Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • عمران خان کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے،راجہ ریاض

    عمران خان کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے،راجہ ریاض

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، اجلاس کی صدارت سپیکر راجہ پرویز اشرف کر رہے ہیں

    اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ عمران خان نے افواج پاکستان کے خلاف سازش کی،ان کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے انہوں نے وہ کچھ کردیا جو آج تک بھارت نہیں کر سکا اس شخص کو دیکھ کر ویلکم کہا جاتا ہے،عمرانی فتنے نے وہ کام کر دکھا جو دشمن نہیں کر سکا ، راجہ ریاض کا مزید کہنا تھا کہ شرپسندوں نے کور کمانڈر کے گھر کو جلایا،ہمارے جہازوں کوبھارت آج تک گرا نہیں سکا،آج ملک دشمنوں اورغداروں نے طیاروں کو آگ لگا دی انہوں نے ریڈیو سٹیشن پشاور کو آگ لگا دی، عمران خان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے ورنہ یہ نہیں رکیں گے ، ملک کا نقصان ہو رہا ہے

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی جو حدود طے ہیں انکی وائلیشن ہو رہی ہے، فیصلے سیاسی ہو رہے ہیں، چار تین کا فیصلہ آیا ہوا ہے، اس فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی،یہ فیصلہ نہیں، اسکی کوئی آئینی وقعت نہیں، فرد واحد امپوز کر رہا ہے، اسکے زریعے عمران خان کو ریلیف اور ایک فتنے کو ہوا دی جا رہی ہے، وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ اپنی آئینی اختیارات کا استعمال کرے، میں نے جو بتایا ہے یہ ہمارے جج صاحبان تین دو والے مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتے ہیں،پارلیمنٹ کو سپریم جو ڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنا چاہئے،آئین میں جو درج ہے اس پر عمل ہونا چاہئے، آئین اور قانون ہمیں جو اختیارات دیتا ہے ان کا استعمال کیا جائے، وقت ہے ورنہ پچھتائیں گے، وزیر قانون میرے ساتھ بیٹھے ہیں،اب پرچے نہیں فیصلے لیک ہو رہے ہیں، پرچہ لیک ہو تو نیا پرچہ ہوتا، فیصلہ لیک ہوا، طارق رحیم نے جو بتایا وہی فیصلہ ہوا، اس فیصلے کو بدلنا چاہئے، میں نام لینا معیوب سمجھتا ہوں ججوں کا لیکن انہوں نے مجبور کر دیا ہے، پی ٹی آئی کا صدر ابھی تک یقین نہیں آتا کہ اسکو بنا دیا گیا ہے،ججز انصاف کرنے بیٹھے ہیں لوگوں کو خوش کرنے یا تعویز دھاگہ دینے کے لئے نہیں، پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں انصاف اتنا رسوا نہیں ہوا تھا جتنا اب ہوا ہے،کرسی کو کوئی داماد، کوئی ساس کے لئے استعمال کر رہا ہے ، کرسی آپکو آئین نے سسٹم نے دی ہوئی ہے، اس سسٹم، آئین کا پاس کریں، اس کو امانت کے طور پر لے کر چلیں، آپ نے انصاف کرنا ہے اور انصاف بہت بڑی خوبی ہے،آپ عدل کا مزاق اڑا رہے ہیں، کس طرح روند رہے ہیں،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    وزیراعظم شہباز شریف کور کمانڈر ہاؤس لاہور پہنچ گئے

  • تمام ریاستی ادارے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، سپیکر قومی اسمبلی

    تمام ریاستی ادارے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں، سپیکر قومی اسمبلی

    پاکستان پارلیمنٹ ہاو س میں دو روزہ بین الاقوامی آئینی کنونشن کی میزبانی کر رہا ہے جہاں 17 سے زائد ممالک سے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، آئین ساز اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شامل ہونے کے لیے جمع ہوئے۔

    سپیکر قومی اسمبلی نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ طاقت کا مرکز، آئین کا مصنف اور ریاست کا واحد قانون ساز ادارہ ہے پارلیمنٹ عوام کی مرضی کی نمائندگی کرتی ہے اس لیے تمام ریاستی ادارے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں۔

    سپیکر نے مندوبین کو 1973 کے آئین کی طرف راہ ہموار کرنے میں کی جانے والی جدوجہد اورکاوشوں کے بارے میں مزیدآگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آمریت کے متعدد ادوارکے باعث آئینی اور سیاسی عمل متاثر ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمارے پہلے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم اور آئین کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے پر بھیجا گیا جہاں آئین کو بُری طرح پامال کیا گیا“۔

    18ویں ترمیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نے آئین کی اصل روح کو بحال کیا لیکن قائداعظم محمد علی جناح کے تصور کردہ مکمل صوبائی خودمختاری کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آئین کے آرٹیکل 26، آرٹیکل 3، 25 اور 25-A کی مکمل تکمیل کو یقینی بنانا ہے اور وعدے اور کارکردگی میں فرق کو ختم کرنا ہے۔

    سپیکر نے مزید کہا کہ وہ اپنی قائد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ ”جمہوریت کسی پیداوار میں نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل میں ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آزاد اور غیر جانبدار میڈیا، خواتین کی شرکت، شفاف انتخابات اور غیر جانبدار عدلیہ سمیت جمہوریت کے بنیادی ستونوں کو سمیٹتا ہے۔ 1973 کے آئین نے ایک مثالی اسلامی، وفاقی پارلیمانی جمہوریت کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جمہوریت کے ان تعمیراتی بلاکس کا وعدہ کیا تھا۔

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

  • جسٹس مظاہر نقوی کے اثاثوں کی تحقیقات،پارلیمنٹ کا بڑا فیصلہ

    جسٹس مظاہر نقوی کے اثاثوں کی تحقیقات،پارلیمنٹ کا بڑا فیصلہ

    قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے اثاثوں کی چھان بین اور ذرائع آمد جاننے کے لیے معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیج دیا

    قومی اسمبلی اجلاس، وفاقی وزیر وزیر سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی اجلاس میں نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک جج صاحب کے خلاف ریفرنس اور درخواستوں سمیت مواد جمع ہوا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ معزز جسٹس مظاہر حسین نقوی کا نام پلاٹ کی وجہ سے آ رہا ہے،قومی اسمبلی معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سپرد کر دے معاملہ پی اے سی سپرد کرنے سے تحقیقات بھی ہو جائیں گی اور باقی ججز پر سوالات بھی نہیں اٹھیں گے،پی اے سی ایف بی آر سمیت دیگر اداروں سے کوآرڈینیٹ کر سکے گی،ڈپٹی اسپیکر نے جسٹس مظاہر حسین نقوی کا معاملہ پی اے سی کو بجھوا دیا

    قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کےاثاثوں کی چھان بین اور ذرائع آمد جاننے کے لیےمعاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیج دیا کمیٹی 15دن کے اندر اندرمعاملے کی مکمل چھان بین کر کے رپورٹ پیش کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    یاد رہے کہ گزشہ دنوں ملک کی بار کونسلز نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی آڈیو لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف بلوچستان بار کونسل سمیت دیگر نے ریفرنسز دائر کر رکھے ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں شروع ہو گیا

    وزیرِ اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے ہیں، قومی اسمبلی اجلاس کا ضمنی ایجنڈا جاری ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو وزیراعظم پر اعتماد کی قرارداد ایوان میں پیش کی، بلاول کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا یہ ایوان وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے پاکستان کی پارلیمان جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے چار رکنی اکثریتی بینچ کے ساتھ کھڑی ہے ،بلاول بھٹو نے قرارداد پیش کردی،وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے،وزیر اعظم شہباز شریف کو 180ممبرز قومی اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے

    حکمران اتحاد کے ارکان قومی اسمبلی کی کل تعداد 181 ہے،ایوان میں مسلم لیگ ن کے 85 پیپلز پارٹی کے 58 ارکان ہیں، ایم ایم اے کے ارکان کی تعداد 13، ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان کی تعداد 7 ہے۔حکمران اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے 5، بی این پی کے 4 ارکان ہیں۔ق لیگ کے 3، اے این پی اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن ہے۔چار آزاد ارکان اسمبلی بھی حکمران اتحاد میں شامل ہیں،قومی اسمبلی کے 180 اراکین نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کر دیا ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اگر مفتی عبدالشکور زندہ ہوتے تو اعتماد کے ووٹ 181 ہوتے تا ہم انہوں نے 180 ووٹ حاصل کیے

    اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ ناچیز کو ایک بار پھر عزت سے نوازا، اور 180 ووٹوں سے اعتماد کا ووٹ دلوایا ،میں یقین دلاتا ہوں کہ اس ایوان کے اعتماد کا مان رکھوں گا ،2018میں اس ملک کی معیشت بہترین تھی،پانچ سال گرز گئے متنازع الیکشن دھاندلی کی تحقیق نہیں ہوسکی،

    وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا،بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم پر اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کی۔ دو ممبران کو وہیل چئیرز پر لایا گیا، تحریک انصاف کے 12 منحرف ارکان ایوان میں موجود تھے مگر انہوں نے ووٹ نہیں دیا، پانچ ارکان ایوان سے باہر چلے گئے تھے

    صدر پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز آصف علی زرداری قومی اسمبلی کے ایوان میں پہنچ گئے ،ممبران اسمبلی نے ڈیسک بجا کر آصف علی زرداری کا استقبال کیا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی ایوان میں موجود تھے ،پیپلز پارٹی کے علیل سینئر رکن قومی اسمبلی یوسف تالپور بھی اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے ایوان میں موجود تھے

    حامد میر کہتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے 180 ارکان کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا عمران خان نے 2021 میں سینیٹ کے الیکشن میں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد 178 ارکان کی حمایت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا

    قبل ازیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے، وفد میں فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال، امین الحق شامل تھے ،ایم کیو ایم کے وفد نے مردم شماری پر تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا، ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا،ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دے گی، وفد نے یقین دہانی کروا دی،

    وزیر دفاع خواجہ آصف سے غیر رسمی گفتگو،سوال کیا گیا کہ کیا اپوزیشن کیساتھ مذاکرات کامیاب ہونگے،جس کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوتے مگر آج شام تو ابتدائی سفارشات پر ہی گفتگو ہوگی،سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیں گے؟ کیوں ضرورت پیش آرہی ہے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اعتماد کے ووٹ سے افواہیں دم توڑ جاتی ہیں،

    ،جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

  • سائرہ بانو نے فوٹو گرافر کے ذریعے پرچی آصف علی زرداری تک پہنچائی

    سائرہ بانو نے فوٹو گرافر کے ذریعے پرچی آصف علی زرداری تک پہنچائی

    سائرہ بانو نے فوٹو گرافر کے ذریعے پرچی آصف علی زرداری تک پہنچائی

    اسلام آباد(محمداویس )قومی اسمبلی کا اجلاس آدھا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا اجلاس شرو ع ہونے سے قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں موجود تھے ،ایوان میں حکومتی اتحادیوں کی بڑی تعداد موجود تھی وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے دوران جی ڈی اے کی رکن سائرہ بانو نے فوٹو گرافر کے ذریعے پرچی آصف علی زرداری تک پہنچائی جو انہوں نے پڑھنے کے بعد اپنی جیب میں ڈال لی ،قراراد پاس ہونے کے بعد وزیراعظم تمام پارلیمانی رہنماؤں سے ملنے ان کی نشستوں پر گئے آصف علی زرادی پچھلی نشستوں کی طرف گئے اور تمام ممبران سے ملے ۔جمعرات کو قومی اسمبلی کااجلاس سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔

    وزیراعظم شہبازشریف 3بج کر 20منٹ پر ایوان میں آئے۔ جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 3بج کر 32منٹ پر سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں شروع ہوا۔آصف علی زرادی آئے تو شہبازشریف کی ساتھ نسشت پر بیٹھ گئے ۔وزیراعظم شہباز شریف قرارپاس ہونے کے بعد تمام پارلیمانی رہنماؤںکی نشستوں پر گئے ان سے ملے اور ان کا شکریہ اداکیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے دوران جے ڈی اے کی رکن سائزہ بانو نے پر چی لکھی اور فوٹو گرافر کو بلا کر پرچی آصف علی زرداری کو دینے کاکہاجس پر انہوں نے پرچی آصف علی زرداری کو دی انہوں نے پرچی پرھنے کے بعداپنے جیب میں رکھ لی ۔ وزیراعظم کی تقریر کے بعد آصف علی زرداری ایوان کی پچھلی نشستوں کی طرف گئے اور اپنے ممبران کے ساتھ ملے اور پورے ایوان کا چکر لگاکر واپس چلے گئے ۔(محمداویس)

  • عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل دستخط کیئے بغیر پارلیمنٹ واپس بھجوا دیا تھا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بل منظور ہوا تھا، ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر علوی نے کہا کہ بل کی درستگی کا معاملہ عدالتی فورم کے سامنے زیر سماعت ہے. لہٰذا معاملہ زیر سماعت ہونے کے احترام میں بل پر مزید کارروائی مناسب نہیں۔ عدالتی اصلاحات سے متعلق یہ بل 10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب

    قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب

    سپریم کورٹ میں پنجاب الیکشن کے حوالہ سے ان چیمبر سماعت کے بعد قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا،

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے آج شام 5 بجے اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی بھی شرکت متوقع ہے، سابق صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں وہ بھی اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی فہیم خان اور عطاء اللہ نے قومی اسمبلی کے ان کیمرہ سیشن میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے،دونوں اراکین اب سے کچھ ہی دیر میں اجلاس میں شرکت کے لئے قومی اسمبلی میں پہنچیں گے۔

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کے لیے گورنر سٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس 26 اپریل کو ہونا تھا تا ہم اجلاس ری شیڈول کیا گیا ہے اور آج ہنگامی طور پر طلب کیا گیا ہے، قومی اسمبلی کے آج ہونے والے ہنگامی اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم نامے کے خلاف ایک اور قرارداد منظور کیے جانے کا امکان ہے،

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا .اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، مولانا اسعد محمود، وزیر دفاع خواجہ آصف، سعد رفیق نے شرکت کی،اجلاس میں حکومتی قانونی ٹیم نے بھی شرکت کی،زاہد حامد، مصطفی رمدے، اٹارنی جنرل نے بھی اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں انتخابات فنڈز سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم نامے پر غور کیا گیا،اجلاس کو قانونی ٹیم کی اہم آئینی و قانونی امورپر بریفنگ دی گئی،زاہد حامد، مصطفی رمدے، شاہد حامد، اٹارنی جنرل نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی، قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن اخراجات سے متعلق فیصلہ پر بریفنگ دی،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ اعلی عسکری حکام بھی آرمی چیف کے ہمراہ ہے، آرمی چیف قومی سلامتی کے امور پر خصوصی اجلاس کو بریفنگ دیں گے

  • کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    آئین پاکستان کے پچاس سال مکمل، قومی اسمبلی میں آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب ہوئی

    وزیراعظم شہبازشریف ، سابق صدر آصف علی زرداری، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، جسٹس قاضی فائز عیسی، شاہ اویس نورانی سمیت دیگر وفاقی وزراء شریک تھے

    سابق صدر آصف علی زرداری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جمہوریت بحال کی تھی، ہم نے مذہب کو کبھی سیاست میں استعمال نہیں کیا،بھٹو صاحب کو ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا، میرے رب نے چاہا تو آئین کو کچھ نہیں ہوگا اور نہ اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے دیں گے، میں نے بڑے اونچ نیچ کے مقام دیکھے ہیں، بی بی صاحبہ کی شہادت پر ہم نے پاکستان کا نعرہ لگایا ،میں اپنی نسل کیلئے ٹوٹا پاکستان چھوڑ کر نہیں جاؤں گا،پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ کورٹ نے نوٹس دیا،ہم نے جمہوریت کو بحال کیا،بی بی کو رات کے بارہ بجے اٹھا کر جیل میں ڈالا گیا،

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں، شہباز شریف کے پاس آئیں وہ وزیراعظم ہیں ، جس جس نے ڈائیلاگ کرنا ہے ان کو وزیر اعظم کے پاس آنا پڑے گا۔وزیر اعظم کسی کے پاس نہیں جائیں گے۔میرے پاس وزیر اعظم نہیں آئے کیونکہ میں کچھ نہیں ہوں۔سب کو بات چیت کیلئے وزیراعظم کے پاس آنا پڑے گا۔ہم ملک کو بچاتے آئے ہیں آگے بھی بچائیں گے میرے پاس بہت سارے راز ہیں کچھ شیئر کرسکتا ہوں اور کچھ نہیں،میرے خلاف سوموٹو ہوئے ہیں اور میں نے دیکھے ہیں سب سن لیں ہم کمزور نہیں ہیں پہ کراچی سے ,دوسو افراد کو پکڑ کر اسلام آباد لائے اور میرے خلاف گواہ بنانے کی کوشش کی،ہم نے بلوچستان اور پختونخوا کے حقوق کی بات کی تھی، بلوچستان کے لوگوں سے بات کرنا پڑتی ہے ایسا مفروضہ بنایا ہوا ہے کہ بات نہیں کی جا سکتیمجھے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں جب تک دم میں دم ہے جمہوریت کو چلائیں گے ملک کو سنواریں گے،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دس اپریل پاکستان کے آئینی سفر کا دن ہے،آج ہر پاکستانی کیلئے تاریخی دن ہے، دس اپریل 1973 کو آئین کی بنیاد رکھی گئی، پاکستانی عوام، سیاسی و سماجی کارکنان نے مسائل کا مقابلہ کیا،ہم نے ایک نہیں 3-3 آمروں کا مقابلہ کیا،شہید بے نظیر بھٹو نے آئین کی بحالی کیلئے 30 سال جدوجہد کی، آج بھی آمریت سے فائدہ لینے والے ایک پرچم تلے جمع ہیں،آج بھی ہم نفرت اور تقسیم کی سیاست کا مقابلہ کر رہے ہیں،

    سابق چیئرمین سینیٹ ، پیپلز پارٹی کے رہنما میان رضا ربانی کا کہنا تھا کہ میں سپیکر قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو مبارک پیش کرتا ہوں،یہ آئیڈیا خود قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے جنم دیا اور اس کو پورا کیا ،لازم ہے کہ آئین اور آج کے دن کے بارے میں کچھ کہا جائے ،50 سال پہلے یہ آئین منظور کیا گیا، یہ متفقہ دستاویز تھی جسے وفاق کی تمام اکائیوں کے درمیان اتفاق رائے تھا، اس آئین میں واضح تھا کہ یہ ادارے مرتب کرے گا، اداروں میں طاقت کا توازن ہوگا، وفاق اکائیوں کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط کرے گا، پوری قوم ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور سمیت 27 رکنی کمیٹی کی شکر گزار ہے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • راجہ ریاض کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر نوٹس جاری

    راجہ ریاض کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر فریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ،جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی ، عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت نے تحریک انصاف کےاراکین قومی اسمبلی کےاستعفوں کی منظوری پر حکم امتناعی جاری کررکھا ہے۔اسمبلی رولز کے حوالے سے عدلیہ کا فیصلہ آ چکا ہے،پی ٹی آئی اراکین کی موجودگی میں راجہ ریاض کی تقرری غیر آٸینی ہے راجہ ریاض کا تعلق پی ٹی آٸی سے ہے وہ اپوزیشن لیڈر نہیں بن سکتے اسمبلی کی مدت ختم ہونے والی ہے مگر سپیکر نے راجہ ریاض کو عہدے سے نہیں ہٹایا۔استدعا ہے کہ عدالت اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں اسے قبل بھی درخواست دائر کی تھی جس پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر تحریری فیصلہ کرتے ہوئے عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے سپیکر کو درخواست دی تا ہم سپیکر نے درخواست نمٹا دی، جس کے بعد درخواست گزار دوبارہ عدالت پہنچ گیا

     راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت

     اسمبلی کی کارروائی کو عدالت کے فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

    ناموس رسالت پر منافقت بند کرو، قومی اسمبلی لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونج اٹھی

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کےمطابق وفاقی کابینہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرے گی،اجلاس میں قانونی مشاورت اورسپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق حکمت عملی پربات ہوگی، عدالتی اصلاحات بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظورکرانے پر بھی بات ہوگی۔

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا …

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے چند روز قبل عدالتی اصلاحات کا بل منظور کر کے توثیق کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا تھا تاہم صدر عارف علوی نے بل نظر ثانی کے لیے واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے۔

    خیال رہے کہ صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ …