Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا کہ لوگوں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں،سینیٹر تاج حیدر

    پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا کہ لوگوں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں،سینیٹر تاج حیدر

    ایوان بالا ء کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرمحمد عبدالقادر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پی ایس او کو نئے پیٹرول پمپس کیلئے لائسنس جاری نہ کرنے، اوگرا سے مختلف سیکٹرز کو گیس کی مقدار کی سپلائی کے تعین کے میکنزم، ایل این جی کی ایمپورٹ اور پرائیویٹ سیکٹرکو اس حوالے سے درپیش چلینجز باشمول سی این جی ایسوسی ایشن و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے معاملات کے علاوہ عوامی عرضداشت نمبر 4750برائے پی پی ایل کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر پیٹرولیم اور سیکرٹری وزارت پیٹرولیم کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ ممبران کمیٹی نے کہا کہ وہ ملک کے دور افتادہ علاقوں سے آ سکتے ہیں تو وزیر اور سیکرٹری کو بھی آنا چاہیے۔ کچھ سینیٹرزنے وزیر اور سیکرٹری پیٹرولیم کی عدم شرکت پر احتجاجاً کمیٹی اجلاس سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ گیس اور پیٹرولیم کے حوالے سے متعلقہ سیکٹرز کے لوگوں کوبلایا ہے تاکہ وہ اپنے مسائل بارے آگاہ کر سکیں۔ملک میں بجلی اور گیس کا سرکلر ڈیٹ بہت بڑھ چکا ہے اور دونوں شعبے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس 1100 ارب روپے کی بجلی کی مد میں سبسڈی دی گئی اور اس سال جو تخمینہ لگایا گیا ہے وہ 2000 ارب روپے کی سبسڈی کا ہے۔سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا کہ لوگوں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر دی ہیں۔ یہی حال گیس کا ہے 30 فیصد گیس پائپ لائنوں میں لیکج سے ضائع ہو رہی موثر اقدامات اٹھانے سے بہتری آ سکتی ہے۔

    قائمہ کمیٹی کو سی این جی ایسوسی ایشن کے سربراہ غیاث پراچہ، کراچی چیمبر کے محمد جاوید، زبیر موتی والا، چھوٹی انڈسٹری کے نمائندہ رحمان جاوید نے سی این جی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔ چیئرمین سی این جی ایسوسی ایشن غیاث پراچہ نے کہا کہ پنجاب میں سی این جی قلت کے باعث سات دسمبر سے سی این جی اسٹیشنز بند پڑ ے ہیں۔گیس کی طلب 12 سو مکعب ملین کیوبک فیٹ ہے اور شارٹ فال چار سے چھ سو مکعب ملین کیوبک فٹ ہے۔انہوں نے کہاکہ 2002 میں گیس کی ترجیح بندی کی گئی تھی۔2015 میں ایک پالیسی بنائی گئی کہ سی این جی اسٹیشنز کو قدرتی گیس نہیں دی جائے گی۔2017 میں اوگرا نے لائسنس دیا کہ پرائیوٹ سیکٹر اپنے وسائل سے گیس منگوا کر فروخت کریں بعد میں وہ بھی روک دیا گیا۔ اگر ہمیں اجازت مل جائے تو گاڑیوں کا 53 فیصد کرایہ کم ہو سکتا ہے۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ جنہوں نے عملدرآمد نہیں کیا انہیں سامنے لایا جائے اور عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    کراچی چیمبر کے محمد جاوید نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ گزشتہ 25سالوں سے پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو بریف کر رہے ہیں ہر چیز کا فیصلہ وزارت نے ہی کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس کے ڈومیسٹک ایک کروڑ کنکشنزہیں یہ دیکھاجائے کہ سبسڈی کس سیکٹر کوملتی ہے اور حکومت کو فائدہ کس سے ہوتا ہے۔ فرٹیلائز کو بھی سبسڈی پر گیس دی جاتی ہے اور باقی بڑی انڈسٹری سے کتنا فائدہ حکومت کو ملتا ہے۔ اگر گیس کایہ حال رہا تو بڑی صنعت بند ہوجائے گی اور وہ بنک کرپٹ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لائن لاسسزکی تفصیلات بھی اوگرا سے پوچھی جائے۔ اگر ایکسپورٹرز کو گیس کی سپلائی مل جائے تو ایکسپورٹ میں نمایاں بہتری ہو سکتی ہے۔

    معروف بزنس مین زبیر موتی والا نے بھی قائمہ کمیٹی کو آن لائن مسائل بارے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کے حوالے سے انٹر نیشنل ٹینڈرنگ ہونی چاہیے۔مختصر، درمیانی اور طویل المدتی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ نئے گیس کے ذخائز دریافت کرنے چاہیں 300 نئی صنعتیں گیس کے انتظار میں ہیں اگر گیس مل جائے تو بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔چھوٹی انڈسٹری کے نمائندے رحمان جاوید نے کہا کہ ملک میں چھوٹی انڈسٹری گیس کی قلت کی وجہ سے تباہی کی طرف جارہی ہے۔ چھوٹی انڈسٹری زیادہ تر بجلی پر چل رہی ہے۔ہمیں خود بجلی پیدا کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

    کمیٹی کو وزارت پیٹرولیم حکام نے بتایا کہا ملک میں سستی گیس کیلئے 75 فیصد لانگ ٹرم منصوبہ بندی ہے۔ دنیا بھر میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ کس سیکٹر کو کتنی گیس فراہم کی جائے۔ گیس ایمپورٹ کیلئے چار دفعہ پراسس کیا گیا مگر کوئی بھی پارٹی قانونی تقاضوں پر پوری نہ اتر سکی۔غیاث پراچہ نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو معاہدے کیے گئے سوئی سدرن کمپنی کا بورڈ ان کی منظوری نہیں دیتا۔معاہدے پر عملدرآمد کرایا جائے۔سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی نے کہاکہ جو مسائل غیاث پراچہ نے بتائے ہیں ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہماری ہمدردی ان کے ساتھ ہے اضافی اسٹرکچر بنانا ہوگا۔ اتنی کپیسٹی نہیں ہے کہ سب کیلئے گیس فراہم کی جا سکے۔2016 میں 1200 ایم ایف سی ایف کی کپیسٹی تھی جو آج 670 پر آگئی ہے۔

