Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    لاہور ہائیکورٹ میں25ججز کی آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو بھیج دئیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے 25ججز کی تقرری کیلئے43 وکلا اور 4 سیشن ججز کے نام شامل ہیں،اعظم نذیر تارڑنے ایک سیشن جج سمیت 4نام ،بیرسٹر علی ظفر نے 3وکلا کے نام ،فاروق ایچ نائیک نے 8وکلا کے نام تجویز کیے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے21 نام تجویز کیے،جسٹس منصور علی شاہ نے 3سیشن ججز اور 8وکلا کے نام تجویز کیے۔چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبر کو ہوگا،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے ججزکی تقرری کیلئے ناموں پر غور ہوگا۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

    خیبر پختونخوا سے وفاق پر تین بار حملے کیا گیا، رانا ثناء اللہ

    پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

  • 6 ارب کا فراڈ ،سابق سینیٹر وقار خان لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار

    6 ارب کا فراڈ ،سابق سینیٹر وقار خان لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار

    لاہور ہائیکورٹ میں نجی ہاؤسنگ سکینڈل میں چھ ارب روپے کا مبینہ فراڈ کیس میں ملزم سابق سینیٹر وقار احمد خان کی عبوری ضمانت منظور کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی :جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،نیب کی جانب سے پراسکیوٹر وارث علی جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے،صدر لاہور ہائیکورٹ بار نے کہا کہ عدالت نے درخواست پر عائد اعتراضتازہ ترینات برقرار رکھتے ہوئے درخوا ست ناقابل سماعت قرار دے دی کل ہم نے درخواست دوبارہ دائر کر دی تھی، مصدقہ کاغذات ساتھ لف نہیں تھے جس بنا پر رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا-

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آج دوبارہ درخواست دائر کرنے کا کیا مقصد ہے، آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟کیا ضمانت کی درخواست میں کسی نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کی استدعا کی جاتی ہے ؟ –

    وکیل ملزم وقار احمد خان نے کہا کہ جب بھی کوئی درخواست گزار عدالت میں آئے تو اس کی حفاظت کرنی چاہیے،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپکی درخواست ضمانت کو نمبر نہیں لگا،درخواست پر اعتراضات بالکل ٹھیک ہیں،ہم اس درخواست کو 10 سے 15 منٹ میں واپس بھجوا دیتے ہیں،اس درخواست کے اعتراضات آپ کب دور کرتے ہیں ہمیں نہیں معلوم-

    دوسری جانب سابق سینیٹر وقار احمد خان کو لاہور ہائیکورٹ سےگرفتار کر لیا گیانیب لاہور نے ملزم وقار احمد خان کو گرفتار کیا، نجی ہاؤسنگ اسکینڈل میں چھ ارب روپے مبینہ فراڈ کا معاملے میں گرفتار کیاملزم کی گرفتاری کے دوران متاثرین نے ملزم کے سامنے احتجاج کیا متاثرین کا کہنا تھا کہ ملزم ہماری عمر بھر کی کمائی ہڑپ کرچکا ہے-

  • سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے سڑکوں اور موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے اعجاز خان ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں وفاق اور حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ سڑکوں کی بندش سے سکول، ادارے اور بسیں بند ہو گئیں، سڑکوں اور موٹر ویز کی بندش سے ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے، عدالت حکومت کو سڑکیں اور موٹرویز کھولنے کا حکم دے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے 24 نومبر کیلئے پُرامن احتجاج کی کال دی، شہریوں کی احتجاج میں شرکت روکنے کیلئے حکومت نے سڑکیں بند کردیں، سڑکیں اور موٹر ویز بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس وقت کوئی سڑک اور موٹروے بند نہیں ہے۔بعدازاں عدالت عالیہ نے سڑکوں اور موٹر ویز کی بندش کے خلاف درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔

    چیمپئنز ٹرافی کے لیے بلائے اجلاس میں پاکستان ڈٹ گیا

    ریلوے آمدن میں اضافہ ،بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی اونچی اڑان، آج بڑا اضافہ

  • پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست ،وفاقی حکومت کو نو ٹس جاری

    پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست ،وفاقی حکومت کو نو ٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل رکوانے کے لیے دائر پٹیشن سماعت کے لیے منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی : پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف پٹیشن پر لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس محمد رضا قریشی نے سماعت کی، نزاکت حسین ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی-

    درخواستگزار کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ پرائیوٹائزیشن کمیشن 31 اکتوبر کو نجکاری کرنے جا رہی ہے جبکہ نجکاری کے حوالے سے ابھی تک ویلیو ایشن بھی نہیں ہوئی تو فروخت یا نجکاری کیسے ممکن ہے؟

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ پی آئی اے نجکاری عمل روکنے کا حکم جاری کیا جائے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ نجکاری کے عمل میں ایک وقت لگتا ہے، آئندہ سماعت پر فریقین کو سن لیتے ہیں بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر کے 5 نومبر کو جواب طلب کر لیا۔

    واضح رہے کہ پی آئی کی نجکاری رواً ماہ یکم اکتوبر کو ہونی تھی جو نہیں ہوئی یکم اکتوبر کو ہونے والے بولی کے عمل کو ملتوی کرنے سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سیکریٹری نجکاری عثمان اختر باجوہ نے بتایا تھا کہ بولی لگانے کی تاریخ کو آگے بڑھا کر 31 اکتوبر کر دیا گیا ہے کیونکہ اس عمل میں حصہ لینے والے کچھ مزید وقت لینا چاہتے تھے-

    نجکاری کمیشن نے ابتدائی طور پر 6 بولی دہندگان کو اہل قرار دیا ہے، جن میں فلائی جناح، وائی بی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم، ایئر بلیو لمیٹڈ، پاک ایتھانول (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ اور بلیو ورلڈ سٹی شامل ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ:لڑکی کے ساتھ زیادتی و ویڈیو بنانے والے ملزم کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ:لڑکی کے ساتھ زیادتی و ویڈیو بنانے والے ملزم کی اپیل خارج

    لڑکی سے زیادتی اور ویڈیو بنانے والے ملزم کی سز ا کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ نے خارج کردی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ اورجسٹس امجد رفیق نے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ جاری کردیا، عدالت نے گھناؤنے کام کے مجرم عبد الباسط کی عمر قید کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی، تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ملزم کی اس حرکت کومعصوم غطلی نہیں سمجھا جاسکتا، پراسکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی، اس سےقبل مجرم ڈکیتی اورکریمنل کیسز میں ملوث رہا ہے، مجرم بچپن سے متاثرہ لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا، میڈیکل کرنےوالی لیڈی ڈاکٹرنے بتایا کہ لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا، مجرم نے متاثرہ لڑکی کی ماں سے تعلق بنایا، متاثرہ لڑکی کو نشہ آور چیز دیکر ریپ کیا اور ویڈیو بنائی، مجرم بار بارمتاثرہ لڑکی کونازیباویڈیو لیک کرنےکی دھمکی دیتا، مجرم بار بار متاثرہ لڑکی سے زیادتی کرتا رہا، متاثرہ لڑکی کی طبعیت خراب ہونے پر نشتراسپتال لایا گیا، اسپتال میں لڑکی نے اپنے والدین کو واقعے سے متعلق بتایا، مجرم کے خلاف ملتان میں 2018 میں مقدمہ درج کیا گیا، مجرم کو ٹرائل کورٹ نے 2022 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی

    دفتر میں خاتون ساتھی کے ساتھ بداخلاقی،ملزم کو دس برس قید کی سزا
    دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے دفتر میں کام کرنے والی ساتھی کے ساتھ بداخلاقی کے جرم میں ملزم کو دس سال قیدکی سزا سنائی ہے، سیشن عدالت کے جج رفاقت علی قمر نے فیصلہ سنایا عدالت نے ملزم کو دس سال قید کے ساتھ پچاس ہزار جرمانے کی بھی سز اسنائی،ملزم محمد رمضان پر الزام تھا کہ اس نے اپنی کولیگ کے ساتھ دفتر میں زبردستی بد اخلاقی کی،واقعہ لاہور کے تھانہ جنوبی چھاؤنی کے علاقے میں پیش آیا تھا، پولیس نے متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کے ملزم کو گرفتار کیا تھا،دوران سماعت متاثرہ خاتون کے وکیل سید ابرار حسین نے عدالت میں دلائل پیش کئے اور ملزم کے خلاف گواہان کو پیش کیا ، سرکاری وکیل اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عائشہ طفیل نے بھی ملزم کے خلاف اہم شہادتیں پیش کیں،عدالت نے شواہد اور گواہان کی روشنی میں ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے10سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر کی تحقیقات، سوشل میڈیا پیج کا پردہ فاش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • فیک نیوز  ہنگامہ کیس: آئی جی پنجاب کو پیش ہوکر واقعات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم

    فیک نیوز ہنگامہ کیس: آئی جی پنجاب کو پیش ہوکر واقعات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم

    لاہور: فیک نیوز پھیلا کر ہنگامے کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اعظم بٹ کی درخواست پر سماعت کی-

    باغی ٹی وی : عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب ،ڈی جی ایف آئی اے سمیت دیگر افسران پیش ہوئے،عدالت میں ایف آئی اے کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پیش کر دی –

    وکیل وفاقی حکومت اسد باجوہ نے کہا کہ ہماری رپورٹ دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک میں دونوں طالبات کے نام لکھے ہیں اور دوسرے میں نام ظاہر نہیں کیے،معزز بنچ یہ آپ دیکھ لیں کونسی ریکارڈ کا حصہ بنانا ہے-

    جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کالج کے واقعے پر کوئی ایف آئی آر بھی درج ہوئی ہے، وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا ہے،، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیئے کہ کیا کوئی مقدمہ پولیس نے درج کیا ہے؟

    جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ جی پولیس نے مقدمہ بھی درج کیا ہے،پولیس خاموشی سے سوئی ہوئی تھی فل بنچ میں جب کورٹ نے ریمارکس دئیے،فل بنچ میں کہا گیا کہ آئی جی پنجاب پیش ہوکر واقعات سے متعلق رپورٹ پیش کرے، پھر پولیس ایکٹیو ہوئی-

    بعد ازاں عدالت نے تمام رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے سماعت ملتوی کردی –

  • لاہور ہائیکورٹ نے  عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی

    لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کے خلاف غداری کی کارروائی کے لئے دائر درخواست کی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر کے انتقال کے باعث ان کے بیٹے نے عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان ن لیگی حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنے دے کر عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں، عدالت بانی پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا حکم دے۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی کی اپیل خارج کرتے ہوئے 13 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھا اور عدم پیروی کے باعث‌ نظر ثانی درخواست خارج کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت نے فریقین کے وکلا کو ایک اور موقع دیا لیکن کیس پر دلائل نہیں دیے گئے، ہمارے 13 جنوری کے فیصلے میں کوئی غلطی ثابت نہیں کی جا سکی لہٰذا نظرثانی درخواست خارج کی جاتی ہیں۔

  • مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    لاہور ہائیکورٹ ، لاہور کے تعلیمی اداروں میں حالیہ واقعات ،احتجاج سے متعلق اعلی سطح تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری اعظم بٹ کی درخواست پر سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ نے کل آئی جی پنجاب کو رپورٹ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی رجسٹرار کو ذاتی حیثیت میں کل طلب کر لیا، دوران سماعت چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک فل بنچ میں ایک کیس چل رہا ہے، ہم نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نجی کالج واقعے کے حوالے سے رپورٹ جمع کرائیں، اس بچی کی زندگی تباہ کر دی، چاہے اس کے ساتھ واقعہ ہوا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب عدالت کو بتائیں کہ ایسی ویڈیوز اور تصاویر پھیلنے کے بعد پولیس نے ایکشن کیوں نہیں لیا، اینٹی ریپ ایکٹ تو متاثرہ بچی کا نام پبلشر کرنے کی اجازت نہیں دیتا،کیا آئی جی پنجاب اتنا بے خبر تھا، اس نے تصاویر اور ویڈیو وائرل ہونے دیں، آئی جی پنجاب سمیت دیگر تمام افسران ریکارڈ سمیت کل عدالت میں پیش ہوں، آئی جی پنجاب پنجاب یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کے حوالے سے بھی رپورٹ کریں، ہمیں اس واقعہ کا ہاتھ سے لکھا ہوا روزنامچہ چاہیے، کمپیوٹرائزڈ روزنامچہ نہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے فلور پر کہا کہ لاہور کالج کی وائس چانسلر نے مجھے کہا کہ یونیورسٹی میں ہراسگی کے خلاف ہم کچھ نہیں کر پا رہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ یہ کس چیز کی شکایت ہے؟ درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ ہراسگی کی شکایت ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے درخواستگزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس قسم کی شکایات ہیں کس طرح کی ہراسگی؟ وکیل درخواستگزار نے کہا کہ میڈیا نے ہراسگی رپورٹ کیا ہے، مجھ تک یہی لفظ پہنچا ہے، پنجاب یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے خودکشی کا واقعہ سامنے آیا، پنجاب یونیورسٹی کے واقعے کی تحقیقات تو ہونی چاہیے

    واضح رہے کہ لاہورہائیکورٹ میں پنجاب میں طلبا احتجاج اور مبینہ زیادتی واقعات بارے تحقیقات بارے درخواست دائر کی گئی ہے

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • عدالت کابچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم

    عدالت کابچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم دے دیا،
    عدالت نے بچوں کےخرچے کو سالانہ دس فیصد کےحساب سے بڑھانے کی درخواست منظور کرلی ،فیصلے کی کاپی پنجاب کےتمام ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور فیملی ججز کو بھجوانے کی ہدایت کر دی گئی،عدالت نے فیصلے کی کاپی سکرٹری قانون پنجاب کو بھی بھجوانے کا حکم دے دیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس پر سماعت کی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آئین کےآرٹیکل 4 کےتحت جینے کے حق کا تحفظ محفوظ ہے، پسماندہ طبقات کے بنیادی مفادات کاتحفظ آئینی ذمہ داری ہے، بچوں کی کفالت زندگی کالازمی حصہ ہے،بچے خوراک، لباس، سکولنگ، رہائش، ضروریات اور بقاء کےلئے کفالت پر منحصرہیں، بچوں کا دیکھ بھال حاصل کرنا قانونی حق ہے جو قانون کے ذریعے دیا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت دیکھ بھال کا حق حقدار کو وقار کے ساتھ ملنا چاہیے، ریاست کو خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے کسی خاص بندوبست سے نہیں روکا گیا،

    درخواست گزار مطلقہ خاتون نے دو بچوں کے خرچے میں دس فیصد اضافے کےلئے عدالت سے رجوع کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے سے بچوں کےاخراجات بڑھ چکے ہیں، عدالت بچوں کےمقرر کردہ خرچے کوسالانہ دس فیصد اضافے کےساتھ شامل کرنے کاحکم دے، خاتون کےسابق شوہر نے پٹیشن مسترد کرنے کی استدعا کی تھی.

    آرمی چیف سے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی ملاقات

    سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان پہنچ گیا: 2 ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقعات

    سعودی عرب کا قومی دن،پاکستانی قیادت کی مبارکباد،پیغامات

  • نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد: وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل  نے جواب داخل کرا دیا

    نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد: وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرا دیا

    لاہور ہائیکورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لیے درخواست پر وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل پاکستان نے جواب داخل کرا دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری نہ کرنے پر متعلقہ عدالتی افسر پر اظہار برہمی کیا،جسٹس راحیل کامران نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت متعلقہ سیاسی جماعتوں کو بھی سننا چاہیئے۔

    لاہورہائیکورٹ آفس کے اہلکار نے غلطی تسلیم کر کے معافی کی استدعا کی، جس پر جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ آئندہ غلطی نہ ہو۔

    درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کو سن چکی ہے، ہم صرف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے آئے ہیں، اس اسٹیج پر کسی سیاسی جماعت کو سننا عدالت کے لیے ضروری نہیں، سیاسی جماعتیں ہی تو آئین اور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہیں۔

    ٹربیونل تبدیلی کیس:الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے اور دلائل کیلئے …

    وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں وہاں ہی عملدرآمد کے لیے رجوع کرنے کا لکھا ہے،جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق پارلیمان نے 11 غیر آئینی قانون بنائے جن کو چیلنج کر رکھا ہے، درخواست میں سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کا وضاحتی فیصلہ آچکا ہے، سپریم کورٹ کا تفصیلی بھی فیصلہ آچکا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا، چاروں صوبائی اسمبلی کے اسپیکرز کو بھی مراسلہ جاری کرچکے ہیں، مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو تاحال نہیں۔

    افغان کرکٹر راشد خان نے شادی کرلی

    درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دے، عدالت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کا حکم دے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے درخواست پر پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