Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • آپ کے پاس یہ اختیار نہیں کسی کو کام سے روک سکیں،لاہور ہائیکورٹ

    آپ کے پاس یہ اختیار نہیں کسی کو کام سے روک سکیں،لاہور ہائیکورٹ

    آپ کے پاس یہ اختیار نہیں کسی کو کام سے روک سکیں،لاہور ہائیکورٹ

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو کام سے روکنے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے احمد اویس کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو عہدے سے ہٹائے جانے کا آڈر پیش کرنے کا حکم دے دیا ،جواد یعقوب نے کہا کہ محکمہ قانون پنجاب نے 4 مرتبہ کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس یہ اختیار نہیں کسی کو کام سے روک سکیں، آپ ایڈووکیٹ جنرل کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کے کیس میں پیش نہ ہو،جواد یعقوب نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں احمد اویس آج بھی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ہیں،گزشتہ روز لارجر بینچ میں احمد اویس بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پیش ہوئے،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہوں گے،عدالت نے اس کیس میں بطور معاون طلب کیا ہے، وکیل شفقت چوہان نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو زبردستی آفس سے نکالا گیا،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے آفس کو تالے لگا دئیے گئے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا حق نہیں بنتا کہ انکی جگہ ذمہ داری نبھائیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تب ہی آئے جب انہیں بلایا گیا،اس سسٹم کو اچھا بنائیں، چلنے دیں، کل کو آپ کو بھی سامنا کرنا پڑے گا ،جس جگہ سے آپ آتے ہیں تو اس سے جانا بھی ہوتا ہے،میں نے کبھی یہ تنازعے نہیں دیکھے اب شروع ہو چکے ہیں ،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت کی ایما کیخلاف عدالت میں جواب جمع کروایا جا رہا ہے لاہورہائیکورٹ نے تحریری طور پر جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے احمد اویس کو ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر کام کرنے کی اجازت دے دی ،عدالت نے کہا کہ حکومت لکھ کر دے کہ احمد اویس کوذ مہ داریاں پوری کرنے سے نہیں روکے گی

    قبل ازیں حکومت پنجاب کے 19 لا افسران نے کام سے روکنے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،چیف جسٹس ہائیکورٹ حکومت پنجاب کے 19 لا افسران کی درخواست پر آ ج سماعت کریں گے لاہور ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں محکمہ قانون پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل آفس سمیت دیگر فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ محکمہ قانون پنجاب نے قواعد وضوابط اور قانون کے برعکس کام کرنے سے روکا، محکمہ قانون کام سے روکنے اور عہدوں سے ہٹانے کا مجاز نہیں ہے لاہور ہائیکورٹ محکمہ قانون کا کام سے روکنے کا اقدام کالعدم قرار دے،

    دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے 15 نئے لا افسران نے چارچ سنبھال لیا

    قتل کے مقدمے میں نامزد رکن اسمبلی کے فرار کی ویڈیو سامنے آ گئی

    امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید

    اے آروائی مالکان عمران کو پاکستان پرمسلط کرنیکی سازش کے سپانسرزہیں،خواجہ سعد رفیق

    عمران خان کنٹینر میں تھے، کنٹینر میں ہیں اورکنٹینر میں رہیں گے ،مرتضیٰ وہاب

  • آپ اپنے دلائل واضح انداز میں دیں،لاہور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی وکیل کو حکم

    آپ اپنے دلائل واضح انداز میں دیں،لاہور ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی وکیل کو حکم

    حمزہ شہباز کی حلف برداری کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت 26 مئی تک ملتوی کر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیئے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں حلف لینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر مسترد کیا جا سکتا ہے ، آپ تقریر کر کے چلے جائیں گے جو ہمارے سر کے اوپر سے گزر جائےگی ،عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل واضح انداز میں دیں، وکیل نے کہا کہ اس وقت صوبے میں کوئی حکومت نہیں،جسٹس صداقت علی نے کہا کہ 27 اے کے نوٹس میں احمد اویس نے بہترین جواب جمع کرایا، آرٹیکل 69 کے تحت اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں ہوسکتی،لیکن اب سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آچکا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک ونڈو اوپن ہوگئی ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں تحریری جواب جمع کرا دیا

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو پی ٹی آئی نے اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا اور انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی ، انٹرا کورٹ اپیل میں حمزہ شہباز ، وزیر اعظم اور صدر کو بذریعہ سیکرٹری اور گورنر کو بذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنایا گیا ہے ممبران صوبائی اسمبلی کی جانب سے ایڈوکیٹ اظہر صدیق اور رانا مدثر نے اپیل دائر کی انٹرا کورٹ اپیل میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کیخلاف ہے,ہائیکورٹ کیجانب سے حلف کی معیاد مقرر کرنا صدر اور گورنر کی عہدے کی توہین ہے،

    ایڈوکیٹ اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کیخلاف ہے،ہائیکورٹ کیجانب سے حلف کی معیاد مقرر کرنا صدر اور گورنر کی عہدے کی توہین ہے،لاہور ہائیکورٹ کے پاس گورنر اور صدر کیخلاف کوئی بھی کارروائی کا اختیار نہیں آئین کا آرٹیکل 248 مکمل صدر اور گورنر کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے

  • لاہور ہائیکورٹ : پنجاب کی ماتحت عدالتوں کے ججز کے تقرر و تبادلے

    لاہور ہائیکورٹ : پنجاب کی ماتحت عدالتوں کے ججز کے تقرر و تبادلے

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ماتحت عدالتوں کے ججز کے تقرر و تبادلے کردیئے

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ نے 11 سیشن ججز جبکہ 54 ایڈیشنل سیشن ججز سمیت ایک سول جج کے تقرر تبادلے کیے. چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا-

    پنجاب بھر میں بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پرتبادلے

    نوٹیفیکیشن کے مطابق سیشن جج ملتان مشتاق اوجلہ کو اٹک تعینات کردیا، سیشن جج اٹک محمد اکرم کو خانیوال تعینات کردیا ہے جبکہ سیشن جج ابراہیم کو راجن پور سے لیہ تعینات کردیا گیا سیشن جج شاہد اسلام کو بھکر ،شوکت کمال کو وہاڑی تعینات کردیا گیا ہے –

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق سیشن جج لیہ غفار مہتاب کو ٹوبہ ٹیک سنگھ تعینات کردیا گیا ہے
    ایڈیشنل سیشن جج دلدار شاہ کو خانیوال سے فیروز والا تعینات کردیا گیا، ایڈیشنل سیشن جج ثاقب فاروق کو وہاڑی سے فیصل آباد تعینات کردیا گیا ہے-

    فوج اورعدلیہ کے خلاف مواد نشر کرنے پر قانونی کاروائی کی جائے گی،پیمرا کی الیکٹرانک…

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں حمزہ شہباز نے ملاقات کے دوران پنجاب بھر میں بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پرتبادلے کا فیصلہ کیا جس کے مطابق فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، گجرات سمیت دیگر اضلاع میں کمشنر، ڈپٹی کمشنرز تبدیل کیے جائیں گے آئی جی پنجاب اور کمشنر لاہور کو فوری طور پر تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کام نہ کرنے والے محکموں کے سیکرٹریز کو تبدیل کیا جائیگا، ہر محکمے کی ہفتہ وار رپورٹ وزیراعلیٰ خود لیں گے-

    پسنجر سیفٹی، سہولیات اور پنکچوئلٹی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے،سی ای او پاکستان ریلوے

  • حمزہ شہباز حلف،عدالت لارجر بینچ بنانے کی سفارش کرتی ہے ،تحریری حکمنامہ

    حمزہ شہباز حلف،عدالت لارجر بینچ بنانے کی سفارش کرتی ہے ،تحریری حکمنامہ

    اب تواس پرلارجربینچ بنناچاہیے،حمزہ شہباز کا حلف رکوانے کی درخواست پر عدالت کے ریمارکس

    لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کے حلف کے حکم کیخلاف تحریک انصاف کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا
    جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ نے تحریری فیصلہ جاری کیا ،تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ عدالت معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے لارجر بینچ بنانے کی سفارش کرتی ہے، درخواست میں اہم قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے گیے ہیں عدالت مناسب سمجھتی ہے کہ کم از کم پانچ یا اس سے زیادہ معزز ججوں پر مشتمل ایک لارجر بینچ کی تشکیل دیا جائے، عدالت پیرا 9 حزف کرنے کا حکم دیتی ہے، پیرا 9 میں صدر اور گورنر سے متعلق آبزرویشن دی گئی تھی، درخواست گزار نے بتایا کہ صدر اور گورنر کو فریق نہیں بنایا گیا، درخواست گزار نے بتایا کہ صدر اور گورنر کے خلاف منفی ریمارکس دئیے گیے جو خارج کیے جائیں سنگل بینچ کی درخواست قابل سماعت نہیں تھی, توہین عدالت کی درخواست دائر ہوسکتی تھی، وکیل کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر سمیت کسی مخصوص شخص کو نامزد کرنے کا اختیار نہیں ہے،اگر اپیل کنندگان کی طرف سے کوئی اور درخواست دائر کی گئی ہے تو اسکو بھی ساتھ سنا جائے گا،

    قبل ازیں لاہورہائیکورٹ میں حمزہ شہباز حلف کا حکم نامہ رکوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی تحریک انصاف کے وکیل اظہر صدیق روسٹرم پر موجود تھے ،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ حلف سے پہلے درخواست پر سماعت ہو جاتی حلف ہو چکا ہے، ہمارے 3 اعتراضات ہیں، جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے استفسار کیا کہ اگر حلف ہو گیا ہے تو آپ نے تو حکم چیلنج کیا ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ معاملے پر سپریم کورٹ کی فیصلے موجود ہیں، جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ اب تو اس پر لارجر بینچ بننا چاہیے،

    اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدالت سے استدعا کی کہ میرے پاس انٹراکورٹ اپیل اور سپریم کورٹ کا حق ہے میں نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کو دیکھا جائے،جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ ایسی صورت حال میں عدالتی حکم پر عمل کے لیے آئے،جسٹس طارق سلیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں کہ عمل نہ ہونے پر صورت حال تبدیل نہیں ہوئے،عدالت ریلیف کو مولڈ بھی تو کر سکتی ہے، اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدالت نے تیسرا راستہ لیا جو آئین میں نہیں ہے، جسٹس ساجد محمود سیٹھجی نے استفسار کیا کہ اگر پارلیمنٹ کورٹ آڈر پر عمل نہ کرے تو پھر عدالت کیا کرے؟ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ متاثرہ فریق ہیں؟ اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ کابینہ بحال ہوچکی،استعفیٰ مسترد ہو گیا ہے،یہاں حلف لے لیا گیا ہے،تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ 3 فیصلے ہوئے، جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پر نوٹس کر دیتے ہیں،اظہر صدیق نے کہا کہ تین فیصلے آئے اس پر قانون کا سوال ہے، جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ ہم تو ایمرجنسی میں آئے ہیں،ہم لارجر بینچ بنانے کی ہدایت کر دیتے ہیں،عدالت نے چیف جسٹس سے معاملے ہر لارجر بینچ بنانے کی سفارش کردی

    تحریک انصاف کے وکیل نے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کردی لاہورہائیکورٹ نے پیرا 9 حذف کرنے کی استدعا منظور کر لی ،عدالت نے صدر اور گورنر سے متعلق ریمارکس حذف کرنے کی استدعا منطور کر لی، عدالت نے صدر اور گورنر کیخلاف ریمارکس اور آبزرویشن ختم کرنے کی استدعا منظورکر لی،

    قبل ازیں پی ٹی آئی وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ حلف اٹھا لیا گیا لیکن ہماری درخواست پر سماعت نہیں ہو سکی،ججز چیمبر میں موجود لیکن ہائیکورٹ رجسٹرار آفس فائل نہیں لے کر آیا، ہمیں جو خدشہ تھا وہی ہوا،

    قبل ازیں قبل ازیں لاہورہائیکورٹ فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی اراکین پنجاب اسمبلی نے اپیل دائر کی تھی، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ عدالت کے تینوں فیصلوں میں تضاد ہے ،رات کو انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے آئے تھے مگر ڈائری صبح کے وقت ہوتی ہے وکیل پی ٹی آئی اظہر صدیق نے کہا کہ ہم نے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی ہے،لاہور ہائیکورٹ کے 3 فیصلے حقائق کے برعکس ہیں گورنر اور صدر کو عدالت ہدایات نہیں دے سکتی اپیل کرنے کا حق چھیننے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے- وکیل پی ٹی آئی اظہر صدیق نے کہا کہ 11بجے سے پہلے پہلے اس اپیل پر سماعت ہونی چاہیے تاریخ میں یہ تینوں فیصلے نہیں رہنے

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

    قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ

    حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

  • پرویزالٰہی کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار

    پرویزالٰہی کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار

    اسپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما پرویز الٰہی نے لاہور ہائیکورٹ کا حمزہ شہباز کی حلف برداری سے متعلق فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کا کہنا ہے صدر اور گورنر کو بائی پاس نہیں کیا جا سکتا، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آج وکلا عدالتوں میں پیش ہوں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور ان کی کابینہ کو بحال کردیا گیاہے،پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعویٰ

    پرویز الٰہی نے عدالتوں میں چھٹی کے سوال پر کہا کہ یہ ایک عدالت نہیں، اللہ کی عدالت بھی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے انٹرا کورٹ اپیل کی گئی کہ وزیر اعظم کی پہلے سے بھیجی گئی سمری ابھی ایوان صدرمیں ہے، صدر یا گورنر ہی کسی اور شخصیت کو حلف لینے کے لیے نامزد کر سکتے ہیں۔

    ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ عدالت کے تینوں فیصلوں میں تضاد ہے ،رات کو انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے آئے تھے مگر ڈائری صبح کے وقت ہوتی ہے ہم نے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی ہے،لاہور ہائیکورٹ کے 3 فیصلے حقائق کے برعکس ہیں گورنر اور صدر کو عدالت ہدایات نہیں دے سکتی اپیل کرنے کا حق چھیننے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے-

    خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے کا حکم دیا ہے۔

    گورنر پنجاب کیجانب سے عثمان بزدار کا استعفیٰ مسترد کرنا غیر قانونی ہے، سلمان اکرم راجہ،صورتحال کشیدہ…

  • ہائیکورٹ تو آرڈر پاس کر چکی ہے آپ توہین عدالت دائر کر لیتے،عدالت

    ہائیکورٹ تو آرڈر پاس کر چکی ہے آپ توہین عدالت دائر کر لیتے،عدالت

    ہائیکورٹ تو آرڈر پاس کر چکی ہے آپ توہین عدالت دائر کر لیتے،عدالت

    حمزہ شہبازکی حلف لینے سے متعلق تیسری درخواست پرسماعت ہوئی لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی حلف نہ لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جسٹس جواد حسن نے وکلاء کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا

    حمزہ شہباز کے وکیل اشتر اوصاف اور خالد اسحاق عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا ،گورنر پنجاب نو منتخب وزیر اعلی سے حلف نہیں لے رہے ،ہائیکورٹ نے گورنر پنجاب کو ہدایت جاری کی تھی لیکن انہوں نے حلف نہیں لیا ،جسٹس جواد الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ تو آرڈر پاس کر چکی ہے آپ توہین عدالت دائر کر لیتے ،آپ کے مطابق ہائیکورٹ کے 2 آرڈرزپرعملدرآمد نہیں ہوا؟آپ نےدرخواست میں گورنرپنجاب اورصدرپاکستان کوفریق بنانا تھا،وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ صدراورگورنرپنجاب کوفریق بنانے کی ضرورت نہیں تھی،

    عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور تحریک انصاف کے وکیل کی تلخ کلامی ہوئی عدالت نے دونوں وکلا کو قانون کےمطابق کورٹ کودلائل دینے کی ہدایت کر دی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں وفاقی حکومت کا نمائندہ ہوں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پی ٹی آئی کے وکیل کوجواب دیا کہ میں آپ کو جوابدہ نہیں ہوں، جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ نےعدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کیوں دائر نہیں؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ تنازع کی وجہ وفاق اورصوبے میں2 مختلف حکومتیں ہیں،جسٹس جواد الحسن نے کہا کہ عدالت کا حکم کوئی کیوں نہیں مانے گا؟ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ میں تو ایسے کوئی آرڈر نہیں جاری کروں گا،

    اشتراوصاف نے اظہر صدیق کی مداخلت پر اعتراض کردیا وکیل پی ٹی آئی اظہر صدیق نے عدالت میں کہا کہ ایم پی ایز نے فریق بننے کی درخواست دی ہے قانون کے مطابق انہیں فریق بننے کا موقع دیا جائے ۔ ہائیکورٹ نے جتنے بھی آرڈر پاس کیے کسی میں بھی گورنر اور صدر کو نہیں سنا دیا ۔فریق کو سنے بغیر کیسے حکم جاری کو سکتا ہے ۔ دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل اور اظہر صدیق کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اظہر صدیق ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں عدالت سے مخاطب ہوں ۔عدالت نے ہمارے حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہے ۔پنجاب حکومت کے وکیل نے حمزہ شہباز کی تیسری پٹیشن پر اعتراض اٹھا دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ شہباز کی تیسری پٹیشن ناقابل سماعت قرار دی جائے اسی ایشو پر دو فیصلے آچکے ہیں

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ عمیر نیازی نے دلائل کا آغاز کر دیا ،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ گورنراگرعہدہ نہیں لیتا تو معاملہ صدر کے پاس جاتا ہے، انہوں نے پہلی درخواست میں صدرکوکہا کوئی اورنمائندہ مقررکریں، جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ
    کیا صدر نے کوئی نمائندہ مقرر کیا؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ معاملہ صدر کے پاس زیر التوا ہے،جسٹس جواد حسن نے استفسار کیا کہ 13 گھنٹے گزرگئے ہیں ہائیکورٹ کے حکم کو، یہ بتائیں کہ کون حلف لے سکتا ہے؟ وکیل وفاقی حکومت نے کہاکہ یہ حلف اسپیکر قومی اسمبلی لے سکتے ہیں،حلف برداری چیئرمین سینیٹ بھی کروا سکتا ہے،مگر میری اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان میں موجود نہیں، گورنرپنجاب اورصدرپاکستان حلف لیں سکتے یا نمائندہ مقررکرسکتے،یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم نہ ماننے پرسزا دی گئی، سپریم کورٹ کے فل بنچ نے سزا سنائی، یوسف رضاگیلانی قصوروار پائے گئے،

    جسٹس جواد الحسن نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا عدالتی وقت ختم ہوچکا ہے ؟ وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ رولز میں آپ کے پاس اتھارٹی ہے آپ ٹائم بڑھا سکتے ہیں،جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آج جمعتہ الوداع ہے،نمازکی ادائیگی کے لیے جارہا تھا،میں نے ہر کام آئین کے مطابق کرنا ہے میں جب بھی نماز سے واپس آیا آگے کیسز کا ڈھیر لگ جاتا ہے

    قبل ازیں لاہورہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان نے کیس کی سماعت سے معذرت کر لی لاہورہائیکورٹ کے جسٹس جواد الحسن نے حمزہ شہبازکی درخواست پراعتراض ختم کردیا رجسٹرارآفس نے درخواست کیساتھ مصدقہ دستاویزات نہ لگانے پراعتراض لگایا تھا جسٹس جوادالحسن نےفائل واپس چیف جسٹس کوارسال کردی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواست سماعت کیلئے جسٹس فیصل زمان خان کوبھیج دی

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ کا حلف نہ لینے کیلئے تیسری بار لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا حمزہ شہباز نے لاہور ہائیکور ٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے ،درخواست میں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ہے ،حمزہ شہباز نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ حلف لینے سے متعلق احکامات جاری کر چکی ہے لیکن عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،گورنر پنجاب ایک بار پھرعدالتی احکامات ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ حمزہ شہباز نے درخواست میں استدعا کی کہ عدالت بطور وزیر اعلیٰ پنجاب حلف لینے کیلئے نمائندہ مقرر کرے ،ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ جگہ اور وقت کا بھی تعین کرے ۔حمزہ شہباز نے استدعا کی کہ عدالتی حکم نہ ماننے والوں کے اقدامات کو خلاف آئین قرار دیا جائے ۔

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

    قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ

    حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

  • حلف نہیں لے رہے، حمزہ تیسری بار عدالت پہنچ گئے

    حلف نہیں لے رہے، حمزہ تیسری بار عدالت پہنچ گئے

    حلف نہیں لے رہے، حمزہ تیسری بار عدالت پہنچ گئے

    حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ کا حلف نہ لینے کیلئے تیسری بار لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لی

    حمزہ شہباز نے لاہور ہائیکور ٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے ،درخواست میں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ہے ،حمزہ شہباز نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ حلف لینے سے متعلق احکامات جاری کر چکی ہے لیکن عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا،گورنر پنجاب ایک بار پھرعدالتی احکامات ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ حمزہ شہباز نے درخواست میں استدعا کی کہ عدالت بطور وزیر اعلیٰ پنجاب حلف لینے کیلئے نمائندہ مقرر کرے ،ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ جگہ اور وقت کا بھی تعین کرے ۔حمزہ شہباز نے استدعا کی کہ عدالتی حکم نہ ماننے والوں کے اقدامات کو خلاف آئین قرار دیا جائے ۔

    قبل ازیں حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا سیشن کورٹ لاہور میں پولیس نے رپورٹ پیش کردی ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آ رائی کا مقدمہ پہلے سے درج کیا جا چکا ہے،تفتیش جاری ہے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی ،عدالت پرویز الہٰی کی درخواست خارج کرنے کا حکم دے ،پرویز الہٰی تھانے میں پیش بھی نہیں ہوئے،درخواست پر ڈائری نمبر نہیں لگا

    دوسری جانب سیکریٹری قانون کیجانب سے کام روکنے سے متعلق خط کا جواب دے دیا گیا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سیکریٹری قانون سے متعلق خط کا جواب دیا ،احمد اویس نے کہا کہ 22اپریل کو لکھا گیا خط بھی وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا،بدقسمتی سے دوسرا خط 26 اپریل کو آپ کی ہدایات کے تحت جاری کیا گیا، 25اپریل کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے جاری کردہ خط کی تضحیک کی گئی ، دوسرا لکھنے کی جرات کی خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کی جائے گی،25اپریل کے خط کے مطابق آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت قابل عمل نہیں،وزیر اعلیٰ اس وقت عثمان بزدار ہیں جب تک انکی جگہ پر دوسرا نہیں آجاتا پیرا 2 کے مندرجات سے واضح ہے سیکریٹری قانون نے قانون سے مستند لاعلمی کا مظاہرہ کیا خط وفاقی سیکریٹری، وزارت اسٹیبلشمنٹ ، حکومت اور چیف سیکریٹری کو بھی بھیج رہا ہوں،ایسا لگتا ہے کہ ان کی ہدایت پر یہ خط آگے بڑھایا گیا،

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب دو بار ملتوی ہو چکی ہے، گورنر پنجاب نے ایک بار حلف برداری کی تقریب ملتوی کی، حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے صدر پاکستان کو حکم دیا کہ وہ نمائندہ مقرر کریں، تا ہم صدر پاکستان کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کے باوجود حلف برداری کی تقریب نہیں ہو سکی

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں جس روز قائد ایوان کے الیکشن ہوئے تھے اس روز ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ، پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا ،ڈپٹی سپیکر نے پولیس بلائی تو اراکین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا تھا، اس دوران خواتین اراکین اسمبلی بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کے بال کھینچے، گردن سے پکڑا، راجہ یاسر بھی ایک ویڈیو میں نمایاں ہیں جو پولیس والوں کو دھکے دے رہے ہیں

