Baaghi TV

Tag: فیصل آباد

  • امتحانات اور طلباء کو پروموٹ کرنیکا فارمولا تیار کرلیا گیا

    امتحانات کا فارمولا طے کر لیا گیا.بورڈز کی جانب سے تیار کی گئی سفارشات کے مطابق نہم جماعت کو دہم میں پروموٹ کر دیا جائے گا. ان سے صرف دہم کے پیپر لیے جائیں گے، اور دہم کے حاصل کردہ نمبرز کے مطابق نہم کے بھی نمبرز دیے جائیں گے. دہم کے طلباء امتحان دے چکے، ان کے پیپرز جلد از جلد مارک کیے جائیں گے. اگر کسی بنیاد پہ مارکنگ شروع نا ہو سکی تو نہم کے حاصل کردہ نمبرز کی بنیاد پہ دہم کے نمبرز بھی دیے جائیں گے.

    دہم کے موجودہ طلباء کے لیے پریکٹیکل کا امتحان نہیں لیا جائیگا. پریکٹیکل کے کل نمبرز کا نصف تمام طلباء کو بلا تفریق دے دیا جائے گا، جبکہ بقیہ نصف متعلقہ مضمون کی پرسنٹیج کے حساب سے دیا جائے گا.

    تمام فرسٹ ائیر کے موجودہ طلباء کو سیکنڈ ائیر میں پروموٹ کیا جائیگا، اور صرف سیکنڈ ائیر کے امتحان لیے جائینگے، سیکنڈ ائیر امتحان کے نمبرز کے مطابق فرسٹ ایئر کء نمبرز بھی فائنل رزلٹ میں شامل کیے جائینگے.سیکنڈ ائیر کے موجودہ طلباء کا امتحان بھی نہیں لیا جائیگا، بلکہ انہیں بھی فرسٹ ائیر کی حاصل کردہ پرسنٹیج کے مطابق نمبرز دیکر یونیورسٹی داخلے کے لیے اہل سمجھا جائے گا.. (پریکٹیکل امتحان کا شیڈول دہم کی طرح ہوگا)
    رپیٹ اور امپروومنٹ والے طلباء کے لیے امتحان لیا جائیگا، جس کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائیگا.یونیورسٹیز اپنا طریقہ کار خود طے کرینگی.

  • چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

    چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

    چند باتیں سماجی تنہائی اور ہماری گھریلو زندگی کے بارے میں
    از قلم : محمد عتیق ، فیصل آباد

    یہ تحریر صرف عامی افراد کے لیے ہے کہ خاص لوگ اس وقت کرونا جیسے مرض سے نبٹنے کے لیے گھروں میں محصور ہیں اور میرے جیسے عام لوگوں جن کو حکومت گھروں میں قید کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی خدمات لے رہی ہے۔Isolation اختیار کرنا حیوان ناطق کے لیے اتنا آسان کام بھی نہیں ہے۔ میرے جیسے کم علم کو آج تک اس لفظ کی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی آج جب پٹاری کھولی تو معلوم پڑا کہ یہ لفظ فرنچ زبان سے انگریزی میں آیا ہے اور فرنچ میں بھی اطالوی زبان سے آیا ہے۔انگریزی زبان میں تو پہلے یہ فرانسیسی لفظ Isole ہی مستعمل ہوا اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ Isolated ہوگیا۔جسے اردو میں تنہائی کہا جاتا ہے اور اس وقت ساری دنیا زور دے رہی ہے کہ خود ساختہ تنہائی اختیار کرلیجیے کہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔جب کہ ادھر تو حالت یہ ہے کہ ہمارے لوگ تنہا ہوکر بھی تنہا نہیں رہ سکتے جس کا اظہار اک شاعر نے کچھ اس طرح سے کیا ہے۔فرحت احساس کا شعر ہے

    ؎کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی
    ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

    اب دیکھیے نہ کہ یہ لفظ کتنے مراحل سے نکل کر ہم تک پہنچا ہے اب حکومتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم پر ذرا "ہتھ ہولا” رکھیں کہ ہمیں بھی عرصہ لگے گا اس Isolation کو سمجھنے میں۔ خود ساختہ تنہائی سے امراء تو اتنے متاثر نہیں ہوے کہ ان کے کھاتے میں لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں موجود ہیں۔اصل متاثرین تو سفید پوش طبقہ ہے جو موجودہ صورت حال میں نہ تو کما سکتا ہے اور نہ ہاتھ پھیلا سکتا ہے۔حکومتی امداد کے پہلے مرحلے میں تو ان کا ذکر تک نہیں ہے اور اگر آ بھی جائے تو شرم کے مارے لے گا نہیں کہ بھرم ٹو ٹ جاے گا۔ کاروبار حیات بند ہے اور لوگ دکانوں کے آدھے شٹر اٹھا کر کاروبار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چائے خانے جو کہ اب کیفے ٹیریا اور ٹی ہاوس میں بدل چکے تھے وہ بھی ویران ہیں۔یارانے، دوستیاں اور حتی کہ دشمنیاں بھی سماجی فاصلے قائم رکھ کر قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔
    مردحضرات جو کہ اس وقت گھروں میں موجود ہیں وہ اک تو نوکری سے تنگ ہیں کہ حالات ہرگزرتے دن کے ساتھ سخت ہورہے ہیں اور گھر میں وقت ہے کہ گزر ہی نہیں رہا کیوں کہ بقول کسے ”اپنی بیوی کے ساتھ صرف وقت گزرتا ہے جب کہ دوسرے کی بیوی کے ساتھ وقت بھاگتا ہے“۔ خیر یہ تو بات ازراہ مزاح آگئی۔ آج پاک بلاگرز فورم کے چیئرمین محمد نعیم شہزاد صاحب کی طرف سے فورم کے گروپ میں پیغام آیا کہ اس گروپ کی قلمی کاوش کی صلاحیت چھن چکی ہے اور خواتین کو ودیعت کردی گئی ہے وغیرہ۔۔اب چیئرمین صاحب کو کون سمجھائے کہ جی اس وقت خواتین کو ہی فراغت کے لمحات میسر ہیں۔ مردحضرات کو تو دفتری کاموں کے ساتھ امور خانہ داری بھی نبھانا پڑ رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ رات گئے سوشل میڈیا پر تصاویر چڑھا کر کہا جاتا ہے کہ جی رات گئے عیاشی ہورہی ہے۔اصل میں مرد حضرات اس وقت رات کے برتن دھوکر فارغ ہوتے ہیں اور یاردوستوں کا حال احوال پوچھنے کے چکروں میں اپنی امارت ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ اسے "عیش” نہیں "عیش تلخ کرنا” کہہ سکتے ہیں۔ بات ہورہی تھی فورم کی جس میں اکثریت اساتذہ و طالب علموں پر مشتمل ہے اور فراغت کے اچھے خاصے لمحات بھی میسر ہیں لیکن اس کے باوجود لکھنے سے انکاری ہیں تو چیئرمین صاحب نے ہی یہ عقدہ سلجھایا کہ شادی شدہ لوگوں کی بیگمات کو عرضی بھیجی جائے جس کی سرخی کچھ یوں ہو ”درخواست بنام بیگمات معززات برائے فراہمی وقتِ تحریر بشرطِ تکمیل امورخانہ داری“ جس پر کچھ لوگوں نے ہمت باندھ کر قلم پکڑنے کی ٹھانی ہے۔ امید ہے کہ خاتون خانہ اب لکھاری احباب کو استثنا دے دیں گی تاکہ وہ دل کی بھڑاس نکال سکیں۔ اب لفظ استثنا ہی کو دیکھ لیجیے کہ اکثریت اسے ”استثنیٰ“ لکھ دیتی ہے حالاں کہ اصل لفظ استثنا ہے جس کا مطلب کسی عام حکم سے علاحدہ قرار دینے کی صورت مراد ہے۔اب دیکھیے کب احباب کو فرصت ملے اور وہ باورچی خانہ سے باہر نکل کر قلم دوات رکھ کر کاغذ پر چند لفظ لکھ بھیجیں۔ ویسے باورچی خانہ میں بھی اب توجدیدیت کی بھرمار ہوچکی ہے لفظ باورچی خانہ ہی تبدیل ہو کر کچن بن چکا ہے۔ انگریزی کا لفظ Kitchen کسی دور میں جرمن والوں سے لیا گیا تھا جو کہ انھوں نے اطالویوں سے لیا تھا۔ باقی اس لفظ پر اتنی بحث موجود ہے جتنی اماں کے ہاتھوں کھائی گئی برتنوں سے مار ہے۔ باورچی خانے کے ساتھ ہی ہمارے کئی لفظ بھی متروک ہوچکے ہیں۔ قومی و علاقائی ایسے الفاظ ہیں جن کی حالت ایسی ہے جیسے کسی طاقت ور بندے نے کسی کم زور بندے کا قرضہ واپس کرنا ہو۔ہمیں رکابی پلیٹ کی شکل میں میسر ہے،کفگیر تو عرصہ سے متروک ہوچکا ہے۔ مٹی کی سکوریاں ہوتی تھیں جو کہ ہندوستان میں اب بھی استعمال ہوتی ہیں،کُلہڑ (مٹی کا آب خورہ) ہوتا تھا، آب خورہ بھی شاید معلوم ہو آپ کو، سلفچی، آفتابہ، بادیہ، رکابی، خاص دان، کٹوری، طشتری، چنگیر تو اب بھی دیہاتوں میں چل رہی ہے، لفظ بگونہ سے تو شاید ہی کوئی واقف ہو۔ گھڑونچی بھی باورچی خانے سے متعلق تھی، صراحی خود بھی غائب ہوچکی ہے اور اب صرف صراحی دار گردنیں دیکھنے کو مل رہی ہیں یا پھر شعراء کے اشعار میں اس کا ذکر ملتا ہے جیسے کہ استاد ذوق کہتے ہیں

    ؎تواضع کا طریقہ پوچھو صاحبو صراحی سے
    کہ جاری فیض بھی ہے اور جھکی جاتی ہے گردن بھی

    لفظ قندیل بھی دیکھیے کہ اپنی اصل شکل میں کہاں سے آیا اور کہاں سے ہوتا ہوا اب متروک ہوچلا ہے۔عربی سے اردو میں اپنے اصل معنی وساخت میں داخل ہوا۔ ہمارے ہاں اک لفظ لالٹین بھی مستعمل تھا جو کہ انگریزی سے آیا ہے لیکن انگریزی میں بھی اطالوی زبان سے آیا ہے۔دست پناہ تو شاید کسی بزرگ کو ہی معلوم ہوگا۔ جدید دور کے ساتھ ساتھ اردو بھی ترقی کے زینے چڑھ رہی ہے۔ اب دیکھیے کہ اگلی نسل کتنے الفاظ مستعار لیتی ہے اور کہاں کہاں سے لیتی ہے۔
    بہرحال بات ہورہی تھی اک تنظیمی بیٹھک کی جس میں سماجی فاصلے کو قائم رکھتے ہوے واٹس ایپ پر ہی بحث ہورہی تھی۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون کون قلم کو تیز کرتا ہے کیوں کہ زبانیں تو عورتوں کی تیز ہوتی ہیں۔ لکھاری تو قلم کو ہی تیز کرسکتے ہیں۔ غصہ نکالنے کے لیے اس وقت بہترین وقت موجود ہے۔فرصت کے لمحات میں قلم اٹھائیے اور قارئین پر برس پڑیں کہ قاری ہی آپ کے دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔ ”وضاحت کردوں کہ مجھ پر مذکورہ باتیں صادق نہیں آئیں گی کیوں کہ میں اک غریب بندہ ہوں جو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ہرصبح اک شہر سے دوسرے شہر نکل پڑتا ہے اور ویسے بھی جس علاقے میں مقیم ہوں وہاں قانون پر عمل کرنا روایت شکنی کے زمرے میں آتاہے۔ اور رہی بات ان لفظوں کی جو ہمیں باورچی خانے سے ملے ہیں تو عرصہ ہوا اردو زبان کی شاگردی اختیار کیے ہوے اتنا تو بنتا ہی ہے اک شاگرد کا کہ وہ کچھ لفظ اٹھا کر قاری کے سامنے رکھ دے“۔

  • اسیرانِ کشمیر  تحریر؛ محمد عتیق، فیصل آباد

    اسیرانِ کشمیر  تحریر؛ محمد عتیق، فیصل آباد

    اسیرانِ کشمیر 

    محمد عتیق، فیصل آباد

    03216563157

    دنیا تیزی سے کرفیو کی جانب بڑھ رہی ہے۔ حکومتوں کی کوشش ہے کہ وہ اپنی رعایا کو گھروں میں محصور رکھ کر انھیں اس موذی مرض سے بچا سکیں۔  دنیا میں قابض ریاستوں نے فی الوقت اپنی اس جابرانہ پالیسی کو روک دیا ہے۔ اسرائیل بھی کسی حد تک فلسطینیوں پر ظلم روک چکا ہے اور شنید تو یہ بھی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو اس عالمی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے مدد فراہم کرے گا۔ بہرحال چین، کوریا، اٹلی، سعودی عرب،سپین،جرمنی، فرانس، ایران، برطانیہ،ترکی،بیلجیئم،کینیڈا، پاکستان اور بھارت سمیت پوری دنیا اس ”کرونا ” سے نبردآزما ہے۔ بھارت میں جہاں کرفیو کو بڑھانے کی باتیں ہورہی ہیں وہی پر مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم بھی بڑھایا جارہا ہے۔ دنیا تو ابھی چند ہفتے قبل ہی کرفیو جیسی اصطلاح سے عملی طور پر متعارف ہوئی ہے۔ کشمیری تو 250دنوں سے زائد اس موذی کرفیو سے نبردآزما ہیں۔ بھارت جہاں کشمیری زمین کو بتدریج ہندو زمین میں تبدیل کررہا ہے وہی پر کشمیری حریت پسندوں کو جیل میں مارنے کی کوششوں میں مصروف ہوچکا ہے۔ جہاں دنیا بھر میں حکمران گھروں میں راشن، ادویہ اور دیگر بنیادی ضروریات پہنچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں تو بھارت کشمیریوں سے بنیادی حق چھیننے کے ساتھ انھیں گھروں میں بھوکا، پیاسا اور تڑپتا ہوا مارنا چاہ رہا ہے۔ بھارتی جیلوں میں کشمیری رہنماؤں کو اس موذی وبا سے بچانے کی نہ تو کوشش کی جارہی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا ہوتا نظر آرہا ہے۔

    پاکستانی عوام جہاں اس وقت اپنے سخت ترین دور سے گذر رہی ہے وہی پر وہ کشمیریوں کے درد کو بھی محسوس کررہی ہے۔ آج بھی پاکستانی عوام نے ٹویٹر پر#PrisonersOfIndianOccupation کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ کیا ہے۔ جس میں مختلف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ جہاں پاکستان میں رہنے والے لوگوں نے اس ٹرینڈ میں شمولیت اختیار کی وہی پر دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے بھی اس ٹرینڈ میں شرکت کرکے کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے سامنے رکھا۔

    تصویر نمبر 1

    اک صارف عدیل کشمیری نے ٹویٹ کرتے ہوے کہا کہ آزادی پسند رہنما یاسین ملک ایک سال سے قید ہیں۔ 

    تصویر نمبر 2

    اک دوسرے صارف اویس کشمیری نے اپنی ٹویٹ میں ساتھ تصویر شیئر کی جس پر اردو الفاظ میں درج تھا کہ ”بہنیں بھائیوں کی غیرت ہوا کرتی ہیں لیکن جیل میں اسیر نجانے کتنی پردے کی پابند بہنیں بھائیوں کی غیرت کو پکار رہی ہیں۔ مگر بھائیوں نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا“

    تصویر نمبر 3

     ترکی میں مقیم اک پاکستانی خاتون ”مسفرہ خاتون“ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ”دنیا اپنے بدترین ادوار میں سے گذر رہی ہے۔ایسے میں حکومتیں سب ایک طرف ایک کرکے صرف انسانیت کی بات کررہی ہیں تو ایسے میں بھی کشمیریوں پر ظلم وستم بڑھ رہا ہے“

    تصویر نمبر 4

    یونی ورسٹی کونسل کے ہینڈلر سے ٹویٹ ہوئی کہ ”For thousand of families looking for closure and justic, such a responce from the state only aggravates their grief.“

    تصویر نمبر 5

    غوری برکی نامی صارف نے اس ہیش ٹیگ پر بات کرتے ہوے کہا کہ ”کیا اسیروں کے لیے بھی کرونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں“

    مذکورہ ٹرینڈ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے بارے جہاں بات کی گئی وہی پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اس کی طاقت وقدرت کے بارے بھی سوال کیے گئے۔ اقوام متحدہ کے ہینڈلر کو بھی اکثر صارفین نے نتھی (ٹیگ) کرکے سوالات کی بوچھاڑ کی۔یاد رہے کہ 54سالہ کشمیری حریت رہنمایاسین ملک، دختران ملت کی بانی رہنما آسیہ اندرابی، 66سالہ شبیر احمد شاہ جو کہ جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے بانی وصدر،قاسم فکتو کشمیر میں نیلسن منڈیلا کے نام سے معروف، مسرت عالم بھٹ اور دیگر کئی معروف سیاسی و حریت پسند بھارتی جیلوں میں قید ہیں جن پر جھوٹے مقدمات بناکر انھیں عرصہ سے مقید کیا ہوا ہے۔ موجودہ حالات میں ان سب کشمیری اسیران کو آزاد کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کو بھارتی قیادت نہ ماننے پر بضد ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس حوالے سے کام کرنے سے انکاری ہیں۔پاکستانی قیادت کے بھی صرف بیانات ہی سامنے آرہے ہیں اور عوام الناس میں اس حوالے سے اضطراب ہے کہ بڑھتا جارہا ہے۔حکومت پاکستان نے اگر اس حوالے سے جلد سے جلد کوئی سخت قدم نہ اٹھایا تو کچھ بعید نہیں کہ پاکستانی نوجوان اس حوالے سے کوئی انتہائی قدم نہ اٹھالے۔ٹویٹر پر پاکستانی جوان اس حوالے سے اپنے خیالات کا بھرپور اظہارکررہے ہیں جن پر پاکستانی و عالمی قیادت کان دھرنے کو تیار نہیں نظر آرہی

  • درندے اور درندگی بے لگام ہوگئی ، چونیاں کے بعد فیصل آباد میں‌ بچے کے ساتھ زیادتی کی کوشش ، ناکامی پر شدید زخمی کردیا

    درندے اور درندگی بے لگام ہوگئی ، چونیاں کے بعد فیصل آباد میں‌ بچے کے ساتھ زیادتی کی کوشش ، ناکامی پر شدید زخمی کردیا

    فیصل آباد: چونیاں میں‌بچوں کو اغوا کے بعد زیادنی کرنے اور پھر قتل کرنے کے واقعات کے سیاہ بادل ابھی چھٹے نہیں‌تھے کہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں نامعلوم ڈرائیور زیادتی کی کوشش میں ناکامی پر 15 سالہ بچے کا شیشے سے گلا کاٹ کر فرار ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق زیادتی کی ناکام کوشش پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈرائیور15 سالہ عبداللہ کا شیشے سے گلا کاٹ کر فرار ہوگیا، زخمی بچے کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

    ذرائع کےمطابق اسلام نگر کا رہائشی 15 سالہ عبداللہ جمعرات کو دربار بابا نور شاہ والی جارہا تھا، جنرل بس اسٹینڈ میں ایک نامعلوم بس ڈرائیور اسے زبردستی اپنے ساتھ جھال انڈر پاس کے قریب لے گیا اور زیادتی کرنے کی کوشش کی۔

    تھانہ فیکٹری ایریا پولیس کو ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے فوری گرفتار کرنےکے لیے کارروائی شروع کردی ہے

    ۔

  • فن لینڈ پاکستان سے تجارت بڑھانا چاہتا ہے

    فن لینڈ پاکستان سے تجارت بڑھانا چاہتا ہے

    فیصل آباد: پاکستان میں فن لینڈ کے سفیر ہیری کیمریمین نے کہا ہے فن لینڈ پاکستان میں تمام شعبوں میں کثیر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ فیصل آباد کے کاروباری طبقے سے ایک تقریب میں خطاب کر رہے تھے
    فن لینڈ نے پاکستان میں پہلے بھی کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جن میں بایئوٹیکنالوجی ، موبائل فون اور ریسائیکلنگ کے شعبے شامل ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر فیصل آباد میں ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے پر توجہ سے کام کیا جائے تو اس سے ناکارہ مواد کو بروئے کار لا کر سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے