Baaghi TV

Tag: قطر

  • وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر،   مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر، مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    بیجنگ: وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیراعظم ،قطری امیر،مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان اس وقت چین میں موجود ہیں جہاں ان سے چینی وزیراعظم ،امیر قطر،مصری ارو ازبک صدرسمیت بڑے بڑے عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری ہیں اور یہ ملاقاتیں اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی ہیں‌

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔

     

    فواد چودھری نے مزید لکھا کہ دونوں ملاقاتوں میں کشمیر اور افغانستان گفتگو کے اہم موضوعات رہے، چین پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    اُدھر وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم

     

     

     

    عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کو سی پیک اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال، کشمیری عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا، وزیراعظم نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

     

     

     

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، کثیر جہتی تزویراتی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

     

    وزیراعظم عمران خان دورہ چین کے دوران دارالحکومت بیجنگ کے گریٹ ہال پہنچے جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چائنہ انرجی اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن اور پاور چائنا کے چیئرمینز سے آن لائن ملاقات کی۔ آن لائن ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی کےشعبے کی بہتری اورسرمایہ کاری سے متعلق گفتگو ہوئی۔

     

     

    دوسری جانب دورے کے حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین انتہائی کامیاب جا رہاہے، چین کے صدر اور وزیراعظم سے معاشی، تجارتی تعاون پر بات ہوگی۔

    اُدھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین میں مصری صدر عبد الفتح السیسی اور قطری امیر تمیم بن حماد التھانی سے ملاقات کی۔

     

     

     

    وزیراعظم عمران خان کی بیجنگ میں ازبک صدر سے ملاقات ہوئی، سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پرملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں کا دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

     

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان شراکت داری کے فروغ کےعزم کا اعادہ کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کو فعال کرنے اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم نے ریلوے منصوبے کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ عمران خان نے سیاحت کے فروغ کے لیےبراہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے تعلیم اور ثقافت میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں علاقائی امن و استحکام پر بھی غور کیا گیا، دونوں رہنماوں کاعالمی برادری سے افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور وزیراعظم نے ازبک صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    اُدھر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران ہماری چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں ہو رہی ہیں جو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم خود ان کی براہ راست بات بھی سن رہےہیں اور جو نکات وہ اٹھارہے ہیں ان کا جواب اور تمام وزارتوں کو اس حوالے سے عملدرآمد کے لئے احکامات جاری بھی کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان چینی وزیراعظم لی سے ملاقات بھی کررہے ہیں اور پاکستان جن شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے درخواست کررہا ہے ان پر بھی غور ہو گا ۔ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اتوار کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم عمران خان یہی نکات اٹھائیں گے ۔امید ہے کہ اس دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    چین میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی کل چین کے صدرشی جن پنگ سے اہم ملاقات ہوگی، چین نے ہمیشہ ہرمشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ چین سے دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ چین کشمیرکے معاملے پرپاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    دوحہ: افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا کے لئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے”الجزیرہ” کے مطابق معاہدے کے کابل ائیرپورٹ سے چارٹرپروازوں کے ذریعے غیرملکیوں کا انخلا دوبارہ سےشروع ہوگا کابل ائیرپورٹ سے قطر ائیرویز کی ہفتے میں 2 چارٹرڈ پروازیں چلائی جائیں گی۔

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    چارٹرپروازوں سے امریکا اور دیگر ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سےنکالیں گے۔ ان پروازوں کے ذریعے جان کےخطرے سے دوچار افغانوں کا بھی انخلا کرایا جائےگا قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے طالبان سے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق Axios نیوز ایجنسی نے قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو اطلاع دی کہ قطر اور طالبان نے ہر ہفتے قطر ایئرویز کی دو چارٹرڈ پروازیں چلانے پر اتفاق کیا ہے۔

    توقع ہے کہ اس معاہدے سے ہزاروں کمزور افغانوں اور غیر ملکی شہریوں کو ملک سے نکالنے کی اجازت دی جائے گی جب گزشتہ سال اگست میں امریکی فوجیوں اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد، طالبان نے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ اپ ڈیٹ گزشتہ ہفتے Axios کی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکہ اپنے انخلاء اور آباد کاری کی کوششوں کو دوبارہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    قطر نے ستمبر سے کابل سےچارٹرڈ پروازیں چلائی تھیں تاہم، خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، طالبان کے ساتھ اس تنازعہ کے درمیان دسمبر کے اوائل میں یہ چارٹرڈ پروازیں بند ہو گئی تھیں جس پر مسافروں کو پروازوں میں جانے کی اجازت دی جا رہی تھی مہینوں میں انخلاء کی پہلی پرواز 26 جنوری کو کابل سے دوحہ کے لیے روانہ ہوئی۔

    شیخ محمد کے ساتھ Axios کا انٹرویو پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد ہوا۔

    امریکی حکام نے بارہا طالبان کے ساتھ ثالثی کے طور پر کام کرنے میں قطر کے کردار کی تعریف کی ہے، جس نے افغانستان میں 20 سال تک امریکہ کے خلاف جنگ کی۔ واشنگٹن، جو ملک میں طالبان کو سرکاری طور پر جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، نومبر میں اعلان کیا کہ قطر افغانستان میں اس کے نمائندے کے طور پر کام کرے گا۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

    پیر کی میٹنگ کے دوران، بائیڈن نے قطر کے رہنما کو یہ بھی مطلع کیا کہ ان کی انتظامیہ خلیجی ملک کو نامزد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو خطے میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا گھر ہے، ایک "بڑا نان نیٹو اتحادی”۔ کویت کے بعد قطر خلیج کا دوسرا ملک ہے جسے یہ عہدہ ملا ہے یہ درجہ دوحہ کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں خصوصی اقتصادی اور فوجی مراعات دے گا۔

    امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا دباؤ ہے کہ وہ ان افغانوں کے انخلاء میں اضافہ کریں جنہوں نے ملک میں غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کیا اور خاص طور پر طالبان کی طرف سے انہیں نشانہ بنائے جانے کا امکان سمجھا جاتا ہے وکلاء کا کہنا ہے کہ ہزاروں افغان باشندے جن کے امریکی فوج سے قریبی تعلقات ہیں ملک میں موجود ہیں۔

    پیر کےروز، اقوام متحدہ نے کہا کہ اسے طالبان کے ذریعے سابق حکومت سے منسلک تقریباً 100 افغان باشندوں کے قتل کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو اس گروپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہیں جبکہ ملک ایک انسانی بحران کا بھی شکار ہے جس نے 23 ملین افراد کو فاقہ کشی کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

  • قطر ایئر ویز نے پاکستان کے حوالے سے بہت بڑا اعلان کردیا

    قطر ایئر ویز نے پاکستان کے حوالے سے بہت بڑا اعلان کردیا

    کراچی:قطر ایئر ویز نے پاکستان کے حوالے سے بہت بڑا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق قطر ایئر ویز نے پاکستان سے پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کردیا، لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے روزانہ 2، 2 پروازیں جبکہ پشاور اور سیالکوٹ سے روزانہ 1، 1 پرواز آپریٹ کی جائے گی۔

    تفصیلات کے مطابق قطر ایئر ویز نے پاکستان سے پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کردیا، قطر ایئر ویز پاکستان سے ہفتہ وار 56 پروازیں آپریٹ کرے گی۔

    قطر ایئر ویز کراچی اور لاہور سمیت 5 شہروں سے دوحہ کے لیے پروازیں آپریٹ کرے گی۔قطر ایئر ویز کی لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے روزانہ 2، 2 پروازیں جبکہ پشاور اور سیالکوٹ سے روزانہ 1، 1 پرواز آپریٹ کی جائے گی۔

    لاہور سے دوحہ ہفتہ وار 14 پروازیں آپریٹ کی جائیں گی، ایئر لائن لاہور سے بذریعہ دوحہ 140 ممالک میں مسافروں کو رسائی دے گی۔قطر ایئر ویز نے پاکستان کے لیے 31 مئی 2022 تک کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔

  • محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030، دبئی،قطر اورابو ظہبی کیلئے چیلنج

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن کے دورہ مسقط کے موقع پر سعودی عرب اور عمان کے درمیان متعدد شعبوں میں 13 معاہدے طے پائے ہیں جن کی لاگت 10 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : دورہ مسقط کے موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعزاز میں مسقط میں شاہی محل میں سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔اس موقع پرسعودی عرب کا شاہی ترانہ بجایا گیا اورمعزز مہمان کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی سعودی ولی عہد سوموارکی شام عمانی دارالحکومت مسقط پہنچے تھے جہاں سلطان ہیثم بن طارق نے ان کا خیرمقدم کیا انھوں نے مسقط میں سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    سعودی عرب کی کمپنیوں نے عمان انویسٹمنٹ اتھارٹی اور عمان کے نجی شعبے کی ملکیت میں متعدد کمپنیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پرکام کے لیے مفاہمت کی تیرہ یادداشتوں پر دست خط کیے تھے۔

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    عرب نیوز نے عمان کے سرکاری ٹی وی چینل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدے مکمل طور پر سلطنت عمان کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے کمپنیوں کے ساتھ طے پائے ہیں عمان میں عالمی توانائی کی کمپنی ’او کیو گروپ‘ نے تین معاہدوں پر دستخط کیے ہیں وہ دونوں ممالک کے درمیان بحیرہ عرب پر فری زون قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ان میں سے ایک معاہدہ سعودی عرب کی پیٹرو کیمیکل، قابل تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن کے شعبے سے منسلک کمپنی ’اے سی ڈبلیو اے پاور‘ کے ساتھ طے پایا ہے تیل کے ذخیرے سے متعلق دوسرا معاہدہ سعودی آرامکو کے ساتھ ہوا ہے جبکہ تیسرا معاہدہ عمان کے دقم پیٹرو کیمیکل کمپلکس منصوبے کی ترقی کے لیے سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن (سابک) کے ساتھ طے پایا ہے۔

    عمان کے یتی ساحل کی ترقی کے لیے عمران گروپ نے سعودی دارالارکان ریئل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کمپنی کے ساتھ یادداشت پر دستخط کیے ہیں فشریز کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے لیے عمان محکمہ فشریز اور سعودی عرب کے نیشنل ایکواکلچر گروپ نقوا کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے۔

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    سٹاک ایکسچینچ کے شعبے میں تعاون کے لیے سعودی تداول گروپ اور مسقط سکیوریٹیز مارکیٹ کے درمیان تعاون کے لیے یادداشت پر دستخط کیے ہیں عمان کے لاجسٹک گروپ ’اسیاد‘ نے سعودی ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹک کمپنی ’البحری‘ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں جبکہ کان کنی کے شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے منرلز ڈیویلپمنٹ عمان اور سعودی معادن فاسفیٹ کپمنی کے درمیان بھی معاہدہ طے پایا ہے۔

    عمان نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی نیشنل کمپنیز انٹرپرنیورشپ پروگرام کے سربراہ بدر البدر نے کہا ہے کہ ان معاہدوں کی سرمایہ کاری کی کُل لاگت 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

    جبکہ سعودی عرب اورعمان نے منگل کے روز دونوں خلیجی ہمسایوں کے درمیان پہلی براہ راست زمینی گذرگاہ بھی کھول دی ہےدونوں ملکوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اورایک بیان میں کہا ہے کہ 725 کلومیٹرطویل عمانی، سعودی شاہراہ کا افتتاح دونوں ممالک کے شہریوں کی ہموار نقل و حرکت اور سپلائی چین کو مربوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

    متحدہ عرب امارات میں دفتری اوقات کار میں کمی ، ہفتہ اور اتوار کو باضابطہ ویک اینڈ مان لیا

    سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ مملکت کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ(پی آئی ایف) عمان میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔اس ضمن میں سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پرمختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے سمجھوتے طے پائے ہیں۔

    العربیہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی ولی عہد کے دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں اوپیک + کی کوششوں کی تعریف کی گئی جو تیل کی منڈیوں میں استحکام اور توازن کا باعث بنی۔ مملکت 2030 اور عمان کے وژن 2040 کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافے پر زور دیا۔

    سعودی وزیر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس انجینیر صالح الجاسر نے العربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ زمینی سڑک صحرا ربع الخالی سے گذرے گی اور دونوں ممالک کے درمیان مسافروں کے لیے ایک نئی سہولت ملےگی۔ ۔یہ سفری نقل و حرکت کو بھی آسان بنانے میں مددے گی اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مسافت کو 800 کلومیٹر تک کم کردے گی۔

    بیجنگ ونٹر اولمپکس 2022،امریکہ کا سفارتی بائیکاٹ کا اعلان

    الجاسر نے کہا کہ زمینی راستے کا مملکت اور سلطنت عمان کے درمیان علاقائی تجارتی نقل و حرکت پر مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے خلیجی ممالک اور عرب دنیا کے ساتھ مشترکہ ورکنگ ریلیشن شپ کو بڑھانے کے لیے مملکت کی قیادت کی خواہش کا اعادہ کیا سعودی عرب اور عمان کے درمیان سڑک ان علاقوں میں ترقی کرے گی جن سے یہ گذرے گی۔ افراد اور سپلائی چین میں بھی مدد دے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی نقل و حرکت اور شراکت داری میں اضافہ کرے گی۔

    عمانی سرمایہ کاروں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سلطنت عمان کے دورے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

    اس سے قبل پچھلے دو مہینوں میں سعودی عرب نے یو اے ای میں غیر ملکی کمپنیوں کو پیشکش کی وہ بغیر کسی تیسرے فریق کے سعودی عرب میں علاقائی مرکز اور شاخیں کھولیں سعودی عرب کی جانب سے مقرر کردہ مدت ختم ہونے سے قبل بڑی کمپنیاں سعودی عرب میں اپنے مراکز کھولنے کے لیے پہنچ گئی ہیں، جو کہ سعودی عرب کے اندر اپنی مصنوعات درآمد کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں اشیا اور ان کی کھپت کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

    بڑی کمپنی نے 900 ملازمین کو نوکری سے نکال دیا

    کیا جلد ہی ایک دن آئے گا کہ البطح کسٹمز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرحد بن جائے گی؟بڑی کمپنیوں نے امارات سے سعودی عرب کی جانب رخ کر لیا ہے سعودی عرب متحدہ عرب امارات کو اوپیک میں ایک بڑے تنازع سے لے کر اماراتی پروازوں پر پابندی لگانے کے لیے امارات پر نئے تجارتی محصولات تک اتار رہا ہے۔

    سعودی اماراتی ہوابازی کا شعبہ امارات کا مصروف ترین شعبہ تھا جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت حجم کے لحاظ سے سعودی چینی تجارت کے بعد دوسرے نمبر پر ہےسعودی عرب اب ٹرانزٹ ہب کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک اور بڑی قومی ایئر لائن شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور اس طرح دبئی، ابوظہبی اور قطر کو چیلنج کر رہا ہے۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب نے خواتین کو سفر کرنے اور گاڑی چلانے کی اجازت دے دی، سینما گھر وغیرہ کھول دیے گئے، سعودیوں کو مستقبل میں یو اے ای جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    سعودی عرب کا پاکستانی عمرہ زائرین کے لئے بڑا اعلان

    سعودی عرب نے ایک قانون بھی پاس کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی بڑی عالمی کمپنی جیسے بوئنگ، گولڈمین سیکس، مائیکروسافٹ یا کوئی اور جو سعودی عرب کی طرف سے خرچ کیے گئے کھربوں سے کاروبار کرنا چاہتی ہے، اس کا علاقائی ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں ہونا ضروری ہے ورنہ کوئی کمپنی نہیں ہوگی۔ سب سے بڑی 5,000 کمپنیوں کو انٹرنیشنل سے نوازا گیا۔

    سعودی عرب میں درجنوں پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں، لیکن اس ہفتے سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی اس لڑائی سے، بہت سے لوگ صرف دبئی کو بند کرنے میں خوش ہوں گے (زیادہ لاگت اور بہت کم کاروبار کی وجہ سے) اور مکمل طور پر سعودی عرب منتقل ہو جائیں گے امارات کو پہنچنے والا نقصان وحشیانہ ہوگا۔

    متحدہ عرب امارات کے پاس کاروبار، کوویڈ یا ان سعودی مسائل سے ضائع ہونے والی آمدنی حاصل کرنے کے لیے گولڈن ویزا رکھنے والوں سمیت تمام رہائشیوں پر انکم ٹیکس عائد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

    جیسا کہ گولڈن ویزا ہولڈرز نے متحدہ عرب امارات سے اپنی محبت کا اعلان کیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ٹیکس قانون میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ اس محبت کا اظہار کیا جائے۔

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

  • قطر، پاکستانی سفارتخانے میی ایک پروقار تقریب منقعد

    قطر، پاکستانی سفارتخانے میی ایک پروقار تقریب منقعد

    قطر میی پاکستانی سفارتخانے کے سربراھ سید احسن رضا نے قطر ملک میں مقیم پاکستانی پشتون کو متحد کرنے کے لٸے پاکستانی سفارتخانے میی ایک پروقار تقریب منقعد کی جس میی پاکستان کے مختلف اضلاع سمیت خصوصا ضم شدہ قباٸلی اضلاع کے 100 سے زاٸد قباٸلی عماٸدین اور نوجوانو نے شرکت کی اور تاریخ میی پہلی مرتبہ قطر میی مقیم پاکستانیو کے مساٸل حل کرنے کے لٸے قطر پشتون کمیونٹی کا قیام عمل میی لایا گیا اور قباٸلی عماٸدین اور نوجوانو نے مشترکہ طور پر ملک ناور خان وزیر کو قطر پشتون کمیونٹی کے چٸرمین نامزد کردیا پاکستانی سفارتخانے کے سر براھ سید احسن رضا نے نامزد چٸرمین ملک ناور خان وزیر کو روایتی پگڑی پہناٸی ۔تقریب سے خطاب کرتے ھوٸے ایمبیسڈر سید احسن رضاکاکہنا تھا کہ قطر ممالک کے مشکور ھے جنھونے پاکستانیو کو اکھٹا کیا اب قطر میی پاکستان پشتون کمیونٹی کے پلیٹ فارم سے اب تمام پاکستانیو کے مساٸل دیگر تنازعات حل کے جاٸینگے اور نامزد چٸرمین پاکستانیو کے فلاح بہبود اور ان کے حقوق کے لٸے اہم کردار ادا کریگا نومنتخب چٸرمین ملک ناور خان وزیر کا کہنا تھا کہ ھم قطر ممالک اور پاکستانی سفیر کے مشکور ھے جنھو نے پاکستان کے پشتون کمیو نٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا اور میی اس عزم کا اعادہ کرتاھو پشتون کمیونٹی کے فلاح بہبود اور ان کی بقا اور ترقی کے لٸےاپنی تمام تر تواناٸیا بروۓکار لاونگا .پکستان زندہ باد خیبر پختونخواہ زندہ باد

  • پاکستان قطری حکومت کی امن کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، شیخ رشید احمد

    پاکستان قطری حکومت کی امن کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، شیخ رشید احمد

    اسلامآباد : وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے قطر کے خصوصی سفیر عزت مآب جناب مطلق بن ماجدالقہطانی کی ملاقات ہوئی۔پاکستان قطر باہمی تعلقات اور افغانستان امن مذاکرات پر بات چیت کی۔ وزیر داخلہ نے افغان امن ڈائلاگ کے حوالے سے قطر کی کاوشوں کو سراہا۔
    قطرخصوصی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لئے پاکستان سے ملکر کوششیں کر رہے۔ افغانستان میں امن ؛خطے کی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ پاکستان کے سول اور فوجی اداروں نے قیام امن کے لئے بیشمار قربانیاں دی ہیں۔
    شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان تعلقات برادرانہ ہیںافغانستان میں پائدار امن پاکستان کا دیرینہ خواب ہے۔قطر کی حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے لئے جو کام کر رہا ہے وہ قابل ستائیس ہے۔ پاکستان قطری حکومت کی امن کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان، قطر اور افغانستان کی مشترکہ کوششوں سے علاقے میں امن بہتر ہوا ہے۔ افغان طالبان سے مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہئے؛ اسی سے پائدار امن قائم ہوگا۔
    وزیر داخلہ سے ملاقات میں قطری حکومت کے اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔ملاقات میں پاکستان میں قطر کے سفیر اور وفاقی سیکرٹری داخلہ بھی موجود تھے۔

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah

  • عمران خان سے دوحہ ائرپورٹ پر قطر ایر لائن کے چیف کی ملاقات

    عمران خان سے دوحہ ائرپورٹ پر قطر ایر لائن کے چیف کی ملاقات

    دوحہ: وزیراعظم عمران خان ہفتے کو امریکہ جاتے ہوئے دوحہ کے ائر پورٹ قطر پہنچے جہاں ہوائی اڈے پر قطر ائرلائنز کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباقر نے ان سے ملاقات کی ، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا