نے غزہ میں اسرائیلی مظالم دکھانے والے پیجز بند کرنا شروع کردیا ہے اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری ہے جبکہ اب تک ہزاروں ٹن بارود غزہ پر گرا چکے ہیں اور اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 2 ہزار سے بھی تجاوز کرگئی ہے، تاہم اسرائیلی طیاروں نے غزہ سے نقل مکانی کرنیوالے فلسطینیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں 70 فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں.


    خیال رہے کی فیس بک نے اسرائیلی دباؤ میں آ کر غزہ پر صہیونی مظالم سے آگاہ کرنے پر قدس نیوز نیٹورک کا پیج بھی اڑا دیا ہے جبکہ قدس نیوز نیٹ ورک نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے میٹا کی جانب سے فیس بک پیج بند کرنے کی تصدیق کی اور فیس بک کے اقدام کی مذمت بھی کی کیونکہ غزہ سمیت ارض فلسطین کی خبریں دینے والی نیوز ایجنسی قدس نیوز نیٹ ورک کا فیس بک پیج بند کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ویویک اوبرائے کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
    بھارت کی دوسری وکٹ بھی گرگئی
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    ورلڈ کپ کا کانٹے دار مقابلہ، مودی کے لئے سب سے بڑا سبق
    دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے فلسطین پر پے درپے حملوں اور غزہ میں ہونے والی تباہی کے بعد سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے کی جانے والی بات چیت کو معطل کردیا اور اس حوالے سے امریکا کو بھی آگاہ کردیا گیا جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عرب بات چیت کا خاتمہ نہیں کررہا ہے، البتہ فلسطین میں جاری لڑائی کے رکنے تک بات چیت کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔

  • اسرائیلی فوج ٹینکوں کے سہارے غزہ میں داخل

    اسرائیلی فوج ٹینکوں کے سہارے غزہ میں داخل

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد آج آٹھویں دن بھی اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں سے دو ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں زخمی ہیں، ہسپتالوں پر بھی بمباری کی گئی ہے، ہسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر چکے ہیں، مکانات ملیا میٹ ہو چکے ہیں،نقل مکانی کرنیوالے قافلوں پر بھی اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی جس سے 70 فلسطینی شہید ہو گئے،

    اسرائیلی حکام کا حماس فضائیہ کے سربراہ کو فضائی حملے میں مارنے کا دعویٰ
    اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فون نے گزشتہ شب ایک فضائی حملے میں حماس کے سینئر رکن کو مار دیا ہے، اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کی فضائیہ کے سربراہ ابومراد کو نشانہ بنایا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ابو مراد نے اسرائیل پر حماس کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جو حملہ آور داخل ہوئے تھے انکو ہدایات دینے والا ابو مراد ہی تھا،اسرائیل نے حماس کے ایک ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا جس میں ابومراد کی بھی موت ہو گئی ہے،

    ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، رات بھر کیے گئے الگ الگ حملوں میں، اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ اس نے حماس کی کمانڈو فورسز سے تعلق رکھنے والے درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا، جنہوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل میں دراندازی کی تھی۔ اسرائیلی فضائیہ نے کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج اور اسرائیلی فضائیہ "حماس کے خلاف اسرائیل کی ریاست کا دفاع کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق کام جاری رکھیں گی۔”

    جمعہ کو اسرائیلی فوج نے غزہ شہر سے تمام شہریوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ارادوں کی تشہیر کی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ جنگ سے شہری متاثر ہوں۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس نے 120 سے زائد شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

    دوسری جانب بھاری تعداد میں اسرائیلی فوج ٹینکوں کا سہارا لے کر غزہ میں داخل ہو گئی ہے، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یرغمال اسرائیلیوں کی لاشیں مل گئی ہیں،اسرائیل نے غزہ چھوڑنے کی دھمکی دی تھی جس پر حماس نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ داخل ہوئی اسے نیست و نابود کر دینگے،

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر ہونے والے حملے ابھی شروعات ہیں۔ حماس کو صفحہ زمین سے مٹا دیں گے۔ ہم یہودیوں پر ہونے والے اس ظلم کو نہیں بھولیں گے اور نہ دنیا کو بھولنے دیں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کا منصوبہ بند کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے امریکہ کو بتا دیا کہ غزہ کے شہریوں کی طاقت کے ساتھ نقل مکانی کا منصوبہ مسترد کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے پر ایران کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے میں آمادگی ظاہر کر دی۔ سعودی عرب نے امریکی خواہش پر حماس کی مذمت کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

    سعودی عرب نے اسرائیل کی جانب سے سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کو مسترد کردیاہے، سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے برطانوی ہم منصب اور یورپی یونین کے اعلیٰ عہدے دار سے فون پر بات چیت کی، سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ اسرائیل عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پابندی کرے،غزہ کی ناکہ بندی ختم اور امدادی اشیا کی ترسیل کی اجازت دی جائے۔برطانیہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے.

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

    کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، فلسطینی نوجوان
    اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنوب کی جانب چلے جائیں جس پر ایک نوجوان محمد کا کہنا ہے کہ کہیں اور جانے سے مر جانا بہتر ہے، میں یہیں پیدا ہوا،یہیں مروں گا، کہیں نہیں جاؤں گا، کچھ بھی ہو جائے، غزہ میں مقیم فلسطینی نوجوان نے یہ بات اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہی.

  • رائیٹرز کا  ویڈیو گرافر اسام عبداللہ  اسرائیلی گولہ باری میں کیسے آیا؟

    رائیٹرز کا ویڈیو گرافر اسام عبداللہ اسرائیلی گولہ باری میں کیسے آیا؟

    اے ایف پی کے ایک زخمی نامہ نگار کے مطابق مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیلی سرحد کے قریب کام کر رہا تھا جب ان پر گولہ باری ہوئی ہے جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو جنوبی لبنان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے والے رائیٹرز کا ایک صحافی جان سے مارا گیا اور اے ایف پی، رائیٹرز اور الجزیرہ کے چھ دیگر صحافی بھی زخمی ہو گئے ہیں۔

    اے ایف پی کے دو زخمی نامہ نگاروں میں سے ایک نے بتایا ہے کہ مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کا ایک گروپ اسرائیل کی سرحد کے قریب علما الشعب کے مقام پر وموجود تھا جب وہ گولہ باری میں پھنس گئے تاہم لبنان کے ایک سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ایک فلسطینی گروپ کی جانب سے سرحد کے لبنانی حصے سے دراندازی کی کوشش کے بعد اسرائیل نے گولہ باری کی تھی۔

    خبر رساں ادارے رائیٹرز نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ہمارے ویڈیو گرافر اسام عبداللہ جان سے گئے ہیں، رائیٹرز کے مطابق اسام جنوبی لبنان میں رائیٹرز کے عملے کا حصہ تھے تاہم رائیٹرز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ طاہر السوڈانی اور مہر نازیہ بھی زخمی ہوئے ہیں اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے اور اے ایف پی کی فوٹوگرافر کرسٹینا آسی اپنے ساتھی ویڈیو جرنلسٹ ڈیلن کولنز کے ساتھ اسی علاقے میں کام کر رہی تھیں۔ دونوں کو علاج کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    غزہ میں اقوام متحدہ کے 11 ملازمین سمیت اسکولوں کے 30 طالب علم ہلاک

    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    علاوہ ازیں الجزیرہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں ان کے دو صحافی بھی شامل ہیں۔ ادارے نے اپنی گاڑی پر اسرائیلی بمباری کا الزام عائد کیا ہے تاہم واضح رہے کہ اے ایف پی کے گلوبل نیوز ڈائریکٹر فل چیٹوائنڈ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کا ایک گروپ، جن کی واضح طور پر شناخت کی گئی تھی، کام کرتے ہوئے جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔

  • غزہ میں اقوام متحدہ کے 11 ملازمین اور اسکولوں کے 30 طالب علم ہلاک

    غزہ میں اقوام متحدہ کے 11 ملازمین اور اسکولوں کے 30 طالب علم ہلاک

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو پانچ روز ہو گئے ہیں کیونکہ حماس گروپ نے گزشتہ ہفتہ کی علی الصبح اسرائیلی آبادیوں پر حملہ کیا تھا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری 3000 سے زائد زخمی ہوئے اور ایک اندازے کے مطابق 100 سے 150 افراد کو پکڑ کر غزہ کی پٹی لے جایا گیا۔ ان کی قسمت ابھی تک معلوم نہیں ہے۔ ایک میوزک فیسٹیول میں مردوں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور سینکڑوں نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر دراندازی اور قتل عام کے بعد اسرائیل بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں "غیر معمولی پیمانے” پر حملے کر رہا ہے کیونکہ حماس کے دہشت گرد عہدیداروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل عمر تشلر نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کو نشانہ نہیں بنا رہے لیکن یہ حملے اب سرجیکل نہیں ہیں۔ ہم دوسرے فریق کی طرح کام نہیں کرتے ہیں، ہم شہری آبادی پر حملہ نہیں کرتے ہیں. ہر حملے کے پیچھے ایک ہدف ہوتا ہے۔ اور ہم ٹھیک اور پیشہ ورانہ طور پر کام کرتے ہیں لیکن سرجری نہیں کرتے ہیں. میں سنگل، دسیوں یا سینکڑوں [ہڑتالوں] کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ ہم ہزاروں گولہ بارود کی بات کر رہے ہیں.

    ٹائمز آف اسرائیل نے مزید لکھا کہ؛ اسرائیل نے غزہ میں خوراک، ایندھن، بجلی اور ادویات کی فراہمی منقطع کر دی ہے اور منگل کے روز سرحدی گزرگاہ کے قریب فضائی حملوں کے بعد مصر سے حاصل ہونے والی واحد رسائی کو بند کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بدھ کے روز مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کا تحفظ کیا جائے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کو برقرار رکھا جائے کیونکہ اسرائیل نے بدھ کے روز غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ تقریبا 220،000 فلسطینی اس وقت غزہ بھر میں یو این آر ڈبلیو اے کی 92 تنصیبات میں پناہ لیے ہوئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے احاطے، اسپتالوں، کلینکس اور اسکولوں کو "کبھی نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔” حماس ماضی میں اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے یو این ڈبلیو آر اے کی تنصیبات کو ہتھیاروں کے ڈپو اور لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا، "اقوام متحدہ کا عملہ غزہ کے عوام کی مدد کے لئے چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے اور مجھے بہت افسوس ہے کہ میرے کچھ ساتھی پہلے ہی حتمی قیمت ادا کر چکے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں ایندھن، خوراک اور پانی سمیت ‘اہم’ امداد کی اجازت دی جائے۔ ہمیں اب فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ سے شہریوں کے لیے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل اور مصر کی کوششوں کے ساتھ ‘فعال طور پر بات چیت’ کر رہا ہے۔ ہم شہریوں کے لیے محفوظ راستے کی حمایت کرتے ہیں۔ حماس نے جو کچھ کیا ہے اس کے لئے عام شہری ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا، اور ہم محفوظ راستے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں.

    تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ممالک نے ابھی تک محفوظ راستہ حاصل نہیں کیا ہے لیکن وہ اب بھی اس طرح کی انسانی راہداری کو محفوظ بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ کربی نے کہا، مسلح تنازعات کے قوانین کے تحت عام شہریوں کو تحفظ حاصل ہے، اور انہیں لڑائی سے بچنے کا ہر موقع دیا جانا چاہیے۔ 2.3 ملین افراد کی آبادی والے ساحلی علاقے میں حالات بدھ کے روز تیزی سے خراب ہو رہے تھے کیونکہ پورے شہر کے بلاک ملبے میں تبدیل ہو گئے تھے اور رہائشیوں نے جانے کے لئے جگہوں کی تلاش کی تھی۔ غزہ کی پاور اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے واحد پاور پلانٹ میں ایندھن ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں بجلی نہیں ہے جس کی وجہ سے گھروں، اسپتالوں اور دیگر تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کے لیے صرف نجی جنریٹر رہ گئے ہیں۔

    خیال غزہ کے شہری دفاع کے محکمے نے متنبہ کیا ہے کہ ملبے تلے دبے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے بہت کم امدادی ٹیمیں موجود ہیں اور سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان اور مسلسل بمباری کی وجہ سے ٹیمیں کئی مقامات تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ سرکاری وزارتوں، میڈیا دفاتر اور ہوٹلوں کے مضافات میں بمباری میں تین فلسطینی صحافیوں کی ہلاکت کے بعد صحافی حسن جبار نے کہا کہ غزہ میں اس وقت کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ "میں واقعی اپنی زندگی کے لئے خوفزدہ ہوں. "

  • سینیٹ  قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد

    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے اور سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والے اسرائیلی جارحیت کے خلاف قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے اور قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر مسلط کی گئی جنگ کی مذمت کی گئی جبکہ غزہ میں معصوم نہتے شہریوں کی اجتماعی شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

    تاہم قرارداد میں کہا گیا ہےکہ اسرائیل غزہ میں محصور23 لاکھ افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جس کی آدھی آبادی بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے وہاں خوراک، ادویات اور پانی کی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے اور اسرائیلی فوج جان بوجھ کر سویلین شہریوں کو مار رہی ہے جبکہ غزہ کے محصورین 16 سال سے غیر قانونی پابندیوں کا شکارہیں، اسرائیل کے انسانیت کے خلاف جرائم ، فلسطین، اردن اور شام پر بمباری کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیل کی جارحیت عالمی امن کیلئے خطرہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گوگل کی سب سے بڑی تبدیلی
    فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ ،عمران خان کے نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کارکنان گرفتار
    ہنگو حملے کے دوران دہشتگردو ں کا مقابلہ کرنیوالے پولیس نوجوان سے وزیراعظم کی ملاقات
    واضح رہے کہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ اس حوالے سے فوری مداخلت کرے اور اسرائیل کی جانب سے جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے اور ارکان کمیٹی نے تجویز دی کہ بچوں پر تشدد اور زیادتی میں ملوث ملزمان کیخلاف ناقابل ضمانت کی دفعات شامل کی جائیں اور ایسے ملزمان کو سرعام پھانسی ہونی چاہیئے۔

  • جنگ کے عالمی اصولوں کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جنگ کے عالمی اصولوں کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے،مولانا فضل الرحمان

    اگر امریکی بیڑہ غزہ میں جا سکتا ہے تو سن لو ہم بھی وہاں جا سکتے ہیں،سراج الحق
    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نےیکجہتی فلسطین مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی سے لے کر چترال تک قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں،مسلم حکمران فلسطینیوں کا ساتھ دیں یا نہ دیں ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، فلسطین اسلام اور ایمان کا مسئلہ ہے،مسجد اقصٰی ہماری عزت اور ایمان ہے،اگر امریکی بیڑہ غزہ میں جا سکتا ہے تو سن لو ہم بھی وہاں جا سکتے ہیں،اسرائیل ناجائز ریاست ہے،دنیا فلسطین میں اسرائیل کے مظالم دیکھ رہی ہے،عالم اسلام اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کرے، ہمیں بھی اپنے فلسطینی بھائیوں کا ساتھ دینا ہو گا،

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ اسی لاکھ اسرائیلیوں نے ناجائز قبضہ کرکے ناجائز ریاست بنائی ستر لاکھ مسلمانوں کو ملک بدر کیا ہے،لبنان اردن میں فلسطینیوں کے کیمپ ہیں وہ دربدر ہیں چار عشروں سے بیت المقدس کی آزادی کا حلف اٹھایا تو دنیا کے حکمرانوں نے ساتھ نہ دیا، اگر فلسطینیوں کا ساتھ دیا تو امت مسلمہ کو عزت ملے گی فلسطینیوں کے ساتھ کے بجائے میر صادق بن کر اسرائیل کا ساتھ دیا تو ذلت مقدر بنے گی، صدام حسین کو اسی امریکی فوج نے عراق میں پھانسی دی تو عید کا دن تھا، امریکہ عزت سے جینے نہیں دے گا اگر مسلمانوں کا ساتھ نہ دیا تو وہ گریٹر اسرائیل کے نقشے کے تحت شام ترکی سعودی عرب اور مدینہ منورہ کو بھی شامل کر لیں گے، یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ مدینہ و خیبر ہمارا ہے اگر مقدس زمین کو بچانا تو جہاد و فلسطینیوں کا راستہ ہے، عالم اسلام جہاد کا اعلان کرکے فلسطینیوں کا ساتھ دے اگر امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے سکتا ہے تو ہم اپنے بھائیوں کا ساتھ کیوں نہیں دے سکتے ،یہودی اسرائیل کو چھوڑے فلسطینیوں کیوں چھوڑے امریکہ برطانیہ روس سے آئے انہیں جانا ہوگا ،حماس نے ابابیل بن کر اسرائیل پر چڑھائی کی ،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کہاں سوئے ہوئے ہیں پوچھنا چاہتا ہوں جنوبی سوڈان ، مشرقی تیمور میں کیا کیا ، اسرائیلیوں نے ایک صدی سے دوسروں کے گھروں پر حملہ کرکے مستقل قبضہ جمایا تو انسانی حقوق کی علمبردار کدھر گئے ہیں، جہاں مسلمان کی بیٹیوں کی آوازآسمان پر پہنچی تو تم گونگے بہرے کیوں ہو جاتے ہو، بزدل ڈرپوک امریکی ایجنٹ حماس کے خلاف اکٹھے ہو رہے ہیں،اگر افغانستان میں روس و نیٹو کی شکست کو دیکھا تو فلسطین میں اسرائیل و امریکہ کی شکست بھی دیکھیں گے، بچہ بچہ نے فلسطینیوں کے نقش قدم رکھ کر اسرائیلیوں کے سومنات کو پاش پاش کرنا ہے، وزیراعظم سے کہوں گا سات اکتوبر کے بعد پالیسی جاری کی کہ فلسطین میں یہودیوں اور فلسطینیوں کی ریاست قائم ہونی چاہئیے تو یہ پالیسی قائداعظم و ریاست کی پالیسی نہیں ہے،تیس مارچ1940 سے اب تک یہی پالیسی ہے فلسطین فلسطینیوں کا ہے یہ پالیسی پاکستان کا نہیں آپ کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں پالیسی تبدیل کرو وگرنہ عوام کا ہاتھ حکمرانوں کا گریبان ہوگااتنے دن گزر گئے او آئی سی کیبنٹ کا اجلاس کیوں نہ بلایا،کسی بھی قیمت پر حکمرانوں پر ملکی پالیسی کو تباہ نہیں کرنے دیں گےہم مہنگائی بے روزگاری و بجلی کی قیمتوں کے خلاف مہم چلا رہے تھے فلسطینی مسئلہ کو اول قرار دیدیا، مہنگائی بدامنی حکمرانوں کی نااہلی ہے یہ حکومت میں رہے کہ تو کشمیر آزاد ہوگا نہ عدل و انصاف قائم ہوگا، اگر حکمران رہے تو نہ بچوں کو تعلیم ملے گی اور نہ روزگارملے گا،پچیس کروڑ عوام کی قیادت بزدلوں کے ہاتھ میں ہے،ہم نے فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑنا قربانی دے کر بیت المقدس و مسجد اقصیٰ کو صہیونیوں و یہودیوں سے چھین لیں گے، حکومت نے فلسطین پر لائحہ عمل دیا تو کراچی میں اپنے پروگرام کا اعلان کریں گے،

    جنگ کے عالمی اصولوں کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے،مولانا فضل الرحمان
    دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحما ن نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے لوگ پچھتر سالوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ،مولانا فضل الرحما ن کا کہنا تھا کہ عرب سر زمین پر اسرائیل ناسور بن چکا ہے ، جس کے خاتمے کے لئے فلسطینیوں نے نسلیں قربان کی ہیں،اسرائیل نے ایک دن میں جو بمباری کی ہے شاید امریکہ نے ایک سال میں بھی افغانستان پر نہیں کی ہے،اسرائیل نے انسانی حقوق مسلسل پامال کر رہا ہے ، شھری عمارتوں سمیت ننھی معصوم جانوں کو مسل رہا ہے،جنگ کے عالمی اصولوں کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے ، عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،امریکہ اور یورپ جو انسانی حقوق کے علمبردار ممالک بھی بھیڑیوں شکل اختیار کئے ہوئے ہیں

    فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ ،عمران خان کے نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کارکنان گرفتار
    اسلام آباد پریس کلب کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان نےفلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا،پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے چئیرمین پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی گئی، عمران خان کے حق میں نعرے لگانے پر تمام کارکنان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ،پولیس کا کہنا ہے کہ کارکنان کی جانب سے احتجاج سے قبل اجازت نہیں لی گئی،پولیس کی جانب سے 9 کارکنان گرفتار، ایک گاڑی ضبط کر لی گئی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ملک بھر میں یکجہتی فلسطین کے حوالے سے ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کیخلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ،اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، سیالکوٹ، جھنگ،فیصل آباد، حیدرآباد، شہدادپور، سمیت ملک بھر میں یکجہتی فلسطین کے حوالے سے ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔یکجہتی فلسطین ریلیوں میں مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، فیصل ندیم، عظمیٰ گل، مزمل اقبال ہاشمی، چوہدری محمد سرور، شیخ فیاض، چوہدری شفیق الرحمن، رانا اشفاق، احسان اللہ منصور سمیت و دیگر کا مشترکہ بیان میں کہنا تھا کہ مسلمان ممالک متحد ہو کر اپنی تمام تر صلاحیتیں فلسطینیوں کی آزادی کے لیئے صرف کریں! یہ بیت المقدس کی جنگ ہے، اسرائیل ناپاک ریاست دنیا میں دھشت گردی کی علامت ہے۔مسئلہ فلسطین کا حل اسرائیل کے قبضے کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔فلسطینیوں کو اپنے مقبوضہ علاقے چھڑانے کا پورا حق ہے. جو کچھ ہوا اس کی زمہ دار اسرائیل کی ناجائز ریاست خود ہے۔گزشتہ 74 سالوں سے اسرائیل نے فلسطین پر غیر قانونی قبضہ کرکے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے،ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہری اسرائیل کی جیلوں میں قیدو بند کی صعوبتیں برادشت کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی نسلیں مہاجر کیمپوں میں مفلسی اور مستقبل کی توقعات سے عاری ماحول میں پرورش پا رہی ہیں۔عالمی برادری اسرائیل کو مزید ظلم سے روکے اور فلسطینیوں کو ان کا حق دلانے کے لیئے مسلم ممالک اپنا کردار ادا کریں.پاکستان فوری طور پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلائے. یکجہتی فلسطین ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ، جامع اور دیرپا حل کا اعادہ کرتا ہے،ہم تمام مسلم ممالک سے فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کیلئے متحد ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیوں اسرائیل فلسطینیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کا منصوبہ بنا رہا ہے. امت مسلمہ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے، آبادیوں پر میزائل برسائے جا رہے ہیں۔اگر بروقت نہیں روکا تو یہ جنگ پوری دنیا میں پھیلے گی

    آج نہیں تو کل فتح فلسطین کی عوام کی ہو گی،مرکزی علماء کونسل پاکستان
    مرکزی علماء کونسل پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں یوم یکجہتی فلسطین منایا گیا چاروں صوبوں آزاد کشمیر سمیت پنجاب کے36 اضلاع میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف جمعہ کے اجتماعات میں قرار داد مذمت پاس کی گئیں اور او آئی سی اور عالمی دنیا سے مطالبہ کیا گیا کہ فلسطین پر جاری مظالم بندکروائے جائیں اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلوائے جائیں جب تک دنیا مسجد اقصیٰ کی آزادی اور فلسطین کو ایک الگ ریاست تسلیم نہیں کرے گی مشرق وسطیٰ میں امن کاقیام ناگزیز ہے عالم اسلام مظلوم فلسطینیوں کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے وائس چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ پیر جی خالد محمود قاسمی جنرل سیکرٹری علامہ شاہ نواز فاروقی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا شبیر احمد عثمانی صدر پنجاب مولاناقاری محمد مشتاق لاہوری مولانا ممتازالحق صدر آزاد کشمیر مولانا اکرام اللہ قاسمی صدر خیبر پختونخواہ مفتی شکیل احمد صدر صوبہ بلوچستان مولانا ابوسفیان حنفی نائب صدر پنجاب حافظ محمد شعیب صدیق نائب صدر پنجاب حافظ مقبول احمد جنرل سیکرٹری پنجاب مولانا محمد اعظم فاروق ڈپٹی جنرل سیکرٹری پنجاب نے جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ فلسطینیوں کے خواہش کے مطابق حل کیا جائے بیت المقدس فلسطین کا دار الحکومت بنایا جائے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں عالمی قوتیں اور او آئی سی فلسطین میں بچوں عورتوں بوڑھوں اور معذوروں پر ظلم و ستم کو فوری طور پر رکوائیں فلسطنیوں پر پانی خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ جو روکی گئیں ہیں عالمی دنیا فوری طور پر ان کی مدد کو یقینی بنائے غزہ کی زمینی بندش کوختم کیا جائے اور مظلوم فلسطینی عوام تک پانی خوراک اور ادویات زخمیوں تک پہنچانا ممکن ہو سکے جنگ بندی کیلئے اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالاجائے طاقت کے بل بوتے پر عارضی طور پر حق کی آواز خاموش نہیں کرائی جاسکتی اس لئے فلسطینی عوام کوآزادانہ ریاست ملنی چاہئے آج نہیں تو کل فتح فلسطین کی عوام کی ہو گی

    واضح رہے کہ فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں آج ملک بھر میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے ،مظلوم فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی بربریت کے خلاف تمام بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ہیں ،وفاقی دارالحکومت میں مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام یوم یکجہتی فلسطین ریلی نکالی گئی ہیں، ریلی کی قیادت چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کر رہے ہیں ، مقررین کا کہنا تھا کہ آج جمعہ کا دن فلسطین کے مظلومین سے عہد وفا کا دن ہے۔ آج کا احتجاج ہر اس باضمیر، غیور اور شجاع کا احتجاج ہے جو مظلومین کا حامی اور ظالمین کا مخالف ہے۔مذہب ، مسلک ،رنگ ، نسل ،زبان تمام تفریقات سے بالاتر ہو اسرائیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھانا اخلاقی و انسانی فریضہ ہے.

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • 212 بھارتی شہری اسرائیل سے دہلی پہنچ گئے

    212 بھارتی شہری اسرائیل سے دہلی پہنچ گئے

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد بھارت نے اپنے شہریوں کا اسرائیل سے انخلاف شروع کر دیا ہے،

    بھارت کی پہلی خصوصی پرواز اسرائیل سے 212 بھارتی شہریوں کو لے کر دہلی پہنچ گئی ہے، پرواز صبح چھ بجے دہلی پہنچی، بھارتی وزیر راجیو چندر شیکھر نے اسرائیل سے واپس آنے والے بھارتی باشندوں کا استقبال کیا، انہوں نے بھارتی شہریوں سے بات چیت بھی کی،اسرائیل میں تقریبا 18 ہزار بھارتی شہری ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں، بھارت کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کریں گے بھارتیوں کی حفاظت یقینی بنائیں،

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی توجہ اپنے شہریوں کو واپس لانے پر ہے،جو بھی اسرائیل سے واپس آنا چاہتا ہے وہ رجسٹریشن کروائے، ہم اسے واپس لائیں گے،آپریشن اجئے اسی لئے شروع کیا گیا ہے،

    دوسری جانب بھارت میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، آج جمعہ کو بھارت کے کئی شہروں میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کا امکان ہے،حکومت کی جانب سے احتجاج اور مظاہروں پر پابندی لگائی گئی ہے تاہم امکان ہے کہ جمعہ کے بعد احتجاج ہو گا، چاندنی چوک میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، نئی دہلی کے علاقے پہاڑ گنج میں یہودی عبادت گاہ چباڑ ہاؤس کی بھی سیکورٹ سخت کر دی گئی ہے

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان

  • پاکستان اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی آواز بن گیا

    پاکستان اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی آواز بن گیا

    فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں آج ملک بھر میں یوم یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے
    مظلوم فلسطینی مسلمانوں پراسرائیلی بربریت کے خلاف تمام بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ہیں ،وفاقی دارالحکومت میں مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام یوم یکجہتی فلسطین ریلی نکالی گئی ہے، ریلی کی قیادت چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کر رہے ہیں ، مقررین کا کہنا تھا کہ آج جمعہ کا دن فلسطین کے مظلومین سے عہد وفا کا دن ہے۔ آج کا احتجاج ہر اس باضمیر، غیور اور شجاع کا احتجاج ہے جو مظلومین کا حامی اور ظالمین کا مخالف ہے۔مذہب ، مسلک ،رنگ ، نسل ،زبان تمام تفریقات سے بالاتر ہو اسرائیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھانا اخلاقی و انسانی فریضہ ہے.

    فلسطین میں جاری اسرائیلی بمباری، معصوم فلسطینیوں کی ہلاکتیں ،سندھ ہائیکورٹ بار نے مذمتی قرارداد پیش کردی،
    سندھ ہائیکورٹ بار نے پاکستان سمیت مسلم ممالک کو فلسطین کیلئے آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا، جاری اعلامیہ کے مطابق
    سندھ ہائیکورٹ بار نے پاکستان سمیت مسلم ممالک کو یو ین او میں فلسطینوں کے قتل عام پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ اسرائیل نے معصوم فلسطینیوں کا پانی، گیس بجلی کھانا سب بند کر دیا، مسلسل گولہ اور بمباری سے معصوم فلسطینیوں کی شہادتیں ہو رہیں ہیں، غزا میں اسرائیل کی بم باری سے اسپتالیں بھی تباہ ہوگئیں ہیں،

    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    اسرائیل افواج نے فضاء سے غزہ میں کئی کتابچے گرائے ہیں، جن پر غزہ کے رہائشیوں کے لیے پیغام لکھا ہوا تھا، پیغام میں کہا گیا ہے کہ غزہ شہر ، جنگی علاقے میں تبدیل ہو چکا ہے، آپ کو فوری طور پر اپنے گھر خالی کر کے جنوب کی طرف جانا ہو گا۔ آپ کو اپنے گھروں کو واپس نہیں آنا چاہیے، جب تک کہ اسرائیل کوئی اعلان نہ کرے۔▪️ فائر وال کے قریب جانا ممنوع ہے اور جو بھی قریب آتا ہے وہ خود کو موت کے منہ میں لے جائے گا۔اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خاندانوں کی سلامتی چاہتے ہیں تو جنوب کی طرف چلے جائیں، حماس انسانی ڈھال کے طور پر معصوم شہریوں کو استعمال کر رہا ہے اسلئے شہری نکلیں اور حماس کو کچلنے کا موقع دیں،

    اسرائیلی بمباری سے حماس کی جانب سے یرغمال 13 اسرائیلی ہلاک
    دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر حملے کے دوران جن اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا ان میں سے 13 اسرائیلی، اسرائیل کی ہی بمباری سے ہلاک ہو گئے ہیں، اسرائیلی فوج نے حماس کےاس دعوے پر کہا کہ وہ ابھی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے

    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتارکر لیا گیا، اسرائیلی پولیس نے کفر قاسم میں ایک 14 سالہ بچے کی گرفتار کیا ہےم جس نے ہفتے کی صبح اسرائیلی سرزمین کے اندر حماس کی طرف سے کیے گئے حملے کی تعریف کی۔
    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی بچے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر حماس کے حملے کے حوالے سے حماس کی طرف سے شائع کردہ ایک ویڈیو کلپ کو دوبارہ شیئر کیا۔اور حماس کی تعریف کی،جس کے بعد اسرائیلی پولیس پولیس نے بچے کی ماں کو بھی گرفتار کر لیا جبکہ بچے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "پولیس کبھی بھی دشمن کی حمایت لیے اکسانے کے اظہار کو برداشت نہیں کرے گی

    اسرائیلی آرمی چیف کا حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کا اعتراف
    اسرائیلی آرمی چیف نےا حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ حماس کے حملے روکنے میں ناکامی کی وجہ سکیورٹی فورسز کی غلطی ہے،حماس کے ہفتے کو حملے سے ہم سنبھل نہیں پائے،حماس سے یرغمال افراد کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے،حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کو مکمل طور پر ختم کریں گے غزہ بھی اب ایسا نہیں رہے گا جیسا پہلے تھا

    دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی سیکنڈ سیکرٹری رابعہ اعجاز نے خطاب کیا،رابعہ اعجاز نے ایجنڈا آئٹم 80 پر چھٹی کمیٹی کی "انسانیت کے خلاف جرائم” پر بحث میں خطاب کیا،اپنے خطاب میں پاکستان نے غزہ میں قیامت خیز اسرائیلی مظالم کی مذمت اور فلسطینیوں کے حق میں پھرپور آواز اٹھائی،پاکستان کے مستقل مشن کی سیکنڈ سیکرٹری نے فلسطین میں قبضے، جبر اور تشدد کے نہ ختم ہونے والے سلسلے پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا

    رابعہ اعجاز کا کہنا تھا کہ غزہ میں بڑھتا ہوا اور شدید انسانی بحران، اندھا دھند فضائی بمباری سے شروع کیا گیا، اس میں شہری علاقوں اور یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے محفوظ مقامات پر حملے بعید از برداشت ہیں, غزہ میں خوراک، ایندھن اور ادویات جیسے ضروری سامان کی غیر منصفانہ ناکہ بندی ناقابل برداشت ہے,انسانیت کے خلاف جرائم سب سے زیادہ سنگین بین الاقوامی برادری کو خطرے میں ڈالنے والے جرائم ہیں,فلسطین، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر، قبضے اور تشدد کے دیگر حالات میں بھی انسانیت کے خلاف بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے,پاکستان کو فلسطین پر قبضے، جبر اور تشدد کے حوالے سے گہری تشویش ہے, اسرائیلی قابض افواج کی غزہ کی فلسطینی آبادی کو اجتماعی سزا کے طور پر مظالم برداشت سے باہر ہیں, ان میں عام شہریوں و اقوام متحدہ کے محفوظ اہداف پر اندھا دھند فضائی بمباری اور خوراک، ایندھن اور ادویات کی غیر انسانی ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ میں بگڑتی سنگین انسانی صورتحال ناقابل قبول ہیں, یہ کارروائیاں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں ،جارحیت اور تشدد کا موجودہ دور ایک افسوسناک یادداشت ہے,
    یہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری غیر قانونی اسرائیلی قبضے، جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی بے عزتی کا براہ راست نتیجہ ہے، اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی شامل ہیں جو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کو تسلیم کرتی ہیں،عالمی برادری کو 1967 سے پیشگی سرحدوں پر ایک قابل عمل، خودمختار و متصل فلسطینی ریاست کے ساتھ ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا دو ریاستی حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، ایسی فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو, ایسے حل کی عدم موجودگی میں مشرق وسطیٰ میں امن ناپید رہے گا, پاکستان نے ممبر ممالک کی گذارشات کا بغور جائزہ لیا ہے اور دسمبر 2023 تک دیگر ممبر ممالک کے تبصروں کا بے انتظار ہے،پاکستان اس ڈیڈ لائن سے پہلے اپنے تحریری ریمارکس بھی دے گا, گزشتہ اجلاسوں میں، متعدد وفود نے مسودے کے مضامین کے مواد سے متعلق مسلسل خدشات کا اظہار کیا ہے,خصوصا عالمی دائرہ اختیار کے نظریے کی وسیع تشریح پر مبنی مسودہ آرٹیکل 7، 9، اور 10 نے خدشات کو جنم دیا ہے, یہ نظریہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر کمیٹی نے ابھی تک اتفاق رائے نہیں کیا ہے,مسودے میں غلامی، تشدد اور جبری گمشدگی جیسے جرائم و انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام اور سزا سے متعلق مضامین کو اقوام متحدہ کنوینشنز کے مطابق یقینی بنانا بہت ضروری ہے,ہمیں ان اصطلاحات کی تشریح میں ابہام اور عدم مطابقت کا سبب بننے والی نئی ​​تعریفوں کے تعارف کو روکنے میں احتیاط برتنی چاہیے, مختلف نقطہ نظر میں ہم آہنگ و اتفاق رائے کے لیے، کمیٹی کے بحال شدہ اجلاسوں کے فریم ورک میں بات چیت کو جاری رکھنا مناسب ہے,کسی بھی آئندہ کنونشن کو بین الاقوامی برادری کے بڑے پیمانے پر قبول کرنے کو یہ نقطہ نظر یقینی بنانے کا موثر طریقہ ہے, اس میں وہ ریاستیں شامل ہیں جو فی الحال بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم کے آئین میں فریق نہیں ہیں، میرا وفد اس بات پر قائل ہے کہ مسودہ کے مضامین پر چھٹی کمیٹی میں رکن ممالک کی طرف سے مکمل بحث و مباحثہ اور جائزہ لیا جانا چاہیے, میرا وفد دیگر وفود کے ساتھ مسودہ کے مضامین سے متعلق ان اہم امور پر بات چیت میں تعمیری طور پر شامل رہے گا, ایک بامقصد اور ٹھوس فریم ورک کے قیام کے لئےسیاست و پسند و ناہسند سے پرہیز بہت ضروری ہے, ایسا فریم ورک جو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے احتساب اور استثنیٰ کے مسئلے کو حل کرے, ان تمام کوششوں میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد پر سختی سے عمل کرنا چاہیے,

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد آج ساتویں دن بھی اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بے گھر افراد نے سکولوں میں پناہ لے رکھی ہےتو کئی کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں، 2500 سے زائد گھر تباہ ،ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، 23 ہزار گھروں کو معمولی نقصان پہنچا ہے تا ہم وہ رہنے کے قابل نہیں،

    اسرائیلی حملوں کے بعد 88 تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے جن میں اقوام متحدہ کے زیلی ادارے کے بھی 18 سکول شامل ہیں،تعلیمی ادارے تباہ ہونے سے کم از کم چھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، غزہ میں پاور پلانٹ بند ہو چکا ہے، بیکریوں کے پاس آٹے کی سپلائی تقریبا ایک ہفتے کی رہ گئی ہے ، دکانوں میں کھانے پینے کی اشیا میں کمی دیکھنے میں آئی ہے،اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے قحط کی سی صورتحال پیدا ہو رہی ہے،

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، غزہ میں خوراک،پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے،بجلی بھی بندہو چکی ہے،

    امریکہ کے بعد برطانیہ کا بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان
    امریکہ، برطانیہ سمیت کئی ممالک اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں، اب امریکہ کے بعد برطانیہ نے بھی اسرائیل کی مدد کے لئے دو جنگی بحری جہاز اور طیارے بھیجنے کا اعلان کیا ہے، لندن برٹش نیوی کے دو جہاز ، ہیلی کاپٹر مشرقی بحیرہ روم میں تعینات ہوں گے،اسرائیل کو فوجی اعتبار سے انتہائی مضبوط تھا حماس کے حملے کے بعد اسے امریکہ سمیت دیگر ممالک کی مدد کی ضرورت پڑ گئی، سوال ہے کہ کیا اسرائیل کو واقعی مدد درکا ہے تو اسرائیلی فوج کی مضبوطی کہاں گئی؟ امریکہ سمیت دیگر ممالک کی اسرائیل کی مدد کے اعلان سے اور بھی کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں کہ کیا یہ جنگ لمبی چلے گی؟ اسلئے اسرائیل کی مدد کی جا رہی ہے،دوسری جانب فوڈ چین میکڈونلڈ نے اسرائیلی فوج اور ریزور رنگروٹس کو مفت خوراک کی فراہمی کا اعلان کر دیا- تین فیکڑیاں کھول دیں جو روزانہ 4000 ٹن خوراک تیار کریں گی اور بائیو سیکیورٹی چیک اپ کے بعد اسرائیلی فوج تک مفت پہنچائی جائے گی

    حماس کے حملے میں امریکی شہریوں کی بھی اسرائیل میں ہلاکت ہوئی ہے،جس کے بعد امریکہ آج سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے خصوصی پروازیں چلائے گا، امریکی وزیر دفاع اس سلسلے میں آج اسرائیل پہنچیں گے، اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں،

    ترکیے نے مصر کے ساتھ بات چیت مکمل کر لی- غزہ کے لیے امدادی سامان آج تین فوجی جہازوں کے ساتھ، مصر اور رفع باڈر کے راستے غزہ تک پہنچایا جائے گا-ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے کہ خطے میں ایک نئے محاذ کا آغاز غزہ میں اسرائیل کے اقدامات پر منحصر ہے۔ اگر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم جاری رہے تو نئے محاذ کھلیں گے، اور خطے میں ہر قسم کے امکانات ممکن ہیں،

    منصوبہ بندی اور توقع سے زیادہ اہداف حاصل کیے ہیں،القسام بریگیڈ
    القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی تفصیلات بتا تے ہوئے کہا کہ ہم نے طوفان الاقصیٰ آپریشن میں اپنی منصوبہ بندی اور توقع سے زیادہ اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم نے غزہ میں دشمن فوج کے دستوں پر 15 پوائنٹس کے علاوہ 10 دیگر فوجی پوائنٹس پر حملہ کیا۔ آپریشن کے آغاز کے بعد، ہم نے غزہ کے آس پاس کے مقامات پر 3500 راکٹ جبکہ 1948ء سے زیر قبضہ مقامات پر 1000 راکٹ داغے۔ ہم نے جامع منصوبہ بندی کی، ہم نے آپریشن کے لیے 3000 جنگجوؤں کو تربیت دی اور 1500 جنگجو امدادی کارروائیوں کے لیے اسٹینڈ بائی پر تھے۔ ہم امت اسلامیہ کی فتح کا نقارہ بجاتے ہیں۔ ہم دشمن سے کہتے ہیں کہ اگر تم نے زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہونے کی جرات کی تو ہم تمہاری فوج کو کچل کر رکھ دیں گے۔ پچھلے ایک سال کے دوران ہم نے اسرائیل کو انٹیلی جنس نقطہ نظر سے شکست فاش دی۔ ہم آپریشن سے پہلے اپنے ارادوں، اپنی تربیت اور اپنے اقدامات کو چھپانے میں کامیاب ہو ئے۔ ہمارے قیدی ساتھی پریشان نہ ہوں، ہمارے پاس جو ہے وہ انہیں آزاد کروانے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔

  • اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    فلسطینی صحافی مطیع مصابع نے پروگرام کھرا سچ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ابھی بھی فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں جس میں وہ عام عوام کے گھروں کو نشانہ بنا رہے اور سول بلڈنگ پر ببمباری کررہے ہیں انہوں نے اینکرپرسن مبشرلقمان کو بتایا کہ کہ اسرائیل کی طرف یہ نسل کشی کئی سال سے جاری ہے اور اب وہ سیدھا سویلن آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو انٹرنیشل لاز کی بھی خلاف ورزی ہے.


    فلسطینی صحافی مطیع مصابع کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف یہ تمام تر حملے فلسطینیوں کی زمین پر ہورہے ہیں اور غزہ میں رہائشی آبادیوں پر ہمباری کی جارہی ہے، جبکہ حزب اللہ کے حوالے سے مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا واقعی ایسا ہے کہ حزب اللہ بھی حملے کررہا ہے اس پر فلسطینی صحافی نے کہا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ حزب اللہ کی طرف کی کوئی حملے کیئے جارہے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بریکنگ؛ اسلام آباد؛ ریڈ زون میں وزارت خارجہ بلڈنگ میں آتشزدگی
    ورلڈکپ ؛ انڈیا چھوڑنے والی زینب نے وجہ بتادی
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    سینئر صحافی مبشر لقمان نے ایک سوال کیا کہ بین القوامی میڈیا یہ دعویٰ کررہا ہے کہ حماس کی طرف سے اسرائیل میں عام سویلین پر حملے کیئے گئے جس میں ایک ڈانس پارٹی کے دوران کئی لوگ مارے گئے اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بات کوئی معنی نہیں رکھتی اور ناہی یہ کوئی موازنہ ہے سوئے ہوئے فلسطینی بچوں اور خواتین کو مارا جائے اور یہ عالمی قوانین کے بھی خلاف ہے جبکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ ہے، کیونکہ جس ڈانس پارٹی کی بات کی جارہی ہے وہ عام سویلین نہیں تھے بلکہ اسرائیلی فوجی جوان تھے۔