Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • لاہور ہائیکورٹ نے  عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی

    لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف غداری سے متعلق درخواست نمٹا دی۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کے خلاف غداری کی کارروائی کے لئے دائر درخواست کی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر کے انتقال کے باعث ان کے بیٹے نے عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان ن لیگی حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنے دے کر عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں، عدالت بانی پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا حکم دے۔

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق نظرثانی کی اپیل خارج کرتے ہوئے 13 جنوری کا فیصلہ برقرار رکھا اور عدم پیروی کے باعث‌ نظر ثانی درخواست خارج کر دی، سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت نے فریقین کے وکلا کو ایک اور موقع دیا لیکن کیس پر دلائل نہیں دیے گئے، ہمارے 13 جنوری کے فیصلے میں کوئی غلطی ثابت نہیں کی جا سکی لہٰذا نظرثانی درخواست خارج کی جاتی ہیں۔

  • مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    لاہور ہائیکورٹ ، لاہور کے تعلیمی اداروں میں حالیہ واقعات ،احتجاج سے متعلق اعلی سطح تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری اعظم بٹ کی درخواست پر سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ نے کل آئی جی پنجاب کو رپورٹ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے رجسٹرار لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی رجسٹرار کو ذاتی حیثیت میں کل طلب کر لیا، دوران سماعت چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک فل بنچ میں ایک کیس چل رہا ہے، ہم نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نجی کالج واقعے کے حوالے سے رپورٹ جمع کرائیں، اس بچی کی زندگی تباہ کر دی، چاہے اس کے ساتھ واقعہ ہوا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب عدالت کو بتائیں کہ ایسی ویڈیوز اور تصاویر پھیلنے کے بعد پولیس نے ایکشن کیوں نہیں لیا، اینٹی ریپ ایکٹ تو متاثرہ بچی کا نام پبلشر کرنے کی اجازت نہیں دیتا،کیا آئی جی پنجاب اتنا بے خبر تھا، اس نے تصاویر اور ویڈیو وائرل ہونے دیں، آئی جی پنجاب سمیت دیگر تمام افسران ریکارڈ سمیت کل عدالت میں پیش ہوں، آئی جی پنجاب پنجاب یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کے حوالے سے بھی رپورٹ کریں، ہمیں اس واقعہ کا ہاتھ سے لکھا ہوا روزنامچہ چاہیے، کمپیوٹرائزڈ روزنامچہ نہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے فلور پر کہا کہ لاہور کالج کی وائس چانسلر نے مجھے کہا کہ یونیورسٹی میں ہراسگی کے خلاف ہم کچھ نہیں کر پا رہے، لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ یہ کس چیز کی شکایت ہے؟ درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ ہراسگی کی شکایت ہے،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے درخواستگزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس قسم کی شکایات ہیں کس طرح کی ہراسگی؟ وکیل درخواستگزار نے کہا کہ میڈیا نے ہراسگی رپورٹ کیا ہے، مجھ تک یہی لفظ پہنچا ہے، پنجاب یونیورسٹی میں ایک طالبہ کے خودکشی کا واقعہ سامنے آیا، پنجاب یونیورسٹی کے واقعے کی تحقیقات تو ہونی چاہیے

    واضح رہے کہ لاہورہائیکورٹ میں پنجاب میں طلبا احتجاج اور مبینہ زیادتی واقعات بارے تحقیقات بارے درخواست دائر کی گئی ہے

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

  • عدالت کابچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم

    عدالت کابچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی کفالت کے مقرر کردہ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا حکم دے دیا،
    عدالت نے بچوں کےخرچے کو سالانہ دس فیصد کےحساب سے بڑھانے کی درخواست منظور کرلی ،فیصلے کی کاپی پنجاب کےتمام ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور فیملی ججز کو بھجوانے کی ہدایت کر دی گئی،عدالت نے فیصلے کی کاپی سکرٹری قانون پنجاب کو بھی بھجوانے کا حکم دے دیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس پر سماعت کی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آئین کےآرٹیکل 4 کےتحت جینے کے حق کا تحفظ محفوظ ہے، پسماندہ طبقات کے بنیادی مفادات کاتحفظ آئینی ذمہ داری ہے، بچوں کی کفالت زندگی کالازمی حصہ ہے،بچے خوراک، لباس، سکولنگ، رہائش، ضروریات اور بقاء کےلئے کفالت پر منحصرہیں، بچوں کا دیکھ بھال حاصل کرنا قانونی حق ہے جو قانون کے ذریعے دیا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت دیکھ بھال کا حق حقدار کو وقار کے ساتھ ملنا چاہیے، ریاست کو خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے کسی خاص بندوبست سے نہیں روکا گیا،

    درخواست گزار مطلقہ خاتون نے دو بچوں کے خرچے میں دس فیصد اضافے کےلئے عدالت سے رجوع کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے سے بچوں کےاخراجات بڑھ چکے ہیں، عدالت بچوں کےمقرر کردہ خرچے کوسالانہ دس فیصد اضافے کےساتھ شامل کرنے کاحکم دے، خاتون کےسابق شوہر نے پٹیشن مسترد کرنے کی استدعا کی تھی.

    آرمی چیف سے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی ملاقات

    سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان پہنچ گیا: 2 ارب ڈالر کے معاہدوں کی توقعات

    سعودی عرب کا قومی دن،پاکستانی قیادت کی مبارکباد،پیغامات

  • نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد: وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل  نے جواب داخل کرا دیا

    نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد: وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرا دیا

    لاہور ہائیکورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لیے درخواست پر وفاقی حکومت ، الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل پاکستان نے جواب داخل کرا دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری نہ کرنے پر متعلقہ عدالتی افسر پر اظہار برہمی کیا،جسٹس راحیل کامران نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے تحت متعلقہ سیاسی جماعتوں کو بھی سننا چاہیئے۔

    لاہورہائیکورٹ آفس کے اہلکار نے غلطی تسلیم کر کے معافی کی استدعا کی، جس پر جسٹس راحیل کامران نے کہا کہ آئندہ غلطی نہ ہو۔

    درخواست گزار کے وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کو سن چکی ہے، ہم صرف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے آئے ہیں، اس اسٹیج پر کسی سیاسی جماعت کو سننا عدالت کے لیے ضروری نہیں، سیاسی جماعتیں ہی تو آئین اور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہیں۔

    ٹربیونل تبدیلی کیس:الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے اور دلائل کیلئے …

    وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں وہاں ہی عملدرآمد کے لیے رجوع کرنے کا لکھا ہے،جبکہ وکیل درخواست گزار کے مطابق پارلیمان نے 11 غیر آئینی قانون بنائے جن کو چیلنج کر رکھا ہے، درخواست میں سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کا وضاحتی فیصلہ آچکا ہے، سپریم کورٹ کا تفصیلی بھی فیصلہ آچکا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا، چاروں صوبائی اسمبلی کے اسپیکرز کو بھی مراسلہ جاری کرچکے ہیں، مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو تاحال نہیں۔

    افغان کرکٹر راشد خان نے شادی کرلی

    درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم دے، عدالت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کا حکم دے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے درخواست پر پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  • پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر کا نام پی سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی،درخواست گزاروں کی جانب سے ابوذر سلمان خان نیازی ایڈووکیٹ نے دلائل دیے، دوران سماعت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہیٰ ان کے صاحبزادے راسخ الہی اور بہو زارا الہیٰ کا نام پی سی ایل سے نکال دیا گیا ہے،عدالت نے چوہدری پرویز الہٰی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا،عدالت نے چوہدری پرویز الہٰی، اور بیٹے راسخ الہٰی، ان کی اہلیہ زارا الہٰی کا پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے بھی نام نکالنے کا حکم دے دیا۔

    اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملازمین نوکری سے برطرف

    واضح رہے کہ 28 جون کو وفاقی حکومت نے صدر تحریک انصاف پرویز الہٰی کا نام پی سی ایل میں ڈال دیا تھا، پرویز الہیٰ سمیت دیگر نے پی سی ایل سے اپنا نام نکالنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

    اسرائیل تنازع بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے،چین

    لاہور میں بھی دفعہ 144 نافذ

  • یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل

    یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل کردیا جبکہ عدالت نے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عالم سعید کو عہدے پر بحال کردیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ملک اویس خالد ایڈووکیٹ نے دلائل دئیےدلائل سننے کے بعد جسٹس احمد ندیم ارشد نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے پرو وائس چانسلر کی برطرفی کا فیصلہ معطل کرکے انہیں بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر عالم سعید کو 3 سال کے لیے تعینات کیا گیا مگر گورنر پنجاب نے حکومت پنجاب کی سفارش پر بغیر نوٹس دئیے 2 سال قبل ہی پرو وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹا دیا، حکومت پنجاب کا یہ اقدام آئین اور قانون کے خلاف ہے،درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت حکومتی اقدام کالعدم قرار دے۔

  • نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے نیب ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کے خلاف درخواست باضابطہ سماعت کے لیے منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی:لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے شہری منیر احمد درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیے، عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا جبکہ اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا۔

    درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ صدارتی آرڈیننس ہنگامی صورتحال میں ہی جاری ہو سکتا ہے لیکن ترامیم پاکستان تحریک انصاف کے بانی پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی گئی، قائم مقام صدر کی طرف سے آرڈیننس کا اجراء سیاسی مقاصد کے لیے کیا گیا ہے، نیب ترامیم سے بڑے بڑے ریفرنسز متاثر ہوں گے جس سے انارکی پھیلے گی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیب ترامیم کالعدم قرار دے۔