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    چیئرمین اوگرا نے کہا کہ مسائل کا بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی ایک اوپن پالیسی بنائی تھی اس پیٹرن کو مد نظر رکھاجاسکتا ہے۔جب تک دو ٹرمینل نہیں لگتے تب تک سی این جی ایسوسی ایشن کو 200 ایم ایم سی ایف گیس استعمال کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ سمال بزنس کے نمائندے نے کہاکہ کراچی میں کمپریسر مافیہ ختم کرنے سے بھی بہت سے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیاکہ آر این جی اور قدرتی گیس کے حوالے سے پرائسنگ کے میکنزم پر حکومت کام کر رہی ہے۔

    ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پیٹرولیم نے کہاکہ وہ تمام متعلقہ سیکٹرز جن کو گیس کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے وہ تحریری طور پر مسائل پیش کریں مل کر ان کا حل نکالا جائے گا۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کچھ صنعتوں کو 4750 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو دی جارہی ہے اور کسی انڈسٹری کو 800 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اور کسی کو 1200 روپے دی جا رہی ہے۔ ان چیزوں کو ختم ہونا چاہیے معاملات کی بہتری کیلئے یکساں پالیسی اختیار کرنی چاہیے جو وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس سے بے شمار لوگوں کا استحصال ہوتا ہے اور لوگوں میں منفی تاثرات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ادارے جو کیپٹیو پاورسستی گیس سے پیدا کر رہے وہ فروخت کر تے ہیں اس کو بھی ٹھیک کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اس کا مناسب ریٹ متعین ہونا چاہیے۔ بہتریہی ہے کہ وہ ایکسپورٹرز یا مقامی صنعت کو گیس فروخت کریں تاکہ ملک و قوم کا فائدہ ہو۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پی ایس او کو نئے پیٹرول پمپس کیلئے لائسنس جاری نہ کرنے کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ اوگرا نے جو پیڑول پمپ لگانے کا پی ایس او کو کوٹہ دیا ہے پی ایس او نے 358 پہلے ہی سے زیادہ پیٹرول پمپس قائم کررکھے ہیں۔اب یہ سٹوریج کپیسٹی میں اضافہ کر یں یا پرانے پیٹرول پمپس کو ختم کر کے نئے کا لائسنس حاصل کرسکتے ہیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جن کو این او سی دے دیا گیا ہے ان کے مسائل کو حل کریں تاکہ وہ لوگ متاثر نہ ہوں وہ آئل ریفائنریز جوبہت زیادہ منافع لے رہی ہیں ان کاجائزہ لیا جائے۔سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی سے بلوچوں اور سندھیوں کو فارغ کیا جارہا ہے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ جس پر ایم ڈی سوئی سدرن نے کہا کہ ایک سال پہلے کچھ لوگوں کو نکالا گیا تھا اب نہیں نکال رہے۔ جس پر سینیٹر پرنس احمد عمر نے کہا جن 9 لوگوں کونکالا گیا ہے اس سے کمپنی کو کتنا فرق پڑے گا اس کی رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

    عوامی عرضداشت نمبر 4750برائے پی پی ایل کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سینیٹر سرفراز احمد بگٹی نے کہاکہ کمپنی نے ڈیرہ بگٹی میں جو معاہدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا اور نہ ہی مقامی لوگوں کو معاہدے کے مطابق روزگار فراہم کیاجارہا ہے۔ صرف 15 ڈپلومہ ہولڈرز اور 10 انجینئرز لگائے گئے ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ وہ امیدوار جو ویٹنگ لسٹ میں ہیں ان کو کمپنی فوری طور پر لگائے اور معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سرفراز احمد بگٹی، انجینئر رخسانہ زبیری، افنان اللہ خان، پرنس احمد عمر احمد زئی،سعدیہ عباسی،عطاالرحمن، شمیم آفریدی، دنیش کمار، تاج حیدراور حاجی ہدایت اللہ کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری پیٹرولیم،چیئرمین اوگرا، ایم ڈی سوئی سدرن، ایم ڈی سوئی نادرن، جی ایم پی پی ایل، ای ڈی اوگرا،سی این جی ایسوسی ایشن کے سربراہ غیاث پراچہ، کراچی چیمبر کے محمد جاوید، زبیر موتی والا، چھوٹی انڈسٹری کے نمائندہ رحمان جاوید و دیگر نے شرکت کی۔

  • سینیٹرعرفان صدیقی کے خلاف پراپیگنڈا ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش

    سینیٹرعرفان صدیقی کے خلاف پراپیگنڈا ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش

    سینیٹرعرفان صدیقی کے خلاف پراپیگنڈا ، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش

    سینیٹ کی کمیٹی برائے قواعد، ضوابط و استحقاق کا اجلاس سینیٹر محمد طاہر بزنجو کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سابق ڈائریکٹر جنرل، ریڈیو پاکستان اور وزارت اطلاعات و نشریات کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل (سائبر ونگ) محمد عاصم کھچی کے خلاف سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے پیش کی گئی تحریک استحقاق کو زیر بحث لایا گیا۔ وزارت کے حکام نے سینیٹر عرفان صدیقی کے خلاف بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈا مہم چلانے پر ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی میں پیش کی۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ "چونکہ درختوں کی کٹائی کا معاملہ وزارت اطلاعات کی قائمہ کمیٹی دیکھ رہی ہے اور اس نے ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی ہے, اسلئے میں اپنی ذات کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک استحقاق پر زور نہیں دینا چاہتا.”

