Baaghi TV

Tag: فواد چودھری

  • فواد چوہدری کو گرمی کا خاص جھٹکا تو نہیں لگا،عدالت،فرد جرم کی نئی تاریخ طے

    فواد چوہدری کو گرمی کا خاص جھٹکا تو نہیں لگا،عدالت،فرد جرم کی نئی تاریخ طے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،فواد چودھری کے خلاف سرکاری ملازمین کو بغاوت پر اکسانے کا کیس کی سماعت ہوئی

    فوادچودھری کی عدم حاضری پر فردجرم عائد نہ ہوسکی ،عدالت نے فواد چوہدری کی آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کیلئے 7 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ،ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا نے کیس کی سماعت کی ،فوادچودھری کے وکیل فیصل چودہدری عدالت کے روبرو پیش ہوئے ،اور عدالت میں استدعا کی کہ فواد چوہدری بیمار ہیں عدالت پیش نہیں ہوسکتے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے، جج طاہر عباس سپرا نے وکیل فواد چوہدری سے استفسارکیا کہ فواد چوہدری کو کیا ہوا ہے، وکیل فواد چوہدری نے کہا کہ موسم کی وجہ سے فواد چوہدری کی طیب خراب ہوئی ہے ، جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کو گرمی کا خاص جھٹکا تو نہیں لگا، فواد چوہدری پر فرد جرم عائد ہو جائے تو اس کے بعد لمبی چھٹی لے سکتے ہیں، فواد چوہدری اور آپ بھی اپنی صحت کا خیال رکھیں ،

    عدالت نے کیس کی سماعت 7 جولائی تک ملتوی کردی ،فواد چودھری کو آج سیشن عدالت نے ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا تھا فوادچودھری پر آج فردجرم عائد ہونا تھی

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

  • فواد چودھری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کارروائی معطل کرنے کی استدعا مسترد

    فواد چودھری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کارروائی معطل کرنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین الیکشن کمیشن کیس کا حتمی فیصلہ دینے سے روک دیا

    عدالت نے فواد چودھری کی الیکشن کمیشن کے شوکاز نوٹس کے خلاف درخواست پر سیکرٹری الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جولائی کے پہلے ہفتے میں جواب طلب کر لیا ،فواد چودھری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی معطل کرنےکی استدعا مسترد کر دی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن کارروائی جاری رکھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہ کرے، فواد چودھری کی الیکشن کمیشن کے شوکاز نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری حکمنامہ جاری کیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ فواد چودھری کے وکیل کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور مجاز کمشنرکے پاس کارروائی کا اختیار ہے، وکیل کے مطابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس خلاف قانون ہے،وکیل نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو توہین عدالت کارروائی شروع کرنے کا اختیار نہیں دیا، کیس کی آئندہ سماعت جولائی کے پہلے ہفتے میں ہو گی،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    واضح رہے کہ توہین الیکشن کمیشن کیس میں‌ فواد چودھری پیش نہیں ہوئے جس پر الیکشن کمیشن نے فواد چودھری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے اور کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کردی ممبر کمیشن نے کہا کہ فواد چوہدری آتے ہی نہیں ہیں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کوئی نرمی نہیں ہو گی 6 جولائی کو فواد چوہدری کو پیش ہونا ہو گا،

  • توہین الیکشن کمیشن ، فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    توہین الیکشن کمیشن ، فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری

    الیکشن کمیشن میں فواد چودھری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت 5 رکنی کمیشن نے سماعت کی،فوادچودھری کی جانب سے وکیل مرزا آصف الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،وکیل آصف مرزا نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن شوکاز نوٹس کے معاملے پر فیصلہ سنا چکا ہے آج فوادچودھری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا فوادچودھری نے آج تک جواب جمع نہیں کرایا

    الیکشن کمیشن نے فواد چودھری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے اور کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کردی ممبر کمیشن نے کہا کہ فواد چوہدری آتے ہی نہیں ہیں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کوئی نرمی نہیں ہو گی 6 جولائی کو فواد چوہدری کو پیش ہونا ہو گا،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    الیکشن کمیشن کو عمران خان کا جواب مقررہ وقت پر موصول نہیں ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اسد عمر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف دو، دو اور اسد عمر کے خلاف ایک کیس ہے۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے جواب میں کہا تھا کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جواب میں کہا گیا تھا نوٹس نا قابل سماعت اور آئین سے متصادم ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

