Baaghi TV

Tag: فلسطین

  • مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن صرف دو ریاستی حل سے ہی ممکن ہے۔

    نیو یارک میں اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو دو ریاستی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حالیہ عالمی فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال اور دیگر کئی ممالک کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے منعقد کی گئی تھی،پاکستان کو فخر ہے کہ وہ 1988 میں فلسطین کے آزادی کے اعلان کے فوراً بعد اسے ریاست تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے پاکستان عالمی برادری، خصوصاً اُن ممالک سے اپیل کرتا ہے جنہوں نے تاحال فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ بھی بین الاقوامی اصولوں کے تحت اس انسانی اور سیاسی فریضے کو پورا کریں۔

  • فرانس نے  فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا

    فرانس نے فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا

    فرانس نے فلسطین کو بطورِ آزاد ریاست تسلیم کرلیا۔

    فرانس اور موناکو نے پیر کے روز ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں باضابطہ طور پر فلسطین کو آازاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا،فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی ہوں گی تاکہ دو ریاستی حل کے امکان کو محفوظ رکھا جا سکے، جہاں اسرائیل اور فلسطین امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ رہ سکیں، یہ اعلان کرتے ہی شرکا نے زور دار تالیاں بجائیں،فرانسیسی صدر نے نئی فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک فریم ورک پیش کیا، جس کے تحت فرانس اصلاحات، جنگ بندی اور غزہ میں قید تمام قیدیوں کی رہائی جیسے عوامل کی بنیاد پر ایک سفارتخانہ کھولے گا۔

    https://x.com/EmmanuelMacron/status/1970237707336192210

    روس ایران میں 8 نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کرے گا

    اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ اور سان مارینو سے بھی توقع ہے کہ وہ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل فلسطین کو تسلیم کریں گے، اس سے قبل ہفتے کے اختتام پر آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور مالٹا نے بھی ایسا کیا،پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وزیر خارجہ اسحاق ڈار مقررین میں شامل نہیں تھے، اس اجلاس میں ترکیہ، آسٹریلیا، برازیل اور کینیڈا سمیت کئی ممالک کے سربراہان اور وزرائے اعظم شریک تھےوزیراعظم شہباز شریف پیر کو نیویارک پہنچے لیکن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

    لاکھوں قانونی مہاجرین کو واپس بھیج کر £230 بلین بچائیں گے، نائجل فراج

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے کانفرنس میں بھرپور شرکت کی،وزیر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلانات کا خیر مقدم کیا۔

    کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے، جب مغربی طاقتوں نے دہائیوں پرانی پالیسی سے ہٹ کر فلسطین کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے،بھھ1برطانیہ، جس نے 1917 کے بالفور اعلامیے کے ذریعے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی تھی، اس نے بھی پیر کو لندن میں فلسطینی سفارتخانہ کھول دیا۔

    یہ اعلیٰ سطحی اجلاس جولائی میں ہونے والی ایک سمٹ کے بعد منعقد ہوا، جس میں نیویارک اعلامیہ کا مسودہ تیار کیا گیا تھا اور بعد ازاں 12 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیااسی روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز میں دولت مشترکہ وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔

    چین اور امریکا کے دفاعی مذاکرات کا آغاز، فوجی روابط بہتر بنانے پر زور

    انہوں نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کی میزبانی میں ہونے والی مشاورت میں بھی شرکت کی، جس میں اردن اور یو اے ای کے نائب وزرائے اعظم اور مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ شامل تھے، اس موقع پر انہوں نے کینیڈین ہم منصب انیتا آنند سے بھی ملاقات کی۔

  • فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    فرانس آج فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا

    آج فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق باضابطہ اعلان سے پہلے ہی فرانس میں ایفل ٹاور پر فلسطین کے پرچم لگا دیئے گئے ہیں،فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی حماس کے خلاف حکمت عملی ناکام ہوگئی اور غزہ جنگ سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے، پائیدارامن کیلئے دوریاستی حل ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں،کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے شراکت داری کی پیشکش بھی کی،

    آسٹریلیا نے بھی دو ریاستی حل کے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کیلئے عالمی کوششوں کا حصہ ہے،اسی طرح پرتگال کے وزیر خارجہ نے فلسطین کو باضابطہ ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پرتگال کی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل اور بنیادی لائن ہے جو دو ریاستی حل کو پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہےامریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم سنجیدہ سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں، نمائشی اعلانات پر نہیں اور ہماری ترجیحات میں امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔

  • مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے،سعودی وزیر خارجہ

    مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے،سعودی وزیر خارجہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نےکہا ہے کہ فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اوروہاں جاری پرتشدد چکر کو روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

    پاکستانی سرکاری خبر رساں ادارےکی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ سعودی عرب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر مملکت اس پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرتی ہے،سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گا، جس کا آغاز آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہوگا اور جس کا مقصد خطے میں جامع اور پائیدار امن قائم کرنا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی واس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال سعودی عرب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں امن اور انصاف کا پیغام لے کر شریک ہو رہا ہے،مملکت نے اپنے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے لے کر آج تک اور موجودہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ہمیشہ امن کے قیام، مکالمے کو فروغ دینے اور پرامن حل تلاش کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب بدستور خطے اور دنیا میں منصفانہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن جدوجہد کر رہا ہےانہوں نے یاد دلایا کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور اسے 1945 میں تنظیم کے پہلے اجلاس میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے سعودی عرب تنازعات کے حل اور امن کے قیام کی بھرپور تاریخ رکھتا ہے جو اس کی متوازن خارجہ پالیسی اور وسیع تعلقات کی بدولت ممکن ہوا۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور کو عملی شکل دینے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین کے احترام کو فروغ دینا ، دنیا میں سکیورٹی اور امن قائم کرنا اور کثیرالجہتی تعاون کے تمام مواقع کو تقویت دینا ہے۔

  • برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پالیسی تبدیل کی جا رہی ہے۔ اور برطانیہ آج دوپہر کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

    واضح رہے کہ پرتگال نے بھی فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیادوسری جانب کینیڈا اور فرانس ان دیگر مغربی ممالک میں شامل ہیں جو اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    یہ ممالک ایک ایسے وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں کہ جب اسرائیل غزہ پٹی فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے جسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے،پرتگال نے جولائی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ تنازع کی “انتہائی تشویش ناک پیشرفت” کی وجہ سے ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی فلسطینی زمین کو ضم کرنے کی بار بار کی دھمکیاں ہیں،اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

  • پرتگال بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر تیار، برازیل کابھی،اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام

    پرتگال بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر تیار، برازیل کابھی،اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام

    پرتگال نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    پرتگال کی وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ 21 ستمبر کو فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے،پرتگالی وزیرِ خارجہ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم اب وزارت خارجہ نے اعلان کر دیا ہے۔

    واضح رہے فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بیلجیئم بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور اس کا باقاعدہ اعلان رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متوقع ہے۔

    برازیل بھی اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت چلا گیا ہے جس کے لیے برازیل نے غزہ میں نسل کشی رکوانے کے لیے فریق بننے کی درخواست دے دی ہے،برازیل حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کررہا ہے۔

    امید ہے سعودی عرب باہمی مفادات اور حساسیت کو مدنظر رکھے گا، بھارت

    عالمی عدالت کے مطابق برازیل نے یہ مداخلت آرٹیکل 63 کے تحت کی ہے، جو ان ریاستوں کو یہ حق دیتا ہے جو کسی ایسے کنونشن کی فریق ہوں جس کی تشریح عالمی عدالت انصاف کے سامنے زیر غور ہو، اس مقدمے میں جو بھی تشریح عدالت کے فیصلے میں کی جائے گی، وہ برازیل پر بھی اتنی ہی لاگو ہوگی جتنی دیگر فریقین پر۔

    برازیل نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس مقدمے میں مداخلت کا حق رکھتا ہے کیونکہ وہ سن 1948 کے نسل کشی کنونشن کا فریق ہے۔ اپنی پیش کردہ دستاویز میں، برازیل نے واضح کیا کہ عدالت کی جانب سے کنونشن کے آرٹیکل 1، 2 اور 3 کی جو تشریح کی جائے گی، وہ اہم قانونی نتائج کی حامل ہوگی، اور برازیل نے ان آرٹیکلز سے متعلق اپنا قانونی مؤقف بھی پیش کیا۔

    عدالت نے جنوبی افریقہ اور اسرائیل دونوں کو دعوت دی ہے کہ وہ برازیل کی مداخلت پر آرٹیکل 83 کے تحت تحریری جوابات جمع کرائیں۔

    امریکی گلوکار بریٹ جیمز اہلیہ اور بیٹی سمیت طیارہ حادثے میں ہلاک

    واضح،رہے کہ جنوبی افریقہ نے 29 دسمبر 2023 کو اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی ہےاس مقدمے کے سلسلے میں عدالت پہلے ہی کئی عبوری احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں اسرائیل کو نسل کشی کے ممکنہ اقدامات سے باز رہنے کی ہدایت دی گئی ہے،برازیل ان متعدد ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو اس مقدمے میں مداخلت کر چکے ہیں ان میں کولمبیا، میکسیکو، اسپین، ترکی، چلی، آئرلینڈ اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

    ثنا یوسف قتل کیس:ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد

  • پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    اسلام آباد: پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

    اس مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال جبکہ فلسطین کی جانب سے پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر نے دستخط کیے،تقریب میں وفاقی سیکرٹری صحت حامد یعقوب، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ بھی شریک تھے۔

    وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر کہا کہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے آئندہ 30 روز میں ’’پاکستان،فلسطین ہیلتھ ورکنگ گروپ‘‘ قائم کیا جائے گا، جو اس تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا،معاہدے کے تحت جدید طبی شعبہ جات میں استعداد کار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل شرائط پر کام جاری

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ،دونوں ممالک انٹروینشنل کارڈیالوجی، آرگن ٹرانسپلانٹ، آرتھوپیڈک سرجری، اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ، برن اینڈ پلاسٹک سرجری جیسے اہم شعبوں میں مل کر کام کریں گے اس کے علاوہ متعدی امراض، آنکھوں کے امراض اور دواسازی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گامشترکہ تحقیق کے مواقع تلاش کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ صحت عامہ کے مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے بہتر صحت کی سہولیات کو یقینی بنانا ہےپاکستانی عوام کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ان کی فلاح کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    فلسطین کے سفیر نے وزیر صحت اور پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور پاکستان دونوں برادر ممالک ہیں اور وہ اپنے عوام کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

    اداکارہ سارہ عمیر نے شوہر سے طلاق کی تصدیق کردی

  • قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

    قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترک وزیرِ خارجہ حکان فدان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے قطر اور خطے کے دیگر ممالک پر اسرائیل کے بلااشتعال اور غیر منصفانہ حملوں کی شدید مذمت کی جو فلسطین میں جاری جارحیت کے تناظر میں کیے گئے ہیں،انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ مسلم اُمہ کو متحرک کرنے کے لیے او آئی سی اور عرب لیگ کا کردار نہایت اہم ہے،اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم بھی کیا۔

    واضح رہے کہ دوحہ میں حماس قیادت پر اسرائیلی حملے کے خلاف قطر میں عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس آج منعقد ہورہا ہے،سربراہی اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کی تیاری اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار دوحہ میں موجود ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی آج قطر روانہ ہوگئے ہیں، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی دوحہ روانہ ہوگئے ہیں۔

    کوٹری، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    یہ اجلاس اسرائیل کے دوحہ پر فضائی حملوں اور فلسطین میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے پس منظر میں طلب کیا گیا ہے اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔

    موساد قطر میں اسرائیلی حملے کی مخالف تھی، امریکی اخبار

  • بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان

    بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان

    بیلجیئم نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف 12 سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بیلجیئم کے وزیرخارجہ میکسم پریوٹ نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گےانہوں نے اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کردیایہ اقدام غزہ میں جاری انسانی المیے اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

    https://x.com/prevotmaxime/status/1962677161568981219

    وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کے خلاف قومی سطح پر 12 سخت پابندیاں نافذ کی جارہی ہیں،پابندیوں میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی، اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں کا دوبارہ جائزہ، اور اسرائیلی پروازوں و ٹرانزٹ پر پابندی شامل ہیں، یہ اقدامات اسرائیلی عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ عالمی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔

    واضح رہے کہ بیلجیئم سے قبل فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور اس کا باقاعدہ اعلان رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متوقع ہے۔

  • امریکی عوام کی اکثریت فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حق میں، سروے

    امریکی عوام کی اکثریت فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حق میں، سروے

    خبر ایجنسی کے حالیہ اپسوس سروے میں 58 فیصد امریکیوں نے رائے دی ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔

    سروے کے مطابق 33 فیصد افراد نے اس سے اختلاف کیا جبکہ 9 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔سروے میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ اسرائیل اور حماس 60 روزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی جزوی رہائی کے معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کینیڈا، برطانیہ اور فرانس فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ غزہ میں قحط کی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

    برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی انسانی صورتحال ناقابلِ تصور حد تک پہنچ چکی ہے اور فلسطینی آبادی قحط کے دہانے پر کھڑی ہے۔

    علیمہ خان کے بیٹے کی گرفتاری کی تردید، رانا ثناء اللّٰہ کا ردعمل

    نیب کارروائی، 17 ہزار 500 متاثرین کو 3 ارب روپے کی ادائیگیاں

    کراچی بارشوں سے مفلوج، 2 دن میں تاجروں کو 10 ارب کا نقصان، 20 افراد جاں بحق

    شاہد آفریدی کا بونیر کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم