Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • اسرائیل نے صرف 2 ڈالر میں میزائلوں کو روکنے والا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تیارکرلیا

    اسرائیل نے صرف 2 ڈالر میں میزائلوں کو روکنے والا جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم تیارکرلیا

    تل ابیب :اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ لیزر پرمبنی فضائی دفاعی نظام، جسے اسرائیل دشمن کے راکٹوں اور ڈرونز کو بے اثر کرنے کے لیے اگلے سال سے نصب کرنے کی امید رکھتا ہے،کی قیمت صرف 2 ڈالر فی ’روک‘ ہوگی۔

    اسرائیل اس وقت مار گرانے کے دفاعی نظاموں پرانحصار کرتا ہے جو اس طرح کے میزائلوں اور راکٹوں کا سراغ لگانے کے لیے ہزاروں سے لاکھوں ڈالر کی لاگت کے حامل روک اور مارگرانے والے میزائل داغتے ہیں۔لیکن آئرن بیم سسٹم فضائی خطرات کو سُپرہیٹ اور غیر فعال کرنے کے لیے لیزر کا استعمال کرتا ہے۔اس کا ایک پروٹو ٹائپ گذشتہ سال منظرعام پر آیا تھا۔

    بینیٹ نے پیشین گوئی کی ہے کہ یہ 2023ء کے اوائل تک فعال ہوجائے گا۔انھوں نے اس نظام کو تیار کرنے والی سرکاری فرم رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے دورے کے موقع پرکہا کہ ’’یہ کھیل کا پانسہ پلٹنے والا نظام ہے، نہ صرف اس لیے کہ ہم دشمن فوج پرحملہ کررہے ہوں گے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے ذریعے ہم اسے دیوالیہ کرنے والے ہیں‘‘۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور لبنانی حزب اللہ نے ماضی کی جنگوں میں اسرائیل پرہزاروں راکٹ اور مارٹر بم داغے تھے۔اسرائیل کے میزائل دفاعی نظاموں نے حالیہ برسوں میں ان ڈرونز کو بھی روکا ہے جن کے بارے میں اسے شُبہ ہے کہ انھیں ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اس کی سرحدوں کے قریب داغا تھا۔

    بینیٹ نے اپنے دفترکی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ ’’آج تک ہر راکٹ کو روکنے کے لیے ہمیں بہت زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی تھی۔ آج وہ (دشمن) ایک راکٹ میں ہزاروں ڈالرکی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں اور ہم اس راکٹ کو روکنے کے لیے بجلی پرصرف 2 ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے‘‘۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کا نیا لیزر پر مبنی فضائی دفاعی نظام (ائیر ڈینفس سسٹم) کوئی بھی میزائل روکے گا تو اس پر صرف دو ڈالرز خرچ ہوں گے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کو فلسطینی اتھارٹی اور لبنان کی طرف سے راکٹ اور بم حملوں کا متواتر نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں ارد گرد کے ممالک سے بھی کئی راکٹ بیراج شامل ہیں۔
    اسرائیلی حکام نے اپریل میں کامیاب تجربات کی اطلاع دی، جس میں سسٹم کی جانب سے مارٹر، راکٹ اور بغیر پائلٹ کے ڈرونز کو مار گرانے کی ویڈیو پوسٹ کی گئی۔

    بینیٹ نے ایک ٹویٹ میں لکھا، “یہ دنیا کا پہلا توانائی پر مبنی ہتھیاروں کا نظام ہے جو آنے والے UAVs، راکٹوں اور مارٹرز کو مار گرانے کے لیے ایک لیزر کا استعمال کرتا ہے جس کی قیمت 3.50 ڈالرز فی شاٹ ہے۔”فی الحال یہ واضح نہیں کہ اپریل میں بینیٹ کی تخمینہ لاگت 3.50 ڈالرز فی وقفہ ان کے بدھ کے ریمارکس میں کم ہوکر دو ڈالرز کیوں ہوگئی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی حکام 2016 سے آئرن بیم تیار کر رہے ہیں۔

  • ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    ترک وزیر خارجہ کا 15 سال بعد اسرائیل کا دوہ ، اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات

    اسرائیلی وزیر خارجہ یائیر لاپد اور ان کے ترک ہم منصب مولوت کاوسوگلو نے آج یروشلم میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اوغلو اسرائیل کے دورے پر ہیں ترک وزیر خارجہ گزشتہ روز اسرائیل پہنچے تھے 15 سال بعد یہ کسی بھی ترک وزیر خارجہ کا پہلا دورہ اسرائیل ہے دورے کے دوران آج دونوں ممالک کے وزرائے خآرجہ کے درمیان ملاقات ہوئی-

    وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ معاشی کمیٹی کے کام کا ازسر نو جائزہ لینے اور سول ایوی ایشن معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب سے ملاقات کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ ’ہم یہ بناوٹ نہیں کرسکتے کہ ہمارے تعلقات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں آئے لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ باہمی تعلقات میں ایک باب بند اور نیا باب کیسے کھولا جاتا ہے‘۔

    ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم یروشلم اور مسجد اقصیٰ سے متعلق فکرمند ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آگئے تو اس کا مثبت اثر ہوگا۔

    تاہم اس اہم ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے انقرہ اور تل ابیب میں دوبارہ سفیر تعینات کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔

    قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رملّا کا سفر کیا ملاقات میں فلسطین کی آزادی کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، باہمی تعلقات سمیت یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیل کے حالیہ حملے پر بات چیت کی


    ترک وزیر خارجہ نے فلسطینی صدر کو یقین دہانی کروائی کہ اسرائیل کے ساتھ ترکی کے بڑھتے تعلقات سے فلسطینیوں کی حمایت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    ترک وزیر خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ اور یروشلم کے پرانے علاقوں کا بھی دورہ کیا جبکہ اسرائیل میں رہائش پذیر ترک شہریوں سے بھی ملاقات کی۔

    یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں اسرائیلی صدر آئیزیک ہرزوگ نے ترکی کا دورہ کیا تھا اور صدر طیب اردوان سے ملاقات کی تھی۔

  • اسرائیل فوج کے ہاتھوں شہید ہونے صحافی کے جنازے پر حملہ،شرکاء پر تشدد

    اسرائیل فوج کے ہاتھوں شہید ہونے صحافی کے جنازے پر حملہ،شرکاء پر تشدد

    تل ابیب: اسرائیل میں سیکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ سے قتل ہونے والی خاتون صحافی شیرین ابو اقلہ کے جنازے پراسرائیلی پولیس نے حملہ کردیا –

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پولیس نے خاتون صحافی شیرین ابو اقلہ کے جنازے کے شرکاء پر حملہ کردیا اور تشدد کا نشانہ بنایا جس سے بھگدڑ اور افراتفری مچ گئی۔


    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتول صحافی کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، پولیس نے نوجوانوں کو جنازے میں شرکت کرنے سے روکا جس پر نوجوانوں نے شدید نعرے بازی کی پولیس نے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا اور دھکے دیئے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

    واضح رہے کہ ابو اقلہ نے کئی ایجنسیوں جیسے کہ UNRWA، ریڈیو وائس آف فلسطین، عمان سیٹلائٹ چینل، مفتاح فاؤنڈیشن، اور ریڈیو مونٹی کارلو کے لیے کام کیا، آخر کار 1997 میں الجزیرہ کا رخ کیا۔ وہ عرب دنیا میں بڑے پیمانے پر جانی جاتی اور عزت کی جاتی تھیں

    الجزیرہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی نژاد خاتون صحافی شہرین ابو اقلہ کو اسرائیلی فورسز نے اس وقت گولی ماری تھی جب وہ جینن میں چھاپہ مار کارروائی کی کوریج کر رہی تھیں دہائی سے زیادہ عرصے تک صحافت کے میدان میں خدمت انجام دینے والی خاتون صحافی کے بہیمانہ قتل پر عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی اور اسرائیل کو تنقید کا سامنا تھا۔

    بھارت:زندگی سے تنگ مسلمان ماہی گیروں کی موت کے لیے درخواست

    برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام نےکہا تھا کہ اسرائیلی قابض افواج نے جنین میں ان کی بربریت کی کوریج کرتے ہوئے صحافی شیرین ابو اقلہ کو قتل کر دیا۔ شیریں سب سے ممتاز فلسطینی صحافی اور ایک قریبی دوست تھیں۔ اور اب ہم برطانوی اور عالمی برادری سے صرف حالات پر تشویش کے اظہار جیسے الفاظ سنیں گے۔

    افغانستان :کابل کی ایک مسجد میں بم دھماکہ، 3 افراد زخمی

  • وزیراعظم شہباز شریف کی یوم القدس پر فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی

    وزیراعظم شہباز شریف کی یوم القدس پر فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی

    مقبوضہ بیت المقدس : وزیراعظم شہباز شریف نے یوم القدس پر فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے فلسطینیوں کی الگ خود مختار ریاست کے عالمی عہد کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ قبلہ اول تمام مسلمانوں کی روح کی تسکین کا باعث ہے، پاکستان فلسطینیوں پر صیہونی ریاستی مظالم کی مذمت کرتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور معاہدوں پر عمل درآمد کیلئےعملی کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور اسرائیل کے ناجائز قبضے کیخلاف قرار دادوں پر عمل دنیا میں پائیدارامن لاسکتاہے، ہم جموں و کشمیر اور فلسطین کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    معیت علماءپاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں مسجد اقصیٰ میں نہتے نمازیوںپر تشدد ،مسجد کی بے حرمتی، فلسطینی بچوں،خواتین اور نہتے عوام پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا ۔اس موقع پر جمعیت علماءپاکستان کے صدر ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر، چیئر مین علامہ قاری محمد زوار بہادر، سید محمد صفدر شاہ گیلانی، ڈاکٹر جاوید اعوان، حافظ نصیر احمد نورانی ، مفتی تصدق حسین، رشید احمد رضوی، ایم اے مہر،مولانا محمد سلیم اعوان،قاری خلیل مہروی، مولانا جمیل رضوی، مولانا شوکت علی ،مولانا نعیم جاوید نوری اور دیگر مقررین کے علاوہ ملک بھر میں جے یوپی کے قائدین نے بھی خطاب کیا ۔

    ملک بھر میں مقررین نے خطبات جمعةالمبارک اور احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارض مقدس قبلہ اول مسجد اقصیٰ اورفلسطینی عوام کے تحفظ کے لئے اسلامی افواج کو فلسطین بھیجا جائے کیونکہ اقوام متحدہ اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردا اقوام عالم فلسطینی مسلمانوں پر مظالم میں برابر کے شریک ہیں۔امریکہ اور یہودیوں کا دنیا میں کتا بھی مر جائے تو وہ ہنگامہ کھڑا کر دیتے ہیں یہاںاسرائیل نہتے فلسطینی سینکڑوں مسلمانوں اور معصوم بچوں کا خوں بہایا جا رہا ہے اور وہ اسرائیلی ظالموں اور دہشت گردوں کے پشت پناہ بنے ہوئے ہیں عالم اسلام کو اقوام متحدہ کا بائی کاٹ کر دینا چاہیے یہ مسلمان اور اسلام دشمن ادارے ہیں اب تک سینکڑوں مظلوم فلسطینی عورتیں ،بچے اور نہتے عوام زخمی اورشہید کیے جاچکے ہیں اس پرعالم اسلام کے حکمرانوں کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہے انہوںنے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج عالمی اسلام کی فوج ہے اس کو فلسطینی عوام اور بچوں کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر عالم اسلام اسرائیلی بربریت کے خلاف کچھ کرنے سے قاصر رہے تو فلسطینی عوام کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اُمت ِ مسلمہ میں قیادت کافقدان ہے جس کی وجہ سے مصر سے شام تک اور کشمیر سے فلسطین تک مسلمانوں کا خو ن بہہ رہا ہے۔ مقررین نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمران بے حسی اور بے غیرتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں مسلم امہ کے نوجوانوں کو چاہیے کہ انہیں اقتدار کے ایوانوں سے نکال باہر کریں

    یوم القدس کے موقع پر دنیا بھر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،اطلاعات کے مطابق رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو دنیا بھر میں فسلطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یوم القدس منایا جاتا ہے۔

    فلسطینیوں کے اظہار یکجہتی اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے خلاف ہر سال رمضان کے آخری جمعہ کو دنیا بھر میں یوم القدس منایا جاتا ہے جس کا آغاز سن 1979 میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کیا تھا۔

    یوم القدس کے موقع پر دنیا بھر میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں جس میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے پاکستان میں بھی مختلف تنظیمی رمضان کے آخری جمعے کو نماز کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کرتی ہیں۔

    اس دن کی مناسبت سے ایک بڑی ریلی کا اہتمام فلسطین میں بھی کیا جاتا ہے جبکہ گذشتہ سال اس ہی دن ایک ریلی کے دوران مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپ ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں دیڑھ سو زائد فلسطینی اور 6 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے سمیت غزہ میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان 22 مارچ سے تشدد کے تازہ واقعات جاری ہیں جس میں اب تک 26 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ اس دوران تین اسرائیلی پولیس اہلکاروں سمیت کم ا زکم 14اسرائیلی بھی مارے جاچکے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپوں کی کارروائی تیز کردی ہے اور مبینہ فلسطینی حملہ آوروں کے مکانات کو منہدم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔حالانکہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اجتماعی سزا کی اس غیرقانونی شکل کی مذمت کرتی رہی ہیں۔

  • فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

    فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

    جنگ زدہ فلسطین میں محبت کا مجسمہ دریافت ، غزہ کی پٹی میں خوبصورتی، محبت اور جنگ کی دیوی عنات کا مجسمہ دریافت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق فلسطینی ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق کنعانی دیوی عنات کا ملنے والا سر تقریباً 4500 سال پرانا ہے عنات دیوی کا سر غزہ پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک کسان کو اپنے کھیت میں ملا 22 سینٹی میٹر کے اس مجسمے پر موجود نقش و نگار کسی دیوی کے چہرے کی عکاس کر رہے ہیں جس نے سانپ کا تاج پہنا ہوا ہے۔

    اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    حالیہ برسوں کے دوران غزہ میں اسرائیل اور عسکریت پسند گروپوں کے درمیان تنازع میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ پر حماس کی حکومت ہے تاہم چونے پتھر سے بنے اس مجسمے کی دریافت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کس طرح یہ پٹی مسلسل قدیم تہذیبوں کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کا حصہ تھی اور دراصل یہ ایک کنعانی بستی تھی۔

    مقامی کاشتکار اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے جب انہیں یہ سر ملا تھا انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کیچڑ سے بھرا ہوا تھا ہم نے اسے پانی سے دھویا تب جا کر اس کی اصل شکل سامنے آئی انہیں لگا کہ یہ قیمتی چیز ہے پر آثار قدیمہ کا اندازہ نہیں ہوا ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ یہ ہماری زمین، ہمارے فلسطین میں کنعانی دور سے ہے۔

    مقبوضہ بیت المقدس:مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نوجوان شہید


    عنات کا شمار مشہور کنعانی دیوی دیوتاؤں میں ہوتا ہے مجسمہ کو اب قصر البشا یعنی فلسطین کے مشہورعجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

    منگل کو ایک پریس کانفرنس میں نوادرات کی نقاب کشائی کرتے ہوئے حماس کے زیر انتظام وزارت سیاحت اور نوادرات کے وزیر جمال ابو ردا نے کہا کہ یہ مجسمہ ’وقت کے خلاف مزاحمت‘ ہے اور ماہرین نے اس کا بغور جائزہ لیا ہے اس مجسمے نے ایک سیاسی نکتہ کی جانب توجہ دلائی ہے اس طرح کی دریافتیں ثابت کرتی ہیں کہ فلسطین کی اپنی تہذیب اور تاریخ ہے اور کوئی بھی اس تاریخ سے انکار یا اسے جھٹلا نہیں سکتا۔ یہ فلسطینی عوام اور ان کی قدیم کنعانی تہذیب ہے غزہ میں موجود تمام آثار قدیمہ کی اتنی زیادہ تعریف نہیں کی گئی ہے یا کسی نے اس سے قبل ایسی کارکردگی پیش نہیں کی ہے۔

    بھارت: یوپی میں تہواروں سے قبل مذہبی مقامات سے 11000 لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے

    اس سے قبل یونانی دیوتا اپولو کا ایک قدیم انسانی سائز کا کانسی کا ایک مجسمہ سنہ 2013 میں ایک ماہی گیر نے دریافت کیا تھا لیکن بعد میں وہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا۔

    دوسری جانب رواں سال حماس نے 5 ویں صدی کے بازنطینی چرچ کی باقیات کو بحالی کے بعد دوبارہ کھول دیا ہے اسے غیر ملکی عطیہ دہندگان کی جانب سے سالوں سے جاری بحالی کے منصوبے کے لیے مالی امداد دی گئی تھی۔

  • اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    تل ابیب :اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک،اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق دمشق کے قریب کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں 5 شامی فوجی بھی شامل ہیں۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیل نے فضائی حملے میں اسلحہ ڈپو سمیت متعدد فوجی پوزیشنز کو نشانہ بنایا ہے۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 2022ء کے دوران شام میں یہ مہلک ترین حملے ہیں۔

    سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان فضائی حملوں میں ایک اسلحہ ڈپو اور شام میں موجود ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ادھر چند دن پہلے شام کے مشرقی علاقے میں امریکی فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں دو امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوگئےتھے

    امریکی حکام کے مطابق راکٹ حملے میں دونوں اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ۔ اس علاقے میں یہ امریکی افواج پر اس سال تیسرا حملہ تھا ۔

    ادھر فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں ایک اور فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے آج علی الصبح عقبة جابر نامی مہاجر کیمپ پر ہلہ بولا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے جارحانہ رویے کے باعث ہونے والی ایک جھڑپ میں 20 سالہ فلسطینی نوجوان احمد ابراہیم اوویدات سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مارچ کے اختتام سے اب تک اسرائیل کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں 25 فسلطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اسرائیلی پولیس اہلکار کئی بار مسجد الاقصیٰ پر ہلا بول کر نمازیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکنے کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں جیسے نہتے فلسطینیوں پر ربڑ کی گولیاں برسانے اور آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں۔

    فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان مسجد الاقصیٰ کے باہر بھی حال ہی میں متعدد مرتبہ پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

  • مقبوضہ بیت المقدس:مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نوجوان شہید

    مقبوضہ بیت المقدس:مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نوجوان شہید

    مقبوضہ بیت المقدس: مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک اور نوجوان شہید ،اطلاعات کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ علاقے مغربی کنارے میں ایک اور فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے آج علی الصبح عقبة جابر نامی مہاجر کیمپ پر ہلہ بولا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے جارحانہ رویے کے باعث ہونے والی ایک جھڑپ میں 20 سالہ فلسطینی نوجوان احمد ابراہیم اوویدات سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔

    ادھر ذرائع کاکہنا ہےکہ اس حوالے سے اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ ماہِ مقدس رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مارچ کے اختتام سے اب تک اسرائیل کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں 25 فسلطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اسرائیلی پولیس اہلکار کئی بار مسجد الاقصیٰ پر ہلا بول کر نمازیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکنے کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں جیسے نہتے فلسطینیوں پر ربڑ کی گولیاں برسانے اور آنسو گیس کے شیل فائر کرنے کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں۔

    فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان مسجد الاقصیٰ کے باہر بھی حال ہی میں متعدد مرتبہ پرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

  • وزیراعظم کی افطار ڈنر میں بڑی خبر:بتایا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائےجارہے ہیں

    وزیراعظم کی افطار ڈنر میں بڑی خبر:بتایا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائےجارہے ہیں

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائے جارہے: وزیراعظم نے افطار ڈنر میں مذمت کردی ا،طلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم ممالک کے سفیروں کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا اور اس موقع پر کہا کہ غربت کے خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم ملکوں کے سفیروں کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا، خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ملکوں کے سفیروں کے اعزاز میں افطار ڈنر باعث مسرت ہے، ماہ مقدس مسلم امہ کے لیے رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا باعث ہے، برادر مسلم ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، مسلم ملکوں میں غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا ہونگی، ہم مل کرغربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کر سکتے ہیں، ہمیں یورپی یونین کی طرز پرمتحد ہونے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مسلم امہ میں اخوت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر مسلم ملکوں میں غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، ترقی اور عالمی امن کے لیے مسلمان ملکوں کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، قدرتی وسائل سے مالا مال برادر اسلامی ملک ترقی پذیر ملکوں کی مدد کریں، مسلم امہ کے حقوق کے لیے او آئی سی کو مزید موثر اور متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں موجود ہیں، قراردادوں میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا گیا ہے، نہرو نے بھارتی پارلیمان میں کھڑے ہو کر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا وعدہ کیا تھا، افغانستان میں امن خطے کے امن واستحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب عوامی سطح پر اسلامی بھائی چارے کے لازوال رشتے میں بندھے ہیں، ریاض کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

  • یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں عبادت اورفلسطینیوں پرمظالم کی انتہا:عرب لیگ نے سخت ردعمل دے دیا

    یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں عبادت اورفلسطینیوں پرمظالم کی انتہا:عرب لیگ نے سخت ردعمل دے دیا

    مقبوضہ بیت المقدس :یہودیوں کی مسجد اقصیٰ میں عبادت اورفلسطینیوں پرمظالم کی انتہا:عرب لیگ نے سخت ردعمل دے دیا ،اطلاعات کے مطابق عرب لیگ نے متنبہ کیا ہے کہ ایسے اقدام سے مسلمانوں کے جذبات کی کھلی تضحیک ہوتی ہے جس سے وسیع تر تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیل کا کہنا ہے وہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کی عبادت پر پابندی کو نافذ کررہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے اکیس اپریل جمعرات کے روز عرب لیگ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ وہ مسجد اقصی یا حرم الشریف کے احاطے میں یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کی عبادت پر ایک طویل عرصے سے جو پابندی عائد ہے اس پر وہ عمل پیرا ہے۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور ہیات کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس صورت حال کو برقرار رکھا ہوا ہے جس کے تحت وہاں مسلمانوں کو نماز کی آزادی ہے اور غیر مسلموں کو وہاں آنے جانے کا حق حاصل ہے۔ وہاں یہودیوں کے عبادت کرنے پر جو پابندی عائد ہے پولیس اس کو نافذ کرتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل رمضان کے آخری دس دنوں میں یہودیوں کو ٹیمپل ماؤنٹ کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے تاکہ وہاں کسی قسم کے تصادم کو روکا جا سکے

    اس ضمن میں اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے عمان میں عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ہمارے مطالبات واضح ہیں کہ اس کے تمام علاقے میں الاقصیٰ اور حرم شریف صرف اور صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔

    عرب لیگ کے سربراہ احمد ابو الغیث نے کہا کہ اسرائیل صدیوں پرانی پالیسی کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے مطابق غیر مسلم مسجد اقصیٰ کا دورہ تو کر سکتے ہیں، تاہم انہیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    یاد رہے، گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر دھاوا بول دیا تھا جس کے دوران کم از کم 158 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے اور حکام نے سینکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔

    یروشلم کا مستقبل ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کا اہم مرکز ہے۔ پرانے شہر مشرقی یروشلم پر اسرائیل نے سن 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور پھر اسے اپنے میں الحاق کرنے کا اعلان کر دیا تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ اقدام غیر قانونی ہے جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پر حملہ:سعودی عرب اور امریکا کی شدید مذمت

    مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پر حملہ:سعودی عرب اور امریکا کی شدید مذمت

    یروشلم: امریکا نے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ کے صحن میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 150 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد "گہری تشویش” کا اظہار کیا-

    باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ہم تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اشتعال انگیز کارروائیوں اور بیان بازی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پرتشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزیراعظم

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطینیوں اور اسرائیلی حکام سے تناؤ کو کم کرنے اور سب کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تعاون سے کام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے جمعے کے روز بیت المقدس میں مسجد الاقصی پر دھاوا بولنے، اس کے دروازے بند کرنے اور مسجد کے اندر اور اس کے بیرونی صحن میں نہتے نمازیوں پر حملہ کرنے پر اسرائیلی قابض افواج کی مذمت کی ہے۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس منظم دھاوے کو مسجد اقصیٰ کے تقدس اور اسلامی ملت کے لیے اس کی اہمیت پر ایک صریح حملہ اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔

    سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کو نہتے فلسطینی عوام، ان کی سرزمین اور ان کے مقدس مقامات پر ہونے والے ان جاری جرائم اور خلاف ورزیوں کے لیے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرائے۔

    صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا: افغان طالبان کا شدید ردعمل

    یاد رہے جمعے کو طلوع فجر سے قبل اسرائیلی سکیورٹی فورسز مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو گئیں تھیں جہاں ہزاروں فلسطینی رمضان کے مقدس مہینے میں جمعہ کی نماز کے لیے جمع تھے اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 150 سے زائد فلسطینی زخمی ہو گئے یہ ماہ رمضان کے آغاز کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی جھڑپیں ہیں یہ جھڑپیں اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جان لیوا تشدد کی لہر کے تیسرے ہفتے رونما ہوئیں جب یہودیوں کا تہوار پاس اوور، عیسائیوں کا تہوار ایسٹر اور مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان تینوں اکٹھے وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔

    قابل ذکر ہے کہ یہ کشیدگی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں اضافی فوجی نفری تعینات کرنے اور دیوار فاصل کو مضبوط کرنے کے اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے حال ہی میں فلسطینیوں کے حملوں میں 14 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد اسرائیل غرب اردن میں اضافی فوج تعینات کی ہے-

    مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پرصہیونیوں کے مظالم پاکستان کاردعمل بھی آگیا