Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • ظلم کی انتہا، فلسطینی بچے کے سامنے اس کے والد پر تشدد،وائرل ویڈیونے جھنجھوڑ کررکھ دیا

    مقبوضہ بیت المقدس :ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں بھی مسلمان ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہیں، اطلاعات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں 2 اسرائیلی فوجیوں کو ایک فلسطینی شہری پر اس کے بچے سامنے بندوق تانتے ہوئے دیکھا گیا۔

    https://twitter.com/allushiii/status/1191745840316067841?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1191745840316067841&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawnnews.tv%2Fnews%2F1114071

    مسلح افراد کی فائرنگ، 15 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

    ذرائع کے مطابق مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ہونے والے واقعے کی ویڈیو میں اسرائیلی فوجی نے پہلے مذکورہ شخص پر چلایا اور کہا کہ ‘یہ بچہ فوجیوں پر پتھر پھینک رہا ہے’ جس پر والد نے کہا کہ ‘یہ پتھر کیسے پھینک سکتا ہے یہ 5 سال کا ہے’۔اسرائیلی فوجی نے جواب دیا کہ ‘ہاں یہ پتھر برسا رہا ہے اور تمہارے سارے دوست پتھر برسارہے ہیں، اس کی جتنی بھی عمر ہے مجھے نہیں پرواہ’۔

    مکی آرتھر کی کراچی کنگز سے بھی چھٹی

    اسی دوران ایک اور اسرائیلی فوجی نے فلسطینی شخص کو مارنا شروع کیا جس پر مذکورہ شخص کہتا رہا کہ ‘مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاؤ’۔جب مذکورہ شخص اپنے بچے کے ساتھ واپس جانے لگا تو ایک اور فوجی نے فلسطینی شخص پر بندوق تانی۔اس واقعے نے کئی افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی جس پر اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں پر تشدد کرتے ہوئے ویڈیو سامنے آئی ہو۔

    وزیراعظم نے خوشخبری سنادی ، نیانظام کیسا ہوگا یہ بھی بتادیا

  • اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    اقوام متحدہ کی مکاریاں اور دہرا معیار !!! تحریر عبدالرحمن مبشر

    آج کا وقت اپنے آپ کو دوہرا رہا ہے جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا ایک بہت بڑی تباہی سے گزر کر امن تلاش کرنے میں مصروف عمل ہوئی۔ دنیا میں طے پانے لگا کہ اب جنگوں کی بجاے امن کے راستے کو اختیار کیا جائے اقوام متحدہ کا ادارہ معرض وجود میں آیا۔ تمام ممالک کو شامل کیا جانے لگا۔26 اکتوبر 1945 میں قائم ہونے والے یو این او کے وہ کردار جو اپنے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آرٹیکل 2 کے تحت تمام ممالک کو برابری کی حیثیت حا صل ہو گی۔ تمام دنیا کے ممالک کو جنگوں سے محفوظ کیا جائے گا۔یو این او کی مکاری اور ظلم پر مبنی ضابطے آج فلسطین پون صدی کا قصہ بن چکا نسلوں کی نسلیں گزر گئی ان کا کردار صفررہا۔ اس موقع پر یو این کاکردار اسرئیل کی لونڈی کا ہے۔نوے کی دہا ئی میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا اس کے بعد دوبارہ بیس سو دس کی دہائی میں دوسرا حملہ کر دیا یو این کی نیٹو فورسزنے پورا کردار ادا کیا اور امریکہ کے شانہ بشانہ لڑے ۔روس نے 1979 میں افعانستان میں فو جیں داخل کر دیں یو این او نے گونگے شیطان کا کردار ادا کیا۔ برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پچھلے ستر برس سے جاری ہے موجودہ دور کے جدید میڈیا نے اس یو این کا پول کھول دیا کہ لاکھوں انسان قتل کر دیے گئے مگریو این اوتماشائی بنا رہا، شام اجڑ گیا مگر اس یواین کی ایک دن بھی غیرتنہیں جاگی، بوسنیا میں لاکھوں افراد کا اجتماعی قتل عام کر کے انسانوں کو زندہ اس لیے گاڑ دیا گیا کہ کہ وہ مسلمان تھے 1527 عیسوی میں بننے والی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 ء میں منہدم کر دیا گیا پورے ہند وستان میں فسادات شروع ہو گئے صرف گجرات میں 28 ہزرا مسلمانوں کابے دردی کے ساتھ قتل عام کیا گیا آج یو این ایسے شحص کو گجرات کا جو قصائی نازی ہٹلر تھا اور جو قتل عام مین پیش پیش تھا اسے وزیر اعظم تسلیم کرلیتی ہے۔ یو این منہ چڑہاتی رہ گئی 84 ء میں آپریشن بلیو سٹار کیا گیا معصوم اور نہتے لوگوں کو سرعام ٹینکوں کے گولوں کا نشانہ بنایا گیا یو این او یہاں مائی میسنی کا کردار ادا کرتی رہی، عراق میں امریکی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ ہے فلسطین میں اسرئیل کی دہشت گرد فوج کے ہاتھوں مرنے والے مسلمانوں تعداد 5 لاکھ ہے، افغانستان میں امریکی اور روسی دہشت گردوں کے ہا تھوں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد 21 لاکھ ہے،شام میں ایک اندازے کیمطابق 2 لاکھ پچاس ہزار افرد مارے گئے 80 لاکھ لوگ مہاجر ہیں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کشمیر میں 47ء سے اب تک 4 لاکھ لوگ دہشت گردی کیبھینٹ چڑھ گئے۔ اب تک پچھلے 35 سالوں میں چالیس لاکھ مسلمان شہید کردیے گئے اور اقوم متحدہ کا کردار اور فیصلہ کیا مسلمان دہشت گردہیں دنیا کے مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا اوراس دھوکے سے باہر نکل کر اپنے مسائل کے کے لیے مل بیٹھنا ہو گا اپنی علیحدہ یو این او بنانا ہوگی۔ یہ والی یواین او دنیا کے عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے ہے انہی کے مسائل حل کرتی ہے۔ مشرقی تیمور ہو جنوبی سوڈان آج کشمیر میں چالیسواں دن ہے کرفیوکا یہ کرفیوں عیسائیوں کے کسی ملک میں لگا ہوتا آج یو این کی نیندیں حرام ہوتیں۔ آج کوئی ایسا لمحہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان او ر انکی ٹیم ہمہ وقت ۰۴دن یو این کو صدا دے رہی ہے مگر طاقتوروں کی لونڈی کان دھرنے کے لیے تیارہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے کمزور لوگوں کو بڑا فیصلہ کرناہوگا اور کمزوروں کومل کر ایک بڑی قوت بننا ہوگا جو عالمی ظالم سامراجی قوتوں سے ٹکرا کر اسے پاش پاش کردے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر27 ستمبر سے پہلے پہلے کشمیر میں کرفیو ہٹا کر ان کے بنیادی حقوق بحال نہیں کیے جاتے تو یو این او کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔جب اس یو این او نے مسئلہ حل ہی نہیں کرنا وہاں جا کر صرف تقریر کر کے آجانا ہے تو بائیکاٹ بہتر ین پیغام ہو گا کر کے دیکھ لو جن کے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں یہ چل کر آپ کے پاس آئیں گے۔

  • اسرائیل نے یروشلم میں فلسطینیوں کے مکان گرانا شروع کردئیے

    اسرائیل نے یروشلم میں فلسطینیوں کے مکان گرانا شروع کردئیے

    یروشلم : اسرائیلی فورسز نے مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے گھر گرانا شروع کر دیئے ، مشرقی یروشلم میں اسرائیلی فورسز نے ایک بڑے سکیل کے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، مشرقی یروشلم میں فلسطینی گاؤں سُربحرسے اس آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے،
    اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کو انٹرنیشنل کمیونٹی کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،
    اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق بارڈر کے قریب بنائی گئیں تمام بستیاں غیر قانونی طور پر آباد کی گئی ہیں جو کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کیلئے بڑے خطرے کا سبب بن سکتیں ہیں اور ان بستیوں کو ہٹانے کا مقصد حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے
    تصویر کے دوسرے رخ کے مطابق اسرائیل یہ آپریشن اس لیے کر رہا ہے یہ مشرقی یروشلم جو کہ قانونی طور پرفلسطین کا حصہ ہے پر اپنا کنٹرول مزید بڑھانا چاہتا ہے،

  • فلسطینی خاتون سماجی کارکن اسرائیلی جیل سے 13 ماہ بعد رہا

    فلسطینی خاتون سماجی کارکن اسرائیلی جیل سے 13 ماہ بعد رہا

    قابض صہیونی حکام نے فلسطینی خاتون سماجی کارکن صفاء ابو سنینہ کو 13 ماہ قید میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ صفاء سے 9000شیکل جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔
    صفاء ابو اسنینہ کو جون 2018ء میں گرفتار کر کے عسقلان جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اسے 13 ماہ قید اور 9000 شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی تھی۔
    واضح رہے کہ صفاء چار بچوں کی ماں ہیں۔

  • لبنان، متنازعہ قانون کے خلاف فلسطینی 26جولائی کو احتجاج کریں گے

    لبنان، متنازعہ قانون کے خلاف فلسطینی 26جولائی کو احتجاج کریں گے

    لبنان میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں کی نمائندہ جماعتوں نے وزیر برائے لیبر کے نسل پرستانہ اور متنازع قانون کے خلاف 26 جولائی کو احتجاج کی کال دی ہے۔فلسطینی تنظیموں کی طرف سے پناہ گزینوں کو کہا گیا ہے کہ وہ جمعہ چھبیس جولائی کو وزیرلیبر کے متنازع قانون کے خلاف تمام پناہ گزین کیمپوں میں ہڑتال کریں۔
    قبل ازیں لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی طرف سے دو روز قبل بھی کیمپوں میں احتجاج اور ہڑتال کی گئی۔
    بدھ کو فلسطینی پناہ گزین کیمپوں عین الحلوہ اور صیدا شہر میں قائم المیہ ومیہ کیمپوں میں فلسطینیوں نے ‘یوم الغضب’ منایا  اور فلسطینی پناہ گزین تمام مقامات پر ہڑتال اور مظاہرے کئے۔

    قبل ازیں لبنانی وزارت محنت کی طرف سے جاری ایک بیان میں ملک کے مختلف اداروں میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کو نکالنے کا کہا گیا تھا۔ لبنان میں فلسطینی تاجر کمیونٹی نے مختلف کیمپوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں اور لبنانی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور اعلان کی شدید مذمت کی۔

  • اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    منظر فلسطین کے شہر غزہ کا ہے رات کا سناٹا چھایا ہے اسرائیلی فوج نے کرفیوں لگا رکھا ہے جو کہ چار دن سے جاری ہے کسی کو باہر آنے جانے کی اجازت نہیں ام عبداللہ اپنے دو بیٹوں عبداللہ جس کی عمر 12 سال اور عبدالہادی جس کی عمر 6 سال ہے کو لئے گھر میں بغیر مرد کے بیٹھی ہے کیونکہ چھ ماہ پہلے اسرائیلی فورسز نے ام عبداللہ کے شوہر محمد خالد کو شہید کر دیا تھا رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی ہے اتنے میں عبدالہادی چلانے لگتا ہے ماما رات بھی آپ نے کھانا نہیں دیا مجھے بھوک لگی ہے کھانا دو ماما مجھے کھانا دو ماں کی ممتا ٹرپ جاتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور کہتی ہے میرے لال تمہارا ماموں کھانا لے کر آ رہا ہے تو فکر نا کر سو جا صبح ہونے والی ہے صبح ہوتے ہی تیرے ماموں جان ضرور آئینگے عبدالہادی چیخ پڑا ماما جی آپ روز یہی کہتی ہیں مگر ماموں جان نہیں آتے پاس بیٹھا عبداللہ بولا ماما جی اجازت دیجئے میں خود ہی نانی اماں کے گھر سے کھانا لے آتا ہوں ام عبداللہ نے جب اپنے لخت جگر کی بات سنی تو ٹرپ کر بولی میرے جگر باہر صیہونی فوج کرفیو لگائے بیٹھے ہیں وہ تو ہم سب کی جان کے پیاسے ہیں میرے لال میں تمہیں ہرگز نا جانے دونگی عبداللہ بولا ماما جی چار دن سے کچھ نہیں کھایا اگر اب کھانا نا ملا تو ہم تینوں مر جائینگے لہذہ میری ماں مجھے جانے دیجئے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی تو نانی جان کا گھر ہے میں ابھی گیا اور ابھی آیا مجھ سے عبدالہادی کا رونا نہیں دیکھا جاتا ماں خاموش ہو گئی اور اپنے جگر گوشے کا ماتھا چوما اور دل میں ہزاروں وسوسے چھپائے بولی جا بیٹا احتیاط سے جانا اور نانی جان کو میرا سلام کہنا ام عبداللہ اپنے جگر کو دروازے تک چھوڑنے گئی اور ڈورتے ہوئے عبداللہ کو حسرت سے دیکھتی رہی
    دوسری طرف ستر سالہ ام جعفر اپنے نواسے کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور سینے سے لگا کر بولی میرے پیارے تو اتنے خطرے میں کیوں گھر سے نکلا تو عبداللہ نے سارا ماجرا بیان کیا ام جعفر عبداللہ کی باتیں سن کر پریشان ہوگئی کیونکہ یہی ماجرہ ان کے اپنے ساتھ بھی تھا خیر ام جعفر نے پوتے کو تسلی دی اور خود کچن میں جا کر دیکھنے لگی آخر سوکھی ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے ملے اور اپنے نواسے کو دیتے ہوئے بولی لے میرے جگر ان سے گزارہ کرنا ابھی دن کا اجالا نمودار نہیں ہوا جا اجالا ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جا اور یہ ڈبل روٹی کھا کر اللہ کو یاد کرنا اللہ مدد فرمائینگے
    12 سالہ عبداللہ ہاتھ میں سوکھی روٹی کے ٹکڑے اٹھائے گھر کی جانب بھاگ رہا تھا جب گھر کی چوکھٹ کے قریب پہنچا تو اپنے سامنے صیہونی فوج کو دیکھا ابھی عبداللہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اسرائیلی فوجی کی گولی عبداللہ کے عین دل کے اوپر لگی اور بیچارہ عبداللہ اپنے اور اپنے بھائی کے پیٹ کا سامان جہنم ہاتھ میں پکڑے رب کی جنت کا مہمان بن گیا ادھر کمرے میں بند ام عبداللہ نے تشویش سے گھر سے باہر جھانکا تو اپنے لخت جگر عبداللہ کو خون میں لت پت دیکھا تو فوری اپنے لال کے اوپر اپنی مامتا کی آغوش کا سایہ کرکے رونے لگی کہ اتنے میں ظالم فوجی کی دوسری گولی آئی اور ام عبداللہ بھی اپنے لخت جگر کے اوپر گر کر رب کی جنت کی مہمان بن گئی ادھر یہ دونوں ماں بیٹا صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو اندر ننھا عبدالہادی بھوک کیساتھ ٹرپ ٹرپ کر رب کی جنتوں کا مہمان ٹھہرا
    آہ بھوک کیسی ظالم چیز ہے پاکستانیوں ان بے کسوں سے پوچھو

  • مقبوضہ فلسطین، آتش زدگی اور شدید گرمی کی وجہ سے 131صہیونی جھلس کر زخمی

    مقبوضہ فلسطین، آتش زدگی اور شدید گرمی کی وجہ سے 131صہیونی جھلس کر زخمی

    مقبوضہ فلسطین میں مختلف مقامات پربدھ کے روز ہونے والی آتش زدگی اور شدید گرمی کی وجہ سے 131 صہیونی جھلس کر زخمی ہوگئے۔ ان واقعات میں 200 مکان جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے جبکہ 10 گاڑیاں بھی جل کر خاکستر ہوگئیں۔
    اسرائیلی چیک پوسٹوں کی وجہ سے فلسطینیوں کو سالانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان
    اسرائیلی ذرائع کے مطابق سو سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے بیسیوں افراد بے ہو ش ہو گئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے۔

  • دنیا جو بھی کرلے وادی اردن کا علاقہ نہیں چھوڑیں گے .نیتن یاہواکڑگئے

    دنیا جو بھی کرلے وادی اردن کا علاقہ نہیں چھوڑیں گے .نیتن یاہواکڑگئے

    تل ابیب :دنیا جو مرضی کرلے اسرائیل کبھی بھی وادی اردن کا علاقہ نہیں چھوڑے گا .کسی معاہدے کو نہیں مانتے نیتن یاہو دنیا کے سامنے اکڑ گئے .اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مزید کہا کہ امریکا کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ تنازعہ کے حل کے لیے صدی کی ڈیل کا امن منصوبہ پیش کیا گیا ہے تاہم ہم اس منصوبے کی ایسی کوئی تجویزقبول نہیں کریں گے جس میں وادی اردن سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا جائے۔ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وادی اردن سے اسرائیلی انخلاء سے امن نہیں آئے گا بلکہ جنگ اور دہشت گردی میں امزید اضافہ ہوگا۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے وادن اردن پر قبضہ برقرار رکھنے سے متعلق اپنا بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب وہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن کے ہمراہ اس علاقے کے دورے پر آئے تھے۔ انہوں‌ نے صدی کی ڈیل کو مسترد کرنے کے فلسطینی موقف کی شدید مذمت کی اور کہا کہ فلسطینیوں کا منامہ کانفرنس میں شرکت کا بائیکاٹ امن کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں میں تعاون نہ کرنے کے مترادف ہے۔

    نیتن یاھو نے کہا کہ ان کا وادی اردن سے فوج نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ امن کے لیے وادی اردن سے اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کرتے ہیں میں انہیں بتا دیتا ہوں کہ وادی اردن سے فوج نکالنے سے امن قائم نہیں‌ ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں جنگ اور دہشت گردی میں مزید شدت آئے گی۔

  • اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 23 فلسطینی شہید ہو گئے

    اسرائیل نے گزشتہ روز فلسطین پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 23 فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے. اسرائیل نے یہ حملے حماس پر راکٹ حملے کا الزام لگاتے ہوئے کیے. اسرائیل کے مطابق حماس نے دارالحکومت تل ابیب پر راکٹ حملہ کیا جسکے نتیجے میں 4 اسرائیلیوں کی ہلاکت ہوئی. اسرائیل نے اپنے شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے فلسطین پر حملہ کیا جس کے بعد بچوں اور حاملہ خاتون سمیت 23 فلسطینی شہید ہو گئے.

    1948 سے اب تک اسرائیل اب تک ہزاروں فلسطینیوں کو شہید اور گرفتار جبکہ لاکھوں کو زخمی کر چکا ہے. شہید اور گرفتار افراد میں بڑی تعداد بچوں کی ہے. اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک نے حالیہ اسرائیلی حملے کی مزمت کی ہے.