Baaghi TV

Tag: قازقستان

  • کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    الماتے :کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق قزاقستان کی حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کو عام سوگ منایا جائے گا۔ دوسری جانب صدر توکایف نے، حالیہ بدامنی میں تباہ ہونے والی سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کی فوری تعمیر نو کا حکم صادر کر دیا ہے۔

    قزاقستان کے صدر کے ترجمان کے مطابق صدر قاسم جامرت تاکایف نے حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کے روز عام سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر تاکایف نے حالیہ بدامنی مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی اور عوام کو اطمینان دلانے کی خاطر، ایک روزہ سوگ منانے کا فیصلہ، اعلی سطی اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں ملک کے اٹارنی جنرل، قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ اور وزارت دفاع کے اعلی عہدیداران شریک تھے۔

    صدر تاکایف نے اس موقع پر حالیہ بدامنی کے دوران الماتی اور دیگر شہروں میں تباہ ہونے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا حکم بھی صادر کیا۔

    دوسری جانب قزاقستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ حالیہ بدامنی میں ملوث کم سے کم چار ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان کی بڑی تعداد کا تعلق الماتی سے بتایا جاتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں پیشتر کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مائع گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران دیگر شہروں کے مقابلے میں الماتی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    مظاہروں کے پرتشدد شکل اختیار کرجانے کے بعد ، سی ایس ٹی او ممالک کی امن فوج قزاقستان پہنچی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امن فوج کے آنے کے بعد قزاقستان کی کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    قزاقستان میں ایل پی جی قیمتوں میں دوگنا اضافے کے بعد دو جنوری کو بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ صدر توکایف نے ایل پی جی کی پرانی قیمت بحال کرنے سمیت دوسرے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔

    ایران اور چین نے قزاقستان کے حالیہ واقعات میں بیرونی مداخلت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چین نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مغربی ممالک ایک بار پھر قزاقستان میں انیس سو نوے جیسے رنگین انقلابات کا ڈرامہ دوبارہ رچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • قازقستان :خفیہ ادارے کے سابق سربراہ گرفتار

    قازقستان :خفیہ ادارے کے سابق سربراہ گرفتار

    قازقستان کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کریم مسیموف کو گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : قازقستان میں ملکی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کریم ماسیموف کو گرفتار کر لیا گیا ہے خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے ہفتے کے روز ماسیموف کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ ماسیموف اسی قومی ادارے کے سربراہ رہے ہیں۔

    معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟

    انہیں صدر قاسم جومارت توکائیف نے شدید مظاہروں کے تناظر میں برطرف کر دیا تھا قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف نے ملک میں جاری غیرمعمولی شورش کے خاتمے کے لیے مظاہرین سے گفتگو کے بجائے سیکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ بغیر انتباہ گولی چلا سکتی ہیں۔

    گزشتہ روز قوم سے خطاب میں صدر قاسم جومارت توکائیف نے کہا کہ ’مسلح ٹھگوں‘ کو ختم کر دیا جائے گا ساتھ ہی توکائیف نے اپنے ملک میں فوج بھیجنے پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد…

    سکیورٹی فورسز اس وقت قازقستان کے سب سے بڑے شہر الماتی میں کئی اہم مقامات پر تعینات ہیں یہی شہر حالیہ پرتشدد مظاہروں کا مرکز رہا ہے امریکا اور یورپی ممالک کا مطالبہ ہے کہ معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے دوسری جانب بیجنگ حکومت نے صدر توکائیف کے ’سخت اقدامات‘ کی تعریف کی ہے۔

    یاد رہے کہ نئے سال کے موقع پر قازقستان میں پٹرولیم مصنوعات کی بہت زیادہ قیمتوں کے خلاف احتجاج کا آغاز ہوا تھا۔ جو فوراﹰ ہی ملک بھر میں پھیل گیااور اس نے پرتشدد رنگ اختیار کر لیا تھا بے پناہ معدنی ذخائر کے باوجود بدامنی اورعدم استحکام کا شکارہوچکی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ کورونا نے ملکی معیشت کا حال اس قدر تباہ کردیا ہےکہ حکومت کو ملکی نظام چلانے کےلیے پٹرولیم مصنوعات میں بار بار اضافہ کرنا پڑرہا ہے –

    دوسری طرف عوام اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہں ، حکمران جماعت عوام الناس کو سمجھانے کی کوشش کررہی ہے دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے مہنگائی اور معاشی گراوٹ ہے لیکن عوام کسی کی بات ماننےکےلیےتیار نہیں،یہی وجہ ہےکہ شہریوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کررکھا ہےقازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر 2 جنوری سے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مستعفی ہوگئی تھی اور صدرنےہنگاموں سےمتاثر ہونے والے دو شہروں میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

    روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی…

    دوسری جانب وزات داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونےوالےافراد شہری نہیں بلکہ دہشت گردتھےحکومت کے مستعفی ہونے کے باوجود قیمتوں کے خلاف اب بھی احتجاج کرنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر نے کابینہ کو چلتا کرکے اپنا عہدہ بچایا ہےجبکہ مسائل کی اصل جڑ وہ خود ہیں۔

    روس نے قاقستان میں بگڑتی صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی فوجین بھیجنے کا عندیہ ہے جس پر یورپی یونین نے روس کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کے لیے خبردار کیا ہے-

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول…

  • کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    الماتے:کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے،اطلاعات کے مطابق قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں،

    قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں: فوٹو بشکریہ بی بی سی
    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھادیا۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق قازقستان میں ایل پی جی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث صورتحال کشیدہ ہے اور اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ صدر نے کابینہ کو برطرف کردیا ہے۔قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی آمد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کہ فوجی دستے کیوں تعینات کیے جارہے ہیں جب کہ امریکا کے نزدیک قازقستان کی حکومت اس صورتحال سے خود ہی نمٹ سکتی ہے۔

     

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ سے ایک سبق ملتا ہے کہ ایک مرتبہ روسی آپ کے گھر آجائیں تو بعض اوقات انہیں باہر نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک قازقستان کی حکومت اس تمام معاملے سے مناسب طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے لہٰذا یہ بات بھی واضح نہیں کہ باہر سے فوج کو بلاکر تعینات کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

    امریکی وزیرخارجہ کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں روسی فوجی گئے وہاں انہوں نے قبضہ جمانے کی کوشش کی اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ روس الگ ہونے والے مسلم ملک قازقستان کو پھرسے اپنی کالونی بنانے کی کوشش کررہا ہے

     

     

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ الماتے شہر سمیت دیگر شہروں میں شدید احتجاج کے بعد قازقستان کے صدر نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مدد کی درخواست کی تھی۔اس سلسلے میں روسی حکام کا کہنا ہےکہ قازقستان میں فوجی دستوں کی تعیناتی باہمی سکیورٹی معاہدے کے تحت کی گئی ہے۔

  • معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟

    معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟

    نورسلطان: معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟اطلاعات کے مطابق سابق سوویت ریاست کہ قازقستان کےنام سے اب دنیا کے نقشے پرموجود ہے بے پناہ معدنی ذخائر کے باوجود بدامنی اورعدم استحکام کا شکارہوچکی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ کورونا نے ملکی معیشت کا حال اس قدر تباہ کردیا ہےکہ حکومت کو ملکی نظام چلانے کےلیے پٹرولیم مصنوعات میں بار بار اضافہ کرنا پڑرہا ہے ،

    دوسری طرف عوام اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہں ، حکمران جماعت عوام الناس کو سمجھانے کی کوشش کررہی ہے دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے مہنگائی اور معاشی گراوٹ ہے لیکن عوام کسی کی بات ماننے کےلیے تیار نہں ،یہی وجہ ہے کہ شہریوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کررکھا ہے ، اطلاعات ہیں کہ قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کیخلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے جب کہ قازق صدر نے فوج کو بغیر خبردار کیے مظاہرین پر گولی چلانے کی اجازت دیدی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر 2 جنوری سے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مستعفی ہوگئی تھی اور صدر نے ہنگاموں سے متاثر ہونے والے دو شہروں میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

    الماتی اور مینگسو میں ایمرجنسی کے نفاذ اور رات کے کرفیو کے باوجود تاحال حالات کشیدہ ہیں۔ ان شہروں میں صدر صدر قاسم جومارت توقایف نے فوج کو حکم دیا ہے کہ مظاہرین پر وارننگ دیئے بغیر گولی چلائیں۔تاحال مجموعی طور پر 46 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں 28 شہری اور 18 پولیس اہلکار شامل ہیں جب کی سیکڑوں زخمی ہیں اور 3 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    قازق صدر قاسم الماروت نے حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور حکومتی احکامات کو توڑنے والوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس میں اب تک 18 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب وزات داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 28 افراد شہری نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔حکومت کے مستعفی ہونے کے باوجود قیمتوں کے خلاف اب بھی احتجاج کرنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر نے کابینہ کو چلتا کرکے اپنا عہدہ بچایا ہے جب کہ مسائل کی اصل جڑ وہ خود ہیں۔

    روس نے قاقستان میں بگڑتی صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی فوجین بھیجنے کا عندیہ ہے جس پر یورپی یونین نے روس کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کے لیے خبردار کیا ہے۔

  • قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

    قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

    الماتی:قازقستان میں کابینہ کی برطرفی کے باوجود پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ حالات کشیدہ ہیں، مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں 16 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

    قازقستان میں سیاسی انتشار اور دنگے فساد جاری ہیں، کابینہ کی برطرفی کے باوجود عوامی غصہ کم نہ ہوسکا، مظاہرین نے سرکاری دفاتر اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ کئی علاقوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑیں بھی ہوئیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں درجنوں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں زخمیوں کے تعداد سینکڑوں میں ہے۔

    قازق پولیس چیف کا کہنا ہے کہ انتہا پسند مظاہروں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں، صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج پولیس کی مدد کے لیے پہنچ چکی ہے۔

    مظاہروں پر قابو پانے کے لیے صدر قاسم جمارت توکایوف نے ملک بھر ایمرجنسی نافذ کردی، حالات معمول پر آنے تک ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پربھی پابندی لگا دی گئی۔

    دوسری طرف روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد نے پہلا فوجی دستہ قازقستان بجھوا دیا،روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قازقستان میں جاری بدامنی پرقابوپانے میں مدد دینے کے لئے فوجیوں کا پہلا دستہ بھیج دیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق قازقستان میں صورتحال معمول پرآنے تک قازقستان میں رہیں گے۔ قازقستان کی حکومت نے ملک میں جاری بدامنی روکنے کے لئے مدد کی درخواست کی تھی۔

    دوسری جانب قازقستان کی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ کی عمارت پردھاوا بولنے والے درجنوں مظاہرین کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔قازقستان کی وزارت صحت کے مطابق ہنگاموں میں اب تک 1000سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 62 کی حالت تشویشناک ہے۔

    قازقستان میں پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ملک گیراحتجاج کیا جارہا ہے۔مظاہروں پرقابو پانے کے لئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