    کمیٹی نے طے کیا کہ ایف آئی اے سائبر ونگ کی فراہم کردہ رپورٹ ضروری کارروائی کیلئے وزارت اطلاعات کو بھیج دی جائے۔ جو کمیٹی کے آئندہ اجلاس تک آگاہ کرے کہ اس نے رپورٹ میں نامزد کیے گئے ملازمین کے خلاف کیا کاروائی کی ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ "میں درختوں کے استحقاق کو اپنے ذاتی استحقاق پر ترجیح دیتا ہوں۔” کمیٹی کے تمام حاضر ارکان نے سینیٹر عرفان صدیقی کی تجویز کی حمایت کی۔

    میں کبھی نہیں گھبراتی جوکچھ مرضی ہوجائے:حریم شاہ نےلندن سے یہ بیان کیوں دیا؟،

    شہزاداکبرنوازشریف کیس پرتوجہ دیں:جانتی ہوں کہ پاکستانی سیاستدان منی کی کتنی بلیک میلنگ کرتےہیں:معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ ن

    رمضان المبارک کے مہینے میں‌ حریم شاہ کی نئی ویڈیو وائرل 

    ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد عاصم کھچی نے تحریک استحقاق پر مزید زور نہ دینے پر سینیٹر عرفان صدیقی اور دیگر کمیٹی ارکان کا شکریہ ادا کیا۔چیئرمین کمیٹی نے ارکان کی متفقہ رائے کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ مزید کاروائی کیلئے وزارت کو بھیجتے ہوئے تحریک استحقاق کو نمٹا دیا۔ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر میاں رضا ربانی، سینیٹر سرفراز بگٹی، سینیٹر عرفان صدیقی اور وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام نے شرکت کی

  • بھنگ کے دواؤں میں استعمال کے لئے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہیں، بریفنگ

    بھنگ کے دواؤں میں استعمال کے لئے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہیں، بریفنگ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر سردار محمد شفیق ترین کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    اجلاس کے آغاز میں مرحوم سینیٹر سکندر میندھرو کے انتقال پر اْنکی مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔سینیٹر ثمینہ ممتاز کی بطور رکن نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی، کراچی کے بورڈ آف گورنرز میں نامزدگی کی توثیق کے حوالے سے کمیٹی اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا۔ سینیٹر محمد ہمایوں مہمند کا موقف تھا کہ آئین پاکستان کے مطابق پارلیمنٹرین کسی بھی طرح سے حکومت کے کسی بھی ادارے سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ نامزدگی سینیٹر ثمینہ ممتاز کے لیے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔مناسب غور و خوض کے بعد کمیٹی نے اکثریتی رائے کے مطابق سینیٹر ثمینہ ممتاز کی نامزدگی کی توثیق کر دی۔

    پی ایس ڈی پی کے تحت STEM تعلیمی نظام کے منصوبے کے بارے میں سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ اس منصوبے کے تحت پورے پاکستان سے پچاس اسکول کو سلیکٹ کیا گیا ہے جن میں اعلیٰ درجے کی سائنس لیبز بنائی جائیں گی اور طالب علموں کو مختلف سائنس پروگرامز میں عملی تربیت دی جائیگی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت پسماندہ علاقوں کے اسکولز کو بھی شامل کیا جائے۔ سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا کہ یہ منصوبہ اْنکے دور میں شروع کیا گیا تھا اور اس کے مطابق پہلے پچاس سکولوں میں اس کو نافذ کیا جائیگا اور مستقبل میں اس کو مزید چار سو سکولوں تک پھیلایا جا سکے گا۔ اس منصوبے کے پروجیکٹ منیجمنٹ یونٹ میں پروجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر آسامیوں پر تقرریوں کے حوالے سے تفصیلی بحث کی گئی۔ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ یہ آسامیاں اوپن میرٹ کے تحت مشتہر کی گئیں تھی اور اس پر تمام تر کام مکمل کر لیا گیا تھا۔ اسی پروسیس کو آگے بڑھاتے ہوئے تقرری کی جانی چاہیے۔ وزارت کے حکام نے بتایا کہ ایسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے خط موصول ہوا تھا کہ پروجیکٹ کی تقرریاں بھی صوبائی کوٹہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائیں۔ جس کے باعث تقرری کے عمل کو روک دیا گیا ہے اور نئے سرے سے کوٹہ کے مطابق اشتہار دیا جائے گا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ کوٹہ سسٹم کو متعارف کرنے والا بنیادی قانون بھی لیپس ہو چکا ہے۔ اسی لیے اب اس کوٹہ کے مطابق تقرری کرنے کی کوئی قدغن نہیں رہی۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت میں حکام کو ہدایت دی کہ معاملے کہ دوبارہ جائزہ لیا جائے اور ایسٹبلشمنٹ ڈویژن کو خط کے ذریعے کمیٹی کے موقف اور قانونی صورت حال سے آگاہ کیا جائے۔

    سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے NEECA کے انتظامی کنٹرول کو پاور ڈویژن سے وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کو منتقل کرنے کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بریفنگ کے ساتھ ساتھ ایم ڈی NEECA نے ادارے کے کام اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی کمیٹی کو بریف کیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ NEECA کے انتظامی کنٹرول کو پاور ڈویژن سے وزارت سائنس وٹیکنالوجی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بھنگ اورافیوم سے ادویات بنانےاورکاشت سےمتعلق کام شروع 

    حکومت خود بھنگ کی کاشت کرے گی: فواد چوہدری کا اعلان 

    بھنگ برائے علاج : بھنگ برائے فروخت:حکومت نے استعمال کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی

    لاہور کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کیا صورتحال؟ تشویشناک خبر آ گئی

    پاکستان اسٹیل کا پلانٹ شاید ایمرجنسی میں نہ چلایا جا سکے،وفاقی وزیر سائنس

    بھنگ سے ادویات بنائیں گے،اطلاعات سے ہٹنے پر اللہ کا شکر ادا کیا، وزیر سائنس شبلی فراز

    سپریم کورٹ میں ججز بھی "بھنگ” کے فائدے بتانے لگے

    ایم پی سکیل میں ڈی جی (PSQCA) کی تقرری کے بارے میں بھی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت کی جانب سے تقرری کا عمل مکمل کرتے ہوئے تین نام کابینہ کو بھیجے گئے تھے اور اجلاس نہ ہونے اور حکومت کی تبدیلی کے باعث معاملہ تعطل کا شکار ہوا تھا۔ اب دوبارہ متعلقہ وزیر سے منظورِی کے بعد لسٹ کابینہ کو بھجوائی جائیگی۔بھنگ کی پالیسی کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ قومی بھنگ پالیسی منظور کر لی گئی ہے۔ بھنگ کے دواؤں میں استعمال کے لئے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہے۔ اس وقت یہ چالیس بلین ڈالر کی مارکیٹ ہے جو اگلے چار سالوں میں سو بلین ڈالر تک پہنچ جائیگی۔ حکام نے بتایا کہ وزارت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع پالیسی بنائی ہے اور جلد از جلد اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، محمد ہمایوں مہمند، فوزیہ ارشد، کامران مرتضیٰ، سید شبلی فراز، محمد اسد علی خان جونیجو، ثناجمالی، افنان اللہ خان اور متعلقہ وزارت کے حکام نے شرکت کی

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی ،اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے،پیمرا کے حوالے سے ترمیم میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے ترامیم لا رہے ہیں،جو بھی ترمیم ہوگی اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے،سابق دور میں تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا ہائوسز کے اشتہارات بند نہیں ہوئے اور نہ ہی صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی سے منسلک کیا گیا ورکرز کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ کے حوالے سے قانون لایا جا رہا ہے، سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے دور میں چینلز کی کیٹیگری تبدیلی کی،2019ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چینلز کی درجہ بندی کی گئی، اس سے قبل اے، بی اور تھری کیٹیگری کے لحاظ سے اشتہارات دیئے جاتے تھے، اس درجہ بندی سے قبل پی آئی ڈی کا اشتہارات کا نظام بھی شفاف تھا،چینلز کی درجہ بندی پروگرام اور وقت کے حساب سے کی گئی،اشتہارات کے اجراء میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا، کسی چینل کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں رکھا گیا، 2013ء کے بعد پاکستان کے 70 سال مکمل ہونے پر بھی اشتہارات جاری کئے گئے، حکومت آزادی صحافت پر کامل یقین رکھتی ہے،سابق دور میں صحافیوں کو اغواء اور ان پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے، ہمارے دور میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا،

    وزارت اطلاعات نے کمیٹی کو 2008ء سے 2013 ، 2013ء سے 2018ء اور 2018ء سے 2022ء تک حکومت کی جانب سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو جاری کئے جانے والے اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کی تفصیلات سے آگاہ کیا کمیٹی کو وزارت اطلاعات کی طرف سے بتایا گیا کہ وزارت اطلاعات پانچ مرحلوں میں اشتہارات جاری کرتی ہے ،پی آئی او نے کہا کہ وفاقی سرکاری اداروں کی طرف سے اشتہارات کی منظوری کے بعد پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ادارے کی ضرورت کے مطابق اشتہارات جاری کرتا ہے، یہ اشتہارات پبلی کیشنز کو پی آئی ڈی سے براہ راست جاری کئے جاتے ہیں۔حکومت اور وزارت اطلاعات کی طرف سے اشتہارات کے اجراء اور ادائیگیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔2013ء سے 2018ء تک وزارت کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات دیئے گئے2018ء سے آئوٹ ڈور کمپین شروع کی گئی،

    وزارت اطلاعات کی طرف سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ 2013ء سے 2015ء تک آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے بھی اشتہارات دیئے گئے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چینلز کی درجہ بندی اور ٹی وی چینلز کو جاری کئے جانے والے اشتہارات کا ریکارڈ فراہم کیا جائے،کمیٹی کو تمام صوبائی حکومتوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کیلئے پی ٹی وی کی کوریج کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا اجلاس میں کمیٹی کے یکم جون 2022ء کو ہونے والے اجلاس کی سفارشات اور فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وفاقی سیکریٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد، پرنسپل انفارمیشن آفیسر سید مبشر حسن اور وزارت اطلاعات کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    وزیراعظم کے دورہ ترکی سے متعلق اخبارات میں اشتہارات کیس، فیصلہ آ گیا

    عمران خان بھی "جیو” پر مہربان، اشتہارات کی ادائیگی میں پہلا نمبر

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

  • قائمہ کمیٹی برائے خارجہ، فاروق ایچ نائیک متفقہ طور پر چیئرمین منتخب

    قائمہ کمیٹی برائے خارجہ، فاروق ایچ نائیک متفقہ طور پر چیئرمین منتخب

    قائمہ کمیٹی برائے خارجہ، فاروق ایچ نائیک متفقہ طور پر چیئرمین منتخب

    چیئرمین کمیٹی کے انتخاب کیلئے ایوان بالا ء کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کااجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹرفاروق ایچ نائیک کا نام بطور چیئرمین کمیٹی تجویز کیا اور سینیٹرز فیصل جاوید، ڈاکٹرزرقہ سہروری تیمور، ولید اقبال، ثمینہ ممتاز، مولانا عبدالغفور حیدری، مصطفی نواز کھوکھر نے متفقہ طور پر تائید کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اراکین کمیٹی کا اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام اراکین کمیٹی کے ساتھ مل کر خارجہ امور کے معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی وزارت خارجہ امور سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر جاری ظلم و بربریت اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اور خاص طور پر مسلمانوں کیلئے مودی حکومت نے جو مسائل ومشکلات پیدا کی ہیں ان کے سّدباب کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے عملی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے گی۔

