Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے، اپوزیشن تسلیم کرے، اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے ۔

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے، لیڈر آف اپوزیشن نے جس ماحول میں بات کی ہم نے انہی ڈیسک سے کتابیں جلتی دیکھیں، کاغذ پھینکے جاتے رہے اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے، تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں، کئی افسران چھٹی لے کر چلے گئے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی، آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی تو آج والی خوشحالی نہ آتی، پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہو رہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے، کاروباری حضرات کی ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں مہنگائی 38 فیصد تھی اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی کہ آئیں میثاق معیشت کرتے ہیں، ان کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھے، یہ چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو، آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ یہاں سے خط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ نہ ملے، اداروں کی بہت کاوش ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم کا کردار ہے کہ ملک میں استحکام ہوا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ سکتی تھی، شرح سود بائیس فیصد پر رہتا گیارہ فیصد پر نہ آتا تو کیا حالات ہوتے ہم ایسی معیشت بنیں گے کہ ساری دنیا دیکھے گی، پوری دنیا معترف ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے کردار ادا کیا، آج پاکستان کی عزت ہے، معیشت درست سمت میں گا مزن ہے،ہر کوئی بجٹ پر مثبت بات کر رہا ہے، بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، بجٹ میں مثبت اقدامات کی تعریف ضرور ہونی چاہیے،

  • وفاقی  بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا جبکہ سالانہ بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ بجٹ جمعہ12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں مالی سال 2026.27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

  • راجہ پرویز اشرف کا ڈرگ کیس ویڈیو پرشدید ردعمل

    راجہ پرویز اشرف کا ڈرگ کیس ویڈیو پرشدید ردعمل

    رہنما پیپلز پارٹی اور سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ڈرگ کیس سے متعلق ایک ویڈیو پر شدید ردِعمل دیاہے۔

    دو روز قبل سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک مبینہ ڈرگ ڈیلر خاتون نے راجہ پرویز اشرف کا نام لیا تھا، تاہم بعد ازاں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے زبردستی یہ بیان دلوایا گیا، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ آخر کس بنیاد پر ان کا نام اس معاملے میں لیا جا رہا ہے،کسی بھی مقدمے کی مکمل تحقیقات سے قبل اسے سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر اچھالنا مناسب نہیں، ہر پاکستانی شہری کا بنیادی حق ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اسے مجرم قرار نہ دیا جائے اور کسی فرد کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ہدایات جاری کی جائیں گی کہ ملزمان کو عدالت میں پیشی سے پہلے میڈیا کے سامنے نہ لایا جائے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سوال اٹھایا کہ کیا سائبر کرائم سے متعلق اداروں کو جھوٹا پروپیگنڈا اور بے بنیاد مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہیے؟اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پورا ایوان راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ اسپیکر ایاز صادق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ منشیات نوجوانوں اور بچوں تک پہنچانے میں کون لوگ ملوث ہیں۔

  • سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال  کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    حکومت نے ملک کی سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال 2022 تا 2024 کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہیں۔

    وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے ایوان میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (PIACL) شدید مالی بحران اور ٹیکسوں کے بوجھ کا شکار ہے، جبکہ نجی ایئر لائنز مسلسل منافع کما رہی ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو سال 2024 کے دوران ٹیکس سے قبل صرف 3 ارب 5 کروڑ 75 لاکھ روپے کا منافع ہوا، لیکن اس پر 29 ارب 26 کروڑ 12 لاکھ روپے کا بھاری ٹیکس عائد کیا گیا، جس کے باعث ٹیکس کی ادائیگی کے بعد پی آئی اے کا حتمی خسارہ 26 ارب 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا اس سے قبل، سال 2023 میں پی آئی اے کا ٹیکس سے قبل منافع 101 ارب 49 کروڑ روپے رہا تھا، جس پر 3 ارب روپے ٹیکس ادا کیا گیا، جبکہ سال 2022 میں 86 ارب 51 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 49 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا گیا تھا۔

    نجی ایئر لائن ایئربلیو نے سال 2025 میں 4 ارب 86 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور 1 ارب 17 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا سال 2024 میں کمپنی کا منافع 1 ارب 90 کروڑ روپے رہا، جس پر 32 کروڑ 31 لاکھ روپے ٹیکس دیا گیا، جبکہ سال 2023 میں کمپنی نے 5 ارب 46 کروڑ روپے کا شاندار منافع کمایا، تاہم اس سال کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔

    ایئر سیال نے مسلسل تین سال منافع بخش کارکردگی دکھائی سال 2025 میں 4 ارب 57 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 49 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا گیا، سال 2024 میں 3 ارب 39 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 9 کروڑ روپے ٹیکس اور سال 2023 میں 4 ارب 88 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 42 کروڑ روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا گیا۔

    نئی نجی ایئر لائن فلائی جناح نے بھی بہترین آغاز کیا سال 2025 میں کمپنی نے 5 ارب 73 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور 1 ارب 59 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا، سال 2024 میں اس کا منافع 2 ارب 64 کروڑ روپے رہا، جس پر 72 کروڑ روپے ٹیکس دیا گیا، جبکہ سال 2023 میں 3 ارب 69 کروڑ روپے کے منافع پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوا۔

    سیرین ایئر اس وقت غیر فعال ہے اور اس کا مالیاتی ڈیٹا تاحال مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں تاہم، ریکارڈ کے مطابق سال 2023 میں کمپنی کے 793 ارب روپے کے منافع پر 719 ارب روپے کا بھاری ٹیکس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ایوان کو بتایا گیا کہ یہ تمام اعدادوشمار سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کے سرکاری ریکارڈ سے حاصل کیے گئے ہیں، جو ملکی ہوا بازی کی صنعت کی موجودہ معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب کرلیے

    صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب کرلیے

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس بلانے کی منظوری دے دی۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹ کا اجلاس 7 مئی جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 11 مئی کو طلب کرنے کی منظوری دی ہے،سینیٹ کا اجلاس 7 مئی کو شام 5 بجے ہوگا، جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 11 مئی کو شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اجلاسوں میں اہم قانون سازی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ یکم جون 2026 کو قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے 4 ہفتوں کا شیڈول مختص کیا گیا ہے۔

  • قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں.

    نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں،حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے ہیں، مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی اسی طرح پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تمام نئی خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے اور صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت ہوگی۔

    ایران کے اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے

    روایتی اخراجات میں کمی کے لیے سیکریٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہےقومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جبکہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے اور انہیں ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،اسی طرح قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔

    امریکا کراچی کی سڑکیں دکھا کر کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ کر دیا ،فیصل قریشی

    نوٹیفکیشن کے تحت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا اور گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو اضافی الاؤنس نہیں دیا جائے گا کفایت شعاری پالیسی کے تحت بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اسی طرح قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد تک بچت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ان اقدامات کا مقصد حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

    ایران جنگ :ٹرمپ نےحملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی

  • ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ،خواجہ آصف

    ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغان باشندوں کو کئی دہائیوں تک پناہ دی، لیکن اس کا مناسب اعتراف نہیں کیا گیا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےخواجہ آصف نے کہاکہ دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے ہر حال میں مسترد کیا جانا چاہیے پا کستان نے افغان باشندوں کو کئی دہائیوں تک پناہ دی، لیکن اس کا مناسب اعتراف نہیں کیا گیا، بھارت افغانستان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر حملے کررہا ہے، جبکہ پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کے خلاف جارحیت نہیں کی،اپنی مٹی کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے بھار ت کو جس طرح ماضی کی جنگوں میں شکست ہوئی، وہ دوبارہ حملے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔

    وزیر دفاع نے واضح کیاکہ پاکستان افغانستان میں دو جنگوں میں فریق رہا اور آزادی کے فوراً بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان پر دوبارہ حملہ ہوایہ جنگیں کوئی جہاد نہیں تھیں اور ہمیں ماضی کے اسباق سے سبق سیکھنا چاہیے نائن الیون کے ذمہ دار کا آج تک پتا نہیں چل سکا، اور افغانستان نے اس واقعے میں کوئی کردار نہیں ادا کیا۔

    خواجہ آصف نے تاریخی ہیروز کو یاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے وطن کی جنگ لڑی، ہمیشہ ہمارے لیے مشعل راہ رہیں گے۔ پاکستان کی شناخت اور وراثت پر فخر کرنا چاہیے، اور سڑکیں، عمارات اور یادگاریں اپنے ہیروز کے نام کرنی چاہییں تاکہ نئی نسل اپنی ثقافت اور تاریخ سے واقف ہوختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا ہر شہری کا فرض ہے افسوس کہ آج بھی بعض حلقے دہشتگردی کی واضح مذمت نہیں کرتے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اور پاکستان کو تاریخ کے اسباق سے سبق سیکھنا ہوگا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کبھی ویزا نظام نہیں تھا اور لوگ اجازت نامے پر جا سکتے تھے خود بھی انہوں نے بغیر ویزا افغانستان کا دورہ کیا،روس کے خلاف افغانستان میں لڑنے والی جنگ بھی کوئی جہاد نہیں تھی، اور امریکیوں کی مدد کے باوجود ہمیں اس سے کوئی درس حا صل نہیں ہوا،جب تک ہم ماضی کی غلطیوں اور تاریخی حقائق کا اعتراف نہیں کریں گے، ملک ترقی اور مضبوطی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

  • سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے کے دورے کی خبریں بے بنیاد ہیں-

    قومی اسمبلی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی کے ممبران کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ایسی سہو لت دی جا سکتی ہے،قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ہر سال قومی اسمبلی کے ممبران کا ایک وفد ذاتی خرچ پر 21 ربیع الاول کو روزہ رسول پر حاضری دیتا ہے، اس قرارداد کے مطابق وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ایس او پیز کے تحت وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور میں سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے تحت وزارت کسی قسم کے اخراجات برداشت نہیں کرتی،سرکاری خرچ پر کسی بھی حج یا عمرے کے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن کسی ایسی تجویز کی منظوری نہیں دی گئی-

  • ملک بھر میں  نیشنل ایکشن پلان کے تحت  کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

    ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہو رہی ہیں،طلال چوہدری

    وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری سیکیورٹی کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی حکومتوں کی مکمل معاونت اور مشاورت سے کی جا رہی ہیں۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں جو بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہیں، جو ابتدا میں 2014-15 میں بنایا گیا تھا بعد ازاں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو تشکیل دیا گیا، جس پر تمام صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں متفق ہوئیں، اس متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد آج بھی صوبائی حکومتوں کی معاونت اور باہمی مشاورت کے ساتھ جاری ہے۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کی تعداد میں کیے جاتے ہیں، جو صوبائی حکومتوں کی مشاورت اور تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ہوتے ہیں، جن کارروائیوں کا ذکر حال ہی میں کیا گیا، وہ اس وقت خیبرپختونخوا اور سابق فاٹا کے علاقوں میں جاری ہیں، جن میں صوبا ئی حکومت مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔

    وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ جن علاقوں میں آپریشنز ہو رہے ہیں وہاں کے عوام کے لیے ریلیف اور بحالی پیکج کے تحت صوبائی حکومت نے صوبائی کابینہ سے منظوری لے کر 5 ارب روپے مختص کیے ہیں،انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختو نخوا کو مجموعی طور پر 5867 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔

  • نور عالم خان کا شناختی کارڈ بلاک ہونے کا انکشاف

    نور عالم خان کا شناختی کارڈ بلاک ہونے کا انکشاف

    رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا شناختی کارڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت جاری قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ میرا شناختی کارڈ نادرا نے منسوخ کر دیا، ایس این جی پی ایل نے نادرا کو خط لکھا اور انہوں نے میرا شناختی کارڈ منسوخ کیا، میرا شناختی کارڈ بلاک نہیں بلکہ بلکل منسوخ کر دیا گیا، میرے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز بھی بلاک کیے گئے2023 میں کسی نے غصے میں میرا کوئی گھر نکالا اور اس پر بل کا ایشو بنایا، نہ وہ میرا گھر تھا نہ میرے نام پر تھا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ آپ مجھے لکھ کر دیں، میں اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔

    سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    قومی اسمبلی میں نادراترمیمی بل 2025 سمیت تین بل پیش کردئیے گئے، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرمیلافاروقی نے ایوان میں نادراترمیمی بل 2025 پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پر انہوں نے بل ایوان میں پیش کردیا شرمیلا فاروقی نے کہاکہ یہ بل سینئر سیٹیزن کے شناختی کارڈ کے دوبارہ اجراء سے متعلق ہے-

    سحرکامران نے علاقہ دارلحکومت اسلام آبادبیٹریاں انتظام ودوبارہ کارآمدبنانے کابل 2025ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،ڈاکٹرشذرہ منصب علی نے کہا کہ اس معاملہ پرورکنگ گروپ کام کررہاہے، اس بل میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جوورکنگ گروپ میں شامل نہیں ہے۔

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری

    سحرکامران نے کہاکہ یہ اہم بل ہے تاکہ گرین اکانومی کو فروغ دیا جائےاجازت ملنےپر انہوں نےبل ایوان میں پیش کردیاطاہراقبال نے کوآپریٹو سوسائٹیز ترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی،اجازت ملنے پرانہوں نے بل ایوان میں پیش کردیا۔