Baaghi TV

Tag: قصوریات

  • اجتماعی دعا اور ٹریفک جام

    قصور
    رائیونڈ تبلیغی اجتماع کی دعا کے بعد شدید ٹریفک جام
    تفصیلات کے مطابق آج رائیونڈ تبلیغی اجتماع میں آخری دن پر دعا تھی دعا کے بعد اجتماع میں ملک بھر سے شریک افراد اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں کچھ لوگ اپنی ذاتی سواریوں پر آتے ہیں اور زیادہ تر افراد قافلے کی شکل میں بسیں کروا کر آتے ہیں دعا کے بعد ہر ایک جلدی جلدی پنڈال سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی سواری والے سواری پر نکلتے ہیں جس سے یکدم پورے رائیونڈ کی ٹریفک تو جام ہوتی ہی ہے ساتھ ہی قصور کے مختلف راستے بھی ٹریفک کی بدولت بند ہو جاتے ہیں زیادہ تر لاہور جانے والے افراد قصور رائیونڈ روڈ سے گزرتے ہیں ایسے ہی دیپال پور ،پاکپتن عارف والا اور دیگر شہروں سے آئے لوگ بھی قصور کے راستے سفر کرتے ہیں جس سے قصور رائیونڈ روڈ،کوٹ رادہاکشن قصور روڈ،رائیونڈ براستہ کوٹ رادہاکشن تا پتوکی روڈ ٹریفک کی بدولت مکمل بند ہو چکے ہیں گاڑیوں کی اتنی زیادہ تعداد کی بدولت ٹریفک کا سارا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جس سے مقامی لوگوں کو سخت کوفت اٹھانی پڑ رہی ہے

  • فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی

    قصور
    بھلو ڈرین پر واقع گھتہ فیکٹری میں دن 10 بجے لگنے والی آگ تاحال نا بجھ سکی
    تفصیلات کے مطابق قصور فیروز پور روڈ پر کھارا ڈرین پل کی مشرقی نزد لکھنیکے گاؤں والی سائیڈ پر واقع گھتہ فیکٹری میں دن 10 بجے شارٹ سرکٹ کی بدولت لگنے والی آگ تاحال نا بجھ سکی ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں مگر خوشی قسمتی سے کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا مگر فیکٹری کا گودام جو کہ گھتے سے بھرا ہوا تھا مکمل جل کر خاکستر ہو گیا ہے اور آگ مذید پھیل رہی ہے جس پر ریسکیو ٹیمیں قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں

  • مزاحمت پر دیہاتی قتل

    مزاحمت پر دیہاتی قتل

    قصور
    پتوکی کے علاقے تھانہ سراۓ مغل سوکڑ نہر ہلّہ پر ڈکیتی کی واردات مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک شخص قتل

    تفصیلات کے مطابق رات نامعلوم ڈاکوؤں نے ہلہ نہر کے قریب ارشد ولد طفیل کو روکا جس پر ارشد نے مزاحمت کی تو نامعلوم ڈاکوؤں نے اسے گولی مار کر قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے ریسکیو 1122 نے لاش کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پتوکی  منتقل کر دیا گیا

    قتل ہونے والا شخص محمد ارشد ولد طفیل کے سوکڑ نہر ہلّہ کا رہائشی بتایا گیا ہے  ڈاکوؤں  کی فائرنگ سے قتل ہونے والا شخص مچھلی کا کاروبار کرتا تھا 
    پولیس تھانہ سرائے مغل نے مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کر دی

  • خطرناک اشتہاری مجرم گرفتار

    قصور
    الہ اباد میں 4 لاکھ ہیڈ منی والا خطرناک اشتہاری مجرم گرفتار

    تھانہ الہ آباد پولیس کی بڑی کاروائی خطرناک اور انتہائی مطلوب مجرم اشتہاری ادریس ماچھی گرفتار
    مجرم اشتہاری ادریس ضلع قصور اور اوکاڑہ میں ڈکیتی اور راہزی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہے
    ادریس ماچھی سال 2012 سے مفرور چلا آ رہا تھا
    گورنمنٹ آف پنجاب نے ادریس ماچھی کی 4 لاکھ روپے ہیڈ منی مقرر کر رکھی تھی
    لوگوں نے قصور پولیس کی اس بڑی کاروائی کی بے حد تعریف کی

  • فوڈ اتھارٹی کی کاروائی

    قصور
    فوڈ اتھارٹی کی کاروائی متعدد دکانداروں کو جرمانہ
    تفصیلات کے مطابق قصور کے قصبے راجہ جھنگ میں فوڈ اتھارٹی نے کاروائی کرتے ہوئے کئی دکانداروں کو جرمانے کر دیئے جرمانے کم وزن ،ناقص کوالٹی اور ایکسپائر اشیاء کی بدولت کیئے گئے ہیں
    محمکہ فوڈ نے نان بائی ،کریانہ،سبزی فروش،دودھ و دہی فروش،گوشت فروش اور بیکریوں کی چیکنگ کی گئی جن میں سے اکثر کی کوالٹی انتہا گندی زوزن میں کمی اور کچھ اشیاء ایکسپائر ہو چکی تھیں

  • نامعلوم لاش دفن لوگ حیران

    قصور
    پولیس اہلکار نے پوسٹ مارٹم شدہ لاش قبرستان میں دفنا دی

    تفصیلات کے مطابق بوائے ڈگری کالج روڈ قبرستان میں تھانہ صدر پ کے اہلکار نے ایک نوجوان کی پوسٹ مارٹم شدہ لاش کفن بمعہ کفن قبرستان میں لا کر دفنانا چاہی مگر علاقہ مکینوں نے ایک جواں سالہ پوسٹ مارٹم شدہ لاش دیکھ کر شور مچا دیا جس سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گٸی لاش لانے والے پولیس اہلکار نے پوچھنے پر بتایا کہ یہ نوجوان ایک حادثے میں فقیریے والا کے قریب جانبحق ہوا ہے حاکم نامی پولیس ملازم نے مذید بتایا کہ تین دن قبل اس کا انتقال ہوا تھا
    اسی دوران مقامی صحافی کے فون کرنے پر ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر ایس ایچ او سٹی اور ایس ایچ او تھانہ بی ڈویژن اور چوکی انچارج لاری اڈہ بھی موقع پر پہنچ گٸے جنہوں نےعلاقہ مکینوں کو مطمٸن کر کے نامعلوم نوجوان کی لاش کوسپرد خاک کر دیا
    دوسری طرف عوامی حلقوں نے اس صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ھوے صحافیوں سے اس معاملے کو اعلی حکام تک پہنچانے پر زور دیا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں

  • ایس ایچ او کا اعلان

    قصور
    پتوکی ایس ایچ او پتوکی نصراللہ بھٹی کا جرائم کی بیخ کنی کا فیصلہ
    ایس ایچ او پتوکی نصراللہ بھٹی نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرنے کہا کہ جرائم پیشہ افراد اور سماج دشمن عناصر کے خلاف خصوصی مہم شروع کر دی گئی ہے شہری تاجر اور میڈیا تعاون کرے تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے
    تھانہ سٹی پتوکی نصراللہ بھٹی نے تاجروں میڈیا اور سول سوسائٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مذید کہا کہ چوروں، ڈاکوﺅں ،منشیات فروشوں ، اشتہاری مجرموں اور کسی بھی قسم کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف خصوصی مہم شروع کر دی گئی ہے اور پورے شہر میں گشت کا نظام پہلے سے موثر اور مضبوط بنادیا گیا ہے تھانے میں ہر آنے والے سائل کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے میرے دروازے عوام کیلئے ہر وقت کھلے ہیں

  • "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری ہاں فوج مخالف لوگوں کی طرف سے فوج پر ایک جملہ ،چوکیدار بہت کسا جاتا ہے جب کسی کو کوئی دلیل نا ملے تو فوری جملہ داغتا ہے کہ جی فوج تو چوکیدار ہے فوج کا کیا کام ملکی معاملات اور سیاست میں سب سے پہلے تو میں ان لوگوں کو بتاءونگا گا کہ چوکیدار کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وی اپنی آمدن سے بلکل کم دی جاتی ہے جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر 15000 سے 30000 ہزار روپیہ چوکیدار کو دیا جاتا ہے جبکہ آپ کی آمدن اور بچت لاکھوں روپیہ ہوتی ہے مگر حیرت ہے فوج کو چوکیدار کہنے والوں پر کہ ایک طرف تو اسے چوکیدار کہہ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری جانب اسی چوکیدار کی شکایت بھی کرتے ہیں کہ 80 فیصد ہماری فوج یعنی چوکیدار کھا رہا ہے اب بھلا کوئی ذی ہوش شحض خیسے مان سکتا ہے کہ کوئی ہو بھی چوکیدار اور آپ کی آمدن کا 80 فیصد بطور تنخواہ بھی لے رہا ہو یقینا یہ بہت کم عقلی والی بات ہے جوکہ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بطور افواہ پھلائی گئی ہے آپ اس سال بجٹ کا ریکارڈ چیک کر لیں تو آنکھیں کھل جائینگی کہ فوج کتنے فیصد لے رہی ہے
    حالانکہ بجٹ میں ہر ادارے اور صوبے کو ملنے والی رقم کا حساب ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ بجٹ کی جمع تفریق نہیں کرتے بلکہ رٹی رٹائی باتیں ازبر کرتے چلے جاتے ہیں یقینا اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ حد درجہ جھوٹے ہیں جن کی اپنی بات میں بھی وزن نہیں جو 80 فیصد کا بہتان لگا کر چوکیدار کا لقب دے رہے ہیں اور ان کی بجٹ کی جمع تفریق سے ثابت ہوا کہ وہ جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگ کسی کو چوکیدار کہیں یاں کچھ اور ان کی بات مانی نہیں جا سکتی
    یقینا فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے اور اس کے اندر بھی انسان ہی ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے میں کوئی مقدس گائے نہیں مانتا فوج کو مگر دنیا جانتی ہے فوج اور سول اداروں کی سزاءوں کو جب کوئی سول ادارے کا اہلکار غلطی کرتے پکڑا جاتا ہے اسے معطل کر دیا جاتا ہے مگر فوج میں ایسا نہیں غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کر دیا جاتا ہے پینشن جی پی فنڈ ختم ہونے کیساتھ پوری زندگی کورٹ مارشل شد فوجی کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور جب تک کورٹ مارشل مکمل نا ہو جیل سے چھٹی نہیں ملتی جبکہ سول اداروں کے لوگ ضمانت اور قبل از ضمانت کروا لیتے ہیں
    اس کے علاوہ مذید کہتے ہیں کہ جی فوج کرتی کیا ہے مفت کی تنخواہ لیتی ہے تو ان سے میرے چند سوال ہیں کہ 1948 میں آزاد کشمیر کو ہندو کے چنگل سے اپنے غیور قبائلیوں کیساتھ مل کر کس نے آزاد کروایا تھا فوج نے یاں کسی سیاستدان نے ؟
    1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کو ناکو چنے کس نے چبوائے اور ملک کا دفاع کس نے کیا تھا فوج نے یاں کسی غیرت مند سیاستدان نے ؟
    1967 اور پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سارے عرب ملک عملی طور پر اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے تھے اور پوری دنیا اسرائیل کو سپر پاور تسلیم کرنے کے قریب تھی تب اس وقت پاکستانی ائیر فورس نے تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا پاک ائیر فورس کے جوانوں نے اپنی جانیں تو دے دیں مگر اسرائیل کا ایٹمی پاور پلانٹ تباہ کرکے تمام عرب ملکوں کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا تو اس وقت کونسا غیرت مند سیاستدان پاکستان سے جنگی جہاز اڑا کے تل ابیب کو تباہ کرنے گیا تھا؟
    1971 میں انڈیا کیساتھ مل کر اقتدار کی خاطر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے مسلح فورس،مکتی باہنی کس نے بنائی تھی اور باوجود اسلحہ کی کمی کی بدولت لڑائی کس نے کی تھی ہندوستانی فوج سے اور پھر دشمن کی قید کس نے کاٹی تھی کیا کوئی سیاستدان انڈین جیلوں میں قید رہا ؟
    1980 کی دہائی میں جب سپر پاوری کی طاقت کے نشے میں چور روس افغانیوں پر چڑھ دوڑا تو اس وقت افغانیوں کو کونسے سیاستدان نے ٹریننگ دی کے تم ہمارے مسلمان بھائی ہو اپنا دفاع کرو ؟
    1999 میں کارگل پر قبضہ کرکے انڈیا کی طرف سے کشمیر جانے والا راستہ پاک فوج نے بند کر دیا جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج بھوکوں مرنے کے قریب تھی جس کا اقرار خود سابق آرمی چیف ٹی وی پر کر چکا بھلا اس وقت یونائیٹڈ نیشن کے تلوے چاٹنے کوئی فوجی گیا تھا کہ سیاستدان ؟ دنیا جانتی ہے اس وقت کا حکمران یونائیٹڈ نیشن کے حکم کی پیروی نا کرتا تو آج کشمیر بھی آزاد ہوتا بلکہ پاک فوج کے ہزاروں سپاہی اور افسران شہید نا ہوتے بھلا ان قربانیوں میں کونسا سیاستدان جس نے کارگل جا کر گولیاں چلائیں؟
    2001 میں جب امریکہ نے پتھر ئکے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت افغانستان کی سرحد پر فوج کے علاوہ کونسے سیاستدان نے پہرہ دیا ؟
    2008 میں بمبئی حملے ہوئے انڈیا نے الزام پاکستان پر لگایا مگر وہ اس الزام کو ثابت نا کر سکا مگر ہمارا ہی ایک سیاستدان اٹھا اور شور شروع کر دیا کہ بمبئی حملے آئی ایس آئی اور ایک مذہبی جماعت نے کروائے جس کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کر دیا اور آج تک ہم اس کا خمیازہ ہمیں آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے لہذہ سوچئے پھر بولئے ،چوکیدار نہیں محافظ

  • نالیاں تالاب بن گئیں

    قصور
    شہروں اور گلی محلوں میں نالیاں تالاب بن گئیں
    تفصیلات کے مطابق قصور کے قصبے مصطفیٰ آباد للیانی وارڈ نمبر 7 سرہالی روڈ پر انتظامیہ کی نااہلی وجہ سے نالیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جو کہ انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے
    نا ہی کوئی دیکھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی سننے والا روہی نالہ سے گند و گوبر نکال کر سڑک اور مین راستے پر پھینکنا روز کا معمول ہے جس سے نمازی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
    اہل علاقہ کا اعلیٰ حکام سے نوٹس کا مطالبہ

  • بغیر ترپال لوڈر ٹرالیاں

    قصور
    بغیر ترپال کے فیروز پور روڈ پر اینٹوں سے لوڈ ٹرالیاں لوگوں کیلئے وبال جان بن گئیں
    تفصیلات کے مطابق قصور سے روزانہ درجنوں اینٹوں سے لوڈ ٹرالیاں اینٹیں لے کر لاہور فروخت کرنے جاتی ہیں جن میں سے ایک آدھ پر ہی ترپال ڈالا گیا ہوتا ہے باقی ٹرالیاں بغیر ترپال کے ہی گزرتی ہیں جن سے پیدل اور موٹرسائیکل سواروں پر اینٹوں سے گرنے والا والا برادہ نما گرد پڑتی ہے جو کہ قریب سے گزرنے والے پیدل اور موٹرسائیکل سواروں کیلئے سخت پریشانی کا سبب بنتی ہے جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات بغیر ترپال کے ٹرالیوں سے سڑک پر اینٹیں بھی گر جاتی ہیں جو کہ موٹرسائیکل اور کار سواروں کے لئے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں
    لہذہ سٹی ٹریفک پولیس قصور ٹرالی مالکان کو ترپال ڈالنے کا پابند کرے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے