Baaghi TV

Tag: لالی وڈ

  • سینما انڈسٹری کی مکمل بحالی پنجابی فلمیں مسلسل بنانے سے جڑی ہوئی ہے صائمہ نور

    سینما انڈسٹری کی مکمل بحالی پنجابی فلمیں مسلسل بنانے سے جڑی ہوئی ہے صائمہ نور

    اداکارہ صائمہ نور جنہوں نے زیادہ تر پنجابی فلموں میں ہی کام کیا ہے ان کی وجہ شہرت بھی پنجابی فلمیں ہیں . ان کی رواں برس فلم تیرے باجرے دی راکھی ریلیز ہوئی تھی . صائمہ نور نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ پنجابی فلموں کا دور ایک بار پھر شروع ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تسلسل سے پنجابی فلمیں بنیں اور جدید تقاضوں کو مد نظر رکھا جائے. انہوں نے مزید کہا دا لیجنڈ‌آف مولا جٹ کی کامیابی سے پنجابی فلموں کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے. لیکن ہم سب کو اس کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا . صائمہ نور نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کے لڑکے لڑکیاں اچھا کام کررہے ہیں اور لوگ انہیں اچھا ریسپانس بھی دے رہے ہیں. صائمہ نور نے کہا کہ اس وقت بہت اچھا کام ہو

    رہا ہے اور سینما کے لئے اچھا وقت ہے لہذا ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے . لوگوں کی بڑی تعداد آج بھی پنجابی فلموں کو پسند کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ پنجابی فلمیں مسلسل بنتی رہیں. ہمیں اس سلسلے کو روکنا نہیں چاہیے. یاد رپے کہ صائمہ نور پنجابی فلموں کے فروغ کے لئے اپنے ہر انٹرویو میں بات کرتی ہیں .

  • سٹوڈیوز کی ویرانیاں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ریشم

    سٹوڈیوز کی ویرانیاں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ریشم

    اداکارہ ریشم جنہوں نے نوے کی دہائی میں سپر ہٹ فلموں میں کام کیا . ان کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں‌سٹار ڈم کا مزہ چکھا. ریشم نےٹی وی اور فلموں دونوں میڈیمز کے لئے کام کیا اور داد سمیٹی. ریشم نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم نے وہ دور دیکھا ہے کہ جب سٹوڈیوز میں 24 گھنٹے تک شوٹنگز جاری رہتی تھیں لیکن اب جو صورتحال ہے اس کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے.بلکہ دل خون کے آنسو روتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی بھی کام پر کمپرومائز نہیں‌ کیا. انہوں نے کہا کہ شارٹ کٹ سے شہرت حاصل کرنے والوں سے زیادہ بے وقوف میں کسی کو بھی نہیں‌سمجھتی. انہوں نے کہا کہ شارٹ کٹ سے کامیابی شاید جلدی مل جاتی ہے لیکن ایسی کامیابی دیرپا

    نہیں‌ہوتی جیسے ملتی ہے ویسے ہی کھو بھی جاتی ہے. انہوں نے کہا کہ مجھے جتنی شہرت ملی ہے میرے پورے کیرئیر میں‌، اس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی . میں خدا کی شکر گزار ہوں کہ آج بھی میرے مداح مجھے دیکھنا چاہتے ہیں. ریشم نے مزید کہا کہ میں منافق لوگوں سے بہت دور رہتی ہوں نہ میں کسی کے بارے میں‌بات کرتی ہوں نہ ہی کسی کی کامیابی پر سوال اٹھاتی ہوں.