    اراکین کمیٹی نے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کو قائمہ کمیٹی کا متفقہ طور پر چیئرمین کمیٹی منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر زمشاہد حسین سید،فیصل جاوید، ڈاکٹرزرقہ سہروری تیمور، ولید اقبال، ثمینہ ممتاز، مولانا عبدالغفور حیدری، مصطفی نواز کھوکھر کے علاوہ سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان، ایڈیشنل سیکرٹری حفیظ اللہ شیخ، جوائنٹ سیکرٹریٹ ربعیہ انور اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • گاڑیوں میں سیفٹی اسٹینڈرز پرکوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے، قائمہ کمیٹی

    گاڑیوں میں سیفٹی اسٹینڈرز پرکوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے، قائمہ کمیٹی

    گاڑیوں میں سیفٹی اسٹینڈرز پرکوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے، قائمہ کمیٹی
    سینیٹر سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کمیٹی میں فنانس بل 2022-23 پر غورکیا گیا ،چیئرمین ایف بی آ ر نے کہا کہ ریسٹورنٹ کی سیل پر سیلز ٹیکس کا اختیار صوبوں کو دے دیا گیا مال سپلائی کا معاملہ تھا ،صوبوں کے ساتھ طے ہو گیا ،کمیٹی نے صوبوں سے ہونے والا معاہدے کی نقل طلب کرلی

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جیولری کے سامان کی درآمد پر وفاق کیوں 4 فیصد سیلز ٹیکس لے گا ؟ جیولری کی تیاری خدمات میں آتی ہے جو صوبائی معاملہ ہے،ایف بی آر اس طرح کا اختیار لینے کیلئے متعلقہ قانون دکھائے

    سیلز ٹیکس حکام نے کمیٹی کو آگاہی دی اور کہا کہ ٹریکٹرز پر سے سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا،مقامی کوئلے کی فروخت پر17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد بند ہے کھاد پر 2 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا گیا ہے ،وفاقی کابینہ نے کھاد پر سیلز ٹیکس 10 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی ،

    سینیٹر محسن عزیز نے دوکانداروں پر سیلز ٹیکس کے معاملہ اٹھا دیا اور کہا کہ بڑے دکانداروں کو ٹیکس ریلیف دیا جارہا ہے جو کہ سیاسی فیصلہ ہے،تنخواہ دار طبقہ کم آمدنی پر بھی زیادہ ٹیکس دیتا ہے، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ فکس ٹیکس ہے جو پہلے بھی تھا اب اس کے ریٹ کو بڑھایا گیا ،

    دوسری جانب چیئرمین نورعالم خان کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوارکے معاملات کا جائزہ لیا گیا،پاکستان کار مینو فیکچرزکے حوالے سے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی گئی ، اجلاس میں گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیرکا ایجنڈ ا بھی زیربحث آیا،،سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے کہا کہ سات نئی کمپنیوں نے کاروں کی پیداوار شروع کی ،چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہا کہ سیفٹی کے لخاظ سے گاڑیوں میں کچھ نہیں، روزانہ یہاں حادثات ہو رہے ہیں،سیفٹی اسٹینڈرز پرکوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہے  ،ای ڈی بی فیل ہے آپ چیک نہیں کرتے،کیا پاکستان میں کسی گاڑی کے انجن یا گیئرباکس بنتے ہیں، سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اون کامافیا کار مینیو فیکچررز اور ڈیلرز مل کر بناتے ہیں، پی اے سی آج آرڈر دیں آٹھ ماہ بعد کی قیمت دینی ہوتی ہے،

    سوزوکی، ٹیوٹا، ہنڈا، پروٹان،ایم جی ودیگر کے نمائندے کمیٹی میں پیش ہو گئے ،بڑی کمپنیوں کے نمائندوں نے غلط اعداد وشمار پیش کر دیئے، کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں تمام کمپنیوں کے سی ای اوز کو طلب کر لیا، چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ اگلی میٹنگ میں تمام کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوبلائیں،اگرکوئی نہیں آئیگا تومیں وارنٹ جاری کرونگا، اگرسیفٹی معیارپرگاڑی پورا نہ اترنے کی وجہ سے حادثہ ہوگا تو ایف آئی آرکمپنی مالک کے خلاف ہوگی کارمینوفیکچررزکے سی ای اوز اربوں روپے پاکستان سے کماتے ہیں لیکن کمیٹی میں نہیں آئے

    چیئرمین پبلک اکاؤنٹس نور عالم خان اور سینیٹر طلحہ محمود کے درمیان تلخ کلامی ہوئی،سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ آپ کا انداز مینوفیکچررز کو ہراساں کرنے کا سوچ بنے گا،اداروں کا نچلا گریڈ کا عملہ اس آڑ میں بلیک میل کرے گا، مینو فیکچررز کے لیے نیب اور ایف آئی اے کی خدمات لینے کی بات کر رہے ہیں،

    ارکان نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر ساڑھے 13 فیصد یا 17فیصد سیلز ٹیکس نہیں ہونا چاہیے چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر کم جب کہ بڑی گاڑیوں پر زیادہ ٹیکس ہونا چاہیے، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس وقت بڑی الیکٹرک گاڑیاں منگوائی جا رہی ہیں، ابھی چھوٹی گاڑیاں درآمد نہیں کی جارہی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ امیر پر ٹیکس لگا کر غریب کو ریلیف دیا جائے،

     شہباز گل کی اہلیہ کامسیٹس یونیورسٹی کی ایک کروڑ 86لاکھ روپے کی نادہندہ نکلی

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

  • شہباز گل کی اہلیہ  کے نادہندہ ہونے کا معاملہ، قائمہ کمیٹی میں اعتراض عائد

    شہباز گل کی اہلیہ کے نادہندہ ہونے کا معاملہ، قائمہ کمیٹی میں اعتراض عائد

    شہباز گل کی اہلیہ کے نادہندہ ہونے کا معاملہ، قائمہ کمیٹی میں اعتراض عائد
    چیئرمین نورعالم خان کی زیرصدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا

    چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ فیک اکاؤنٹ پر ٹویٹر تھوڑا زیادہ وقت لیتا ہے ، فیس بک جلدی کاروائی کر دیتا ہے،ہر ماہ 12 سے 13ہزار رپورٹس مختلف پلیٹ فارمز کو بھیجتے ہیں،70 فیصد فیک اکاونٹس کو ختم کیا جاتا ہے ،ملک میں 115 ملین افراد انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں ، ملک میں 113 ملین افراد موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں،فائیو جی پر ابھی تک ہمیں پالیسی ڈائریکٹو نہیں ملا،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آئی پی پیز کے تمام معاہدوں کی تفصیلات طلب کر لیں ،چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ بعض آئی پی پیز کو بجلی استعمال نہ کرنے کے باوجود بھی پیسے دیئے جارہے ہیں،جب عوام بجلی لے نہیں رہے تو آئی پی پیز کو پیسے کیوں دیں؟ اس وقت ملک میں کتنے فیصد بجلی چوری ہورہی ہے؟ چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ڈسکوز کو 13فیصد بجلی لائن لاسز کی رعایت ہے مگر عملا بجلی کا نقصان 17فیصد پایا گیا، اس وقت سب سے زیادہ بجلی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں چوری ہورہی ہے، کیسکو میں 65فیصد بجلی چوری ہورہی ہے،بجلی صارفین کو نیٹ میٹرنگ کی سہولت دینے سے نقصان ہورہا ہے،

    پی اے سی اجلاس میں چیئرمین اوگرا نے کہا کہ پیٹرول کی اب بھی سبسٹڈی 9 سے 10روپے فی لٹر ہے، ڈیزل پر پچیس چھبیس روپے سبسٹڈی دی جارہی ہے، ملک اور غریب آدمی کی معیشت ڈیزل پر منحصر ہے،غریب آدمی کی معیشت کا ڈیزل کم قیمت پر ہونا چاہیے،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پی ایس او کے علاوہ نجی آئل کمپنیوں کو مارکیٹ کے مقابلے پر تیل بیچنے دیں،

    کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ دنیا بھر میں بجلی صارفین جتنی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں انہیں اتنی سستی دی جاتی ہے، پاکستان میں بجلی صارفین جتنی زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں انہیں اتنی ہی مہنگی دی جاتی ہے،پاکستان میں کیپسٹی پیمنٹ کے نام پر بجلی کمپنیوں کو بجلی نہ بنانے پر بھی پیسے دیئے جاتے ہیں، آئی ایم ایف سے بات کرتے ہوئے صارفین کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا،اب پھر کہا جارہا ہے کہ سات روپے یونٹ بجلی مہنگی ہورہی ہے،اگر بجلی مہنگی ہونے کا یہی سلسلہ جاری رہا تو ایسے ملک ٹوٹ جائے گا،

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شہبازگل کی اہلیہ کی ڈگری کا معاملہ سائنس ٹیکنالوجی کمیٹی کمیٹی میں زیربحث آیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں شہبازگل کی اہلیہ کو کمیٹی میں بلا لیتے ہیں یا ویڈیوپر لے لیتے ہیں،سینیٹر ہمایوں نے کہا کہ شہبازگل کی اہلیہ کا مسئلہ سیاسی ہے ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ شہبازگل کی اہلیہ نے ڈگری مکمل کی نہ رپورٹ جمع کروائی ، یونیورسٹی کا پیسہ ضائع ہوا، شہبازگل کی اہلیہ کے معاملے پر کمیٹی میں گرما گرمی ہوئی

    شبلی فراز نے کہا کہ شہبازگل کی اہلیہ کے معاملے کو سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر کمیٹی میں شامل کیا گیا، نور عالم نے کہا کہ آپ کرپشن کا دفاع کررہے ہیں؟ اگر کمیٹی میں بحث نہیں ہوگی تو زیادہ مسئلہ ہوگا،شبلی فراز نے کہا کہ شہبازگل کی اہلیہ جیسے کئی کیسز ہیں، پہلے دیگر کی بھی لسٹ مہیا کرنی چاہیے،شہبازگل کی اہلیہ کے معاملے پر چیئرمین کمیٹی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں

    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی شہباز گل کی اہلیہ کی ڈگری کے معاملے پر بحث کے دوران قائمقام چیئرمین کمیٹی افنان اللہ اور پی ٹی آئی سینیٹرز کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ کمیٹی کسی کی عدم موجودگی میں معاملے کو نہیں سن سکتی .شبلی فراز نے کہا کہ آپ گالیاں دے کر سینٹر بنے آپ نوازشریف کو بچانا چاہ رہے ہیں،یہ چیئرمین سیاسی ہیں ، غلط بندہ بیٹھ گیا، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ آپ کون ؟ کوئی جانتا تک نہیں ، پیٹی بائی کی کرپشن کو چھپانا چاہ رہے ہیں ، آپ کو عدالت میں لے کر جاؤں گا،سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ آپ کو کمیٹی روم سے باہر نکال دینا چاہیے، کمیٹی کے چیئرمین کے لائق نہیں،چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ کی شبلی فراز سے تلخ کلامی کے دوران کمیٹی روم میں سارجینٹ آگئے سینیٹر فوزیہ ارشد کی چیئرمین کمیٹی افنان اللہ کے ساتھ شدید گرما گرمی ہوئی ،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹی میں سینیٹرز کے درمیان گرما گرمی کے باعث بریک کردی گئی تلخ کلامی افنان اللہ ، شبلی فراز، فوزیہ ارشد اور ہمایوں محمند کے درمیان ہوئی

    سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹی میں سینیٹرز نے ایک دوسرے پر پیسے لے کر سینیٹر بننے کا الزام لگایا،سینیٹر ہمایوں محمند نے کہا کہ نوازشریف تمہیں قیامت کے دن نہیں بچائے گا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تمہیں بھی عمران خان قیامت والے دن نہیں بچائے گا،

    واضح رہے کہ کمیٹی ایجنڈا پر شہباز گل کی اہلیہ کے نادہندہ ہونے کا معاملہ تھا جس پر تحریک انصاف کے سینیٹرز نے اعتراض کر دیا۔

     شہباز گل کی اہلیہ کامسیٹس یونیورسٹی کی ایک کروڑ 86لاکھ روپے کی نادہندہ نکلی

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

  • ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

    ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

    ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب
    ایوان بالا قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا.

    کمیٹی نے مالی سال 2022-23 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) سے تحت سالانہ بجٹ کا جائزہ لیا۔ اے این ایف کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت چار منصوبہ جات کے لیے وزارت خزانہ سے فنڈز کی درخواست کی گئی تھی مگر فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے صرف ایک منصوبے پر اکتفاء کرنا پڑ رہا ہے۔ اے این ایف حکام نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے علاقے ہمک میں ایک بحالی مرکز پر کام جاری ہے جو آئندہ سال مکمل کر لیا جائےگا.
    وزیر برائے انسداد منشیات شاہ زین بگٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ بحالی مراکز کی تعمیر کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی ملاقات کر چکا ہوں اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بحالی مراکز کے لیے سندھ کے اضلاع میں زمین اور سرکاری عمارتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے.

    خیبرپختونخوا میں انسداد منشیات کے علیحدہ قانون کے معاملے پر وزارت انسداد منشیات نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملہ صوبائی حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے لیکن معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے. چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو انکے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے.عدالتوں میں زیر التوا منشیات کے ہائی پروفائل کیسز کے بارے میں گزشتہ اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ اس طرح کے 141 کیس مختلف عدالتوں میں زیر التواء ہیں. چیئرمین کمیٹی نے ہدایات دیں کہ ٹرائل کورٹس میں زیر التواء کیسز کی بھی تفصیلات کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں.کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، دوست محمد خان، شہادت اعوان ، انور لال دين ، جام مہتاب حسین دھر، سیمی ایزدی، متعلقہ وزارت اور اے این ایف کے حکام نے شرکت کی،

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

  • اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،مریم اورنگزیب

    اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،مریم اورنگزیب

    اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،مریم اورنگزیب

    سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، کمیٹی کے ارکان، وزارت اطلاعات کے حکام نے شرکت کی، قائمہ کمیٹی نے مریم اورنگزیب کو وفاقی وزیر اطلاعات کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔وزارت اطلاعات کے حکام نے ”ڈیجیٹل ریڈیو مائیگریشن” پراجیکٹ کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اداروں میں وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہے،آزادی اظہار رائے پر کسی قسم کی قدغن کے حق میں نہیں ہیں، اب نہ کوئی چینل بند ہوگا، نہ کوئی پروگرام اور نہ کوئی اخبار،ہم آزادی اظہار رائے پر کامل یقین رکھتے ہیں، ملک میں فیک نیوز کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے فیک نیوز چلائی گئیں، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب بھی اپنے تمام بیرونی دوروں کے اخراجات خود برداشت کئے تھے، وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب بھی ذاتی خرچ پر ہے، وزیراعظم کے ہمراہ جو لوگ جائیں گے وہ بھی ذاتی خرچے پر جا رہے ہیں، جب بھی کوئی وزیراعظم ملک سے باہر جاتا ہے تو دفتر خارجہ جہاز کو اسٹینڈ بائی کیلئے خط لکھتا ہے، یہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں بھی ہوتا رہا ہے میں نے کل اپنی پریس کانفرنس میں بھی کلیئر کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب پر ان کے ہمراہ سب لوگ اپنے ذاتی خرچ پر جائیں گے ،وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب میں وفد کے ارکان کی تعداد پچھلے تمام دوروں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے،وزیراعظم کے وفد میں صرف 13 ارکان شامل ہوں گے،

    کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ٹی وی چینلز کی ٹرانسمیشن بند ہونے اور پیمرا کی جانب سے نوٹسز کے اجراء کے حوالے سے معاملات پر چیئرمین پیمرا نے بریفنگ دی ،چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پیمرا نے کسی بھی چینل کو بند کرنے کی ہدایات جاری نہیں کیں، اے آر وائی کی نشریات پی ٹی سی ایل سمارٹ ٹی وی پر بند نہیں کی گئیں،جس دن خبر چلی کہ پی ٹی سی ایل پر اے آر وائی کی نشریات بند ہے، اسی وقت پی ٹی سی ایل حکام سے رابطہ کیا، اے آر وائی کی نشریات کسی بھی جگہ بند نہیں کی گئی، اے آر وائی انتظامیہ سے ان کیبل آپریٹرز کے نام پوچھے ہیں جنہوں نے اے آر وائی کی نشریات بند کیں لیکن ابھی تک نشریات بند ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا،اے آر وائی ثبوت فراہم کرے، ہم ایکشن لیں گے، میں نے اسی وقت چیک کیا، میرے گھر پر بھی اے آر وائی کی نشریات کیبل پر آ رہی تھیں، چینل کی نشریات ہر جگہ چل رہی تھیں،

    کمیٹی نے اے آر وائی کو جن علاقوں میں نشریات بند ہوئی، کی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کر دی، چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اگر اے آر وائی رپورٹ دیتا ہے تو نشریات بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف ایکشن لیا جائے گا،قائمہ کمیٹی کو وزارت اطلاعات کے انٹرنل پبلسٹی ونگ (آئی پی ونگ) کے سٹرکچر اور امور کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اتھارٹی بننے سے ہی حقوق کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ فیصل جاوید صحافیوں کے حق میں بول پڑے

    فنکاروں کو رائلٹی دینے کے متعلق پالیسی، سیینٹر فیصل جاوید خاموش نہ رہ سکے

  • تمام اداروں کو آئین کے تابع کام کرنا چاہیے۔سینیٹر سید علی ظفر 

    تمام اداروں کو آئین کے تابع کام کرنا چاہیے۔سینیٹر سید علی ظفر 

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایرا کے ملازمین کے حوالے سے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کے خط اور 24 اگست 2020 کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد،وزارت پارلیمانی امور کے پی ایس ڈی پی کے بجٹ کے علاوہ الیکشن کمیشن سے الیکشنز (ترمیمی)آرڈنینس 2022 پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی گئی۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے قائمہ کمیٹی کو الیکشنز ترمیمی آرڈنینس 2022 کے حوالے سے بتایا کہ 19فروری کو صدر مملکت نے ایک آرڈیننس جاری کیا۔ الیکشن کمیشن نے آرڈیننس پر اپنے کچھ تحفظات کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت کو آرڈیننس کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس آرڈیننس سے تمام سیاسی جماعتوں کو برابر کا میدان نہیں ملتا ہے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ممبرانِ اسمبلی اور سینیٹرز کو انتخابی عمل میں شرکت کی اجازت دی تاہم اس کے لیے ضابطہ اخلاق کو مزید سخت کردیا گیا تاہم عہدہ رکھنے والے صدر مملکت، وزیراعظم، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اسمبلی، وفاقی وزراء، وزراء مملکت، گورنرز، وزراء اعلیٰ، صوبائی وزراء، وزیراعظم کے معاون، میئرز / چیئرمین و ناظم کو الیکشن مہم سے روکا گیا ہے۔

    رات کے اندھیرے میں آرڈیننس جاری کرنا درست نہیں,فاروق ایچ نائیک

    کمیٹی کے رکن سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس آرڈنینس کی وجہ سے ملک کے جمہوری نظام پر جو اثرات مرتب ہونگے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور آرڈیننس کو مسترد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں آرڈیننس جاری کرنا درست نہیں ہے الیکشن کمیشن کی واضح ہدایات کے باوجود وفاقی وزراء انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے اجراء میں حکومت کی بددیانتی شامل ہے۔قائمہ کمیٹی کو اخلاقی اور سیاسی طور پر آرڈنینس کو مسترد کرنا چاہیے۔وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ اس وقت آرڈیننس پر عملدرآمد سب کی ذمہ داری ہے۔آرڈنینس پارلیمنٹ یا عدالت سے مسترد نہیں ہوا۔جب تک یہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش نہ کیا جائے اس وقت تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

     

    سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ تمام اداروں کو آئین کے تابع کام کرنا چاہیے۔صدر مملکت کو آئین کے مطابق آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار ہے اور اس پر عملدرآمد کرنا تمام اداروں کا فرض ہے۔ الیکشن کمیشن نے وزیراعظم اور کچھ پارلیمنٹرین کو نوٹسزجاری اور جرمانے عائد کیے ہیں جو آئین کی روح کے خلاف ہے۔الیکشن کمیشن آئینی اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے تمام نوٹسز کو واپس کرے۔ جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو خلاف ورزی پر نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔سینیٹرسید علی ظفر نے کہا کہ آئین کے مطابق آرڈیننس قانون کا حصہ ہے جب تک عدالت اس کو ختم نہیں کرتی ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون بنایا اورانتظامیہ کا کام قانون پر عملدرآمدکرنا، عدالت کا کام قانون کی تشریح کرنا ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ حکومت نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے آرڈیننس جاری کیا ہے۔ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ سینیٹراعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اس آرڈیننس کے ذریعے الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کی ہے اور یہ آرڈیننس آئین کی صریح خلاف ورزی ہے ہمیں اس کو مسترد کردینا چاہئے۔ آرڈیننس کے ذریعے کسی بھی آئینی ادارے کے اختیارات کو روکا نہیں جا سکتا۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی ضابطہ اخلاق بنانے کا اختیار حاصل ہے پارلیمنٹ کے پاس الیکشن کمیشن کے اختیارات صلب کرنے کا اختیار نہیں ہے آرڈیننس جاری کرنا بددیانتی ہے ہم سب کو اس آرڈیننس کو مسترد کرنا چاہئے۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے اختیارات میں کمی نہیں کی جاسکتی ہے آئین کے مطابق شفاف انتخابات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ دنوں میں اس آرڈنینس کی وجہ سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی 98 خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جس میں 61خلاف ورزیاں حکومتی پارٹی کی جانب سے کی گئی ہیں۔قائمہ کمیٹی نے کثرت رائے سے آرڈنینس کو مسترد کر دیا۔ سینیٹر سید علی ظفر اورسینیٹر ثانیہ نشتر نے رائے دی کہ جب تک آرڈنینس پارلیمنٹ سے مسترد نہیں ہوتا قانون کا حصہ ہے اس پر عملدرآمد قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

    سیکرٹری پارلیمانی امور نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وزارت پارلیمانی امور کے پی ایس ڈی پی کے کوئی منصوبہ جات نہیں ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی فنڈنگ ہوتی ہے۔ایرا ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے کمیٹی اجلاس میں معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین وا راکین کمیٹی نے کہا کہ انسانیت کی خاطر ملازمین کی بہتری کیلئے کام کیاجائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایرا میں ریگولر ملازمین نہیں ہیں کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور منصوبہ جات کیلئے عارضی طور پر ملازمین ہائیر کیے جاتے ہیں۔ کل 544 ملازمین ہیں۔ ایرا این ڈی ایم اے ضم کیا جارہا ہے۔ ضم کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ایک ایچ آر کی کمیٹی بنائی ہے جو انسانیت کی بنیاد پر ملازمین کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ کچھ ملازمین کو نکالنا اور کچھ کو رکھنا خلاف قانون ہے۔ ایک یکساں پالیسی ہونی چاہیے اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی نے 30 دن کے اندر معاملے کے حل کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز ثانیہ نشتر، اعظم نذیر تارڑ، عابدہ محمد عظیم، فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ، سید علی ظفراور مصطفی نواز کھوکھر کے علاوہ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈی جی ایرااور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط