Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • اسرائیلی فوج کی کارروائیاں،17 روزے دار فلسطینی زخمی

    اسرائیلی فوج کی کارروائیاں،17 روزے دار فلسطینی زخمی

    مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فوج کی کارروائیاں،17 روزے دار فلسطینی زخمی ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے مختلف واقعات میں 17 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔

    فلسطین کی ہلال احمر کے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق مغربی کنارے کے شمالی شہر تل کریم میں واقع ہادوری یونیورسٹی میں اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان پیش آنے والے تصادم کے واقعات میں 51 متاثرہ فلسطینیوں کو ابتدائی طبّی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔

    بیان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی کارروائی میں 17 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے 2 کو اصلی گولیاں ماری گئی ہیں جبکہ 34 افراد کو گیس بموں کی وجہ سے دم گھٹنے کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    موقع پر موجود افراد سے حاصل کی جانے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے ہادوری یونیورسٹی کے طالبعلموں کے خلاف اصلی اور ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ماہِ رمضان سے پہلے ہی اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل میں ہونے والے چار حملوں میں اب تک 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اب تک اسرائیلی فوج کی جانب سے دو خواتین سمیت کم از کم 10 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی کیے جا چکے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی خواتین شہید ،ایک شہری زخمی

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی خواتین شہید ،ایک شہری زخمی

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے دو فلسطینی خواتین ماری گئیں جبکہ ایک فلسطینی شہری زخمی بھی ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ واقعات اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی جانب سے اسرائیلی اہلکاروں کو ’جارحانہ‘ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کے بعد پیش آئے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی ایک خاتون مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے حسان میں جان سے گئیں۔

    یوکرین میں روسی جنگ برسوں تک چل سکتی ہے،امریکی جنرل

    اس واقعے کے عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی سپاہیوں نے حسان کے چیک پوائنٹ پر غدیر سبطین نامی خاتون کو گولی مار دی۔ غدیر چھ بچوں کی والدہ اور ایک بیوہ خاتون تھیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق گلی میں سے گزرتے ہوئے ایک اسرائیلی فوجی نے انہیں رکنے کا کہا لیکن اسی دوران ایک اور فوجی نے انہیں دو بار گولی مار دی، بظاہر ان کی جانب سے ان فوجیوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا اور وہ غیر مسلح تھیں۔

    ان خاتون کو جن کا نام نہیں ظاہر کیا گیا مبینہ طور پر ایک اسرائیلی پولیس اہلکار پر چاقو کے وار کرنے کے بعد گولی ماری گئی ہے۔

    اسرائیلی پولیس کے ترجمان کے مطابق مذکورہ خاتون نے ایک پولیس اہل کار پر چاقو سے وار کیا تھا پولیس کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی خاتون نے حرمِ ابراہیمی کے قریب سرحدی پولیس کی ایک چیک پوسٹ کا رخ کیا اور ایک پولیس اہل کار پر چاقو سے حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں پولیس اہل کار معمولی طور پر زخمی ہو گیا بعد ازاں حملہ آور خاتون کو ختم کر دیا گیا۔

    سری لنکن صدر کے خلاف سب سے بڑا تاریخی احتجاج ،’گو گوٹا ہوم‘ کے نعرے

    الخلیل شہر میں تقریبا ایک ہزار یہودی آباد کار سخت فوجی حفاظت کے سائے میں مقیم ہیں۔ شہر میں دو لاکھ فلسطینی بستے ہیں فلسطینی وزارت صحت نے اتوار کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ایک فلسطینی خاتون کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا تھا۔

    رمضان کے مہینے میں اسرائیلی جارحیت کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ایک ترجمان نے نفتالی بینیٹ کی حکومت پر ’اپنی گرتی ہوئی حکومت کو بچانے اور شدت پسندوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فلسطینی خون استعمال کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان ابراہیم ملہم کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی ایما پر فلسطینی خاتون غدیر سبطین کا قتل سوچا سمجھا قتل تھا جو قابض افواج کی قاتلانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے کیا بینیٹ کو لگتا ہے کہ وہ روس سے لڑ رہے ہیں کہ وہ جارحیت اپنانے کی بات کرتے ہیں؟ وہ غیر مسلح فلسطینیوں پر حملہ کر رہے ہیں۔‘ فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے بھی ’اسرائیلی جرائم‘ کی مذمت کی ہے۔

    روس میں افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفیر کے حوالے

    انہوں نے اسرائیلی حکومت کو ان واقعات کے نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی غیر قانونیت کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غدیر سبطین اسرائیلی فوجیوں کے پاس ’مشکوک انداز‘ میں پہنچی تھیں۔

    سبطین غدیر کے قتل کے حوالے سے فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی بصارت متاثر ہو چکی تھی اور وہ ایک آنکھ سے دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد فلسطینی شہریوں کو انہیں ہسپتال لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور وہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے دم توڑ گئیں۔ اسرائیلی جارحیت میں جان سے جانے والی دوسری خاتون مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون سے تعلق رکھتی تھیں-

    روس نے بین الاقوامی تنظیموں”ایمنیسٹی انٹرنیشنل” اور "ہیومن رائٹس…

    قبل ازیں فلسطینی وزارت صحت نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع جنین پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہیداور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ جنین پناہ گزین کیمپ میں عسکری کارروائی کر رہی ہے اس لیے کہ تل ابیب میں فائرنگ کرنے والا حملہ آور یہاں سے آیا تھا جمعرات کی شام اس حملے میں دو اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے فوری طور پر سیکورٹی مضبوط بنانے اور شمالی مغربی کنارے میں الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ٹویٹر پر ادرعی نے بتایا کہ ان ہدایات میں شمالی مغربی کنارے میں فوجی مہموں کی توسیع شامل ہے۔

    ایران نے مزید 24 امریکی آفیشلز پر پابندیاں عائد کردیں

  • اسرائیل کی 3 فلسطینیوں کو پھانسی،او آئی سی کی شدید مذمت

    اسرائیل کی 3 فلسطینیوں کو پھانسی،او آئی سی کی شدید مذمت

    اسرائیلی فوج کی جانب سے 3 فلسطینیوں کو پھانسی دے دی گئی جس کی اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں 3 فلسطینیوں کو پھانسی دی گئی۔ جس کے بعد رواں ماہ اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 20 ہو گئی جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

    گزشتہ برس اسرائیلی فوج نےفلسطینی صحافیوں پر260 سے زائد حملےکیے، رپورٹ

    او آئی سی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ پھانسیوں کا یہ نیا سلسلہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جرائم اور جارحیت میں خطرناک اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔


    او آئی سی نے اسرائیل کو اس خطرناک اضافے کے نتیجے میں مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کو درکار بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اسرائیل کی قابض طاقت کو فلسطینیوں، ان کی سرزمین اور ان کے مقدس مقامات پر اس کی مسلسل خلاف ورزیوں اور حملوں کا جوابدہ ٹھہرایا جائے۔


    خیال رہے کہ اسرائیل کی فلسطین میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور آئے روز نام نہاد آپریشن کی آڑ میں معصوم اور نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    ایرانی لڑکی نے قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کیلئے اپنے امریکی بوائے فرینڈ کو…

    واضح رہے کہ حال ہی میں جرنلسٹس سپورٹ کمیٹی (جے ایس سی) نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی افواج نے گزشتہ برس کے دوران فلسطینی صحافیوں پر 260 سے زائد حملے کیے اور گزشتہ برس کے دوران فلسطینی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی جن میں گزشتہ مئی میں غزہ کی پٹی پر جارحیت کے دوران 13 صحافی بھی شامل تھے جن کو چوٹیں آئیں اور بعض صورتوں میں صحافی مستقل معذوری کا بھی شکار ہوئے رپورٹ میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسرائیلی حملوں نے صحافیوں کے پیشہ ورانہ مستقبل کو انتہائی ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے۔

    جرنلسٹس سپورٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی افواج روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی قانون کے تحت پابندی کے حامل گولہ بارود کا استعمال عام طور پر فلسطینیوں اور صحافیوں کے خلاف کرتی ہیں بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل فلسطینی صحافیوں کو مسلسل نشانہ بناتا ہے اور انہیں دہشت زدہ کرنے کے لیے میڈیا کے عملے کو ستاتا ہے کیونکہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف حکومت کے جرائم کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔

    روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

  • فلسطینیوں سےشادیاں پرشہریت کاقانون دوبارہ متعارف:      اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنےآگئیں

    فلسطینیوں سےشادیاں پرشہریت کاقانون دوبارہ متعارف: اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنےآگئیں

    تل ابیب:فلسطینیوں سے شادیاں پرشہریت کا قانون دوبارہ متعارف:اسرائیل کی شرارتیں اورسازشیں کھل کرسامنے آگئیں ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمان نے اکثریتی رائے سے جمعرات دس مارچ کو رات گئے ماضی کے جس متنازعہ لیکن عارضی طور پر متعارف کرائے گئے قانون کی بحالی کا فیصلہ کیا، وہ پہلی مرتبہ 2003ء میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس قانون کے نفاذ کی مدت میں گزشتہ برسوں کے دوران بار بار توسیع کی جاتی رہی تھی۔