    واضح رہے کہ 29 مئی کو چیئرمین سینیٹ اور قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی منظوری کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا گزٹ نوٹی فکیشن وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق اس کو قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2024 کہا جائے گا، نیب آرڈیننس کے تحت زیر حراست ملزم کا ریمانڈ 14دن سے بڑھاکر40 دن کردیا گیا،نیب افسر کی جانب سے بدنیتی پر مشتمل نیب ریفرنس بنانے پر سزا 5سال سے کم کر کیے 2 سال کر دی گئی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ان پر جرمانہ بھی کیا جائے گا۔

  • مینار پاکستان پر پی ٹی آئی جلسہ: ڈپٹی کمشنر  لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت

    مینار پاکستان پر پی ٹی آئی جلسہ: ڈپٹی کمشنر لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی لاہور مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس فاروق حیدر نے پی ٹی آئی کے اکمل خان باری کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی ہماری درخواست ڈی سی لاہور کے پاس زیر التوا ہے۔

    عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ 30 ستمبر تک ڈی سی لاہور اس درخواست پر فیصلہ کریں، ڈی سی لاہور ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو اس حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں،بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی مینار پاکستان پر جلسے کی درخواست پر ڈی سی لاہور کو 30 ستمبر تک درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

    درخواست میں پنجاب حکومت، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا، درخواست گزار کا موقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سالگرہ 5 اکتوبر کو ہے، پرامن جلسہ کرنا چاہتے ہیں، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ مینار پاکستان پر شام 5 سے رات 10 بجے تک جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے، عدالت ضلعی حکومت 5 اکتوبر جلسے کی اجازت دینے کا حکم دے۔

  • پی ٹی آئی جلسہ رکوانے کی درخواست مسترد

    پی ٹی آئی جلسہ رکوانے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو تحریک انصاف کی جلسہ کی اجازت کے لیے درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور قانون کے مطابق آج شام پانچ بجے تک درخواست پر فیصلہ کریں۔ لاہور ہائیکورٹ نے جلسہ کی اجازت کے لیے دائر درخواست نمٹا دی،لاہور ہائیکورٹ نے جلسہ رکوانے کی الگ درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کر دی ،جلسہ رکوانے کی درخواست ایڈوکیٹ ندیم سرور نے دائر کی تھی۔ جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں۔تین رکنی فل بنچ نے جلسہ رکوانے کی درخواست خارج کر دی

    تحریک انصاف کیجانب لاہور کے جلسے سے متعلق درخواست پر سماعت جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کی،آئی جی پنجاب عثمان انوار لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے ،پراسکیوشن نے جلسہ کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کردی،سرکاری وکیل نے کہا کہ عالیہ حمزہ نے لاہور کے جلسے کےلیے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا، جسٹس فاروق حیدر نے استفسار کیا کہ اہم سماعت ہےایڈوکیٹ جنرل پنجاب کہاں ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اسلام آباد میں موجود ہیں،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ کمرہ عدالت میں کون کون موجود ہے، حاضری لگوائیں، آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری، کمشنر سمیت دیگر نےحاضری لگوا ئی،

    سرکاری وکیل نے دلائل کا آغاز کردیا۔سرکاری وکیل نے کہا کہ اسلام آباد جلسے میں پی ٹی آئی لیڈرز نے نفرت انگیز تقاریر کیں،اشتہاری ملزم حماد اظہر نے صوابی جلسے میں کہا کہ پنجابیو تیار ہوں جاؤ میدان لگنے والا ہے،حماد اظہر نے کہا پنجابیو خون کے آخری قطرے تک لڑنا ہے،حساس اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی ہے،پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں کی تقریریں ریکارڈ کا حصہ ہیں،جلسے میں عدلیہ مخالف ،ریاست مخالف تقریریں ہوئیں،اسلام آباد کے جلسے میں صحافیوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال ہوئیں،حماد اظہر جو مختلف مقدمات کا اشتہاری ہے اس نے تقریر کی،علی امین گنڈا پور نے بھی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا،

    جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ عالیہ حمزہ کیا پارٹی کی کوئی عہدے دار ہیں،وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ عالیہ حمزہ پی ٹی آئی کی سی ای سی کی رکن ہیں،جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست نہیں دی،قانون کے مطابق درخواست دینا ضروری ہے، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کہاں ہیں آگے آئیے،کیا عالیہ حمزہ نے جلسے کے لیے کوئی درخواست دی ،ڈی سی نے جواب دیا کہ عالیہ حمزہ نے جلسے کےلیے کوئی درخواست نہیں دی،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ کے سیکرٹری جنرل نے تو 22 ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے ،کیا کہیں آپ نے 21 ستمبر کو جلسے کی اجازت مانگی ہے ،عالیہ حمزہ ہے کہاں ،وکیل اشتیاق چوہدری نے کہا کہ وہ اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ کی کیفیت میں ہیں ،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپ ابھی جلسے کی اجازت کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دیں،ہم پندرہ منٹ میں دوبارہ آئین گے آپ ہمارے سامنے درخواست دیں،ڈپٹی کمشنر آج ہی درخواست پر فیصلہ کرینگے ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جواب نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اکیلا درخواست پر فیصلہ نہیں کرسکتا،درخواست پر حساس اداروں سے رپورٹس منگوانی ہوتیں ہیں پھر فیصلہ کرتے ہیں ، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آج اور ابھی درخواست پر فیصلہ کریں،

    دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہم آج بھی یہاں پھنسے ہیں بولنے کی آزادی نہیں جلسے کی اجازت نہیں ،جسٹس طارق ندیم
    دوبارہ سماعت ہوئی تو ،عدالت نے چیف سیکرٹری کو آگے بلا لیا۔جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ یہ دیکھیے یہ ملک ہے تو سب ہیں،آج جو اقتدار میں ہیں ماضی میں وہ حزب اختلاف میں تھے ،ہر 15 یا 20 دن بعد اس طرح کی کوئی ناں کوئی پٹشن دائر ہوجاتی ہے،کیا یہ بہتر نہ ہوگا ہم ہر ضلع میں جلسے کےلیے ایک جگہ مختص کردیں، اب دیکھیں سارا کا سارا سسٹم چوک ہوا پڑا ہے،تمام افسران یہاں موجود ہیں ،لاہور بڑا شہر ہے یہاں جلسے کےلیے دو تین جگہ مختص کردیں ،یہاں صورتحال یہ ہے کہ آگے جلسہ ہورہا ہوتا ہے پپچھے جنازے رکے ہوتے ہیں ،حکومتیں تو آتی جاتیں رہی ہیں.کوئی ایسا کام کر جائے جس سے آپ لوگ کو یاد رکھیں،آج یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جلسے کی اجازت نہیں مل رہی کل وہ کہہ رہے تھے ،دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہم آج بھی یہاں پھنسے ہیں بولنے کی آزادی نہیں ہے جلسے کی اجازت نہیں ہے ،

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آئی جی صاحب آپ آگے آئیے،آئی جی صاحب ہم آپ سے یہ توقع نہیں کرتے کہ لوگوں کو غیر قانونی ہراساں کیا جائے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہماری طرف سے کوئی ہراسمنٹ نہیں کی جارہی ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ جھوٹ مت بولئے میرے گھر کے باہر ایک ہفتے سے پولیس کھڑی ہے،

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    دوسری جانب تحریک انصاف کے لاہور جلسے کو لے کر پی ٹی آئی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پولیس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ کو گرفتارکیا تھا، علی امتیاز وڑائچ 2 گھنٹے پولیس کی حراست میں رہے جس کے بعد پولیس نے انہیں رہا کر دیا،پولیس نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کے گھر بھی چھاپہ مارا، جس پر عالیہ حمزہ کا کہنا تھا کہ 16 ماہ پابند سلاسل رہنے کے باوجود پولیس نے میرے گھر ریڈ کیا، تین تھانوں کی پولیس نے میرے گھر پر آدھی رات کو ریڈ کیا، پولیس نے میرے گھر کی تلاشی لی۔فلک جاوید کے والد کو بھی گزشتہ شب رات میں حراست میں لے لیا گیا.

  • لاہور: پی ٹی آئی جلسہ سے متعلق تمام درخواستوں پرلارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش

    لاہور: پی ٹی آئی جلسہ سے متعلق تمام درخواستوں پرلارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش

    لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی جلسے کی اجازت اور جلسہ روکنے سے متعلقہ تمام درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے عالیہ حمزہ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی دوران سماعت انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فائلز 10 منٹ میں چیف جسٹس کے پاس بھجوائی جائیں گی، یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے اس کی آئینی تشریح ہونا ضروری ہے، یہ معاملہ ایک بار ہی سیٹل ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں جلسہ کرنے اور جلسہ رکوانے والی دونوں درخواستیں دائر کی گئیں، جس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی ہے۔

    سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان مشروط کر دیا

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے 21ستمبر کو لاہور میں جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم انتظامیہ کی جانب سے جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے لیکن حکومت نے بھی جلسہ رکوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررکھی ہے۔

    قومی ترانے کی بے حرمتی:پاکستان نے افغانستان سفارتخانے کی وضاحت کو سختی سے مسترد کردیا