Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • پی آئی اے پائلٹس کے جعلی لائسنس  کیس میں اہم اور نیا انکشاف

    پی آئی اے پائلٹس کے جعلی لائسنس کیس میں اہم اور نیا انکشاف

    پی آئی اے پائلٹس کے جعلی لائسنس کا معاملہ، کیس میں اہم اور نیا انکشاف سامنے آیا ہے،
    کیس کا مرکزی ملزم جمیل بیرون ملک فرار ہو گیا ہے، ایوی ایشن کی قائمہ کمیٹی میں ایف آئی اے حکام نے انکشاف کیا کہ کیس کا مرکزی ملزم جمیل کیس میں شامل تفتیش نہیں کیا جا سکا ،جمیل نامی شخص نے جعلی لائسنس حاصل کرنے کے لئے پائلٹس سے رشوت وصول کی اور رشوت لے کر پیشہ ورانہ امتحانات میں جعلی لائسنس جاری کرنے میں معاونت کی ،کچھ پائلٹس نے تحقیقات کے دوران جعلی لائسنس کے حصول کے لئے رشوت دینے کا اقرار کیا کیس کی تحقیقات جاری ہیں،کمیٹی نے معاملے کو 6 جون کی عدالتی سماعت کے بعد تک مؤخر کر دیا

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    دوسری جانب پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی مارچ 2023 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے حسابات کی منظوری دی گئی ،میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں پی آئی اے کے پائلٹس کی 30 فیصد تنخواہوں میں اضافے پر غور کیا گیا تا ہم بورڈ نے پائلٹس کی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا پی آئی اے کی پروازوں میں ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ منصوبے پر بھی غور کیا گیا ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ سے متعلق متعلقہ شعبےکے حکام نے بورڈ کو بریفنگ دی

  • سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سرکاری ملازم نہیں کہا جا سکتا،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سرکاری ملازم نہیں کہا جا سکتا،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ کی کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی نے سفارش کی کہ توشہ خانہ میں تحائف کو ٹھکانے لگانے سے جاری ہونے والے فنڈز کو ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں خواتین کی پرائمری تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے۔ ترمیم کمیٹی نے منظور کی اور سینیٹر تاج حیدر نے پیش کی۔ یہ دلیل دی گئی کہ توشہ خانہ کو ملنے والے موجودہ اور مستقبل کے تحائف کھلی نیلامی کے ذریعے نمٹائے جائیں گے اور اس نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کو الگ اکاؤنٹ میں رکھا جائے گا اور اسے خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر رانا مقبول احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ توشہ خانہ (منیجمنٹ اینڈ ریگولیشن) بل 2022 پر تین تقابلی بل سینیٹر بہرام خان تنگی، سینیٹر مشتاق احمد اور سینیٹر تاج حیدر کی طرف سے تجویز کردہ ترمیمی بل پیش کیے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ توشہ خانہ مینجمنٹ ریگولیشن بل کا مسودہ وزیر اعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی ایک بین وزارتی کمیٹی نے تیار کیا ہے جس کی کابینہ نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے اور قانون و انصاف ڈویژن کی جانب سے مزید جانچ کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کابینہ کو ہدایت دیتے ہوئے معاملہ موخر کر دیا کہ مسودہ ایک دن کے اندر کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے تاکہ اس کی تفصیل سے جانچ پڑتال کی جا سکے اور آئندہ اجلاس میں توشہ خانہ ریگولیشنز پر ایک ہی بل میں شامل کیا جا سکے۔ سینیٹر بہرامند خان تنگی اور سینیٹر مشتاق احمد کی طرف سے توشہ خان مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن کے دو بلوں کے مقاصد جہاں ایک شفافیت کو یقینی بنانا اور پبلک آفس ہولڈرز کی شمولیت کو کم کرنا اور عام عوام عوامی نیلامی کے ذریعے تحائف خریدیں گے جبکہ دوسرے میں ایک بل کے قیام کی تجویز ہے۔

    کمیٹی نے سینیٹر دانش کمار اور سینیٹر گردیپ سنگھ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد پر ایجنڈا کے آئٹمز کو موخر کر دیا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے انچارج وزیر کی مرضی پر سینیٹر دانش کمار کے سوال کا جواب دیا جس میں ایف پی ایس سی نے تحریری امتحان لیا جس میں ہر ایک کی نشاندہی کی گئی۔ کمیشن کی طرف سے تقرری کے لیے تجویز کردہ امیدواروں کی تعداد سے متعلق تفصیل۔ کمیٹی نے معاملہ موخر کردیا اور ایف پی ایس سی کو ہدایت کی کہ سینیٹر دانش کمار کے پوچھے گئے اضافی سوالات پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ 5 فیصد اقلیتی کوٹہ کی تقسیم پر بھی رپورٹ پیش کی جائے جس پر سپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی معاملہ ہے جو مینڈیٹ سے باہر ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی اصلاح کی جائے اور ضرورت پڑنے پر قانون سازی کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کابینہ کی اس پالیسی کی تفصیلات طلب کیں جس کے ذریعے تمام صوبوں میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمتوں کے مخصوص کوٹے کی یکساں تقسیم کی جائے تاکہ ہر صوبوں کی اقلیتوں کو سرکاری خدمات میں مناسب نمائندگی مل سکے۔

    قبل ازیں اجلاس میں سینیٹر مظفر حسین شاہ، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر ذیشان خان زادہ اور سینیٹر دلاور خان کی جانب سے پیش کیا گیا سول سرونٹ ترمیمی بل 2023 کے عنوان سے بل کو نمٹا دیا گیا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سرکاری ملازم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ سینیٹ سیکرٹریٹ ایک خود مختار ادارہ ہے جس میں انڈکشن کا عمل بالکل مختلف ہے اور ایف پی ایس سی کی جانب سے سرکاری ملازمین کے معاملے میں اس طرح کی تبدیلی کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ بل کو نمٹاتے ہوئے اس بات پر بھی بحث کی گئی کہ فیورٹ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے نئی سیٹوں کی توسیع اور تخلیق کے کلچر کو روکا جائے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر بااثر نشستوں کی تخلیق کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کے تمام ورکرز کو ڈیپوٹیشن کے ذریعے بھرتی کیا گیا ہے اور کوئی بھی فیلڈ سے نہیں ہے۔ اسی طرح چیئرمین کمیٹی نے ٹربیونلز کے لیے متعلقہ اہلیت کی سفارش کی۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ٹربیونلز پارکنگ لاٹ بن چکے ہیں اور سلیکٹیز کے پاس اہلیت نہیں ہے جس کی وجہ سے مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت قانون کو ہدایت کی کہ وہ ایسا طریقہ کار بنائے جس کے ذریعے ملازمین کی اہلیت تک رسائی حاصل ہو اور مقدمات کو مرحلہ وار نمٹا سکے۔ کمیٹی نے ایک ماہ میں تعمیل اور رپورٹ طلب کر لی

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • 33 پائلٹس کے لائسنس مشکوک ،27 پائلٹس پر مقدمات بنے،ڈی جی سول ایوی ایشن

    33 پائلٹس کے لائسنس مشکوک ،27 پائلٹس پر مقدمات بنے،ڈی جی سول ایوی ایشن

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پی آئی اے کے پائلٹس کے لائسنسز کی منسوخی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ذیلی کمیٹی کو وزارت ایوی ایشن، ڈی جی سول ایوی ایشن، پی آئی اے اور ایف آئی اے حکام نے معاملات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ کنونیئر کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پائلٹس کے مسائل کو تقریباً تین سال ہو گئے ہیں جن کو حل ہو جانا چاہیے تھا اسی وجہ سے قومی ایئر لائن بھی متاثر ہو رہی ہے یہ معاملہ قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی میں اٹھایا گیا جس نے یہ ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔اس کمیٹی کا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ ان معاملات کا احسن طریقے سے حل کرنے کیلئے سفارشات مرتب کرنا ہے تا کہ نہ صرف ان پائلٹس کے مسائل حل کیے جا سکیں بلکہ قومی ایئر لائن میں بھی بہتری لائی جا سکے۔

    ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ 262 پائلٹس کے لائسنسز کے حوالے سے مسائل تھے جس کی وجہ سے ہمیں بین الاقوامی سطح پر بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پائلٹس کے امتحانات کے حوالے سے مسائل تھے۔جس کی وجہ سے ان کوکام سے روک دیا گیا تھا۔ تحقیقات کے بعد180 پائلٹس کو کلیئر کر دیا گیا جبکہ باقی 82 پائلٹس کے مسائل رہ گئے تھے۔ کابینہ کی ہدایت پر 50 لائسنس منسوخ کیے گئے اور 32 کیسز کے حوالے یہ فیصلہ ہوا کہ جن افراد نے مراعات نہیں لیں ان کو چھ ماہ کیلئے معطل کیا جائے۔ سپریم کورٹ جعلی ڈگریوں کے حوالے سے پائلٹس کے معاملات کو دیکھ رہی تھی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ایسے تمام کیسز جن میں جعلسازی کی گئی ہے وزارت ان کے خلاف ایکشن لے  محکمے نے انکوائری کر کے 68 پائلٹس کو چارج شیٹ کیا  کچھ پائلٹس ایسے بھی تھے جو 82 پائلٹس کی لسٹ میں نہیں تھے۔

    کنونیئر کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کمیٹی کامقصد اس مسئلے کا بہتر حل نکالنا ہے۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک میں اس طرح کے معاملات ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک نے اس حوالے سے جو لائحہ عمل اختیار کیا ہے اس کا جائزہ لینا چاہیے۔ جن لوگوں کو فارغ کیا گیا ہے ان کی تفصیلات بمعہ وجوہات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی نے اے ٹی پی ایل لائسنس کے مشکوک ہونے پر تمام لائسنس منسوخ کرنے پر بھی تشویش کا اظہارکیا۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ اے ٹی پی ایل لائسنس جعلی نکلنے پر سی پی ایل لائسنس کیوں منسوخ کیئے گئے۔ سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ بی اے کی ڈگری جعلی ہونے پر ایف اے کی درست ڈگری کیسے کینسل ہو سکتی ہے۔کنونیئر کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اگر پائلٹس کے امتحانات کے حوالے سے مسائل تھے تو ان کے دوبارہ امتحانات لیے جا سکتے تھے۔

    ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ جو پائلٹ آتا ہے انکی سیکورٹی کلئرنس ہوتی ہے۔ جعلی لائسنس پر نکالے گئے پائلٹس کی سیکورٹی کلئیرنس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 33 پائلٹس کے لائسنس مشکوک پائے گئے ہیں۔33 میں سے 27 پائلٹس پر مقدمات کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔ 6 پائلٹس کے خلاف کوئی مقدمات درج نہیں کیے گئے۔ ایک رویو بورڈ 30 دن کے لئے بنایا تھا جس نے دو سال تک کام کیا اس میں یہ اپیل کر سکتے تھے۔ کنونیئر کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایف آئی اے حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا جائے تاکہ کوئی طریقہ کار نکالا سکے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ رویو بورڈ میں 19 کیسز آئے اور 18 کا فیصلہ بھی کر لیاگیا۔تین پائلٹس کو ریلیف بھی دیا گیا اور 7 کو جزوی ریلیف ملا ہے۔کنونیئر کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ معاملات کے حل کے لئے بہتر راستہ نکالا جائے گااور کل کے ہونے والے کمیٹی اجلاس میں اس کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری (ترمیمی) بل اگلے اجلاس تک موخر

    زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری (ترمیمی) بل اگلے اجلاس تک موخر

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئر پرسن ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس منعقد ہوا۔اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ چیئرپرسن محترمہ مہرین رزاق بھٹو نے تمام شرکاء کا کمیٹی اجلاس میں شرکت پر خیر مقدم کیا۔

    کمیٹی نے محترمہ عصمت شاہجہاں (معروف سیاسی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن اور دیگر کی گرفتاری پر سی ڈی اے کے سیکٹر D-12 میں 28 اپریل کو ہونے والے آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ وہ محترمہ عصمت شاہجہاں کی جانب سے پولیس کو جمع کرائی گئی درخواست پر ایف آئی آر درج کرے اور اس درخواست کے مطابق انکوائری کرے۔ کمیٹی نے سی ڈی اے سے پوچھا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں سیکٹر ڈی 12 میں سی ڈی اے کے آپریشن کی قانونی حیثیت کیا ہے ، کمیٹی نے اس واقعے کے دوران پرامن شہریوں کے خلاف پولیس کے جارحیت کی مذمت کی اور آپریشن کے دوران طاقت کے بے دریغ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے شہریوں کے حق میں اراضی حصول قانون 1894 پر نظر ثانی پر زور دیا۔ کمیٹی نے سی ڈی اے کو اسلام آباد شہر کا جدید ترین ماسٹر پلان کمیٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے سی ڈی اے سے کچی آبادیوں کی آباد کاری/ریگولرائزیشن کی پالیسی کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔

    کمیٹی نے مولانا عبدالاکبر چترالی ممبر قومی اسمبلی کی طرف سے پیش کیا گیا زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری (ترمیمی) بل 2021 کمیٹی کی اگلی میٹنگ تک موخر کر دیا۔ کمیٹی نے ممبر قومی اسمبلی قادر خان مندو خیل کی جانب سے پیش کیا گیا "ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) (ترمیمی) بل 2022 کو بھی موخر کر دیا۔کمیٹی اجلاس میں شرکت کرنے والے میں ممبران قومی اسمبلی محترمہ شائستہ پرویز ملک، محترمہ زیب جعفر، محترمہ شمس النساء، جناب نوید عامر جیوا، محترمہ عالیہ کامران، محترمہ کشور زہرہ، جناب محسن داوڑ، جناب قادر خان مندو خیل نے شامل ہیں۔

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    زینب الرٹ بل کی بعض شقوں پر تحفظات تھے، قبلہ ایاز

    زینب الرٹ بل کو نہیں مانتے،ہر فورم پر مخالفت کریں گے، سراج الحق کا ایک بار پھر اعلان

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس،وزارت تعلیم میں 5 سال میں ہونیوالی بھرتیوں کی تفصیلات طلب

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس،وزارت تعلیم میں 5 سال میں ہونیوالی بھرتیوں کی تفصیلات طلب

    پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، نور عالم خان نے استفسار کیا کہ آپ لوگوں نے ڈی اے سی کیوں نہیں کی، آڈٹ حکام نے کہا کہ ایک 12 اپریل اور ایک 18 اپریل کو ڈی اے سی ہوئی ہے،نور عالم خان نے کہا کہ آڈٹ بریف میں ڈی اے سی کا کوئی ذکر نہیں ہے،جب تک بریف میں ڈی اے سی کا ذکرنہیں آئے گا، آڈٹ پیرا کا جائزہ نہیں لیں گے، ہر مہینے ڈی اے سی کیا کریں تاکہ مسائل نہ بنیں،

    پی اے سی اجلاس، کمیٹی نے وزارت تعلیم اورماتحت اداروں میں 5 سال میں ہونے والی بھرتیوں کی تفصیلات طلب کرلیں ،چیئرمین کمیٹی نے وزارت حکام سے استفسارکیا کہ ریکروٹمنٹس کا کیا مکینزم ہے،پانچ سالوں میں جتنی بھی ریکروٹمنٹس ہوئی ہیں، تفصیلات کمیٹی کو بتائیں، 15 دنوں میں ہم نے کمیٹی کی میٹنگ بلانی ہے ڈی اے سیز کے بغیر کوئی بھی چیز ڈسکس نہیں کروں گا،فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں گزشتہ 10 سالوں میں ہونے والی بھرتیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئیں، رکن کمیٹی وجیہہ قمر نے کہا کہ فیڈرل کالج آف ایجوکیشن کا پرفارمنس آڈٹ کیا جائے، کمیٹی نے فیڈرل کالج آف ایجوکیشن کا پرفارمنس آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا ،کمیٹی نے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن کی 2 گرانٹس سے متعلق معاملے کی پارلیمنٹ سے منظوری لینے کی ہدایت کر دی،

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں،سپریم کورٹ

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر وضاحت جاری کر دی

    جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر خبریں چھپیں کہ دس سال سے سپریم کورٹ کا آڈٹ نہیں ہوا،اور کہا گیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کر لیا ہے تیس جون 2021 تک سپریم کورٹ کا آڈٹ کیا گیا ہے اور مکمل ہے جبکہ 2021-22 کا آڈٹ اے جی پی آر سے ہو رہا ہے سپریم کورٹ سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس حقائق سے بالکل مختلف ہیں

    قبل ازیں گزشتہ روز قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں پی اے سے نے سپریم کورٹ کی جانب سے آڈٹ نہ کرانے کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کرلیا، دوران اجلاس سپریم کورٹ کے آڈٹ کا معاملہ زیر غور آیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا دس برسوں سے کوئی آڈٹ نہیں ہوا سپریم کورٹ کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرکو بلاؤں گا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دس برسوں سے آڈٹ نہ کرانے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کرلیا اور کہا کہ عید کے بعد کمیٹی میں آ کر جواب دیں،

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پی اے سی نے سی ڈی اے سے ججز،ارکان پارلیمنٹ، وفاقی کابینہ ارکان، قومی اسمبلی اور سینیٹ اسٹاف کو ملے پلاٹوں کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں پی اے سی نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی فہرست اور منی ٹریل مانگی تھی وزارت ہاؤسنگ نے پی اے سی کی ہدایات کے باوجود ریکارڈ کیوں نہیں دیا، ڈپلومیٹک انکلیو کے سامنے سے شروع کریں ون کانسٹی ٹیوشن بلڈنگ میں کس کے کتنے فلیٹس ہیں؟ ایف آئی اے اور نیب ان کی منی ٹریل کا پتہ لگائے ، پاکستان غریب ہو رہا ہے اور یہ لوگ امیر ہوتے جارہے ہیں

    دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کا ریکارڈ قبضے میں لینے کی ہدایت کردی ،اجلاس میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کا آڈٹ نہ ہونے کا نوٹس لے لیا اور کلب کا تمام ریکارڈ قبضے میں لینے کی ہدایت کردی جب کہ ساتھ ہی کلب کے سربراہ نعیم بخاری کوفوری ہٹانے کی ہدایت کردی ،چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کا آڈٹ کیوں نہیں کرایا جا رہا اربوں روپے کے آڈٹ پیراز بن چکے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کلب کے آڈٹ کے لیے نیب اور ایف آئی اے کی مدد لینے کی ہدایت کردی، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ یں یہ آڈٹ پیراز ایف آئی اے اور نیب کو انکوائری کیلئے بھجوا رہا ہوں ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کلب کے سربراہ نعیم بخاری سے گاڑی اور دفاتر سمیت تمام مراعات اور سہولیات واپس لینے کی ہدایت کردی

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • ابتر معاشی صورتحال، کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں،سیکریٹری پیٹرولیم

    ابتر معاشی صورتحال، کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں،سیکریٹری پیٹرولیم

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا،

    سیکریٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کو توانائی منصوبوں پر بریفنگ دی، اور کہا کہ پالیسیوں کے عدم تسلسل اور ابتر معاشی صورتحال کے باعث کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں،ملک میں اس وقت صرف تین غیر ملکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں،ہم سرمایہ کاروں کے ساتھ جو معائدے کرتے ہیں ان پر عملدرآمد نہیں کرتے، لوگ اپنی سرمایہ کاری ختم کر کے اپنے اپنے ملک واپس جا رہے ہیں،ایران پر عالمی پابندیاں ہیں، ان سے توانائی ذرائع درآمد نہیں کرسکتے،روس نے اپنی مصنوعات پر پرائس کیپ مقرر کر رکھی ہے،

    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار

    سیکرٹری پٹرولیم نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر ، کوئی سرمایہ کار پیسہ لگانے کیلئے تیار نہیں ، ملک میں موسم گرما اور ماہ رمضان میں گھریلو گیس لوڈشیڈنگ کے معاملے پر اجلاس ہوا،حکام پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ موسم گرما میں بھی گیس کا شارٹ فال رہے گا ،وزارت پٹرولیم نے کہا کہ موسم گرما میں گیس کا شارٹ فال 300 ایم ایم سی ایف ڈی رہے گا ابھی صورتحال بہتر ہو گئی ہے لیکن شارٹ فال رہے گا ، گھریلو صارفین کو گیس دینے کے معاملے پر غور کرنا ہو گا،ملک میں گیس نہیں ہے ،صرف 30 فیصد لوگوں کو گیس دے رہے ہیں تجویز ہے گھریلو صارفین کی گیس پاور پلانٹس کو دیں ،اگر پاور پلانٹس کو گیس دی جائے تو بجلی 7 روپے یونٹ میں دستیاب ہو گی اس وقت مہنگے فیول سے 24 روپے فی یونٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے،گیس کنکشنز پرپابندی ہٹانے کا معاملہ کابینہ کو بھیجا، پابندی نہیں ہٹائی گئی ،سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے کوئی سرمایہ کار پیسہ لگانے کیلئے تیار نہیں پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے ہائی رسک کنٹری ہے، غیرملکی سرمایہ کار اپنے اثاثے بیچ کر واپس جا رہے ہیں تیل و گیس کے شعبے میں 16 غیرملکی کمپنیاں تھیں اب صرف 3 رہ گئی ہیں

  • چینلز از خود عمران خان کی تقریر نہیں چلا رہے، چیئرمین پیمرا

    چینلز از خود عمران خان کی تقریر نہیں چلا رہے، چیئرمین پیمرا

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات ونشریات کا اجلاس ہوا

    چئیرمین قائمہ کمیٹی سینٹر فیصل جاوید نے اجلاس کی‌صدارت کی،فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ملک کے سب سے مقبول لیڈر عمران خان کی تقاریر نشر نہیں ہونے دی جا رہیں، صحافیوں کو انکے گھروں اور دفاتر سے اٹھایا جا رہا ہے، ٹی وی چینلز کو بند کیا جا رہا ہے۔چئیرمین پیمرا نے اجلاس میں کہا کہ چینلز از خود عمران خان کی تقریر نہیں چلا رہے ہم نے کسی کو منع نہیں کیا

    سینیٹر فیصل جاوید نے اجلاس میں کہا کہ یقین دہانی کرائیں عمران خان کی تقریر تمام چینلز پر نشر ہوں گی جس پر چئیرمین پیمرا کا کہنا تھا کہ پیمرا کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کی تقریر دکھانے کے لیے چینلز کو نہیں کہہ سکتا میڈیا کی ایڈیٹوریل ججمنٹ پر ہمارا اختیار نہیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد ہوا ہے

    اجلاس میں وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک سال میں کوئی چینل بند ہوا نہ ہی کوئی پروگرام اور نہ ہی کسی کی ناک کی ہڈی یا پسلیاں توڑیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اختیار سابقہ حکومت نے وزارت انسانی حقوق کو دے دیا تھا ہم نے حکومت سنبھالتے ہی یہ اختیار واپس وزارت اطلاعات و نشریات کو دلایا ہے

    سینیٹر سید وقار مہدی کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی بیواؤں کی پینشن 20 رمضان تک ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر ڈی جی ریڈیو طاہر حسن نے جواب دیا کہ رقم کا بندوبست ہوگیا ہے پینشنرز کی بیواؤں کو کل تک رقم ادا کردی جائے گی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

  • قائمہ کمیٹی کا بیرون ممالک خالی چیئرز کا سخت نوٹس

    قائمہ کمیٹی کا بیرون ممالک خالی چیئرز کا سخت نوٹس

    ایجوکیشن کمیٹی نے بیرون ممالک خالی چیئرز کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا۔
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں قائداعظم چیئر اورعلامہ اقبال چیئر اور پاکستان سٹیڈیز جیسے مختلف ناموں کے تحت بیرون ممالک خالی پاکستانی چیئرز کے معاملے کا سخت نوٹس لیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے معاملے کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے معاملے کی تہہ تک تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس بے حسی کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2008 سے اب تک کل 14 چیئرز مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں میں خالی ہیں، بجٹ کی رکاوٹوں کی وجہ سے 14 میں سے صرف 6 چیئرز مشتہر کی گئیں۔ انتخاب کا عمل 2021 میں مکمل ہوا جس میں کیمبرج یونیورسٹی کے لیے تین سکالرز کے پینل منتخب کیا گیا۔ یونیورسٹی کی طرف سے اس عمل کو ختم کر دیا گیا تھا اور وزارت کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق چیئرز کی دوبارہ تشہیر کرے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت چین، مصر، جرمنی، امریکہ، برطانیہ، ترکی، ہانگ کانگ، ایران، اردن، نیپال اور قازقستان میں اردو اور پاکستان اسٹڈیز کی چیئرز خالی ہیں۔ کمیٹی نے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اورکہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور جرائم سے خود کو الگ کرنے اور ثقافت اور ادب کے کارناموں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا سنہری موقع گنوا دیا ہے۔اس نے اس غفلت کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا جس نے ملک کے سافٹ امیج کو روک رکھا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے ہدایت کی کہ وزارت اس معاملے کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کرے۔

    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار

    قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بریفنگ دیتے ہوئے قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء گروپوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں پر کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا۔ قائمہ کمیٹی نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے اور معاملے کی اصل وجہ معلوم کرنے پر زور دیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے قائداعظم یونیورسٹی کے نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر کا خیرمقدم کیا اور انہیں کمیٹی کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینز کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ طلبا یونین میں نسلی بنیادوں پر گروہ بندی کو ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی وجہ سے طلبا میں آپس کے جھگڑے بڑھ جاتے ہیں اور طلبا اپنی تعلیمی سرگرمیوں توجہ مرکوز نہیں رکھ سکتے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو ہدایت کی کہ وہ ایک کمیشن تشکیل دیں اور کمیٹی کو اس مسئلے کی وجوہات اور اس کے تدارک کے طریقوں کی سفارشات پر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے یونیورسٹی کیمپس کے گرد چاردیواری کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ سی ڈی اے کو باؤنڈری وال کی تعمیر کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کے لیے خط بھیجا جائے۔

    اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں جونیئر لیڈی ٹیچرز کی تقرری/ تعیناتی سے متعلق معاملے پر بحث کرتے ہوئے کمیٹی نے اس مسئلے کے حل کی میں تاخیر کی مذمت کی اور اس ضمن میں زور دیا کہ آنے والے نئے اساتذہ کو ریگولر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ یہ سفارش بھی کی گئی کہ وزارت تعلیم اس معاملے کو ایک بار پھر اٹھائے اور اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کے لیے وفاقی کابینہ سے رجوع کرے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔

    پرائیویٹ ممبر بلز پر غور کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (ترمیمی) بل 2023 کو معمولی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے پیش کیا جانے والا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کلچر اینڈ ہیلتھ سائنسز بل 2022 معاملے کی مزید تحقیقات کے باعث زیر التواء تھا۔ اس معاملے کے حوالے سے سینیٹر رانا مقبول احمد کی کنونیئر شپ میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جو معاملے پر دس دن میں قائمہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔

  • پی اے سی کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کمپنی کےغیرقانونی اقدامات کیخلاف سخت کاروائی کا فیصلہ

    پی اے سی کا ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کمپنی کےغیرقانونی اقدامات کیخلاف سخت کاروائی کا فیصلہ

    پی اے سی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کمپنی،افراد کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے

    چیرمین پی اے سی نور عالم نے چئیرمین نیب، سی ڈی اے اور ڈی جی ایف آئی اے کو کاروائی کی ہدایت کر دی،نادہندہ کمپنی،افراد سے منسلک تمام اکاوئنٹس منجمد کرنے کا حکم دے دیا گیا، کمیٹی نے کہا کہ عمارت کے مالکان اور کمپنی سے جڑے شناختی کارڈز کو بھی فوری بلاک کیا جائے ،نادہندہ کمپنی ،افراد کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جائیں،کمیٹی نے چیف کمشنر اور چیئرمین سی ڈی اے کو عمارت کا قبضہ لینے کی ہدایت کر دی

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکم دیا کہ چیرمین نیب اور ڈی جی ایف آئی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا آغاز کریںعمارت کو قبضہ میں لیکر نادہندہ کمپنی کے تمام ملازمین کو باہر نکالا جائے،متعلقہ پلاٹ پر قائم تجاوزات اور غیر قانونی تعمرات کو ہٹایا جائے،فلیٹس مالکان کا سپریم کورٹ میں جمع ریکارڈ کے ساتھ تصدیق کروائی جائے،الاٹیوں کی ادائیگیوں سے متعلق جائزہ لیا جائے،نادہندہ کمپنی اور اپارٹمنٹس مالکان کے ٹیکس ریکارڈ کا ایف بی آر اور اے جی پی آر سے بھی جائزہ لیا جائے۔غیر قانونی رہائشیوں سے اپارٹمنٹس کی نیلامی کروائی جائے۔کمیٹی کو ون کونسٹیٹیوشںن ایونیو عمارت کے رہائشیوں کی تفصیلی فہرست فراہم کی جائے۔پی اے سی کی ہدایت پر فوری عملدرآمد کرکے سیکرٹریٹ کو مطلع کیا جائے

    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