  • فلمسٹار لیلی کس ہیرو کی محبت میں گرفتار تھیں اور بریک اپ کی وجہ کونسی ہیروئین تھی؟

    فلمسٹار لیلی کس ہیرو کی محبت میں گرفتار تھیں اور بریک اپ کی وجہ کونسی ہیروئین تھی؟

    نوے کی دہائی کی خوبصورت اداکارہ لیلی جو کہ کافی عرصے سے فلموں اور شوبز کی چکا چوند سے دور ہیں. ان کا سوشل میڈیا پر ایک کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ کس ہیرو کو پسند کرتی تھیں اور کس ہیروئین کی وجہ سے ان کا بریک اپ ہوا. لیلی کہتی ہیں‌کہ میں اداکار احسن خان کو بہت پسند کرتی تھی ہم دونوں کا افئیر بھی چل رہا تھا. ہم نے ایک ساتھ فلموں میں‌کام بھی کیا. لیکن میرا دل نہیں مانتا تھا کہ احسن خان کسی اور ہیروئین کے ساتھ کام کریں . جب ان کو فلمسٹار نرما کے ساتھ کام کرنے کی آفر ہوئی اور انہوں‌نے وہ آفر قبول بھی کر لی تو میں بہت ناراض ہوئی کہ کیوں اس کے ساتھ کام کررہے ہو، اس پر سینئر اداکارہ سنیگیتا بیگم نے مجھے کہا کہ تم دونوں نے آگے بڑھنا ہے یا

    نہیں؟‌ ایک دوسرے کو کام کرنے دو اور جو رول جس کے ساتھ ملے کرو. لیکن میرے دل میں بات بیٹھ گئی اور کچھ لوگ بھی ایسی باتیں کرنے لگ گئے کہ نرما اور احسن خان کا افئیر چل رہا ہے تو میں احسن خان سے لڑتی تھی. بس دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے تو پھر ہمارے درمیان دوریاں بڑھ گئیں اور احسن خان اپنی زندگی جینے لگے اور میں اپنی. لیکن مجھے خوشی ہےکہ جب میرے گھر کا مسئلہ بنا تو دنیا میں احسن خان کی واحد وہ انسان تھا جس نے مجھے کال کرکے ایموشنل سپورٹ دی اور مدد بھی کی .

  • روایتی فلموں سے دور رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے جاوید شیخ

    روایتی فلموں سے دور رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے جاوید شیخ

    اداکار جاوید شیخ جنہوں نے پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے علاوہ بھارت میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا ہے وہ فلم ٹی وی اور ڈرامے پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان فلم انڈسٹری کا مستقبل کافی روشن ہے جس طرح کی جدید ٹیکنالوجی فلمیں بنانے کے لئے استعمال ہو رہی ہے وہ فلم انڈسٹری کو آگے لیکر جائیگی۔ جاوید شیخ نے کہا کہ اب ہمیں روایتی فلموں اور سکرپٹس سے دور رہنا ہو گا اور ایسا کرنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ فلم انڈسٹری کے حالات جوں کے توں رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری اپنے ابتدائی

    مراحل میں ہے آغاز کافی اچھا ہے یقینا آگے چل کر حالات کافی بہتر ہوجائیں گے۔ جاوید شیخ نے اس چیز پر زور دیا کہ فلموں کا سکرپٹ اچھا ہونا چاہیے اچھا سکرپٹ ہو گا تو کہانی بھی اچھی بنے گی اور شائقین فلم میں دلچپسی لیں گے۔ جاوید شیخ نے کہا کہ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے بس جدید رجحانات متعارف کروانے کی ضرور ت ہے۔ یاد رہے کہ جاوید شیخ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ پاکستان شوبز انڈسٹری میں گزارا ہے ان کے کریڈٹ پر بے شمار ہٹ فلمیں اور ڈرامے ہیں ۔

  • انڈسٹری کےلئے حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچرکرے حیدر سلطان

    انڈسٹری کےلئے حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچرکرے حیدر سلطان

    سلطان راہی کے بیٹے حیدر سلطان جنہوں نے حال ہی میں دا لیجنڈ آف مولا جٹ کے پریمئیر میں شرکت کی، انہوں نے فلم کو خاصا سراہا اور کہا کہ یہ فلم پنجابی سینما کو مضبوط بنانے کےلئے اہمیت کی حامل ہے. حیدر سلطان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری نے ہمیشہ اپنے پائوں پر خود کھڑے ہونے کی کوشش کی کسی بھی حکومت نے اس کی سرپرستی نہیں کی حالانکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ انڈسٹری کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر جوائنٹ ونچر کرے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا. حیدر سلطان نے کہا کہ ہمارے پاس بہت کم بجٹ ہوتے ہیں وسائل بھی محدود ہوتے ہیں ، محدود وسائل کے ساتھ فلمیں بنانا بہت بڑی بہادری ہے. ہم کم وسائل اور بجٹ میں بہترین فلمیں تیار کر رہے ہیں.

    حیدر سلطان نے کہا کہ پنجابی سینما کو سپورٹ کی بے حد ضرورت ہے اور یہ سپورٹ سب سے پہلے آرٹسٹوں کو خود دینی ہو گی وہ فلمیں کریں کام کریں، کام کرنے کی حامی بھریں اگر ہر کوئی اپنی اپنی جگہ بیٹھا رہے گا تو پنجابی سینما تو جوں کا توں رہے گا . یاد رہے کہ حیدر سلطان راہی پجابی فلموں کے اداکار ہیں ان کی رواں برس اشتہاری ڈوگر ریلیز ہوئی تھی جس نے اچھا بزنس کیا تھا اور حیدر سلطان نے اس فلم کی کامیابی کا جشن بھی منایا تھا .

  • بڑی تعداد میں میری فلمیں دوبارہ سینما گھروں میں ریلیز ہوئیں صائمہ نور

    بڑی تعداد میں میری فلمیں دوبارہ سینما گھروں میں ریلیز ہوئیں صائمہ نور

    پنجابی فلموں‌کی اداکارہ صائمہ نور جو نہ صرف کم کم بولتی ہیں بلکہ انٹرویوز بھی کم کم ہی دیتی ہیں. بہت مشکل سے ہی ان کا کہیں کوئی انٹرویو دیکھنے کو ملتا ہے. اداکارہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میری فلمیں بار بار سینما گھروں کی زینت بنیں. اور شاید میں ہی واحد اداکارہ ہوں جس کی پرانی فلمیں بار بار سینما گھروں میں‌لگیں. صائمہ نور نے کہا کہ جو فلمیں بن رہی ہیں وہ بہت اچھی ہیں. انڈسٹری کو نئے خون اور وژن کی ضرورت ہے. فلمیں تسلسل سے بنتی رہیں تو فلمی صنعت کی بحالی زیادہ دور نظر نہیں آتی. صائمہ نور نے کہا کہ ہمارے پاس نہ صرف باصلاحیت اداکار ہیں بلکہ باصلاحیت ڈائریکٹر ،رائٹر ٹیکنینشنز ہیں بس مواقع اور وسائل کی کمی

    نظر آتی ہے. میں دیکھ رہی ہوں کہ پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل فلمیں بن رہی ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا تو فلم انڈسٹری بحرانی کیفیت سے جلد نکل آئیگی اور پاکستان فلم انڈسٹری کا ستارہ پھر سے چمکے گا. انہوں نے کہا کہ مجھے جب جب اچھے کردار ملیں گے میں لازمی کروں گی. ایسا نہیں ہے کہ میں اداکاری سے دور ہو گئی ہوں بس اچھے سکرپٹ کے انتظار میں زرا دیر ہوجائے تو الگ بات ہے ورنہ اداکاری تو میری اولین ترجیح ہے اور رہے گی.

  • ثناء کے شوہر فخر بول پڑے، اپنے اور اہلیہ کے تعلقات کی حقیقت کھل کر بیان کر دی

    ثناء کے شوہر فخر بول پڑے، اپنے اور اہلیہ کے تعلقات کی حقیقت کھل کر بیان کر دی

    فلمسٹار ثناء اور ان کے شوہر فخر جعفری کی علیحدگی کی خبروں پر ہر طرف تبصرے ہو رہے ہیں ، لیکن فخر جعفری نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ میرے اور ثناء کے درمیان جو بھی معاملات ہیں وہ ہم دونوں خود دیکھ رہے ہیں. میں نہیں چاہتا کہ میری فیملی یا ہمارے دوست ہمارے اس معاملے میں پڑیں. میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ کون کون گھر توڑنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے. اللہ کو منظور ہوا تو میں اور ثناء ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے ورنہ ہم بچوں کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھیں گے . میرے بچوں کو ثناء مجھ سے ملنے سے منع نہیں کریگی نہ ہی میں اس سے بچے چھینوں گا، بچے ثناء کے ساتھ بہت مانوس ہیں وہ اسی کے پاس رہیں گے مجھے بیرون ملک آکر ملتے رہیں

    گے میں بھی ان کو ملتا رہوں گا. ہم دونوں‌کے تعلقات میں جو بھی خرابیاں ہوئی ہیں اس میں ثناء اور میری ہم دونوں‌کی کہیں نہ کہیں غلطی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاملے پر بات نہ کی جائے یہ ہمیں اچھا نہیں لگے گا. اور میں ثناء سے آج بھی بہت پیار کرتا ہوں،اس کے خلاف کسی نے بھی کسی قسم کی غلط بات کی اسکو نہیں چھوڑوں گا. میں اپنی فیملی سے بہت محبت کرتا ہوں لہذا نہیں چاہتا کہ کوئی میری اہلیہ یا میرے بچوں کے بارے میں بات کرے.

  • دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ بن کر بہت خوش ہوں گوہر رشید

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ بن کر بہت خوش ہوں گوہر رشید

    اداکار گوہر رشید جو کہ دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ ہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ مجھے دو باتوں کی بہت خوشی ہے کہ ایک تو یہ کہ میں‌دا لیجنڈ آف مولا جٹ کا حصہ ہوں دوسرا یہ کہ فلم فائنلی ریلیز ہونے جا رہی ہے . گوہر رشید نے کہا کہ فلم کو دیکھنے کے لئے شائقین خاصے پرجوش ہیں اس چیز کا اندازہ ایڈوانس بکنگ کو دیکھ کر بھی لگایا جا سکتا ہے. جب مجھے دا لیجنڈ آف مولا جٹ آفر ہوئی تو مجھے بہت خوشی ہوئی بلال لاشاری چونکہ میرے بھائی بھی ہیں تو مجھے لگا کہ میں اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے جا رہا ہوں. لہذا میں نے ہاں کر دی اور میرا کردار ماکھا نت بھی بہت زبردست ہے . میں لاہور میں پلا بڑھا مجھے پنجابی بولنی آتی ہے لیکن فلم

    میں ٹھیٹھ پنجابی ہے اس لئے کبھی کسی لفظ پر اڑ جاتا تھا. لیکن سیٹ پر ٹرانسلیٹرز موجود ہوتے تھے وہ مطلب سمجھا دیا کرتے تھے. اس فلم میں ہم سب نے بہت محنت کی ہے لیکن بلال لاشاری کی بطور ڈائریکٹر بہت ہی زیادہ محنت ہے. دا لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی فلم پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں بنی . میں اپنے مداحوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ انتظار نہ کریں اور جا کر فلم دیکھیں یہ بڑی سکرین کی فلم ہے اس کا کسی پلیٹ فارم پر ریلیز ہونے کا انتظار مت کیجے. گوہر رشید نے اس انٹرویو میں اپنے مداحوں سے کہا کہ وہ فلم کو ضرور دیکھیں.

  • سینما بس آباد ہونے چاہیں چاہے ہالی بالی یا لالی وڈ کی فلمیں لگیں سید نور

    سینما بس آباد ہونے چاہیں چاہے ہالی بالی یا لالی وڈ کی فلمیں لگیں سید نور

    سید نور کہتے ہیں کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ متحرک رہی ہے اس ایسوسی ایشن کو بڑے بڑے لوگوں نے سنبھالا اور بہت کام کیا. ابھی جو باڈی منتخب ہوئی ہے اس کے دعوے بھی اچھے ہیں امید ہے کہ یہ باڈی بھی اچھا کام کریگی اور فلم انڈسٹری کے مسائل کا حل تلاش کریگی. سید نور نے مزید کہا کہ فلم پرڈیوسر ایسوسی ایشن فلم انڈسٹری کے مسائل لیکر ایوانوں تک گئی وعدے وعید بھی ہوئے ڈسکشنز بھی ہوئیں. اب جبکہ ن لیگ کی حکومت آئی ہے اس نے فلم کو انڈسٹری کا درجہ بھی دیدیا ہے امید ہے کہ جو اعلانات کئے گئے ہیں ان

    ہر عمل در آمد کیا جائیگا. سید نور نے کہا کہ سینما گھر آباد رہنے چاہیں چاہے ہالی وڈ کی فلمیں لگیں بالی وڈ یا لالی وڈ کی . جہاں تک بلال لاشاری کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی بات ہے تو انہوں نے جدید تقاضوں کے مطابق فلم بنائی ہے اور ہمیں بہت امید ہے کہ فلم اچھا بزنس کریگی . بڑے بجٹ کی بڑی فلم ہے جس میں‌بڑے سٹارز ہیں لوگ فلم کے منتظر ہیں.پرانی مولا جٹ پرانے دور کی تھی لیکن نئی مولا جٹ نئے دور کے مطابق ہے. بلال لاشاری نے ایسی فلم تخلیق کی ہے کہ جو پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بھی نمائندگی کرسکتی ہے.

  • کیا پروین بابی ثروت گیلانی کی خالہ لگتی ہیں؟‌

    کیا پروین بابی ثروت گیلانی کی خالہ لگتی ہیں؟‌

    منجھی ہوئی اداکارہ ثروت گیلانی جن کی فلم جوائے لینڈ نے کانز فلمی میلے میں ایوارڈ جیتا ہے وہ اس کامیابی پر ہیں بہت خوش. اداکارہ ثروت گیلانی کسی بھی کردار کو ایسے کرتی ہیں کہ اس میں ڈوب جاتی ہیں اور دیکھنے والے کو حقیقت کا گمان ہوتا ہے. ثروت گیلانی ٹی وی ڈراموں کے ساتھ ، ویب سیریز اور فلموں میں بھی کام کر چکی ہیں . انہوں نے حال ہی میں بتایا ہے کہ بالی وڈ اداکارہ پروین بابی ان کی خالہ ہیں اور انہوں نے آج تک یہ بات کسی سے اس لئے شئیر نہیں کی تھی کیونکہ ان کو لگتا تھا کہ جن لوگوں کا تعلق شاہی خاندان کے ساتھ ہوتا ہے وہ شیخیاں نہیں

    مارتے. اداکارہ نے کہا کہ گزشتہ 20 سال سے یہ بات میں نے راز رکھی ہے کہ ہمارے اجداد کا تعلق بابی شاہی خاندان سے ہے. یاد رہے کہ پروین بابی کا شمار ان اداکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسی کی دہائی میں بالی وڈ کی فلمی ہیروئینز کا تصور ہی بدل دیا. وہ بولڈ اور خوبصورت اداکارہ تھیں اور ان کی اداکاری اور حسن کے لاکھوں دیوانے تھے. پروین بانی نفسیاتی مسائل کا شکار ہو کر تنہائی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں تھیں،. تاہم اداکارہ ثروت گیلانی نے اب انکشاف کیا ہے کہ وہ ان کی خالہ تھیں اور انہوں نے خود ہی یہ بات لوگوں سے چھپائی.