Baaghi TV

Tag: قومی اسمبلی

  • قومی اسمبلی سے استعفےکے بعد اختر مینگل کو ملنے والی تمام مراعات واپس

    قومی اسمبلی سے استعفےکے بعد اختر مینگل کو ملنے والی تمام مراعات واپس

    سردار اختر مینگل کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کے بعد انہیں والی تمام مراعات واپس لےلی گئیں۔

    سردار اخترمینگل نقومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو 78 لاکھ 92 ہزار روپے کا چیک بھجوادیا سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو این اے 256 خضدار سے استعفی دیا تھا، اسپیکرقومی اسمبلی نے استعفی 11فروری 2026کو منظورکرکے اسے 3 ستمبر 2اختر مینگل024 سے مؤ ثر قرار دیا،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی رقم چیک کی صور ت میں وصول ہونے کی تصدیق کردی۔استعفیٰ مؤثر ہونے کے بعد انہیں بطور رکن قومی اسمبلی ملنے والی تمام مالی مراعات اور سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔

  • داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کے چار مطالبات زر منظور

    داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کے چار مطالبات زر منظور

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کے چار مطالبات زر منظور کر لیے گئے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، تین وزارتوں کے 12 کھرب 42 ارب سے زائد کے 10 مطالبات زر منظوری کا عمل شروع کیا گیاوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے داخلہ ڈویژن کے 3کھرب 49 ارب سے زائد کی چار مطالبات زر منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے جبکہ اپوزیشن نے داخلہ ڈویژن کے چار مطالبات زر پر کٹوتی کی 123 تحاریک پیش کیں۔

    اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک پر بحث ہوئی جس کے بعد حکومتی اتحاد نے داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کی چار مطالبات زر منظور کر لیے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے 33 ارب 70 کروڑ سے زائد کے تین مطالبات زر کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے۔ اپوزیشن نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے بجٹ پر 112 کٹوتی کی تحریک پیش کر دیں جس پر بحث جاری ہے۔

    داخلہ ڈویژن کی کٹوتی کی تحاریک پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ قومی اتحاد کے لیے آواز اٹھائی ہے، ہم اسکول کے بچے نہیں ہیں، ہم سب کو ذاتی انا سے نکل کر کچھ کرنا ہو گا، ہم تو ہاتھ ملا رہے تھے کہ آپ کی طرف سے ہاتھ آئے گا تحریک انصاف نے ہمیشہ قومی یکجہتی کے لیے آواز اٹھائی ہے، اپوزیشن لیڈر ہمیشہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، سوچ رہے تھے ہاتھ ملانے سے معاملات بہتر ہوں گے اور محمود اچکزئی نے ایوان میں خود جا کر وزیراعظم سے ہاتھ ملایا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں کم از کم چھ مرتبہ بیرسٹر گوہر کی سیٹ پر گیا، ہم نے ایک مفصل مسودہ کریمنل لاء ترامیم کا اسمبلی میں متعارف کروایا، وہ مسودہ قائمہ کمیٹی میں پڑا ہے جو غیر سیاسی ترامیم ہیں-

    دوسری جانب پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مزید مؤثر بنانے کے لیے محکمہ داخلہ کی جانب سے مانگے گئے اضافی فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے پنجاب حکومت نے محکمہ داخلہ کے لیے 4 ارب روپے کے اضافی سکیورٹی فنڈز جاری کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے اس حوالے سے اپنے اعتراضات دور کرنے کے بعد سمری کی منظوری دے دی، جس کے بعد اضافی فنڈز کے اجرا کا عمل آگے بڑھایا جا سکے گامحکمہ داخلہ پنجاب نے حکومت سے امن و امان کے انتظامات اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی تھی منظور شدہ فنڈز واجب الادا ادائیگیوں، سکیورٹی اقدامات اور متعلقہ انتظامی امور پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے،اس فیصلے کو صوبے میں امن و امان سے متعلق جاری اقدامات کو تقویت دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے-

  • دفاعی بجٹ بغیر کسی مخالفت کے ایوان سے متفقہ طور پر منظور

    دفاعی بجٹ بغیر کسی مخالفت کے ایوان سے متفقہ طور پر منظور

    قومی اسمبلی نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے تحت مسلح افواج، دفاعی پیداوار، تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں کے لیے مجموعی طور پر 43 کھرب 85 ارب روپے سے زائد مالیت کے 88 مطالباتِ زر منظور کر لیے ہیں جب کہ دفاعی بجٹ ایوان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا ہے۔

    بجٹ اجلاس کے دوران مسلح افواج کے لیے 298 ارب روپے سے زائد اور شعبہ دفاع کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر پیش کیے گئے، جن کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کی گئی، یوں دفاعی بجٹ بغیر کسی مخالفت کے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

    قومی اسمبلی، سینیٹ سمیت 29 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 40 کھرب 48 ارب سے زائد کے 89 مطالبات زر منظور کرلیے گئے جب کہ قومی اسمبلی نے وزارتوں کو ڈویژنوں کے مطالبات زر کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہےبومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکرایاز صادق کی زیرصدارت ہوا، جس میں وفاقی بجٹ کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے مطالباتِ زر کی منظوری کا عمل جاری رہا۔

    ایوان نے ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن، کامرس ڈویژن، مواصلات ڈویژن، دفاع اور دفاعی پیداوار، اکنامک افیئرز، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، خارجہ امور، ہاؤسنگ و تعمیرات، انسانی حقوق، داخلہ، صنعت و پیداوار، اطلاعات و نشریات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بین الصوبائی رابطہ، امور کشمیر و گلگت بلتستان، قانون و انصاف، میری ٹائم افیئرز، قومی اسمبلی، سینیٹ، قومی صحت، پارلیمانی امور، منصوبہ بندی، نجکاری، ریلوے، مذہبی امور، سائنس و ٹیکنالوجی، آبی وسائل اور کابینہ ڈویژن سمیت متعدد وزارتوں اور ذیلی اداروں کے اربوں اور کھربوں روپے مالیت کے مطالباتِ زر منظور کر لیے۔

    قومی اسمبلی نے دفاع اور دفاعی پیداوار کے لیے مجموعی طور پر 30 کھرب 69 ارب 35 کروڑ 58 لاکھ روپے کے سات مطالباتِ زر کی منظوری دی اس کے علاوہ مواصلات کے لیے 125 ارب 72 کروڑ 36 لاکھ روپے، تعلیم کے لیے 192 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد اور آبی وسائل کے لیے 107 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز کی بھی منظوری دی گئی۔

    ایوان نے کابینہ سیکرٹریٹ کے لیے 35 ارب 38 کروڑ 69 لاکھ 82 ہزار روپے، خارجہ امور کے لیے 68 ارب 17 کروڑ 22 لاکھ روپے، قومی صحت کے لیے 53 ارب 28 کروڑ رو پے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 42 ارب 7 کروڑ روپے، منصوبہ بندی ڈویژن کے لیے 37 ارب 21 کروڑ روپے اور صنعت و پیداوار کے لیے 29 ارب 53 کروڑ 96 لاکھ روپے کے مطالباتِ زر بھی منظور کر لیے۔

    اطلاعات و نشریات کے لیے 27 ارب 57 کروڑ 13 لاکھ روپے، تجارت کے لیے 27 ارب 99 کروڑ 89 لاکھ روپے، قانون و انصاف کے لیے 24 ارب 91 کروڑ روپے، ہاؤسنگ و تعمیرات کے لیے 22 ارب 31 کروڑ 99 لاکھ روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 19 ارب 54 کروڑ روپے اور اقتصادی امور کے لیے 15 ارب ایک کروڑ 13 لاکھ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔

    ریلوے کے لیے 111 ارب 13 کروڑ روپے، بین الصوبائی رابطہ کے لیے 5 ارب 2 کروڑ 23 لاکھ روپے، بحری امور کے لیے 4 ارب 12 کروڑ 37 لاکھ روپے، قومی ورثہ و ثقافت کے لیے 3 ارب 4 کروڑ 96 لاکھ روپے، امور کشمیر و گلگت بلتستان کے لیے 3 ارب 18 کروڑ روپے، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے 3 ارب 73 کروڑ 54 لاکھ روپے، انسانی حقوق کے لیے 2 ارب 33 کروڑ 25 لاکھ روپے، مذہبی امور کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے اور پارلیمانی امور کے لیے ایک ارب 20 کروڑ 88 لاکھ روپے کے مطالباتِ زر بھی منظور کر لیے گئے۔

    قومی اسمبلی نے اپنے اخراجات کے لیے 9 ارب 3 کروڑ 57 لاکھ روپے جبکہ سینیٹ آف پاکستان کے لیے 3 ارب 21 کروڑ 72 لاکھ روپے کے مطالباتِ زر کی بھی منظوری دے دی۔ تمام مطالباتِ زر کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور سرکاری اداروں کے اخراجات کے لیے فنڈز جاری کرنے کی باقاعدہ پارلیمانی اجازت حاصل ہو گئی، جس کے ساتھ ہی بجٹ منظوری کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔

  • ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

    اسلام آباد: لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں جہاں چاہے آپٹیکل فائبر بچھاسکیں گی۔

    قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظور سینیٹ میں پیش کرلیا ہے جس کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا،نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے،

    بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ موبائل فون یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور نصب کرنے کے لیے جگہ فراہم نہ کرنے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا،بل کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی توسیع اور جدید مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے کمپنیوں کو انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں آسانی فراہم کی جائے گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے، اپوزیشن تسلیم کرے، اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے ۔

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے، لیڈر آف اپوزیشن نے جس ماحول میں بات کی ہم نے انہی ڈیسک سے کتابیں جلتی دیکھیں، کاغذ پھینکے جاتے رہے اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے، تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں، کئی افسران چھٹی لے کر چلے گئے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی، آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی تو آج والی خوشحالی نہ آتی، پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہو رہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے، کاروباری حضرات کی ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں مہنگائی 38 فیصد تھی اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی کہ آئیں میثاق معیشت کرتے ہیں، ان کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھے، یہ چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو، آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ یہاں سے خط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ نہ ملے، اداروں کی بہت کاوش ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم کا کردار ہے کہ ملک میں استحکام ہوا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ سکتی تھی، شرح سود بائیس فیصد پر رہتا گیارہ فیصد پر نہ آتا تو کیا حالات ہوتے ہم ایسی معیشت بنیں گے کہ ساری دنیا دیکھے گی، پوری دنیا معترف ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے کردار ادا کیا، آج پاکستان کی عزت ہے، معیشت درست سمت میں گا مزن ہے،ہر کوئی بجٹ پر مثبت بات کر رہا ہے، بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، بجٹ میں مثبت اقدامات کی تعریف ضرور ہونی چاہیے،

  • وفاقی  بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا جبکہ سالانہ بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ بجٹ جمعہ12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں مالی سال 2026.27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

  • راجہ پرویز اشرف کا ڈرگ کیس ویڈیو پرشدید ردعمل

    راجہ پرویز اشرف کا ڈرگ کیس ویڈیو پرشدید ردعمل

    رہنما پیپلز پارٹی اور سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ڈرگ کیس سے متعلق ایک ویڈیو پر شدید ردِعمل دیاہے۔

    دو روز قبل سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک مبینہ ڈرگ ڈیلر خاتون نے راجہ پرویز اشرف کا نام لیا تھا، تاہم بعد ازاں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے زبردستی یہ بیان دلوایا گیا، قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ آخر کس بنیاد پر ان کا نام اس معاملے میں لیا جا رہا ہے،کسی بھی مقدمے کی مکمل تحقیقات سے قبل اسے سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر اچھالنا مناسب نہیں، ہر پاکستانی شہری کا بنیادی حق ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اسے مجرم قرار نہ دیا جائے اور کسی فرد کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ہدایات جاری کی جائیں گی کہ ملزمان کو عدالت میں پیشی سے پہلے میڈیا کے سامنے نہ لایا جائے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سوال اٹھایا کہ کیا سائبر کرائم سے متعلق اداروں کو جھوٹا پروپیگنڈا اور بے بنیاد مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کرنی چاہیے؟اس موقع پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پورا ایوان راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کھڑا ہے جبکہ اسپیکر ایاز صادق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ منشیات نوجوانوں اور بچوں تک پہنچانے میں کون لوگ ملوث ہیں۔

  • سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال  کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    حکومت نے ملک کی سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال 2022 تا 2024 کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہیں۔

    وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے ایوان میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (PIACL) شدید مالی بحران اور ٹیکسوں کے بوجھ کا شکار ہے، جبکہ نجی ایئر لائنز مسلسل منافع کما رہی ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو سال 2024 کے دوران ٹیکس سے قبل صرف 3 ارب 5 کروڑ 75 لاکھ روپے کا منافع ہوا، لیکن اس پر 29 ارب 26 کروڑ 12 لاکھ روپے کا بھاری ٹیکس عائد کیا گیا، جس کے باعث ٹیکس کی ادائیگی کے بعد پی آئی اے کا حتمی خسارہ 26 ارب 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا اس سے قبل، سال 2023 میں پی آئی اے کا ٹیکس سے قبل منافع 101 ارب 49 کروڑ روپے رہا تھا، جس پر 3 ارب روپے ٹیکس ادا کیا گیا، جبکہ سال 2022 میں 86 ارب 51 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 49 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا گیا تھا۔

    نجی ایئر لائن ایئربلیو نے سال 2025 میں 4 ارب 86 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور 1 ارب 17 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا سال 2024 میں کمپنی کا منافع 1 ارب 90 کروڑ روپے رہا، جس پر 32 کروڑ 31 لاکھ روپے ٹیکس دیا گیا، جبکہ سال 2023 میں کمپنی نے 5 ارب 46 کروڑ روپے کا شاندار منافع کمایا، تاہم اس سال کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔

    ایئر سیال نے مسلسل تین سال منافع بخش کارکردگی دکھائی سال 2025 میں 4 ارب 57 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 49 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا گیا، سال 2024 میں 3 ارب 39 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 9 کروڑ روپے ٹیکس اور سال 2023 میں 4 ارب 88 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 42 کروڑ روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا گیا۔

    نئی نجی ایئر لائن فلائی جناح نے بھی بہترین آغاز کیا سال 2025 میں کمپنی نے 5 ارب 73 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور 1 ارب 59 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا، سال 2024 میں اس کا منافع 2 ارب 64 کروڑ روپے رہا، جس پر 72 کروڑ روپے ٹیکس دیا گیا، جبکہ سال 2023 میں 3 ارب 69 کروڑ روپے کے منافع پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوا۔

    سیرین ایئر اس وقت غیر فعال ہے اور اس کا مالیاتی ڈیٹا تاحال مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں تاہم، ریکارڈ کے مطابق سال 2023 میں کمپنی کے 793 ارب روپے کے منافع پر 719 ارب روپے کا بھاری ٹیکس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ایوان کو بتایا گیا کہ یہ تمام اعدادوشمار سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کے سرکاری ریکارڈ سے حاصل کیے گئے ہیں، جو ملکی ہوا بازی کی صنعت کی موجودہ معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب کرلیے

    صدر مملکت نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب کرلیے

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس بلانے کی منظوری دے دی۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹ کا اجلاس 7 مئی جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 11 مئی کو طلب کرنے کی منظوری دی ہے،سینیٹ کا اجلاس 7 مئی کو شام 5 بجے ہوگا، جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 11 مئی کو شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اجلاسوں میں اہم قانون سازی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ یکم جون 2026 کو قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے 4 ہفتوں کا شیڈول مختص کیا گیا ہے۔

  • قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایت پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں وسیع پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں.

    نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدامات وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی کفایت شعاری مہم کے تحت کیے گئے ہیں،حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے ہیں، مہم کے تحت 70 فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اراکین قومی اسمبلی کی 2 ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی اسی طرح پارلیمانی وفود کے بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران یا وہ افسران جن کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہے، ان کی 2 دن کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی،قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تمام نئی خریداری فوری طور پر بند کر دی گئی ہے اور صرف ناگزیر روزمرہ ضروریات کے لیے محدود خریداری کی اجازت ہوگی۔

    ایران کے اربیل، تل ابیب اور بحرین میں امریکی و اسرائیلی مراکز پر حملے

    روایتی اخراجات میں کمی کے لیے سیکریٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہےقومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس غروب آفتاب سے پہلے شیڈول کیے جائیں گے جبکہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کو محدود رکھنے اور انہیں ورچوئل یا آن لائن طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،اسی طرح قومی اسمبلی میں ہفتے میں 4 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔

    امریکا کراچی کی سڑکیں دکھا کر کہہ رہا ہے کہ ہم نے ایران کو تباہ کر دیا ،فیصل قریشی

    نوٹیفکیشن کے تحت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا 80 فیصد عملہ گھر سے ورچوئل ڈیوٹی سر انجام دے گا اور گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو اضافی الاؤنس نہیں دیا جائے گا کفایت شعاری پالیسی کے تحت بجلی کے استعمال میں 70 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اسی طرح قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے کیفے ٹیریاز کے یوٹیلیٹی بلز میں بھی 70 فیصد تک بچت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ان اقدامات کا مقصد حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

    ایران جنگ :ٹرمپ نےحملے کی ذمہ داری اپنے داماد سمیت مشیروں پر ڈال دی