Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • مخصوص نشستوں پر ارکان کا حلف، پنجاب اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل

    مخصوص نشستوں پر ارکان کا حلف، پنجاب اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس میں منتخب خواتین کی تین اور اقلیتوں کی دو مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے اراکین نے حلف اٹھا لیا،
    سپیکر پرویز الہی نے پانچ مخصوص نشستوں پر اراکین سے حلف لیا، خواتین کی تین مخصوص نشستوں پر بتول زین، سائرہ رضا اور فوزیہ عباس نے حلف اٹھایا، اقلیتوں کی دو مخصوص نشستوں پر ہبکوک رفیق اور سیموئیل یعقوب نے حلف اٹھایا،

    5 مخصوص نشستوں پر ارکان کا حلف، پنجاب اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل ،پی ٹی آئی کی تعداد 163 ہو گئی, مسلم لیگ ق کے ارکان کی تعداد 10 ہے مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 164 ہے, پیپلزپارٹی کی تعداد 7 ہے حکومتی اتحاد میں 4 آزاد اور ایک راہ حق پارٹی کارکن شامل ہے حکومتی اتحاد کی مجموعی تعداد 176 ہے ،پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کی تعداد 173 ہوگئی

    پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی کی عمارت کے احاطے میں لوٹوں کی علامتی اجتماعی سیاسی قبر بنا دی ۔علامتی قبر تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر پانچ اراکین کے دوبارہ حلف اٹھانے کے موقع پر بنائی گئی۔علامتی اجتماعی سیاسی قبر پر ”پانچ لوگوں کی اجتماعی سیاسی قبر،فاتحہ کی ضرورت ہے ”کا کتبہ بھی لگایا گیا ہے۔

    تحریک انصاف کی مرکزی رہنما و چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں تمام لوٹوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوںکی سیاسی تدفین ہو جائے گی ۔عوام ضمنی انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے لوٹوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔مخصوص نشستوں پر جو پانچ اراکین لوٹے ہوئے ان کی جگہ ہمارے نئے لوگ آ گئے ہیں ، ان شا اللہ ضمنی انتخابات میں باقی لوٹوں کی جگہ بھی ہمارے امیدوار کامیاب ہو کر ایوان میں پہنچیں گے۔ا نہوں نے کہا کہ 22جولائی کو جعلی وزیر اعلیٰ کے اقتدار کا سورج ہمیشہ کے لئے غریب ہو جائے گا

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی کی 5 مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی اراکین کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے فیصلے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،دو رکنی بنچ نے الیکشن کمیشن، تحریک انصاف کو 14 جولائی کیلئے نوٹس جاری کر دیئے جسٹس شاہد کریم اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی

    مسلم لیگ نواز نے منصور عثمان اعوان ایڈووکیٹ کی وساطت سے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ،وکیل ن لیگ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے پی ٹی آئی کے 5 اراکین کا مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فیصلہ دیا ہے، سنگل بنچ کا فیصلہ آئین کی غلط تشریح کی بنیاد پر کیا گیا ہے20 منتخب اور 5 مخصوص نشستوں پر نکالے گئے اراکین کے بعد اسمبلی کی نامکمل ہے،مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں کی تعداد کی بنیاد پر ہونا آئینی تقاضا ہے،سیاسی جماعتوں کی تعداد مکمل ہوئے بغیر مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ غیرآئینی ہے، دو رکنی بنچ لاہور ہائیکورٹ کا سنگل بنچ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم کرے،انٹرا کورٹ اپیل کے حتمی فیصلے تک سنگل بنچ کا فیصلہ اور الیکشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے،

    سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ جس طرح عام لوگ جوق در جوق عمران خان کے قافلے میں شامل ہو رہے ہیں اس سے حقیقی آزادی کیلئے جاری جدوجہد کا کامیاب ہونا نوشتہ دیوار ہے ،عمران خان نے سیاست کرتے ہوئے اور اپنے دور اقتدار میں کرپشن کے خلاف ،شفافیت ، میرٹ ، اصلاحات اورخود داری سے جینے کیلئے جو معیار متعارف کرائے ہیں اگر اب کسی نے پاکستان میں سیاست کرنی ہے تو انہیں اپنائے بغیر کامیابی ممکن نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضمنی حلقہ پی پی 158سے امیدوار میاں عثمان اکرم کے ہمراہ انتخابی مہم کے دوران مختلف علاقوں کے اکابرین سے ملاقاتوں اور کارنر میٹنگزسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر حلقے سے تعلق رکھنے والے با اثر سیاسی خاندانوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اور ضمنی انتخابات میں عمران خان کے نامزد کردہ امیدواروں کی حمایت کا اعلان بھی کیا ۔ ہمایوں اختر خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں عمران خان کی قیادت میں پہلی حکومت آئی تھی جس نے ٹھوس معاشی اصلاحات پر توجہ دی لیکن ایک سازش کے تحت رجیم چینچ آپریشن کے ذریعے ساڑھے تین سالوں کی محنت پر پانی پھیر دیا گیا ۔ گزشتہ مالی سال کے اقتصادی سروے کی رپورٹ موجودہ حکومت نے پیش کی ہے جس کے اعدادوشمار گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان درست سمت میں گامزن تھا اور معیشت میں کردار ادا کرنے والے ہر شعبے نے نہ صرف اپنا ہدف پورا کیا بلکہ اس سے بڑھ کر ترقی دکھائی ۔ زراعت ، لارج اسکیل مینو فیکچرننگ ، چھوٹی انڈسٹری غرضیکہ ہر شعبہ کارکردگی دکھا رہا تھا لیکن پاکستان کی ترقی کے دشمنوں کو یہ ہضم نہیں ہوا اور ملک کو ایک بار پھر تاریکی میں دھکیل دیا گیا جس کا عوام ضمنی انتخابات میں ضرور سوال پوچھیں گے ۔

  • ضمنی انتخابات 2018 کے ووٹر لسٹوں کے مطابق ہوں گے، الیکشن کمیشن کا عدالت میں بیان

    ضمنی انتخابات 2018 کے ووٹر لسٹوں کے مطابق ہوں گے، الیکشن کمیشن کا عدالت میں بیان

    پنجاب میں ضمنی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    صوبائی الیکشن کمیشن نے عدالت میں پیش ہو کر ووٹر لسٹوں سے متعلق یقین دہانی کرا دی، صوبائی الیکشن کمیشن نے کہا کہ ضمنی انتخابات 2018 کے ووٹر لسٹوں کے مطابق ہی ہو رہے ہیں, عدالت نے سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی

    شہری منیر احمد نے اظہر صدیق کی وساطت سے درخواست دائر کی تھی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر ، صوبائی الیکشن کمشنر کو فریق بنایا گیا تھا، دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کر دی ہے,ووٹر لسٹوں میں تبدیلی خلاف قانون ہے,کئی زندہ لوگوں کے ووٹوں کو مردہ قرار دیکر ووٹ ختم کر دیا گیا ہے,الیکشن کمیشن کے اس اقدام سے ضمنی انتخابات میں دھاندلی ہو سکتی ہے, صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے,لاہور ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کو تمام ووٹرز کے ووٹ اصل جگہ پر بحال کرنے کا حکم دے

    قبل ازیں زندہ ووٹرز کو مردہ ظاہر کرنے اور بڑی تعداد میں ووٹ دوسرے حلقوں میں منتقلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے الیکشن کمیشن پنجاب کو تحریری جواب داخل کرنے کو ہدایت کردی ،عدالت نے کیس کی سماعت 14جولائی تک ملتوی کردی عفالتی حکم پر الیکشن کمشنر پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کیس کی سماعت کی ،درخواست گزار کےوکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے، دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جان بوجھ کرزندہ ووٹرز کو مردہ ظاہرکیا بڑی تعداد میں ووٹوں کو دوسرے حلقوں میں ٹرانسفر کر کے دھاندلی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    پنجاب اسمبلی کی 5 مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی اراکین کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے فیصلے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،دو رکنی بنچ نے الیکشن کمیشن، تحریک انصاف کو 14 جولائی کیلئے نوٹس جاری کر دیئے جسٹس شاہد کریم اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی

    مسلم لیگ نواز نے منصور عثمان اعوان ایڈووکیٹ کی وساطت سے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ،وکیل ن لیگ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے پی ٹی آئی کے 5 اراکین کا مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فیصلہ دیا ہے، سنگل بنچ کا فیصلہ آئین کی غلط تشریح کی بنیاد پر کیا گیا ہے20 منتخب اور 5 مخصوص نشستوں پر نکالے گئے اراکین کے بعد اسمبلی کی نامکمل ہے،مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں کی تعداد کی بنیاد پر ہونا آئینی تقاضا ہے،سیاسی جماعتوں کی تعداد مکمل ہوئے بغیر مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ غیرآئینی ہے، دو رکنی بنچ لاہور ہائیکورٹ کا سنگل بنچ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم کرے،انٹرا کورٹ اپیل کے حتمی فیصلے تک سنگل بنچ کا فیصلہ اور الیکشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے،

  • وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا

    وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کا ضابطہ اخلاق جاری کردیا جس کے مطابق اسمبلی کے 40 ویں اجلاس کی اگلی نشست وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ہوگی پنجاب اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 4 بجے ہوگا جس میں اسٹاف اور اراکین کے مہمانوں پر پابندی ہوگی۔

    گیلریز میں بھی کوئی مہمان نہیں آسکے گا تاہم صحافیوں کومیڈیا گیلری سے کوریج کی اجازت ہوگی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف تحریک انصاف کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ منحرف ارکان کے 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کی جائے جب کہ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے فیصلےکےکچھ نکات سے اختلاف کرتے ہوئے حمزہ شہباز کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا تھا

    جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں5 رکنی لارجربینچ نے تحریک انصاف کی درخواستوں پر سماعت کی تھی لارجر بینچ میں جسٹس صداقت علی خان کے علاوہ جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس طارق سلیم شیخ اورجسٹس شاہد جمیل خان شامل تھے۔

    پی ٹی آئی کی درخواستوں پر 4کے مقابلے میں ایک کا فیصلہ آیاتھا جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے 4 ججز کے فیصلےکے کچھ نکات سے اختلاف کیا اور تحریری حکم نامے میں اختلافی نوٹ لکھا تھا جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اختلافی نوٹ میں حمزہ شہباز کی کامیابی کو کالعدم قراردیا تھا اور عثمان بزدار کو بحال کرنےکا نوٹ بھی لکھا۔

    4 رکنی بینچ کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ نئے الیکشن کا حکم نہیں دیاجاسکتا دوبارہ الیکشن کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہوگا، ہم پریزائیڈنگ افسر کے نوٹیفکیشن کو کالعدم کرنے کا بھی نہیں کہہ سکتے، عدالت پریزائیڈنگ افسر کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔

    عدالت نے حکم دیا تھا کہ منحرف ارکان کے 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کی جائے، دوبارہ رائے شماری میں جس کی اکثریت ہوگی وہ جیت جائےگا، اگر کسی کو مطلوبہ اکثریت نہیں ملتی تو آرٹیکل130چار کے تحت سیکنڈ پول ہوگا، 25 ووٹ نکالنے کے بعد اکثریت نہ ملنے پر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر قائم نہیں رہیں گے۔

  • لاہور ہائیکورٹ  نےوزیر اعلیٰ پنجاب  الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے کل 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئیاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    عدالتی کاروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنیوالے وی لاگرزکیخلاف کاروائی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کیس کی سماعت کی رپورٹنگ پر میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں،چند وی لاگرز نےعدالتی کارروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ،ایف آئی اے اور پیمرا ایسے وی لاگرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اگرکوئی بھی درخواست دے گا توکارروائی کے بعد ایسے وی لاگرزکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،

    ،جسٹس ساجد سیٹھی کا فیصلے میں اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں ،ڈپٹی اسپیکرکو وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ کرانا چاہیے،دوبارہ انتخاب ان امیدواروں کے درمیان ہونا چاہیے جنہوں نے زیادہ ووٹ لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 جولائی شام 4 بجے بلایا جائے ،اجلاس 2 جولائی کو بلانے کا مقصد دورسے آنے والے اراکین کو سہولت دینا ہے،پنجاب اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ضروری ہے کہ اراکین کو وقت دیا جائے،وزیراعلیٰ کا دوبارہ انتخاب کا حکم دینا سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا ،ہائیکورٹ کا ڈویژنل بینچ صاف ،شفاف اورغیر جانبدارالیکشن کرانے کا حکم دینے کا مجاز ہے، 25 منحرف اراکین کے ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کے حق میں 172 ووٹ رہ جاتے ہیں،حمزہ شہبا زوزیراعلیٰ کے آفس میں ایک اجنبی ہیں حمزہ شہبا زعہدے پر فائز رہے تو مخالف فریق پر سیاسی برتری ہوگی حمزہ شہبا ز کا بطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن منتخب ہونے کے دن سے کالعدم قرار دیا جائے،عثمان بزدار کی جگہ حمزہ شہبا زکا بطور وزیراعلیٰ انتخاب بھی کالعدم قراردیا جاتا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے انتخاب کے لیے بلایا جانے والا اجلاس بھی غیر قانونی ہے، عثمان بزدارکو بطوروزیراعلیٰ کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی ہے ،حمزہ شہبا ز کی طرف سے 30 اپریل سے آج تک کے احکامات برقراررہیں گے

    لاہورہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواستوں کو نمٹا دیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظورکر لی گئی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے انتخاب کالعدم قراردے دیا، فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا جسٹس ساجد محمودسیٹھی نے فیصلے سے مشروط اختلاف کیا

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا ہے کہ عدالت نے وزیراعلیٰ حمزہ شہبازکا حلف کالعدم قراردیا ہے،ہماری درخواستیں منظورہوئی ہیں ہم نے آئین ،قانون اور انصاف کی بات کی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمز ہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے ،فیصلے میں کہا گیا جو وز یراعلیٰ ڈیفکٹو کے ووٹ سے منتخب ہواوہ ٹھیک نہیں ،

    گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل نےلاہورہائیکورٹ میں دلائل مکمل کر لیے تھے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان ،محمود الرشیدم راجہ بشارت لاہور ہائیکورٹ میں موجود تھے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر اور اظہر صدیق بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے وکیل منصور اعوان جبکہ تحریک انصاف کے علی ظفر اور ق لیگ کے وکیل عامر سعید نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیئے تھے۔ صدر مملکت کی نمائندگی احمد اویس، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی کی بیرسٹر علی ظفر اور امتیاز صدیقی نے کی تھی

    لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پنجاب کے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ہم پر جو عذاب مسلط تھا وہ اب نہیں رہا،فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اب عثمان بزدار نگران وزیر اعلی ٰہیں

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

    وزیراعلیٰ پنجاب بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ، ن لیگ کا خیر مقدم،تحریک انصاف کا چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر پوری قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں ،عمران خان کا موقف درست ثابت ہوا، ہم پچھلی صورتحال میں واپس چلے گئے ہیں حمزہ شہبا ز نے جو بھی فیصلے کیے وہ تمام کالعدم ہوگئے،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے نے پنجاب کے سیاسی بحران میں مزید اضافہ کر دیا ،حمزہ کی حکومت برقرار نہیں رہی لیکن جو حل دیا گیا ا س سے بحران ختم نہیں ہو گا،فیصلے میں کئی خامیاں ہیں لیگل کمیٹی کی میٹنگ بلا لی ہے ہائیکورٹ کے فیصلے میں خامیوں کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے،

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماوں کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، پنجاب کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم کورٹ کے ہر فیصلے کا احترام کر تے ہیں، پچھلے انتخاب کا تسلسل رہے گا، ہماری تعداد 177 ہے، ہم 9 ووٹوں سے آگے ہیں، کلیئر فیصلہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،ابھی تک ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم پھر جیت جائیں گے خوش آئند فیصلہ ہے، تسلیم بھی کرتے ہیں اور عمل بھی کریں گے، تحریک انصاف کہہ رہی ہے وہ اپیل میں جائیں گے، ضرور جائیں،رانا مشہود کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جو دھوکہ عوام سے کرتی رہی آج بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی،الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو کارروائی عدالت کرے گی،کلیئر فیصلہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ ، ن لیگ نے حکمت عملی طے کر لی ارکان پنجاب اسمبلی کو آج ہوٹل ٹھہرایا جائے گا حمزہ شہباز کےہمراہ کل تمام ارکان اکھٹے پنجاب اسمبلی اجلاس میں جائیں گے، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے خلاف عمران خان کے جرائم کی فہرست طویل ہے،منی گالہ گینگ کے ذریعے پنجاب کے پیسہ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا گیا، پنجاب کے عوام کو ان کے حق سے محروم کر کے مشکلات پیدا کیں،م

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے قانونی اور سیاسی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی علی ظفر ایڈووکیٹ ، مونس الہٰی ، راجہ بشارت مشاورت میں شریک تھے حسین جہانیاں گردیزی ، حافظ عمار یاسر بھی مشاورت میں شریک تھے علی ظفر ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلے پر شرکا کو بریفنگ دی ہائیکورٹ کے فیصلے میں بعض ابہام کی طرف بھی بریفنگ میں نشاندہی کی گئی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے11 آدمی حج پر چلے گئے ہیں،پہلے ہاوس مکمل کریں پھر گنتی کرائی جائے،پسمجھ نہیں آرہا کہ12گھنٹے دیئے گئے ہیں،لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں،پ

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

  • تحریک انصاف  اور پنجاب حکومت کے وکیل ہدایات لے کر پیش ہوں،لاہور ہائی کورٹ کا حکم

    تحریک انصاف اور پنجاب حکومت کے وکیل ہدایات لے کر پیش ہوں،لاہور ہائی کورٹ کا حکم

    لاہور ہائی کورٹ میں وزیراعلی حمزہ شہباز کے حلف کے فیصلے اور گورنر کے اختیارات کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت ہوئی۔

    باغی ٹی وی : سماعت کے دوران عدالت نے اہم ریمارکس میں کہا کہ 25 ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جائے گا اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جاتا ہے تو حمزہ شہباز کا نوٹیفکیشن ختم ہو جائے گا۔

    مون سون بارشوں کا پہلا اسپیل رواں ہفتے ہی شروع ہونے کا امکان

    عدالت نےکہا کہ کیس کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتے ہیں ایڈو وکیٹ جنرل پنجاب حکومت سےہدایت لےکربتائیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جا سکتا ہے تحریک انصاف اور پنجاب حکومت کےوکیل ہدایات لے کر پیش ہوں۔

    عدالت کی معاونت کریں کہ اگر ہم اجلاس دوبارہ 16 اپریل کی تاریخ پر لے جائیں اور پولنگ دوبارہ ہو تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ایسی صورت میں پولنگ وہی پریزائڈنگ افسر کروائے گا جس نے 16 تاریخ کو کروائی۔

    وکیل تحریک انصاف نےکہا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے پولنگ کو بھی چیلنج کیا ہے۔عدالت نےکہاکہ الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کروائے گا کیونکہ اس پر لاہورہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج نہیں کیا گیا۔

    جسٹس شاہد جمیل نے کہا کہ وزیر اعلی کا آفس کسی صورت خالی نہیں رہ سکتا۔جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حمزہ کے پاس اکثریت نہیں رہی اگر اسپیکر 25ووٹ نکال کر الیکشن کرواتا ہے تو اکثریت رکھنے والا وزیراعلیٰ بن جائے گا اور دوبارہ حلف ہوگا۔

  • حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت کرنیوالا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت کرنیوالا بینچ پھر ٹوٹ گیا

    حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت کرنیوالا بینچ پھر ٹوٹ گیا،

    لاہور ہائی کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت ہوئی ،لاہور ہائی کورٹ نے درخواست لارجربینچ کوسماعت کیلئے بھجوا دی ،عدالت نے کہا کہ لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے تو معاملہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ہے،لارجربینچ بار بار پوچھ رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق کیسے ہو گا؟ بیرسٹر علی ظفر نے استدعا کی کہ درخواست کو علیحدہ سنا جائے،اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ سارے معاملے کو حمزہ شہباز ضمنی انتخابات پر لٹکانا چاہتے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ن لیگی وکیل نے اعتراض کیا ،لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی عدالت نے درخواست لارجر بینچ میں لگانے کی سفارش کردی عدالت نے درخواست لارجر بینچ میں لگانے کی سفارش کردی

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو پی ٹی آئی نے اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا اور انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی ، انٹرا کورٹ اپیل میں حمزہ شہباز ، وزیر اعظم اور صدر کو بذریعہ سیکرٹری اور گورنر کو بذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنایا گیا ہے ممبران صوبائی اسمبلی کی جانب سے ایڈوکیٹ اظہر صدیق اور رانا مدثر نے اپیل دائر کی انٹرا کورٹ اپیل میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کیخلاف ہے,ہائیکورٹ کیجانب سے حلف کی معیاد مقرر کرنا صدر اور گورنر کی عہدے کی توہین ہے،

    ایڈوکیٹ اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کیخلاف ہے،ہائیکورٹ کیجانب سے حلف کی معیاد مقرر کرنا صدر اور گورنر کی عہدے کی توہین ہے،لاہور ہائیکورٹ کے پاس گورنر اور صدر کیخلاف کوئی بھی کارروائی کا اختیار نہیں آئین کا آرٹیکل 248 مکمل صدر اور گورنر کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے

  • تماشا لگایا ہوا ہے،عدالتی آڈر موجود ہے جواب نہیں جمع کروایا گیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

    تماشا لگایا ہوا ہے،عدالتی آڈر موجود ہے جواب نہیں جمع کروایا گیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

    لاہور ہائیکورٹ میں عثمان بزدار کو سابق وزیر اعلیٰ کی مراعات لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو ساڑھے10 بجے طلب کر لیا ،عدالت نے متعلقہ فریقین کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر اظہار برہمی کیا ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تماشا لگایا ہوا ہے ،عدالتی آڈر موجود ہے جواب نہیں جمع کروایا گیا میں شوکاز نوٹس جاری کرتا ہوں، عدالت نے سرکاری وکیل کی استدعا پر سماعت ساڑھے 10بجے تک ملتو ی کردی

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں ضمنی الیکشن سے پہلے ترقیاتی فنڈز کا اجرا روکنے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی ڈی سی فیصل آباد سمیت دیگر افسران نے تفصیلی ریکارڈ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کردیا ، جواب میں کہا گیا کہ تمام فنڈز ضمنی انتخابات کے شیڈول سے قبل جاری ہوئے عدالت نے جواب کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد جواب تسلی بخش قرار دے دیا لاہور ہائیکورٹ نے درخواست کو افسران کے جواب کی روشنی میں نمٹا دیا ،درخواست گزار نے درخواست میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مختلف حلقوں میں ضمنی الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا،عدالت انتظامیہ کو ترقیاتی منصوبوں پر کام روکنے کا حکم دے،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    نیب نے فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    عثمان بزدار نے سیمنٹ فیکٹری کے 16 لائسنس بیچے،مفتاح اسماعیل کا دعویٰ

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں نان اور روٹی کی قیمتیں مقرر کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،عدالت نے فریقین کے وکلا حتمی بحث کے لیے طلب کر لیا اور کیس کی سماعت 22جون تک ملتوی کر دی،تندور مالکان کو ہراساں کرنے سے روکنے کے حکم امتناعی میں بھی توسیع کر دی گئی ڈی سی لاہور اور دیگر فریقین نے اپنا تحریری جواب داخل کروا دیا

  • بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    بلاول کی نااہلی کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 30روز میں فیصلے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے بلاول بھٹو زرداری کی نااہلی کے لئے دائر متفرق درخواست نمٹاتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بھجواتے ہوئے 30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ میں پاکستان پیپلز پا رٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی نااہلی کے لئے متفرق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس شمس محمود مرزا نےپاکستان نژاد امریکی شہری سید اقتدار حیدر کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ درخواست پر ایک ماہ میں فیصلہ کرے۔

    چیف الیکشن کمشنر کا ڈسکہ انکوائری رپورٹ 2 روز میں پبلک کرنے کا فیصلہ

    درخواست میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور بلاول بھٹو زرداری کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا کہ اس وقت دو پیپلز پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں، ایک کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں، دوسری پیپلز پا رٹی پارلیمنٹرین کے نام سے رجسٹرڈ ہے، جس کے سربراہ آصف علی زر داری ہیں۔

    درخواست گزار نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے این اے 200 لاڑکانہ سے الیکشن پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے ٹکٹ پر لڑا، ان کا اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا الیکشن ایکٹ 2017کی خلاف ورزی ہے، اس غیر آئینی اقدام کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواستیں دیں جن پر کمیشن فیصلہ نہیں کر رہا، عدالت الیکشن کمیشن کو درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دے۔

    خیبر پختونخوا محکمہ ٹرانسپورٹ کا پرانی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ

    درخواست گزارسید اقتدار حیدر نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن قوانین کے تحت کوئی سیاسی جماعت کسی دوسری جماعت کا پرچم اور انتخابی نشان استعمال نہیں کر سکتی جب کہ بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرین کے انتخابی نشان تیر کو استعمال کیا بلاول بھٹو کا اقدام الیکشن ایکٹ کے سیکشن دوسوپندرہ کی ذیلی شق تین کی خلاف ورزی ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے پرچم کو غیر قانونی طور پر اپنی جماعتی سرگرمیوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں آصف علی زرداری کا اقدام الیکشن ایکٹ کے سیکشن 200 کی خلاف ورزی ہے، لہذا عدالت بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کو نااہل قرار دے۔

    صدرملکی معاملات میں رکاوٹ نہیں بنتےمگرہمارے صدربن چکے ہیں،شاہد خاقان عباسی

  • حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے کا معاملہ:  فریقین کو نوٹسز جاری، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب

    حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے کا معاملہ: فریقین کو نوٹسز جاری، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب

    لاہور ہائی کورٹ میں حمزہ شہباز الیکشن کالعدم قرار دینے اور تمام تر اختیارات کو ناجائز دینے کا معاملہ جسٹس شجاعت علی خان نے سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دئیے –

    باغی ٹی وی :عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 جون کو اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے جواب طلب کر لیا لاہور ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل سماعت بنچ سماعت کر رہا تھا اس میں وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ حمزہ شہباز کا الیکشن قانون اور آئین کے مطابق نہیں ہوا-

    الیکشن کمیشن وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر جو ہدایت کی گئ اس نے قوانین سے انحراف کیا اور 24،اور 28 اپریل کو حط لکھے گئے کہ آپ نے الیکشن غیر قانونی طریقے سے کروایا یہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے حلاف کیا گیا 17 مئی کو باقاعدہ طور ڈپٹی سپیکر پر نااہلی کا ریفرنس بھی دائر کر دیا گیا-

    اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مسلم لیگ ن خود گئی صوبائی الیکشن کے خلاف سپریم کورٹ گئے اور سات اپریل کو جب آڈر پاس ہوا اس وقت درخواست زیر سماعت تھی جب آرڈر پاس ہوا حکومت پنجاب کو سپریم کورٹ نے سارہ معاملہ سنا آئین کے آرٹیکل 63-A کا اطلاق ماضی سے ہی ہوگا-

    وکیل نے کہا کہ آئین کی تشریح 63اے کے تحت اور ساتھ یہ بھی کہہ کہ ان کی ڈی نوٹیفیکیشن کے مطابق قانون سازی بھی کی جائےسپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا دیا کہ منحرف ہونا ایک ناسور ہے اور ہی کینسر ہے اسے ختم ہونا چاہیے آج ان لوگوں کو کیسے اجازت دی جاسکتی ہیں کہ یہ اور الیکشن کو کیسے ٹھیک کر دیا گیا جائے –

    سرکاری وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت پنجاب اسمبلی کا الیکشن چلینج نہیں کیا جاسکتا اس بنیاد پر درخواست قابل سماعت نہیں

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن نےقومی اسمبلی میں اس آرٹیکل کے خلاف بحث کی تھی اور سپریم کورٹ نے پارلیمان کی اندر کی کاروائی کالعدم قرار دی ان کی سادہ اکثریت نہیں تھی 197 ووٹ کاسٹ ہوئے اور منحرف اراکین کے ووٹ نکال دیں تو 172 رہ جاتے ہیں چیف سیکرٹری کو بھی حط لکھا گیا کہ اپنا نوٹفکیشن واپس کریں جس کے تحت حمزہ شریف کو وزیر اعلی منتخب کیا حمزہ شہباز کی تعیناتی قانون اور آئین کے خلاف ہیں جتنی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کی گئی ہیں وہ بھی غیر آئینی ہیں اسپیکر نے الیکشن اپنے طریقے کار سے کروائے ہیں-

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،درخواست ناقابل سماعت قرار

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،درخواست ناقابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا میں فیصلہ کروں کہ پیٹرول کی قیمت کیا ہونی چاہیے؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت کا کام ہے حکومت فیصلہ کرے کہ پیٹرول کی قیمت کیا ہونی چاہیے اس طرح کی غیر ضروری درخواستیں کیوں دائر کرتے ہیں؟ عدالت نے درخواست گزار کو وزیراعظم ک انام فریق کےطور پر واپس لینے کی ہدایت کردی

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کیا گیا تھا جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو چیلنج کیا ،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات میں 60 روپے تک اضافہ کیا گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ پر اثر پڑے گا، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری کالعدم قرار دے

    حکومت پاکستان نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30، 30 روپے کا اضافہ کردیا ہے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے ملک میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کردی گئی

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پیٹرول پرسبسڈی ناقابل برداشت ہے ،پیٹرول پرسبسڈی کے باعث ڈیفالٹ کی طرف جا رہے تھے،عمران خان نے پیٹرول پر 30روپے لیوی عائد کیا جو معاشی مشکلات ہیں وہ عمران خان کے معاہدے کے باعث ہیں،کوئلے کے پلانٹ نہیں چل رہے عوام سمجھتے ہیں کہ یہ مہنگائی اور تباہی عمران خان کی ہے، عمران خان نے فروری میں روس سے تیل کیوں نہیں لیا عمران خان کی وجہ سے مہنگائی آئی ہے، 5 ہفتے میں ختم نہیں ہوسکتی، جیسے ہی بجٹ آئے گا تو ہم مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کریں گے،اگست 2023 تک مدت ہے تب تک یہ اسمبلیاں چلتی رہیں گی،

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت