Baaghi TV

Tag: قانون

  • سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق بل متفقہ طورپر منظورکرلیا

    سندھ اسمبلی نے طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق بل متفقہ طورپر منظورکرلیا

    کراچی :طلبا یونین سندھ نے اپنا وعدہ پورا کردیا ،اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی نے 38 سالوں سے عائد طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ایوان میں طلبہ یونین سے متعلق مجوزہ بل قائمہ کمیٹی برائے قانون سے منظوری کے بعد پیر مجیب الحق نے پیش کیا۔

    طلبا یونین کی بحالی کیلئے بل تیار کرکے سب کو حیران کردیا ، ادھر متفقہ طور پر بل منظوری کے بعد قائد ایوان مراد علی شاہ نے سب جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بل میں طلبہ یونین سے متعلق قواعد ہیں، امید ہے کہ طلبہ یونین تدریسی عمل کو متاثر یا بند نہیں کروائیں گی۔

    سندھ اسمبلی سے منظور شدہ بل کے مطابق طلبہ انتخابات سے 7 سے 11 نمائندوں پرمشتمل یونین کومنتخب کریں گے اور تعلیمی اداروں میں ہرسال طلبہ یونین کے انتخابات ہوں گے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے کی سینیٹ اور سینڈیکٹ میں طلبہ یونین کی نمائندگی ہوگی جبکہ تعلیمی ادارے کی انسداد ہراساں کمیٹی میں بھی یونین کی نمائندگی ہوگی۔

  • سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج

    سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج

    کراچی:سندھ حکومت کا متنازع بلدیاتی قانون:صوبے بھرکی عوام کا کراچی میں احتجاج:پولیس کا لاٹھی چارج،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی ریلی پر پولیس کی جانب سے بد ترین شیلنگ، متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد رکن صوبائی اسمبلی ، خواتین سمیت متعدد زخمی ہو گئے۔وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے ڈاکٹر ضیا الدین روڈ ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ ایمپریس مارکیٹ سےمزارقائد جانےوالا کوریڈور3 بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ احتجاجی دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش جس پر پولیس سے تکرار ہوئی، کارکنان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔

    ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج سے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین بھی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
    ایم کیو ایم پاکستان کی ریلی میں شریک متعدد خواتین بھی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے باعث متاثر ہوئی ہیں، پولیس نے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے صداقت حسین کو حراست میں لے لیا ہے۔

    شہر بھر میں بد ترین ٹریفک جام ہے اور شہر قائد میں ایک ہی وقت میں دو ریلیاں نکلنے کے باعث مختلف علاقوں میں شہری پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔

    شہر قائد میں ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے متنازع بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ شارع فیصل سے مارچ کرتے مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کا راستہ روک دیاجس کے باعث شدید بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔

    ٹریفک پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث ایم ٹی خان روڈ سلطان آباد سے پی آئی ڈی سی جانے والی سڑک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ہے اور ٹریفک کے پی ٹی فلائی اوور سے مائی کلاچی اوربوٹ بیسن کی جانب موڑاجارہاہے۔
    مزید پڑھیں: کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں سرد خانوں کی سہولت غیر اعلانیہ ختم کردی گئی

    جبکہ دوسری ریلی ایک مذہبی جماعت کی جانب سے نکالی جارہی ہے، کراچی میں بیک وقت دو ریلیوں کے باعث مختلف سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا اور شہری کئی گھنٹے سے سڑکوں پر موجود ہیں۔جبکہ ٹریفک پولیس موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

  • سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل

    سب انسپکٹر کے بھائی کی شادی،اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا،ویڈیو وائرل
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے فیروزوالہ یوسف پارک میں سب انسپکٹر دانش بھٹی کے بھائی کی شادی میں قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں ۔

    قانون کے رکھوالوں نے قانون کا ہی تماشا بنا دیا، دانش بھٹی کے بھائی دانیال بھٹی کی شادی میں وارڈن پولیس اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی، گلفام کانسٹیبل اور سب انسپکٹر عالمگیر خان کی ہوائی فائرنگ کرتے کی موبائل ویڈیو باغی نیوز نے حاصل کر لی گانوں پر لڑکیوں کے ٹھمکے سب انسپکٹر وارڈن عالمگیر خان نوٹوں کی برسات کرتے رہے ، اوباش نوجوانوں کا اسلحہ اٹھا کر بھنگڑا قانون کی ایسی کی تیسی کر دی ہوائی فائرنگ گولیوں کی تھرتھراہت سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تھانہ شاہدرہ پولیس غفلت کی نیند سوتی رہی جبکہ شہری خوف کے مارے جاگتے رہے، شہریوں‌ نے اعلیٰ حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی عام شہری ایسا کرتا تو پولیس کب کی اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال چکی ہوتی

