Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    لندن میں پارلیمنٹ اسکوائر پر فلسطین ایکشن کے حامیوں نے احتجاج کیا، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئےخواتین،سمیت 466 مظاہرین کو گرفتار کر لیا-

    پولیس کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف نعرے درج تھے،مظاہرے کے منتظمین کے مطابق اس میں 600 سے 700 افراد شریک ہوئے، تاہم پولیس نے اتنی بڑی تعداد میں شمولیت کے دعوے کی تردید کی،فلسطین ایکشن پر 5 جولائی 2025 سے ٹیررازم ایکٹ کے تحت پابندی عائد ہے، اور اس گروہ کی رکنیت یا حمایت پر 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    ادھرغزہ میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے نہ تھم سکے، قابض فوج نے مختلف علاقوں پر حملے کرکے صبح سے اب تک مزید 47 فلسطینیوں کو شہید کردیااسرائیلی فوج کے حملوں میں شہید ہونے والوں میں 40 وہ افراد بھی شامل ہیں جو خوراک کے حصول کے لیے پناہ گزین کیمپوں سے باہر نکلے تھے۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ امریکا، اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

    عرب میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث غزہ میں شہادتوں کی مجموعی تعداد 61 ہزار 369 ہوگئی جبکہ اس دوران ایک لاکھ 52 ہزار 850 افراد زخمی ہوچکے ہیں،غزہ میں قحط کی صورتحال بھی برقرار ہے جہاں بھوک کی شدت سے مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے جس کے بعد غذائی قلت سے اموات 200 سے تجاوز کر گئیں۔

    ادھر غزہ پر مکمل کنٹرول کے اسرائیلی مذموم منصوبے کے تحت فوجی ٹینک غزہ کے بارڈر پر پہنچنا شروع ہوگئےفلسطینیوں نے بھی غزہ چھوڑنے سے صاف انکار کردیا، فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہیں مریں گے اورکہیں نہیں جائیں گے،دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔

    خواجہ آصف کا بھارت کو طیاروں کے ذخیرے کی آزادانہ تصدیق کا چیلنج

  • کینیڈا کافلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان

    کینیڈا کافلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان

    کینیڈا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی-

    کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران فلسطین کو باقاعدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،یہ اقدام اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی امید کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جو ایک طویل عرصے سے کینیڈا کا ہدف رہا ہے اور ’جو ہماری آنکھوں کے سامنے ختم ہو رہا ہے‘۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کینیڈا کا ارادہ ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں ستمبر 2025 میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرے، غزہ میں شہریوں کی بگڑتی ہوئی حالت نے امن کے لیے مربوط بین الاقوامی اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، کیا کوئی ایسا منظر ہو سکتا ہے جس میں کینیڈا اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے پہلے اپنا مؤقف بدل دے؟تو کارنی نے کہا ایک منظرنامہ ہو سکتا ہے، لیکن شاید ایسا جو میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔

    پاکستان قربانیاں دے کردنیا کو دہشتگردی سے بچا رہا ہے،عطا اللہ تارڑ

    وزیرِاعظم نے بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور اسی تناظر میں کینیڈا نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی ضروری اصلاحات کی ضمانت دے تو ستمبر میں جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کینیڈا کی حمایت فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے متوقع اصلاحاتی اقدامات سے مشروط ہے ان اصلاحات میں سب سے نمایاں نکتہ 2026 میں حماس کے بغیر آزاد اور شفاف عام انتخابات کا انعقاد ہے، جسے کینیڈین حکومت فلسطینی جمہوریت کی جانب ایک مثبت قدم سمجھتی ہے۔

    وزیرِاعظم کارنی نے اسرائیل کی پالیسیوں پر بھی کھل کر تنقید کی اور کہا کہ کینیڈا اس حقیقت کی مذمت کرتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں شدید تباہی کی راہ ہموار کی، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    وزیراعظم اویس لغاری کی کارکردگی سےخوش، خصوصی خط لکھدیا