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

    قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ

    حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

  • حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر اعتراض

    حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر اعتراض

    حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر اعتراض عائد کر دیا گیا

    لاہورہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراض کیا کہ اپیلوں کے ساتھ مصدقہ دستاویزات نہیں لگائی گئیں،رجسٹرار آفس نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دونوں اپیلوں پر اعتراض لگا کر واپس کردیں ق لیگ اور پی ٹی آئی ممبران کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھی

    لاہور ہائیکورٹ تحریک انصاف اور ق لیگ کے ممبران اسمبلی نے حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی ،انٹرا کورٹ اپیل میں حمزہ شہباز ، وزیر اعظم اور صدر کو بذریعہ سیکرٹری اور گورنر کو بذریعہ پرنسپل سیکرٹری فریق بنایا گیا ہے ممبران صوبائی اسمبلی کی جانب سے ایڈوکیٹ اظہر صدیق اور رانا مدثر نے اپیل دائر کی انٹرا کورٹ اپیل میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کیخلاف ہے,ہائیکورٹ کیجانب سے حلف کی معیاد مقرر کرنا صدر اور گورنر کی عہدے کی توہین ہے،

    ایڈوکیٹ اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ  لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کیخلاف ہے،ہائیکورٹ کیجانب سے حلف کی معیاد مقرر کرنا صدر اور گورنر کی عہدے کی توہین ہے،لاہور ہائیکورٹ کے پاس گورنر اور صدر کیخلاف کوئی بھی کارروائی کا اختیار نہیں آئین کا آرٹیکل 248 مکمل صدر اور گورنر کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روزلاہور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازکی درخواست نمٹادی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا کیس کا مختصر فیصلہ سنایا عدالت نے حکم دیا کہ گونر پنجاب 28 اپریل تک حلف کروائیں گورنر پنجاب کو فوری بھیجا جائے، آئین کے تحت صدر اور گورنر پنجاب اپنے حلف کی پاسداری کے پابند ہیں اس وقت عثمان بزدار وزیر اعلی ٰکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں-

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب دو بار ملتوی ہو چکی ہے، گورنر پنجاب نے ایک بار حلف برداری کی تقریب ملتوی کی، حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے صدر پاکستان کو حکم دیا کہ وہ نمائندہ مقرر کریں، تا ہم صدر پاکستان کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کے باوجود حلف برداری کی تقریب نہیں ہو سکی

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں جس روز قائد ایوان کے الیکشن ہوئے تھے اس روز ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ، پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا ،ڈپٹی سپیکر نے پولیس بلائی تو اراکین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا تھا، اس دوران خواتین اراکین اسمبلی بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کے بال کھینچے، گردن سے پکڑا، راجہ یاسر بھی ایک ویڈیو میں نمایاں ہیں جو پولیس والوں کو دھکے دے رہے ہیں

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

    قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ

    حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    صدر مملکت نے وزیراعظم کو خط کا "جواب” دے دیا

  • پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے شیڈول کا نوٹیفکیشن معطل

    پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے شیڈول کا نوٹیفکیشن معطل

    لاہور ہائیکورٹ ،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے شیڈول کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا لاہور ہائیکورٹ نے 25 مئی کو الیکشن کمیشن سمیت فریقن سے جواب طلب کرلیا درخواست صدر لاہور ہائیکورٹ بار سردار اکبر ڈوگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی، درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کی مدت 10 جون کو ختم ہو جائے گی،

    قبل ازیں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہائیکورٹ ملتان بنچ کا بڑا فیصلہ، ہائیکورٹ کے جسٹس شان گل نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں لوکل گورنمنٹ انتخابات روکنے کا سٹے آرڈر جاری کر دیا ہے، عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے27 اپریل کو جواب طلب کر لیا۔

    عدالت میں خانیوال کے محمد اسلم کمبوہ، وہاڑی کے دلاور خان اور ساہیوال کے غلام عباس ڈوگر نے درخواست دائر کی، درخواست کونسل رانا آصف سعید کے ذریعے الیکشن آرڈیننس 2021ء کے خلاف دائر کی گئی، لوکل گورنمنٹ کے انتخابات آرڈیننس 2021 کے تحت کرائے جانے ہیں جس میں قانونی بے ضابطگیاں ہیں، آرڈیننس کی مدت ختم ہوچکی اور اسے ایکٹ کی شکل نہیں دی گئی۔

    درخواستگزار نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں توسیع کا نوٹیفیکیشن بھی غیر قانونی ہے، پہلے مرحلے میں لیبر کونسل اور ویلج کونسل کے انتخابات ہونا تھے، بعدازاں ضلع کونسل چیئرمین اور میونسپل کارپوریشن میئر کے ہونا تھے، الیکشن کا ہر اقدام غیر قانونی طور پر اٹھایا گیا، آرڈینینس میں الیکشن کی ووٹنگ بذریعہ مشین کرائی جانی تھی لیکن ایسا کوئی سسٹم موجود ہی نہیں ہے، انتخابات کو روکا جائے۔

    ایڈووکیٹ رانا آصف سعید نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 25 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع ہونے تھے، 27 اپریل سے 9 مئی تک سکروٹنی ہونی تھی، 9 جون کو انتحابات تھے۔

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    انصاف صحت کارڈ پر پی ٹی آئی جھنڈے کی تشہیری مہم کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

  • حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    حمزہ شہباز کا حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے

    چیف جسٹس ہائیکورٹ 26 اپریل کو حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کریں گے ، قبل ازیں حمزہ شہباز نے حلف نہ لینے کے معاملے پر دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،درخواست میں سیکریٹری ٹو صدر پاکستان، فیڈریشن،وزیر اعظم،پنجاب حکومت فریق بنائے گئے ہیں ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں حمزہ شہباز نے موقف اپنایا ہے کہ آئینی دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، صدرِ مملکت اس عدالت کے حکم کو بغیر کسی وجہ کے اور تاخیر کر رہے ہیں، درخواست میں لا ہور ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ عدالت نے صدر کو ہدایت کی وہ منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لینے کے لیے فوری اقدامات کریں صدر بطور سربراہ کسی سیاسی دباؤ کے بغیر اپنے فرائض پر عمل کرنے کے پابند ہیں،صدر پاکستان کا ایک سیاسی جماعت سے تعلق ہے،عدالت سینیٹ چیئرمین کو حکم دے کہ وہ نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں،

    ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب آئینی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنا لازمی ہے،ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں ،گورنر آئین شکن کے طورپر یاد رکھے جائیں گے ،عمران خان اورگورنر پنجاب ضد پراڑے ہیں،یہ پنجاب کومزید بحرانی کیفیت میں دھکیلنا چاہتے ہیں،یہ چاہتےہیں آئینی بحران کوبڑھایا جائے،گورنر عمر سرفراز چیمہ نے آئین کو پامال کیا ہے، ہم چاہتے کسی بھی آئینی عہدے دار سے حلف لے سکتے تھے، صدر پاکستان کو دوبارہ ایڈوائس بھیجی گئی وزیراعظم کی جانب سے یادہانی کے باوجود کوئی عمل نہیں ہوا،عدالتی آرڈر سے انحراف درست نہیں،عدالت سے استدعا ہے چیئرمین سینیٹ کو حلف کی ہدایات دی جائیں،

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب دو بار ملتوی ہو چکی ہے، گورنر پنجاب نے ایک بار حلف برداری کی تقریب ملتوی کی، حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے صدر پاکستان کو حکم دیا کہ وہ نمائندہ مقرر کریں، تا ہم صدر پاکستان کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کے باوجود حلف برداری کی تقریب نہیں ہو سکی جس کے بعد آج پھر حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا ہے

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں جس روز قائد ایوان کے الیکشن ہوئے تھے اس روز ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ، پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا ،ڈپٹی سپیکر نے پولیس بلائی تو اراکین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا تھا، اس دوران خواتین اراکین اسمبلی بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کے بال کھینچے، گردن سے پکڑا، راجہ یاسر بھی ایک ویڈیو میں نمایاں ہیں جو پولیس والوں کو دھکے دے رہے ہیں

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

    قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