    ‘شہریت اور اسرائیل میں داخلے کا قانون‘ کے تحت اسرائیلی شہریوں سے شادیاں کرنے والے غزہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں کے مرد اور خواتین نہ تو اسرائیلی شہریت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اسرائیل میں رہائش کے حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ یہ قانون ‘نسل پرستانہ‘ ہے یہ قانون پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی احتجاجی تحریک انتفادہ کے دور میں منظور کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کا موقف ہے کہ اسے اس قانون کی اپنی سلامتی کے لیے ضرورت ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا الزام ہے کہ اس قانون کا نفاذ اسرائیل کا ایک ‘نسل پرستانہ‘ اقدام ہے، جس کا مقصد ملک میں یہودی اکثریت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ ایک دوسری بات یہ کہ اس قانون کا اطلاق صرف فلسطینیوں پر ہوتا ہے اور مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں رہنے والے یہودی آباد کاروں پر نہیں کیونکہ ان کے پاس ویسٹ بینک میں رہتے ہوئے بھی اسرائیلی شہریت ہوتی ہے۔

    کنیسیٹ کہلانے والی پارلیمان نے گزشتہ برس موسم گرما میں بھی اس قانون کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم تب اسے مخلوط حکومت میں شامل بائیں بازو کے اور عرب ارکان پارلیمان کی حمایت حاصل نہ ہو سکی تھی۔ حکومت میں شامل عرب جماعت نے اب بھی حمایت نہ کی سابق وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں ملکی اپوزیشن نے بھی اس متنازعہ قانون کی بحالی کی اصولی حمایت تو کی، تاہم حکومت کو شرمندگی سے بچانے کے لیے رائے شماری کے دوران اس قانون کے حق میں ووٹ نہ دیا۔

    یوں اپوزیشن کی بالواسطہ حمایت کے ساتھ حکومت اس قانون کو منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی، حالانکہ بائیں بازو کی جماعت میریٹس اور اسرائیلی عربوں کی جماعت متحدہ عرب لسٹ نے بھی اس قانون کی حمایت نہیں کی تھی۔ یونائیٹڈ عرب لسٹ نامی جماعت نے گزشتہ برس اس وقت تاریخ رقم کر دی تھی، جب یہ پارٹی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل ہو گئی تھی۔ یہودی اکثریت کا تسلسل یقینی بنانے کی کوشش کا اعتراف اسرائیل کی کٹر قوم پسند خاتون وزیر داخلہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران اس متنازعہ قانون کی بحالی کی مہم چلاتی رہی تھیں۔

  • فلسطین میں بھارتی سفیر اپنے دفتر میں مردہ حالت میں پائے گئے

    فلسطین میں بھارتی سفیر اپنے دفتر میں مردہ حالت میں پائے گئے

    راملہ: بھارت کے فلسطین کے لیے خصوصی ایلچی موکل آریہ اپنے دفتر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق فلسطین میں بھارت کے خصوصی ایلچی موکل آریہ نے گزشتہ برس ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور ان کا دفتر راملہ میں تھا تاہم آج 36 سالہ موکل آریہ اپنے دفتر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

    بھارت کے نوجوان سفارت کار کی موت کی وجہ کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا ہے عملہ جب دفتر پہنچا تو وہ مردہ حالت میں زمین پر گرے ہوئے تھے لاش کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔


    بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 36 سالہ آریہ کی اچانک موت پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک بہترین اور باصلاحیت افسر تھے اور انہیں ابھی بہت کچھ کرنا تھا۔ ان کے خاندان اور اعزہ و اقارب کے ساتھ میری دلی تعزیت۔۔

    اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر ٹی ایس تریمورتی نے آریہ کی موت پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا، یہ ایک حقیقی صدمہ ہے۔ غیر معمولی صلاحیت کا حامل ایک رفیق کار اتنی کم عمری میں ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ان کے اہل خانہ کے ساتھ میری دلی تعزیت۔”

    خیال رہے کہ تریمورتی ماضی میں فلسطین میں بھارت کے نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
    https://twitter.com/PaliNewsBot/status/1500509978796437504?s=20&t=asQ1CxUk6katy4HhRiePFw
    فلسطین اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے موکل آریہ کی اچانک موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیدیا ہے جب کہ بھارتی وزارت خارجہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔ لاش کی جلد از جلد نئی دہلی منتقلی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے ان 138 ملکوں میں سے ایک ہے جو فلسطین اتھارٹی کو بطور ریاست تسلیم کرتے ہیں۔

  • اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے فلسطینیوں کی حمایت ترک نہیں کریں گے،ترکی

    اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیلئے فلسطینیوں کی حمایت ترک نہیں کریں گے،ترکی

    استنبول: ترکی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اٹھائے جانے والے کوئی بھی اقدام فلسطینی کاز کی قیمت پر نہیں ہوگا۔

    باغی ٹی وی : ترک خبررساں ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کےمطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے کوئی بھی قدم فلسطینی کاز کی قیمت پر نہیں اٹھائیں گے جیسے کہ بعض دیگر ممالک نے اٹھائے اس لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لیے فلسطینیوں کی حمایت ترک نہیں کریں گے ۔

    ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر ہمارا مؤقف ہمیشہ واضح ہے، ہم وہ ملک ہیں جس نے شروع سے ہی اس مسئلے پر اپنے مؤقف کا واضح طور پر اظہار کیا ہے جبکہ آپ نے پہلے ہی دیکھا ہے کہ گزشتہ 4 سے 5 برس کے دوران کیا ہوا ہے۔

    ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے سے دو ریاستی حل میں ترکی کے کردار میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن ہم اپنے بنیادی اصولوں اور دو ریاستی حل سمیت اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔”

    سعودی محقق کی سعودی عرب اور ہندوستان کے تعلقات پر ایک تحقیقی کتاب کی اشاعت

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خاص ڈائیلاگ چینل کھولنا ہے تو یہ دونوں فریق چاہیں گے اور اس کے مطابق اقدامات کریں گے-

    واضح رہے کہ حال ہی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ اسرائیلی صدر آئزک ہیروزگ کے اوّلین دورہ ترکی سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت تل ابیب کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہےانقرہ حکومت اسرائیل کے ساتھ مختلف شعبہ جات بالخصوص قدرتی گیس کی تجارت میں تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی،جوبائیڈن

    ترکی نے مارچ 1949 میں اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا اور یوں وہ پہلا اسلامی ملک بن گیا تھا، جس نے اس یہودی ریاست کی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کی بات کی تھی۔ ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تاریخ پرانی ہے۔ تاہم ایردوآن کے اقتدار میں آنے کے بعد ان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں نشیب و فراز دیکھا گیا ہے۔

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال…

  • اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی  فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

    اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:ایمنسٹی انٹرنیشنل

    لندن:اکثریت قائم کرنے کیلیے اسرائیل یہودی فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنارہا ہے:اطلاعات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنانے پر اسرائیل کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطین کی صورت حال پر ایک 35 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جس میں اسرائیل کے وحشیانہ جبر اور غیر قانونی تسلط کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 1948 میں اپنے قیام کے بعد سے اسرائیل “یہودی آبادی کی اکثریت” کو قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہودیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر قانونی بستیوں سمیت زمین اور وسائل پر مکمل کنٹرول بھی استعمال کرتا ہے۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ مظالم خلاف ایک کمتر نسلی گروہ کے طور پر سلوک کیا جاتا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیل حکام نے فلسطینیوں کے خلاف جبر اور تسلط کا نظام نافذ کر رکھا ہے۔ ان کی اراضی اور املاک پر وسیع پیمانے پر قبضہ کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی ان کے گھر سے غیر قانونی اور جبری بیدخلی، نقل و حرکت پر سخت پابندی، انتظامی حراست اور ماورائے عدالت قتل کے درجنوں واقعات رونما ہوئے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں نسل پرستی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کی قومیت اور شہریت کو مسترد کرکے غیر ملکی تارکین کی طرح کا سلوک کرتے ہیں۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ اسرائیل کے فلسطینیوں کے یہ خلاف یہ مظالم نسل پرستی اور نسلی امتیازی سلوک کی تعریف پر پورا اترتے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔

  • فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

    فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

    ترکی کی ایک خیراتی سوسائٹی نے قرآن پاک کے 50 ہزار نسخے فلسطین کی مساجد اور قرآنی مراکز میں تقسیم کیے جانے کے لیے عطیہ کیے ہیں۔

    غزہ کی پٹی میں کام کرنے والی غازی ڈیسک سوسائٹی نے اتوار کے روز غزہ کی اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت کو قرآن پاک کے 20,000 نسخے حوالے کیے، انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

    سوسائٹی کے ایک اہلکار ہانی تھرایا نے کہا کہ یہ "قرآن کو میرا تحفہ ہونے دو” کے منصوبے کا حصہ ہے جو ترکی کے مذہبی اوقاف انسٹی ٹیوٹ کی نگرانی میں نافذ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے ایک حصے کے طور پر مغربی کنارے اور یروشلم القدس میں مقدس کتاب کے مزید 30,000 نسخے حوالے کیے جائیں گے۔

    غزہ کی اوقاف کی وزارت کے ایک نائب، عبدالہادی الآغا نے کہا کہ یہ اقدام نوبل قرآن کے ساتھ لوگوں کے تعلق کو بڑھانے کے فریم ورک کے اندر آتا ہے۔انہوں نے عطیات پر ترکی کے مذہبی اوقاف انسٹی ٹیوٹ اور غازی ڈیسک سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان قران کے ان نُسخوں پر "مسجد اقصیٰ قرآن” کا نام ہے اور جب کہ ان کے پچھلے سرورق پر مہم کا نعرہ "قرآن کو میرا تحفہ ہونے دو” پرنٹ کیا گیا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ غازی ڈیسک سوسائٹی، جو انسانی ہمدردی کے کاموں میں مہارت رکھتی ہے، غزہ کی پٹی میں 2017 سے کام کر رہی ہے۔

  • 4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    4 ماہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور

    یروشلم: بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی قیدی کو اسرائیل رہا کرنے پر مجبور ہو گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہشام ابو حواش ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی قید میں تھے جب انہوں نے اگست سے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا 40 سالہ ہشام نے بغیر کسی الزام کے قید میں رکھے جانے کیخلاف اگست کے مہینے میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کیلئے لڑو،مرو اور مارو، سکول میں طلب سے حلف

    ہشام مغربی کنارے کے رہائشی ہیں 5 بچوں کے باپ اور پیشے کے اعتبار سے تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ہشام کو اس سے قبل بھی اسلامک جہاد سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ اس بار بغیر کسی الزام کے انہیں قید کیا گیا تھا۔

    انتظامی حراست‘ کے تحت مشکوک افراد کو ان کے خلاف الزامات یا ثبوت سے مطلع کیے بغیر چھ ماہ تک قید کیا جا سکتا ہے اور اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے-

    ہشام کے وکیل نے بتایا کہ رہائی کی تصدیق ہونے کے بعد ہشام نے اپنی 141 دن کی بھوک ہڑتال کو ختم کردیا ہے 141 دن کی یہ بھوک ہڑتال 2013 کے بعد سے اب تک کی طویل مدتی بھوک ہڑتال ہے۔

    قادیانی قریبی رشتہ داروں کی طرف سے خاتون سے باربارجنسی زیادتی :لندن پولیس نے تفتیش…

    اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی قیدی کی مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے طبعیت کافی بگڑ چکی ہے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا رہا ہے گزشتہ ہفتے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے جب قیدی کا جیل میں جاکر معائنہ کیا تھا تو کہا تھا کہ ہشام کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور موت کا خطرہ لاحق ہے۔

    قیدی ہشام کی اہلیہ عائشہ ہریبت نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ان کی زندگی کو شدید خطرے میں اور وہ کل سے بول بھی نہیں سکے اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اگر وہ بھوک ہڑتال ختم بھی کر دیں تو بھی انہیں صحت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا-

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    راملہ میں انسانی حقوق کے گروپ الحق کے سربراہ شاون جابرین نے کہا ہے کہ ’اسرائیل جس طرح انتطامی حراست کے ہتھیار کو استعمال کر رہا ہے، یہ سراسر ظلم ہےہشام ان 550 قیدیوں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیل نے انتظامی حراست کے ضابطے کے تحت قید کر رکھا ہے۔

    علاوہ ازیں فلسطین کے وزیر بلدیات حسین الشیخ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ابوحواش کو فوری طور پر رہا کیا جائے جبکہ غزہ میں فلسطینی قیدیوں کے حق میں ریلی بھی نکالی گئی۔

    روہنگیائی مسلمان ایک طرف کورونا تو دوسری آگ کی لپیٹ میں‌ لپٹ گئے

  • صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    مقبوضہ بیت المقدس:صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ،اطلاعات کے مطابق صیہونی فوجیوں کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے غزہ پٹی پر بمباری کی ہے۔اس بمباری پرعالمی برادری خاموش ہے اور اس خاموشی کے عالم میں فلسطینیوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپنی اُمیدیں وابستہ کرلی ہیں‌

    المیادین کی رپورٹ کے مطابق قدس کی غاصب اور جابر صیہونی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے علاقے الغول میں توپوں کے گولے داغے۔ اس رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے ہوائی حملے جاری ہیں۔المیادین کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے خان یونس کے القادسیہ چھاونی پر 5 مرتبہ بمباری کی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اس سے قبل غزہ کی پٹی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