Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی کرنے والے کپڑے کی دوکان کے مالک کی ضمانت مسترد کردی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم زین طارق کی عبوری ضمانت پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،ملزم کے خلاف تھانہ فیصل آباد پولیس نے مقدمہ درج کیا گیا ہے ،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ رپورٹ کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے واٹس ایپ چیٹ سمیت دیگر اشیاء ریکور کیں ،پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان تصاویر کا تبادلہ ہوا ہے ،تفتیش اور شواہد کے مطابق ملزم قصور وار ہے ،ٹرائل کورٹ ٹرائل میں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے گی ف،ملزم کے وکیل کے مطابق ملزم نے خاتون کاہگ کو بوتیک کے کاروبار کے لیے پیسے ادھار دیے ،ملزم کے وکیل کے مطابق ادھارے پیسے واپس کرنے کی خاطر مدعیہ نے مقدمہ درج کروایا،ملزم عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ،ملزم پراسکیوشن کے الزامات پر ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکا .

    اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

  • لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ، اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ہائیکورٹ نے تمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ جو سکول بس پالیسی پر عمل نہیں کرتا اس کی رجسٹریشن معطل کردی جائے،عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو لاہور کی سٹرکوں کا جائزہ لیکر ٹریفک پلان طلب کرلیا ، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت اسموگ کے تدراک کے لیے بڑے اچھے اقدامات کررہی ہے،

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر وٹو عدالت کے روبرو پیش ہوئے،سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر نے پرائیویٹ سکولز سے متعلق مجوزہ رولز پیش کیے، سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ ہم نے پالیسی بنائی ہے سکولز کی بسیں ہوں گئیں تو سکولز کی رجسٹریشن ہوگی،ہم رولز میں نئے سکولز کی رجسٹریشن کے لیے بسیں لازمی قرار دے رہے ہیں،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ رولز بنائیں ایس او پیز پر یقین نہیں کرتا ،سکول بسیوں کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے سکولز مالکان کے پاس بہت پیسے ہیں ،ہم نے اگلے سیزن سے پہلے پہلے تمام احکامات پر عمل کروانا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ ایچسن سکولز کس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ،ایچسن ہائرر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے،جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ایچسن کو بھی آگاہ کریں،ماحولیات کا معاملہ بہت سنجیدہ ہوچکا ہے اس میں مزید وقت ضائع نا کیا جائے ،مجھے بہت خوشی ہے حکومت اسموگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہی ہے ،ملتان روڑ پر بسوں کے اڈے اور سوسائٹیز ہیں وہاں پر ٹریفک رولز پر عمل نہیں کیا جارہا ،

    پنجاب حکومت کے وکیل حسن اعجاز ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

  • سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،عدالت

    سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے نئے سکولوں کی رجسٹریشن کو سکول بسوں کی پالیسی کے ساتھ مشروط کر دیا، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،نئے سکولوں کی رجسٹریشن بند کریں، ہر سکول کو یہ پالیسی اپنانا ہوگی، 30 دسمبر تک اس حوالے سے پالیسی رپورٹ جمع کروائیں، پچاس فیصد بچوں کیلئے بسیں شروع کرنے کا عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں ہوا، بچوں کی سکولز بسوں کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے، سیکرٹری سکولز نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،

    ممبر جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ ہم نے ایم ڈی واسا کو کہا ہے کہ واٹر میٹر کے کام کو پھر سے شروع کریں،وکیل واسا نے کہا کہ ہمارے چائینیز کمپنی کے ساتھ پیسوں کے مسائل تھے، چائنیز کمپنی یہاں اکاؤنٹ کھلوانا چاہتی تھی، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ کام بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے، اس کو جلدی شروع کریں، اگلے ایک ماہ میں پھر سے اسموگ شروع ہو جائے گی، عدالت نے کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی

    گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

  • لاہور ہائیکورٹ : موسم سرما  تعطیلات کے پہلے  ہفتے کیلئے بینچز تشکیل

    لاہور ہائیکورٹ : موسم سرما تعطیلات کے پہلے ہفتے کیلئے بینچز تشکیل

    لاہورہائی کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا آغاز ہو گیا ، تعطیلات کے پہلے ہفتے کے لئے 5 ڈویژن اور 15 سنگل بینچز تشکیل دے دیئے گئے،ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل سید شبیر حسین شاہ نے روسٹر جاری کردیا –

    باغی ٹی وی: روسٹر کے مطابق موسم سرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے میں اپیلوں کی سماعت کے لئے 5 ڈویژن بینچ جبکہ اہم اور فوری نوعیت کے کیسز کی سماعت کے لئے 15 سنگل بینچز تشکیل دیئے گئے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بطور سنگل بینچ کیسز کی سماعت کریں گی۔

    روسٹر کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ فوجداری اپیلوں پر سماعت کرے گا، اسی طرح جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا جبکہ جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ فوجداری اپیلوں پر سماعت کرے گا،جسٹس فیصل زمان خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ سول اپیلوں پر سماعت کرے گا، جسٹس محمد وحید خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ فوجداری اپیلوں پر سماعت کرے گا۔

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    موسم سرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے میں ضمانت، حکم امتناع، اندراج مقدمہ اور ہراسگی سے متعلق درخواستیں دائر ہو سکیں گی جبکہ تعطیلات کے دوران ججز صبح 9 سے ایک بجے تک کیسز کی سماعت کریں گے،پرنسپل سیٹ پر موسم سرما کی تعطیلات کے پہلے ہفتے کے ججز روسٹر پر عمل آج سے شروع ہو گیا –

    جی ایچ کیو حملہ کیس: شیخ رشید کی فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج

  • لاہور ہائیکورٹ کادارالامان سے مرد ملازمین ہٹانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کادارالامان سے مرد ملازمین ہٹانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو تمام دارالامان سے مرد ملازمین کو ہٹانے کا حکم دے دیا۔

    یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 36 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں پنجاب حکومت کو دارالامان میں رہائش پذیر خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اہم اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر حکم دیا کہ تمام دارالامان سے مرد ملازمین کو ہٹا دیا جائے۔ یہ حکم انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خواتین کے لئے مخصوص پناہ گاہوں میں مرد ملازمین کی موجودگی ان کی حفاظت میں رکاوٹ بن سکتی ہے، اس لئے ان ملازمین کو ہٹایا جائے۔عدالت نے پنجاب حکومت کو شیلٹر ہومز کی بہتر مانیٹرنگ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہدایت بھی دی۔ اس کے تحت ایک جدید ڈیٹا بیس اور سافٹ ویئر تیار کرنے کی ضرورت ہوگی، جس کے ذریعے شیلٹر ہومز کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ مزید برآں، عدالت نے تمام دارالامان کے داخلی راستوں اور احاطے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا حکم دیا تاکہ وہاں موجود افراد کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    یہ حکم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کے بعد آیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ دارالامان میں بچیوں کے حفاظتی اقدامات ناکافی ہیں اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ پر مناسب عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

    ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو جائزہ لینے کا حکم
    عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو کم از کم ہر دو ماہ بعد متعلقہ دارالامان کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔ اس جائزے کا مقصد دارالامان میں رہنے والی خواتین کی حفاظت، ان کی رہائشی سہولتوں اور دیگر ضروریات کو دیکھنا ہے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ دارالامان میں رہنے والی خواتین کی معاشی بحالی کے لئے انہیں پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ خودمختار بن سکیں اور معاشرتی طور پر بہتر طور پر انضمام کر سکیں۔عدالت نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو بھی ہدایت کی کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لئے ایک مستحکم ضابطہ تیار کرے اور بچوں کے تحفظ کے اداروں کی رجسٹریشن کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ تحصیل اور ضلعی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ بچوں کی بہتر نگہداشت اور حفاظت کی جا سکے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ دارالامان اور شیلٹر ہومز کی تمام معلومات متعلقہ ویب سائٹس پر فراہم کی جائیں تاکہ عوام کو ان پناہ گاہوں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔

    اس فیصلے کا اثر پنجاب بھر کے دارالامان اور شیلٹر ہومز پر پڑے گا جہاں خواتین اور بچوں کی بہتر حفاظت کے لئے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ حکم نہ صرف خواتین اور بچوں کے حقوق کی پاسداری کے حوالے سے اہم ہے بلکہ پنجاب حکومت کے لئے ایک چیلنج بھی ہے کہ وہ ان اقدامات کو عملی طور پر نافذ کرے۔لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ پنجاب میں خواتین اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ دارالامان کی انتظامیہ خواتین اور بچوں کے حقوق کو بہتر طور پر تحفظ دے سکے گی اور ان کے لئے مزید محفوظ ماحول فراہم کر سکے گی۔

    مذاکرات کو مذاق کی رات نہیں بنانا،شیخ رشید

    نو مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری چاہتے ہیں، اسد قیصر

  • لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان

    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان

    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا، کیسز کی سماعت کے لئے ججز کے روسٹر جاری کر دئیے گئے۔

    باغی ٹی وی: موسم سرما کی تعطیلات کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ اور علاقائی بینچز میں 25 دسمبر سے 8 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی، لاہور ہائیکورٹ کے عدالتی افسران اور ماتحت عدلیہ میں 25 دسمبر سے یکم جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی، ڈیوٹی جج ضروری نوعیت کی درخواستوں پر سماعت کریں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سردیوں کی چھٹیوں کے دوران 26 سے 31 دسمبر تک 15 سنگل بنچ اور 5 ڈویژن بنچ کیسز پر سماعت کریں گے،جبکہ یکم جنوری سے 8 جنوری تک 7 سنگل بنچ اور 2 ڈویژن بنچ کیسوں کی سماعت کریں گے۔

  • لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    لاہور ہائیکورٹ میں25ججز کی آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو بھیج دئیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے 25ججز کی تقرری کیلئے43 وکلا اور 4 سیشن ججز کے نام شامل ہیں،اعظم نذیر تارڑنے ایک سیشن جج سمیت 4نام ،بیرسٹر علی ظفر نے 3وکلا کے نام ،فاروق ایچ نائیک نے 8وکلا کے نام تجویز کیے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے21 نام تجویز کیے،جسٹس منصور علی شاہ نے 3سیشن ججز اور 8وکلا کے نام تجویز کیے۔چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبر کو ہوگا،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے ججزکی تقرری کیلئے ناموں پر غور ہوگا۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

    خیبر پختونخوا سے وفاق پر تین بار حملے کیا گیا، رانا ثناء اللہ

    پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

  • 6 ارب کا فراڈ ،سابق سینیٹر وقار خان لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار

    6 ارب کا فراڈ ،سابق سینیٹر وقار خان لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار

    لاہور ہائیکورٹ میں نجی ہاؤسنگ سکینڈل میں چھ ارب روپے کا مبینہ فراڈ کیس میں ملزم سابق سینیٹر وقار احمد خان کی عبوری ضمانت منظور کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی-

    باغی ٹی وی :جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی،نیب کی جانب سے پراسکیوٹر وارث علی جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے،صدر لاہور ہائیکورٹ بار نے کہا کہ عدالت نے درخواست پر عائد اعتراضتازہ ترینات برقرار رکھتے ہوئے درخوا ست ناقابل سماعت قرار دے دی کل ہم نے درخواست دوبارہ دائر کر دی تھی، مصدقہ کاغذات ساتھ لف نہیں تھے جس بنا پر رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا-

    جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آج دوبارہ درخواست دائر کرنے کا کیا مقصد ہے، آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟کیا ضمانت کی درخواست میں کسی نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کی استدعا کی جاتی ہے ؟ –

    وکیل ملزم وقار احمد خان نے کہا کہ جب بھی کوئی درخواست گزار عدالت میں آئے تو اس کی حفاظت کرنی چاہیے،جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ آپکی درخواست ضمانت کو نمبر نہیں لگا،درخواست پر اعتراضات بالکل ٹھیک ہیں،ہم اس درخواست کو 10 سے 15 منٹ میں واپس بھجوا دیتے ہیں،اس درخواست کے اعتراضات آپ کب دور کرتے ہیں ہمیں نہیں معلوم-

    دوسری جانب سابق سینیٹر وقار احمد خان کو لاہور ہائیکورٹ سےگرفتار کر لیا گیانیب لاہور نے ملزم وقار احمد خان کو گرفتار کیا، نجی ہاؤسنگ اسکینڈل میں چھ ارب روپے مبینہ فراڈ کا معاملے میں گرفتار کیاملزم کی گرفتاری کے دوران متاثرین نے ملزم کے سامنے احتجاج کیا متاثرین کا کہنا تھا کہ ملزم ہماری عمر بھر کی کمائی ہڑپ کرچکا ہے-

  • سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ نے سڑکوں اور موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے اعجاز خان ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں وفاق اور حکومت پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ سڑکوں کی بندش سے سکول، ادارے اور بسیں بند ہو گئیں، سڑکوں اور موٹر ویز کی بندش سے ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے، عدالت حکومت کو سڑکیں اور موٹرویز کھولنے کا حکم دے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے 24 نومبر کیلئے پُرامن احتجاج کی کال دی، شہریوں کی احتجاج میں شرکت روکنے کیلئے حکومت نے سڑکیں بند کردیں، سڑکیں اور موٹر ویز بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس وقت کوئی سڑک اور موٹروے بند نہیں ہے۔بعدازاں عدالت عالیہ نے سڑکوں اور موٹر ویز کی بندش کے خلاف درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔

    چیمپئنز ٹرافی کے لیے بلائے اجلاس میں پاکستان ڈٹ گیا

    ریلوے آمدن میں اضافہ ،بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی اونچی اڑان، آج بڑا اضافہ

  • پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست ،وفاقی حکومت کو نو ٹس جاری

    پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف درخواست ،وفاقی حکومت کو نو ٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل رکوانے کے لیے دائر پٹیشن سماعت کے لیے منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی : پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف پٹیشن پر لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس محمد رضا قریشی نے سماعت کی، نزاکت حسین ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی-

    درخواستگزار کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ پرائیوٹائزیشن کمیشن 31 اکتوبر کو نجکاری کرنے جا رہی ہے جبکہ نجکاری کے حوالے سے ابھی تک ویلیو ایشن بھی نہیں ہوئی تو فروخت یا نجکاری کیسے ممکن ہے؟

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ پی آئی اے نجکاری عمل روکنے کا حکم جاری کیا جائے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ نجکاری کے عمل میں ایک وقت لگتا ہے، آئندہ سماعت پر فریقین کو سن لیتے ہیں بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر کے 5 نومبر کو جواب طلب کر لیا۔

    واضح رہے کہ پی آئی کی نجکاری رواً ماہ یکم اکتوبر کو ہونی تھی جو نہیں ہوئی یکم اکتوبر کو ہونے والے بولی کے عمل کو ملتوی کرنے سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سیکریٹری نجکاری عثمان اختر باجوہ نے بتایا تھا کہ بولی لگانے کی تاریخ کو آگے بڑھا کر 31 اکتوبر کر دیا گیا ہے کیونکہ اس عمل میں حصہ لینے والے کچھ مزید وقت لینا چاہتے تھے-

    نجکاری کمیشن نے ابتدائی طور پر 6 بولی دہندگان کو اہل قرار دیا ہے، جن میں فلائی جناح، وائی بی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم، ایئر بلیو لمیٹڈ، پاک ایتھانول (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی سربراہی میں ایک کنسورشیم، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ اور بلیو ورلڈ سٹی شامل ہے۔