    واضح رہے کہ کینیڈا سے قبل فرانس اور برطانیہ بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی مشروط حمایت کرچکے ہیں برطانوی وزیرِاعظم سر کئیر اسٹارمر نے چند روز قبل کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اعلان کیا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی، مغربی کنارے پر قبضے سے باز رہنے اور دو ریاستی حل پر آمادگی ظاہر نہیں کرتا تو برطانیہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فرانس فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کرے گا، اس بین الاقوامی رجحان کو مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے حل کی جانب ایک ممکنہ سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 41 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے، چین

    فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے، چین

    چین نے کہاہےکہ،دو ریاستی حل ہی فلسطینی مسئلے کا بنیادی اور واحد راستہ ہے،فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے-

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین خطے میں اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں اضافے کی مخالفت کرتا ہے اور غزہ کے عوام کی تباہی پر شدید تشویش رکھتا ہے، غزہ میں انسانی صورتحال کبھی اتنی سنگین نہیں رہی، فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے، اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید بڑے پیمانے پر انسانی بحران کو روکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم متعلقہ فریقین، خصوصاً اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً غزہ میں فوجی کارروائیاں بند کرے، محاصرہ اور ناکہ بندی ختم کرے، اور انسانی امدادی سامان کی رسائی مکمل طور پر بحال کرے، دو ریاستی حل ہی فلسطینی مسئلے کا بنیادی اور واحد راستہ ہے، چین فلسطینی عوام کی ایک آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے،چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی، انسانی بحران میں کمی، دو ریاستی حل کے نفاذ، اور فلسطینی مسئلے کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔

    سندھ:مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اُجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری

    اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر وحشیانہ حملہ کیا ہے، جس میں 60,000 سے زیادہ فلسطینی شہیدہو گئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، مسلسل بمباری نے انکلیو کو تباہ کر دیا ہے اور خوراک کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھےاسرائیل کو انکلیو پر جنگ کے لیے عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

    سعودی عرب: شادی کے پہلے ہی سال طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ،وجہ کیا؟

  • 221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا  فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 221 ارکان پارلیمنٹ نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق کانفرنس کے دوران ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرے۔

    بی بی سی کے مطابق برطانوی پارلیمنٹیرینز کی جانب 25 جولائی کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کو 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل یہ خط لکھ رہے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے اپنی حمایت ریکارڈ پر لا سکیں‘۔

    اراکین پارلیمنٹ نے لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ اس کانفرنس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ برطانوی حکومت دو ریاستی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ وعدے پر عمل درآمد کا وقت اور طریقہ کار کا تعین کرے گی اور یہ بھی واضح کرے گی کہ وہ اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کس طرح تعاون کرے گی-

    رنویر سنگھ کی فلم میں بینظیر بھٹو کی تصویر اور پی پی کے جھنڈے کا استعمال،ویڈیو

    خط میں کہا گیا کہ اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ کے پاس ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے قیام کا واحد اختیار نہیں، لیکن برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا ایک مؤثر اقدام ہوگا، خاص طور پر ہماری تاریخی وابستگی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کی وجہ سے، ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ یہ قدم ضرور اٹھایا جائے’فلسطین کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کرنا ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ برطانیہ ہی نے بلفور ڈیکلریشن کا اجراء کیا تھا اور فلسطین میں سابقہ مینڈیٹری طاقت رہا ہے، 1980 سے ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے آئے ہیں‘۔

    ’سیاسی جماعتوں کے اراکین کی جانب سے لکھے خط میں مزید کہا گیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا نہ صرف اس مؤقف کو عملی حیثیت دے گا بلکہ ان تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا جو اس مینڈیٹ کے تحت ہم پر عائد ہوتی ہیں،یہ ایک بین الجماعتی خط ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مختلف سیاسی حلقے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں، دو ریاستی حل گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام پارٹیوں کا مشترکہ مؤقف رہا ہے-

    افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

    خط میں مزید لکھا گیا کہ اکتوبر 2014 کو ایوانِ زیریں نے بھاری اکثریت سے درج ذیل قرارداد منظور کی تھی کہ ’یہ ایوان یقین رکھتا ہے کہ حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست کو بھی تسلیم کرنا چاہیے،یہی مؤقف آج بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں کا ہے، اور ہم آپ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کانفرنس میں فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔

  • فرانس کا  فلسطین کو باضابطہ طور خود مختار ریاست تسلیم کرنے پر امریکا اور اسرائیل سیخ پا

    فرانس کا فلسطین کو باضابطہ طور خود مختار ریاست تسلیم کرنے پر امریکا اور اسرائیل سیخ پا

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں فلسطین کو باضابطہ طور خود مختار ریاست تسلیم کرلے گا،جس پر امریکا اور اسرائیل سیخ پا ہو گئے-

    عالمی میڈیا کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک خط لکھ کر فرانس کے اس ارادے سے آگاہ کیا ہےاپنے خط میں صدر ایمانوئیل میکرون نے لکھا کہ فرانس مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور منصفانہ امن کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر میں اس کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

    فرانس نے اس اعلان کا وقت جنرل اسمبلی کا آئندہ اجلاس اس لیے منتخب کیا ہے تاکہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کے لیے نیا سفارتی فریم ورک پیش کرسکے تاہم فرانس کے اس دلیرانہ فیصلے نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو برہم کر دیا ہے اور دونوں ممالک نے شدید ردعمل دیا ہےاسرائیلی وزیر اعظم بنیا من نیتن یاہو نے اسے "دہشت گردی پر انعام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست اسرائیل کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے، اسرا ئیلی وزیر دفاع نے بھی فرانس کے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کو "شرمناک” قرار دیا ہے۔

    دہشتگرد واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا چلا رہے،بندکیا جائے،طلال چوہدری

    جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فرانس کے اس اقدام کو حماس کے لیے پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، فرانس کا یہ اقدام اُن اسرائیلی متاثرین کی توہین ہے جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں مارے گئے تھے۔

    جس پر فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے واضح کیا کہ ہم حماس کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطین کو تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ حماس دو ریاستی حل کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی آئندہ ہفتے سے مزید بارشوں کی پیشگوئی

    ادھر سعودی عرب نے فرانسیسی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے اسی طرح کے "مثبت اقدامات” اٹھائیں،سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ قدم امن کے لیے حمایت اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی تائید ہے۔

    اسپین جو پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے، نے بھی میکرون کے اعلان کو سراہا ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی واحد حل ہے اور اس میں فرانس کا شامل ہونا خوش آئند ہے۔

    کینیڈا نے بھی اسرائیل پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ غزہ کی صورتحال میں بہتری لائے اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرےوزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

    عدالتی امور دو شفٹوں میں چلانا زیر غور ہے ، چیف جسٹس

    فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ نے فرانس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عالمی قوانین کی حمایت اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی توثیق ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اس وقت یورپ میں یہودیوں اور مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے اور پہلی بڑی مغربی طاقت ہوگی جو فلسطین کو تسلیم کرے گی-

  • لندن: رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار  کا اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی

    لندن: رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار کا اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی

    لندن کے رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار نے اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے فلسطینی پرچم لہرا دیا،اسٹیج پر فلسطین کاپرچم لہراتے اداکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے –

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپرا ہاؤس لندن میں دکھائے گئے ایک ڈرامے کے اختتام پر تالیوں کی گونج میں شائقین کی داد لیتے اداکاروں میں سے ایک نے فلسطین کا پرچم لہرادیا اداکار کے اس عمل پر وہاں موجود عملے نے پرچم لینے کی کوشش کی جس کے باوجود اداکار پرچم لے کر کھڑا رہا اور شائقین کی تالیاں جاری رہیں ،یہ پہلا موقع نہیں ہے کی جب کسی اداکار نے فلسطین کے ساتھ اس طرح اظہار یکجہتی کیا اس سے قبل بھی کانسرٹس میں کئی گلوکار ،اداکار فلسطین کے ساتھ مختلف طریقوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر چکے ہیں-

    https://x.com/AnatomyOfSufism/status/1946992239395188812

    دوسری جانب مراکش میں ہزاروں افراد غزہ کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئےمراکش کے دارالحکومت رباط میں غزہ کی حمایت میں بڑی ریلی نکالی گئی جس دوران ہزاروں افراد نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مارچ کیا ریلی میں فلسطینی پرچم لہراتے ہزاروں افراد نے غزہ سے اظہار یکجہتی کیا جب کہ احتجاج میں شامل مظاہرین نے اسرائیلی محاصرہ ختم کرکے غزہ میں جنگ بندی اور امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا دوران احتجاج مظاہرین نے مراکش حکومت سے اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    غزہ : اسرائیلی طیاروں کی خوراک کے منتظر فلسطینیوں پر بمباری ، 115 شہید،200 سے زائد زخمی

  • غزہ : اسرائیلی طیاروں کی خوراک کے منتظر فلسطینیوں پر بمباری ، 115 شہید،200 سے زائد زخمی

    غزہ : اسرائیلی طیاروں کی خوراک کے منتظر فلسطینیوں پر بمباری ، 115 شہید،200 سے زائد زخمی

    غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مزید 115 فلسطینی شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ پٹی میں امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اسرائیلی حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں 92 فلسطینی شہید ہوگئےاس کے علاوہ خان یونس میں بھی اسرائیلی حملے میں سات افراد شہید ہو گئے، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے، عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے براہ راست فائرنگ کی۔

    جبکہ غزہ کا محاصرہ بدستور جاری ہے ، امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں بھوک کے باعث 18 افراد جاں بحق ہوئےاقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے تصدیق کی ہے کہ ان کا 25 ٹرکوں پر مشتمل قافلہ جیسے ہی اسرائیل سے داخل ہوا تو اسے شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

    2006ممبئی ٹرین دھماکے:ممبئی ہائی کورٹ نےتمام بے گناہ 12 مسلمانوں کو بری کر دیا

    دوسری جانب مراکش میں ہزاروں افراد غزہ کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مراکش کے دارالحکومت رباط میں غزہ کی حمایت میں بڑی ریلی نکالی گئی جس دوران ہزاروں افراد نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مارچ کیا، ریلی میں فلسطینی پرچم لہراتے ہزاروں افراد نے غزہ سے اظہار یکجہتی کیا جب کہ احتجاج میں شامل مظاہرین نے اسرائیلی محاصرہ ختم کرکے غزہ میں جنگ بندی اور امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا،دوران احتجاج مظاہرین نے مراکش حکومت سے اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    غزہ کی جامعات سے کامسٹیک کا ورچوئل اجلاس، اسکالرشپس اور تعلیمی بحالی پر اتفاق

  • 60  برطانوی اراکنن پارلیمنٹ کا فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنیکا  مطالبہ

    60 برطانوی اراکنن پارلیمنٹ کا فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنیکا مطالبہ

    برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرے-

    برطانوی میڈیا کے مطابق اس سلسلے میں ارکان نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کو باقاعدہ خط لکھا ہےخط میں ارکان پارلیمنٹ نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کو جنوبی رفح کے ایک کیمپ میں جبری منتقل کرنے کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلا ف ورزی ہے۔

    اراکین نے خبردار کیا کہ اگر برطانوی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہ کیا تو دو ریاستی حل کے لیے برطانیہ کی حمایت غیر موثر ہو جائے گی،انہوں نے حکو مت پر زور دیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا (UNRWA) کی امداد جاری رکھے تاکہ انسانی امداد اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

    ہزاروں اسرائیلیوں کا فوجی ہیڈکوارٹرز کے سامنے مظاہرہ ،غزہ جنگ بندی کا مطالبہ

    فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری محاصرے اور امداد کی کمی کے باعث تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار بچے شدید غذائی قلت اور قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی فوری مداخلت نہ ہوئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    روس یوکرین جنگ: شمالی کوریا کا روس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

  • غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے، اقوام متحدہ

    غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے، اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ انروا چیف نے کہا ہے کہ غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا ہے اور ہر3 میں سے ایک شخص بغیر کچھ کھائے دن گزارتا ہے۔

    فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق انروا‘ کے سربراہ نے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں، ایک طرف موت ہے تو دوسری جانب بھوک، ہمارے اصول اور اقدار دفن ہو رہے ہیں، مئی سے اب تک تقریباً 800 فلسطینی امداد کی تلاش میں مارے جا چکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    علاوہ ازیں غزہ کی وزارت اوقاف کے مطابق خان یونس کے مغرب کے علاقے المواسی میں اسرائیلی فوج نے قبریں اُکھاڑ کر لاشیں نکالیں جسے وزارت نے "مقدسات کی کھلی پامالی” اور "مرنے والوں کے تقدس پر صریح حملہ” قرار دیا۔

    وزارت نے کہا کہ اسرائیلی دراندازی صرف زندہ فلسطینیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب مردوں کی قبریں بھی دشمنی کی زد میں آ چکی ہیں، ترک قبرستان کی مسماری کو وزارت نے انسانی وقار اور مذہبی اقدار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی تعاون کا معاہدہ

    وزارت اوقاف کے مطابق غزہ میں موجود 60 میں سے کم از کم دو تہائی قبرستان یا تو مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں یا شدید نقصان پہنچا ہےبین الاقوامی قوانین کے مطابق قبرستانوں کا تقدس برقرار رکھنا لازم ہے، تاہم اسرائیلی اقدامات عالمی انسانی حقوق کے اصولوں اور جنگی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی سمجھے جا رہے ہیں۔

  • فلسطینی طالبعلم نےٹرمپ کیخلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا

    فلسطینی طالبعلم نےٹرمپ کیخلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کردیا

    فلسطین کے حق میں امریکی طلبہ کے مظاہروں کی قیادت کرنے والے طالبعلم رہنما محمود خلیل نے امیگریشن حکام کی جانب سے گرفتاری اور حراست میں رکھنے پر سابق صدر ٹرمپ کی حکومت کے خلاف 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا، سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس محمود خلیل کی قانونی معاونت کر رہا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک غیر قانونی منصوبے کے تحت محمود خلیل کو خوفزدہ کرنے کے لیے انہیں گرفتار کیا، حراست میں رکھا اور ملک بدر کرنے کی کوشش کی، خلیل کو اس واقعے کے باعث شدید ذہنی صدمے، مالی نقصان اور ساکھ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا، محمود خلیل نے مقدمے کو احتساب کی جانب پہلا قدم قرار دیا، میری زندگی کے وہ 104 دن کبھی واپس نہیں آ سکتے، جو صدمہ مجھے سہنا پڑا، اپنی بیوی سے جدائی اور اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا لمحہ جس میں شریک نہ ہو سکا، وہ سب ناقابلِ تلافی ہیں سیاسی انتقام اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ضرور جوابدہی ہونی چاہیے۔

    محمود خلیل پہلے بھی اپنی حراست کے دوران گزرے تکلیف دہ حالات کا ذکر کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے بتایا تھا کہ ’میں 70 سے زائد افراد کے ساتھ ایک تنگہ جگہ میں رہ رہا تھا، جہاں نہ کوئی پرائیویسی تھی، نہ کبھی روشنی بند ہوتی تھی۔