  • عمران خان پی ٹی آئی سے "مائنس” اڈیالہ جیل کے باہر پریس کانفرنس سے اشارہ

    عمران خان پی ٹی آئی سے "مائنس” اڈیالہ جیل کے باہر پریس کانفرنس سے اشارہ

    اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی سے فواد چودھری، عامرکیانی،عمران اسماعیل اور مولوی محمود کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوھدری کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو جو ہوا اس کی سخت مذمت کی ہے نئی مردم شماری کے مطابق پاکستان 25 کروڑ کی آبادی کا ملک ہے ، 25 کروڑ عوام کو زرداری اور شریف خاندان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ،ان حالات میں اپوزیشن خالی نہیں چھوڑی جاسکتی ، سابقہ لیڈر شپ سے گفتگو ہوئی اسد عمر سے بھی گفتگو ہوئی ، پرویز خٹک ، اسد قیصر ، علی زیدی اور دیگر سے رابطہ کیا ہے،ہمارا ماننا ہے کہ پاکستان کو مستحکم کی طرف جانا ہے پاکستان کے استحکام کے لیے کسی حل کی طرف جانا ہے پوری امید ہے مشکل وقت سے نکل آئیں گے،عمران خان کے علاوہ پی ٹی آئی کی پوری قیادت سے رابطہ ہوا ہے۔ پاکستان میں معاشی اور آئینی بے یقینی ہے شاہ محمود قریشی سے ملنے آئے ہیں ، تفصیلی گفتگو ہوئی ہے ، ہمیں حل نکالنا ہے ،ہم حل نکالنے کی طرف جائیں گے ،ہمارے بےشمار لوگ جیلوں میں ہیں،ہمارے لوگ براہ راست اس معاملے میں نہیں ہیں، بے گناہ کارکنان کو جیلو ں سے باہر لانا ہماری ذمہ داری ہیں ہم اس کو پورا کریں گے،

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر پریس کانفرنس کرنے والے رہنما تحریک انصاف اور عمران خان کو چھوڑ چکے ہیں، سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں،شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں بند ہیں، عمران خان کہہ چکے ہیں کہ میرے بعد قریشی پارٹی سنبھالیں گے، فواد چودھری کی پریس کانفرنس کے بعد سے ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان مائنس ہو چکا ، کیونکہ تحریک انصاف چھوڑ کر بھی وہ عمران خان کے علاوہ سب کے ساتھ رابطے میں ہیں، صرف عمران خان سے کسی کا کوئی رابطہ نہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فواد اور دیگر اڈیالہ اس لئے گئے کہ شاہ محمود قریشی کو اس بات پر منا لیں کہ عمران خان کو الطاف حسین کی طرح خطاب کرنے کے لئے رکھ لیں، خطاب بھی سوشل میڈیا پر ہو اور کارکن سنتے رہیں، لیکن پارٹی قیادت ان سے لے لی جائے،

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

  • توشہ خانہ کے تحائف،مریم بارے ٹویٹ، فواد چودھری کی ہوئی طلبی

    توشہ خانہ کے تحائف،مریم بارے ٹویٹ، فواد چودھری کی ہوئی طلبی

    ن لیگی رہنما مریم نواز سے متعلق توشہ خانہ تحائف پر ٹویٹ کا معاملہ،ایف آئی اے نے فواد چودھری کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا

    ایف آئی اے نے فواد چودھری کو 17 مارچ کو طلبی کا نوٹس بھجوا دیا، فواد چودھری نے گزشتہ روز مریم نواز کے حوالہ سے ٹویٹ کی تھی کہ نیب فوری طور پر مریم نواز کو توشہ خانے سے گھڑی لینے پر طلب کرے اور تحقیقات کی جائیں کہ دو کروڑ روپے کی گھڑی دس لاکھ میں ایک پرائیویٹ شہری کو کیسے دے دی گئی

    https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1635193510096764928

    اس ٹویٹ پر مریم نواز نے ردعمل دیتے ہوئے فواد چودھری کے خلاف قانونی کاروائی کا کہا تھا، آج فواد چودھری کو ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں طلب کیا گیا ہے. طلبی پر فواد چودھری کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی ٹویٹر پر دھمکی ،ایف آئی اے نے میرے خلاف انکوائری کا آغاز کردیا،اس ملک میں شہری حقوق مکمل طور پر معطل ہو چکے ہیں،

    ن لیگ کے رہنما، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز شریف پر جھوٹا الزام لگایا۔ جھوٹ بولو گے تو کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی؟ جھوٹ اور الزام کے علاوہ کوئی اور بات بھی آتی ہے؟ اپنی دفعہ ایک نوٹس کو آئین کی معطلی بنا دیا۔ واہ !!

    واضح رہے کہ عدالتی حکم پر وفاقی حکومت نے 2002 سے 2022 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ گزشتہ روز پبلک کر دیا ہے،لاہورہائیکورٹ نے حکومت کو 2002 سے قبل کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا تھا، آج عدالت نے 2002 سے قبل کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے،

  • پی ٹی  آئی  رہنما  شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف  مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور:پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا –

    باغی ٹی وی : مقدمہ نمبر 23/373 سب انسپکٹر کی مدعیت میں تھانہ ریس کورس لاہور میں درج ہوا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری نے زمان پارک میں پریس کانفرنس کی،پریس کانفرس میں رش کے باعث کینال روڈ بلاک ہوگئی-

    ایف آئی آر کے مطابق رہنما پی ٹی آ ئی فواد چودھری نے اشتعال انگیز تقریر کی ، فواد چودھری نے عوام کو حکومت کے خلاف اکسایا،فواد چودھری نے شارع عام پر آمدورفت میں خلل ڈال کر جرم کا ارتکاب کیا-

    مقدمہ میں روڈ بلاک ، دھمکیوں ، اشتعال انگیز تقاریر سمیت دیگر دفعات شامل ہیں-

    دوسری جانب اس معاملے پر پی ٹی آئی رہنماوں کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا-

  • فواد چودھری کے کارنامے حامد خان کی زبانی

    فواد چودھری کے کارنامے حامد خان کی زبانی

    تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کے فواد چودھری کے بارے میں ریمارکس سامنے آئے ہیں

    حامد خان انکشاف کرتے ہیں کہ میں نے پاکستان کی عدالتی تاریخ پر کتاب لکھی ہے،جو 2015 میں چھپی ہے،اور اس میں لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ کے حوالہ سے افتخار حسین چودھری صاحب،جو 2002 سے 2007 تک چیف جسٹس رہے ہیں،انکے دور کے بارے میں تاریخی حوالے سے لکھا ہے کہ اس دور میں بڑی بد عنوانیاں ہوئی ہیں، صحافی نے حامد خان سے سوال کیا کہ کل رانا ثناء اللہ نے انکو فواد چودھری کے ساتھ جوڑا ہے، کیا وہ صحیح کہہ رہے ہیں جس پر حامد خان کا کہنا تھا کہ بات یہی ہے یہی شخص تھا لیکن میں نام لینا مناسب نہیں سمجھتا

    واضح رہے کہ فواد چودھری اور اسکے بھائی کی آڈیو آج لیک ہوئی ہے، آڈیو لیک ہونے پرن لیگی رہنما عطا تارڑ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو نہیں معلوم راشد بھائی، ہم صرف اور صرف اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں۔ سزا سے کس کو ڈراتے ہیں یہ، نہیں ڈرتے ہم ان کی دھمکیوں سے۔ ایک جج کو کلین چٹ دینے کے لئے، ہر چیز داو پر لگا رہے ہیں۔ میری آج کی پریس کانفرنس کو سنسر کیا گیا

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

  • فواد چودھری کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    فواد چودھری کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں فو اد چودھری کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت بابر اعوان نے فواد چودھری کے خلاف درج ایف آئی آر پڑھ کر سنائی، بابر اعوان نے کہا کہ فواد چودھری پر ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے کی دفعہ شامل کی گئی،الیکشن کمیشن ریاست یا حکومت نہیں بلکہ محض ایک اتھارٹی ہے،
    دفعہ تو قتل کی بھی لگائی جا سکتی ہے لیکن کیس میں لگائی گئی دفعات بنتی ہی نہیں، فواد چودھری کی درخواست ضمانت منظور کی جائے، بغاوت کی دفعات پر آئینی عدالتوں کے بہت کم فیصلے موجود ہیں،بغاوت کے مقدمات کا موسم آیا تو ہائیکورٹ کے ایسے دو فیصلے آئے ہیں،قوم اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ 2 لفظ بولنے پر کسی پر یہ دفعات لگا دی جائیں،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری کی آدھی گفتگو تو تنقید کی حد تک ہے،عوام اُنکو اُنکے گھروں تک چھوڑ کر آئیں گے اسکا کیا مطلب ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ یہ ایک محاورہ ہے کہ گھر تک چھوڑ کر آئیں گے، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری سینئر وکیل ہیں ان سے لاعلمی کی توقع تو نہیں کی جا سکتی، بابراعوان نے کہا کہ فواد چودھری کی گفتگو پر کوئی کیس نہیں بنتا،جج نے وکیل سے سوال کیا کہ آپکو معلوم ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی کیا ہے، بابر عوان نے کہا کہ فواد چودھری کی گفتگو غیر ضروری تھی لیکن مقدمہ نہیں بنتا،جج نے استفسار کیا کہ آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ کسی لیڈر کی ایسی گفتگو پر ردعمل نہیں آئے گا؟ اس سے پہلے ایک خاتون جج سے متعلق جو الفاظ کہے گئے وہ بھی سامنے ہے، کیا اس کیس میں بھی بعد میں معافی مانگیں گے؟ایسی کوئی بات کیا ہی نہ کریں جس پر بعد میں معافی مانگنی پڑے،

    اسلام آبا دکی مقامی عدالت میں فواد چودھری کی ضمانت منظورکر لی گئی،عدالت نے فوادچودھری کی ضمانت 20ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظورکی، جج نے کہا کہ فوادچودھری کو اس شرط پر ضمانت دے رہا ہوں کہ وہ ایسی گفتگو دوبارہ نہیں کریں گے،

     آج فواد چوہدری بھی عدالت میں رو پڑے

    ہتھکڑیاں لگے فواد چودھری کی عدالت پیشی،رات میری آنکھوں پرپٹی باندھی گئی،فواد کا بیان

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

     عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

     فوادچودھری کے بھائی فراز چودھری کو بھی گرفتار کر لیا گیا

  • سوال یہ ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد کیوں بڑھائی گئی؟ عدالت

    سوال یہ ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد کیوں بڑھائی گئی؟ عدالت

    اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کرانے کے عدالتی فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بس اتنا بتا دیں کہ یونین کونسلز کی تعداد کس بنیاد پر بڑھائی گئیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے بلدیاتی انتخابات کیس کی ہسٹری بتانا چاہتا ہوں،بیس ہزار آبادی پر یونین کونسل کے الیکشن اور میئر کے براہ راست منتخب ہونے کا کہا گیا،16مارچ 2022 کو عدالت نے 2021 کے آرڈی نینس کو کالعدم قرار دیا،عدالت نے ڈائریکشن دی کہ سابقہ قوانین کے تحت الیکشن کرائے جائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ یونین کونسلز کی تعداد کیوں بڑھائی گئی ،اگر وفاقی حکومت کے پاس اختیار ہے تو اسے استعمال کرنے کا کوئی قاعدہ قانون ہوگا

    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے انٹراکورٹ اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ بے شمار وجوہات پر الیکشن آج ممکن ہی نہیں تھے، بیلٹ پیپرز چھپوائی کے بعد پرنٹنگ کارپوریشن میں موجود تھے جنہیں 14 ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں پہنچانا تھا، 14 ہزارسے زائد اسٹاف نے الیکشن ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دینا تھے۔

  • فواد چوہدری کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    فواد چوہدری کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    فواد چوہدری کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکر لیا گیا

    فواد چوہدری کا جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کا فیصلہ چیلنج کردیا گیا ،اسلام آباد کی مقامی عدالت میں فواد چودھری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی،جج نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ پولیس نے فواد چودھری سے 2روز میں کیا تفتیش کی؟ وکیل نے کہا کہ فواد چودھری 2 روزہ ریمانڈ میں تکنیکی طور پر پولیس کے پاس ایک ہی دن رہے، فواد چودھری کا فوٹو گرامیٹری ٹیسٹ کروانا باقی ہے جو پنجاب فرانزک لیب میں ہوگا، عدالت نے کہا کہ فواد چودھری کے وکلاکو نوٹس کی تعمیل ہو جائے پھر دلائل دیں ،سیشن کورٹ اسلام آباد نے رہنما پی ٹی آئی فواد چودھری کو طلب کرلیا، عدالت نے فواد چودھری کو ساڑھے 12بجے پیش کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کی اپیل میں ملزم کی موجودگی ضروری ہے،سیشن کورٹ اسلام آباد نے پولیس کی اپیل پر فواد چودھری کو طلب کر لیا

    بعد ازاں سیشن کورٹ اسلام آباد میں فواد چودھری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی فواد چودھری کے وکیل بابر اعوان اورعلی بخاری سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل کی عدالت پیشی پربابر اعوان نے اعتراض کیا،بابر اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا وکیل کیس میں پیش نہیں ہو سکتا، سرکاری وکیل پیش ہو،سیکریٹری الیکشن کمیشن اگر لڑائی کرنا چاہتے ہیں تو باہر آ کر کریں ،لڑائی کیلئے عدالتوں کا سہارا نہ لیا جائے،سیکریٹری الیکشن کمیشن حکومت نہیں ہے وہ پیش نہیں ہو سکتا، عدالت نے کہا کہ عدالت الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل سنے تو پھر آپ اعتراض کر سکتے ہیں، پولیس کے لیگل افسر طاہر کاظم بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،پولیس کے لیگل افسر نے ایف آئی آر کا متن پڑھ کر عدالت کو سنایا

    عدالت نے استفسار کیا کہ پولیس کس بنیاد پر فواد چوہدری کا مزید ریمانڈ مانگ رہی ہے؟ لیگل افسر طاہر کاظم نے عدالت میں کہا کہ پولیس کی استدعا پر دو روز کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا،فواد چوہدری کو ایف آئی اے دفتر لے کر گئے لیکن انہوں نے کہا کہ فوٹوگرامیٹری ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں، ہمیں بتایا گیا کہ فوٹوگرامیٹری ٹیسٹ پنجاب فرانزک لیب سے ہو گا، فوٹوگرامیٹری ٹیسٹ بہت ضروری ہے مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے، فواد چوہدری کے لیپ ٹاپ اور موبائل کی برآمدگی کیلئے تلاشی بھی لینی ہے،فواد چوہدری کہتے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہیں،معلوم کرنا ہے کہ فواد چوہدری پارٹی کے کس رہنما سے رابطے میں تھے، پولیس نے ریمانڈ کے دو روز میں جو کام کیا وہ ریکارڈ پر ہے، پیمرا سے فواد چوہدری کی ویڈیو کی سی ڈی حاضل کی، ایف آئی اے سے فواد چوہدری کی وائس بھی میچ کروا لی ہے،یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پولیس نے ریمانڈ کے دوران کچھ نہیں کیا، مجسٹریٹ کا جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنے کا فیصلہ غیرقانونی ہے،

    فواد چوہدری کی جانب سے مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی درخواست دائر کر دی گئی ،فواد چوہدری کی ڈسچارج کی درخواست پر سرکاری وکیل سے دلائل طلب کر لئے گئے،سرکاری وکیل نے کہا کہ ڈسچارج کی درخواست تب آ سکتی ہے جب ریکارڈ پر شواہد موجود نہ ہوں، فواد چوہدری کے خلاف کافی مواد ریکارڈ پر موجود ہے،فواد چوہدری کی ڈسچارج کی درخواست مسترد کی جائے، جج طاہر محمود نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل کا آغاز کریں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرکاری وکیل نے دلائل دے دیے، جواب الجواب میں کچھ دلائل میں دونگا، بابر اعوان نے کہا کہ کوئی غیرمتعلقہ شخص میرے دلائل میں خلل نہ ڈالے،ایسا کریں گے تو میں بیٹھ جاؤں گا اور میرے ساتھ کھڑے دیگر لوگ خلل ڈالیں گے، آج کل تو یہ سرزمین بے آئین بنا دی گئی ہے،قانون میں ملزم سزا ہو جانے تک معصوم سمجھا جاتا ہے،

    سماعت کے دوران وکیل الیکشن کمیشن اور وکیل بابر اعوان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، بابر اعوان نے کہا کہ غیر ضروری طور پر سماعت کے دوران مداخلت نہ کریں، یہ الیکشن کمیشن نہیں ، یہ عدالت ہے،فوادچودھری اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں،
    تین دن قبل فوادچودھری سے ملاقات کی اجازت مانگی، ابھی تک اجازت نہیں ملی،پہلی بار دیکھا کہ ملزم کو کپڑا ڈال کر لائے اور اپنے وکلاء سے اسے ملنے کی اجازت نہیں ،فوادچودھری کو جس طرح لے کر ائے یہ انسانی حقوق کی خلاف وزری ہے فوادچودھری سے اپنی لیگل ٹیم کو بخشی خانے میں بھی نہیں ملنے دیا, مجھے بتایا گیا کہ فواد چوہدری کو ساڑھے بارہ بجے طلب کیا گیا، ایک بج گیا ہے ابھی تک فواد چوہدری کو پیش نہیں کیا جا سکا، یہاں اس عدالت سے بڑی مینجمنٹ موجود ہے، آپ تو صرف اس کمرے کو ریگولیٹ کرتے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ فواد چوہدری کو لایا جا رہا ہے وہ راستے میں ہیں،بابر اعوان نے کہا کہ ایک بار اور میرے دلائل میں خلل ڈالا گیا تو میں بیٹھ جاؤں گا، بابر اعوان نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے گھوڑوں کو لگام دیں، آپکی حاضری لگ گئی ہے، آپ کو بڑا افسر بنا دیا جائے گا جیسا آپکا ایس ایچ او ہے، میں عدالت کو نہیں بتانا چاہتا کہ لوگوں کو یہاں سے کہاں لے جایا جاتا ہے، میں تو نہیں بتا سکتا کہ کہاں لے جا کر لوگوں کو ننگا کیا جاتا ہے، یہ بتائیں نا کہ اعظم سواتی کو کہاں لے جا کر ننگا کیا گیا،پولیس اس لئے ریمانڈ مانگ رہی ہے کہ جو ویڈیو ہے اس سے فواد کی تصویر میچ کرانی ہے، یہ کوئی وہ ویڈیو تو نہیں ہے جو لیکس ہوتی ہے،وہ ویڈیو نہیں جس میں میچ کرانا ہوتا ہے کہ ٹانگ مرد کی ہے یا عورت کی،اس ویڈیو میں جو وہ بول چکا وہ سامنے ہے یہ اب کیا کرنا چاہتے ہیں،میرے اربوں روپے الیکشن کمیشن پر لگتے ہیں میں ان پر تنقید کیوں نہیں کر سکتا،الیکشن کمیشن اسلام آباد کے الیکشنز سے بھاگا ہوا ہے الیکشن نہیں کروا رہا، الیکشن کمیشن کی توہین ہوئی ہے تو آئیں اور ثابت کریں ساتھ جرمانے کے پیسے بھی ملیں گے،پیسے ملیں گے جس طرح ایک نوکری کی پینشن اور دوسری نوکری کی تنخواہ مل رہی ہے، جس کی توہین ہوئی وہ عدالت آئے نا تاکہ ہم اس کی حقیقت آشکار کریں

    فواد چودھری کو عدالت پیش کر دیا گیا، فیصل چوہدری نے عدالت سے فواد چوہدری کی ہتھکڑی کھولنے کی استدعا کر دی
    عدالت نے فواد چوہدری کی ہتھکڑی کھولنے کی ہدایت کر دی ، بابر اعوان نے تفتیشی افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چابی ادھر ہی ہے یا اُن سے مانگ کر لائیں گے جنہوں نے ہتھکڑی لگائی ہے؟ پارلیمنٹ کے اندر فاضل رکن کو ٹریکٹر اور ٹرالی کہا گیا، کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا،ایک شخص نے اقوم عالم میں رسول اللہ کی شان بیان کی اس کو یہودی کہتے ہیں، ایسا کہنے پر کوئی مقدمہ نہیں ہوا، ایمان کا تعین اللہ کرے گا فواد چوہدری نے جو کچھ بولا وہ اسکی پوری جماعت بول رہی ہے، فواد چوہدری ملک کی سب سے بڑی جماعت کا ترجمان اور نائب صدر ہے،فواد چوہدری جو بول رہا ہے وہ میری بھی آواز ہے، بابر اعوان کے دلائل مکمل، الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل شروع ہو گئے

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ کہا گیا کہ فواد چوہدری کے فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی ضرورت ہی نہیں،بابر اعوان اس کیس میں گواہ نہیں جو بتائیں گے کہ فواد چوہدری نے بیان دیا، وکیل نے کہا کہ فواد چوہدری مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیدیں تو پھر فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی ضرورت نہیں،بابر اعوان اور الیکشن کمیشن کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، بابر اعوان نے کہا کہ آپ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نے آپکے دلائل سنے، آپ بھی میرے دلائل میں خلل نہ ڈالیں، یہ کہتے ہیں کہ فواد چوہدری وکیل ہے تو اسے کوئی ریلیف دے دیا جائے،

    فواد چودھری نے عدالت میں کہا کہ میں نے جو باتیں کیں انکو مانتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ میرا حق ہے،طاقت ور لوگ ہمیشہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ ان پر تنقید درحقیقت غداری ہے،تاریخ اس بات کا تعین کرے گی کہ کون درست تھا اور کون غلط، طاقت ور لوگوں کو سمجھنا ہو گا کہ عزت اپنے کنڈکٹ سے کرائی جاتی ہے، ڈنڈے سے نہیں،میں منہ پر اچھا اچھا کہوں اور باہر جا کر گالیاں دوں، یہ کونسی عزت ہے اگر آپ تنقید نہیں لے سکتے تو آپ اس طرح کے عہدے نہ لیں،فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،عدالت نے فواد چوہدری کے وکلاء اور پراسیکیوشن کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو سنا دیا گیا ہے

    فواد چوہدری نے کہا کہ میری تضحیک کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ پتہ نہیں کیا کر لیں گے،میں سابق وزیر، ممبر پارلیمنٹ رہ چکا ہوں اور سپریم کورٹ کا سینئر وکیل ہوں،فواد چودھری نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کپڑا ڈال کر لانا اور تضحیک کرنا اس کو بھی دیکھ لیجئے گا، فواد چوہدری کی فیملی سے ملاقات کی استدعا منظورکر لی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ بخشی خانے میں فواد چوہدری کی فیملی سے ملاقات کروا دی جائے،

    فواد چوہدری کا جسمانی ریمانڈ مسترد کرنے کے خلاف درخواست منظورکر لی گئی، عدالت نے فواد چوہدری کو دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیدیا ، جج طاہر محمود نے کہاکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا فواد چودھری کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے،جوڈیشل مجسٹریٹ نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی تھی ، بعد ازاں دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے فواد چودھری کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،

    قبل ازیں پولیس نے فواد چوہدری کا جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کا فیصلہ سیشن کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ پولیس نے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل دائرکردی جس میں استدعا کی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے اور فواد چوہدری کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔سیشن جج نے پولیس کی درخواست پر نوٹس جاری کردیا جبکہ پراسیکیوشن نے جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجہ کے فیصلے کوچیلنج کیا کیونکہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی تھی۔

    اس سے قبل اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنما فواد حسین چوہدری کی ضمانت درخواست پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر نے درخواستِ ضمانت پر سماعت شروع کی تو فواد چوہدری کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم دلائل دینے کیلئے تیار ہیں۔
    مزید کہا کہ؛
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    جس پر ایڈیشنل جج فیضان حید نے کہا کہ میرے سامنے ریکارڈ ہی نہیں توسماعت کیا کروں؟ بعد ازاں عدالت نے سماعت کچھ وقت کیلئے ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینے کے الزام میں بدھ 25 جنوری کو علی الصبح لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعدازاں، پولیس انہیں ماتحت عدالت سے راہداری ریمانڈ لے کر اسلام آباد لے آئی۔ جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے فواد چوہدری کو پیش کرنے کی ہدایت کی لیکن اس پر عمل نہ ہوا۔ عدالت نے درخواست خارج کردی۔ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف تھانہ کوہسار اسلام آباد میں الیکشن کمیشن حکام کو دھمکانے کا مقدمہ درج ہے۔