Baaghi TV

Tag: قطر

  • قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    خلیجی ملک قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم اس گرفتاری کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی ٹی وی : قطر میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈر پورنندو تیواری سمیت جنہوں نے صدر رام ناتھ کووند کی جانب سے پراواسی بھارتیہ سمان وصول کیا تھا سمیت 8 افسران کو گرفتار کیا گیا ہے-

    چین سے مقابلے کے لیے امریکا کا بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ

    یہ تمام افسران قطر کی ایک نجی کمپنی ’الظاہرہ العالمی کنسلٹینسی اینڈ سروسز‘ میں کام کر رہے تھے یہ کمپنی قطر کی بحریہ کو تربیت اور ساز و سامان فراہم کرتی ہے اس کمپنی کے سربراہ خمیص العجمی رائل عمان ایئر فورس کے سبکدوش سکواڈرن لیڈر ہیں۔

    ذرائع کے مطابق قطر میں بھارتی سفارت خانہ بھی ان سابق افسران کی گرفتاری سے آگاہ ہے –

    انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں ان افسران کی گرفتاری کی اطلاع ایک خاتون ڈاکٹر میتو بھارگوا کی پوسٹ سے سامنے آئی۔ اپنے پیغام میں، ڈاکٹر بھارگوا، جو خود کو ایک معلم اور روحانی شخص بتاتی ہیں، نے منگل کو پوسٹ کیا لکھا ہے کہ وطن کی خدمت کرنے والے 8 تجربہ کار نیوی افسران 57 دنوں سے دوحہ میں غیر قانونی حراست میں ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ میں حکومت اور متعلقہ حکام سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ جلد ضروری اقدامات کرے اور ان اہلکاروں کو کسی تاخیر کے بغیر قطر سے رہا کروا کر انڈیا لائے-

    دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

    ڈاکٹر بھارگوا نے پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر پٹرولیم ہردیپ پوری اور بہت سے دوسرے لوگوں کو ٹیگ کیا ان سب پر زور دیا کہ ملک کے سابق عہدیداروں کو بغیر کسی تاخیر کےبھارت واپس لایا جائے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا دوحہ میں بحریہ کے سابق اہلکاروں کی گرفتاری سے کیا تعلق ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ابتدائی خاموشی کے بعد اب بتایا ہے کہ انڈیا کا سفارتخانہ گرفتار افراد کو قونصل سروس فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم وزارت خارجہ نے یہ وضاحت نہیں دی کہ اِن اہلکاروں کو کس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان تمام افسران کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے اور ان پر کیا الزامات ہیں۔ تاہم، اس ماہ کے شروع میں، دوحہ میں ہندوستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کو ان سب سے ملنے کے لیے قونصلر دورہ دیا گیا تھا۔

    بی بی سی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ بحریہ کے سابق اہلکاروں کی گرفتاری پر ابھی تک خاموش تھی لیکن جمعرات کو معمول کی نیوز کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ان اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: پہلے پاکستان اب بنگلہ دیش،کوہلی کے اشارے پردو متنازعہ نو…

    انھوں نے کہا کہ ہم آٹھ بھارتی شہریوں کی گرفتاری کے بارے میں واقف ہیں جو قطر میں کسی پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ قطر میں انڈیا کا سفارتخانہ قطری حکام سے رابطے میں ہے۔ سفارتخانے کے اہلکاروں کو مقید بھارتی شہریوں سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    باگچی نے مزید بتایا کہ بحریہ کے ان سابق اہلکاروں کو اپنے گھر والوں سے بات کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی ہم نے ان شہریوں سے ملنے کے لیے ایک اور قونصلر رسائی کی درخواست کی ہے۔ ہمارا سفارتخانہ اور وزارت ان اہلکاروں کی فیملیز سے رابطے میں ہے۔ ہم ان کی جلد رہائی اور بھارت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان نےتاحال یہ نہیں بتایا کہ ان اہلکاروں کو قطر میں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    بھارتی بحریہ کے جن آٹھ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ان میں سابق کمانڈر پورنیندو تیواری بھی شامل ہیں جو کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ انھیں 2019 میں ایک تقریب میں اس وقت کے صدر مملکت نے ’پرواسی بھاتیہ سمان‘ ایورڈ دیا تھا۔

    الظاہرہ کے لنکڈ ان پیج کے مطابق کمانڈر پور نیندو تیواری (ریٹائرڈ)، کمانڈر اجے تیواری (ریٹائرڈ)، کمانڈر انیش ٹھاکر (ریٹائرڈ) اور ساجن بابو نے انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر 15 اگست کو دوحہ میں واقع انڈیا کے تقافتی مرکز میں پرچم کشائی اور ثقافتی تقریب میں شرکت کی تھی۔

    بھارتی دارالحکومت میں خطرناک اسموگ کے باعث اسکول بند

    قطر میں انڈیا کے ان سابق اہلکاروں کی گرفتاری پُراسرار بنی ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے اخبارات میں بھی کہیں کوئی خبر نظر نہیں آئی ایک کو چھوڑ کر باقی سات اہلکاروں کے نام بھی سامنے نہیں آئے ہیں۔

    گرفتار کیے گئے اہلکاروں کے رشتے دار بھی خاموش ہیں۔ انڈیا کی وزارت خارجہ جس طرح ان اہلکاروں کی رہائی اور انھیں انڈیا واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے اس سے واضح ہے کہ یہ پُراسرار معاملہ اہم نوعیت کا ہے۔

    متعدد زرائع کے مطابق یہ افراد جاسوسی کا ایک ریکٹ چلاتے تھے جس کے تحت خفیہ معلومات بھارت، اسرائیل اور متعدد ممالک کو دیں جاتی تھیں- بھارتی کمانڈر کلںبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد یہ دوسرا بڑا موقعہ ہے کہ بھارتی انٹیلیجنس کا ریکٹ اس بڑے پیمانے پر پکڑا جائے-

  • قطرچینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا

    قطرچینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا

    دوحہ : قطر بدھ کے روز چینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا۔

    باغی ٹی وی : "دی نیوز” کے مطابق چین کی جانب سے قطر کا پانڈوں کا جوڑا تحفے میں دیا گیا ہے جن کا نام سہیل اور ثریا ہے۔ پانڈے کے اس جوڑے کو لگژری ایئر کنڈیشنڈ حصے میں رکھا گیا ہے-

    سرکاری راشن کے لیے گاؤں والوں نے30 فٹ اونچا پہاڑ کاٹ کر راستہ بنالیا

    قطر میں 20 نومبر سے فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز ہو رہا ہے جس کی خوشی میں چین کی جانب سے پانڈوں کا جوڑا تحفے میں دیا گیا ہے۔

    چین ورلڈ کپ کے ایونٹ میں شریک نہیں لیکن اس کے قطر سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ قطر سے قدرتی گیس کا بڑا خریدار ہےقطر مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک ہے جسے چین کی جانب سے پانڈوں کا تحفہ دیا گیا ہے۔

    الخور کے زولوجیکل ڈائریکٹر ٹم بوٹس نے کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع الخور پارک میں پانڈوں کو عارضی طور پر رکھا گیا ہے۔ جن میں نر پانڈے کی عمر 4 سال اور وزن 130 کلوگرام ہے جبکہ مادہ پانڈے کی عمر 3 سال اور وزن 70 کلو گرام ہے۔ پانڈوں کی الخور پارک میں منتقلی کی باقاعدہ تقریب رکھی گئی تھی جس میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو شریک کرایا گیا۔

    گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    بوٹس نے کہا کہ پانڈوں کے اس جوڑے کی دیکھ بھال کے لیے 2 چینی ٹرینر بھی ساتھ آئے ہیں جو پانڈوں کے ہمراہ 21 روز قرنطینہ میں رہیں گے جس کے بعد عوام انہیں دیکھ سکیں گے۔

    پانڈا ہاؤس میں سہیل اور ثریا کے اپنے الگ الگ کوارٹر ہوں گے۔ قطر میں چین کے سفیر ژو جیان نے کہا کہ نیا کمپلیکس "عالمی معیار کا، شاندار اور آرام دہ” ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ دو خوبصورت پانڈے جلد ہی قطری عوام اور مشرق وسطیٰ کی محبت کا مرکز بن جائیں گے۔ سہیل خلیجی خطے میں نظر آنے والے روشن ترین ستاروں میں سے ایک کا نام ہے، جبکہ ثریا Pleiades ستاروں کے جھرمٹ کا عربی نام ہے قطر چین اور تائیوان سے باہر پانڈوں کو دیئے جانے والا 20 واں ملک ہے-

    بی جے پی ایم ایل اے کے ہندو دیوی، دیوتاؤں سے متعلق عقائد پر سوالات نے تنازعہ کھڑا کر دیا

  • معروف مبلغ اور مذہبی اسکالر شیخ یوسف القرضاوی قطر میں انتقال کرگئے

    معروف مبلغ اور مذہبی اسکالر شیخ یوسف القرضاوی قطر میں انتقال کرگئے

    دوحہ: عالم اسلام کےمعروف مبلغ اور مذہبی اسکالر شیخ یوسف القرضاوی قطر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق ان کے بیٹے عبدالرحمن یوسف القرضاوی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس خبر کی تصدیق کی شیخ یوسف القرضاوی کی عمر 96 سال تھی، ان کا شمار عالم اسلام کے بااثر ترین علماء میں ہوتا تھا۔
    https://twitter.com/labeedaliya/status/1574387520208769025?s=20&t=YNqFLY7nWo_Q5wlIi-4tcQ
    1926 میں مصر میں پیدا ہونے والے القرضاوی 2013 سے قطر میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور انہیں قطری شہریت دی گئی تھی وہ عرب دنیا کی معروف اسلامی تنظیم اخوان المسلمین کے فکری رہنما سمجھے جاتے تھے۔


    القرضاوی کے خطبات نے خطے کے دیگر حصوں میں عسکریت پسند تحریکوں کی حمایت کرتے ہوئے القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کی طرف سے حمایت یافتہ بنیاد پرست نظریات کا مقابلہ کیا۔


    مصر کی ایک عدالت نے اسے 2015 میں اخوان کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ غیر حاضری میں موت کی سزا سنائی تھی القرضاوی 2004 میں قائم ہونے کے بعد سے انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے چیئرمین بھی تھے اور 14 سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔

    عرب دنیا میں انہیں غیر معمولی مقبولیت حاصل تھی، انہوں نے 50 سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں، اسلامی قانون اور فقہ ان کا خاص موضوع تھا جب کہ وہ عالم اسلام میں جمہوری نظام کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے۔

  • قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    قطر کے ساتھ تعلقات اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ میں "پاکستان قطر تجارت اور سرمایہ کاری راؤنڈ ٹیبل 2022” کے موقع پر ممتاز قطری اور پاکستانی تاجر رہنماؤں سے بات چیت کی۔ قطر فنانشل سینٹر (QFC)، پاکستان بزنس کونسل قطر، اور دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے نے مشترکہ طور پر گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا۔ ایچ ای علی بن احمد الکواری، قطر کے وزیر خزانہ؛ ایچ ای سلطان بن راشد، انڈر سیکرٹری وزارت تجارت و صنعت قطر؛ اور یوسف الخطر جیدا، سی ای او، قطر فنانشل کنٹر نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

    کانفرنس میں قطر کے سرکردہ کاروباری اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کے ساتھ ساتھ دوحہ, قطر میں مقیم پاکستانی تاجر برادری کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔


    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے پاکستان اور قطر کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور حمایت پر مبنی تعلقات کی خصوصی نوعیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قطر کو ایک قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا جس کی حمایت کو انہوں نے خلوص دل سے سراہا. وزیر اعظم نے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل سے نوازا گیا ہے اور پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع نے اسے خطے کا اولین تجارتی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کوریڈور بننے کے قابل بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس منفرد فائدے نے پاکستان کو وعدوں اور مواقع سے بھرپور مارکیٹ بنا دیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بڑی صارف منڈی ہونے کے باعث پاکستان میں غذائی تحفظ، توانائی سمیت قابل تجدید ذرائع، زراعت اور لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مہمان نوازی اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش کاروباری مواقع فراہم موجود ہیں۔
    وزیراعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں اپنے قدم بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستانی اور قطری تاجروں کے ساتھ گول میز کانفرنس کے انعقاد میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔

    قبل ازیں قطر میں پاکستان کے سفیر نے اپنے خطاب میں اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنے گا۔ گول میز کے دوران، ایک معزز پینل نے دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ پینل ڈسکشن میں بنیادی طور پر تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ دونوں ممالک میں کاروباری روابط مزید مضبوط قائم ہوں۔ پینلسٹس میں سید نوید قمر، وزیر تجارت؛ محترمہ حنا ربانی کھر، وزیر مملکت برائے خارجہ امور؛ محترمہ الانود بن حمد الثانی، QFC کی چیف بزنس آفیسر؛ محسن مجتبیٰ، اعزازی سرمایہ کاری کونسلر؛ اور پاکستان بزنس کونسل کے صدر ڈاکٹر جاوید اقبال شامل تھے

    اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہبازشریف سے دوحہ میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) کے وفدنے ملاقات کی.
    قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی دنیا کے سب سے بڑے خو دمختار دولت فنڈز میں سے ایک ہے۔ H.E منصور بن ابراہیم المحمود، CEO، اور H.E. شیخ فیصل تھانی الثانی، چیف انویسٹمنٹ آفیسر آف افریقہ اور ایشیا پیسیفک ریجنز نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی نمائندگی کی۔ دو روزہ سرکاری دورے پر دوحہ پہنچنے کے فوراً بعد وزیراعظم کی یہ پہلی مصروفیت تھی۔

    وزیراعظم کے ہمراہ کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ حکام بھی تھے۔ عزت مآب امیر کی وژنری قیادت میں قطر کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر بہترین سیاسی تعلقات کو ایک جامع اقتصادی شراکت داری میں اپ گریڈ(upgrade) کرنا چاہتا ہے۔

    وزیراعظم نے دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری کی مصروفیات خاص طور پر قابل تجدید توانائی بشمول شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار، ہوا بازی، سمندری، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا.

    وزیراعظم نے پاکستان کے منفرد جغرافیائی اور آبادیاتی فوائد کو اجاگر کیا۔ پاکستان کی لبرل اور کاروبار دوست سرمایہ کاری کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے قطرکو پاکستان کے توانائی، ہوا بازی، زراعت اور لائیو سٹاک، میری ٹائم، سیاحت اور hospitality کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے قطری سرمایہ کاروں پر بھی زور دیا کہ وہ علاقائی روابط اور باہمی خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے پیش کیے گئے مواقع تلاش کریں۔ وزیر اعظم نے شفاف اور تیز رفتار عمل کے ذریعے QIA کو مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    تقریب کے ایک حصے کے طور پر، متعلقہ وزارتوں کی جانب سے متعدد پریزنٹیشنز پیش کی گئیں جن میں غذائی تحفظ، توانائی، میری ٹائم، ہوا بازی، hospitality اورسیاحت کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کیو آئی اے کی دلچسپی کو سراہا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں اطراف کے نامزد فوکل پرسنز سرمایہ کاری کے لیے اہم تجاویز پر قریبی مشاورت کریں گے۔ وزیراعظم نے H.E منصور بن ابراہیم المحمود اورH.E شیخ فیصل تھانوی الثانی کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ دورہءِ قطرسے پیدا ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پاکستان کو ایک ترجیحی ملک قرار دیتے ہوئے، کیو آئی اے کے وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فعال طور پر تلاش کرنے کے لیے کیو آئی اے کی گہری دلچسپی اور تیاری کا اظہار کیا۔

  • وزیراعظم کل جائیں گے دو روزہ دورے پر قطر

    وزیراعظم کل جائیں گے دو روزہ دورے پر قطر

    قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف 23 سے 24 اگست 2022 تک قطر کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔یہ وزیراعظم شہباز شریف کا پہلا دورہ قطر ہوگا۔

    وزیر اعظم کے ساتھ وفاقی کابینہ کے اہم ارکان سمیت ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی قطر جائے گا۔ دورے کے دوران وزیراعظم قطری قیادت کے ساتھ مختلف امور پر مشاورت کریں گے۔ دونوں فریقین دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، خاص طور پر توانائی سے متعلق تعاون کو آگے بڑھانے، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو گہرا کرنے اور قطر میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع تلاش کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی. علاوہ ازیں باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔

    وزیراعظم دوحہ میں قطری اور پاکستانی تاجروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر اعظم دوحہ میں "سٹیڈیم 974” کا بھی دورہ کریں گے جہاں انہیں فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر کی حکومت کی جانب سے کی گئی وسیع تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان قریبی اور خوشگوار برادرانہ تعلقات ہیں، جن کی جڑیں باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم اور قریبی تعاون پر مبنی ہیں۔ یہ تعلقات دو طرفہ دلچسپی کے تمام شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی ہم آہنگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ قطر میں موجود 200,000 سے زائد پاکستانی دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قیادت کی سطح پر باقاعدہ تبادلے پاکستان قطر شراکت داری کی پہچان ہیں۔ وزیراعظم کے دورہ قطر سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور ان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کو مزید تقویت ملے گی.

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

  • قطر:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیار

    قطر:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیار

    دوحہ:فٹبال ورلڈ کپ:12 لاکھ شائقین کی روایتی ٹینٹوں میں میزبانی کرنے کے لیے تیارقطر،اطلاعات کے مطابق رواں سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں 12 لاکھ شائقین کی میزبانی کرے گا اور ایک لاکھ روایتی ٹینٹوں میں ان کو ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

    قطر میں ٹورنامنٹ کی اعلیٰ انتظامی کمیٹی میں رہائش کے انتظامات کے ذمے دار عہدیدار عمر الجبر نے بتایا کہ شائقین کو خیموں میں ٹھہرانے کے آپشن کی آئندہ دو ہفتوں میں آزمائش شروع کر دی جائے گی۔

    انہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ شائقین کو کیمپنگ کا مزہ دے گی، ہم لوگوں کو روایتی بدوی انداز میں صحرا اور ٹینٹ کے تجربے سے لطف اندوز کرانا چاہتے ہیں، اس ٹینٹ میں پانی، بجلی اور باتھ روم کا انتظام بھی ہوگا البتہ شدید گرم موسم کے حامل اس ملک میں ٹینٹ میں ایئرکنڈیشنر کا کوئی انتظام نہ ہوگا۔

    عالمی کپ رواں سال 21 نومبر سے 18 دسمبر تک قطر میں منعقد ہوگا اور یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ جون, جولائی کے روایتی سیزن کے بجائے سردیوں کے موسم میں منعقد ہو رہا ہے کیونکہ اکثر کھلاڑی جون اور جولائی میں عرب ملک میں کھیلنے سے انکار کر چکے تھے جہاں اکثر درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے۔عمر الجبر کے مطابق ٹورنامنٹ کے موقع پر رہائش کے لیے ایک لاکھ کمرے دستیاب ہوں گے۔

  • ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک

    دوحہ:ایران اور قطر کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت:سعودی عرب بھی متحرک ،اطلاعات ہیں کہ دوحہ مذاکرات اصل میں سعودی عرب کی خواہش کے مطابق ہورہےہیں اوراس کا مقصد ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالات کومعمول پرلانا ہے ، ادھر اس سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ان کے قطری ہم منصب نے ہونے والی ٹیلی فونی گفتگو کے دوران دوحہ مذاکرات سمیت باہمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کی۔

    قطر کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ "محمد بن عبدالرحمن آل ثانی” اور وزیر خارجہ ایران "حسین امیر عبداللہیان” نے گزشتہ شب ٹیلی فونی گفتگو کے دوران باہمی اور علاقائی مسائل سمیت ایران جوہری مذاکرات پر بات چیت کی۔ یہ ٹیلی فونی گفتگو ایسے وقت ہوئی ہے کہ جب دوحہ میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ علی باقری کنی نے بدھ کی صبح کو قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ایک ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی تبدیلیوں پر گفتگو کی۔

    علی باقری کنی نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو تہران-دوحہ کے درمیان تعلقات کے لیے ایک قیمتی سرمایہ قرار دیا گیا ہے کہ ان کا ملک قطر سے تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔

    دریں اثناء قطری وزیر خارجہ نے ایرانی صدر اور امیر دونوں ممالک کے درمیان متعدد دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے باہمی تعلقات کو بڑھانے میں ایران اور قطر کے صوبے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

    ایران کے اعلی مذاکرات کار نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قطر کی تعمیر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں رضامندی کی منسوخی پر بات چیت کی میزبانی اور بات چیت کے فروغ کے لیے قطر کی نیک نیتی ظاہر کرتی ہے۔

  • قطر:فیفا ورلڈکپ2022 کےلوگو والی نمبر پلیٹ کےاستعمال پر پابندی عائد

    قطر:فیفا ورلڈکپ2022 کےلوگو والی نمبر پلیٹ کےاستعمال پر پابندی عائد

    دوحہ :قطر نے فٹبال کے عالمی کپ ‘فیفا ورلڈکپ 2022’ کے لوگو والی مخصوص نمبر پلیٹوں کے اجراء کے بعد اپنے شہریوں کو گاڑیوں پر غیرقانونی نمبر پلیٹوں کے استعمال سے روک دیا ہے۔

    قطری وزارت داخلہ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک پیغام میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ کا لوگو نقل کرکے چسپاں کرنا منع ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2022 میں سیالکوٹ میں تیار ہونے والا فٹبال استعمال ہو گا

    ٹوئٹ میں مزیدکہا گیا ہےکہ گاڑیوں کی ایسی نمبر پلیٹیں جن پر ورلڈکپ کا لوگو چھپا ہوا ہے، فیفا سے طے شدہ شرائط کی بنیاد پر خاص نیلامی کے ذریعے جاری کی گئی ہیں۔

     

    فٹبال عالمی ورلڈکپ 2026 کے لیے میزبان شہروں کا اعلان

    قطری حکام کی جانب سے رواں برس مئی میں ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ لوگو والی 50 نمبر پلیٹوں کی نیلامی کی گئی تھی جن میں سب سے مہنگی نمبرپلیٹ 18لاکھ قطری ریال (494،000 ڈالرز) میں فروخت ہوئی تھی۔

    قطری حکام کے مطابق گذشتہ ماہ پیشگی اجازت کے بغیر ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ کے لوگو والے کپڑے فروخت کرنے والے پانچ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

    خیال رہےکہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا اور قطر رواں برس ‘فیفا ورلڈکپ قطر 2022’ کی میزبانی کر رہے ہیں، فٹبال کا یہ عالمی میلہ 21 نومبر سے 18 دسمبر تک قطر میں جاری رہے گا۔

    فٹ بال کے عالمی کھلاڑی نے دین اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا

  • شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں

    شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں

    لندن :شہزادہ چارلس کو کس نے ایک ملین یورو سے بھرا سوٹ کیس تحفے میں دیا؟حیران کُن تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق بی بی سی سنڈے ٹائمز کے حوالے سے کچھ اہم انکشافات کیے ہیں ، رپورٹ کے مطابق پرنس آف ویلز یعنی شہزادہ چارلس نے ایک سابق قطری وزیراعظم سے ایک ملین یورو کیش سے بھرا سوٹ کیس بطور تحفہ وصول کیا تھا۔ خبر کے مطابق یہ کیش رقم شیخ حمد بن جاسم کی طرف سے تین ملین یورو کے تین نقد عطیات میں سے تھی، جو شہزادے نے مختلف اوقات میں وصول کی ہے۔

    کلیرنس ہاؤس نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ سابق قطری وزیراعظم کی طرف سے وصول ہونے والے عطیات فوری طور پر شہزادے کے ایک خیراتی ادارے کو بھیج دیے گئے تھے اور یہ تمام عمل درست انداز میں سرانجام پایا۔خبر کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ رقم غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔

    سنڈے ٹائمز کے مطابق شہزادہ چارلس نے سنہ 2011 اور سنہ 2015 کے درمیان سابق وزیر اعظم سے ذاتی طور پر تین نقد عطیات وصول کیے تھے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک موقع پر کلیرنس ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں رقم ایک بیگ میں دی گئی تھی۔

    ایک اور اخبار کے دعوے کے مطابق یہ نقد رقم ڈیپارٹمنٹ اسٹور فورٹنم اور میسن کے کیریئر بیگز میں دی گئی تھی۔ سنڈے ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ پرنس آف ویلز نے سابق قطری وزیر اعظم سے ایک ملین یورو نقدی پر مشتمل سوٹ کیس قبول کیا۔

    کلیرنس ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’شیخ حمد بن جاسم کی طرف سے موصول ہونے والے خیراتی عطیات فوری طور پر شہزادے کے خیراتی اداروں میں سے ایک کو بھیجے گئے، جس نے مناسب طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں یقین دلایا کہ تمام عمل کی نگرانی کی گئی جو درست انداز میں طے پایا‘۔

    یہ فنڈز پرنس آف ویلز کے خیراتی فنڈ کے ذریعے موصول ہوئے جس کے بتائے گئے مقاصد میں تحفظ، تعلیم، صحت اور سماجی شمولیت جیسے شعبوں میں پیسے دے کر ’زندگیوں کو بدلنا اور پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر‘ کرنا شامل ہے۔

    اس سلسلے میں خیرانی ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ادارے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دیا گیا عطیہ جائز تھا اور اس کے آڈیٹرز نے عطیہ پر دستخط کر دیے تھے۔

    شہزادہ چارلس کے خیراتی اداروں کو دیے گئے عطیات حالیہ مہینوں میں اس الزام کے بعد زیرِبحث آئے ہیں کہ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے فلاحی ادارے نے عطیات کے بدلے ایک سعودی شہری کو برطانوی اعزازات حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔یاد رہے کہ اس کے باوجود میٹروپولیٹن پولیس نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ آنرز (پریویونشن آف ابیوزز) ایکٹ 1925 کے تحت اس الزام کی تحقیقات کر رہی ہے۔

  • فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2022 میں سیالکوٹ میں تیار ہونے والا فٹبال استعمال ہو گا

    فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2022 میں سیالکوٹ میں تیار ہونے والا فٹبال استعمال ہو گا

    سیالکوٹ: قطر میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ 2022 میں عالمی ایونٹ میں پاکستانی کی نمائندگی ہوگی کیونکہ سیالکوٹ میں تیار ہونے والا فٹ بال ’الریحلہ‘ استعمال ہوگا-

    باغی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر شیخ زوہیب رفیق سیٹھی نے کہا ہے کہ قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2022 کے میچوں میں سیالکوٹ میں تیار ہونے والا فٹ بال ’الریحلہ‘ استعمال کیا جائے گا۔

    انگلینڈ نے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا سب سےبڑا سکور 498 بناکراپنا ہی ریکارڈ توڑڈالا

    انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی معروف کمپنی فارورڈ اسپورٹس نے ایڈیڈاز کے لیے الریحلہ فٹ بال تیار کیا ہے جو فیفا فٹ بال ورلڈ کپ میں استعمال ہوگا یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ورلڈ کپ میں سیالکوٹ میں تیار ہونے والا فٹ بال استعمال ہو رہا ہو یہ تیسری دفعہ ہے کہ فیفا ورلڈ کپ میں فارورڈ اسپورٹس کا برانڈ استعمال کیا جائے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں شیخ زوہیب رفیق سیٹھی نے کہا کہ الریحلہ بال کو قطر کی ثقافت کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد بائیو بیسڈ ری سائیکلنگ میٹریل ہے اور اس کی تیاری میں ماحول دوست پانی پر مبنی کیمیکل استعمال کیا گیا ہے فٹبال 20 پینلز پر مشتمل ہے اور اسے دنیا کے بہترین فٹ بال میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ ملکی برآمدات کے حوالے سے اہم شہر ہے اوریہ دنیا بھر میں والی بال، ہاکی اسٹکس، کرکٹ بیٹ اور کھیلوں میں استعمال ہونے والا لباس سمیت کھیلوں کا سامان تیار کرنے کے لیے مشہور ہے۔

    فٹبال عالمی ورلڈکپ 2026 کے لیے میزبان شہروں کا اعلان

    یاد رہے فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز رواں برس 21 نومبرسے ہوگا، روزانہ گروپ مرحلے کے 4 میچزکھیلےجائیں گے، ورلڈکپ کا فائنل 18 دسمبر 2022 کو لوسیل اسٹیڈیم میں ہوگا۔

    دوسری جانب فیفا نے فٹبال ورلڈ 2026 کے میزبان شہروں کا اعلان کر دیا ہے، فٹبال ورلڈ کپ 2026 امریکا کینیڈا اورمیکسیکو میں ہو گا.


    2026 کا فیفا ورلڈ کپ 16 شہروں میں 80 گیمز ہوں گی، جن میں سے 60 امریکا میں کھیلے جائیں گے، جن میں امریکا میں 11، میکسیکو کے 3،اورکینیڈا کے 2 شہر شامل ہیں، 1998 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ ٹورنامنٹ 32 ٹیموں کے فارمیٹ کے بجائے 48 ٹیموں کے ساتھ کھیلا جائے گا جبکہ پہلی بار ہی ٹورنامنٹ تین میزبان ممالک میں منعقد کیا جائے گا۔

    امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کو 2018 میں 2026 کے فٹبال ورلڈکپ کی میزبانی کیلئے منتخب کیا گیا تھا اس سے قبل امریکا نے 1994 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی جبکہ میکسیکو 1970 اور 1986 میں ٹورنامنٹ کی میزبانی کرچکا ہے۔

    ون ڈے رینکنگ:بابراعظم کی پہلی پوزیشن برقرار،امام الحق نے ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا