Baaghi TV

Tag: قیمت

  • پاکستان براستہ سری لنکا  — محمد خضر بھٹہ

    پاکستان براستہ سری لنکا — محمد خضر بھٹہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک آزاد ریاست 14 اگست 1947 پوری قوم شکرانے کے نفل ادا کر رہی تو کوئی اپنے بچھڑے والے پیاروں کو یاد کر کے زاروقطار رو رہے اور یہ آزادی ایک عظیم لیڈر کی دن رات محنت سے ملی ایک دن بعد بھارت آزاد ہوا اور دل میں پاکستانی کی قیامت تک دشمن رہنے کی قسم کھائی.

    پاکستان کا سفر شروع ہوا تو اس وقت ہر کسی نے فرض سمجھ کہ پاکستان کو دنیا کا ترقیافتہ ملک بنانے کے لیے محنت شروع کر دی 1971 سے پہلے نشیب و فراز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں پاکستان کو شروع دن سے اقتدار کی حوس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اس اقتدار کی جنگ نے 1971 کو دو حصوں میں بدل دیا اور اس وقت کے دو کردار آج ذولفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے نام سے تاریخ کے لیڈر ثابت ہوے دور بدلتے رہے اور پاکستان بھی حالات کی کشمکش میں رہا.

    اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے جس کے کسان ایک ریڑھ کی ہڈی ہیں مزدور اس کا حسن ہیں پہاڑ،دریا،ندی نالے جھیل اس کا سنگھار ہیں جنگل سکون ہے اس ملک میں رہنے والا ہر وہ شخص اپنے پاکستان کی ترقی میں لگا ہے جو آج کا غریب ہے جس کو کرسی کی حوس نہیں اقتدار نے اسے ظالم نہیں بنایا اور اس کا دوسرا رخ بہت افسوس زدہ ہے کہ ہمارے ملک کے سیاست دان سے لیکر جرنیلوں تک جرنیلوں سے لےکر کلرک تک جس کو دیکھو اپنی جیب بھر رہا ہے آج ہر نوجوان اپنی پسند کی جماعت کے نعروں میں مصروف ہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں کیا یہ آزاد ریاست ہے کہ موروثی سیاست کی غلامی کرو اور نعرہ لگاتے ہو پاکستان زندہ باد.

    آج کسی کو یاد نہیں جس پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خون بہا آج اس ہی پاکستان کی عزت لوٹ کہ دنیا کو بتا رہے ہو کہ ہم مفاد پرست غلام ابن غلام قوم ہیں آج میں اور آپ نہیں پاکستان بھیک مانگنے پہ آچکا ہے اور اس کے ذمے دار جتنے سیاست دان ہیں اتنا آپ اور میں ہیں آج کسی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ نہیں ہمیں بس عمران خان زندہ باد،نواز شریف زندہ باد،زرداری زندہ باد کا پتہ ہے.

    ہم اپنی اس عقل سے آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ وہی پاکستان ہے جو گندم دوسرے ممالک کو دیتاہ تھا آج لینے پہ مجبور ہے کیوں؟گھی،دال،چینی آئل نہانے کا صابن تک باہر سے آتا ہے ہم ایک سوئی تک باہر سے لیتے ہیں اور بولتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں خدا کا خوف کرو ہم غریب نہیں ہمارے حکمران چور ہیں.

    آج سری لنکا ہر ملک کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے کہ ہمیں بچا لو ہم دیوالیہ ہو چکے ہیں سری لنکا کی سوئی ہوئی عوام جو نعروں کے مزے لے رہی تھی آج انہیں نعرے لگوانے والوں کے ایوانوں صدارتی محل میں گھس کہ ازالہ کر رہے ہیں چین سری لنکا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے جیسے کہ پاکستان میں کر رہا ہے آج سری لنکا اگر بھیک مانگنے پہ مجبور ہے تو اس کی وجہ موروثی سیاست اور غلام ذہنوں کی وجہ ہے یہی لوگ کل ان کو کاندھوں پہ اٹھاتے تھے اور آج گریبان پر پڑتے ہیں سری لنکا کی حکومت نے اپنے رشتہ داروں کو وزارتیں دی کہ اقتدار کے مزے لو بندر کے ہاتھ میں ماچس آنے والا کام ہوا اور پورے رشتہ داروں نے سری لنکا کو دیوالیہ کر دیا.

    اب پاکستان بھی نا چاہتے ہوئے اسی ہی راستے پر ہے اقتدار دیکھو تو بس مفاد کے لیے سیاست دیکھو تو خاندانی اعلی افسران دیکھو تو کرپشن اور غریب دیکھو تو ہسپتال میں ہے آج پاکستان کا کسان بھی پورا سال بچوں کی طرح فصل تیار کرتا ہے فرٹیلائزر استعمال کرتاہے تو گھر کے زیور بیچ کہ اور جب منڈی پہنچتا ہے تو ٹکے کے حساب سے دے کہ آتا ہے آج نوجوان بھی لکیر کا فقیر ہو چکا ہے اگر اس پاکستان کو سری لنکا نہیں بنانا تو پھر نعرے چھوڑ کہ حق کی آواز لگانی پڑے گی خاندانی سیاست کو دفن کرنا پڑے گا کرپشن کرنے والوں کو اس ملک سے نکالنا پڑے گا اعلی اداروں کو اپنا فرض جہاد سمجھ کہ ایمانداری سے چلنا پڑے گا اور غریب کا احساس اور خدا کا ڈر پیدا کرنا پڑے گا اپنے ذہن سے غلامی کا پردہ ہٹانا پڑے گا، پھر جا کہ قائم رہے گا پاکستان زندہ باد پاکستان پایندہ باد.

    اس ملک کو نوجوان نسل کی ضرورت ہے ہمیں جسمانی آزادی تو ہے مگر ذہنی نہیں ہمیں اپنا ایک مقصد لے کے چلنا پڑے گا حق کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ہمارا مستقبل اور آنے والی نسلوں کا مستقبل سنبھل جائے گا خدا کے لیے اس عظیم وطن عزیز کو اس موڑ نا جانے دیں جہاں سے واپس آنا نا ممکن ہو یہ ملک ایک امانت ہے ان شہیدوں کی جنہوں نے اپنا خون دے کر اس کو پاکستان کا نام دیا چلیں ایک قوم بن کر ۔۔۔پاکستان کی خاطر!

  • انٹر بینک میں ڈالر 230 روپے کا ہو گیا

    انٹر بینک میں ڈالر 230 روپے کا ہو گیا

    ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ۔

    باغی ٹی وی : انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے پیر کے روز کاروباری ہفتے کے آغاز پر ایک بار پھر انٹربینک میں ڈالرکی قدر میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور ڈالر کی قدر میں اب تک ایک روپے 67 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

    انٹربینک میں اس وقت ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر 230 روپے پر ٹریڈ کررہا ہے-

    واضح رہے کہ انٹربینک میں گزشتہ ہفتے بھی ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر برقرار رہا اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر 228.37 روپے پر بند ہوا-

  • موٹرسائیکل کی قیمتوں میں بھی اضافہ،

    موٹرسائیکل کی قیمتوں میں بھی اضافہ،

    موٹر سائیکل کی قیمتوں میں بھی اضافہ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک اہم خبر سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ جو سواری عوام استعمال کرتی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ شمار موٹر سائیکل کا ہوتا ہے۔ اور ہر انسان کو آج کل اس کی ضرورت در پیش ہے۔ آج کل تو پاکستان میں لڑکیاں بھی کثیر تعداد میں موٹر سائیکل چلاتی ہیں۔ لیکن موٹر سائیکل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جا چکا ہے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ جہاں ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہاں اب موٹر سائیکل کی قیمت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ تقریباً موٹر سائیکل کی قیمتوں میں دو سے تین ہزار روپے کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔

    مزید برآں یہ کہ تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ 70 سی سی اور 100 سی سی بایئکس کی قیمتوں میں 2ہزار کا اضافہ کیا گیا ہے ،125 سی سی بایئکس کی قیمتیں 3 ہزار تک بڑھائی گی ہیں۔اس حوالے سے کمپنیز نے کہا ہے کہ بائیکس کی قیمتوں میں اضافہ اس لئے ہوا ہے کیونکہ جہاں ڈالر ،پیٹرول،خام مال ،سٹیل ،کروم،سلور ،دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھیں،یہ اشیا مہنگی ہونے کے باعث موٹر سائیکل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرنا پڑا۔اس حوالے سے ,کمپنیز نے ڈیلرز کو قیمتوں میں اضافے کے سرکلر جاری کردئیے۔ اور اس کا باقاعدہ اضافہ یکم جولائی سے ہو گا۔

  • یوٹیلیٹی اسٹورز پر مصالحہ جات سمیت کئی اشیاء کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر مصالحہ جات سمیت کئی اشیاء کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر مصالحہ جات، ٹوتھ پیسٹ، ڈش واش، ماچس و دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا گیا۔اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

    برانڈڈ 75گرام ٹوتھ پیسٹ 20روپے اضافہ کے بعد 97روپے سے بڑھ کر 117روپے کی ہوگئی جبکہ برانڈڈ ٹوتھ برش کی قیمت میں 20روپے تک کا اضافہ ہوا جس کی نئی قیمت 117 سے بڑھ کر 137روپے ہوگئی۔اسی طرح ٹوائلٹ رول پیپر کی قیمت میں 5روپے کا اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 69 سے بڑھ کر 74روپے ہوگئی، لگژری سائز ٹشو پیپر کی قیمت میں بھی 25روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ٹشو پیپر کا ڈبہ 173سے بڑھ کر 198روپے کا ہوگیا۔

    برتن دھونے والے سپونج کی قیمت میں 66روپے کا اضافہ ہوا، گلاس ونڈو کلینر کی قیمت میں بھی 43روپے کا اضافہ ہوا کیا گیا ہے جس کی قیمت 200روپے سے بڑھ کر 243روپے کی ہوگئی۔ ماچس کے پیکٹ میں بھی 10روپے تک کا اضافہ ہوا، جس کی قیمت 40روپے سے بڑھ کر 50روپے ہوگئی۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر مکس مصالحہ جات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک کلو مکس اچار کی قیمت میں 55روپے اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 278سے بڑھ کر 333روپے ہوگئی۔

    ادھر حکومت نے خوردنی تیل کی درآمد پر ریگولیٹر ڈیوٹی عائد کردی ہے جس کی وجہ سے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے ، وفاقی حکومت نے ریگو لیٹری ڈیوٹی انڈونیشا کے سوا باقی تمام ممالک سے کھانے کے تیل کی درآمد پر عائد کی ہے۔ اس حوالے سے فیڈرل بیورو آف ریونیو نے باضباطہ نوٹی فیکش بھی جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا سے کھانے کے تیل کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا اطلاق نہیں ہوگا ، انڈونیشیا سے کھانے کے تیل کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی سے چھوٹ 30 جون 2022ء تک دی گئی ہے۔

    نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جس کھانے کے تیل کی درآمد پر کسمٹز ڈیوٹی کی شرح صفر، 3 فیصد اور 11 فیصد ہے اس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 2 فیصد ہوگی جس کی درآمد پر 16 فیصد کسمٹز ڈیوٹی عائد ہوگی ، اس پر ریگو لیٹری ڈیوٹی کی شرح 4 فیصد ہوگی ، اسی طرح جس کی درآمد پر کمسٹز ڈیوٹی کی شرح 20 فیصد ہوگی، اس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 6 فیصد ہوگی جبکہ جس کی درآمد پر کسمٹز ڈیوٹی کی شرح 30 فیصد ہوگی اس پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح 7 فیصد ہوگی۔

    قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے غریب اور پسماندہ طبقے کیلئے بڑا ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا ،وزیرِ اعظم نے 5 بنیادی اشیاء ضروریہ کو اگلے مالی سال کیلئے کم نرخوں پر فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا-

    مزکورہ ریلیف کے تحت سبسڈی یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے پورے ملک میں غریب اور پسماندہ طبقے کو فراہم کی جائے گی آٹے، چینی، گھی/خوردنی تیل، دالیں، اور چاول کی بازار سے کم نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے گی-

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت یوٹیلٹی اسٹورز کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس ہوا ،اجلاس میں وفاقی وزراء مفتاح اسماعیل، مخدوم مرتضی محمود اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت کی تھی.

    اجلاس کو یوٹیلٹی اسٹورز پر دی جانے والی سبسڈی، پسماندہ طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی، یوٹیلٹی اسٹورز کی ملک بھر میں تعداد میں توسیع اور خیبر پختونخوا میں وزیرِ اعظم کے ویژن کے تحت سستے آٹے کی فراہمی کے پروگرام پر پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا تھا.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن ملک میں اس وقت 3822 اسٹورز کو براہ راست اور 1380 فرینچائز چلا رہا ہے. جبکہ تیس جولائی تک بلوچستان، سندھ، کشمیر، گلگت بلتستان اور پنجاب میں 300 سے ذیادہ نئے اسٹورز بنائے جائیں گے.

  • ڈالر پاکستان کیلئے چیلینج بن گیا،قیمت 215 روپے سے تجاوز کر گئی

    ڈالر پاکستان کیلئے چیلینج بن گیا،قیمت 215 روپے سے تجاوز کر گئی

    ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر انٹر بینک مارکیٹ میں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    ڈالر کی اونچی اُڑان اور روپے کی بے قدری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، منگل کو کاروبار کے آغاز پر بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کی وجہ سے امریکی ڈالر 3.24روپے اضافے سے 213.20روپے کا ہوگیا۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک روپیہ 50 پیسے اضافے سے 215 روپے 50 پیسے تک پہنچ گئی، ملک بھر میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مارچ میں تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سے لیکر اب تک ملکی کرنسی مسلسل گراوٹ کی طرف جا رہی ہے، اپریل میں امریکی ڈالر 172 روپے کے قریب تھا۔

    تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی مخلوط حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ فوری طور پر رجوع کیا، عالمی ادارے کی طرف سے کہا گیا کہ فوری طور گیس، پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں بصورت دیگر کوئی رقم جاری نہیں کی جائے۔

    اسی دوران آئی ایم ایف کے دباؤ پر 26 مئی سے لیکر 15 جون تک حکومت کی جانب سے مسلسل تین بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے جانے کے باوجود ملکی کرنسی بدترین گراوٹ کی طرف جا رہی ہے، زرِمبادلہ کے ذخائر بھی تیزی سے گر رہے ہیں جبکہ حکومت اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تاحال نہ ہو سکا۔عالمی ادارے کا تاحال کہنا ہے کہ گیس، بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں اور ہماری شرائط پر فوری عمل کیا جائے جس کے بعد قرض پروگرام کو بحال کیا جائے گا۔

    دوسری طرف ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نذر ،ملک کی اقتصادی صورتحال خطرناک ہوتی جارہی ہے ، صورتحال کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والا طوفان سب بہا لے جائے گا.ڈالر کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمت سے مہنگائی مزید بڑھے گی، تاہم حکومت کی جانب سے اس اہم مسلئے پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے. ڈالر کی بڑگتی قیمت پر ارباب اختیار کی خاموش نشویشناک ہے.

  • بجلی کی قیمت میں4 روپے فی یونٹ اٍضافہ

    بجلی کی قیمت میں4 روپے فی یونٹ اٍضافہ

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت اپریل کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 3 روپے 99 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی جبکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے 4 روپے 5 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی۔

    نیپرا کے مطابق اتھارٹی نے 31 مئی 2022 کو ایف سی اے پر عوامی سماعت کی تھی، اس سے قبل مارچ کا ایف سی اے صارفین سے 2 روپے 86 پیسے چارج کیا گیا تھا جو کہ صرف ایک مہینے کے لیے تھا۔

    اپریل کا ایف سی اے مارچ کی نسبت 1 روپے 13 پیسے جون میں زیادہ چارج کیا جائے گا جس کا اطلاق صرف جون کے مہینے کے بلوں پر ہوگا اور اس کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن صارفین پر ہوگا۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی نہیں ہوگا۔

    قبل ازین سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی فی یونٹ 4 روپے5 پیسے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست پر چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت سماعت ہوئی۔وائس چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ سستے پاور پلانٹ فیول نہ ملنے کے باعث بند پڑے ہیں، بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہنگی بجلی کی وجہ مہنگا فیول ہے، اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کےلیے جمع درخواست کا اطلاق کے الیکٹرک پر نہیں ہوگا۔

    نیپرا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئلہ اور فرنس آئل بہت مہنگے ہیں،وائس چیئرمین نیپرا نے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاور پلانٹس کو گیس ملتی ہے؟ تو نمائندہ سی پی پی اے نے جواب دیا کہ ہمارے پاور پلانٹس کو گیس نہیں ملتی، وائس چیئرمین نے اس پر کہا کہ جن پلانٹس کوگیس نہیں ملتی انہیں اکنامک میرٹ آرڈرمیں ٹاپ پر نہ رکھیں۔

    نیپرا حکام نے کہاکہ ہمارے لیےصارف اہم ہے جو مہنگے فیول کا شکار ہورہا ہے،چیئرمین نیپرا نے سماعت کے دوران کہا کہ اندازوں پر کام نہ کریں، پاورسسٹم کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے،اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

    نیپرا حکام نے بتایا کہ اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اضافہ3 روپے99 پیسے فی یونٹ بنے گا۔ سماعت مکمل ہوجانے کے بعد نیپرا نے جاری اعلامیہ میں کہا کہ ڈیٹا کی ابتدائی جانچ پڑتال کے مطابق اضافہ 3 روپے 99 پیسے بنتا ہے، اس سے قبل مارچ کا ایف سی اے صارفین سے2 روپے86 پیسے فی یونٹ چارج کیا گیا تھا۔

    زرائع کے مطابق نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 99 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری کے نتیجے میں صارفین پر 51 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ فیصلے کا اطلاق کے الیکٹرک کے سوا بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں پر ہوگا۔

  • فی تولہ سونے کی قیمت میں کمی:

    فی تولہ سونے کی قیمت میں کمی:

    فی تولہ سونے کی قیمت میں کمی واقعہ:

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں حیران کن کمی کی گئی ہے ۔
    مزید تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 1 امریکی ڈالر کی تنزلی دیکھی گئی اور ساتھ ہی نئی قیمت 1848 ڈالر فی اونس کر دی گئی ہے ۔
    جن شہروں میں حیران کن طور پر 850 روپے کی کمی دیکھی گئی ہے اور نئی قیمت ایک لاکھ 42 ہزار 400 روپے کر دی گئی ہے ۔ان میں درج ذیل شہر شامل ہیں ۔
    کراچی
    لاہور
    اسلام آباد
    پشاور
    سکھر
    گوجرانوالا
    راولپنڈی
    فیصل آباد
    حیدر آباد
    یہ تمام شہر شامل ہیں ۔

    مزید یہ کہ فی تولہ سونے کی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 729 روپے کی گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔ اورنئی قیمت ایک لاکھ 22 ہزار 85 روپے ہو گئی ہے ۔

  • پنجاب کی فلور ملز نے  بھی آٹے کی قیمت بڑھانے کا عندیہ دے دیا

    پنجاب کی فلور ملز نے بھی آٹے کی قیمت بڑھانے کا عندیہ دے دیا

    بجلی اور پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد پنجاب بھر میں فلور ملز نے بھی آٹے کی قیمت میں اضافہ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی تی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے بجلی اور پیٹرول کی قیمت بڑھنے کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔ فلور ملزم ایسوسی ایشن نے لاگت بڑھنے کے سبب پنجاب بھر میں 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں محتاط اندازے پر 60 روپے اضافے کا عندیہ دیا۔

    پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بجلی اور پیٹرول ریٹ بڑھنے سے آٹے کی قیمت میں فی الحال معمولی اضافہ ہوا ہے، حساب کتاب کے بعد نئی قیمت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    قبل ازیں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چینی کی قیمت میں توازن برقرار رکھنے کیلئے وفاقی حکومت کوچینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہ دینے کی تجویز پیش کی جائے گی.وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے،ضرورت مند طبقے کو اشیا ضروریہ میں سبسڈی کے لئے تاریخی اقدامات کر رہے ہیں .

    حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ کھاد کی ذخیرہ اندوزی کاشتکار پر ظلم کے مترادف ہے، حمزہ شہباز نے نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ کھاد اور دیگر اشیاء ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیزکر دیا جائے.

    اس سے قبل یکم جون کو وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہواتھا، اجلاس میں صوبے کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے جبکہ پنجاب کابینہ نے وزیر اعلی عوامی سہولت پیکیج کی منظوری دی تھی.

    اجلاس کے دوران پنجاب بھر میں سستے آٹے کی فراہمی پر 200 ارب روپے کی سبسڈی کے فیصلے کی توثیق کی گئی، پورے صوبے میں 10 کلو آٹا تھیلا 160روپے سستا کرنے کے فیصلے کی بھی توثیق کی گئی تھی.

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پنجاب کو آگے لے کر جائیں گے، جان بوجھ کر رکاوٹیں ڈال کر کابینہ کی تشکیل میں بے پناہ تاخیر کی گئی۔اللہ تعالیٰ اگر ہم سے مخلوق کی خدمت کا کام لینا چاہ رہا ہے تو کوئی نہیں روک سکتا۔ معیشت سسکیاں لے رہی ہے اور عوام پریشان ہیں، مایوسی کے دور میں ہمیں امید کی کرن بننا ہے،صورتحال ”اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے“ کے مصداق ہے۔

    کابینہ کے اجلاس میں پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں 10کلو آٹا تھیلا 490 روپے میں فروخت کرنے کے فیصلے کی توثیق کی گئی ،وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں قومی یکجہتی اور بھائی چارے کا اظہار گیا جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کو گندم دینے کی منظوری بھی دی گئی.اجلاس میں گندم ریلیز پالیسی کے فیصلے کی توثیق بھی کی گئی جبکہ کابینہ نے پاسکو سے گندم خریدنے کی اجازت دے دی.

  • ‏سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    ‏سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    اسلام آباد: ‏سوئی سدرن کے لیے گیس کی قیمت میں 44 فیصد اضافے کی منظوری ،اطلاعات کے مطابق سوئی سدرن گیس کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کرکے اچانک سب کو حیران رہ کردیا ہے ،

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے اوگرا سے مالی سال 2022-23 میں ریونیو شارٹ فال سے بچنے کیلیے قیمتوں میں 44.8 فیصد اضافے کی درخواست کردی۔گذشتہ روز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ( اوگرا ) نے ایس ایس جی سی کی مالی سال 2022-23 کے لیے ریونیو کی تخمینہ شدہ ضروریات / قیمتوں کے تعین کے لیے پٹیشن پر غور کے لیے عوامی سماعت کا انعقاد کیا۔

    ایس ایس جی سی نے گیس بزنس میں مالی سال 2022-23 کے لیے یکم جولائی 2022ء اوسط قیمت 1,013.02 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ اسی طرح آر ایل این جی کی کاسٹ آف سروس16.47روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی تجویز کی ہے۔ سوئی سدرن نے مالی سال 2022-23 کے لیے ریونیو کی تخمینہ شدہ ضروریات / قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا میں پٹیشن 14فرروی 2022ء کو دائر کی تھی۔

    کمپنی کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر اسے 88 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے لہٰذا گیس کی قیمتوں میں44 فیصد اضافے کی اجازت دی جائے۔ عوامی سماعت میں کئی سوالات اٹھائے گئے مثلایہ کہ کیا مالی سال 2022-23 کے لیے کمپنی کا ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کے ضمن میں 22,585 روپے کے اخراجات کا دعویٰ درست ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مقامی سطح پر گیس کی سپلائی میں کمی آرہی ہے۔

    اسی طرح کمپنی کا 132,000 نئے گھریلو کنکشن اور آر ایل این جی پر 713 نئے تجارتی /صنعتی کنکشن دینے کا دعویٰ صحیح ہے۔ اسی طرح یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا کمپنی کا 7,719 ملین روپے کی لاگت سے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں 1,123 کلومیٹر کی وسعت کی مجوزی تجویز سود مند ہوگی۔

  • پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    حکومت پاکستان نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30، 30 روپے کا اضافہ کردیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ملک میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کردی گئی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے فی لٹر کردی جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا کر 181 روپے 94 پیسے کردی گئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں مہنگائی ہوگی لیکن یہ ناگزیر تھا۔انہوں نے بتایا کہ چین نیا قرضہ جاری کرے گا بلکہ شرح سود بھی کم کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 25 مارچ کو چین نے 2.3 ارب ڈالر کا قرض واپس لے لیا تھا، چین نے کافی شرائط عائد کر دی تھی اور شرح سود بڑھا دی تھی۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے چین جانے پر معاملات طے ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر معاملات فائنل ہوئے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ چین کے صدر نے وزیرِاعظم کے ساتھ معاملات فائنل کیے، قرض 1.5 فیصد کی شرح سود پر حاصل کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر 10فیصد اخراجات کم کردیں تو چار ارب کی بچت ہوگی۔ یہاں صرف ایک دن میں چار ارب کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آٹے اور چینی پر سبسڈی دی جائے گی، چاول، دالوں اور گھی پر سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر ذمہ دارانہ باتیں کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم کو ملک کے ٹوٹ جانے کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