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فیروز والہ کے علاقے یوسف پارک میں شادی کی تقریب میں فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لے لیا، اور انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی، وزیراعلیٰ نے فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قانون کے محافظوں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا واقعہ ناقابل برداشت ہے۔ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    قبل ازیں ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز کے حکم پرآپریشن ونگ تھانہ ماڈل ٹاؤن نے شیشہ پارٹی پر چھاپہ مارا اور شیشہ پینے میں مصروف 12 نوجوان گرفتارکر لئے،گرفتار ملزمان میں محمد علی، عدنان،شجاعت، اعظم،فرحان و دیگر شامل ہیں،ملزمان کے قبضہ سے مختلف اقسام کے مضر صحت شیشہ فلیورز اور سامان برآمد کر لیا گیا ہے، ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن رانا نعیم اللہ خان کا کہنا ہے کہ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کی بربادی کا سبب بننے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے،

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    کالج میں مجرا، لڑکی ہوش برقرار نہ رکھ سکی پرنسپل سے لپٹ گئی ،ویڈیو وائرل،کالج سیل

    ایک اور یونیورسٹی تقریب میں لڑکے کی جانب سے لڑکی کا لباس پہن کر ڈانس کی ویڈیو وائرل

  • قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،مارگلہ نیشنل پارک کی اراضی پر تجاوزات کے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا، تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ معاون خصوصی ملک امین اسلم کی سربراہی میں عدالتی حکم پر تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی،،کمیٹی کی رپورٹ اسلام آبادمیں قانون کی حکمرانی کی ابتر حالت کی عکاسی کرتی ہے،مارگلہ نیشنل پارک کے تحفظ میں ناکامی کے ماحولیاتی اثرات آنے والی نسلوں پر پڑیں گے رپورٹ میں نقشے میں مارگلہ نیشنل پارک کے غیر قانونی تجاوز کردہ علاقوں کی نشاندہی کی گئی تجاوزات کی گئی جگہوں میں بحریہ ہیڈ کوارٹر اور نیول گالف کلب بھی شامل ہے،مارگلہ نیشنل پارک میں 8603 ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت سے مطمئن نہ کروایاجاسکا ،غیر قانونی تجاوزات اور ریگولیٹری اتھارٹیز کی غیر فعالیت نے مفاد عامہ کے اہم سوالات کو جنم دیا،اسلام آبادمیں قانون کی حکمرانی کی شرمناک صورتحال کی غیر معمولی عکاسی ہے،اٹارنی جنرل، چیئرمین سی ڈی اے اور ملک امین اسلم ذاتی طور پر پیش ہوں، تینوں افراد بتائیں اسلام آباد میں قوانین کا نفاذ کیوں نہیں کیا جا رہا ؟ ایگزیکٹو اتھارٹیز کیوں مارگلہ نیشنل پارک پر تجاوزات کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہیں ریماؤنٹ ویٹرنری اینڈ فارمز ڈائریکٹوریٹ کو 8603 ایکڑ زمین کی مبینہ الاٹمنٹ آئین کی خلاف ورزی ہے،الاٹمنٹس بظاہر سی ڈی اے اور اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس کی بھی خلاف ورزی ہیں کیس کی آئندہ سماعت 11جنوری 2022 کو ہو گی،

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

  • بیان دے کر کیوں خود کو شرمندہ کر رہے ہیں،کوئی قانون سے بالاتر نہیں، عدالت

    بیان دے کر کیوں خود کو شرمندہ کر رہے ہیں،کوئی قانون سے بالاتر نہیں، عدالت

    بیان دے کر کیوں خود کو شرمندہ کر رہے ہیں،کوئی قانون سے بالاتر نہیں، عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف 2 بیواؤں کی زمین پر قبضہ کیس کی سماعت ہوئی

    لینڈ ایکوزیشن نے معاملہ سی ڈی اے بورڈ کے آئندہ اجلاس میں زیرغور لانے کا حکم دے دیا عدالت نے حکم دیا کہ سی ڈی اے بورڈ قانون کے مطابق فیصلہ کرے، آئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہاؤسنگ سوسائٹی کو زبردستی زمین حاصل کرنے سے روکنے کے حکم میں 11 جنوری تک توسیع کر دی گئی ،چیف جسٹس نے وکیل سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ماسٹر پلان ختم ہو گیا، آپ کر کیا رہے ہیں؟کیا اب آپ خود قانون بن گئے ہیں جو قانون پر عمل نہیں کر رہے، لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر کون ہے جو خود سے سب کچھ کر رہا ہے فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ اتھارٹی کے پاس زمین ایکوائر کرنے کا اختیار ہے، وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے نے لینڈ ایکوزیشن کی کوئی اجازت نہیں دی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ ریگولیٹر ہیں اور آپکو لینڈ ایکوزیشن سے متعلق معلوم ہی نہیں،اگر سی ڈی اے نے اجازت نہیں دی تو لینڈ کلیکٹر کیسے نوٹس جاری کر رہا ہے،کل کو ہر سوسائٹی لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر کو لینڈ ایکوائر کرنے کیلئے کہے گی،آپ کہہ رہے ہیں آپ نے اجازت نہیں دی، یہ بیان دے کر کیوں خود کو شرمندہ کر رہے ہیں،یہاں پر ایک قانون نافذ ہے، سی ڈی اے اسلام آباد کی ریگولیٹر ہے،سی ڈی اے اسکیم بناتا ہے اور اسکے تحت لینڈ ایکوائر کی جا سکتی ہے، فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ اتھارٹی بھی ماسٹر پلان سے باہر نہیں جا سکتی،یا تو عدالت کو بتائیں کہ ماسٹر پلان ختم ہو گیا، پھر سی ڈی اے بھی ختم ہو جاتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سی ڈی اے بورڈ کے سامنے رکھیں اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں، ایک بات ذہن نشین کر لیں، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 11 جنوری تک ملتوی کر دی

    کوئی قانون سے بالاتر نہیں، وفاقی حکومت یہ کام کرے، عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    ملک میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

    نیب سے کون خوفزدہ تھا؟ ترمیمی آرڈیننس کیوں لائے؟ وزیراعظم نے بتا دیا

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

    علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

  • ڈائریکٹر لیگل وفاقی نظامت تعلیمات کو قانون کا کوئی علم نہیں، چیف جسٹس

    ڈائریکٹر لیگل وفاقی نظامت تعلیمات کو قانون کا کوئی علم نہیں، چیف جسٹس

    صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر آئے اساتذہ کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈیپوٹیشن پر آئے اساتذہ کو واپس صوبوں کو بھیجنے سے روک دیا گیا۔بڑی تعداد آئی خواتین اساتذہ کمرہ عدالت میں خوشی سے نہال ، خوشی سے رونا شروع کردیا ۔استاتذہ کو واپس صوبوں میں بھیجنے کا وفاقی نظامات تعلیمات کا فیصلہ معطل ہو گیا۔ آرڈر معطلی کے بعد استاتذہ کے پاس اسکول جانے کا راستہ کھل گیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گیارہ دسمبر 2020 کا فیصلہ معطل کیا۔
    عدالت، "بادی النظر میں وفاقی نظامت تعلیمات کا حکمنامہ برقرار نہیں رہ سکتا، آئندہ سماعت پر ڈی جی وفاقی نظام تعلیمات نو مارچ کو طلب۔ وفاقی نظام تعلیمات بتائیں کہ ایسا حکمنامہ کیوں جاری کیا گیا”
    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ استاتذہ نے ڈی چوک پر دھرنا بھی دیا تھا۔ویڈ لاک پالیسی کے مطابق ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے اساتذہ کل سے اسکول جاسکیں گے ، اساتذہ کو صوبوں میں واپسی کے احکامات معطل ، حکم امتناعی جاری۔ ڈائریکٹر لیگل وفاقی نظامت تعلیمات کو قانون کا کوئی علم نہیں،ڈائیرکٹر لیگل اس عدالت کو گمراہ کر رہے ہیں، اس طرح کے یکطرفہ فیصلوں سے ااساتذہ ڈی چوک بیٹھنے ہر مجبور ہوئے ، آئندہ سماعت پر ڈی جی ذاتی حیثیت میں طلب۔ڈی جی آکر وضاحت کرے کہ 2006 یا اسے پہلے سے کام کرنے والی اساتذہ کو کیوں دربدر کیا جارہا ہے۔

  • اوکاڑہ تھانہ شاہبھور کی حدود میں چوری کے کبوتر بازیاب کرانے پر علاقہ مکینوں کا پولیس پارٹی پر تشدد

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی علاقے تھانہ شاہبھور کی حدود میں پولیس پارٹی نے چوری کے کبوتر بازیاب کروائے جس پر علاقہ مکینوں نے پولیس پارٹی پر دھاوا بول دیا اور پولیس پارٹی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

  • ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔

    حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

    اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔

    پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔

    ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟

    بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟

    دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے

    بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟

    آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
    آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    پہلے کبھی اخبارات کا دور تھا جو کچھ ہوتا تھا سامنے آ جاتا تھا لیکن آج کل سائنس و ٹیکنالوجی نے ہم کو سوشل میڈیا کا زمانہ دے دیا نہ جانے آگے چل کر اور کیا کیا ایجاد ہو گا نہ جانے اس لیے کہا کہ ہم لوگ صرف فرقہ واریت ، لسانیت اور نہ جانے کن کن لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کو ہم اپنا دشمن کہتے ہیں وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی کرتے جا رہے ہیں ہم اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں کر پا رہے

    _______________________
    خیر بات تھی قادیانیوں کی تو میرے دوستو سوشل میڈیا پر فیس بک ہو یا پھر ٹویٹر ہر جگہ ہمارے پاکستانیوں کے اکاونٹ ہیں اور شاید نماز بھی پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن فیس بک اور ٹویٹر پر اکاونٹ بنانے والے ہم لازمی اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی کی پوسٹ پر کمنٹ اور لائک تو لازمی کرتے ہیں دیکھا جائے تو ہر طرح کے گروپس اور پیجز بنے ہیں اور ہر طرح کی آئی ڈیز بھی بنی ہیں اب اگر ہم آئی ڈیز کے ناموں پر غور کریں تو لازمی بات ہے اپنے نام پر ہی آئی ڈی بنائیں گے یعنی میں مسلمان ہو تو میرا نام بھی اسلامی ہو گا تو میری آئی ڈی اسلامی نام سے ہی بنے گی اور میں جہاں بھی کسی بھی گروپ یا پیجز میں کمنٹ یا لائک کروں گا تو دیکھنے والے یا میرے کمنٹ کا جواب دینے والے سمجھ جائیں گے کہ یہ مسلمان ہے

    بالکل اسی طرح قادیانی جن کو الحمد اللہ پاکستان کے قانون کے مطابق غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا جو آج بھی اسی قانون کے اندر آتے ہیں پاکستان کے قانون کے تحت کافر ہی ہیں ___________مگر قادیانی خود کو کافر نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں لہذا اسی کی بنیاد پر قادیانی اپنے نام بھی مسلمانوں کے ناموں کی طرح ہی رکھتے ہیں تو جس طرح ہم مسلمان فیس بک ٹویٹر استعمال کرتے ہیں بالکل ایسے ہی قادیانی بھی کرتے ہیں اب نام ہمارے اور قادیانیوں کے ایک جیسے ہی ہیں اسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں پر کمنٹ کرتے ہیں اور ایسے پیجز اور گروپس بھی چلاتے ہیں جو مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوں جو پاک فوج کے خلاف باتیں کرتے ہوں لیکن ہم کو علم نہیں ہوتا کہ یہ قادیانی ہے یا نہیں جس کی وجہ سے ہم بھی مسالے دار فرقہ واریت کی باتوں میں آ کر قادیانیوں کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور اپنی آخرت بھی خراب کرتے ہیں

    اب یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے بلکہ قادیانیت کے زیر سایہ ایسے ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں جن کا کام ہی صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنا ہو سکے آپس میں لڑواؤ کیوں کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو قادیانی نہیں وہ مسلمان ہی نہیں

    لہذا میرے دوستو فرقہ واریت ،لسانیت ،مذہب ، پاکستان اور پاک آرمی پر تنقید کرتے ہوئے یا بحث کرتے ہوئے اس بات کا خیال بھی رکھا کریں کہ جو بات میں کر رہا ہوں کیا اس بات سے یا اس کو آگے پھیلانے سے میرے دین اسلام میرے وطن پاکستان کو نقصان تو نہیں ہو گا یہ سوچ کر کمنٹ ،لائک اور شئیر کیا کریں کہ جو پوسٹ میں شئیر کر رہا ہوں کیا اس سے مسلمانوں کا آپس میں نقصان تو نہیں ہو گا ،اور مسلمانوں میں آپس میں نفرتیں تو نہیں بھریں گی ان ساری باتوں کا خاص خیال رکھنا بہت لازمی ہے

    کیوں کہ ہم بلاوجہ ہی کفار کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں اگر کوئی ایک ادارہ چلا رہا ہے مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لیے تو ہم سب مل کر اُن کی سازشوں کو پروان چڑھا رہیں ہیں

    ہم کو سوچنا ہو گا بلکہ قدم قدم سوچ رکھنا ہو گا کیوں کہ ہمارے بڑوں نے بہت زیادہ قربانیاں دے کر یہ وطن عزیز پاکستان حاصل کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان ایک خاص تحفہ دیا ہے اب تحفے کی حفاظت ہمارا کام ہے۔

  • "شادی” اور "دوسری شادی” ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    "شادی” اور "دوسری شادی” ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    مرد چاھے کنوارہ ھو یا شادی شدہ، شادی کی بجائے دوسری شادی کا ذکر ہر حال میں کیف آور ھوتا ہے۔۔۔

    اب کیا کریں، ہمارے ماڑے مقدر کہ ہم پیدا ھو گئے خالص مشرقی معاشرے میں۔۔۔ سنا تو ھے کہ پہلے پہل یہاں ‘پہلی’ شادی آسانی سے ھو جایا کرتی تھی۔۔۔ مگر اب کہ تو لوگ پہلی کو ترس رھے ھیں، دوسری کا کیا ذکر۔۔۔ خرچہ پورا ھوتا ھے نہ تعلیم۔۔۔ کوئی معیار پر پورا اترتا ھے نہ نظروں میں۔۔۔ کئی جھمیلوں کے بعد شادی ھو بھی جائے تو مشرقی معاشرے کا سب سے بھیانک تصور "جوائنٹ فیملی سسٹم” شادی کے ساتھ جڑے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دینے کے لیے کافی ھے۔۔۔

    ایک نکاح ھوتے بڑے مشکل سے ھیں اور ٹوٹ بڑی جلدی سے جاتے ھیں۔۔۔ ساس بہو کے پھڈے سے بچ گئے تو نند بھابھی کا جھگڑا۔۔۔ دوسروں کی ٹانگ نہ بھی اڑے تو تتی تاولی جوانی کے اپنے نخرے نہیں مان۔۔۔ اور تو اور آج کل کے مولوی بھی نکاح سے زیادہ طلاقیں کرواتے پھرتے ھیں۔۔۔

    تفصیل ھر امر کی بہت لرزہ خیز ھے۔۔۔ بات سے بات نکل جائے تو بہت پھیل جائے گی۔۔۔ مگر "شادیوں” یعنی ھمہ قسم نکاح کے حوالے سے ھمارے ھاں جو "معاشرتی آلودگی” پھیل رھی ھے وہ "آسودگی” نہیں سراسر "فرسودگی” اور حکومتی اقدامات تو خالص "بے ھودگی” پر مبنی ھیں۔۔۔

    ابھی کنوارے پہلی شادی پر لگے ٹیکس کو رو رھے تھے کہ شادی شہیدوں کو معلوم ھوا کہ انکے لئے اگلی منزلیں اور کٹھن بنا دی گئی ھیں۔۔۔ گویا اگر کوئی اپنی محبوبہ سے مزید محبت کی اجازت لے بھی لے تو اسے مصالحتی کونسل سے اس ایکسٹرا محبت کے لیے سند جواز بھی لینی ھوگی۔۔۔!!!

    کوئی سال بھر پہلے ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کا عنوان تھا۔۔۔
    UN wants consensual sex decriminalised in Pakistan
    آسان لفظوں میں کہ اقوام متحدہ چاھتا ھے کہ سارے پاکستان کو ھیرا منڈی بنا دیا جائے۔۔۔ مزید بھی یونیسیف اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے وقتا فوقتا پاکستان سے ایسے مطالبات سامنے آتے رھتے ھیں کہ جس سے شادیوں کو مشکل بلکہ ناممکن بنایا جاسکے۔۔۔ نکاح سے بغاوت اور شادی سے نفرت مغربی معاشرت کے لیے سب سے بڑا زھر ثابت ھوئی۔۔۔ مگر جانے انجانے میں ھمارا معاشرہ انہی کی ھدایات اور نقالی پر عمل پیرا ھے۔۔۔

    ناولز، ڈراموں اور فلموں میں ایکسٹرا میریٹل افئیرز کو کوئی سنسر کرنے والا نہیں۔۔۔ تعلیمی اداروں میں چلنے والے عشق معشوقی کے چکر بھی کسی کو نہیں کھٹکتے۔۔۔ سمعی و بصری سہولتوں سے مزین موبائل سے مستفید ھو کر اپنی حرص و ھوس کو بجھانا بھی اب معیوب نہیں رھا۔۔۔ پھر انٹرنیٹ کے سمندر میں تیرتے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے پورنو اینڈ سیکسو گرافی بھی ایک آرٹ اور فیشن بن چکا ھے۔۔۔ راتوں کو سرعام لاھور کی سڑکوں پر پھرتے زنخوں اور طوائفوں پر بھی کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا۔۔۔ جگہ جگہ پھیلتے مساج سنٹرز پر بھی کسی کو کوئی فکر دامن گیر نہیں ھوتی۔۔۔
    ویلنٹائن اب ایک ڈے سے بڑھ کر ویک بن چکا ھے، مگر کوئی خطرے کی بات نہیں۔۔۔!!!
    اس سب پر طرہ یہ کہ شادی اور نکاح کے بندھن سے بدظن کرنے کے لیے لطیفے، قصے، جگتیں، مزاحیہ ویڈیوز اور شارٹ سٹیٹسز۔۔۔ اس سب کو شئیر کر دینا اور آگے پھیلا دینا ھم بالکل بھی نقصان دہ نہیں سمجھتے۔۔۔

    مگر کوئی نوجوان ان سب غلاظتوں سے محفوظ رھنے کو اگر شادی کا ذکر ھی کر دے تو سب سے مہذب اور مسکت جواب یہ ھوتا ھے کہ "پہلے شادی کے قابل تو ھو جاؤ”۔۔۔ اور "تینوں بڑی اگ لگی اے” جیسا والا جواب تو اب کوئی نیا نہیں رھا۔۔۔

    کوئی استطاعت رکھنے والا اور انصاف کرنے والا اگر شریعت کے مطابق اپنی جائز ضرورت کے لئے دوسری شادی کا نام لے لے، پھر تو جہان سارا ای دشمن۔۔۔!

    ایک جاننے والے نے دوسری شادی کر لی تو اسکے برادر نسبتی (سالے) اس کے گھر آکر کہنے لگے:
    ” تیرا فلاں چکر وی اسی معاف کیتا۔۔۔ تیرا او رولا وی اسی چھڈ دتا۔۔۔ ھن تے توں حد ای مکا دتی۔۔۔ ویاہ ای کر لیا ای۔۔۔ ”

    بس۔۔۔ یہی ھمارا المیہ ھے کہ ایک نوجوان خود لذتی سے گناہ گار ھوتا رھے۔۔۔ کسی کے گھر کی عزت سے کھیلتا رھے۔۔۔ چاھے تو کوٹھے پر چلا جائے۔۔۔ مگر نکاح کا نام لے جب تک۔۔۔!!!
    اور شادی شدہ اپنی پہلوٹی بیوی کے ھاتھوں بلیک میل ھوتا رھے، اسکے ساتھ بیمار بنا رھے۔۔۔ مگر جائز طریقے سے کسی دوسری عورت کا نہ گھر بسنے پائے نہ اس مرد کا بھلا ھونے پائے۔۔۔

    اس مسئلے میں کسی دوسرے کا نہ بھی سوچو، کم ازکم ھم میں سے ھر کوئی اپنا ھی بھلا سوچے تو معاشرے کی سوچ اور ڈگر بدلی جا سکتی ھے۔۔۔